Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zid Junoon Ki Inteha Episode 39

Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi

خیر سے وہ کیفے پھنچ گئ تھی۔۔۔دعا کو بہت عجیب لگ رہا تھا لیکن چھوٹی بہن کی خاطر اس نے یہ رسک لیا تھا۔۔۔۔

ابھی وہ کیفے کے اندر داخل ھوئ تھی کہ نمرہ نے ایک ٹیبل کی طرف آشارہ کر کہ کہا وہ رہے۔۔۔

دعا اور نمرہ جب اس ٹیبل کی طرف بڑھی تو دعا کو ایک شخص نظر آیا جو انکی طرف منہ پھیر کر بیٹھا تھا۔۔

دعا اور نمرہ جب اسکے پاس پھنچی تو دعا کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا۔۔۔

وہ شخص کوئ اور نہیں زیب تھا۔۔۔

اسلام علیکم !!!

زیب نے اٹھ کر دعا کو سلام کیا تھا۔۔دعا نے حیرت سے نمرہ کو دیکھا تو نمرہ نے نظروں میں دعا سے التجا کی کہ وہ بیٹھ جائے بس ایک بار۔۔۔۔

دعا بنا کوئ جواب دیے دوسری طرف نمرہ کے ساتھ بیٹھ گئ تھی۔۔۔

دعا زیب کو اچھی طرح جانتئ تھی۔۔۔۔

دعا وہ !!!

زیب ابھئ کچھ بول رہا تھا کہ دعا نے اسکو ٹوکا تھا۔۔۔

دعا بھابی۔۔۔۔!!!

اپ کی دوست کی بیوی ھوں میں۔۔۔۔

دعا کے فورن ٹوکنے پر زیب کو اگ سی لگی تھی۔۔۔

پر ابھی اپ میری دوست کی بیوی نہیں نمرہ کی بھن بن کر ائ ھیں۔۔۔زیب نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔۔

جو بھی ھو۔۔۔

میرا نام کوئ انجان شخص لے مجھے یہ پسند نہیں ھے۔۔۔بہتر ھوگا۔۔۔اپ مجھے اپئ کہہ لیں یا بھابی۔۔۔۔

دعا کو زیب شروع سے ہی ناپسند تھا۔۔۔

زیب نے ایک بار اس کے ساتھ بھی بدتمیزی کی تھی اور وہ سمجھ چکی تھی کہ یہ نمرہ کے ساتھ صرف ٹائم پاس کر رہا ھے۔۔۔۔

بولو کیا کہنا ھے ؟؟؟

دعا نے سیدھا کہا تھا۔۔۔

پہلے کھانے کو کچھ order کر لیتے ھیں۔۔۔زیب نے مسکرا کر کہا تھا۔۔۔

دعا کو دیکھ کر اسکی انکھوں میں وسی چمک اگی تھی۔۔۔

ہم یہاں کھانے پینے نہیں ائے ھیں۔۔۔جو کام کرنے آئے ھیں ۔۔۔۔وہ کریں تو اچھا ھوگا۔۔۔

دعا کافی سخت الفاظ میں بات کر رہی تھی۔۔۔

زیب اپنی اور نمرہ کی کوئ بات ڈسکس نا کر رہا تھا۔۔۔اور نا نمرہ سے زیادہ بات کر رہا تھا۔۔۔۔اسکا مقصد دعا تھی۔۔۔۔نمرہ کا کام اب ختم ھوچکا تھا۔۔۔

اپ اتنا غصہ کیوں ھورہئ ھیں۔۔لگتا ھے اپ کو زبردستی یہاں پر لایا گیا ھے۔۔۔۔

زیب نے ھنس کر کہا۔۔۔

دعا خاموش رہی۔۔۔۔

زیب نے دور کھڑے ویٹر کو اشارہ کیا تھا۔۔۔

یس سر۔۔۔۔

جوس لے آئیں تین۔۔۔۔

زیب نے ویٹر کو کہا تو ویٹر فورن جوس لینے چلا گیا۔۔۔۔

بولو کیا کہنا ھے ؟؟

دعا نے پھر پوچھا تھا۔۔۔

زیب کے اس طرح react کرنے پر نمرہ بھی خاصی حیران تھی۔۔۔۔

وہ میں اور نمرہ ایک دوسرے کو۔۔

ابھی زیب نے بات شروع ہی کی تھی کہ ویٹر جوس لے کر ایا تھا۔۔۔اور جوس سرف کرتے ھوئے ایک جوس نمرہ کے کپڑوں پر گیر گیا تھا۔۔۔

اہ میڈم i m really sorry ویٹر نے فورن معافی مانگی تھی۔۔۔

مجھے معاف کر دیں میرے ہاتھ سے سلیپ ھوگیا۔۔۔۔

اھوو نمرہ تم جاو اسکو wash کر لو۔۔۔۔زیب نے ویٹر کو کہا تھا کہ وہ نمرہ کو washroom لے جائے۔۔۔۔

نمرہ اٹھ کر واش روم چلی گئ تھی۔۔۔

تب زیب نے ایک دم دعا کا ٹیبل پر رکھا ہاتھ تھاما تھا۔۔۔۔

دعا !!!

یہ کیا بدتمیزی ھے۔۔۔

دعا نے اپنا ہاتھ جھٹکا تھا۔۔۔

ھوش میں آو۔۔۔زیب۔۔۔

دعا نے غصے سے کہا تھا ۔۔۔

پلیز میری بات سمجھو۔۔۔۔۔

میں نمرہ کو نہیں تمھیں پسند کرتا ھوں۔۔۔

نمرہ تو تم سے ملنے کا ایک بہانہ تھی دعا ۔۔۔۔۔

مجھے تم ابھی بھی قبول ھو ۔۔۔میں جنتا ھوں معراج کو تم پسند۔۔۔۔

زیب بقواس کر رہا تھا ۔۔

تبی ایک زور دار تھپڑ دعا نے زیب کے منہ پر رسید کیا تھا۔۔۔

اور ٹیبل سے کھڑی ھوئ تھی۔۔۔

آس پاس کے تمام لوگوں نے دعا کی اس حرکت کو دیکھا تھا ۔۔

زیب بھی کچھ شرمندہ سا ھوا تھا۔۔۔۔

ھوش میں ھو تم ؟؟؟

جانتے ھو نا کس کی بیوی ھوں میں ؟؟؟

اپنے گندے منہ سے اگر میرا نام لیا ۔۔۔تو اچھا نہیں ھوگا۔۔۔۔۔

معراج اور میں ایک دوسرے کے ساتھ بہت خوش ھیں۔۔۔تم جیسے گھٹیا انسان میری فکر نا کرے۔۔

اور جو گھٹیا حرکت تم نے کی ھے۔۔۔اگر یہ بات میں معراج کو بتا دوں تو تمھارا وہ حال ھو جو تم سوچ نہیں سکتے ۔۔۔

آئندہ کے بعد مجھے تم میرے یا نمرہ کے آس پاس نظر بھی ائے تو بہت برا حشر کروں گی یاد رکھنا ۔۔۔

دعا نے حد سے زیادہ غصے میں کہا تھا۔۔۔۔

زیب دعا کی اس حرکت پر واقعی حیران ھوا تھا….

مگر °°زیب کچھ بولنے لگا تھا جب یہ دعا نے اسکو چپ کروایا تھا۔۔۔

منہ بند کرو اپنا۔۔۔

گھٹیا انسان۔۔۔۔۔

اتنئ دیر میں نمرہ بھی آگئ تھی۔۔۔اور دعا کو اتنا زیادہ غصے میں دیکھ کر پریشان بھی ھوئ تھی۔۔۔

آپئ

اپی کیا ھوا ؟؟

دیکھوں نا تمھاری اپی کس انداز میں مجھ سے بات کر رہی ھیں۔۔

نمرہ کے آتے ہی زیب معصوم سا بن گیا تھا۔۔۔۔

آپی ؟؟ نمرہ نے سوالیہ نظروں سے دعا کو دیکھا تھا۔۔۔۔۔

ائندہ کے بعد اگر تم نے اس لڑکے سے کوئ تعلق رکھا تو اچھا نہیں ھوگا نمرہ ۔۔

ابھی کے ابھی گھر چلو۔۔۔

دعا نمرہ کا ہاتھ تھام کر ھوٹل سے باہر نکل گئ تھی۔۔۔۔

زیب بھئ بل دے کر شرمندہ ھوکر دعا اور نمرہ کے پیچھے باہر نکلا تھا ۔۔۔لیکن جب تک دعا اور نمرہ جا چکی تھیں۔۔۔۔

زیب ابھی کھڑا ہی تھا کہ ہما پیچھے سے ائ تھی۔۔۔۔

تم پورے کے پورے گدھے ھو زیب۔۔۔۔اسکو تھوڑی دیر اپنے ساتھ بیٹھایا نا گیا تم سے۔۔۔ ۔

وہ تو شکر ھے کہ میں نے صیح وقت پر پیکس لے لی تھی۔۔۔

ورنہ تم نے اج سارہ گیم خراب کر دینا تھا۔۔۔۔

مجھے کیا پتا تھا یہ بھی معراج کی ہی طرح سر پھیری ھے ۔۔۔

زیب نے اپنا ایک گال سھلاتے بولا۔۔۔

دعا نے پوری طاقت سے اسکے منہ پر تھپڑ مارا تھا جو ابھی تک جل رہا تھا۔۔

اگر دعا نے معراج کو بتا دیا تو وہ مجھے کچا کھا جائے گا۔۔۔۔

زیب نے کافی گھبرا کر کہا تھا۔۔۔۔

نہیں دعا معراج کو نہیں بتائے گی۔۔۔جتنا میں دعا کو جانتی ھوں ۔

اور دعا کے کچھ بھی بتانے سے پہلے میں معراج اور دعا کو ایک ایسی چیز دیکھا دوں گی کہ دونوں شوک سے ہی باہر نہیں آئیں گے ۔۔۔

