Zid Junoon Ki Inteha By SA Khanzadi NovelR50423 Zid Junoon Ki Inteha Episode 9
No Download Link
Rate this Novel
Zid Junoon Ki Inteha Episode 9
Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi
دعا زور زور سے دعا مانگ رہی تھی۔کافی دیر دعا مانگ کر دل ہلکا کرنے کے بعد وہ اٹھی تھی ۔۔۔ابھی نماز پڑھ کر اس نے جانماز اٹھائ تھی۔۔۔۔
افففف کتنی لمبی لو لگاتی ھو تم اللہ سے !!!!!!!!!
کسی نے پیچھے سے کہا۔۔۔
دعا نے پلٹ کر دیکھا تو اس کے حلق سے ایک زور دار چیخ نکلی تھی۔۔۔۔۔۔۔
اور مقابل نے کرسی سے اٹھ کر اگے بڑھ کر فورن اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔۔
چلا کر اپنا نقصان کرو گی میڈم اس وقت میں اپ کے کمرے سے پایا گیا تو۔۔۔۔
خود سوچ لو۔۔۔
اس نے مسکرا کر کہا اور دعا کہ منہ سے ہاتھ ہٹا دیا۔۔۔۔۔
اب چیخو !!!!!
معراج جہانگیر ؟؟؟؟؟؟
دعا کہ منہ سے ٹوٹ ٹوٹ کر معراج کا نام نکلا تھا۔۔۔
دعا ابھی تک حیرت کے شدید جھٹکے میں تھی۔۔۔۔
اور اس کی انکھیں پھٹی ھوئ تھی۔۔۔
اور معراج اس کے سامنے اپنے لبوں پر مسکراہٹ سجائے کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔
معراج نے ایک نظر دعا کے سراپے پر ڈالی۔۔۔
لائٹ آسمانی کلر کے کپڑے پہنے سر پر نمار کی طرح ڈوپٹہ لیے سادھا چہرہ جس پر بے تحاشہ نور تھا۔۔۔۔
رونے کی وجہ سے دعا کی کھڑی ناک اور بڑی بڑی انکھیں لال ھو رہی تھی۔۔۔۔گلابی رنگت پر لال لال رخسار دعا کی سادگی کو چار چاند لگا رہے تھے۔۔۔
معراج کو یہ لڑکی کچھ عجیب لگی۔۔۔
تمھاری ہمت کیسے ھوئ میرے کمرے میں داخل ھونے کی ؟؟؟؟
کیا سمجھتے ھو تم خود کو ؟؟؟؟؟
بولو کیا سمجھتے ھو؟؟؟؟
دعا تقریبن چلا رہی تھی۔۔۔۔
مس دعا خان تم جتنی زور سے چیخو گی اپنا نقصان کرو گی۔۔۔۔۔
معراج نے بڑے مزے سے دعا کے پاس اتے ھوئے کہا۔۔۔۔
خبردار دوررر دوررر رہو مجھ سے !!!!
دعا نے پیچھے ھٹ کر سائید ٹیبل پر پڑا شیشے کا گلاس تھام کر کہا۔۔۔۔
ہاہاہا !!!
معراج کو واقعی دعا پر ھنسی ائ تھی۔۔۔۔
تم چیز کیا ھو اخر ؟؟؟
بتا دو مجھے ؟؟؟؟
معراج مزید اگے بڑھا تھا۔۔۔۔
اور ایک جھٹکے سے دعا کے ہاتھ سے گلاس لے کر اس کا ہاتھ مظبوطی سے تھام لیا تھا۔۔۔
چھوڑو مجھے !!!!!
