No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
“چھوڑو دو مجھے،،مجھے بابا کے پاس جانا ہے،،معاف کر دو مجھے،، خدا کے لئے میر ہادی چھوڑ دو مجھے،،فرعون مت بنو،، اس کی آہیں اور سسکیاں کئی گھنٹوں سے اس تین منزلہ ویران عمارت کی تیسری منزل پر گونج رہیں تھیں۔۔مگر یہاں اس کی پکار سننے والا کوئی نہیں تھا۔ بس رانا میر ہادی کے دیو ہیکل آدمی تھے جو دروازے کے باہر چوکس سے کھڑے تھے۔۔
اس سے نیچے والے پورشن میں رانا میر ہادی اپنے شاہانہ بیڈ روم میں بلیک شلوار قمیض پہنے مردانہ شال کندھوں پر ڈالے صوفے پر کروفر سے بیٹھا لال انگارا آنکھوں اور تنی رگوں سے گھونٹ گھونٹ اپنے اندر حرام مشروب انڈیل رہا تھا اور اوپر سے آنے والی آہوں،، سسکیوں کی آوازیں سن کر سکون حاصل کرنے کی ناکام سی کوشش کر رہا تھا۔ دل و دماغ کی ضمیر کے ساتھ ایک جنگ چھڑی ہوئی تھی۔ اب دیکھنا یہ تھا کہ گھمنڈ اور سو کالڈ انا کی جیت ہونی تھی یا تھپک تھپک کر سلانے کی کوشش کرتے ضمیر کی۔ وہ جتنے سکون سے بیٹھا تھا ،،اتنا ہی اس کے اندر غم وغصے اور اشتعال کا طوفان اٹھ رہے تھے۔۔ جو کرنے جا رہا تھا اس کے لئے اس حرام مشروب کا سہارا لینا بہت ضروری تھا۔
تتلیوں کے موسم میں نوچنا گلابوں کا
دیکھ کر پرندوں کو باندھنا نشانوں کا
رِیت اس نگر کی ہے اور جانے کب سے ہے
شہر کے یہ باشندے، نفرتوں کو بو کر بھی،،
انتظار کرتے ہیں،،،،،،،،،، فصل ہو محبت کی،،
بھول کر حقیقت کو ڈھونڈنا سرابوں کا
رِیت اس نگر کی ہے اور جانے کب سے ہے
آخر وہ مغرور ،گھمنڈی اناپرست شخص دھیمے مگر مغرور قدموں سے اٹھتا اوپر کی جانب چل دیا۔۔سیڑھیاں چڑھ کر وہ اس کمرے کی جانب بڑھا، کسی کو برباد کرنے،، ایک بے بس لاچار، اور کمزور سے وجود کو روندنے کے لئے،، ایک معصوم کلی کو مسلنے چلا تھا۔
دروازے کی ناب پر ہاتھ رکھا۔ روح کو کچوکا لگا ۔مگر انا اور غرور نے سینے سے سر پٹخا تو وہ سب بھلائے تنی رگیں لیے اندر داخل ہو گیا۔۔
سامنے ہی وہ بیڈ پر گھٹنوں میں سر دئیے اسی طرح آہ و زاری کرنے میں مصروف تھی۔آہٹ پر جھٹکے سے سر اٹھا کر اپنے سامنے تنے کھڑے اس فرعون شخص کو نفرت و بےبسی کی ملی جلی کیفیت سے دیکھا۔
“تم جانتی ہو کہ تم یہاں کیوں لائی گئی ہو لویزا اقبال،، تم کچھ بھی کرتیں،، مگر پوری یونی کے سامنے تمہیں رانا میر ہادی کو تھپڑ مار کر زلیل نہیں کرنا چاہیے تھا،، اور اب آج کی رات یہی زلالت میں تمھارے مقدر میں لکھ دوں گا تاحیات کے لئے،، وہ ایک ایک لفظ چباتا اتنا نشہ کرنے کے باوجود اپنے پاؤں پر کھڑا سامنے بیٹھے کمزور اور نازک وجود کو خونخوار نگاہوں سے گھور رہا تھا۔
اس کے تیکھے اور کڑوے لہجے اور بڑھتے قدموں نے لویزا کی جان لبوں پر لائی تھی۔۔
