No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
وہ یونی کی کینٹین میں غائب دماغی سے بیٹھا گہری سوچ میں تھا جب فون رنگ ہوا۔۔وہ چونکا کیونکہ فون پرسنلی طور پر ڈاکٹر عبدالحفیظ کا تھا اس کے چہرے پر سایہ سا لہرایہ۔ یہ سوچ کر کہ وہ ٹھیک تو ہے فورا فون یس کر کے کان کو لگایا۔
یس ڈاکٹر، از ایوری تھنگ آل رائٹ،، میر ہادی بے چین ہوا۔
آف کورس، مسٹر میر ہادی، بلکہ ایک گڈ نیوز ہی ہے آپ کی وائف کو ہوش آ گیا ہے، ڈاکٹر کی خوشی سے کبریز آواز گونجی مگر میر ہادی کے پیروں نیچے سے زمین کھسکی تھی آنے والے وقت کا سوچ کر، یہ سوچ کر کہ وہ اس سے کتنی نفرت کرے گی۔
(الله جانے اسے اب اس بات سے کیوں فرق پڑنے والا تھا کہ وہ اس سے نفرت کرے گی یا نہیں)
میر ہادی فورا ہاسپٹل آئیں بٹ اپنی وائف سے ملنے سے پہلے آپ مجھ سے ایک بار ضرور ملئے گا،، لازمی،،
اوکے ڈاکٹر میں آتا ہوں،، اس نے کہہ کر فون رکھا اور فورا وہاں سے نکلا۔
دل و دماغ میں جیسے ایک جھکڑ ایک طوفان سا چل رہا تھا۔
گاڑی نے ہوا سے باتیں کیں تھیں۔ ڈیڈھ گھنٹے کا فاصلہ وہ پون گھنٹے میں ہی طے کر کے ہاسپٹل پہنچا تھا۔
ڈاکٹر حفیظ کے کہنے کے مطابق وہ سب سے پہلے انھیں کے ہی پرسنل کیبن کی جانب آیا تھا۔
اسلام وعلیکم ڈاکٹر حفیظ، وہ کہتا ہلکی ناک کر کے اندر داخل ہوا۔
او،، آئیے مسٹر میر ہادی، بیٹھیں،، ڈاکٹر نے اس سے مصافحہ کیا میر ہادی سامنے رکھے صوفے پر بیٹھ گیا۔
یس ڈاکٹر، بتائیے کیا کہنا چاہتے تھے آپ،، وہ ہمہ تن گوش ہوا۔
مسٹر ہادی، آپ پیشنس رکھئے گا جو بھی بات کروں میں،، ڈاکٹر نے سنجیدگی سے کہا تو وہ چونکا۔
وہ ٹھیک تو ہے ناں ڈاکٹر، میر ہادی نے پہلو بدلا۔ ڈاکٹر نے سامنے بیٹھے شخص کو غور سے آبزرور کیا۔
Absolutely she’s all right,,,
لیکن وہ اپنی یاداشت مکمل طور پر کھو چکی ہیں،، ڈاکٹر حفیظ نے کہا تو میر ہادی پریشان تو ہوا مگر دل میں کہیں ایک کمینی سی خوشی بھی ہوئی۔( جانے کیوں )
اور شاید کبھی واپس آئے بھی نہیں،، مگر ہم علاج جاری رکھیں گے، کہ ان کی یاداشت واپس آ جائے، آپ انھیں پرانی باتیں یاد کروانا، واقعات، ان جگہوں پر لے کر جانا، جہان وہ پہلے جاتی رہیں ہیں آپ کے ساتھ تو مےبی،، ہو سکتا ہے کہ ان کی میموری واپس آ جائے،،
رائٹ ڈاکٹر،، زبان سے ادا کیا (مگر دل نے “کبھی نہیں ڈاکٹر کہ اس کی یادیں لوٹ آتیں تو میر ہادی خود کو کٹہرے میں کھڑا پاتا)