دعا اس وقت زخمی شیرنی کی طرح ڈھاڑ رہی تھی۔۔۔۔۔
تم پوری کی پوری جھنگلی بلی ھو۔۔۔۔معراج نے پھڑپھڑاتی دعا کو قابو کرتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔
لیکن دعا کسی صورت قابو میں نہیں آرہی تھی وہ مسلسل معراج کو دھکے دیے رہی تھی۔۔۔۔
میری بات سنو لو !!!! معراج نے دعا کو تھام کر بولا۔۔۔
دفعہ ھو جاو یہاں سے چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔دعا پوری طاقت سے چلائ تھی اور ساتھ ھی اپنی تمام تر قوت سے معراج کو دھکا دیا تھا۔۔۔۔
جھوڑو مجھے ۔۔۔تمھاری ہمت کیسے ھوئ مجھے چھونے کی۔۔دعا مسلسل چیخ رہی تھی۔۔۔۔اور خود کو چھوڑانے کی ناکام خوشش کر رہی تھی۔۔۔معراج کی گرفت بہت سخت تھی۔۔۔
اس لیے وہ خود کو معراج کی گرفت سے وہ آزاد نا کرا پائ تھی۔۔۔
معراج کا پارا بھی اب ہائ ھوچکا تھا۔
دعا !!!!!!!!!!
۔وہ ایک دم زور سے چیخا اور مظبوطی سے دعا کو دونون کندھوں سے تھام کر بولا۔۔۔ !!!!
بات سنو میری !!!!!
کان کھول کر !!!!!
میں تم سے رسان سے بات کرنے ایا ھوں مجھ سے رسان سے بات کرو۔۔۔۔اگر کچھ غلط کرنا ھوتا تو وہ میں تمھارے گھر اکر نہیں کرتا۔۔۔۔۔
جن سے نکاح کیا جاتا ھے ان سے میں شادی سے پہلے یہ سب۔۔۔۔ !!!!
معراج کی انکھوں میں شرارت اور چمک تھی۔۔۔۔
دعا نے پھر ایک زور دار جھٹکا مارا تھا وہ اپنی پوری قوت استعمال کر رہی تھی۔۔۔۔۔لیکن معراج پر کوئ اسر نا ھورہا تھا۔۔۔۔اس کے مظبوط ہاتھ دعا کو تھامے ھوئے تھے۔۔۔
کیا تم سے شادی ھوش میں ھو تم ؟؟؟؟
دعا نے لال ھوتی انکھوں کو مزید بڑی کر کے کہا۔۔۔۔۔
مر جاوں گی پر تم سے شادی نہیں کروں گی۔۔۔۔۔
سنا تم نے۔۔۔۔۔۔۔۔معراج جہانگیر۔۔۔۔۔
تو یہ سب تمھاری وجہ سے ھو رہا ھے۔۔۔۔دعا کو اس وقت غضب کا غصہ تھا اگر معراج کہ گرفت زارہ سی بھی ہلکی پڑتی تو دعا اس کو زارور کوئ چیز دے کے مار دیتی۔۔۔۔۔
دعا !!!!!!!!
کان کھول کر میری بات سنو۔۔۔۔!!!!
اب جو میں بول رہا ھوں اسکا ایک ایک لفظ تمھارے دماغ میں گھسنا چھائے۔۔۔۔
دعا کی انکھوں میں بے شمار آنسو تھے۔۔۔۔اور وہ معراج کے ہاتھوں کی مظبوط گرفت میں تھی پھٹی پھٹی انکھوں سے معراج کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔جو اس کی بڑی بڑی اور گھیری انکھوں میں جھانک کر بول رہا تھا۔۔۔۔
میں نے تمھارے گھر اپنا رشتہ بھجوایا ھے۔۔۔۔۔
دعا کو لگا ایک پل کے لیے اسکا دل بند ھو جائے گا۔۔۔!!!!
میرے والدین اج ائے تھے تمھارے گھر میرے رشتے کی بات کرنے۔۔۔۔
لیکن تمھارے ابا جی نے یہ بول کر انکار کر دیا تھا کہ تمھارا رشتہ تمھارے کزن اشعر سے طے ھے۔۔۔۔
تبی اس کے ساتھ تم اتنا گھومتی تھی نا تم ؟؟؟؟؟
انجام بھی تمھارے سامنے ایا اسکا۔۔۔میں نے کہا تھا نا تم اب اسکے ساتھ نہیں جاوں گی ؟؟؟؟؟؟
سمجھ نہیں آتی تمھیں ؟؟؟؟
۔معراج کی گرفت سے اب دعا کو تکلیف محسوس ھو رہی تھی۔۔۔۔۔
کان کھول کر سنو دعا۔۔۔۔۔!!!
