Zid Junoon Ki Inteha By SA Khanzadi NovelR50423 Zid Junoon Ki Inteha Episode 22
No Download Link
Rate this Novel
Zid Junoon Ki Inteha Episode 22
Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi
وہ لوگ کافی دیر سے ائرپورٹ پہنچے تھے ۔۔۔۔جہاز اڑنے میں بس کچھ ہی وقت رہے گیا تھا۔
دعا کا یہ زندگی کا پہلا صفر تھا جو وہ کر رہی تھی۔
دعا اج تک کراچی سے باہر نا گئ تھی۔۔
روحان اور علیان بہت زیادہ excited تھے۔
بلاج اور رملا بھی خوش تھے۔۔
وہ لوگ جلدی جلدی اپنی boading کروا کر اب جہاز میں آکر اپنی اپنی نشست تلاش کر رہے تھے۔
دیر سے انے کی وجہ سے ان لوگ کو نشستیں اگے پیچھے ملی تھی۔۔
اتفاق سے بلاج اور روحان کی ایک نشست ملی تھی جبکہ علیان اور رملا کی ایک نشست ملی تھی۔۔
لیکن بد قسمتی سے دعا معراج کو امنے سامنے کی نشستیں ملی تھی۔۔
دعا کے ساتھ باقی دونوں passenger بوڈھی عورتیں تھیں۔۔
جبکہ معراج کے بلکل ساتھ والی نشست پر ایک انتھائ موڈرن لڑکی بیٹھی تھی۔۔
جس نے ٹائٹ جینز کے ساتھ چھوٹی اور کاسی ھوئ سفید شرٹ پھن رکھی تھی۔۔۔۔اور بال کھولے ھوئے تھے۔۔۔
معراج نے پہلے دعا کو اسکی جگہ پر بیٹھایا تھا۔
اور اب اپنی جگہ دھونڈ رہا تھا۔۔۔ جب اس لڑکی نے مسکرا کر کہا تھا یہ ہی اپ کی سیٹ ھے۔
معراج کو اس لڑکی میں تو کوئ interset نہیں تھا۔۔۔۔
لیکن وہ دعا کی نظریں محسوس کر چکا تھا۔
جو مسلسل اسی لڑکی اور معراج پر تھی۔۔
معراج جان کر مسکراتا ھوا اس سیٹ پر بیٹھ گیا تھا۔
ابھی جہاز چلنے میں 15 سے 20 منٹ تھے۔۔
دعا کو بلاوجے ہی غصہ آرہا تھا۔
عجیب انسان ھے۔
ایک تو میں پہلی بار جہاز میں سفر کر رہی ھوں۔۔۔۔اور یہ جاکر کسی اور کے ساتھ بیٹھ گیا اور اب کیسے ھنس ھنس کر اسے باتیں کر رہا ھے۔
پتہ نہیں کیوں یہ ہی شخص میرے نصیب میں لکھا تھا۔۔
دعا کو پتا نہیں کیوں اس وقت حد سے زیادہ کوفت ھو رہی تھی
ارےےےے بیٹی کیا بولے جارہی ؟
ساتھ بیٹھی اماں نے دعا سے پوچھا۔کچھ نہیں اماں دعا نے چیڑ کر جواب دیا۔۔
دعا کی نظریں ناچھاتے ھوئے بھی بار بار گھوم گھوم کر معراج پر جارہی تھی۔
معراج نے کلے کلر کے کوٹ کے ساتھ بلیو جینز پھین رکھی تھی
معراج کی نظر بھی دعا پر ہی تھی اسلیے وہ جان جان کر ھنس ھنس کر اس لڑکی سے باتیں کر رہا تھا۔
بھاڑ میں جائے مجھے کیا۔
دعا نے بے نیاز دیکھانے کی کوشش کی پر وہ ناکام رہی۔۔
بس دعا کی یہ ہی کمزوری تھی۔
وہ اپنی کوئ بھی چیز کسی کے ساتھ اس طرح شیر نہیں کر سکتی تھی۔
معراج جیسا بھی تھا اسنے جو بھی کیا تھا۔
بل اخر وہ اسکا شوہر تھا۔
دعا کو اس وقت حد سے زیادہ جلن محسوس ھورہی تھی۔۔۔
لیکن وہ اس کو اپنا ڈر سمجھ رہی تھی۔
مجھے کوئ ڈر نہیں لگتا۔۔۔اور ویسے بھی سب ہی سفر کرتے ھیں تو پھر میں کیوں ڈروں۔۔۔۔۔مجھے اس انسان کی کوئ ضرورت نہیں ھے۔
دعا نے خود کو ہمت دی۔
ارے بیٹی تو اکیلی ائ ھے ؟
اب کے اماں نے دعا سے پوچھا تھا۔
نہیں میرے شوہر ساتھ ھیں۔۔۔۔دعا نے ایک دم ھی جل کر جواب دیا۔
اچھا کہاں ھے تیرا شوہر ؟؟
بوڈھی اماں نے پھر پوچھا۔
وہ رہے آاا
دعا نے معراج کی طرف اشارہ کر کے کہا۔
ائے ہائے وہ کسی اور لڑکی کے ساتھ بیٹھا ھے اور تو یہاں بیٹھی ھے ۔
اماں کوئ بڑے روب دار خاتون تھی۔جی وہ نشستیں نہیں ملی تھی۔
دعا کی کوفت انکے سوالوں سے بڑھ رہی تھی ۔
اچھا اچھا۔
پہلی بار سفر کر رہی جہاز میں ؟
جی اماں
اہ اہ تو بھی پاگل ھے اس لڑکی کے ساتھ کیوں چھوڑا اپنا شوہر ائے ہائے۔۔
اج کل بچیوں کو تو اپنا شوہر سنبھالنا نہیں اتا۔
تجھے پتا ھے جہاز جب چلتا ھے تو نا پوچھو میرا تو دل بندھ ھوجاوئے۔
میں تو کبھی نا جاتی جہاز میں پر میرا بیٹا ضد کر رہا تھا تو جا رہی ھوں۔
ہماری تو عمر ھے بھائ مرنے کی تم کیوں بھری جوانی میں اگئ ادھر۔۔
کبھی جہاز اڑتے اڑتے پھٹ جاوے ھے۔۔۔
اماں پتا نہیں کیوں دعا کو بلاوجے ڈرا رہی تھی
ککک کیا مطلب ?
