Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zid Junoon Ki Inteha Episode 16

دعا اپنی سوچوں میں گم بیٹھی تھی جب معراج کمرہ کھول کر اندر داخل ھوا تھا۔۔۔۔۔

دروازہ کھولنے کی آواز پر دعا کا دل ایک دم زور سے ڈھڑکا تھا۔۔۔۔۔۔

وہ اج معراج جہانگیر کی قید میں تھی۔۔۔۔

معراج وہ شخص تھا جس سے وہ سب سے زیادہ نفرت کرتی تھی۔۔۔۔

جسکا نام لینا اسکو برا لگتا تھا۔۔۔۔۔

جس کے پاس جانا وہ اپنی بےعزتی سمجھتی تھی۔۔۔۔۔۔

اج اس شخص کے پاس دعا پر حکومت کرنے کے تمام حق مجود تھے۔۔۔۔

دعا کا دل ایک عجیب سے در سے خوف زادہ ھوا تھا۔۔۔۔۔

معراج نے کمرے میں داخل ھو کر کمرہ LOCK کر دیا تھا۔۔۔۔۔

پھر شیراونی کا ایک بٹن کھول کر ہلکا پھلکا ھوا تھا۔۔۔۔۔۔

پھر ہلکے ہلکے چلتا ھوا دعا کے پاس اکر بیڈ پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔

دعا کو گھبراہٹ سی محسوس ھو رہی تھی۔۔۔۔۔۔

واہ یار تم تو دلہن بنی میرا انتیظار کر رہی ھو۔۔۔۔۔مجھے لگا تھا تم تو کب کی سو چکی ھوگی۔۔۔۔۔

معراج نے شرارت سے دعا کے سامنے بیڈ پر بیٹھتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔

معراج کی اس بات پر دعا شرمندہ سی ھوئ۔۔۔۔

اور سوچنے لگی ہاں واقعی میں کیوں اس طرح بیٹھی تھی۔۔۔۔ابھی دعا کچھ بولتی اس سے پہلے معراج بول پڑا۔۔

اہ !!

اب سمجھا تم بھی تو ایک لڑکی ھو۔۔۔۔۔

اپنے حسن کی تعاریف سنا چھاتی ھو۔۔۔۔۔

اس لیے سجی بیٹھی میرا انتیظار کر رہی تھی میری جان۔۔ ۔!!!

معراج نے شرارت سے دعا کا ہاتھ تھاما تھا۔۔۔۔دعا کو ایک دم کرنٹ سا لگا تھا۔۔۔۔

وہ فورن بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ھوگئ تھی۔۔۔۔۔

فضول کی باتیں مت کریں۔۔۔۔

مجھے کوئ شوق نہیں ھے اپکا انتیظار کرنے کا ۔۔۔۔۔۔۔

دعا دلہن بنی غصہ کر رہی تھی۔۔۔معراج کو ایک دم اس کے اٹھنے پر ہنسی ائ تھی۔۔۔۔۔

اچھا اگر محترمہ ایسی بات ھے تو اب تک اپ نے کپڑے کیوں نہیں بدلے ؟؟؟؟

معراج نے دعا کو اس کے ہی سوال میں پھسایا تھا۔۔۔۔

بس میری مرضی !!!!

دعا نے جواب دیا۔۔۔۔۔۔

ہاہاہا یہ کوئ SOLID REASON تو نہیں ھے دعا خان !!!!

سوری سوری دعا معراج۔۔۔۔۔!!!!

معراج نے اپنا اور دعا کا نام چبا چبا کر لیا تھا۔۔۔۔ ۔

ویسے کیا کہا تھا لوگوں نے۔۔۔؟؟؟؟؟

میرا نام لینے میں انکو شرم اتی ھے۔۔۔۔

مجھے سے نفرت کرتی ھیں۔۔۔۔۔

اہ ھو اب یہ ہی نام میڈم کی پہچان بن گیا ھے۔ ۔۔۔۔۔

ہاہاہا تم سب لڑکیاں بہت بڑی بڑی باتیں کرتی ھو۔۔۔۔

لیکن ھوتی اندر سے ساری ایک جیسی ھو۔۔۔۔۔

اگر تمھیں میں اتنا پسند تھا اور مجھ سے شادی ہی کرنی تھی تو سیدھا بول دیتی نا۔۔۔۔۔۔مجھے ضد دلانے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔۔!!!