معراج جہانگیر کو نا کی عادت نہیں ھے۔۔۔۔۔
تم میری نظر میں اچکی ھو۔۔۔۔مجھ سے بچھ کر کہی جا نہیں سکتی تم۔۔۔۔
اور تمھیں کہی میں جانے نہیں دوں گا۔۔۔۔۔
اس لیے تمھارے پاس کوئ حل نہیں ھے۔۔۔
میرے اور تمھارے والدین یہ ہی جانتے ھیں کہ تم بھی مجھ سے ہی شادی کرنا چھاتی ھو اورشدید محبت کرتی ھو مجھ سے ۔۔۔۔اور میں بھی !!!
معراج نے میں بھی کا تکلف کر کہ ایک انکھ شرارت سے دبا کر کہا۔۔۔۔
اس کے ہاتھ کی گرفت جیسے ہلکی پڑی دعا ایک جھٹکے سے پیچھے ھوئ۔۔۔۔
ہمت کیسے ھوئ مجھے ہاتھ لگانے کی۔تمھاری ؟؟؟؟
کس حق سے چھوایا تم نے مجھے بولو؟؟؟؟
تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں تم سے شادی کروں گی ؟؟؟؟
دعا غرا رہی تھی۔۔۔۔
کسی زخمی شیرنی کی طرح۔۔۔
معراج جہانگیر تم دنیا کے لیے ھوگے بہت بڑے آدمی پر میرے لیے تم کچھ بھی نہیں ھو سمجھے تم۔۔۔۔۔۔
دعا کا غصہ عروج پر تھا۔۔۔۔
میں کنواری مرنا پسند کروں گی لیکن تم سے !!!!!
تم سے شادی ہرگز نہیں کروں گی چھائے اس کے لیے مجھے اپنی جان ھی کیوں نا دینی پڑے۔۔۔۔
معراج دعا کی الماری کے ساتھ ٹیک لگائے ہاتھ باندھ کر کھڑا تھا۔۔۔۔
معراج نے بیلو پینٹ اور سفید رنگ کی شرٹ پر اعلی قسم کی brown جیکٹ پھن رکھی تھی۔۔۔
اور اس کے کچھ بال اس کے ماتھے پر پڑے تھے۔۔۔۔
بڑھی ھوئ شیوف اسکو وجیہ بنا رہی تھی۔۔۔
اہ اچھا !!!
سچی ۔۔مر جاو گی ؟؟؟۔۔
معراج نے دعا کا مزاق اڑیا۔۔۔۔
ہاں !!!
لیکن تمھاری بیوی کبھی نہیں بنو گی۔۔۔۔
تم نے میرے ماں باپ سے جھوٹ کہا تبھی وہ مجھ سے ناراض تھے۔۔۔۔۔
شرم انی چاھیے تمھیں۔۔۔۔۔۔۔
کس طرح کے انسان ھو تم۔۔۔۔؟؟؟؟
بس جس طرح کا بھی سمجھ لو !!!
مس دعا خان شادی تو تمھاری مجھ سے ہی ھوگی اور وہ بھی تم خود اپنے گھروالوں کو مناو گی۔۔۔۔۔۔۔
معراج اب الماری سے ہٹ کر کرسی پر بیٹھ چکا تھا۔۔۔۔۔
ہرگز نہیں سوچنا بھی نہیں میں صرف اور صرف اپنے والدین کو تمھاری حقیقت بتاوں گی بس۔۔۔۔!!!!
چلو مرضی تمھاری۔۔۔۔۔!!!
