Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zid Junoon Ki Inteha Episode 40

Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi

ہما بولو ؟؟ کیا بات ھے ؟؟ دعا نے اب ہما کا ہاتھ تھام کر ہمدردی سے پوچھا تھا۔۔۔۔

دعا وہ میں۔۔۔۔معراج کے

؟؟

ہما پھر رکی تھی ۔۔۔۔

معراج کے وہ کیا ہما ؟؟؟

دعا نے اب پریشان ھوکر پوچھا تھا۔۔۔۔معراج کا نام سن کر اسکا دل ایک دم سے ڈرا تھا۔۔۔

دعا میں معراج کے بچے !!!!!

دعا کے ہاتھ میں پکڑا گلاس ایک دم زمین پر جاکر گیرا تھا۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!

دعا میں معراج کے بچے کی ماں بنے والی ھوں۔۔۔۔

ہما نے انتھائ بے شرمی کا ثوبت دیا تھا۔۔۔

تم کیا بقواس کر رہی ھو ؟؟؟

دعا نے ایک دم غصے کہا تھا۔۔۔۔

ہما اگر یہ مزاق ھے تو یہ ایک انتھائ گھٹیا مزاق ھے۔۔۔۔۔

دعا کو اپنے کانوں پر یقین نآ ایا تھا۔۔۔

دعا یہ مزاق نہیں ھے میرا یقین کرو یہ سچ ھے۔۔۔۔

ہما نے آنکھوں میں جھوٹے آنسو لاکر کہا تھا۔۔۔۔

مجھے تمھاری کسی بات پر بھروسہ نہیں ھے سمجھی تم۔۔۔۔

دعا کی انکھوں میں ایک دم آنسو آگئے تھے۔۔۔۔

مجھ پر بھروسہ نہیں ھے۔۔۔۔

تو ان reports پر تو ھوگا۔۔۔۔۔

ہما نے اپنے پرس میں سے رپوٹس نکال کر دیکھائ تھی۔۔۔

دعا نے وہ reports ہاتھ میں لے کر غور سے پڑھی تھی۔۔۔

یہ بات ثابت ھے دعا کہ میں۔۔۔۔

ہما ایک دم رونے لگی تھی۔۔۔

اور پھر اٹھ کر دعا کے پاس ائ تھی۔۔۔

دعا پلیز میرا یقین کرو۔۔۔۔۔

یہ بچہ !!!!!

ہما ابھی کچھ بول ہی رہی تھی کہ دعا نے ایک زور دار تھپڑ اسکے منہ پر رسید کیا تھا۔۔۔۔۔

اگر اپنے منہ سے اب کوئ بقواس معراج کے خلاف نکالی تو میں تمھارا منہ توڑ دوں گی ہما۔۔۔۔

تم کیا سمجھتی ھو ؟؟؟

ہاں کیا سمجتی ھو تم ؟؟؟

مجھے تم میرے شوہر کے خلاف بھڑکاو گی اور میں بھڑک جاوں گی۔۔۔۔۔

یہ کاغز کا ٹکڑا دیکھ کر میں اس پر یقین کر لوں گی۔۔۔۔؟؟؟؟

دعا کی انکھوں سے پٹ پٹ آنسو بہہ رہے تھے۔۔۔۔۔

میں تم سے اچھی طرح واقف ھوں۔۔۔۔اچھی طرح جانتی ھوں تمھیں میں۔۔۔۔

تم شروع سے معراج کو حاصل کرنا چھاتی تھی۔۔

تبھی تم نے اتنی گھٹیا حرکت کا سہارہ لیا۔۔۔۔۔

مجھے شرم آرہی ھے تمھیں اپنا دوست کہتے ھوئے۔۔۔۔

دعا ہما کی چال سے اچھی طرح واقف ھوچکی تھی۔۔

ہما کی چال اس پر الٹی پڑ گی تھی۔۔۔۔۔

تم شاید بھول گئ ھو۔۔۔کہ میں بھی میڈیکل کی ایک student تھی۔۔۔۔

جن lecture کو چھوڑ کر تم باہر dates پر جایا کرتی تھی انھی lecture میں ہمیں یہ سمجھایا جاتا تھا کہ نقلی اور اصلی رپوٹس میں کیا فرق ھے۔۔۔۔۔