میر ہادی نہیں،، تم ایسا کچھ بھی نہیں کر سکتے میرے ساتھ،، وہ چلائی۔ مگر میر ہادی نے ہاتھ بڑھا کر اس کا دوپٹہ نوچ کر دور اچھال کر اسے اس بات کا ثبوت دیا تھا کہ آج وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔”میں تمھیں برباد کر دوں گا لویزا اقبال،، اور اپنی اس بربادی کی زمہ دار تم خود ہوگی،، سمجھیں،، وہ غرایا تھا
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر جھٹکے سے میر ہادی کے قدموں میں گری تھی۔۔
اور اس سے تمھیں کیا ملے گا میر ہادی،، صرف وقتی انا کی تسکین، یا اس وقت جو شیطان تم پر سوار ہے اس کی تسکین؟ اس کے بعد کیا؟ ساری زندگی خود سے نگاہیں ملا پاؤ گے؟ کفارہ ادا کر پاؤ گے ؟ اس رات میں کیے گئے گناہ کا کفارہ کبھی نہیں ادا کر پاؤ گے میر ہادی،، مجھے معاف کر دو ،،جانے دو مجھے،، میں وعدہ کرتی ہوں پوری یونی کے سامنے تم سے معافی مانگو گی،، کبھی تمھارے سامنے نہیں آؤں گی، وعدہ کرتی ہوں، جانے دو مجھے،،
لویزا کے گرم آنسو میر ہادی کے شفاف ٹھنڈے پاؤں پر گرے تھے۔ میر ہادی نے بے دردی سے اپنے لب کچلے۔
(ہاں،، اگر اس رات کو وہ ایک بے بس لاچار کی روح پر ظلم کی داستاں لکھے گا، کسی کی معصومیت روندے گا، کسی کی پاکیزگی کو داغدار کرے گا تو کہاں سے کرے گا کفارہ ادا۔ ساری زندگی ضمیر روح کو کچوکے لگائے گا۔ تاعمر کے لئے ایک گناہ کا بوجھ اپنے کندھے پر لادے گا)
نہیں وہ ایسا نہیں کرے گا تبھی جھٹکے سے بازوؤں سے تھام کر اسے اپنے قدموں میں سے اٹھا کر اپنے روبرو کھڑا کیا تھا۔
لویزا اقبال اس سے پہلے میں تمھیں برباد کر دوں،، دفعہ ہو جاؤ میری آنکھوں کے سامنے سے،،
وہ دانت پیس کر بولتا اس کے سر پر اپنے کندھے سے اتار کر اپنی مردانه شال اوڑھا چکا تھا۔ وہ بے یقینی کے عالم میں اس سے دور ہوتی کھلی کھڑکی کے پاس جا لگی۔۔
افضل،، وہ دھاڑا،، میڈم کو ان کے گھر چھوڑ کر آؤ،، ابھی اور اسی وقت باعزت،، احترام کے ساتھ،، وہ بول کر اس کی جانب سے رخ پھیر گیا۔۔اور ہاتھ کمر پر باندھ لیا۔۔لویزا ہنوز سسک رہی تھی۔۔
کیا چاہتی ہو میرا ارادہ بدل جائے،، وہ پھر دھاڑا مگر لویزا تو جیسے بے یقینی کے عالم میں پتھر کی ہو چکی تھی تبھی میر ہادی کا ایک آدمی بے تحاشہ گھبراہٹ کے عالم میں اس کمرے کے دروازے تک آیا تھا۔۔
چھوٹے سائیں،، بہت بری خبر ہے،، میڈم کے بابا نے بد نامی کے ڈر سے خود کشی کر لی ہے،، وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے،،
میر ہادی کے سر پر سات آسمان گرے تھے جیسے ۔۔کان سائیں سائیں کرنے لگے تھے۔۔