معراج کا موڈ بہت اچھا تھا اور وہ

جان کر دعا کو جلا رہا تھا۔۔۔۔۔۔

میں ؟؟؟؟

میں تم سے شادی کرنا چھاتی تھی ؟؟؟؟؟

میری جوتی کرتی ھے تم سے شادی آااااا دعا نے غصے سے کہا اور اپنے الفاظوں پر بولنے کے بعد دھیان دیا۔۔۔۔۔۔تو فورن معراج سے منہ موڑ کر کھڑی ھو گئ۔۔۔۔

ہاہاہا۔۔۔۔

محترمہ۔۔۔۔۔

اپکی جوتی کا نہیں پتا پر اپنے ضرور کرلی مجھ سے شادی۔۔۔۔۔

معراج نے زور سے قہقہ لگا کر کہا ۔۔۔۔۔۔

پھر اٹھ کر دعا کے بلکل پیچھے اکر کھڑا ھوگیا تھا۔۔۔۔۔۔

دیکھو!!!!!

دعا ایک دم کچھ بولنے موڑی تو معراج سے ٹکرائ اسکا balance out ھوا اور وہ تقریبن گیرنے ہی والی تھی۔۔۔کہ معراج نے اسکو تھام لیا تھا۔۔۔۔۔

چھوڑو مجھے !!!!

دعا نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑوانا چھا۔۔۔

پر معراج تو معراج تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب نہیں چھوڑتا بیٹا !!!!

اب تو میرے پاس تمام حق بھی موجود ھیں ۔۔ ۔۔

معراج نے شرارت سے کہہ کر دعا کو اپنے اور پاس کیا تھا۔۔۔۔۔

یہ حق تم نے زبردستی لیے ھیں

معراج جہانگیر۔۔۔ ۔

جیسے بھی لیے اب یہ حق میرے ھیں میری جان !!!!!

شرئع اور قانونی دونوں طور سے میرا تم پر پورا پورا حق ھے اور اب تم صرف اور صرف میری چیز ھو۔۔۔۔۔

معراج نے شرارت سے دعا پر جھک کر کہا!!!!!

میں کوئ چیز نہیں ھوں۔۔۔۔آاا

تم نے جس مقصد کے لیے بھی مجھ سے شادی کی ھو۔۔۔۔

لیکن تم اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ھو گے۔۔۔۔

تم صرف اپنی حوس مٹا لو گے ۔۔۔۔لیکن میری روح ہمشہ تم سے نفرت کرے گی۔۔۔۔۔۔۔۔

تم جیسے لڑکے صرف اور صرف اپنے حوس پوری کرنا جانتے ھو۔۔۔۔۔

دعا کی انکھوں سے زارو قطار آنسو نکل رہے تھے۔۔۔۔۔

ھوش میں ھو تم دعا ؟؟؟؟؟؟

معراج نے ایک دم دعا کو چھوڑتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔

اگر مجھے اپنی حوس ہی پوری کرنی ھوتی تو میں کبھی تمھاری جیسی لڑکی کا انتخاب نا کرتا۔۔۔۔۔