جس جگہ سے تم نے یہ نقلی reports بنوائ ھے وہ hospital اپنی جھوٹی reports کی وجہ سے خاصا مشھور ھے۔۔۔۔۔

دعا نے پرچے کے اوپر لکھا ہسپٹال کا نام دیکھ کر کہا تھا۔۔۔

ہما نے گیم کھیلا تھا۔۔۔پر صرف چال چلنا کافی نہیں ھوتا۔۔۔۔

دعا ہما سے کافی زیادہ سمجھ دار تھی۔۔۔اور اکثر جب وہ کالج میں lecture لیتی تھی تو اس کے ایک سر ان کو کافی ڈیپ میں تمام باتیں سمجھاتے تھے کہ اچھا ڈاکٹر وہ ھوتا ھے جو ہر بات سے واقف ھو۔۔۔۔۔

ایک قابل medical student کے لیے نقلی اور اصلی reports میں فرق نکالنا بے حد آسان تھا۔۔۔۔۔

اور بے شک دعا ایک قابل medical student تھی۔۔۔۔۔۔۔

مجھے پتا تھا تم معراج کو پسند کرتی ھو۔۔۔

لیکن مجھے اور معراج کو الگ کرنے کے لیے تم اس حد تک جا سکتی ھوں میں نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا ہما۔۔۔۔ تم نے مجھے میری شادی والے دن بد دعا دی تھی۔۔۔تب بھی میں نے تمھیں دعا دی تھئ۔۔۔

ہمیشہ تمھارا اچھا چاھا ۔۔۔لیکن

تم ایک انتھائ گھٹیا لڑکی ھو۔۔۔

جس کو اپنی اور اپنے ماں باپ کی عزت کا خیال نہیں۔۔۔ایک معراج کو حاصل کرنے کی خاطر تم اس قدر گیر سکتی ھو ؟؟؟؟

کیا عزت رہے جائے گی تمھارے ماں باپ کی ؟؟

اگر یہ جھوٹ ان کے سامنے آیا تو ؟؟

شرم اتی ھے مجھے تم پر۔۔۔۔

میں معراج پر انکھ بند کر کے بھروسہ کرتی ھوں۔۔۔۔

دنیا کی کوئ طاقت معراج اور مجھے الگ نہیں کر سکتی یہ بات یاد رکھنا۔۔۔تم۔۔۔۔۔۔

اور ہاں آخری بار سمجھا رہی ھوں۔۔۔۔ہما

معراج اور میری زندگی سے دور رہنا۔۔۔۔نہیں تو نتیجہ بہت برا ملے گا۔۔۔۔۔

دعا نے ایک انگلی کے آشارے سے ہما کو ورن کیا تھا ۔۔۔۔

اور چلی گئ تھی۔۔۔۔۔

ہما حد سے زیادہ شوک میں تھی۔۔۔

وہ تو گیم کھیل رہی تھی اس کے ساتھ تو خود ایک گیم ھوگیا تھا۔۔۔۔۔۔

افففففففف !!!!

ہما نے زور سے سامنے پڑا گلاس زمین پر دے کر مارہ تھا۔۔۔۔۔

اس کی یہ گھٹیا چال اس کے کسی کام نا آئ تھی۔۔۔اگر وہ ھوشیار تھی تو دعا دھیڑ ھوشیار تھی۔۔۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