دعا نے حیرت سے پوچھا۔
ارے بھائ تو نے نہیں سنا کیا جہاز پھٹ جاتا ھے۔۔۔ایسے ایسے حادثہ ھوتے ھیں۔۔کہ
توبا توبا
لوگ جل کر رکھ ھو جاتے ھیں۔۔۔۔اماں پتا نہیں کیوں اس طرح بول رہی تھی
اماں پلیز ایسے نا بولیں نا۔
دعا کو واقعی اب ڈر لگ رہا تھا۔
ارے میں تو سچ کہہ رہئ۔
جہاز پھٹے تو ایک بندہ ادھر اور ایک بندہ ادھر ملتا ھے۔
اور تو ویسی اپنے شوہر سے جدا ھے۔
توبا توبا۔۔
میں تو کبھی اپنے شوہر کا ساتھ نا چھوڑتی۔
بھائ جینا اور مرنا ھو تو شوہر کے ساتھ ھو۔
ابھی دعا اماں کی باتوں پر غور ہی کر رہی تھی۔
کہ جہاز چلنے کا اعلان شروع ھوا۔۔دعا کو ایک دم ہی گھبراہٹ ھوئ تھی۔۔۔۔دعا نے معراج پر نظر ڈالی تو وہ اسی لڑکی سے مسکرا کر کچھ کہہ رہا تھا۔
اتنے انجان چہروں میں ایک وہی چہرہ اسکو اپنا لگا تھا۔۔۔رملا اور بلاج کی سیٹ تو بہت پیچھے تھی۔
دعا نے ایک دم اپنی سیٹ بیلٹ کھولی اور تیزی سے اٹھ کر معراج کی نشست کی طرف ائ۔۔
excuse me
دعا نے اس لڑکی کو مخاطب کر کہا ۔۔
yes
اس لڑکی نے اپنی ھنسی کسی بات پر روکتے ھوئے کہا۔
جن کے ساتھ اپ بیٹھی ھیں وہ غلطی سے میرے شوہر ھیں۔
اس لیے اپ کو خود اس بات کا احساس ھونا چھائے کہ اپ میاں بیوی کو الگ نا کریں۔۔۔
اب برائے مہربانی اپ یہاں سے اپنی تشریف وہاں لے جائیں مجھے یہاں بیٹھنا ھے۔۔۔
دعا نے سہی روب دار لہجے
بلاوجے اس لڑکی کو سنائ تھی۔
ohh sure sure
وہ لڑکی مسکراتے ھوئے اٹھ گئ تھی۔۔
دعا کو امید نا تھی وہ اتنی جلدی اٹھ جائے گی۔
جاتے جاتے وہ رکی تھی اور معراج کو دیکھ کر بولی۔
تم نے صیح کہا تھا۔
تم جیت گئے۔
جس پر معراج نے مسکرا کر اسکو دیکھا تھا۔
جسی وہ اٹھ کر گئ دعا فورن اسکی جگہ پر بیٹھ گئ تھی۔۔۔
معراج نے دعا کے چہرے پر نظر ڈالی تو غصے سے دعا کی چھوٹی سی ناک لال ھو رہی تھی۔
معراج کو اس وقت دعا پر بے پناہ پیار آیا۔
اھووو میری جھنگلی بلی تو مجھے کسی اور کے ساتھ دیکھ کر پوری خنکار شیرنی بن جاتی ھے۔۔۔
دعا نے ایک غصے بھری نظر معراج پر ڈالی تھی۔
مجھے کوی فرق نہیں پڑ تا۔۔۔۔۔وہ تو مجھے اماں نے کہا اسلیے میں یہاں اگئ ھوں۔
اپ زیادہ خوش نا ھو۔
دعا نے اپنے غصے پر قابو رکھتے ھوئے کہا۔۔۔۔جب کہ اس وقت اسکو پتا نہیں کیوں حد سے زیادہ غصہ تھا۔
ہاہاہا اچھا میں اماں سے پوچھو ؟؟؟؟
معراج نے مسکرا کر کہا۔۔۔
ہاں ضرور۔۔۔اور۔۔۔
ابھی دعا کچھ بولنے ہی والی تھی کہ جہاز چلنا شروع ھوگیا تھا۔
دعا نے ایک دم انکھیں بند کر دعائیں پڑھنا شروع کی تھی۔
معراج نے اس کے چہرے پر ڈر دیکھا تھا۔
کیا ھوا ؟
معراج نے دعا کے کان میں جھک کر پوچھا۔۔
جیسی جہاز نے take off کرنے کے لیے اپنی اسپیڈ تیز کی تھی دعا کے دل کی ڈھڑکن بھی تیز ھوئ تھی
اس نے ایک دم معراج کے بازو کو زور سے تھام کر اپنا منہ اسکے مظبوط بازوں منہ چھپا لیا تھا۔
معراج نے اسکا ڈر دیکھتے ھوئے اسکے ہاتھ کو مظبوطی سے تھاما تھا۔۔۔۔اور ساتھ کہا تھا۔
میں ھوں تمھارے ساتھ دعا۔۔
دعا نے فورن ہی اپنا سر ہٹا لیا تھا۔۔۔
جہاز کے ھوا میں اتے ہی دعا کو چکر آنا شروع ھوگئے تھے۔
وہ اج پہلی بار جہاز میں بیٹھی تھی۔۔۔وہ اصل دری اماں کی باتوں کی وجہ سے تھی۔۔
اور اب اسکو چکر بھی بہت ارہے تھے۔۔وہ انکھیں کھولتی تو اپنا سر ہلتا ھوا محسوس کرتی
کیا ھوا ؟؟
معراج نے پھر پوچھا۔
مجھے چکر آرہے ھیں بہت
دعا نے دھیمی آواز میں کہا۔
معراج نے اپنے ایک ہاتھ سے دعا کا سر اپنے بازو پر پھر ٹیکایا تھا۔۔
اور ایک ہاتھ سے دعا کا ہاتھ تھاما ھوا تھا.