لیکن کیا تم نے کبھئ سوچھا ھے دعا ؟؟؟
معراج نے کرسی سے اٹھ کر کہا۔۔۔۔۔
کیا ؟؟؟؟؟
دعا نے ایک دم غصہ سے پوچھا۔۔۔۔
جو لڑکا تمھارے کمرے میں ادھی رات کو آسکتا ھے !!!
جو لڑکا تمھارے کزن کو پٹوا سکتا ھے ۔۔۔
جو لڑکا تم پر پل پل کی نظر رکھ سکتا ھے۔۔۔۔
جو لڑکا ایک لڑکے کو دھونڈ کر تمھارے اوپر بری نظر ڈالنے کی وجہ سے پٹوا سکتا ھے۔۔۔۔۔
کیا وہ لڑکا تمھارے بھائ کے ساتھ کچھ ؟؟
اہ ہاں یاد آیا۔۔۔۔۔
تمھارے دو بھای ھیں نا؟؟؟؟؟
تمھارے دو بھائ میں سے کسی ایک کو بھی کچھ ھوا تو سوچا کیا ھوگ!؟؟؟
ویسی کراچی شہر کے حالت تو تم جانتی ھو۔۔۔۔معراج نے بڑی ھوشیاری سے دعا تک اپنی بات پھنچائ تھی۔۔۔
اہھو!!!
افصوص
تمھارے ماں باپ تو برداشت نا کر پائے گے۔۔۔۔۔
تمھاری بہن روز اسکول جاتی ھے نا ؟؟؟
اگر کسی دن وہ گھر واپس نہیں ائ تو ؟؟؟
تمھارے بابا ماما کو کچھ۔۔۔۔۔۔
دعا بے یقینی سے معراج کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
کوئ اس قدر سفاک اور سخت دل ھوسکتا ھے۔۔۔۔
چلو وہ بھی چھوڑو ۔۔۔۔
میں تمھیں kidnap کر کے بھی نکاح کرسکتا ھوں۔۔۔۔
ہاہاہا نکاح کرنے کی بھی کیا ضرورت ھے kidnap کر کہ ؟؟؟؟؟
معراج نے دعا کو مزید جلانے اور ڈارنے کے لیے کہا تھا۔۔۔۔۔
لیکن فرص کرو تمھارے باپ کو یہ کوئ باتا دے کہ اپ کی بیٹی کے کمرے میں جوان لڑکا ھے تو ؟؟؟؟؟؟؟
یا تمھارے والد صاحب کے اوپر کوئ بھی کیس کروا دوں تو ؟؟؟؟؟؟؟
یا اس عمر میں ان پر کوئ الزام لگ جائے ؟؟؟؟
کیا وہ اس عمر میں یہ سب برداشت کر لیں گے ؟؟؟
تم اچھی طرح جانتی ھو دعا میرے لیے کچھ مشکل نہیں ھے۔۔۔۔
یہ دنیا پیسے کی ھے جو میرے پاس بے پناہ ھے۔۔۔۔
تم میری شکایت کرنے پولیس کے پاس جاو گی ؟؟
وہ پولیس جو میرے باپ کے ٹکڑوں پر پلتی ھے ؟؟؟
تم نے کہا تم مر جاو گی ؟؟؟
تم تو مرجاو گی لیکن کبھی سوچا اس کے بعد تمھارے گھر والوں کے ساتھ میں کیا کیا کرسکتا ھوں ؟؟؟؟؟
تمھارے پاس مجھ سے شادی کے علاوہ کوئ دوسرا option نہیں ھے۔۔۔۔۔
تمھارے گھر والوں کو تم خود مناو اور ہاں میں ہی جواب ھو۔۔۔۔
کیونکہ اگر اس کے خلاف ھوا تو جو ھوگا اس کی زمہدار تم ھوگی۔۔۔۔۔
میں جو بتاتا ھوں نا پھر کر کے بھئ دیکھاتا ھوں یاد رکھنا۔۔۔
میں عزت سے لے کے جانا چھاتا ھوں۔۔۔
عزت سے ہی میرے ساتھ بھیا کر چلو۔۔۔
مجھے کسی بھی غلط اقدام پر مجبور نا کرو۔۔۔