دعا تیزی سے چل کر باہر ائ تھی۔۔تبھی معراج اس سے ٹکرا گیا تھا۔۔۔

ارے بابا کہاں تھی تم ؟؟؟

معراج نے دعا کا ہاتھ تھام کر پوچھا تھا۔۔۔

کہی نہیں یہاں ہی تھی۔۔۔۔

دعا نے معراج سے نظریں ملا کر بات نا کی تھی۔۔۔

دعا ادھر دیکھو کیا ھوا سب ٹھیک ھے نا ؟؟؟؟

معراج نے دعا کی انکھوں میں نمی دیکھ کر پوچھا۔۔۔

دعا کا اب کچھ موڈ بھی بدلا ھوا تھا۔۔۔

دعا کیا ھوا۔۔۔؟؟؟

کچھ نہیں ھوا۔۔۔

میں زارہ مہمانوں کو دیکھ کر آتی ھوں۔۔۔۔

دعا نے معراج کو دیکھا اور مسکرائ لیکن معراج دعا کی سچی اور بناوٹی مسکراہٹ کو اچھے سے جانتا تھا۔۔۔۔

اس وقت دعا صرف اور صرف معراج کو دیکھانے کے لیے ھنسی تھی۔۔۔۔

معراج کچھ پریشان سا ھوا تھا۔۔۔۔۔

اسنے سوچا تھا کہ وہ رات میں دعا سے آرام سے پوچھ لے گا۔۔۔

دعا نے تمام مہمانوں کے لیے کھانا arrnage کروایا تھا۔۔۔

دعا کا سر درد کی شدت سے پھٹ رہا تھا۔۔۔

اسکو معراج پر پورا بھروسہ تھا۔۔۔پر اسکو معراج کا ماضی سوچ سوچ کر غصہ آرہا تھا ۔۔ ۔کہ معراج کے ماضی میں بھی کسی لڑکی نے اسکی اس قدر قربت میں وقت گزارا تھا۔۔۔۔۔۔

معراج نے دعا کا اترا ھوا چہرہ صاف محسوس کیا تھا۔۔۔۔

تمام لوگ کھانا وغیرہ کھا کر ایک ایک کر کے جارہے تھے۔۔۔

سب کو اج کا کھانا اور arrangement بے حد پسند آئ تھیں۔۔ ۔

سب کے جانے کے بعد دعا اور معراج کے اثرار پر احمد صاحب اور سمیرا بیگم روک گئے تھے۔۔۔

اج پہلی بار وہ دعا کی سسرال ائے تھے۔۔۔

رملا سمیرا بیگم دلاور بلاج اور جہانگیر صاھب نے ان لوگوں کو خاص عزت بخشی تھی۔۔۔۔

سجل بھی اس کافی خوش تھی۔۔۔۔

تمام مہمان جا چکے تھے اب بس گھر گھر کے لوگ بچے تھے۔۔۔

تبھی تمام لوگ آکر dring روم میں بیٹھ گئے تھے۔۔۔۔

معراج احمد صاحب سے باتوں میں لگا تھا جب ہی دعا ملازمہ کے ساتھ سب کے لیے چائے لے کر dring روم میں داخل ھوئ تھی۔۔۔

دعا نے اج کی ہر ایک چیز اپنے ہاتھوں سے کی تھی اور معراج یہ دیکھ کر بے حد خوش تھا۔۔۔۔۔

دعا نے سب کو چائے سرف کی تھی اور پھر خود اکر سجل اور ملا کے ساتھ بیٹھ گئ تھی۔۔۔

معراج دور سے دعا کا اترا چہرہ محسوس کر چکا تھا۔۔۔۔

تھوڑی دیر ھنسی مزاق کرنے کے بعد احمد صاحب وغیرہ بھی جانے کے لیے کھڑے ھوئے تھے۔۔۔

معراج نے انکو خود باہر تک جاکر چھوڑا تھا۔۔۔۔

دعا کے گھر والے معراج اور دعا کی محبت دیکھ کر ایک بے حد مطمئن اور خوش تھے۔۔۔۔۔

معراج اندر داخل ھوا تھا تو دعا سانے صوفے پر بیٹھی چائے پی رہی تھی۔۔۔

تبھی معراج اکر اس کے پاس بیٹھا تھا۔۔۔۔

دعا نے دھیمے سے مسکرا کر معراج کو دیکھا تھا۔۔۔پر دعا کی مسکراہٹ ہمیشہ جیسی نہیں تھی۔۔۔