تم انکھیں بند کرلو۔۔۔۔تھوڑی دیر تک نورمل ھو جائے گا۔
دعا نے خاموشی سے سر معراج کے بازو سے ٹیکا دیا تھا۔۔۔۔کیونکہ جب وہ سر اٹھاتی اسکو چکر آتے۔۔
تم پہلی بار بیٹھی ھو ؟
معراج نے بھی اپنا سر دعا کے سر کے اوپر رکھ کر کہا۔
دعا خاموش رہی
پھر صرف اتنا بولی۔
ہممم
معراج نے دعا کا ہاتھ بہت مظبوطی سے تھاما ھوا تھا۔۔۔)
دعا کے اندر سے اتی دھیمی دھیمی خوشبو اسکو بہت اچھی لگتی تھی۔
دعا ؟
معراج نے تھوڑی دیر بعد پھر دعا کو پکارا تھا۔۔
دعا کی طرف سے کوئ جواب نا آیا تھا۔۔
تھوڑی ہی دیر بعد معراج کی بھی آنکھ لگ گئ تھی۔۔
☆☆☆☆☆☆☆
معراج کی جب انکھ کھولی تو دعا اسی طرح اس کے کندھے پر سر رکھ کر سو رہی تھی۔
معراج نے اپنی جیب سے موبائل نکالا اور airhottes سے کہہ کر اپنی اور دعا کی یہ یاد گار تصویر کھنچوائ۔
معراج نے تصویر میں دیکھا تو دعا سوتے بہت معصوم لگ رہی تھی۔
معراج کےچہرے پر ایک دم ھی مسکراہٹ بکھری تھئ۔
معراج نے اپنے موبئل میں اور تصویرے کھولی تو۔
معراج کے شادی والے دن کی تصاویر نظر ائ جس میں معراج اور دعا ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔۔۔
معراج نے وہ تصویر اپنے موبئل کے wallpaper پر سیٹ کر دی۔۔۔۔۔
اور پھر موبئل واپس جیب میں رکھ دیا۔۔۔اور پھر کھڑکی سے دیکھ کر سوچنے لگا۔
کہاں سے شروع ھوا تھا یہ سفر ۔۔
ایک ضد سے
جنون سے ؟
اور اب یہ میری زندگی کی سب سے بڑی حقیقت بن چکی۔۔۔۔۔ھے۔
میں تمھیں کبھی کہی نہیں جانے دو گا۔
دعا
معراج نے دل میں دعا سے کہا۔
دعا کی جب انکھ کھولی تو جہاز اسلاماآباد ائرپوڑٹ پر لینڈ ھوچکا تھا۔۔
معراج اور دعا ہاتھ تھام کر جہاز سے نکل کر ائے تھے اور اب لوبی میں کھڑے بلاج اور رملا کا انتیظار کر رہے تھے۔۔
میں واش روم سے ھو کر آتی ھوں
دعا معراج کو بول کر واش روم کی طرف بڑھ گئ تھی۔
واش روم میں اکر نے اسنے اپنا حجاب دوبارہ ٹھیک کیا تھا۔
وہ ابھی اپنا حجاب ہی باندھ رہی تھی کہ وہی لڑکی اس کے ساتھ اکر کھڑی ھوئ تھی جو معراج کے ساتھ بیٹھی تھی ۔
دعا کا اسکو دیکھ کر ایک دم ھی منہ بنا تھا۔
اپ سے ایک بات بولوں ؟
ساتھ کھڑی لڑکی نے دعا کو مخاطب کیا۔
جی ؟؟
دعا نے اسکی طرف دیکھ کر پوچھا۔
اپ کے شوہر اپ سے بہت پیار کرتے ھیں۔
اس لڑکی سے مسکرا کر کہا۔
اچھا واقعی ؟
دعا نے تنظزیہ پوچھا۔
جی بلکل۔
اور انھوں نے بیٹھتے ھی مجھ سے کہہ دیا تھا کہ میری بیوی اکر اس جگہ پر بیٹھیں گی۔۔۔۔اپ پلیز ادھر چلی جائے۔
اس پر میں نے کہا تھا کہ وہ وہاں بیٹھ چکی ھیں۔۔۔۔تو وہ بولے کے اپ انکو کسی اور کے ساتھ برداشت نہیں کرسکتی اس لیے اپ اٹھ کر خود ان کے پاس آئیں گی۔
اور ایسا ہی ھوا تھا۔
اسی پر میں نے ان سے کہا تھا کہ اپ جیت گئے۔
اس لڑکی نے دعا کو ساری تفصیل بتائ تو دعا کو شرمندگی محسوس ھوئ۔
نہیں ایسی بات نہیں وہ دراصل مجھے اونچائ سے ڈرد لگتا ھے اس وجہ سے۔
دعا نے اپنی صفائ پیش کی۔۔۔
چلیں جو بھی ھو۔۔
پر میں یہ ضرور کہو گی کہ رب نے بنا دی جوڑی۔۔۔اپ دونوں ایک ساتھ بہت پیارے لگتے ھیں۔
اس لڑکی نے مسکرا کر دعا کو کہا
Thankyou
nice to meet u….