اگر ضرورت پڑی تو میں وہ کرنے میں بھی زارہ دیر نہیں لگاوں گا۔۔۔۔۔
ضد تم میری ھو۔۔۔۔
آسانی سے پوری ھوئ تو ٹھیک نہیں تو اور option میں تمھیں دے چکا ھوں۔۔۔۔
معراج نے بڑی سمجھ داری سے اپنی بات مکمل کی تھی۔۔۔۔دعا ایک گم سم سی کیفیت میں آگئ تھی۔۔۔۔
اب مرضی تمھاری ھے دعا خان یا تو مجھ سے شادی کرلو۔۔۔
۔یا پھر تیار ھو جاو اگے کی زندگی اتنی تکلیف دے ھونے والی ھے کہ تم سوچ نہیں سکتی۔۔۔۔۔۔
میں تمھاری زندگی اس قدر مشکل بنا دوں گا کہ تم مرو گی مجھ سے شادی کرنے کے لیے۔۔۔۔
میں کل رات کو فون کروں تو مجھے خوشخبری ہی چھایے
میری ھونے والی حسین بیوی!!!!!
معراج نے دعا کے پاس اکر کہا۔۔۔۔۔
دعا کوئ بھی جواب دینے کی پوزیشن میں نا تھی۔۔۔۔
معراج نے ایک نظر دعا پر ڈالی اور پھر تیزی سے جس راستے سے ایا تھا اس راستے سے نکل گیا۔۔۔۔۔۔۔!!!!!
دعا ایک دم زمین پر بیٹھ گی تھی۔۔۔وہ کیا بول رہا تھا ؟؟؟؟؟؟
دعا ایک دم زور سے چلائ۔۔۔۔
یا اللہ !!!!!!!!
اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں کس مشکل میں پھس گئ ھوں۔۔۔۔یہ واقعی میرے گھر والوں کے ساتھ کیا کیا کرسکتا ھے۔۔۔۔۔؟؟؟؟
یا اللہ۔۔۔۔!!!!
میں نے یہ نہیں سوچا۔۔۔۔۔
دعا اس وقت بے بسی کی انتھاء پر تھی۔۔۔۔اس کو کوئ بھی راستہ نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔۔
یا اللہ مجھے فصیلہ کرنے کی ہمت دے وہ دونوں ہاتھوں سے منہ چھپا کر رو رو کر دعائیں کر رہی تھی!!!!
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
معراج دعا کے گھر سے سیدھا اپنے گھر ایا تھا وہ اپنی جیت کے بے حد قریب تھا۔۔۔وہ جانتا تھا کہ جو کچھ وہ دعا سے بول کر آیا ھے اس کے بعد دعا کا فصیلہ کیا ھوگا۔۔۔۔۔
وہ گونگونتا ھوا گھر کے اندر داخل ھوا۔۔۔
اج اسکا موڈ خاصا خوشگوار تھا۔۔۔۔
وہ جیسی کچن میں لاوئنج میں داخل ھوا تو سامنے ہی بریرہ بیگم بیٹھی تھی۔۔۔جو شاید اس کے ہی آنے کا انتیظار کر رہی تھی۔۔۔۔
اس کے گھر میں ایک بھابی بھی آچکی تھی لیکن معراج کا سجل سے ایک دو بار ھی سامنا ھوا تھا۔۔۔
وہ گھر والوں کے ساتھ رہتا ضرور تھا لیکن اپنے گھر والوں سے میلوں کے فاصلے اس نے بنا رکھے تھے۔۔۔۔۔۔
معراج !!!!!
بریرہ بیگم نے معراج کو آواز دی۔۔۔۔۔
معراج جو بریرہ بیگم کو دیکھ کر اپنے کمرے کی طرف موڑ رہا تھا۔۔۔ان کی آواز پر ایک دم روک گیا۔۔۔۔
اور ناگواری سے بولا !!!