معراج جہانگیر سے ایک بار بات کرنے کے لیے لڑکیاں ترستی ھیں۔۔۔۔۔

تمھیں زیادہ ھی سر پر چڑا لیا میں نے۔۔۔۔۔

معراج کا میٹر اب بکل اوٹ ھوچکا تھا۔۔۔۔۔

اگر میں نے تم سے شادی کرلی تو ہرگز یہ سمجھنا کہ تم میں کوئ الگ بات ھے۔۔۔

تم سب لڑکیاں ایک جیسی ھو۔۔۔۔

اور اپنے زہن سے نکال دو کہ میں تمھارے پاس آنا چھاتا ھوں دعا جی۔۔۔۔

تم میری ضد تھی۔۔۔

محبت نہیں۔۔۔۔۔

میری ضد پوری ھوجائے میں اسکی طرف نظر گھوما کر نہیں دیکھتا۔۔۔۔۔

ائ بات سمجھ میں۔۔۔۔

مجھے تمھارے پاس انے میں کوئ intereset نہیں ھے ۔۔۔۔۔

تم میری زندگی میں صرف ان چیزوں میں شامل ھو جو میری ضد کی وجہ سے اس گھر میں ائ اور پھر ایک کونے میں پڑی رہئ۔۔۔۔۔۔

مجھے تمھاری اکڑ توڑنی تھی توڑ دی۔۔۔۔۔۔

تو پھر میری زندگی کیوں برباد کی تم نے ؟؟؟؟؟؟

بولو ؟؟؟؟؟؟؟

کیوں میرے ماں باپ کو مجھ سے دور کر دیا ؟؟؟؟؟؟

دعا نے بے بسی سے پوچھا۔۔۔۔

تمھارے بڑے بڑے جملوں کی وجہ سے۔۔۔۔۔

اب ساری زندگی اپنے ان الفاظوں پر رونا تم۔۔۔۔۔۔۔۔

میں نے سوچا تھا کہ اب سدھر گئ ھوگی تم ۔۔۔۔اور خاموشی سے سب قبول کر لو گی۔۔۔۔

لیکن

رسی جل گئ بل نہیں گئے اب تک۔۔۔۔۔!!!!

معراج نے کہا اور جیب سے سیگرٹ نکال کر سلگائ۔۔۔۔۔۔

معراج ؟؟؟؟؟؟

دعا نےکچھ دیر خاموش رہنے کے بعد معراج کو پکارا تھا۔۔۔۔۔

بولو !!!!

معراج نے لال شرارے میں کھڑی دعا پر نظر ڈالی تھی۔۔۔۔۔۔

تمھاری ضد پوری ھوگئ نا۔۔۔۔۔

اب مجھے طلاق دے دو پلیز۔۔۔۔۔

دعا !!!!!!!!!!!!!

معراج ایک دم چیختا ھوا صوفے سے اٹھا تھا۔۔۔۔۔

اور دعا کو بازوں سے زور سے تھام کر بولا۔۔۔۔۔

اج بول دیا۔۔۔۔

میں نے سن لہا۔۔۔

دوبارہ یہ بات کی تو جان سے مار دوں گا۔۔۔۔۔

تم میری زندگی میں شامل ھوچکی ھو۔۔۔۔

اور اب تم مجھ سے دور نہیں جا سکتی ائ بات سمجھ ؟؟؟؟؟

اس بات کو اپنے زہن میں بیٹھا لو دعا ۔۔۔۔۔۔

میں ساری زندگی تمھیں طلالق نہیں دوں گا۔۔۔۔۔

تم بس میری ھو !!!!!!!!!!!

معراج کی لال انکھیں دعا کی بھیگی انکھوں میں جھانک رہی تھی۔۔۔۔۔معراج کے ہاتھ کی گرفت اتنی زیادہ مظبوط تھی کہ دعا کے نرم نرم بازو اپ تکلیف سے درد کر رہے تھے۔۔۔۔

مجھے درد ھورہا !!!!!!!