nd sorry
اگر اپ کو کچھ برا لگا ھو تو۔۔۔۔دعا نے جاتے جاتے اس لڑکی سے معضرت کی تھی
ارے نہیں نہیں یہ تو اپکا پیار تھا ان کے لیے۔
۔اس لڑکی کی کہی بات نے دعا کو الجھایا تھا ۔
پیار ؟
دعا الجھ گئ تھی۔
افف میں بھی کیا سوچ رہی ھوں۔اسنے اپنا زہن جھٹکا۔
دعا جب باہر ائ تو وہ سب کھڑے اسکا انتیظار کر رہے تھے
کیسا رہا دعا سفر ؟
رملا نے دعا سے پوچھا۔
سوتے ھوئے۔
دعا کچھ بولتی اس سے پہلے معراج بول پڑا۔
ہاہہاہا بھابی محترمہ نے پورا سفر سو کر کیا ھے۔
کیوں ؟
رملا نے حیرت سے پوچھا۔۔
وہ اس کو چکر آرہے تھے۔۔۔۔معراج نے بتایا۔
اھو اب کیسی ھو دعا ؟؟
بلاج نے بڑے بھائیوں کی طرح پوچھا۔
جی اب ٹھیک ھوں بلاج بھائی
دعا نے مختصر سا جواب دیا۔
وہ لوگ ائرپورٹ سے باہر نکلے تو اسلاماآباد میں کافی ٹھند تھی۔۔۔۔نومبر کے last میں ویسی اسلاماآباد وغیرہ کی سردی پیک کی ھوا کرتی تھی۔
معراج کو ائرپورٹ سے اتے ہی چھیکیں لگ گئ تھی ۔۔
وہ لوگ 10 بجے کے قریب اسلاماآباد پھنچے تھے۔۔۔۔۔اور کھانا کھا کر اپنے ریسٹ ہاوس گئے تھے۔
ریسٹ ہاوس معراج کا اپنا تھا۔۔
بلاج اور رملا کچھ دیر ھنسی مزاق کر کے اپنے کمرے میں چلے گئے تھے
اگلے دن صبح انکو اسلاماآباد گھومنا تھا۔
معراج اور دعا بھی اپنے کمرے میں اگئے تھے۔۔لیکن اس کمرے میں بیڈ کے علاوہ اور کوئ سونے کی جگہ موجود نا تھی۔
معراج باتھ روم سے فریش ھو کر نکلا تو دعا balcony میں کھڑی ٹھندی ٹھندی ھوا کھا رہی تھی.
معراج بھی اکر اس کے پاس کھڑا ھوا تھا۔۔
اتنی ٹھنڈ میں باہر کھڑی ھو۔۔۔۔ بیمار پڑ جاو گی۔۔۔۔اگے بہت لمبا صفر ھے۔
معراج نے دعا کے پیچھے کھڑے ھوکر کہا۔
تو اس کے کہنے پر دعا اندر اگئ تھی۔۔۔
محترمہ اب مصلہ یہ ھے کہ اس کمرے میں سونے کے لیے بیڈ کے علاوہ اور کوئ جگہ نہیں ھے اور اتنا اچھا تو میں ھوں نہیں کہ زمین پر سوں۔
تو اج اپ کو میرے ساتھ اپنا بیڈ شیئر کرنا پڑے گا۔
معراج بولتے بولتے اکر بیڈ پر بیٹھا تھا اور اب کمبل اوڑھ رہا تھا۔۔
کیوں ؟
یہاں extra mattress بھی نہیں ھیں ؟؟
دعا نے پریشان ھوتے ھوئے کہا۔
دو تھے جو روحان اور علیان کے لیے ڈال دیے۔
ویسے جہاز میں تو پورا راستہ تم نے میرا کندھا توڑا ھے اور اب تمھیں خیال آرہا ھے۔
معراج نے دعا کو چھیڑانے کے لیے کہا جی نہیں۔۔
میں نے تو نہیں توڑا ۔۔ دعا نے فورن جیھپ کر کہا تھا۔۔
ہاں میرے ساتھ تو وہ لڑکی بیٹی تھی نا۔۔
کیا نام تھا اسکا
ہاں ہاں۔
ثناء۔۔۔۔۔کتنا پیارا نام ھے نا
معراج نے جان کر دعا کو جلانے کے لیے اس لڑکی کا زکر کیا تھا۔
اھو یہ بات معراج صاحب بول رہے ھیں جس کو عورت زات سے نفرت تھی۔
دعا نے موقعے پر چوکا مرا۔
دیکھو عورت زات سے تو اب بھی ھے۔پر کسی کی پیشکش کو نہیں ٹکھرانا چھائے نا۔۔
معراج اب کمبل اوڑھ کر بیڈ پر لیٹ گیا تھا اور ایک ہاتھ بیڈ کے ھتے سے ٹکا کر مزے سے دعا سے باتیں کر رہا تھا۔۔
اب پوری رات کھڑی رہو گی یا سونا بھی ھے ؟
معراج نے محسوس کیا تھا کہ دعا کو سردی لگ رہی ھے۔
میں اپ کے ساتھ تو نہیں سوں گی سوری۔
دعا نے صاف انکار کیا تھا۔
مجبوری ھے محترمہ ۔
اج اپ کو سونا ہی پڑے گا۔۔۔اور ویسے بھی کل صبح جلدی اٹھنا ھے تھوڑا بہت اسلاماآباد گھوم کر پھر ناران کے لیے نکلنا ھے۔۔
بھائ میں تو سو رہا ھوں تم کھڑی رہو۔
معراج جانتا تھا جب تک وہ جگتا رہے گا
دعا اس کے پاس اکر کبھی نہیں لیٹے گی
اوکے
۔میں پوری رات کھڑی رہے لوں گی۔
دعا کو بلاوجے معراج پر غصہ آیا تھا اور اصل وجہ غصے کی ثناء تھی۔
دعا کو واقعی اس وقت بہت تھکن محسوس ھو رہی تھی۔۔۔اور نیند بھی بہت سخت ائ تھی۔
لیکن دعا تو دعا تھی۔
وہ کہاں معراج کی بات مان لیتی۔
دعا اکر پھر balcony میں کھڑی ھوگئ تھی۔
عجیب لڑکی ھے یہ۔
انسان کو اتنا ضدی بھی نہیں ھونا چھائے۔۔
معراج بڑبڑاتا غصے سے اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔۔
تمھیں کہا ھے نا اندر او سمجھ نہیں اتی ابھی ابھی بیماری سے اٹھی ھو تم۔۔
معراج نے دعا کو ہاتھ پکڑ کر کمرے میں اندر کیا تھا۔
جاو جاکر سو جاو بیڈ پر۔۔
معراج نے ون سیٹر صوفے پر بیٹھتے ھوئے کہا۔۔)
مجھے اپکی مہربانی کی ضرورت نہیں ھے۔
دعا نے بھی فورن جواب دیا۔۔
یار مصلہ کیا ھے آخر ؟؟
معراج اب واقعی زیچ ھوا تھا۔
مصلہ کچھ نہیں ھے۔
مجھے بس اپ کے ساتھ نہیں سونا۔
دعا نے ڈھٹائ سے کہا تھا۔
اچھا کیوں نہیں سونا !!!