کیا بات ھے اج میڈم بلکل لفٹ نہیں کراو رہی معراج نے دعا کے پاس بیٹھ کر کہا۔۔۔۔

اپ چائے پیں گے ؟؟

دعا نے فورن پوچھا تھا ۔

ہاں °° معراج نے کہا تھا۔۔۔

اچھا میں بنا دیتی ھوں۔۔۔

دعا اٹھنے لگی تھی۔۔۔جب معراج نے دعا کے ہاتھ میں پکڑا کپ اس کے ہاتھ سے لیا تھا۔۔۔۔

یہ والی چائے پیوں گا۔۔۔۔

معراج نے پیار سے کہا۔۔۔۔

دعا نے ھنس کر وہ چائے معراج کو دے دی تھی۔۔۔۔

معراج !!!

معراج چائے کا سیپ لے رہا تھا جب دعا نے اسکو پکارا تھا۔۔۔

اج سجل بھابی اور رملا بھابی نے بہت محنت کی ھے اپ دونوں کا خاص شکریہ کریں گے تو وہ دونون خوش ھوجائیں گئ۔۔۔

دعا نے ہلکے سے معراج کو کہا تھا۔۔۔۔

دعا کو سب کا خیال تھا سب کی خوشی کی فکر تھی۔۔۔معراج نے دل میں سوچا۔۔۔۔۔

ہمم۔۔۔۔معراج نے مختصر سا جواب دیا تھا۔۔۔

چلو بچوں ہم تو چلے سونے بہت تھک گئے ھیں اج۔۔۔

جہانگیر صاحب نے اٹھ کر کہا تو بریرہ بیگم بھی ساتھ اٹھ گئ ۔۔۔

اچھا امی اللہ حافظ معراج نے بریرہ بیگم کو گلے لگا کر اللہ حافظ کہا تھا

اللہ حافظ میرے بچے۔۔۔۔

بریرہ بیگم نے بھی پیار سے معراج کا ماتھا چوما تھا ۔۔۔

جہانگیر صاحب جاتے جاتے واپس پلٹے تھے ۔

معراج بیٹا کل یاد سے آفس آجانا۔۔۔۔

تین دن بعد election ھیں۔۔۔۔اس بار تم میرے ساتھ کھڑے ھوگے۔۔۔۔۔

اس لیے کل خاص وقت کا خیال رکھنا ۔۔

جہانگیر صاحب نے کہا تھا

جی اچھا۔۔۔۔معراج نے بس اتنا ہئ جواب دیا تھا۔

جہانگیر صاحب اور بریرہ بیگم کے جانے کے بعد معراج نے پہلے سجل کو مخاطب کر کہا تھا

سجل بھابی Thank you so much اج کی تمام تر decoration واقعی کامل کی تھی دعا بتا رہی تھی اپ نے بہت محنت کی ھے۔۔۔۔