اور جو مین پوائنٹس اور بہت ہی اہم باتیں بتانے کے لئے میں نے آپ کو پرسنلی بلایا وہ یہ کہ اس وقت وہ بہت ہی حساس حالت میں ہیں، ابھی بھی انھیں انتہائی نگہداشت کی ضروت ہے۔ ان کا مینٹلی سٹیٹ بہت نازک مرحلے سے گزر رہا ہوگا۔ ایک ہزبینڈ ہونے کے ناطے آپ کو پیشنس رکھنا ہوگا۔ وہ سو طرح کہ سوال پوچھیں گی، آپ کو ہر صورت سو طرح کے ہی جواب ہی دینے ہوں گے، انھیں مطمین کرنا ہوگا۔ وہ سب کچھ بھول چکی ہیں،، ہو سکتا ہے یاد کرنے کے لئے پینک کریں، آپ کو سنبھالنا ہوگا، کئیر کرنی ہوگی، ذہن پر زیادہ زور نہیں ڈالنے دینا خود ہی ہر بات کا جواب دینا ہوگا آپ کو، ایک زرا سا ڈپریشن اور ٹینشن ان کی زندگی اور صحت کے لئے بہت بڑا خطرہ بن سکتا ہے، آپ سمجھ رہے ہیں ناں مسٹر ہادی میں کیا کہنا چاہتا ہوں۔۔زرا سا شک یا کوئی بھی نیگٹو سوچ ان کے لئے شدید نقصان کا باعث بن سکتی ہے،
ڈاکٹر نے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
مگر “میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس وقت آپ کی بے تحاشا توجہ، محبت اور کئیر کی ضرورت ہے، ایک بچی کی طرح ٹریٹ کرنا ہوگا ان کو،، آپ کر پائیں گے،،
ڈاکٹر نے گہری نگاہوں سے اس کا جائزہ لیا۔
یس ڈاکٹر، دو لفظی جواب تھا مگر پختہ ارادوں کو ظاہر کرتا چٹانی سا مضبوط لہجہ تھا۔۔
ایک ڈاکٹر ہونے کی حیثیت سے میں ہر بات آپ کو کھول کر بتا دینا چاہتا ہوں کہ بعد میں آپ کو کسی پریشانی کا سامنا نا کرنا پڑ جائے،،
Yes,, Doctor Say,,, I’m listening carefully,,,,
میر ہادی نے اطمینان سے کہا تھا۔
اونہہہہ،، ڈاکٹر حفیظ نے ہنکارا بھرا “ابھی کیونکہ وہ مینٹلی اور فزیکلی بہت ہی زیادہ ویک ہیں تو آپ کو ان کی کئیر کرتے ہوئے،، مطلب ہزبینڈ ہونے کے ناطے ابھی کچھ عرصے آپ ان سے فزیکلی ریلیشن بھی نہیں بنا سکتے،،
ڈاکٹر کی بات پر میر ہادی نے بری طرح پہلو بدلا تھا۔ چہرے نے لہو چھلکایا۔ جبکہ ڈاکٹر نے انتہائی دلچسپی سے اس کا بلش ہوا چہرہ دیکھا۔۔
یس ڈاکٹر میں کروں گا کئیر اس کی، اب کیا مل سکتا ہوں اسے،، اس نے تقریباً جبڑے بھینچ کر کہا تھا۔ ڈاکٹر حفیظ قہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔
اس نے اچنبھے سے ڈاکٹر کا دیکھا۔
جائیے مسٹر ہادی،، آپ ملئیے،، مگر ان کے سوالات سے ایریٹیشن کا شکار مت ہوئیے گا۔ کیونکہ ان کے زہن میں کوئی یاد نہیں تو وہ سوالات پوچھ کر جاننے کی کوشش کریں گی۔
ڈاکٹر حفیظ نے ایک مرتبہ پھر یاد دہانی کروائی۔
یس ڈاکٹر شیور،، اس نے اثبات میں سر ہلاتے یہاں سے اٹھنے میں ہی آفیت سمجھی۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
میر ہادی دروازے تک آ کر رکا تھا۔ اب تک تو گھنٹے بھر سے باہر بیٹھ کر زہن میں باتیں اور واقعات ترتیب دیتا رہا تھا جو اس کی من گھڑت تھی اور جو اندر جا کر اس کو سنانی تھیں۔۔
اپنی کنپٹیاں سہلائیں۔
کیا بولے کیا سنائے جس سے وہ بلکل مطمئن ہو جائے۔ اب ڈاکٹر اسے اس کا ہزبینڈ مان چکے تھے۔ یقینا اسے بھی بتا چکے ہوں گے تو وہ کیسے مکر جاتا۔ تب زہن نے ایک کہانی ترتیب دی تھی۔
وہ بھنچے جبڑوں لرزتے قدموں کے ساتھ آہستگی سے ڈور کھول کر اندر داخل ہوا تھا۔