معراج نے کھڑے ھو کر پوچھا تھا۔۔
بس میری مرضی۔۔۔۔دعا نے گردن گھوما کر کہا۔
چلو ایک کام کرتے ھیں۔۔
معراج کے زہن میں ایک تجویز ائ تھی۔
کیا کام ؟
دعا نے فورن پوچھا۔
ہم دنون بیچ میں تاکیے لگالتے ھیں ایسے ہم دونوں ایک دوسرے سے touch نہیں ھونگے۔۔۔۔
یار دعا رات کے تین بجے ھیں درد سے کمرے ٹوٹ رہی ھے ایک رات کی تو بات ھے۔
دعا نے اپنے دل میں خود سے بات کی تھی
ٹھیک ھے
لیکن اپ میری طرف نہیں ائیں گے۔
دعا نے اپنی بات کا بھرم رکھنے کے لیے کہا۔
اب تم بار بار بول رہی ھو یعنی کے تم چھاتی ھو کہ میں تمھاری طرف آوں۔۔
معراج نے انکھوں میں شوخی لاتے کہا۔
میں ایسا کچھ نہیں چھارہئ اچھا نا۔۔
دعا اپنی بات میں الجھی۔۔۔
اچھا صیح۔۔۔
معراج نے تین تکایئے اٹھا کر double بیڈ کے بیج میں رکھ دیے تھے اور خود ایک طرف ھوکر لیٹ گیا تھا۔
اب وہ رہی تمھاری جگہ سونا ھو تو سو جانا۔
معراج دعا کو بول کر واپس اپنی جگہ پر آگیا تھا اور اب کمبل اوڑھ کر انکھیں بند کر کے لیٹ گیا تھا۔
کچھ دیر دعا ویسی کھڑی رہی لیکن پھر مجبورن اکر اسکو اس جگہ لیٹنا پڑا۔
دعا کو عجیب سا محسوس ھو رہا تھا پر مجبوری تھی
دعا نے معراج پر نظر ڈالی تو معراج سو چکا تھا۔۔
دعا خاموشی سے کمبل اوڑھ کر ایک کونے میں ھوکر لیٹ گئ۔
وہ اج پہلی بار اپنا بیڈ شئیر کر رہی تھی۔
معراج تھکا ھوا تھا اس لیے گھیری نیند میں جا چکا تھا۔
دعا نے ایک نظر معراج کے چہرے پر ڈالی تھی۔۔
پتا نہیں کیوں !
جب تم کسی اور کے ساتھ ھوتے ھو تو میرا دل جلتا ھے۔۔
میں تم سے نفرت کرتی ھوں یہ بات میں جانتی ھوں۔
پھر بھی کیوں میرا دل کہتا ھے کہ تم میں کچھ اچھا ھے۔
تم نے میرا سب کچھ مجھ سے چھین لیا۔۔۔۔میں تم سے دور جانا چھاتئ ھوں۔
پھر ایسی کیا چیز ھے جس نے مجھے تمھارے ساتھ بندھے رکھا ھے۔
دعا معراج کو دیکھ کر اپنے دل میں سوچ رہی تھی۔۔۔۔
تم وہ نہیں ھو جسکو میں نے مانگا تھا۔
لیکن میں نے اج پہلی بار تمھارے ساتھ وہ سکون محسوس کیا جو کبھی نا کیا۔
تمھارے ساتھ مجھے تحافظ کا احساس کیوں ھوتا ھے جب کہ تم ھی میرے گنھگار ھو۔۔
اخر کیوں؟
دعا کو ایک دم جہاز والا سین یاد ایا تھا۔۔۔جب اس نے معراج کے مظبوط بازو پر ہاتھ رکھا تھا تو معراج نے کہا تھا میں تمھارے ساتھ ھوں توایک دم اسکا سارہ ڈر غائب ھوگیا تھا
اس کو ایسا محسوس ھوا تھا کہ وہ کسی بہت محفوظ جگہ پر ھے۔
یا اللہ تو ہی میری مدد کر۔
مجھے نہیں سمجھ آتا میں کیا کروں۔
میں اس شخص سے طلاق لینا چھاتی ھو۔
دور جانا چھاتی ھوں۔
لیکن میرے دل میں اس کے لیے اچھائ کیوں پیدا ھو رہی ھے۔
میرے اللہ۔
دعا بہت گھیری سوچوں میں اپنے اللہ سے باتیں کر رہی تھہ۔۔۔اور معراج کو دیکھ رہی تھی۔۔
تب اسنے محسوس کیا تھا کہ جیسے معراج کوئ خواب دیکھ رہا ھے۔
اور بہت پریشان ھے۔
دعا نے تھوڑا اٹھ کر دیکھا تو معراج کے ماتھے پر پسینہ بھی تھا۔
سارہ دن جناب لوگوں کی نیند خراب کرتے ھیں۔۔۔اب پتا نہیں کس نے انکی نیند خراب کرنے کی جرت کی ھے۔
دعا نے مسکرا کر معراج کو دیکھا تھا۔
اور پھر اچانک خود بخود اسکا ہاتھ معراج کے بالوں کی طرف بڑھا تھا۔اسکو معراج کے بال بہت پسند تھے۔۔وہ ہلکے ہلکے معراج کے بالوں میں ہاتھ پھیر رہی تھی
افففف یہ کیا کر رہی ھوں میں۔
دعا نے ایک دم ہی اپنا ہاتھ پیچھے کیا تھا۔
پاگل ھوگئ ھوں میں۔۔
دعا اب معراج سے کروٹ بدل کر لیٹ گئ تھی