جی فرمائیں ؟؟؟؟؟؟؟
مجھے تم سے کچھ بات کرنی ھے۔۔۔بریرہ بیگم نے کہا۔۔۔۔
جی ؟؟؟؟معراج نے صوفے پر بیٹھتے ھوئے پوچھا۔۔۔۔
بیٹا !!! بریرہ بیگم نے ابھی بات ھی شروع کی تھی کہ معراج نے ایک دم روک دیا۔۔۔۔۔
پلیز جو بات کرنی ھے زارہ جلدی کریں تمید نا باندھیں۔۔۔۔
تم یہ سب کیوں کر رہے ھو ؟؟؟؟؟
بریرہ بیگم نے اب سیدھی بات کی تھی۔۔۔
کیا سب ؟؟؟؟؟
معراج نے ایک eyebrow اٹھا کر پوچھا۔۔۔۔۔
تم یہ سب کر کہ اپنی ہما کی اور اس بچی کی زندگی کیوں تباہ کر رہے ھو معراج ؟؟؟؟؟
اج میرے پاس ہما ائ تھی وہ رو رو کر بول رہی تھی کہ یہ شادی نا ھونے دوں۔۔۔۔
تم نے یہ بھی نا سوچا کہ وہ تمھاری بھابی کی چھوٹی بہن ھے ؟؟؟
میرے بیٹے وہ لڑکی !!!!!
بسس مسزز جہانگیر !!!!
it enoughs
وہ بریرہ بیگم کو مسزز جہانگیر ہی بولتا تھا۔۔۔
معراج ایک دم غصے سے اٹھا تھا۔۔۔
میرے معملے سے دور رہے۔۔۔اپ میرے باپ کی بیوی ھیں۔۔۔
میری ماں میں اپکو نہیں مانتا۔۔۔۔اور نا میری ماں بنے کی کوشش کریں۔۔۔۔میرے معمالات سے دور رہیں اپ۔۔۔۔
میرا جو دل ھوگا وہ کروں گا۔۔۔۔اور جہاں تک بات ہما کی ھے تو وہ اس کو سوچنا چھایے تھا کہ یہ اس کی بہن کا سسرال ھے۔۔۔
میں تو لڑکا ھوں۔۔۔
اس کو اپنی عزت کا خیال ھونا چھائے تھا۔۔۔۔
معراج بول کر تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔۔۔۔
بریرہ بیگم کی انکھوں میں موٹے موٹے آنسو تھے۔۔۔۔۔اتنے سالوں میں بھی وہ معراج کے دل میں جگہ نا بنا سکی تھیں۔۔۔۔۔وہ روتی ھوئ اپنے کمرے کی طرف چلئ گئ۔۔۔۔
معراج اپنے کمرے میں داخل ھوا تو کافی غصہ میں تھا اسکا موڈ بریرہ بیگم کی باتوں کی وجہ سے آوف ھوچکا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے بیڈ پر بیٹھا تھا کہ اچانک اس کے موبئل پر ہما کی کال آنا شروع ھوگئ۔۔۔۔
معراج نے کال پیک کر لی۔۔۔۔۔
ہیلو معراج ؟؟؟
ہما رو رہی تھی۔۔۔
معراج پلیز میرے ساتھ یہ مت کرو دیکھو پلیز !!!!
تم کسی اور لڑکی سے شادی کرنے جارہے ھو مجھے زاضا نے بتایا دیکھو پلیز ایسا مت کرو معراج۔۔۔۔
۔ہما کی آواز کافی بھیگی ھوئ تھی۔۔۔۔
ھوگیا ؟؟؟؟
یا اور بولنا ھے ؟؟؟؟
معراج نے نارمل سے انداز میں کہا۔۔۔۔۔۔معراج کے اوپر اسکی باتوں کا کوئ اثر نہیں ھوا تھا۔۔۔۔
ہما اس کی ضد نہیں تھی دعا اس کی ضد تھی۔۔۔
ہما اب غور سے میرے بات سنو۔۔۔!!!