لویزا پھٹی پھٹی نگاہوں سے اس شخص کی پیٹھ کو دیکھ رہی تھی جس نے اسے برباد کرنے سے تو نجات دے دی تھی ۔ بچا لیا تھا اپنی درندگی اور وحشی پن سے ۔مگر اس سے اس کی جینے کی وجہ ضرور چھین لی تھی۔۔ تو اب وہ زندہ رہ کر کرے گی بھی تو کیا۔ کیا کوئی اعتبار کرے گا کہ وہ آدھا دن اور رات کے گیارہ بجے لوٹی اغوا شدہ لڑکی باعزت واپس لوٹی ہے،
میر ہادی وہیں جیسے پتھر کا بت بن چکا تھا۔
لویزا ایک قدم پیچھے ہٹی تھی ۔آنکھیں بند کیں اور کھڑکی میں اس کا نازک کمزور وجود غائب ہو گیا۔
دھماکے کی آواز پر میر ہادی نے پیچھے مڑ کر دیکھا تھا۔۔ وہ پاگل بنا کھڑکی تک آیا تھا جہاں صرف اس کی شال تھی۔۔کھڑکی کے نیچے فرسٹ فلور پر کھڑی اس کی سفید گاڑی پر پڑا وہ نازک وجود اپنے ارزاں خون میں لت پت اس کی قیمتی گاڑی کو بھی خون آلود کر چکا تھا۔۔ ڈور اور ونڈوز کے شیشے چھناکے سے ٹوٹ کر ارد گرد بکھرے پڑے تھے۔۔
لویزا اقبال اب خاموش تھی۔ بہت خاموش،، اپنے تھپڑ کی قیمت اپنی جان دے کے چکا چکی تھی شاید۔
میر ہادی دیوانوں کی طرح دو دو تین تین سیڑھیاں پھلانگ کر نیچے آیا تھا۔
لویزا،، وہ دھاڑا،، اور دیوانہ وار خون میں لت پت لویزا کو نرمی سے گاڑی سے نیچے اتارا تھا۔ پیچھے سے سر بلکل جیسے پچک کیا گیا تھا۔
افضل گاڑی نکالو،،، وہ حلق کے بل چلایا۔
چھوٹے سائیں،، لگتا ہے میڈم نہیں،،
شٹ اپ یو،،، ایسا نہیں ہو سکتا،، کبھی نہیں ،،میں ایسا ہونے نہیں دون گا،، نہیں جانے دوں گا اسے، یہ مجھے ایک قاتل بنا کر کہیں نہیں جاسکتی سمجھے،، گاڑی نکالو،، وہ چیخ رہا تھا چلا رہا تھا، ہذیانی ہو رہا تھا ۔ افضل نے گاڑی نکالی۔ میر ہادی نے اسے بازوؤں میں بھر کر اپنی گاڑی میں لٹایا۔
گاڑی ہوا کی سی رفتار سے اس عمارت سے نکلی تھی۔۔
یہ داستان تھی رانا میر ہادی کے گھمنڈ اور انا کی ہار کی،،
عشق و محبت کی ایک لازوال داستان،
لویزا اقبال کی نفرت کی،
ایک عشق کے ایسے سفر کی جس میں میر ہادی نے اپنی روح تک میں خار خار چبھتا محسوس کیا تھا۔
لویزا جیسی کمزور لڑکی کو چٹان کی طرح مضبوط بنایا تھا۔
اور شاید پتھر دل بھی۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
کچھ عرصے پہلے،،
صبح کی کرنیں کھڑکی سے چھن کر آتی اندر موجود اس وجود کو صبح کا سلام پیش کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔۔ وہ بھی جھٹکے سے ایک جان لیوا انگڑائی لے کر اٹھ بیٹھی۔۔
اففف،،، بابا نے تو آج پھپھو کی طرف جانا تھا،، وہ سر پر ہاتھ مارتی دوپٹہ اپنے گرد لپیٹتی پاؤں میں چپل اڑستی اپنے کمرے سے باہر آئی تھی۔۔
بابا جانی،،، اس نے آواز دی۔ مگر کچن سے آتی کھٹر پٹر کی آواز سے چونکی، کچن میں آئی تو ایک سرد سی سانس بھری۔