ہما نے زہریلی مسکراہٹ سجل کر کہا۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆

دعا اور نمرہ گھر اگئ تھی۔۔سارے راستے دعا بے حد غصے میں تھی۔۔۔نمرہ بھی سمجھ چکی تھی کہ اگر دعا اس قدر غصے میں ھے تو ضرور کوئ نا کوئ بڑی بات ھوگی۔۔۔۔

راستے میں تو نمرہ نے کچھ نا پوچھا تھا ۔۔۔

لیکن اب گھر اکر اس سے اور مزید انتیظار نا ھوا تو وہ پوچھ بیٹھی۔۔۔

آپی کیا ھوا ؟؟

کچھ تو بولیں ؟؟؟

نمرہ نے دعا کے سامنے بیٹھے ھوئے کہا۔۔۔

نمرہ تم نے یہ سب ؟؟؟

مجھے حیرت ھو رہی ھے تم پر۔۔۔

تمھارا انتیخاب اس قدر گھٹیا ھوگا۔۔۔۔

میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ تم۔معراج کے دوست کے ساتھ یہ سب ؟؟؟

تم نے سوچا اگر معراج کو یہ سب پتا لگا تو کیا ھوگا ؟؟؟

نمی تم اس قدر گیر زمہ دار کیسے ھوگئ۔۔۔

کہ ایک ایسے بدماعش لڑکے سے دوستی کر بیٹھی۔۔۔

کیا سجل کی شادی میں تم نے اس حرکتیں نا دیکھی تھی۔ ۔

دعا ایک نساس میں بولے جارہئ تھی ۔۔

آپئ مجھے معاف کر دیں۔۔

وہ کہتا ھے کہ وہ مجھ سے بہت پیار کرتا ھے ۔۔۔۔

نمرہ نے آنکھوں میں آنسو لاتے ھوئے کہا۔۔۔

نمی میری پیاری بہن۔۔۔

دعا کو ایک دم اس پر پیار آیا۔۔۔

اور دعا نے اسکو گلے سے لگایا۔۔۔

نمی ایسے لڑکے کسی سے پیار نہیں کرتے۔۔۔

وہ بس اپنی دلی خوشی کے لیے معصوم لڑکیوں کو استعمال کرتے ھیں۔۔۔

میں جانتی ھوں چاندہ تم بہت اچھی ھو اور تم کبھی کچھ غلط نہیں کر سکتی ۔۔۔

پر نمی ایسے لڑکوں کی باتوں میں نہیں آیا کرو

اللہ نے عورت کو ڈھکے چھپے رہنے کا حکم دیا ھے۔۔۔

اللہ کو تمھاری کوئ نیکی پسند ائ ھوگی۔۔۔

جب ہی اللہ نے اس گھٹیا انسان سے تمھیں محفوظ رکھا۔۔۔

وہ کسی بھی لحاظ سے تمھارے قابل نہیں ھے نمی۔۔۔

اور ابھی تم بہت چھوٹی ھو۔۔جب تمھاری شادی کا وقت آئے گا تو میرا وعدہ ھے تمھاری مرضی کے خیلاف کچھ نہیں ھوگا۔۔۔

لیکن خود کو کسی ایک کے لیے محفوظ رکھو۔۔۔۔

اس ایک کا انتیظار کرو۔۔۔

پھر اللہ پاک اس ایک کے دل میں تمھارے لیے اتنی محبت بھر دیتے ھیں کہ تم سوچ نہیں سکتی۔۔۔

جو مزہ سکون خوشی۔۔۔ایک پاک صاف حلال رشتے میں ھے۔۔وہ کسی میں نہئں ۔۔۔۔۔

دعا نے بہت پیار سے نمی کو سمجھایا تھا۔۔۔اور نمی دعا کی بات سمجھ بھی گئ تھی۔۔وہ جانتی تھی دعا کبھی اپنی بہن کا برا نہیں سوچ سکتی۔۔۔۔

اب مجھ سے وعدہ کرو دوبارہ تم کبھی اس سے بات نہیں کرو گی ۔۔اور اگر تم۔نے پھر اس سے بات کی تو زندگی بھر تمھاری اپی تم سے بات نہیں کرے گی۔۔۔۔

دعا نے کہا تو نمرہ ایک دم تڑپ گئ۔۔۔

آپی پلیز ایسے نہیں بولیں۔۔۔

اپ مجھ سے ناراض نا ھوں۔۔نمرہ نے پیار سے دعا کو گلے لگایا تھا۔۔۔

نہیں ھوں۔۔۔پر تم نے وہ سب دوبارہ کیا تو ھوجاوں گی۔۔۔۔

نہیں کروں گی اپی۔۔۔

اپ بس معراج بھائ کو مت بتانا۔۔۔

نمرہ نے روتے روتے کہا۔۔۔

ہام۔نہیں بتاوں گی۔۔۔دعا نے پیار سے کہا۔۔

چلو۔اب تم۔اٹھو اور اللہ کا شکر ادا کرو دو نفل پڑھ کر کے اللہ نے ایسے شخص سے تمھاری حفاظت کی۔۔۔۔

دعا نے نمرہ کو کہا تو نمرہ فورن اٹھ کر باتھ روم میں گھس گئ۔۔۔

نمرہ کو ایسے دیکھ کر دعا کے دل کے اندر دکھ ھوا تھا۔۔۔

اسکی بہن کو استعمال کیا گیا تھا۔۔۔۔۔

تم نے اچھا نہیں کیا زیب۔۔۔دعا نے دل میں کہا تھا۔۔۔

دعا چھا کر بھی معراج کو یہ سب نہیں بتا سکتی تھی۔۔وہ جانتی تھی کہ معراج اس کے لیے کس قدر حساس ھے۔۔۔۔اور پھر نمرہ بھی شرمندہ ھوتی۔۔۔

عمیر بھی اس عمر میں تھا کہ وہ بھی یہ سب برداشت نا کرتا اور لڑنا شروع ھوجاتا ۔۔۔

اور یقینن نے اس بات کا زکر عمیر معراج سے ضرور کرتا۔۔۔۔

دعا بیٹھی یہ ہی سوچ رہی تھی کہ وہ معراج کو کس طرح یہ بات بتائے۔۔۔۔۔

ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی۔۔۔کہ اسکا فون بجنا شروع ھوگیا تھا۔۔۔

وہ جانتی تھی اس وقت کس کا فون ھوگا اس نے فورن لپک کر فون اٹھایا تھا۔۔۔

اور موبئل پر چمکتا نمبر دیکھ کر چہک گئ تھی۔۔۔۔

اسلام علیکم۔۔۔

دعا نے کال اٹھاتے ھی خوشی سے کہا تھا۔۔۔۔

وعلیکم اسلام۔۔۔۔معراج کی آواز میں نیند بھری ھوئ تھی۔۔۔۔

وہ۔ابھی ابھی سو کر اٹھا تھا۔۔۔۔۔

اففف یہ آواز معراج نے ساتھ ہی کہا تھا۔۔۔

دعا ایک دم ھنس دی تھی۔۔

اپ اب تک سو رہے ھیں۔۔۔۔دوپر کے 3 بجے ھیں جناب۔۔۔

دعا نے کہا تھا۔۔۔

کیا کروں ؟؟

کس کے لیے اٹھوں۔۔۔؟؟

اج تو ہمھیں اٹھانے والی خود غائب ھیں۔۔۔

معراج نے ادسی سے کہا۔۔

ہی ہی اچھا جی۔۔۔دعا شرما سی گی۔۔۔

ایک پل کے لیے اس کے زہن میں آیا کہ وہ معراج کو سب سچ بتا دے۔۔۔

لیکن پھر اس نے سوچا جو ھوچکا اسکو دسکس کرنے کا فائدہ نہیں۔۔۔۔۔

اچھا سنو۔۔۔شونا!!!

معراج نے پیار سے کہا

ہاہاہا اب یہ شونا کیا ھے ؟؟؟

دعا نے ھنس کر پوچھا۔۔۔۔

شونا مطلب۔۔۔۔بس پیاری۔۔۔۔

معراج نے پیار سے کہا تھا۔۔۔

ہاہاہاہا اچھا۔۔۔۔!! دعا کو ایک دم ھنسی ائ تھی۔۔۔

تھوڑی دیر پہلے آنے والا غصہ معراج کی آواز سنتے ھی چھو منتر ھوگیا تھا۔۔۔

اچھا محترمہ میں شام میں جلدی لینے آجاوں گا اپ کو لینے ۔۔۔۔ تیار ریے گا ۔۔

معراج نے خوشی سے کہا تھا۔۔۔۔

اچھا اور جو میں اپ کے ساتھ جانے سے انکار کر دوں تو ؟؟؟

دعا نے شرارت سے کہا۔۔۔

تو میں اپکو اٹھا کر لے جاوں گا۔۔۔۔۔

معراج نے بھی شرارت سے کہا تھا۔۔۔

اچھاااااااااااا ؟؟؟

دعا نے موٹی آواز کر کہا ۔۔۔تو معراج کو ایک دم ھنسی اگئ۔۔۔

میڈم اپ تو اپ ھیں بھی میری امانت اس گھر میں۔۔۔معراج نے اپنا حق جتاتے ھوئے کہا۔۔۔۔