تم میری صرف دوست تھی میرے سر پر چپکو مت۔۔۔۔اور ابھی تو تمھیں یہ نہیں پتا کہ میری شادی کس سے ھونے جارہی ھے۔۔۔۔جب یہ پتا لگے گا تو تم اور drama لگاو گی۔۔۔۔میں پہلے سے warn کر رہا ھوں۔۔۔
میرے راستے میں انے کی ہرگز کوشش نا کرنا دوستی تم نے مجھ سے کی تھی میں نے نہیں۔۔۔۔۔
ائ بات سمجھ میں۔۔۔۔
اور خود کو اتنا بھی نہیں گیرنے دینا چھائے کہ کوئ بھئ اپ کو کچل کر چلا جائے۔۔۔۔
معراج نے اپنی بات ختم کر کے فون کاٹ دیا تھا۔۔۔۔
اب وہ صرف اور صرف یہ سوچ رہا تھا کہ اسکو اگے کیا کرنا ھے۔۔۔۔!!!!!
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
دعا نے آنکھیں کھولی تو وہ وہی زمین پر سو رہی تھی جہاں۔وہ رات کو بیٹھ کر رو رہی تھی۔۔۔۔وہ شایئد روتے روتے وہی سو گئ تھی۔۔۔۔اور اب جب صبح اسکی انکھ کھلی تھی جو وہ ایک فصیلہ کر چکی تھی۔۔۔۔!!!
وہ اٹھ کر باتھ روم میں گھس گئ۔۔۔کپڑے بدل کر نیچھے ائ تو ناشتے کی میز پر احمد صاحب اور سمیرا بیگم اس کے ہی منتظر تھے۔۔۔۔
اسلام علیکم!!!
دعا سلام کر کے خاموشی سے اکر اپنی کرسی پر بیٹھ گئ اور چائے کا کپ اٹھا کر چائے نکالنے لگی۔۔۔۔اس میں اپنے ماں باپ سے نظریں ملانے کی ہمت نا تھی۔۔۔۔۔
دعا !!!!!! احمد صاحب نے دعا کو مخاطیب کیا تھا۔۔۔۔
اج تک احمد صاحب ہمیشہ اسکو میری شھزادی یا میری گڑیا کہہ کر بولایا کرتے تھے۔۔۔لیکن اج پہلی بار انھوں نے اس کو اس طرح سنجیدہ ھوکر پکارا تھا۔۔۔۔۔
جی ؟؟؟؟
دعا نے بنا نظر اٹھائے جواب دیا۔۔۔۔۔ وہ نظر اٹھانے کی ہمت پیدا نہیں کر پارہی تھئ۔۔۔۔
عمر ور نمرہ اسکول جا چکے تھے اور عمیر ابھی ابھی اٹھ کر آیا تھا۔۔۔۔
معراج جہانگیر سے تمھارا کیا تعلق ھے ؟؟؟؟؟
احمد صاحب نے سیدھے لفظوں میں بات شروع کی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
دعا اچانک اس سوال کے لیے تیار نا تھی اس لیے ایک دم بہت زیادہ گھبرا گئ اور ہاتھ میں پکڑا کپ اس کے ہاتھ سے تقریبن گیرنے ہی والا تھا۔۔۔۔۔
دعا خاموش رہی !!!!