بابا جانی،، آج آپ پھر مسز اقبال بننے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ منہ بنا کر بولی تو اقبال صاحب مسکراتے پیچھے مڑے، ایپرن باندھے نفاست سے چیز آملیٹ پلٹ رہے تھے۔
“اٹھ گئی میری پرنسز،،
“میں تو اٹھ گئی مگر بریک فاسٹ آپ نے کیوں بنایا،، وہ لڑاکا انداز میں کمر پر ہاتھ رکھ کر بولی۔ تو وہ کھل کر مسکرائے۔
تاکہ بابا کے ہاتھ کا بنا ناشتہ کر کے میری پرنسز کا یونی میں فرسٹ ڈے بہت ہی اچھا گزرے،،
اور آپ نے خود،، ابھی پھپھو کی طرف بھی جانا ہے،، اور جاب پر بھی جانا ہے،، وہ آئبرو اچکا کر بولی۔
تو کیا ہوا تمھیں یونی چھوڑ کر چلا جاوں گا،، انھوںنے آسان حل نکالا۔
بابا اپ کیوں کرتے ہیں ایسے،، وہ جھنجھلائی۔
“میری پرنسز بھی تو بابا کا اتنا خیال رکھتی ہے،، لہجہ شفقت میں ڈوبا فخریہ سا تھا۔ اب جلدی کرو لیٹ ہو جاو گی،، ہری اپ،
انھوںنے کہا تو وہ مسکراتی اپنے روم کی جانب آئی۔
یہ تھی لویزا کی چھوٹی سی دنیا ، وہ اور اس کے بابا، اس کی امی کی ڈیتھ تو اچانک ہوئے ہارٹ اٹیک سے تبھی ہو گئی تھی جب وہ سیونتھ میں تھی۔ پھر اس کے بابا اپنی بہن کی پرزور مطالبہ پر فیصل آباد سے لاہور ہی شفٹ ہو گئے تھے۔ اور اب وہ بی ایس سی کے تھرڈ ائیر میں کالج سے یونی شفٹ ہوئی تھی۔
اقبال ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب کرتے تھے۔۔
چھوٹا دو تین کمروں کا گھر جس میں وہ رہتی تھی۔ اور یہی اس کی جنت تھی۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک گوٹھ میں بڑی حویلی کی مردان خانے میں پنچائیت لگی ہوئی تھی جس میں رانا میر ہادی کروفر سے ٹانگ پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے انتہائی غیر دلچسپی سے بیٹھا اپنے آئی فون میں فیس بک سکرولنگ کرنے میں مصروف تھا۔
رانا میر دراب اور رانا میر ہاشم وقتا فوقتا اس پر ایک نگاہ ڈال لیتے۔ آخر رانا میر ہاشم نے گلا کھنکار کر اس کو متوجہ کرنے کی کوشش کی۔۔ جس میں آخر وہ کامیاب ہو ہی گئے۔ میر ہادی نے اچٹتی سی نگاہ اپنے دادا میر ہاشم اور بابا میر دراب پر ڈالی اور لوگوں کی جانب یوں متوجہ ہوا جیسے کہ ان پر احسان عظیم کیا ہو۔
بیشک رانا ہاشم پاکستان کہ وزیر داخلہ تھے اور میر دراب وزیر پنجاب مگر اپنے گاؤں کے فیصلے ابھی تک وہ پنچایت کے زریعے خود ہی لیا کرتے تھے۔ اب بھی ایک حساس معاملہ زیر بحث تھا۔
دو خاندانوں میں زمینوں کی تنازع کی وجہ سے جھگڑا ہوا تھا جس میں ایک خاندان کا جواں سالہ لڑکا قتل کر دیا گیا تھا۔ اب خون بہا کا معاملہ زیرِ بحث تھا۔
کیونکہ یہ تمام معاملات آگے جا کر رانا میر ہادی نے سنبھالنے ہیں اور یہ گاؤں اسی کی سرپرستی اور زیرِ نگرانی میں آنے والا ہے تو آج اس معاملے کا فیصلہ رانا میر ہادی کرے گا،، میر ہاشم کے لہجے میں غرور اور فخر تھا۔۔