اس کے لیے بہت شکریہ۔۔۔۔معراج نے مسکرا کر شکریہ ادا کیا تھا۔۔۔

سجل کو اج پہلی بار اس گھر میں اچھا لگا تھا۔۔۔اور معراج سے بھئ وہ خوش ھوئ تھی۔۔۔۔

کوئ بات نہیں سجل نے مسکرا کہا تھا۔۔۔۔

سجل کو اس طرح دیکھ کر دلاور بھئ خاصا خوش تھا۔۔

رملا بھابی اپ کا بھی بہت بہت شکریہ۔۔۔

معراج نے اب رملا کو کہا تھا۔۔۔رملا اور اسکا تو بلکل ہی الگ معملہ تھا۔۔۔۔

اھووو جناب اج یہ formality نا نبھائے۔۔۔

رملا نے ھنس کر کہا تو معراج بھی ھنس دیا۔۔۔

بس بھابیوں کا ہی شکریہ ادا کرنا۔۔۔

بلاج بھائ میں اور دعا کا کون کرے گا ؟؟؟

دلاور نے ھنس کر کہا تھا۔۔

دیکھو۔۔۔دعا کو تو میں کمرے میں جاکر کر دوں گا۔۔۔۔

معراج نے شرارت سے کہا تھا۔۔۔

اور تم دونوں نے کچھ کیا نہیں تو کیوں کروں۔۔۔

معراج نے ھنس کر کہا تھا۔۔۔

نہیں دونون بھائیوں نے اج بہت کام کیے ھیں

دعا فورن تڑپ کر بولی تھی۔۔

دیکھا ہماری بہن ہمارے لیے بولی۔۔۔

بلاج نے فورن کہا تھا۔۔۔

اچھا بابا اپ دونون نیکموں کا بھئ شکریہ۔۔۔معراج نے ھنس کر کہا۔۔ویسے دعا تم نے اس کو انسان بنا دیا ھے۔۔۔

رملا نے ھنس کر کہا تھا۔۔۔

اور اج پہلی بار سجل جلی نہیں تھی بلکے یہ بات قبول کی تھی۔۔۔

واقعی دعا !!!

منانا پڑے ھا تمھیں ۔۔مجھے تو یقین نہیں آتا یہ وہی معراج ھے جو کسی سے سیدھے منہ بات نہیں کرتا تھا۔۔۔

سجل نے بھی ھنس کر کہا تھا۔۔۔اج جس طرح دعا اور معراج نے سجل اور رملا کو عزت دی تھی۔۔۔سجل کے دل میں ان دونون کے لیے اچھائ پیدا ھو گئ تھی۔۔۔۔ایک وقت ایسا ضرور آتا ھے جب اچھائ برائ کو ہارا دیتی ھے۔۔۔۔

دعا خاموشی سے سر جھکا کر ھنس دی تھی۔۔۔دعا کا سر درد کی شددت سے پھٹ رہا تھا۔۔

چلو اب آرام کرنا چھائے۔۔۔

معراج نے اٹھتے ھوئے کہا تھا۔۔۔دعا بھی اس کے ساتھ ہی اٹھی تھی۔۔۔

وہ چاروں بھی اٹھ گئے تھے۔۔۔۔۔اور سب ایک دوسرے کو اللہ حافظ کر کے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تھے۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

کمرے کی تمام تر چیزیں زمین پر بکھری ھوئ تھی۔۔۔کانچ کا lamp زمین پر ریزہ ریزہ ھوا تھا۔۔۔

کمرے کی حالت الٹ پلٹ ھوئ تھئ۔۔۔اور وہ ایک کونے میں اپنا سر تھام کر بیٹھی ایک کے بعد ایک سیگرٹ سلگا رہی تھی۔۔۔۔

جب انسان کے اوپر جنون طاری ھوتا ھے۔۔۔تو انسان اپنے حواس کھو بیٹھتا ھے۔۔۔۔

مسلسل ہار بھی انسان کے اندر جتنے کا جنون پیدا کر دیتی ھے۔۔۔۔

اسکی آنکھوں میں لگا سارہ کاجل بھہ کر نیچے تک آچکا تھا۔۔اور اسکی حالت بگڑی ھوئ تھی۔