دعا خاموش رہی۔۔۔لیکن اس کے لبوں پر بڑی پیاری مسکراہٹ تھی۔۔۔

اچھا چلیں جناب اپ جائیں ناشتہ کریں۔۔۔

فریش ھوں۔۔۔

دعا نے کہا تھا۔۔۔

اففففف ابھی بھی 4 5 گھنٹے مزید ھیں۔۔۔۔

معراج کافی بے صبری سے کہا تھا۔۔۔

ھھاھاھا !!! معراج کی حالت پر دعا کو بے سختہ ھنسی ائ تھی۔۔

چلو شونا پھر بات ھوگی میں زارہ فریش ھوجاوں۔۔۔۔

معراج نے کہا تو دعا نے اللہ حافظ کر کے فون بند کر دیا تھا۔

☆☆☆☆☆☆☆

معراج ابھی نہا دھو کر نکلا تھا ۔۔۔۔اور خوشی خوشی جانے کے لیے تیار ھو رہا تھا ۔۔۔

جب ہی اس کے کمرے میں دستک ھوئ تھی۔۔۔۔۔

معراج نے اپنے بال بناتے ھوئے کہا تھا آجائیں۔۔۔۔۔

تو کمرے میں رملا داخل ھوئ تھی۔۔۔۔

کہاں جانے کی تیاری ھے جناب کی ؟؟؟

رملا نے مسکراتے ھوئے پوچھا تھا۔۔۔

بس بھابی ایک کام سے جاوں گا پھر دعا کو لینے جاوں گا۔۔۔

معراج نے خوشگورا انداز میں کہا تھا۔۔

ویسے جب بھی بیگم کی بات ھوتی ھے جناب کے چہرے پر الگ ہی مسکراہٹ سج جاتی ھے۔۔۔

رملا نے معراج کو چھیڑا تھا۔۔۔۔

بس کیا کروں بھابی۔۔۔۔

اسکی عادت سی ھوگئ ھے۔۔۔

معراج نے دبی دبی ھنسی لبوں پر سجا کر کہا۔۔۔۔

ماشاءاللہ !!!

تم دنوں کو اس طرح دیکھ کر میں بہت خوش ھوں۔۔معراج

اللہ کرے دعا اور تمھاری جوڑی ہمیشہ سلامت رہے ۔۔

رملا نے پیار سے دعا دی تھی۔۔۔

آمین رملا بھابی۔۔۔۔

بھابی میں تو بہت بھٹکا ھوا تھا۔۔۔

بس اللہ نے کوئ خاص کرم کیا اور دعا مجھے عطا کر دی۔۔۔

نہیں تو میں۔۔۔!!!

معراج بولتے بولتے چپ ھوا تھا۔۔۔

بس اب اللہ کی اس نعمت کو کبھی خد سے جدا نا ھونے دینا۔۔۔۔

رملا نے ھنس کر کہا۔۔

کبھی بھی نہیں معراج نے فورن کہا۔۔۔۔

معراج مجھے تم سے ایک کام تھا۔۔۔

رملا نے اب سنجیدہ ھوکر کہا تھا۔۔۔

وہ کل رات میں نے ایک خواب دیکھا تھا۔۔۔

تم اپنا اور دعا کا صدقہ دے دینا۔۔۔۔

رملا نے ھچکچاتے کہا تھا۔۔۔۔

کیسا خواب بھابی ؟؟؟معراج کچھ پریشان سا ھوا تھا۔۔۔

بس کچھ خاص نہیں انشاءاللہ اسکا اچھا ہی مطلب ھوگا ۔۔۔۔

بس تم اپنا اور دعا کا صدقہ دے دو۔۔۔۔

رملا نے پھر کہا تھا۔۔۔

مگر ھوا کیا بھابی ؟؟

اپنے کیا خواب دیکھا ؟؟

معراج کے دل میں ایک عجیب سا خوف آیا۔۔۔۔۔

وہ معراج میں نے دیکھا کہ۔۔۔۔۔۔

تم اور دعا الگ !!!!

رملا نے منہ سے ٹوٹ کر نکل رہا تھا۔۔۔

معراج کی حوائیاں اڑنے کے برابر تھی۔۔۔

بھابی صیح طرح بتایئں پلیز۔۔۔

معراج نے اب پریشان ھوکر پوچھا تھا۔۔۔

بس میں نے دیکھا کہ تم اور دعا ایک دوسرے سے رخ موڑ کر کھڑے ھو۔۔۔۔

جیسے ایک دوسرے سے ناراض ھو۔۔۔۔

رملا نے معراج کو خواب کا مین مقصد سمجھایا تھا۔۔۔

دیکھو معراج۔۔۔

میں نے خود کو ہمیشہ تمھاری بڑی بہن مانا ھے۔۔۔

زندگی میں بہت دفاع ایسے موڑ آتے ھیں کہ انکھوں کے سامنے دیکھنے والا سچ سچ نہیں ھوتا۔۔۔۔

کبھی بھی دعا سے کسی غلط فہمی کی بنیاد پر اپنا تعلق خراب مت کرنا۔۔۔۔

رملا نے بہت عجیب بات بولی تھی۔۔۔

معراج کچھ سوچ میں پڑ گیا تھا۔۔۔۔۔

باقی اللہ خیر کریں گے۔۔۔

تم اس خواب کا صدقہ دے دینا۔۔۔

رملا نے کہا تھا اور چلی گئ تھی۔۔۔

معراج نے فورن لقمان کو بلا کر اپنا اور دعا کا صدقہ دیا تھا۔۔۔

معراج کے دل میں ایک انجانے سے خوف نے پھر سے انگڑائ لی تھی۔۔۔۔

انشاء اللہ کچھ نہیں ھوگا۔۔۔

معراج نے خود کو تسلی دی تھی اور اپنی جیکٹ اٹھا کر کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔

معراج گھر سے سیدھا زاضا کی طرف ایا تھا۔۔۔۔

راضا سے اسکو کچھ کام بھی تھا اور کافی دن سے وہ راضا سے ملا بھی نا تھا۔۔۔

کیا بات ھے راجے جب سے تو ایا ھے کچھ پریشان ھے ؟؟؟

راضا نے معراج کی خاموش دیکھ کر پوچھا تھا۔۔۔

یار پریشانی تو نہیں ھے۔۔۔بس دل کچھ عجیب سا ھو ررہا ھے۔۔۔

معراج نے سیگرٹ سلگا کر کہا۔۔

کیوں خیر ھو ؟؟۔

راضا نے فورن پوچھا۔۔۔

پتا نہیں۔۔۔۔

معراج نے بظاہر تو راضا سے یہ کہا پر اس کے دل میں فورن رملا کا خواب آیا تھا۔۔۔۔

بس تو زیادہ سوچنے لگ گیا ھے معراج۔۔۔ریلکس ھو۔۔۔۔

راضا سمجھ چکا تھا معراج کہ زہن میں کچھ چل رہا تھا۔۔۔۔۔

ویسے یہ اج کل زیب بکل غائب ھے۔۔۔؟؟

معراج نے ایک دم ہی سوال کیا تھا۔۔۔

ہاں پتہ نہیں یار کن چکروں میں پھسایا۔۔۔۔اج کل ہمارے پاس تو اتا نہیں آتا ھے تو موبئل میں گھسا رہتا ھے اللہ جانے کیا بات ھے۔۔۔۔

زاضا نے بھی سگریٹ پیتے ھوئے کہا۔۔۔

ویسے تیرا اور ہما کا کیا بنا ؟؟؟

معراج کو پتہ نہیں کیوں اس وقت ان دونون کا خیال آیا تھا۔۔۔۔

یار ہما سے تو میری بات کب کی ختم ھو گئ ھے۔۔۔۔وہ تو اب کسی سے contact میں نہیں ھے۔۔۔۔میرے خیال سے ۔۔۔۔۔

زاضا نے کہا تو معراج کسی گھیری سوچ میں پڑ گیا۔۔۔

کیوں تو یہ سب کیوں پوچھ رہا ھے۔۔۔۔

زاضا نے معراج کے ایک دم یوں سوال کرنے پر پوچھا تھا۔۔۔

بس ویسی خیال آگیا تھا۔۔۔

چل ٹھیک ھے پھر میں چلتا ھوں۔۔۔۔

تجھ سے پھر ملاقات ھوگی۔۔۔

معراج زاضا سے مل کر دعا کو لینے کے لیے نکل گیا تھا۔۔

☆☆☆☆

دعا ابھی نھا دھو کر نکلی تھی۔۔۔۔

اور بہت ہی خوش نظر آرہئ تھی۔۔۔اتنی خوش تو وہ اپنے ماں باپ کے گھر آنے پر بھی نا تھی۔۔۔۔۔

اس نے اج گولڈن کلر کی انتھائ خوبصورت فورک پھنی تھی۔۔۔۔۔

اور ہلکا سا میک اپ کیا تھا۔۔۔۔۔

اور اج اپنے گھنے لمبے بال کھول رکھے تھے ہمیشہ کی طرح حجاب نا لیا تھا۔۔۔کیوں کہ اس گھر میں کوئ اسکا نامحرم نا تھا۔۔۔