اور نجانے سوچتے سوچتے کب اسکی انکھ لگ گئ تھی۔
معراج کی جب ادھی رات کو انکھ کھولی تو دعا اسکی ہی طرف منہ کر کے سو رہی تھی۔
اور دعا کا ہاتھ معراج کے ہاتھ کے بلکل ساتھ پڑا تھا۔
معراج نے نیند میں ھی سوتی دعا کو مسکرا کر دیکھا تھا۔
اور پھر بیچ میں سے تاکیا ھٹا دیا تھا اور دعا کے بلکل پاس ھوکر لیٹ گیا تھا۔۔
میری پیاری جھنگلی بلی۔
معراج نے دعا کا ہاتھ اپنے مظبوط ہاتھوں میں لے کر ہلکے سے چوپ کر کہا اور مسکرایا پھر دوبارہ میٹھی نیند سو گیا۔
☆☆☆☆☆☆
وہ دونوں ھی بے خبر سو رہے تھے جب معراج کا موبئل مسلسل بجا جا رہا تھا۔
دعا کی انکھ کھلی تو معراج کا ہاتھ اس کے ہاتھوں میں تھا اور معراج دعا کے بے حد قریب ھوکر سو رہا تھا۔
دعا ایک جھٹکے سے اٹھی تھی۔۔۔۔اور اپنا ہاتھ معراج کے ہاتھ سے چھڑوایا تھا
اھوو شکر پہلے میں اٹھی۔۔۔۔دعا نے دل میں شکر ادا کیا تھا۔۔۔۔اور معراج کے اٹھنے سے پہلے باتھ روم گھس گئ تھی
تھوڑی ہی دیر بعد معراج بھی اٹھ گیا تھا۔
اج کی صبح اسکو بہت میٹھی لگ رہی تھی۔۔
اس نےفون اٹھایا تو بلاج کی 10 مس کالز ائ ھوئ تھی۔۔۔اسنے دوبارہ بلاج کو کال ملائ تھی
ہاں اٹھ گئے ھیں۔۔۔۔اوکے
معراج نے بلاج سے بات کر کے فون رکھا تھا اور بیڈ سے کھڑا ھو کر انگڑائ لے رہا تھا۔
جب ہی دعا باتھ روم سے نھا کر لال فروک پھن کر باہر نکلی تھی
ایک پل کے لیے معراج دعا سے نظر ہاٹنا بھول گیا تھا۔
دعا نے جان کر معراج کو ان دیکھا کیا تھا
جلدی تیار ھوجاو بلاج وغیرہ ارہے ھیں۔
معراج نے دعا کو کہا اور خود اپنے کپڑے نکال کر باتھ روم میں گھس گیا۔
دعا نے ہلکا ہلکا میک اپ کیا۔۔۔۔اور اپنے بال سکھا کر اپنا ڈوپٹہ سر پر لیا
اور پھر جانماز بچھا کر نماز ادا کی
معراج باتھ روم سے جب نھا دھو کر باہر نکلا تو دعا قرآن پاک پڑھ رہی تھی۔
معراج کو بڑی حیرت ھوئ تھی کہ دعا نے اپنی عادت صفر میں اکر بھی نا چھوڑی تھی۔
دعا قرآن پاک کی تلاوت کر رہی تھی۔دعا کی آواز بہت میٹھی تھی۔
معراج شیشے کے سامنے کھڑا اپنے بال بنا رہا تھا۔
لیکن اس کا دھیان دعا پر تا۔۔ اسکو دعا کی آواز میں صبح صبح قرآن سنا اچھا لگ رہا تھا
دعا ساتھ ساتھ ترجمع بھی پڑھ رہی تھی۔
معراج اکر دعا کے سامنے صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔
دعا نے ایک دم اپنی تلاوت روکی تھی۔۔۔جب معراج نے اسکو سر ہلا کر اشارہ کیا کہ وہ اپنی تلاوت جارہی رکھے۔
دعا نے پھر سے تلاوت شروع کی تھی
معراج خاموشی سے بیٹھا سنتا رہا۔۔
دعا نے جب اپنی تلاوت مکمل کی تو قرآن پاک کو غلاف میں لپٹ کر رکھا۔
یہ تم کونسی صورت پڑھ رہی تھی
معراج نے ایک دم سوال کیا تھا۔
سورہ یسن ۔
دعا نے بڑی حیرت سے جواب دیا تھا۔۔
کیوں اپنے قرآن پاک مکمل نہیں کیا ؟
دعا نے معراج سے سوال کیا تھا۔
ہاں بچپن میں پڑھا تھا۔
لیکن بچپن کے بعد کبھی کھول کر نہیں دیکھا۔
مجھے اپنے بچپن کی کوئ یاد یاد نہیں۔۔
معراج نے کچھ عجیب آنداز میں کہا تھا۔۔۔
اس کے چہرے پر ایک رنگ ایا اور گیا تھا۔۔۔جو دعا نے محسوس کیا تھا۔۔۔تو پھر
دعا نے اپنی بات پوری نا کی تھی کہ دروازے پر دستک ھوئ تھی۔۔۔
معراج نے بیڈ سے اٹھ کر دروازہ کھولا تھا۔
تو روحان اور علیان ایک دم اندر داخل ھوئے تھے ۔۔ان کے پیچھے بلاج اور رملا بھی تھے۔
ماشاء اللہ نیو میرڈ couple تو بہت ہی حسین لگ رہا ھے اج۔
رملا نے معراج اور دعا پر نظر ڈال کر کہا تھا۔