سب نے سوالیہ نگاہوں سے میر ہادی کی جانب دیکھا۔
رانا میر ہادی نے گلا کھنکھارا،، اور اپنی سن گلاسز اتار کر ٹانگ پر ٹانگ رکھی۔
“میرا فیصلہ یہ ہے، سرداروں کی بیٹی کو خون بہا میں ملکوں کے بیٹے کے ساتھ ونی کر دیا جائے،،
رانا میر ہادی نے جلد یہاں سے اپنی جان چھڑانے کو بے حسی کا اعلی ترین مظاہرہ کرتے بغیر سوچے سمجھے اپنا لہجہ لاپرواہ سا کیا۔
سرداروں کے سر پر آسمان ٹوٹا تھا کیونکہ ان کی بچی ابھی محض چودہ سال کی تھی جبکہ ملکوں کا سب سے چھوٹا بیٹا بھی دو بچوں کا باپ تھا۔
سردار اپنی جگہ سے ہل چکے تھے ۔ “ہمیں رانا میر ہادی کا یہ بچکانہ فیصلہ منظور نہیں ،، کیونکہ ہماری بچی ابھی محض چودہ سال کی ہے اور ملکوں کا کوئی بیٹا کنوارا نہیں،،
سرداروں کی بات پر رانا میر ہاشم کا غیض وغضب دیکھنے لائک تھا۔
“تو پھر ٹھیک ہے،، سردار کمال،، میر ہادی کا یہ فیصلہ منظور نہیں تو اپنے بیٹے کو پھانسی کے پھندے پر لٹکتا دیکھنے کو تیار ہو جاؤ ،،،
رانا میر ہاشم کی آواز میں جاہ وجلال تھا۔ اور وہ پوتے کی ہتک پر غصے سے لال بھبھوکا چہرہ لیے کھڑے ہوئے تو تمام پنچائیت کو کھڑا ہونا پڑا۔ مگر ایک وہ بگڑا رئیس زادہ تھا جس کے اطمینان میں رتی برابر بھی فرق نہیں پڑا تھا۔
“معاف کیجئے رانا میر ہاشم،، ہمیں یہ فیصلہ منظور ہے،، سردار کمال کا لہجہ ٹوٹا ہوا اور شکست خوردہ اور کندھے جھکے ہوئے تھے۔۔
رانا میر ہادی نے استہزایہ سی مسکراہٹ لیے وہاں سب پر ایک نگاہ ڈالی اور آنکھوں پر سن گلاسز لگاتے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
“میر ہادی یہ فیصلہ سناتے تمھارے دل میں زرا سا بھی رحم نا آیا کہ کل کو تمھاری بیٹی کے ساتھ کوئی ایسا کرے تو تم پر کیا گزرے گی،، اماں سائیں کو جب سے اس پنچائیت میں کیے گئے اپنے پوتے کے فیصلے کا پتہ چلا تھا وہ انگاروں پر لوٹ رہیں تھیں۔ اور اب لاونج پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے لاپرواہی سے موبائل میں مصروف سے بیٹھے میر ہادی سے باز پرس کرنے کی کوشش کر رہیں تھیں جوکہ لا یعنی ہی لگ رہا تھا کہ اس بے حس پر کسی چیز کا اثر ہو ایسے مواقع حویلی والوں کو دیکھنے کو شاذ ونادر ہی ملے تھے۔
ایسی بے تکی بات مت کریں اماں سائیں،، دنیا میں ابھی ایسا کوئی پیدا نہیں ہوا جو رانا میر ہادی یا اس سے جڑے کسی فرد کو تکلیف پہنچا سکے،، وہ لاپرواہی سے بولا۔
خدا سے ڈر میر ہادی،، اس وقت سے ڈر جب کسی معصوم کی بددعا تمھیں لگ جائے اور تیرا دل بھی کسی کی مٹھی میں آ جائے،، اماں سائیں اکثر اس کی باتوں اس کی بے حسی پر دہل جایا کرتیں تھیں۔