دعا تمھارے ابو کچھ پوچھ رہے ھیں۔۔۔اب کے سمیرا بیگم نے کہا تھا۔۔۔ ۔
تم کیسے معراج جہانگیر کو جانتی ھو ؟؟؟؟
عمیر بھی ناسمجھنے کی کیفیت میں تھا۔۔۔
ماما بابا کیا ھوگیا اپ لوگ کو اپ اپی سے کیوں پوچھ رہے ھیں اس طرح ؟؟؟ عمیر نے ایک دم ٹرپ کر بولا تھا۔۔۔۔
کیوں پوچھ رہے ھیں ؟؟؟؟
کل راجہ جہانگیر صاحب اچانک ہمارے گھر اکر ہم سے ہماری بیٹی کا ہاتھ مانگنے لگتے ھیں۔۔۔۔
تو کیا ہم اس بیٹی سے پوچھے جس کی وجہ سے یہ سب ھو رہا ھے۔۔۔۔۔۔
احمد صاحب نے سخت الفاظ میں بات کی تھی۔۔۔۔۔
کیا ؟؟؟؟
عمیر کو بھی ایک جھٹکا سا لگا تھا۔۔۔۔
دعا کو اپنا دل ڈوبتا ھوا محسوس ھو رہا تھا۔۔۔۔
اس کے چہرے پر ایک رنگ آتا اور ایک رنگ جاتا۔۔۔۔۔
وہ کہاں اتنے بڑے آدمی اور کہاں ہم ؟؟؟
کیا ان کو وحی نازل ھوئ کہ ہمارے گھر میں بیٹی ھے !!!!!
سمیرا بیگم نے بھی سختی سے کہا۔۔۔۔۔
ھوسکتا ھے کوئ غلط فہمی ھوئ ھو۔۔۔۔ماما بابا !!!
عمیر اپنی بہن کو اچھی طرح جانتا تھا اس کے فورن بولا۔۔۔۔
ہاں مجھے پتا ھے میری بیٹی کبھی ایسی حرکت نہیں کرے گی۔۔ ۔تبھئ میں اس کے منہ سے سچ سنا چھاتا ھوں۔۔۔۔احمد صاحب نے نرمی سے کہا۔۔۔۔۔۔۔
جہانگیر صاحب کا کہنا ھے کہ تم اور ان کا وہ امیر بیٹا ایک دوسرے سے محبت کرتے ھو۔۔۔۔؟؟؟؟
اور تم بھی صرف اور صرف اسی سے شادی کرنا چھاتی ھو ؟؟؟؟؟؟؟؟؟
احمد صاحب نے سوال کیا۔۔۔۔
بول دو یہ جھوٹ ھے دعا ؟؟؟؟؟
سمیرا بیگم نے ٹرپ کر کہا۔۔۔۔۔
دعا کو ایک ایک الفاظ اپنے اندر خنجر کی طرح لگ رہا تھا۔۔۔
ہم تمھارا رشتہ پہلے ہی اشعر سے پکا کر رہے ھیں۔۔۔۔!!!!
احمد صاحب نے دعا کا زہن صاف کرنے کے لیے بتایا۔۔۔۔۔۔۔
بولو دعا کیا راجہ جہانگیر سچ بول رہے تھے ؟؟؟؟؟
کیا تم اور معراج ؟؟؟؟؟
دعا خاموش نظر جھکائ بیٹی رہی۔۔۔۔اسکی زبان اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔۔۔۔
میری بیٹی ایسا نہیں کرسکتی میں جانتا تھا۔۔۔۔۔۔
اس کی خاموشی یہ ہی بتا رہئ ھے کہ یہ سب جھوٹ ھے۔۔۔۔۔۔۔
احمد صاحب کی آواز روند گئ تھی۔۔۔۔۔
میری بیٹی یہ نہیں کرسکتی !!!
یہ سب جھوٹ ھے نا دعا ؟؟؟
سمیرا بیگم کی آواز میں بھی ڈر تھا۔۔۔۔۔
دعا کے زہن میں ایک جنگ چھڑی تھی۔۔۔۔
دل۔کچھ اور بول رہا تھا اور دماغ کچھ اور لیکن اب وہ اپنے زہن میں ایک فصیلہ کر چکی تھی۔۔۔اب اسکو اس فیصلے پر جمانا تھا۔۔۔۔
بولو دعا آپی جھوٹ ھے نا یہ سب باتیں ؟؟؟؟؟؟
اب کے عمیر دعا کی خاموشی دیکھ کر پوچھ رہا تھا۔۔۔۔۔
دعا کہ منہ سے رک رک کر نکلا تھا جی