رونے کی وجہ سے آنکھیں لال تھی۔۔۔

اسکو ایک بار پھر شکست ھوئ تھی۔۔۔

وہ سوچ رہی تھی تبی اسکا فون بجا تھا۔۔۔

اس نے لپک کر فورن فون اٹھایا تھا۔۔۔

ہیلو ہما ؟؟

ہاں کیا ھوا ؟؟

تم نے سب دعا کو بتا دیا ؟؟

دعا نے تو تماشہ لگا دیا ھوگا ادھر ؟؟

بتاوں کیا ھوا۔۔۔؟؟

زیب ایک نسانس میں سب بول رہا تھا۔۔۔

وہ جانتا تھا ہما کا یہ حربا ضرور کام ائے گا ۔۔۔

کسی بھی میاں بیوی میں دوری پیدا کرنے کا یہ سب سے بہترین طریقہ تھا۔۔۔۔

ہما خاموش تھی۔۔۔۔

بولو ہما کیا ھوا ؟؟؟

زیب نے پھر پوچھا تھا۔۔۔

تب ہما نے چیخ کر کہا تھا۔۔۔

کچھ نہیں ھوا۔۔۔۔

سب کچھ الٹا ھوا۔۔۔۔۔۔

آخیر یہ دعا خود کو سمجھتی کیا ھے۔۔۔

ہما کی آواز سے پتا لگ رہا تھا کہ وہ اس وقت کس قدر جنون اور غصے میں تھی۔۔۔۔

کککک کیا مطلب ؟؟

دعا نے کیا کیا ؟؟

زیب بھئ اب پریشان ھوا تھا۔۔۔۔

دعا کو معراج پر اس قدر یقین ھے کہ اس نے میری بات کا یقین نا کیا۔۔اور الٹا مجھے تھپڑ لگا دیا۔۔۔۔۔۔۔

وہ سمجھ گئ کہ یہ جھوٹی رپوٹ ھیں۔۔۔

تمھیں پورے کراچی میں ایک یہ ہی بدنام ے زمانہ hospital ملا تھا fake reports بنوانے کے لیے جو پہلے سے اس حوالے سے خاصا مشھور ھے۔۔۔۔

ہما نے اب اپنی بھڑاس زیب ہر نکالنا شروع کی تھی۔۔۔

مجھے مت بولو۔۔۔

خود تم سے ایک کام ھوا نہیں۔۔۔۔

باتیں تمھاری اتنی بڑی بڑی تھی۔۔۔

دعا یہ دیکھ کر معراج کو چھوڑ سے دے گی ؟

کیا ھوا ان باتوں کا ؟؟؟

بس باتیں تھی ۔۔۔۔

تمھاری وجہ سے اگر دعا میرے ہاتھ سے گئ تو میں تمھیں جان سے مار دوں گا ہما ۔۔۔

زیب کو بھی اب اپنی ہار پر غصہ آیا تھا۔۔۔…

تم سے تو کچھ ھوا نہیں اب لگتا ھے کہ مجھے ہی کچھ کرنا پڑے گا ۔۔۔۔

زیب نے غصے سے کہہ کر فون بند کیا تھا اور زور سے اپنا فون زمین پر دے مارا تھا۔۔۔۔۔

بسسسسسس بہت ھوگیا۔۔۔

بہت ہار لیا میں۔۔۔

اور بہت جیت گیا تو معراج۔۔۔

پر اب بسسسس۔۔۔۔۔۔۔

دعا کو حاصل کرنے کے لیے جس بھی حد تک مجھے جانا پڑا میں جاوں گا۔۔۔۔

دعا کو تم سے چھین لوں گا۔۔۔۔۔

زیب کی آنکھوں میں بدلے کی بہت تیز اگ جل رہئ تھی۔۔۔

ادھر ہما اپنی ہار پر تلملائ بیٹھی تھی۔۔۔

ہما نے جو چھا وہ تو نا ھوا تھا۔۔۔

دعا کا یقین معراج پر حد سے زیادہ تھا۔۔۔۔

جو ہما چھا کر بھی نہیں توڑ سکی تھی۔۔۔۔۔۔۔

☆☆☆☆▪▪▪▪▪☆☆☆▪▪▪▪▪▪☆☆☆☆

دعا اور معراج کمرے میں داخل ھوئے تھے تو دعا فورن باتھ روم میں چلی گئ تھی۔۔۔

جب وہ اپنے کپڑے وغیرہ جینچ کر کے واپس آئ تو معراج بھی اپنے نائٹ کپڑوں میں بیڈ پر بیٹھا تھا۔۔۔۔