دعا نے بھیگی آنکھوں سے معراج کو دیکھ کر اس طرح کہا جیسے کوئ چھوٹا سا بچہ سہم کر بولتا ھے۔۔۔۔

معراج نے ایک دم اپنی گرفت سے اسے آزاد کر دیا تھا۔۔۔

اور تیزی سے قدم بڑھا کر باتھ روم میں گھس گیا۔۔۔۔۔۔۔

دعا زمین پر بیٹھ کر ایک دم زور زور سے رونے لگی۔۔۔۔۔۔

اج اسکی زندگی کی پہلی رات رونے سے شروع ھوئ تھی۔۔۔۔

معراج جب باتھ روم سے فریش ھوکر باہر نکلا تھا تو دعا اسی طرح زمین پر بیٹھی تھی۔۔۔۔

معراج نے الماری سے دعا کا ایک نائٹ سوٹ نکال کے اس کے پاس اکر بولا۔۔۔

چلو اب بس کرو۔۔۔

اٹھ کر جاو کپڑے بدل لو۔۔۔اور سوجاو۔۔۔۔صبح کے 5 بجے ھیں۔۔

دعا اسی طرح ڈھیت بن کر بیٹھی رہی۔۔۔

اففففففف اس قدر ضدی کیوں ھو اخر تم لڑکی ؟؟؟؟؟؟

معراج نے اسکو ایک ہاتھ سے اٹھاتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔

دعا نے گھور کر معراج کو دیکھا۔۔۔۔۔اور اس کے ہاتھ سے کپڑے لے کر باتھ میں گھس گئ۔ ۔۔۔۔

معراج اکر اپنی جگہ پر لیٹ گیا تھا۔۔تھوڑی دیر وہ دعا کا انتظار کرتا لیکن پھر نجانے کب اسکی انکھ لگ گئ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

جب صبح معراج کی انکھ کھلی تو اس نے اپنے برابر کی جگہ پر دیکھا دعا وہاں نہیں تھی۔۔۔۔

وہ فورن اٹھ کر بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔

اس کی نظر جب سامنے پڑی تو دعا زمیں پر جانماز پر ہی سوئ ھوئ تھی۔۔۔۔۔

دعا کو اس طرح زمین پر سویا دیکھ کر معراج کو دل میں ایک عجیب سی تکلیف محسوس ھوئ تھی۔۔۔۔۔

اففففف یہ لڑکی !!!!

معراج اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے پاس آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔

اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس معصوم سی لڑکی کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔

جو سوتے ھوئے کسی معصوم بچے کی طرح دیکھائ دے رہی تھی۔۔۔۔

دعا کا شفاف اور پورنور چہرہ مصلصل رونے کی وجہ سے لال ھورہا تھا۔۔۔۔

ایک دم ہی معراج نے اپنا ہاتھ اس کے چہرے کی طرف بڑھایا تھا۔۔۔اور پھر روک گیا تھا ۔۔۔

اگر اس جھنگلی بلی کو ہاتھ لگا کر اٹھایا تو پھر کچھ الٹا سمجھ کر مجھ پر شروع ھو جائے گی اور پھر رونا شروع!!!!!

معراج اپنے اپ سے بولتا اٹھ گیا تھا۔۔۔۔اور اکر dressing table کے سامنے کھڑا ھوکر جان کر چیزیں الٹ پلٹ کر رہا تھا۔۔۔۔

پھر اپنا موبئل اٹھا کر alaram tone بجائ تھی۔۔

جب ہی دعا کی انکھ کھلی تھی۔۔۔۔

اور وہ فورن ایک دم اٹھ کر بیٹھ گئ تھی۔۔۔۔۔۔

دعا کی نظر جب گھڑی پر پڑی تو گھڑی میں 12 بجے تھے۔۔ ۔دعا کو ایک دم شرمندگی محسوس ھوئ۔۔۔۔۔

وہ زمین سے اٹھی اور جانماز لپٹ کر باتھ روم جانے ہی لگی تھی کہ معراج فورن بول پڑا۔۔۔۔۔

لوگ تو یہاں مزے سے نیندیں پوری کر کے اٹھے ھیں ۔۔۔dailoug تو بہت مار رہے تھے رات کو۔۔۔۔۔۔۔