سامنے ہی وہ بیڈ پر نیم دراز سر پٹیوں میں جکڑے ہوئے بے چینی سے ہاتھوں کی انگلیاں چٹخاتی برسوں کی مریضہ لگ رہی تھی۔
رانا میر ہادی کہ چال میں واضح لرزش تھی۔ لویزا بڑے غور سے اسے دیکھ رہی تھی۔
وہ قریب آ کر کرسی پر بیٹھا ۔ لویزا اسے غور سے دیکھے گئی یا شاید پہچاننے کی کوشش کر رہی تھی، اس کی نگاہوں کی تپش میر ہادی کو جیسے پگھلا رہی تھی۔
کیسی ہو،؟ وہ پوچھ بیٹھا۔
آپ میر ہادی ہیں ناں،؟ کمزور سی آواز آئی۔
(میر ہادی کو لگا ساتوں آسمان اس کے سر پر گرے یہ سوچ کر کہ کیا وہ اسے پہچان گئی ہے) ایک سایہ سا چہرہ پر لہرایا سہم کر ایک جھٹکے سے سر اٹھا کر لویزا کی جانب دیکھا۔
وہ ڈاکٹرز، نے کہا کہ آپ میرے ہزبینڈ ہیں، اس دن کے بہت روئے اور پریشان ہوئے ، بٹ آئم سوری میں یاد نہیں کر پا رہی آپ کو بھی ،، وہ بے بسی سے لب کاٹتی بولی۔
اٹس اوکے ،، میر ہادی نے سکون کی سانس لی، تم بس اپنی صحت کا خیال رکھو، میر ہادی نے نگاہیں چرائیں۔
سنیں،، ہمارے گھر والے مطلب میرے اور آپ کے گھر والے نہیں آئے مجھ سے ملنے،
ایک یہی سوال تھا جس کا سامنا کرنا میر ہادی کو پل صراط سے گزرنے کے مترادف لگ رہا تھا۔
“سنیئے میں سب کچھ بھول گئیں ہوں،، مگر سب کچھ جاننا چاہتی ہوں، ڈاکٹرز اور سسٹر مجھے مسز میر ہادی بول رہے تھے یا میرا نام لویزا پکار رہے تھے،، اس کے علاوہ مجھے کچھ معلوم نہیں،، آپ پلیز مجھے بتائیں ہمارے بارے میں،، میں جاننا چاہتی ہوں،، مجھے جاننا ہے،، ہماری فیمیلز تو ہوں گی،، کدھر ہیں سب،، کون کون تھا،، مجھے بتائیں،، نہیں تو میں سوچ سوچ کے پاگل ہو جاؤں گی،، لویزا نے پینِک ہوتے اپنی کنپٹیاں سہلائیں۔
تب رانا میر ہادی کی آواز ہاسپٹل کے اس سرد سے روم میں گونجی تھی۔
“تم یقینا بھول گئی ہو، لو میرج تھی ہماری بلکہ کورٹ میرج،، بھاگ کر شادی کی تھی ہم نے ،، وہ اسے گہری نگاہ سے دیکھے گیا۔تمھارے بیلنئر پاپا کو اپنا یہ ایک معمعولی کمپنی میں کام کرتا داماد پسند نہیں آیا تھا۔حالانکہ کمپنی نے مجھے گھر اور گاڑی دونوں دے رکھی ہے،، اور میرے گھر اور خاندان والے بھی آؤٹ آف کاسٹ رشتہ نہیں کرتے اسی لئے ان سب نے ہم سے ہر تعلق ہر رشتہ ناتا ختم کر لیا۔ بلکہ انھوں نے ہی ہمیں الگ کرنے کو یہ ایکسیڈنٹ کروایا ، اسی لئے میں تمھیں ان سب سے دور یہاں لے آیا، تمھارا علاج کروایا اور اب تم الحمدلله بلکل ٹھیک ہو تو بس کچھ بھی سوچنا بند کرو اور اپنا خیال رکھو،اب جب انھوںنے مطلب ہمارے گھر والوں نے ہمارے ساتھ ایسا کرنے کی کوشش کی ہے، ہمیں الگ کرنے کی کوشش کی تو ہم تو بلکل نہیں ملیں گے ان سے،
میر ہادی کی فراٹے سے جھوٹ بولتی زبان ایک مرتبہ بھی نہیں لڑکھڑائی تھی۔ ہاں مگر اس کی نگاہوں سے نگاہیں ایک مرتبہ بھی نہیں ملائیں تھیں۔
“تو کیا ہم سے کوئی نہیں ملتا،؟ وہ شدید مایوس ہوئی اپنی کہانی سے۔