نمرہ ابھی کمرے میں داخل ھوئ تھی۔۔۔

تو اس کے منہ سے ایک دم دعا کو دیکھ کر نکلا تھا۔۔۔

افففف ماشاءاللہ۔۔۔۔

اج تو معراج بھائ کی انکھیں پھٹی رہے جانی ھے۔۔۔

نمرہ نے ھسن کر کہا تھا۔۔۔

دعا بھی ھنس دی تھی۔۔

اس پل دعا کو نمرہ اس دنیا کے سب سے بہادر لڑکی لگی تھی۔۔۔

وہ اج اتنا سب ھونے کے بعد بھی خوش تھی۔۔۔۔

نمی میرے پاس آو۔۔۔دعا نے پیار سے نمرہ کو اپنے پاس بلا کر گلے لگایا تھا۔۔۔

نمی۔۔۔۔

نمی۔۔۔۔

میری جان۔۔

تم اپنی اپی سے ناراض تو نہیں ھو نا ؟؟؟

دعا نے نمرہ کو پیار کرتے ھوئے پوچھا۔۔کیا ھوگیا اپئ ؟؟

میں اپ سے کبھی ناراض ھوسکتی ھوں کیا ؟؟؟

اپ کئ بات ٹھیک تھی۔۔۔

اور مجھے اتنا یقین تو ھے کہ میری اپی کوئ بھی فیصلہ غلط نہیں کرسکتی۔۔۔۔

اور جو رشتے اللہ نے نصیب میں نہیں لکھے ان کے لیے رونا پیٹنے کا فائدہ ؟؟؟

ویسے بھی اگر اس ایک رشتے کی خاطر میں اپنے ان اتنے پیارے رشتوں کو اداس کر دوں تو مجھ سے زیادہ کوئ بےوقوف نا ھو گا۔۔۔۔

ماں باپ بہن بھائ کے رشتے سے زیادہ سچا رشتہ اور کوئ نہیں ھے اپی۔۔۔۔

نمرہ نے اپنی عمر سے بہت بڑی بات کی تھی۔۔۔۔

اپنی بہن کی سمجھدار دیکھ کر دعا کی انکھیں نم ھوگئ تھی۔۔۔

اج مجھے لگ رہا ھے۔۔۔میری بہن بڑی ھوگئ ھے۔۔

دعا نے نمرہ کو بوسہ دیتے ھوئے کہا۔۔۔

آپی میں اپکی ہی بہن ھوں۔۔

اس لڑکی کی بہن جس نے اتنا سب کچھ اکیلے برداشت کیا اور ہم سب کی خاطر اتنا بڑا قدم اٹھا لیا اور ہمیں کان و کان خبر نا ھونے دی۔۔۔۔

نمرہ کی انکھ سے بھی اب آنسو گیرا تھا۔۔۔

وہ تو شکر ھے کہ اللہ تعالی نے معراج بھائ کے دل کو اپکی محبت سے بھر دیا۔۔۔اگر خدانخستہ معراج بھائ کی جگہ کوئ اور ھوتا۔۔۔تو اپنے ہم لوگوں کے لیے کتنا بڑا رکس لیا تھا اپی ؟؟؟

نمرہ کی بات سن کر دعا کافی شوک ھوئ تھی۔۔۔۔

تمھیں یہ سب کیسے پتا ؟؟؟

دعا نے فورن پوچھا تھا۔۔۔۔

اس دن جب معراج بھائ ابو سے بات کر رہے تھے تو میں نے ان کی باتیں سن لی تھیں۔۔۔۔معراج بھائ نے ابو کے سامنے اپنا ہر ایک گناہ قبول کیا ھے اپئ۔۔۔۔

معراج بھائ نے ابو کو یہ بھی کہا کہ وہ ابو کی ہر سزاہ برداشت کرنے کو تیار ھیں۔۔۔

بس اپ سے دوری برداشت نہیں کر سکتے ۔۔۔۔

معراج بھائ اپ سے بہت پیار کرتے ھیں۔۔۔اپی۔۔۔۔۔پلیز اپ کبھی ان سے الگ مت ھونا۔۔۔۔۔مجھے معراج بھائ بہت پسند ھیں ۔۔۔۔

نمرہ نے ایک سانس میں سب کہا تھا۔۔۔۔

دعا کے دل میں معراج کی قدر سو گناہ اور بڑھ گئ تھی۔۔۔۔

اس نے اپنا ہر گناہ قبول کر کے دعا کو پاک صاف کر دیا تھا۔۔۔

ہر ایک کی نظر میں دعا کی اہمیت اور عزت پہلے سے زیادہ بڑھا دی تھی۔۔۔۔۔

دعا ابھی کھڑی سوچ ہی رہی تھی کہ عمر بھاگتے ھوئے آیا تھا اور دعا کو بتایا تھا کہ معراج بھائ اگے۔۔۔۔

دعا کے لبوں پر ایک دم حسین مسکراہٹ ائ تھی۔۔۔۔

وہ خود پر ایک نظر ڈال کر کمرے سے باہر نکل گئ تھی۔۔۔۔

معراج ابھی احمد صاحب اور سمیرا بیگم سے مل کر عمیر سے مل رہا تھا جب دعا dringroom میں داخل ھوئ تھی۔۔۔

دعا پر ایک نظر ڈال کر وہ اپنی نظر ہٹانا بھول گیا تھا۔۔۔۔

اج اس طرح وہ بے حد حسین لگ رہی تھی۔۔۔

دعا نے دور سے اسکو گردن ہلا کر سلام کیا تھا۔۔۔۔جس کا معراج نے انکھوں سے جواب دیا تھا۔۔۔۔۔

دعا معراج کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گئ تھی۔۔۔۔

احمد صاحب معراج سے بات کر رہے تھے پر معراج کی نظر گھوم گھوم کر دعا پر جارہی تھی۔۔۔۔۔

اور جب دعا اسکی نظر کو خود پر دیکھتی تو شرما کر نظریں جھکا لیتی۔۔۔۔

اور دعا کی یہ شرماہٹ معراج کے دل میں ہلچل مچا دیتی۔۔۔۔۔۔

کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد احمد صاحب عشاء کی نماز پڑھنے اٹھ گئے تھے اور سمیرا بیگم کچن میں کچھ کام کرنے۔۔۔۔۔

تبی معراج نے دعا کو اشارہ کر کے کہا تھا کہ دعا اکر اس کے پاس بیٹھ جائے۔۔۔۔

ابھی دعا اپنی جگہ سے اٹھی ہی تھی کہ ایک دم سے عمیر اکر معراج کے برابر میں بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔

ہاہاہاہا مزہ آیا ؟؟؟

عمیر نے ھنس کر دعا کو چیٹرایا تھا۔۔۔۔

بس اسکا بس چلے نا معراج بھائ تو ہر وقت اپ کے ساتھ چپکلی کی طرح چپکی رہے۔۔۔۔۔

عمیر نے معراج کو انکھ مار کر کہا۔۔۔

ہاں بلکل۔۔۔معراج نے عمیر کی ہامی بھری تو دعا فورن بولی۔۔۔

اپنے ہی تو کہا تھا۔۔۔۔

اللہ معاف کرے اتنا بڑا الزام معراج نے شرارت سے کہا تھا۔۔۔۔۔

دعا نے خفنگی سے ناک پھولا کر معراج کو دیکھا تھا۔۔۔۔

معراج کو ایک دم ھی ھسنی ائ تھی۔۔۔

چلیں سالے صاحب اپ کا ٹیکٹ پورا ھوا اب ہماری بیگم کی جگہ کھالی کریں۔۔۔۔۔

معراج نے اب عمیر کو کہا تھا۔۔۔

تو دعا نے عمیر کو زبان چیڑای ۔۔۔

یہ کیا بات ھوئ معراج بھائ اپنے ٹیم بدل لی۔۔۔

عمیر نے ھنس کر کہا اور اپنی جگہ سے اٹھ گیا۔۔۔۔۔

بھئ ہماری ٹیم تو بس ان محترمہ کے ساتھ ھے معراج نے مسکرا کر دعا کو دیکھ کر کہا۔۔۔۔۔

دعا بھئ ھنستے ھوئے معراج کے پاس بیٹھ گئ تھی۔۔۔

عمیر بھی بھانہ کر کے کسی کام سے اندر چلا گیا تھا۔۔۔۔

اج تو میڈم اپ بجلیاں گیرا رہئ ھیں ؟؟؟

خیر ھے نا ؟؟؟

معراج نے دعا کے قریب ھو کر شرارت سے کہا تھا۔۔۔

ہاں وہ اشعر بھائ ائے تھے نا اس لیے۔۔۔۔

دعا نے ایک دم شرارت سے مزاق کیا۔۔۔

کیا اشعر ؟؟

کیوں آیا تھا۔۔۔؟؟

معراج کو ایک دم ہی غضہ آیا تھا۔۔۔

کیوں نہیں آسکتے ؟؟؟ دعا نے شرارت سے کہا۔۔۔۔

تم نے مجھے بتایا نہیں !!!

معراج نے فورن کہا۔۔۔

معراج کے چہرے سے صاف پتہ لگ رہا تھا کہ وہ اس وقت کس قدر جل رہا ھے۔۔۔۔۔۔

دعا کو اندر اندر ھنسی ائ۔۔۔

ہاں بس اس نے باتوں میں وقت کا پتہ نہیں لگا۔۔۔۔دعا نے ھنس کر کہا۔۔۔

ہمم اچھا۔۔۔۔!!!

معراج نے مختصر سا کہا۔۔۔۔

کیا ھوا؟؟

دعا نے اسکی طرف دیکھ کر پوچھا۔۔۔

کچھ نہیں !!! معراج نے خفنگی سے جواب دیا۔۔۔۔

اففففف اس قدر جلنے کی بدبو آرہی ھے۔۔۔۔

دعا نے ناک پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔۔

نہیں تو۔۔۔۔!!!! معراج نے ادھر ادھر دیکھ کر کہا مجھے تو نہیں آرہی۔۔۔۔۔

دعا نے کہا مجھے تو آرہی ھے۔۔۔۔

معراج نے کہا کہاں سے ؟؟؟

دعا نے بڑی مشکل سے اپنی ھنسی روک کر کہا اپ میں سے !!!!