کیسا زمانہ آگیا ھے دلہا دلہن کو نیند سے جگا رہا ھے۔۔۔۔۔

معراج نے بلکل ساسوں والا جملا مارا تھا۔۔۔

دعا اگنور کر کے باتھ روم کی طرف بڑھی تو معراج نے فورن بولا۔۔۔۔

پہلے میں اٹھا ھوں باتھ روم پہلے میں جاوں گا ۔۔۔۔

مجھے باتھ روم جانے میں انتیظار کرنے سے نفرت ھے ۔

اور ویسے بھی یہ میرا کمرہ ھے میڈم تمھارا نہیں۔۔۔۔۔

معراج جان جان کر دعا کو زیچ کر رہا تھا۔۔۔۔۔

ابھی دعا کچھ بولنے ہی والی تھی کہ معراج کے کمرے میں کسی نے دستک دی۔۔۔۔

لو جی شروع ھوگئے رملا بھابی کے پیٹ میں درد۔۔۔

معراج جانتا تھا اس کو تنگ کرنے کی ہمت صرف رملا ہی کر سکتی تھی۔۔

معراج نے اگے بڑھ کر دروازہ کھولا تھا۔۔۔۔تو سامنے اسکی امید کے عین مطابق رملا ھی موجود تھی۔۔۔

اسلام علیکم جناب !!!!!!

کیسے مزاج ھیں ؟؟؟

رملا نے معراج کو دیکھتے ہی کہا۔۔۔۔

اور اگے بڑھ کر معراج کے کمرے میں اگئ۔۔۔۔۔

مزاج تو اب اچھے ھونے ہی ھیں بھابی۔۔۔۔

اتنی حسین رات جو گزری ھے۔۔۔

معراج نے انکھ مار کر کہا تھا۔۔۔۔

تو رملا ھنس پڑی۔۔۔

معراج کو خود بھی اپنی بات پر ھنس اگئ تھی۔۔۔۔۔

شادی کی پہلی رات دونوں میں صیح قسم کی لڑائ جو ھوئ تھی۔۔۔

اچھا میری پیاری سی دیورانی کہاں ھیں ؟؟؟

رملا نے معراج سے پوچھا۔۔۔۔

کیوں اپ کو اتنی بڑی لڑکی نظر نہیں آرہی بھابی۔۔۔۔۔

معراج سمجھا تھا دعا اس کی بات مان کر اب تک اس طرح کھڑی ھے۔۔۔۔

ہاہاہا

معراج

مجھے لگتا ھے تمھیں اب دعا اسکی غیر مجودگی میں بھی نظر آتی ھے۔۔۔۔

رملا نے معراج کا مزاق اڑیا تو معراج نے پلٹ کر دیکھا۔۔۔۔

دعا وہاں موجود نہیں تھی۔۔۔۔

معراج کو غصہ آیا تھا کہ دعا اسکی بات کو رد کر کے باتھ روم گھس چکی تھی۔۔۔۔۔

چلو تم دونوں جلدی تیار ھوکر نیچے آجاو ناشتہ تیار ھے۔۔۔۔۔

اچھا !!!!

معراج نے رملا کی بات کا مختصر سا جواب دیا تھا۔۔۔۔۔رملا کے جانے کے بعد معراج نے دوبارہ کمرہ بند کر لیا تھا۔۔۔۔اور اسکو رہے رہے کر دعا پر غصہ آرہا تھا۔۔۔۔۔

جناب کو اپنی چیز استعمال کرنے میں انتیظار کرنا پڑ رہا تھا۔۔۔۔

اور انتیظار کی معراج صاحب کو بکل عادت نا تھی۔۔۔۔

معراج غصہ سے اٹھا اور الماری سے اپنے کپڑے نکالنے لگا۔۔۔

تب اسکو ایک دم خیال آیا کہ دعا تو بنا کپڑے لیے باتھ روم گھس گئ ۔۔۔۔۔ھے۔۔۔

معراج کو ایک دم ھنسی ائ۔۔۔۔۔

اور اب وہ انتیظار کرنے لگا کہ دعا کو نا چھاتے ھوئے بھی معراج سے مدد مانگنی پڑے گی۔۔۔۔۔

معراج مزے سے اکر ٹانگیں پھیلا کر صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔

باتھ روم میں جانے کے بعد دعا کو حساس ھوا تھا کہ جلد بازی کے چکر میں اسے یہ غلطی ھوگئ ھے۔۔۔۔۔

افففففف اللہ !!!!!!