نو، اطمینان سے کہا گیا۔
میں کتنے دنوں سے ہاسپٹل میں ہوں،؟ اس نے ادھر ادھر دیکھا۔
ٹو ویکس سے،، وہ اب بھی سکون سے بولا۔
ہم گھر کب جائیں گے ہادی،؟ وہ اکتا کر بولی۔
ان لبوں سے یہ نام ایسے سن کر اور اس سوال پہ میر ہادی کے دل کی دھڑکن پہلی مرتبہ اتنی تیز ہوئی تھی کہ اسے اپنے دل کی دھمک کانوں میں سنائی دی تھی۔
آج ہی ڈسچارج مل جائے گا، وہ پہلو بدل کر بولا۔
پلیز مجھے جلدی گھر لے چلیں، میں اکتا گئی ہوں اس ہاسپٹل سے،، وہ منہ بسور کر بولی۔
اوکے میں سسٹر کو بھیجتا ہوں، کافی دن ہو گئے بیڈ پر، تم چلنے کی پریکٹس کرو، میں ڈسچارج پیپر بنواتا ہوں، وہ اپنی جگہ سے اٹھا۔ لویزا نے اثبات میں سر ہلایا۔
مگر بہت غور سے اس کا چہرہ دیکھے گئی وہ گڑبڑا کر فورا وہاں سے نکلا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ ڈسچارج پیپر پر سائن کرا رہا تھ جب فون رنگ ہوا یس کر کہ کان کو لگایا تو سامنے دادا سائیں کی بھاری گھمبیر آواز سننے کو ملی تھی۔
کیوں برخوردار، شہر میں تمھاری کونسی بیوی پیدا ہو گئی ہے جس کا علاج کرواتے پھر رہے ہو، جانتے ہو ناں رانا میر ہادی، ہمارے خاندان کے رسم ورواج روایات، بھول گئے کہ یاد کرواؤں کہ حویلی میں تمھاری خاندانی بیوی موجود ہے، اور کون ہے وہ لڑکی، کہاں سے اٹھا کر لائے اسے،،
رانا میر ہاشم کی پھنکار سنائی دی تو اس کی تیوری پر بھی بے شمار بل آئے تھے۔
جیسا آپ سمجھ رہیں ہیں ویسا کچھ نہیں ہے دادا سائیں، بھروسہ رکھیں، حویلی آؤں گا تو سب بتا دوں گا، اور اس سے زیادہ وضاحت بھی نہیں دوں گا آپ کو، اس کا بھی اکھڑ لہجہ تھا ،باپ دادا کی طرح، رانا میر ہادی کون سا کم تھا۔
چھوٹے سائیں، اگر کھیلنے کو پاس کھلونہ ہو تو جب وہ ٹوٹ جائے تو اسے پھینک دیتے ہیں، اس کی مرمت نہیں کرواتے پھرتے، دادا سائیں جانے کیا سمجھ رہے تھے پر وہ جو سمجھ رہے تھے اس نے میر ہادی کا دماغ گھما ڈالا تھا۔
آپ کو لگتا یے کہ میں ایسے شوق پالوں گا،، وہ دانت پیس کر بولا۔ کیونکہ آج تک اس نے اپنے بڑوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے شراب و رنگین محفل سے ہی سیر حاصل کیا تھا، ایک شراب کے بعد شباب تھا جس میں اسے آج تک کوئی دلچسپی نہیں رہی تھی۔
اونہہہ، دادا سائیں نے ہنکارا بھرا ۔ “ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں ہوتا اگر تم یہ شوق پالتے بھی رانا صاحب، اب بھی کوئی اعتراض نہیں اگر صرف یہ ایک شوق ہی ہے، اس سے آگے بڑھنے کی اجازت تمھیں ہر گز نہیں ملے گی رانا میر ہادی ،
ان کا بھی لہجہ گھمبیر تھا رانا میر ہادی کو آگ لگی۔