میں کوئ نہیں جل رہا۔۔۔

معراج نے صاف صاف جھوٹ کہا تھا۔۔۔

اتنی دیر میں عمیر داخل ھوا تھا۔۔۔اور دعا ااٹھ کر کچن میں چلی گئ تھی۔۔۔تبھی معراج نے باتوں باتوں میں عمیر سے پوچھا تھا کہ اشعر وغیرہ آئے تھے۔۔۔۔تو عمیر نے اسکو سچ بتا دیا تھا۔۔۔۔

اسکو دعا کی حرکت پر ھنسی ائ تھئ۔۔۔۔

کچھ دیر بعد ان لوگ نے کھانا وانا ساتھ کھایا تھا۔۔۔۔اور خوب ھنسی مزاق کیا تھا۔۔۔

پھر کچھ دیر سب سے مل کر وہ دونوں گھر کے لیے نکل گئے تھے۔۔۔

راستے بھر دعا معراج ایک دوسرے کو بات بات پر تنگ کرتے ھوئے آئے تھے۔۔۔۔۔

گھر آنے کے بعد جب سب سے مل کر وہ دونوں اپنے کمرے میں اگئے تھے۔۔۔تو دعا شیشے کے سامنے کھڑی اپنا حجاب اتار رہی تھی۔۔۔جب معراج نے اکر اسکو اپنی طرف موڑا تھا۔۔۔۔۔

اور اس کی کمر کے گرد اپنے دونوں بازوں باندھ دیے تھے۔۔۔۔

دعا ایک دم معراج کی اس حرکت پر گھبرای تھی۔۔۔۔۔

ہاں تو میڈم کیا فرما رہئ تھیں ؟؟؟

کہ اشعر ائے تھے۔۔۔۔۔

معراج نے شرارت سے دعا کے قریب ھوکر کہا تھا۔۔۔۔

ہاں۔۔۔۔تو ائے تھے۔۔۔۔۔

دعا نے پھر شرارت سے کہا۔۔۔

اچھا سچی۔۔۔۔؟؟؟؟

معراج نے اپنی گرفت دعا کی کمر پر اور مظبوط کر دی تھی۔۔۔۔

جی !!!!

دعا مسلسل اپنا اپ معراج سے چھوڑوانا چھا رہئ تھی۔۔۔۔۔۔

چھوڑیں نا۔۔۔۔

دعا نے شرما کر کہا۔۔۔۔

ہمممم امممم !! میں تو نہیں چھوڑتا معراج نے اسکو شرارت سے کہا تھا۔۔۔۔

جھوٹ کیوں کہا تم نے ؟؟؟

معراج نے اب دعا کی آنکھوں میں جھانک کر کہا۔۔۔۔

کیا جھوٹ کہا میں نے دعا نے مسکراتے ھوئے کہا۔۔۔وہ جانتی تھی اسنے کیا جھوٹ کہا ھے۔۔۔۔

معراج نے اب اپنے ایک ہاتھ سے دعا کا ہجاب اتارا تھا۔۔۔۔۔

معراج کی قربت سے دعا اب confuse ھورہی تھی۔۔۔۔

یہ ہی جھوٹ کے اج اشعر آیا تھا ؟۔

معراج اب ہلکے ہلکے بول رہا تھا اور اس کے لمبے گھنے بالوں سے کلیپ نکال کر اس کے بال کھول دیے تھے۔۔۔۔

وہ

میں

مزاق کر

رہئ تھی۔۔۔

دعا کے منہ سے گھبراہٹ کے مارے ٹوٹ ٹوٹ کر نکل رکا تھا۔۔۔

تم دیکھنا چھاتی تھی نا کہ جلتا ھوں یا نہیں ؟؟؟

معراج نے اسکے بالوں پر ہلکے ہلکے ہاتھ پھیرتے ھوئے پوچھا۔۔۔۔۔

دعا کو اپنے دل کی ڈھڑکن حد سے زیادہ تیز محسوس ھوئ۔۔۔۔

دعا !!!!!

مجھے بہت جلن ھوتی ھے۔۔۔۔

جب کوئ تمھیں دیکھتا ھے۔۔۔۔

مجھے بہت جلن ھوتی ھے۔۔۔۔

جب کوئ تمھارا نام لیتا ھے۔۔۔۔۔

معراج دعا کے بے حد پاس ھوکر اسکی انکھوں میں دیکھ کر بول رہا تھا۔۔۔۔

میرا بس چلے میں تمھیں اس دنیا سے چھپا کر اپنے سینے میں رکھ لوں۔۔۔۔

معراج کی آواز میں دعا نے جنون محسوس کیا تو اس نے نظر آٹھا کر معراج کو دیکھا۔۔۔۔

معراج کی انکھوں میں دعا کی محبت کا بے حد جنون تھا۔۔۔۔۔

دعا !!!!!!

تم میرے لیے بہت خاص ھو۔۔۔۔

بہت اہم ھو۔۔۔۔۔۔

جیسے جینے کے لیے سانسوں کی ضرورت ھوتی ھے مجھے جینے کے لیے تمھاری ضرورت ھے۔۔۔۔۔

معراج اج دعا نے اپنے دل کا حال بیان کر رہا تھا۔۔۔۔۔

دعا ایک ٹک اسکی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

جب ہی معراج نے اسکو اپنی گود میں اٹھایا تھا اور بیڈ تک لایا تھا۔۔۔۔۔۔دعا کو لیٹا کر وہ خود بھی دعا کے بے حد پاس ھوکر لیٹ گیا تھا۔۔۔۔

جانتی ھوں دعا ۔۔۔۔۔۔۔

جب پہلی بار تم نے مجھے ڈانٹا تھا اس ھوٹل میں ۔۔۔۔

تو مجھے بہت برا لگا تھا۔۔۔۔

لیکن تم میری زندگی کی پہلی لڑکی تھی جس نے مجھے اس طرح باتیں سنائ تھیں۔۔۔۔۔

پھر جب تم سے دوبارہ سمانا ھوا دلاور کی شادی میں تب جس طرح تم تمام لڑکیوں سے منفرد تھی۔۔۔۔

ڈھکی چھپی۔۔۔مجھے تب ہی تم سے محبت ھوگئ تھی۔۔۔۔۔

دعا ایک ٹک معراج کو سن رہی تھی اور معراج دعا کے ساتھ لیٹا تھا اور اس پر جھک کر یہ سب بول رہا تھا ۔

وہ اقرار محبت کر رہا تھا

اس وقت مجھے حساس نہیں ھوا تھا۔۔۔۔اس وقت صرف تمھیں حاصل کرنے کی ضد تھی۔۔۔۔

جنون تھا کہ بس تمھارے اس غرور کو توڑوں جو تم نے مجھے دیکھایا تھا۔۔۔۔۔

میں اپنے ضد اور جنون میں نجانے کیا کیا حرکتیں کرتا گیا۔۔۔

تمھیں کتنا رلایا۔۔۔۔۔پر یقین مانوں جب جب تمھاری انکھ سے آنسو گیرتا تھا میرے دل میں تکلیف ھوتی تھی۔۔۔۔

پھر ضد میں تم سے شادی کی تب تک یہ حساس نہیں تھا یہ ضد نہیں ھے۔۔۔۔

یہ میرا جنون ھے۔۔۔۔

تم میرا جنون ھو۔۔۔۔۔

جانتی ھو دعا۔۔۔۔

میری زندگی کچھ اس طرح گزری ھے کہ مجھے عورت زات ایک حقیر شے لگتی تھی۔۔۔۔۔

میں عورتوں کو پاوں کی جوتی سمجھتا تھا۔۔۔۔

لیکن جب تم میری زندگی میں شامل ھوئ مجھے تب حساس ھوا عورت تو بہت نازک صفت ھے۔۔۔۔۔

جو زیادہ زور سے تھام نے سے ٹوٹ جاتی ھے۔۔۔۔

وہ ایک معصوم سی شے جس کو پیار دیا جائے تو وہ اپنا سب قربان کر دیتی ھے۔۔۔۔

عورت کی شرم و حیا کیا ھوتی ھے یہ مجھے تمھیں دیکھنے کے بعد پتا لگا۔۔۔۔۔

عورت کو اللہ نے بڑا مقام اور عزت دی ھے۔۔۔۔۔۔

مجھے یہ اس بات کا احساس جب ھوا جب تم نے ایک بیٹی بن کر ایک بہن بن کر قربانی دی۔۔۔۔

تب مجھے احساس ھوا کہ ایک عورت کمزور نہیں ھوتی

وہ تو مرد سے زیادہ طاقتور ھوتی ھے۔۔۔۔۔

جو اپنوں کی خوشی کی خاطر سب قربان کر دیتی ھے۔۔

دعا !!!

مجھے میرے کیے ہر عمل کے لیے معاف کردو۔۔۔۔۔

معراج نے دعا کی انکھوں میں دیکھ کر کہا تھا۔۔۔۔۔۔

دعا ؟؟؟

معراج نے دعا کو پکارا تھا۔۔۔۔۔

ہممم ؟؟

دعا نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا ۔۔۔۔

I LOVE YOU !!!!