دعا کے چہرے پر واضے تھا کہ وہ اس وقت کسی گھیری سوچ میں ھے۔۔۔

دعا اب اکر dressing کے پاس کھڑی ھوکر lotion لگا رہی تھی جب معراج اس کے پاس آیا تھا۔۔۔

دعا ؟؟؟معراج نے پیار سے اکر اسکا رخ اپنی طرف موڑا تھا ۔۔

جی ؟؟

دعا نے فورن کہا تھا۔۔۔

کیا بات ھے ؟؟؟

تم اتنی چپ چپ کیوں ھو ؟؟؟

معراج نے بہت اپنائیت سے اسکے ہاتھ تھام کر کہا تھا۔۔۔

کچھ نہیں بس سر میں درد ھو رہا ھے۔۔۔۔

اپ پریشان نا ھوں میں بلکل ٹھیک ھوں۔۔۔

دعا نے معراج سے نظریں چرا کر کہا تھا۔۔۔

دعا میری طرف دیکھو آاا

معراج نے دعا کی نظریں دیکھ لی تھیں۔۔۔۔

کیا بات ھے میری جان پلیز مجھے بتاو کسی نے کچھ کہا ھے کیا ؟؟؟

معراج نے اب پیار سے دعا کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں سے تھاما تھا۔۔۔۔۔

نہیں کسی نے کچھ نہیں کہا۔۔۔۔

دعا نے اپنے آنسو روک کر کہا ۔۔۔

وہ معراج کو ہما والی بات نہیں بتانا چھاتی تھی۔۔۔۔

وہ نہیں چھاتی تھی کہ معراج اپنی سالگرہ والی رات پریشان ھو ۔۔

پھر ایسی کیوں ھو رہئ ھو ؟؟؟؟

معراج کو دعا کی حد سے زیادہ فکر تھی۔۔

ارے بابا کچھ نہیں اج تھک بہت گئ ھوں نا اس لیے۔۔۔۔

دعا نے اب ھنس کر کہا تھا۔۔۔۔۔تاکہ معراج زیادہ پریشان نا ھو۔۔۔۔

ہاں یہ تو ھے۔۔۔۔

اج میری جان بہت تھک گئ ھے۔۔۔۔۔

thank you so much dua °°°°

THIS IS MY BEST

BIRTHDAY ❤

معراج نے بہت پیار سے دعا کے ماتھے پر بوسہ دے کر کہا تھا۔۔۔

اور دعا کو ساتھ ہی اپنی گود میں اٹھایا تھا۔۔۔

ارے ارے یہ کیا کر رہے ھیں اپ ؟؟؟

دعا نے معراج کی اس حرکت پر ایک دم کہا تھا۔۔۔

ابھی بتاتا ھوں۔۔۔

معراج نے دعا کو لا کر جگہ پر لیٹایا تھا۔۔

اور خود SIDE TABLE سے TABLET اور BAM نکال کر لیا تھا۔۔۔۔

یہ داوئ کھاو۔۔معراج نے دعا کے اگے TABLET کر کے کہا۔۔

نہیں ٹھیک ھوں میں۔۔۔دعا پھر وہی بولی تھئ ۔۔

چپ کر کے کھاو ۔۔معراج نے اب اپنے ہاتھ سے دعا کو TABLET کھلائ تھی ۔۔۔۔

اور اب خود اکر دعا کے ساتھ ہی بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔

اور اب دعا کے سر پرBOM لگا رہا تھا۔۔۔۔

ارے اس کی ضرورت نہیں ھے راج میں۔۔۔۔

دعا کو ایک دم سے شرم محسوس ھوئ تھی کہ معراج اسکا سر دبا رہا تھا۔۔۔۔

کیوں صرف تم میرا سر دبا سکتی ھو ؟؟

کیا صرف بیویاں خدمت کے لیے ھوتی ھیں ؟؟؟

معراج نے ہلکے ہلکے دعا کے سر میں انگلیاں پھیرتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔۔

تم سارہ دن میرے لیے اتنا تھکی ھو۔۔۔

میں تمھارے لیے یہ نہیں کر سکتا کیا ؟؟

اللہ نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کے لیے شفا بنایا ھے میڈم۔۔۔۔