اھووو بھابی صاحبہ اپکے couple کا بھی کوئ جواب نہیں ویسے۔۔
معراج نے مسکرا کر کہا۔
دعا رات میں نیند کسی ھوئ ؟
رملا نے پوچھا تو دعا کی نظر ایک دم معراج پر پڑی جو اسکو اپنی ایک ائ برو اٹھا کر مسکرا کر دیکھ رہا تھا۔۔
ہم ہم
بھابی یہ بہت خطرناک سوال کرلیا اپنے۔
معراج نے ھنس کر کہا تو دعا نے شرم سے سر جھکا لیا
چپ بدمعاش ۔۔۔۔رملا نے پیار سے چھوٹے دیور کے بال خراب کرتے ھوئے کہا۔
ارے بھابی ابھی بال بنائے ھیں یار۔۔۔
معراج نے اپنے بال سیٹ کرتے ھوئے کہا۔۔۔
چلو جلدی ناشتہ کرو پھر نکلتے ھیں یار ادھر سے۔۔
بلاج نے کہا تو سب کمرے سے باہر نکل گئے تھے۔
☆☆☆☆☆☆☆
ناشتہ کر کے وہ لوگ پہلے اسلآماآباد کی ایک دو جگائیں گھومے تھے اور اب وہ لوگ فیصل مسجد ائے تھے۔۔
دعا اج پہلی بار آسلاماآباد دیکھ رہی تھی۔۔۔۔اسکو بچپن سے اسلاماآباد بہت پسند تھا اور خاص کر فیصل مسجد۔
وہ لوگ جب فیصل مسجد کے اندر داخل ھوئے تو دعا فیصل مسجد دیکھ کر بہت خوش ھوی۔
فیصل مسجد ایک بہت خوبصورت مسجد تھی
معراج اور دعا ساتھ ساتھ چلتے اندر داخل ھوئے تھے۔۔۔جوتے اتر کر وہ لوگ ایک کھلے سہن میں داخل ھوئے تھے۔۔۔
بلاج دعا اور بچوں کو ایک ایک جگہ کی خاصیت بتا رہا تھا۔
معراج بھی اج پہلی بار فیصل مسجد آیا تھا۔۔۔۔مسجد تو شائید وہ عید کی نماز پر بھی نہیں جاتا تھا
وہ لوگ اب سڑیاں چھڑ کر اوپر کی طرف گئے تھے جہاں سامنے ایک بہت بڑا سہن تھا اور پھر تھوڑے ہی پیچھے مسجد تھی جس میں سونے سے لکھا قرآن پڑا تھا۔
دعا نے ایک ایک چیز بہت خوشی سے دیکھی تھی۔
ماشاء اللہ بہت ہی پیاری جگہ ھے بلاج بھائ۔۔
دعا نے بلاج سے تعریف کی۔
ہاں بلکل۔
ابھی وہ لوگ باتیں ہی کر رہے تھے کہ معراج نے اپنا موبئل نکال کر سیلفی لی تھی۔
اھوو ھیرو اب اپنی بیگم کے ساتھ سیلفی لو۔
رملا نے معراج کے ہاتھ سے موبئل لے کر اسکو دعا کے پاس کھڑا کیا تھا۔
دعا ے معراج کی جوڑی واقی بہت پیاری تھی۔
رملا نے زبردستی دعا اور معراج سے ایک دو پوز مروا کر فٹو بھی لی تھی۔روحان اور علیان تو بلاج کے ساتھ گھوم رہے تھے۔
بس نا بھابی۔
دعا نے چیڑ کر کہا تو رملا نے مزید تصویرے نا لی۔
ایک دم ہی آزان کی آواز ائ تھی۔۔شائید ظہر کی آزان ھو رہی تھی۔۔
معراج نے اج نجانے کتنے عرصے بعد ازان کو اس قدر غور سے سنا تھا۔
ازان ختم ھوتے ہی رملا اور دعا عورتوں کے حصے میں نماز پڑھنے چلی گئ تھی۔
دعا نے نماز پڑھ کر دعا مانگئ اور اٹھ کر عورتوں کے ایرا سے باہر ائ تو معراج وہی زینے پر بیٹھا تھا۔۔
دعا چلتی ھوئ اس کے پاس ائ تھی۔۔
اپ نے نماز نہیں پڑھی ؟
دعا نے جان کر معراج سے پوچھا تھا۔۔
نہیں
معراج نے مختصر سا جواب دیا تھا اور پھر موبئل میں لگ گیا تھا۔
کیوں؟
دعا نے پھر سوال کیا تھا۔۔
میری مرضی۔
معراج کا موڈ کچھ آف تھا۔۔
میرا نہیں خیال یہ اپکی مرضی ھے۔
دعا کے کہنے پر معراج نے ایک دم اسکی انکھوں میں دیکھا تھا۔
دعا اسے تھوڑے ہی فاصلے پر بیٹھ گئ تھی۔۔۔اور اپنی گھیری انکھوں سے اسکو دیکھ رہی تھی۔
انسان بہت سی چیزیں بھول جاتا ھے۔
لیکن انکو دوبارہ سکھنا چھائے۔۔۔کبھی کبھی جو سکون ہم دنیاوی چیزوں میں ڈوھنڈ رہے ھوتے ھیں وہ دراصل اللہ نے اپنے ایک سجدے میں رکھا ھوتا ھے۔
معراج کے بنا کچھ کہے دعا سمجھ چکی تھی کہ معراج کو نماز نہیں آتی۔۔۔
تمھیں کیسے پتا کہ میں نماز بھول گیا ھوں ؟
معراج نے دعا کی طرف دیکھتے ھوئے کہا۔