معراج نے بہت دھیمے انداز میں مسکرا کر کہا۔۔۔۔

میں تم سے بہت پیار کرتا ھوں۔۔۔۔دعا۔۔۔۔۔

اتنا پیار کے جس کو کوئ ناپ نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔

اتنا پیار جس میں جنون کی کوئ انتھاء نہیں۔۔۔۔۔۔

میرے پیار کی حد بھئ بے حد ھے۔۔۔۔۔

معراج کی انکھوں میں اس وقت واقعی میں دعا کے پیار کا جنون دیکھای دے رہا تھا۔۔۔۔

میرا روم روم تم سے پیار کرتا ھے دعا۔۔۔۔

اتنا پیار کے تم سوچ نہیں سکتی۔۔۔۔

معراج کی بات سن کر دعا کی انکھوں سے ایک دم ہی آنسو گیرنا شروع ھوئے تھے۔۔۔۔۔

دعا نے روتے روتے مسکرا کر معراج کو دیکھا تھا۔۔۔۔

اسی پل معراج نے جھک کر دعا کی انکھوں کو ایک ایک کر کہ چوما تھا۔۔۔۔۔

دعا کی اس قدر قربت میں معراج اکثر کھو سا جاتا تھا۔۔۔۔۔میں وعدہ کرتا ھوں دعا تمھیں اپنی آخری سانس تک پیار کروں گا۔۔۔۔۔

اتنا پیار کے تم میرے پیار کا جنون دیکھ کر حیران ھو جاوں گی۔۔۔۔۔

معراج نے بولتے بولتے اب دعا کے رخسار کو چوما تھا۔۔۔۔۔

دعا کو اپنا دل بند ھوتا محسوس ھورہا تھا۔۔۔۔

اتنا پیار کے !!!!!!!!!!

معراج بولتے بولتے دعا کے لبوں کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔

اور اس بار وہ گستاخی کر بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔

معراج کی حرکت کے بعد دعا ایک دم سے گھبرا کر معراج کو پیچھے کر کے اپنی جگہ سے اٹھ کر جارہئ تھی جب ہی معراج نے اسکو ہاتھ سے پکڑ کر اپنے پاس کھینچا تھا۔۔۔۔۔۔

دعا کا چہرہ شرم سے لال ھورہا تھا۔۔۔انکھوں میں بے شمار آنسوں تھے۔۔۔لیکن یقین اج وہ آنسو نفرت کے نا تھے۔۔۔وہ آنسو اپنا پیار حاصل کرنے کے تھے۔۔۔۔

معراج نے دعا کو اپنے سینے سے لگا کر کہا ۔۔۔۔۔

میرا تم پر

اور

تمھارا مجھ پر پورا پورا حق ھے۔۔۔۔۔

معراج نے پیار سے کہا تھا اور دعا کو مزید زور سے خود میں سمایا تھا۔۔۔۔

دعا بھی معراج کے گلے سے لگ گی تھی اور نجانے کب دونوں باتیں کرتے کرتے میٹھی نیند سوگے تھے۔۔

☆☆☆☆☆☆

اگلے دن صبح دعا کی انکھ کھولی تو وہ اسی طرح معراج کی بھاہوں میں تھی۔۔۔۔۔۔

معراج کو سوتا دیکھ کر اور کل کی بات یاد کر کے اسکو معراج پر بے حد پیار آیا تھا نے ہلکے سے اٹھ کر معراج کا ماتھا چوما تھا۔۔۔۔۔۔

اور سوتے معراج کو i love u to کہا تھا۔۔۔

پھر مسکرا کر باتھ روم میں چلی گئ تھی ۔۔۔

نھا دھو کر جب وہ باہر نکلی تو معراج اس طرح سو رہا تھا۔۔۔۔۔

اس نے ایک نظر معراج پر ڈالی اور پھر تیار ھوکر نیچے چلی گئ۔۔۔

اج اسکو رملا کے ساتھ مل کر بہت ساری چیزیں پلان کرنی تھی۔۔۔اج رات معراج کی سالگرہ کی خوشی میں معراج کے لیے گھر میں بہت بڑی پارٹی رکھی گئ تھی۔۔۔۔۔

جس کی تمام تر تیاری رملا اور دعا نے مل کر کرنی تھی۔۔۔۔۔

رملا بھابی باقی سب تو میں نے سوچ لیا ھے۔۔۔بس اپ دلاور بھائ کو بول کر معراج کو رات میں کچھ دیر کے لیے باہر بھیج دیجے گا تاکہ ہم آسانی سے سب arrange کر لیں۔۔۔

دعا نے ناشتہ کرتے ھوئے کہا تھا۔۔۔۔۔

ویسے اس سب کی کیا ضرورت ھے معراج کوئ چھوٹا بچہ تو نہیں ھے۔۔۔۔

اب کے سجل نے جل کر کہا تھا۔۔۔۔۔

بات چھوٹے بچے کی نہیں ھے معراج کی خوشی کی ھے رملا نے فورن جواب دیا تھا۔۔۔۔۔

سجل خاموش ھوگئ تھی۔۔۔۔

دعا کو سمجھ نا اتا تھا کے سجل ان دونون سے اس قدر کیوں جلتی ھے۔۔۔۔

سجل اٹھ کر جانے لگی تبی دعا نے اسکو روکا تھا۔۔۔

سجل آپی۔۔۔۔

اج پہلی بار دعا اس سے خود مخاطب ھوئ تھی۔۔۔۔

میں چھاتئ ھوں اج کی پارٹی arranage کرنے میں اپ میری مدد کریں۔۔۔۔۔

دعا نے مسکرا کر سجل سے کہا تھا۔۔۔۔۔

مجھے کوئ شوق نہیں ۔۔۔۔سجل نے منہ بنا کر کہا تھا۔۔۔۔

اپ کو شوق نہیں پر اپ ھیں تو اس گھر کی بڑی بہو نا۔۔۔دعا نے پیار سے سجل کو کہا تھا اور اس کے ہاتھ میں pen or pad تھامایا تھا۔۔۔۔

اپکو پتہ ھے رملا بھابی سجل باجی ہمارے کالج میں مشہور تھیں۔۔۔۔وہ اتنی اچھی decoration کرتی تھی کہ بس۔۔۔

دعا نے سجل کی تعریف کی تھی تاکہ سجل کا موڈ کچھ اچھا ھو جائے۔۔۔۔۔

اور ایسا ہی ھوا تھا۔۔۔۔

سجل دل کی بری نہیں تھی وہ بس چھاتی تھی کہ اسکو اہمیت ملے۔۔۔۔۔

ہاں یاد ھے دعا مس فردوس کتنی تعریف کرتی تھیں۔۔۔۔سجل نے بھی مسکرا کر اپنی تعریف کی تھی۔۔۔رملا دعا کی سمجھداری پر مسکرائ تھی۔۔۔۔۔

ہاں بلکل یاد ھے سجل آپی۔۔۔

اپ سے اچھی decoration کوئ نہیں کرواسکتا۔۔۔۔

بس اپ اج یہ بات ثابت کردیں۔۔۔دعا بے پیار سے سجل کا ہاتھ تھام کر کہا تھا۔۔۔

ہاں ٹھیک ھے میں کرتی ھوں۔۔۔دیکھنا اج سارے لوگ میری تعریف کریں گے۔۔۔

سجل نے مسکرا کر کہا۔۔۔

اپ تو ھیں ہی تعریف کے قابل دعا نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔تو سجل بھی ھنس دی پھر تنیوں نے مل کر رات کی تیاری کی پلائینگ شروع کر دی۔۔۔۔۔۔۔۔

بریرہ بیگم بھی اس کے ساتھ شامل تھیں۔۔۔۔۔

بلاج اور دلاور بھاہر کا تمام کام سنبھال رہے تھے۔۔۔۔۔

سجل بھی خوشی خوشی اہمیت ملنے پر بڑھ چھڑ کر اپنا ھنر دیکھا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔

معراج جب سو کر اٹھا تو دعا کمرے میں نا تھی۔۔۔وہ منہ ہاتھ دھو کر نیچے آئا تو سب لوگ کسی نا کسی کام میں مصروف تھے۔۔۔۔۔

دعا بھی اج کچن میں خاصی مصرف تھی۔۔۔۔

اور رات کے بعد وہ جان جان کر معراج سے نظریں چرا رہی تھی

☆☆☆☆☆☆☆☆☆

دعا کچن میں کھڑی کام کر رہی تھی جب معراج کچن میں داخل ھوا تھا۔۔۔۔

اج تو کوئ لفٹ ہی نہیں کر وا رہا رملا بھابی۔۔۔۔۔

معراج نے دعا پر رکھ کر رملا کو کہا تھا۔۔۔۔

دعا نے چھپی نظروں سے معراج کو دیکھا تھا۔۔۔اور مسکرائ تھی۔۔۔۔۔۔

اھووو اج بڑی چیزیں پک رہی ھیں کوئ دعوت ھے کیا ؟؟؟

معراج اپنی سالگرہ بلکل بھولا بیٹھا تھا۔۔۔۔۔

نہیں بس ویسی دل کر رہا تھا۔۔۔رملا نے ھنس کر کہا تھا۔۔۔۔

معراج نے ایک سیب اٹھا کر کھانا شروع کیا تھا۔۔۔۔

اور رملا کی نظروں سے بج کر بار بار دعا کو آتے جاتے تنگ کر رہا تھا۔۔۔۔

جب دعا ادھر ادھر ھوتی کبھی معراج اسکا دوپتہ کھنچتا۔۔۔۔

تو کبھی اسکو ہاتھ سے پکڑ لیتا۔۔۔۔۔۔

ابھی معراج دعا کو مسکرا کر ہی دیکھ رہا تھا جب کچن میں سجل بولتی ھوئ داخل ھوئ تھی۔۔۔

دعا میں نے یہ سب کر دیا۔۔۔۔۔اب رات کو سب کچھ صیح ھوگا۔۔

سجل نے معراج کو دیکھا نہیں تھا اس لیے نان اسٹاپ بولی تھی۔۔۔۔

اھھووو اج تو سجل بھابی کام کر رہی ھیں بری بات ھے۔۔۔

معراج نے ہمیشہ کی طرح سجل کر چھیڑا تھا۔۔۔ویسے کیا ھے رات کو کیا بول رہی تھی ؟؟؟

معراج نے ایک دم پوچھا تھا۔۔۔۔

دعا اور ملا نے معراج کے پیچھے سے سجل کو اشارہ کیا تھا کہ وہ معراج کو کچھ نا بتائے۔۔۔۔