میرے معاملات سے دور رہیں، دادا سائیں، جب کوئی سچ مچ کی شکایت ہوئی یا آپ کی بات میں وزن ہوا تو بولئیے گا نہیں تو مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں، مہربانی ہوگی آپ کی، اور مجھ پر نظر رکھنا بند کریں، یہ جو بھی مخبر ہیں آپ کے مجھے پتہ لگ گیا کون ہیں تو زندہ گاڑھ دوں گا زمین میں انھیں، چاہے آپ کے کتنے بھی وفادار کیوں نا ہوئے، اسی لئے بول رہا ہوں میرے معاملات سے دور رہیں اور اپنے آدمیوں کو بھی بول دیں، مجھ سے الجھنے کی غلطی نا کریں،،
رانا میر ہادی کا تیز، باغی سا لہجہ جسے سن کر ہمیشہ رانا میر ہاشم کو خوشی ہی محسوس ہوتی تھی۔ آج بھی سینہ اکڑ کر تن سا گیا۔ مگر پھر بھی اسے خبردار کرنا ضروری تھا۔ سو وہ کر کے فون رکھ چکے تھے۔
مگر انھیں اب احتیاط کے طور پر اپنے وفاداروں کو میر ہادی جیسے طوفان سے زرا دور ہی رکھنا تھا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
جب وہ روم میں آیا تو وہ سسٹر کا ہاتھ تھام کر آہستہ آہستہ چل رہی تھی۔
دیکھیں میں چل پا رہی ہوں ہادی، اس دیکھتے ہی وہ بولی تو میر ہادی نے سر ہلا کر اسے وش کیا۔
چلیں،، میر ہادی نے کہا تو لویزا نے مڑ کر اس کا اپنی جانب بڑھا ہوا ہاتھ دیکھا۔
چلیں،، بول کر لویزا نے اس کا ہاتھ تھاما
سسٹر انھیں یہ شال اچھی طرح اوڑھا دیں،، میر ہادی نے ایک شاپر کی جانب اشارہ کیا۔ سسٹر نے اچھے سے شال اسے اوڑھائی اور احتیاط میر ہادی نے اس کا چہرہ بھی چھہا دیا۔
آہستگی سے چلتی اس کے ساتھ باہر آئی۔
میر ہادی نے اسے گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بٹھایا۔ اور آج خود ڈرائیونگ کی۔
راستے بھر گاڑی میں خاموشی چھائی رہی۔ میر ہادی نے چور نگاہوں سے اپنے پاس بیٹھی اس لڑکی کو دیکھا۔۔ جو سیٹ سے سر ٹکائے آنکھیں موندے لیٹی تھی۔۔ مگر جانے کیا یاد آنے پر آنکھیں کھول کر سیدھی ہوئی۔
ہادی میرے پاپا بہت ناراض ہیں کیا مجھ سے،، سوال تھا کہ ہتھوڑا جو میر ہادی کے اعصاب پر برسا تھا۔ مگر اس کی زندگی اور صحت کے لئے جانے کتنی کڑی آزمائش سے گزرنا تھا اسے یہ تو بس ابھی شروعات تھی۔۔
ہاں بہت،، اور وہ ناراض ہو کر ہم سے دور بھی چلیں گئے ہیں، میر ہادی نے ضبط کے کڑے مراحل طے کر کہ بولا تھا۔
کدھر،، وہ بے چین ہوئی یا شاید مسکین کی روح بے چین تھی۔
بہت دور،، بیرونِ ملک،، یہی پتہ چلا، مبہم سا جواب دیا۔
وہ چپ سی ہو گئی اور باہر دیکھنے لگی۔۔
میر ہادی نے سرد سی آہ بھری
کون سمجھے گا تیری آنکھوں کی پیچیدگیاں
کیسےسلجھیں گے تری زُلفوں کےاُلجھے ہوۓ خم
کیا عجب ہے کسی بات پہ ترے ہونٹ ہلیں
کتنے اٹکے ہوئے ، بھٹکے ہوئے ، رُکتے ہوئے دم
گاڑی میر لاج کے پورچ میں رکی تھی۔ وہ جلدی سے اتر کر اس کی جانب آیا۔
اور گارڈز نے ایک حیرت انگیز نظارا دیکھا کہ ان کے چھوٹے سائیں رانا میر ہادی نے لویزا کی جانب آ کر اس کے لئے درواز کھولا۔ وہ اس کے ہمرائی میں میر لاج کے اندر داخل ہوا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