مجھے اللہ نے بتایا۔۔
دعا نے اج پہلی بار معراج کو مسکرا کر جواب دیا تھا۔
مجھے نماز یاد نہیں۔
مجھے قرآن بھی یاد نہیں آخری بار میں نے قران اور نماز شاید اٹھ سال کی عمر میں پڑھی تھی۔۔۔
اور اس کے بعد۔!! دعا نے سوال کیا۔۔
کبھی نہیں !!! معراج صرف اتنا ھی بول پایا۔
معراج نے دعا کو خود بتایا تھا۔
اپ اللہ سے کوئ دعا نہیں مانگتے ؟
دعا نے ایک دم ہی سوال کیا تھا
نہیں
بس ایک بار مانگی تھی۔۔۔۔معراج نے مختصر سا جواب دیا۔
کب ؟؟
دعا نے پوچھا۔
بس مانگ لی تھی۔۔۔معراج نے چیڑ کر کہا۔۔۔۔ مجھے نا اپنا بچپن یاد کرنے کا شوق ھے نا اس کی باتیں کرنے کا خیر چھوڑو ۔
تم بتاو۔
نماز پڑھ کر کیا دعا مناگی ؟
معراج نے اب دعا سے سوال کیا تھا
مجھے جو چھائے ھوتا ھے میں اللہ سے کی مانگتی ھو۔۔۔۔ابھی بھی بہت ساری دعائیں مانگی۔
اور اللہ تمھاری ہر دعا سن لیتا ھے ؟
معراج نے بہت گھیرا سوال کیا تھا۔
ہاں وہ میری دعا سنتا ھے اور قبول بھی کرتا ھے۔
بس کبھی دیر سے کبھی جلدی لیکن دعا قبول ھوتی ضرور ھے۔
اللہ تو کہتا ھے مجھ سے مانگو میں دوں گا۔۔۔میرے گھر دیر ھے اندیر نہیں۔۔
بس ہمارے ہی ایمان کمزور ھیں۔۔۔۔دعا نے معراج کو بہت گھیری بات سمجھائ تھی
ہممم۔۔
معراج نے جواب دے کر سر جھکا لیا تھا۔
اھوو کیا بات چل رہی ھے میاں بیوی میں ؟
رملا نے اکر دونوں کو چھیڑا تھا۔
اپکی برائ اور کیا۔
دعا نے ھنس کر کہا تھا۔۔
ہاہاہاا نہیں میں نہیں مان سکتی کہ تم دونون میری برائ کرسکتے ھو۔
رملا نے ھنس کر کہا۔
معراج کا موڈ کچھ سیریس تھا۔۔بلاج کے اتے ہی اسنے چلنے کو کہا تھا۔۔
وہ لوگ فیصل مسجد سے نکل کر سیدھا ناران کے لیے روانہ ھوئے تھے۔
اسلاماآباد سے ناران کا سفر کوئ 6 گھنٹے کا تھا۔۔
راستے بھر دعا نے محسوس کہا تھا کہ معراج بہت چپ چپ تھا۔
دعا کا ناچھاتے ھوئے بھی دھیان بار بار معراج پر جا رہا تھا۔
وہ بنا کوئ بات کیے پچھلے دو گھنٹے سے گاڑی چلا رہا تھا۔
گاڑی اندھیری ڑود پر چل رہی تھی۔ دعا کھڑکی سے باہر چاند دیکھ رہی تھی۔
آخر یہ شخص مجھے اتنا اکیلا کیوں لگتا ھے۔۔۔دعا نے چاند کو دیکھتے ھوئے دل میں سوچا۔
ایسا کیا ھوا تھا اس کے بچپن میں جو یہ اللہ سے بھی دور ھوگیا
مجھے کیا ھورہا ھے۔۔۔۔میرا دل کیوں اس کے لیے دکھ رہا تھا ۔۔
کیوں ااسکو خاموش دیکھ کر مجھے عجیب سا لگ رہا ھے۔
آخر کیوں ؟
مجھے ایسا کیوں لگتا ھے یہ مجھ سے بہت کچھ کہنا چھاتا ھے۔
دعا کو نجانے کیوں معراج کی زات میں دلچسپی بڑھ رہی تھی۔
وہ اپنے ہی سوالوں میں گھیری ھوئ تھی۔
☆☆☆☆☆☆
دعا کیا سوچ رہی ھو ؟؟
معراج نے گاڑی چلاتے چلاتے دعا پر نظر دال کر پوچھا تو جو کسی گھیری سوچ میں تھی۔
کچھ نہیں۔۔۔بس ہلکی سی ٹھنڈ لگ رہی ھے۔
دعا نے گاڑی کی سیٹ پر التی پالتی مار کر کہا۔
پیچھے میری جیکٹ پڑی ھے وہ لے لو۔۔
معراج نے سنجدیگی سے کہا۔۔
دعا نے خاموشی سے اٹھا کر اسکی جیکٹ اپنے اوپر ڈال لی تھی۔۔
اپ نہیں تھکے ؟
دعا نے ایک دم ہی پوچھا تھا۔۔
میری تھکن کبھی ختم نہیں ھوسکتی۔۔۔۔دعا!
معراج نے لبوں پر درد بھری مسکان سجا کر کہا تھا۔۔۔۔
مطلب ؟؟
دعا نے ھیرت سے پوچھا تھا۔۔
کچھ باتیں بنامطلب بھی ھوتی ھیں۔۔بس کوئ دل کی باتیں سمجھنے والا ھو
معراج نے کہہ کر میوزک player اون کیا تھا۔۔۔
میوزک پلیر پر بجنے والا گانا معراج کے دل کے درد کو بیان کر رہا
آطف اسلم کی آوآز میں بجتا