وہ کچھ نہیں۔۔۔بس مجھے دعا سے کچھ کام تھا۔۔۔

سجل نے فورن ہی بھانا بنایا تھا۔۔۔۔۔

اللہ خیر ھے کرے اج۔۔۔۔پتا نہیں سورج کہاں سے نکلا ھے۔۔۔

معراج نے فورن اپنی عادت سے مجبور ھو کر کہا تھا۔۔۔

کیوں ؟؟

سجل نے نا سمجھتے ھوئے پوچھا۔۔۔

اج اپکا موڈ جو اتنا اچھا ھے۔۔۔

معراج نے ھنس کر کہا تھا۔۔۔۔

دعا کو ایک دم معراج پر غصہ آیا تھا ابھی تو اتنی مشکل سے دعا نے اسکو سب کے ساتھ لگایا تھا اور پھر معراج نے اسکو چھیڑ دیا تھا۔۔۔۔

اس سے پہلے سجل منہ بناتی دعا نے فورن کہا تھا۔۔۔۔

سجل بھابی کا موڈ تو ہمیشہ اچھا رہتا ھے۔۔۔

کیوں رملا بھابی ؟؟؟

ویسے بھی سجل جیسا اخلاق تو کسی کا ھے ہی نہیں ۔۔۔۔رملا نے فورن کہا تھا جب کہ وہ جانتی تھی یہ سراسر جھوٹ ھے۔۔۔۔۔

معراج کچھ بول رہا تھا جب ہی دعا نے اسکو انکھوں سے اشارہ کر کے منع کیا تھا۔۔۔۔۔

ویسے اپکو پتا ھے راج۔۔۔۔سجل بھابی ہمارے کالج میں خاصی مشہور تھی۔۔۔دعا نے پھر سے ایک اچھا موضوع نکلا تھا۔۔۔۔

اچھا کیوں اتنی مشکوک تھی ؟؟

معراج نے پھر چھیڑ اٹھائ تھی۔۔۔۔

دعا کا دل کر رہا تھا وہ معراج کے سر پر ہاتھ میں پکڑا چمچہ مارے۔۔۔۔

جی نہیں۔۔۔۔سب میری خوبصورتی کی تعریف کرتے تھے۔۔۔۔

اب کے سجل نے غرور سے کہا تھا۔۔۔۔

ہاں بلکل دعا نے فورن کہا تھا۔۔۔۔

ہاہاہاہا ۔۔۔۔دعا تم نے بتایا نہیں تمھارا کالج اندھوں کا تھا۔۔۔۔

معراج کی بات پر رملا اور دعا کو ایک دم کی ھنسی ائ تھی جبکہ سجل کے بات ہی سمجھ نا ائ تھی۔۔۔

کیا مطلب ۔۔۔۔ سجل نے فورن پوچھا۔۔۔۔

دعا نے معراج کو پھر اشارہ کیا تو اب کے معراج نے بات کو سنبھالا۔۔۔

مطلب ہی بھابی صاحبہ کے وہ اپکی کم تعریف کرتے تھے اپ تو بے حد حسین ھیں۔۔۔

معراج نے مسکرا کر کہا تھا۔۔بس سجل کا تو اج خوشی کا ٹھکانا نا تھا۔۔۔۔وہ یہ ہی تو چھاتی تھی کہ سب بس اس کی تعریف کریں۔۔۔

ہاں نا۔۔۔۔سجل سب کچھ بھول کر فورن معراج نے ھنسی مزاق میں لگ گی تھی۔۔۔

دعا اور رملا بھی دیکھ کر خوش ھوئ تھیں۔۔۔۔اور اج پہلی بار معراج کو سجل کچھ بھولی سی لگی تھی۔۔۔۔

ابھی وہ چاروں کسی بات پر ھنس رہے تھے کے دلاور اور بلاج بھی کچن میں داخل ھوئے تھے۔۔۔

اللہ خیر کرے اج یہ دو دشمن ایک ساتھ ھنس رہے ھیں۔۔۔

دلاور نے مزاق کیا تھا۔۔۔۔

جس پر سجل سمیت سب زور سے ھنسے تھے۔۔۔۔۔

بس تمھاری بیوی کے کالج کے قصے سن رہے ھیں ہم۔۔۔۔

معراج نے کہا تھا۔۔۔

ارے واہ۔۔۔۔۔کیا بات ھے۔۔۔۔دلاور نے ھنس کر کہا تھا۔۔۔۔

مجھے تو ایک ایک قصہ حفظ ھوچکا اب تم لوگ کی باری ھے۔۔۔دلاور نے ھنس کر کہا تھا۔۔۔۔

سجل بھی اسکو دیکھ کر ھنس دی۔۔۔۔

اچھا معراج صاحب۔۔۔۔اب کو اج سندھ جانا ھے۔۔۔۔۔

وہاں پر پارٹی کا کچھ کام ھے۔۔۔تو پارٹی کے سربرہ کا ھونا لازمی ھے تو تم اور میں بس نکلتے ھیں سندھ کے لیے دلاور نے کہا تھا۔۔۔۔

یار میرا دل نہیں ھے جانے کو۔۔۔معراج نے سیب کھاتے ھوئے صاف انکار کیا تھا۔۔۔۔

ارے یار ضروری ھوگا چلے جاو۔۔۔۔۔

اب کے بلاج نے کہا تھا ۔۔۔

ھو ضروری پر میرا دل نہیں۔۔۔

معراج نے پھر سے کہا تھا۔۔۔۔

یار چلے جاو اچھی بات ھے۔۔۔دیکھ آو۔۔۔اب کے رملا اور سجل نے بھی کہا تھا۔۔۔

کیا ھوگا سب کو اج ؟؟

مجھے نہیں جانا کیوں پیچھے لگ رہے ھیں سارے۔۔۔۔

معراج نے کہا تھا۔۔۔۔

چلو دعا سے پوچھ لو۔۔۔

بلاج نے کہا تھا۔۔۔۔

میری بیوی میرا ساتھ دے گی ۔۔۔

نہیں جاوں نا دعا ؟؟

معراج نے فورن مسکا لگایا تھا اسکا موڈ اج خاصا خوشگوار تھا۔۔۔

چلے جائیں۔۔۔

دعا بے بھی ھنس کر کہا تھا۔۔۔

لوجی ۔۔۔ اب تو اپکی بیگم نے بھی کہہ دیا اب چلو۔۔۔

دلاور نے ھنس کر کہا۔۔۔۔

ہاہاہا اچھا تم رکو میں تیار ھوکر آتا ھوں۔۔۔

معراج نے ھنس کر کہا اور کچن سے جانے لگا۔۔۔

پھر پلٹ کر دعا کو پکارا

دعا زارہ کمرے میں آنا ۔۔۔۔۔

اور خود کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔

دعا بھی اسکے پیچھے کمرے تک گئ تھی۔۔۔۔۔

کیا بات ھے میڈم اج ہمھیں بھاگا رہئ ھیں۔۔۔

معراج نے دعا کے کمرے میں اتے ہی اسکو کو ہاتھوں سے تھام کر کہا تھا۔۔۔

ہاں اس لیے کیونکہ بابا نے کہا ھے اور جانا ضروری ھے۔۔۔۔

دعا نے ھنس کر کہا تھا۔۔۔

اور جاکر الماری سے ایک کالا خوبصورت شلور قمیض نکال کرلائ تھی۔۔۔

اج اپ یہ پھن کر جائیں۔۔۔

یہ کہاں سے ایا ؟؟

معراج نے ھیرت سے دیکھا کیونکہ وہ شلور قمیض بہت کم بناتا اور پھنتا تھا۔۔۔۔

بس آگیا بابا۔۔۔۔

اپ یہ پھن کر تیار ھوکر جائیں۔۔۔۔

دعا نے اسکے ہاتھ میں hanger دے کر کہا۔۔۔۔

جو حکم محترمہ کا۔۔۔۔

معراج نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔

دعا واپس جانے لگی جب معراج نے پکارا۔۔۔۔

اہہہہہ دعا دیکھنا میری انکھ میں کیا گیا ھے ۔۔۔۔

کیا ھوا۔۔۔

دعا ایک دم پریشان ھوکر معراج کے پاس گئ تھی اور اسکی انکھ کھول کر اس پر پھونک مارنے لگی۔۔۔۔۔

اب ٹھیک ھوا۔۔۔۔۔؟؟

دعا نے پوچھا۔۔۔

نہیں۔۔۔۔۔معراج نے فورن کہا۔۔۔

کیوں ؟؟؟؟ دعا نے سیریس پوچھا۔۔۔۔

بس کوئ چوم لے تو ٹھیک ھو جائے گی۔۔۔

معراج نے مسکرا کر کہا شرارت سے کہا تو دعا ھنس کر اسکو زور سے دھکا دے پر پیچھے ھوئ تھی۔۔۔۔۔

ہاہاہاہا۔۔۔

معراج نے ایک زور دار قہقہ لگایا تھا۔۔۔

اور دعا کمرے سے باہر نکل گئ تھی۔۔۔۔

کچھ دیر بعد معراج تیار ھوکر نیچے چلا آیا تھا۔۔۔۔

کلے شلوار قمیض میں وہ بے حد وجیہ لگ رہا تھا۔۔۔۔

دعا نے انکھوں انکھوں میں اسکی تعریف بھی تھی ۔۔۔

دعا سے مل کر معراج دلاور کے ساتھ سندھ کے لیے نکل گیا تھا۔

☆☆☆☆

معراج کے جانے کے بعد دعا بری طرج تیاریوں میں مصروف ھوگئ تھی۔۔۔

اج رات کا اس نے کافی اچھا پلان کیا تھا سب۔۔۔۔

تمام تیاریاں مکمل ھوچکی تھی۔۔مہمان بھی آنا شروع ھوگئے تھے۔۔۔۔

دعا اپنی تمام تر تیاریوں پر نظر ڈالتی اب تیار ھونے جاہی رہئ تھی کہ ہما نے اسکو روکا تھا۔۔۔