کیا مصیبت ھے۔۔۔۔۔۔!!!

اب اس اکڑو شخص سے میں اپنے کپڑے مانگو۔۔۔۔۔۔

حد ھے دعا حد !!!!!!

دعا کو رہے رہے کر خود پر غصہ آرہا تھا ۔۔۔۔۔۔

کافی دیر گزر جانے کے بعد جب اسکو کوئ صورت نظر نا ائ تو مجبورن دعا نے باتھ کا ہلکا سا دروازہ کھول کر معراج کو آواز دی تھی۔۔۔۔

سنیں !!!!!!!!!!

معراج نے دعا کی آواز کو جان کر ان سنا کردیا تھا۔۔۔۔اور مزے سے اپنے موبئل میں گھسا تھا۔۔۔۔۔

سنیں !!!!!!!!!

دعا نے اب کے تھوڑا زور سے کہا تھا ۔۔۔۔

تب بھی معراج نے جان کر نا سنا تھا۔۔۔۔

اس کے لبوں پر مسکراہٹ سج رہی تھی۔۔۔

معراج پلیز میری بات سن لیں !!!!!!!!

اب کے دعا نے زیچ ھوکر بے بسی سے کہا تھا۔۔۔۔۔۔۔

جی محترمہ!!!!

میرا نام معراج ھے !!

سنیں نہیں۔۔۔۔۔۔۔

وہ میں میرے کپڑےےےے !!!!!

دعا کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کس طرح بولے۔۔۔۔۔۔۔

معراج صوفے سے اٹھ کر الماری سے ایک نیا سوٹ اٹھا کر باتھ روم کے دروازے کے باہر اکر کھڑا ھوگیا تھا

پہلے بولو معراج پلیز میرا یہ سوٹ مجھے دے دیں۔۔۔۔

اففففففف دعا کا دل چھا وہ معراج کہ سر پر کوئ چیز دے مارے۔۔۔۔

جی پلیز دے دیں ۔ ۔۔۔

دعا نے خود کے غصے پر قابو پاکر کہا۔۔۔۔۔۔

نہیں دیتا۔۔۔۔۔اتنی اکڑ سے مانگو گی تو کبھی نہیں دوں گا۔۔۔۔۔

معراج دعا کی مجبوری سے لطف اٹھا رہا تھا۔۔۔۔

معراج پلیز میرا سوٹ مجھے دے دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دے دیں کو دعا نے کافی لمبا کھنیچا تھا۔۔۔۔

امممممم نہیں تھوڑا اور پیار سے مدد مانگ رہی ھو مجھ سے تم۔۔۔۔۔۔

حکم تھوڑی دے درہی ھو۔۔۔۔

بولو معراج میری جان مجھے سوٹ دے دیں۔۔۔۔۔معراج کی انکھوں میں بلا کی شرارت تھی۔۔۔۔۔۔

میں نہیں بولو گی۔۔۔۔۔۔دعا نے فورن کہا تھا۔۔۔

ٹھیک ھے پھر ایسے ہی کھڑی رہو گی۔۔۔۔

معراج نے ڈھٹائ کا ثوبت دیا تھا۔۔۔۔۔۔

معراج کو ھنسی آرہی تھی اور دعا کو رونا۔۔۔۔۔۔تھوڑی دیر دعا خاموش رہی پھر بولی۔۔۔۔

پلیز دے دیں معراج !!!!!!!