وہ وقت کبھی نہیں آئے گا اماں سائیں اور رانا میر ہادی اس دل کو سینے سے نکال باہر کرے گا جو کسی کی مٹھی میں آ گیا،، شہر کے لئے لیٹ ہو رہا ہوں،، یونیورسٹی بھی نہیں گیا اتنے دنوں سے،، امی سائیں سے کہیں میرا سامان پیک کروا دیں میں زمینوں کا چکر لگا آؤں،، وہ کہتا اماں سائیں کی باتوں سے بور ہو کر اٹھتا حویلی سے باہر نکلتا چلا گیا تھا۔
کہاں گیا اماں سائیں،، ممتاز بیگم میر ہادی کو ڈھونڈتی طویل وعریض لاؤنج میں داخل ہوئیں تو
“اے ممتاز بیگم،، کیا پتھر کھا کر پیدا کیا تھا اس بے حس کو،،جو کسی چیز کا اثر نہیں ہوتا اس پر،، اماں سائیں جل کر بولیں تو ممتاز بیگم مسکرا دیں۔
وہ تو اماں سائیں آپ بتائیں،، کیونکہ یہ بلکل اپنے بابا پر گیا ہے،، ممتاز بیگم مسکرا کر بولیں تو اماں سائیں لاجواب سی ہو گئیں۔
“یہ تو ہے،، آخر اماں سائیں بھی مسکرا دیں۔ زمینوں پر گئے ہیں چھوٹے سائیں جی،، اماں جی کو پھر کچھ یاد آیا “بول کر گیا ہے کہ پیکنگ کروا دو شہر جانا ہے اس نے،، اماں سائیں نے کہا تو ممتاز بیگم اداس ہو گئیں۔ اور سر ہلاتی بختاور کے کمرے کہ جانب گئیں۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ یونی کے گیٹ کے سامنے بائیک سے اتری تو کنفیوز سی تھی۔
حالانکہ اپنے بابا کے ساتھ کل آ کر اپنا ڈیپارٹمنٹ دیکھ چکی تھی اور تمام ضروری انفارمیشن لے چکی تھی۔
کیا ہوا میری گڑیا کنفیوز سی لگ رہی ہے؟ کیا بابا کلاس میں چھوڑ کر آئے،؟ اقبال صاحب نے پوچھا تو اس نے مسکین سی شکل بنا کر بابا کی طرح دیکھا جس کا مطلب تھا ہاں مگر،
“میں لویزا اقبال سے اتنی بزدلی کی توقع ہر گز نہیں کر سکتا، میں نے لویزا کو اتنا مضبوط بنایا ہے کہ اب اگر میری گڑیا نے مجھے خوفزدہ ہو کر مایوس کیا تو مجھے بہت دکھ ہوگا،، اقبال صاحب نے کہا تو وہ شرمندہ سی ہو گئی۔
اور اب اس کا کانفیڈینس لیول بہت ہائی ہو چکا تھا۔ سو مسکرا کر بابا کو وش کیا اور ہاتھ ہلاتی یونی کا گیٹ پار کر گئی۔
اندر آ کر سب سے پہلے اسے اپنی پاگل بیسٹی اجالا ندیم کو ڈھونڈنا تھا جو اس سے پہلے یہاں آ چکی تھی۔
اس نے کال ملائی لیکن رسیو نہیں کی گئی۔ وہ آگے بڑھی۔ کافی بھیڑ بھاڑ تھی۔ سٹوڈنٹس گروپس کی صورت گراؤنڈ میں کھڑے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔
وہ تیز تیز قدم اٹھاتی اپنے ڈیپارٹمنٹ کی جانب بڑھ رہی تھی۔ جب ایک چٹان (یا یوں کہنا چاہیے اپنی بدقسمتی) سے ٹکرائی۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
یہ لیں جی دھماکے دار انٹری کے ساتھ پیش خدمت ہوں.😷🤭 تو اب بات کچھ یوں ہے کہ نیکسٹ اپڈیٹ آپ لوگوں کے رسپونس پر ڈیپنڈ کرتی ہے. جیسے ہی اس ایپی کے 400 پورے ہوئے ادھر اسی لمحے سیکنڈ ایپی پوسٹ کر دی جائے گی. 🤭😅😷☺️☺️😇😇😇😇😇