دعا ؟؟؟

بولو ؟؟ دعا بھی اب زادہ ہما سے بات نا کرتی تھی۔۔۔

مجھے تم سے کچھ بات کرنی ھے ؟؟؟

ہما نے کہا۔۔۔

بولو۔۔۔۔؟؟ دعا نے فورن کہا تھا۔۔۔

ایسے نہیں۔۔۔۔

سکون سے !!!! ہما نے عجیب انداز میں کہا۔۔۔۔

ہما مجھے ابھی دیر ھورہی ھے۔۔۔مہمان انے والے ھیں۔۔۔پھر میں تم سے سکون سے بات کرتی ھوں۔۔۔

دعا نے معضرت کی تھی۔۔۔

ہاں ٹھیک ھے۔۔۔۔ہما نے فورن کہا تھا۔۔۔

دعا تیار ھونے چلی گئ تھی۔۔۔۔

کلر کی بہت ھی حسین ترین فورک دعا نے اج پھنی تھی۔۔۔۔بڑی خوبصورتی سے حجاب بھی لیا تھا۔۔لائے میک اپ کے اوپر ڈارک لپ اسٹک لاگئ تھی۔۔۔۔

اج پہلی بار وہ بے حد اہتمام سے تیار ھوئ تھی۔۔۔۔

خود پر ایک نظر ڈال کر دعا شیشے کے سامنے کھڑی ھوکر بول رہی تھی۔۔۔

اج میں جناب کو اپنے تمام حقوق دوں گی۔۔۔

انھوں نے اپنے پیار کا اظہار کیا اج میں کروں گی۔۔۔

دعا نے مسکرا کر کہا اور خود ہی شرما گئ۔۔۔۔۔

پھر اپنی تیار مکمل کر کے نیچے اگئ۔۔۔

تمام لوگ آچکے تھے اب نتظار تھا تو صرف اور صرف معراج کا۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

یار دلاور بلاوجے خوار کرویا ھے ۔۔۔

کوئ خاص کام تو نا تھا اج پھر اس سب کی وجہ ۔۔۔۔۔۔

معراج غصے میں بڑبڑا رہا تھا۔۔۔

دلاور اس کو ادھر ادھر سندھ گھوماتا رہا تھا اور اب واپس گھر لے کر جارہا تھا۔۔۔۔

یار بس ارادہ تھا پھر تبدیل ھوگیا۔۔دلاور بھی اسکو چیڑا رہا تھا۔۔۔

خیر سے معراج اور دلاور گھر پھنچے تھے تو گھر کی تمام کی تمام لائٹس آوف تھی۔۔۔

یہ اج اس قدر اندھیرا کیوں ھے لان میں ؟؟؟؟

معراج نے اندر داخل ھوتے ھوئے کہا تھا۔۔۔۔

دلاور بھی پیچھے سے غائب ھوگیا تھا۔۔۔۔۔

پورے کا پورا لان اندھیرے میں ڈوبا تھا۔۔۔۔

ایک دم گھڑی کا گھنٹہ 12 پر ایا تھا۔۔۔۔

اور گھڑی ٹن ٹن ٹن بجنا شروع ھوئ تھئ۔۔۔۔

دلاور سے وقت کا خاص خیال رکھا تھا۔۔۔۔۔

جب ہی ایک فلو لائٹ معراج کے اوپر پڑی تھی۔۔۔۔

اور زور سے happy birthday to you

کا میوزک بجا تھا۔۔۔۔۔

اور ساتھ ساتھ لوگوں نے تالیاں بجانا شروع کی تھی۔۔۔ تب ہی ایک دم ساری کائٹس آون ھوئ تھیں۔۔۔

معراج کے چہرے پر ایک دم ہی ھنسی ائ تھی۔۔۔۔

وہ تو واقعی اپنی سالگرہ بھولا بیٹھا تھا۔۔۔

پورے کو پورا لان بھرا ھوا تھا۔۔۔۔۔

خوبصورت سجاوٹ کی گئ تھی۔۔۔۔

happy birthday mairaj

جہانگیر صاحب اور سمیرا بیگم نے معراج کو مل کر دعا دتھی ۔۔۔۔پھر دلاور رملا ملے تھے۔۔۔۔۔انھوں نے مبارک باد دی تھی۔۔۔

پھر سجل اور دلاور نے دی تھی۔۔۔معراج کی نظر دعا کو دھونڈ رہی تھی پر وہ کہہی نا تھی۔۔۔۔

تبی معراج نے رملا سے پوچھا تھا دعا کہاں ھے۔۔۔۔

معراج کے پوچھتے ہی ایک بار پھر ساری لائٹس آوف ھوئ تھیں۔۔۔۔

اور ایک فلو لائٹ لان کے بیچم بیج جاکر رکی تھی۔۔۔

تب ہی کسی نے بہت پیاری آواز میں گانا گانا شروع کیا تھا۔۔۔

Haathon ki lakeeron mein

Tera naam hi likha tha

Khuda se ye guzarish hai

Judaa na hon hum phir kabhi

دعا فلو لائٹ میں گانا گاتی چلتی ھوئ معراج کی طرف آرہی تھی۔۔۔۔

سارہ ہجوم دعا کے گانے پر اووووو کر رہا تھا۔۔۔۔

اور معراج کے لیے تو اس سے اچھا تفحہ اور کوئ نہیں ھوسکتا تھا۔۔۔

معراج حیرت اور خوشی سے دعا کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

Maanga tha tujhe maanga tha

Dil se maanga tha

Jaaneya

Aa jaana maahi aa jaana

Tu hi aa

Tuhi mera sapna hai

Tuhi mera apna hai

Tuhi meri duniya hai

Jane jaan (2x)

دعا اب چلتے ھوئے معراج کے باکل ساتھ اکر کھڑی ھوگئ تھی۔۔۔

لان کی تمام لائٹس آون ھوچکی تھی۔۔۔۔

معراج اسکو مسکرا کر بنا پلک چھپکے دیکھ رہا تھا۔۔۔

جب ہی دعا نے یہ شعر گایا تھا۔۔۔

Aise na mujhe dekho tum

Hum deewane hai tere sanam

Kaise main beyaan karu

Bin tere kho gaye hum

Maanga tha tujhe maanga tha

Dil se maanga tha

Jaane jaan

Aa jaana maahi aa jaana

Tu hi aa

Tuhi mera sapna hai

Tuhi mera apna hai

Tuhi meri duniya hai

Jaane jaan

Haathon ki lakeeron mein

Tera naam hi likha hai..

گانا ختم۔ھونے پر پورا لان تالیوں کی آواز سے گونجھ اٹھا تھا۔۔۔۔دعا نے اپنی آواز میں گیت گا کر سب کو حیران کر دیا تھا۔۔۔۔دعا کی آواز واقعی بہت سریلی تھی۔۔۔۔اور معراج کے لیے تو یہ دعا کا اقرار محبت تھا۔۔۔۔۔

معراج اج بے حد خوش تھا۔۔۔۔

happy birthday

دعا نے گانا ختم کر کے معراج سے کہا تھا۔۔۔۔

معراج کے منہ سے خوشی سے الفاظ بیان نہیں ھورہے تھے۔۔۔تبھی لقمان ایک بڑا سا کیک لے کر ایا تھا۔۔۔۔

جو معراج نے کاٹا تھا۔۔۔۔۔۔

عمیر عمر نمرہ احمد صاحب سمیرا بیگم بریرہ بیگم جہانگیر صاحب سجل ہما دلاور بلاج رملا زاضا۔۔۔۔۔

معراج کے تمام قریبی لوگ وہاں موجود تھے۔۔۔۔۔۔

معراج نے کیک کاٹ کر سب سے پہلے کیک دعا کو کھیلایا تھا۔۔۔۔اور پھر ایک ایک کر کے سب کو کھیلایا تھا۔۔۔۔

تمام لوگ معراج سے مل رہے تھے اور دعا کسی کام سے کچن میں آئ تھی۔۔۔۔

تبھی ہما بھی اس کے پیچھے پیچھے ائ تھی۔۔۔۔

دعا !!!!! ہما نے اسکو پکارا تھا۔۔۔

ہاں بولو ہما کیا ھوا ؟؟؟

دعا نے اب پھر پوچھا تھا۔۔۔

دعا مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ھے۔۔۔۔ہما نے انکھوں میں آنسو لاکر کہا۔۔۔

بولو ہما کیا بات ھے۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟

دعا نے اب کے تنگ ھوکر پوچا تھا۔۔۔۔

دعا وہ میں کہنا چھا رہی تھی کہ۔۔۔۔۔۔

دعا !!!!

میں !!!

ہما بول ؟؟ کیا بات ھے ؟؟ دعا نے اب ہما کا ہاتھ تھام کر ہمدردی سے پوچھا تھا۔۔۔۔

دعا وہ میں۔۔۔۔معراج کے

؟؟

ہما پھر رکی تھی ۔۔۔۔

معراج کے وہ کیا ؟؟؟ دعا نے اب پریشان ھوکر پوچھا تھا۔۔۔۔معراج کا نام سن کر اسکا دل ایک دم سے ڈرا تھا۔۔۔

دعا میں معراج کے بچے !!