معراج نے دعا کی آواز میں اب بھیگا پن محسوس کیا تھا۔۔۔۔۔

تو فورن اسکو ہاتھ اگے کر کے سوٹ تھاما دیا تھا۔۔۔۔

دعا نے کپڑے تھام کر فورن دروازہ بند کرلیا تھا ۔۔۔

معراج کو ایک دم اس لڑکی پر بہت ھنسی ائ تھی۔۔۔۔

وہ بھی اسی کی طرح ضدی تھی۔۔۔۔

معراج ابھئ کچھ سوچ کر ھنس رہا تھا جب اسکا موبئل بجنے لگا۔۔۔۔۔۔

اس نے کال اٹھا کر موبئل کان سے لگایا۔۔۔۔

تھوڑی ہی دیر بعد دعا گولڈن کلر کی حسین فورک پہن کر باہر نکلی تھی۔۔۔

معراج جیسی کال بند کر کے balcony سے کمرے میں داخل ھوا تو ایک پل کو اس کی نظر دعا پر تھم سی گئ۔۔۔۔۔۔

دعا شیشے کے سامنے کھڑی اپنے گھٹنوں تک اتے بالوں کو جھٹک رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کے بال معراج نے اج پہلی بار دیکھے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔

سرخ سفید نازک سا سراپا گولڈن کلر کی فورک میں تھا۔۔۔۔

معراج کو یہ لڑکی بے حد حسین لگی تھی۔۔۔۔۔

ایک دم وہ اپنی سوچ کو جھٹک کر اگے بڑھا تھا۔۔۔۔۔

دعا جو سمجھ رہی تھی معراج کمرے میں موجود نہیں ھے۔۔۔۔اور بنا ڈوپٹے کے کھڑی تھی اس نے معراج کو دیکھ کر فورن اپنا ڈوپٹہ اٹھا کر سر اور شانوں پر ڈالا تھا۔۔۔۔

معراج کو دعا کی یہ عادا بہت بھلی لگی تھی۔۔۔۔

عمیر کی کال ائ تھی۔۔۔۔۔۔

معراج نے دعا کو بتایا تو دعا ایک دم تڑپ گئ۔۔۔۔

کیا کہہ رہا تھا ؟؟؟

ابو ٹھیک ھیں نا ؟؟؟؟

دعا نے ایک دم ہی سوال کیا تھا۔۔۔۔۔

مطلب کا زمانہ ھے اپنا مطلب ھو تو لوگ فورن بات سن لیتے ھیں۔۔۔۔معراج نے فورن ٹون مارا تھا۔۔۔

ہاں سب ٹھیک ھے۔۔۔۔

بس حال چال پوچھ رہا تھا۔۔۔۔معراج نے بتایا۔۔۔۔

ہممم !!!

دعا نے مایوسی سے سر جھکا لیا تھا۔۔۔

معراج سمجھ چکا تھا کہ اس وقت دعا کا دل کیا چھا رہا ھے۔۔۔۔۔لیکن بنا کچھ بولے وہ اپنے کپڑے اٹھا کر باتھ روم میں جانے ہی لگا تھا کہ پھر پلٹ کر بولا

سنو دعا ؟؟؟؟؟

بولیں ؟؟؟؟

دعا نے بےرخی سے جواب دیا تھا۔۔۔۔

اکیلی نیچے مت جانا میرے ساتھ جانا۔۔۔۔۔۔

معراج دعا کو ہدایت دیتا باتھ روم میں گھس گیا تھا۔۔۔۔

عجیب انسان ھے یہ۔۔۔۔

ہر انسان کو اپنے اشاروں پر چلانا چھاتا ھے۔۔۔۔

میں کیوں مانو اس کی بات۔۔۔۔۔

دعا کو معراج پر بے حد غصہ آیا۔۔۔۔۔!!!

معراج جب نھا دھو کر پینٹ شرٹ پہن کر باہر نکلا تو !!!!