دعا ایک ٹک معراج کو دیکھ رہی تھی۔۔۔

وہ معراج سے جنون والا عشق کرتی تھی۔۔۔

اور اج جس بات سے وہ پریشان تھی وہ صرف یہ تھی کہ اگر یہ سچ ھوتا تو؟؟؟

کیا وہ معراج کے بغیر جی پاتی۔۔۔۔۔

دعا ایک دم اٹھ کر معراج کے گلے سے لگی تھی۔۔۔۔

معراج !!!!!

دعا نے اپنی بھیگی آواز سے کہا تھا۔۔۔۔

کیا ھوا دعا ؟؟؟

معراج نے بھی دعا کو اپنے گلے لگایا تھا۔۔۔۔

اج پہلئ بار دعا نے پہل کی تھی۔۔۔۔

معراج اپ سے ایک بات پوچھوں ؟؟

دعا نے اسی طرح معراج کے گلے لگے لگے کہا تھا۔۔۔

ہاں پوچھو میری جان کیا ھوا ؟؟؟

معراج نے اسکو خود سے الگ کیا تھا اور اسکو لیٹایا تھا۔۔۔۔

اور خود بھی اس کے بلکل پاس ھو کر لیٹا تھا۔۔۔۔

کیا بات ھے؟؟ بولو دعا ؟؟

معراج نے دعا کو پیار سے دیکھتے ھوئے پوچھا تھا۔۔۔۔

معراج کیا اپ کے ماضی میں !!!!!!

دعا بولتے بولتے چپ ھوئ تھی۔۔۔

بولو جان ؟؟؟

معراج نے اسکا ہاتھ محبت سے تھاما تھا۔۔۔

راج کیا کبھی ماضی میں اپ نے ایسا کوئ عمل کیا ھے جس کا اثر ہمارے آنے والے کل پر پڑے ۔۔

دعا نے ہچکچاتے کہا تھا۔۔۔

میں سمجھا نہیں۔۔۔معراج نے نا سمجھتے ھوئے کہا۔۔۔

میرا مطلب ھے کہ ۔۔۔۔

میں جانتی ھوں۔۔۔۔اپ پہلے کیسے تھے اور اب کیسے ھیں۔ ۔لیکن پہلے جب اپ کو اس سب کا علم نہیں تھا تو کیا تب کسی بھی لڑکی کے ساتھ اپکا ایسا تعلق تھا جو ایک بیوی سے ھوتا ھے۔۔۔۔

یہ سوال کرتے ھوئے دعا کو شدید تکلیف محسوس ھوئ تھی اور اسکی بڑی بڑی انکھیں آنسو سے بھر گئ تھی۔۔۔۔

معراج کو بے ساختہ دعا پر بے حد پیار آیا تھا اور خود پر بے حد غصہ بھی۔۔

معراج کچھ پل کے لیے خاموش ھوا تھا۔۔۔۔

تب ہی دعا اس کے اور پاس ھوئ تھی اور اب معراج کے منہ پر ہاتھ پھیر کر بولی تھی۔۔۔۔

پلیز معراج مجھے بتائیں۔۔۔۔۔۔۔

کیا کبھئ !!!!!

دعا بولتے بولتے روکی تھی۔۔۔

معراج کی آنکھوں میں شرمندگی تھی۔۔۔۔

کچھ پل سوچنے کے بعد معراج کہنا شروع ھوا تھا۔۔۔

دعا۔۔۔۔۔

میں تم سے جھوٹ نہیں بولوں گا۔۔۔۔

میری زندگی میں تمھارے انے سے پہلے بہت سی لڑکیاں تھیں۔۔۔۔جن سے میرا تعلق دوست کی حثیت سے زیادہ تھا۔۔۔۔

میں نے بہت گناہ کیے ھیں ۔۔۔۔۔پر ایک گناہ سے ہمیشہ خود کو پاک رکھا۔۔۔

معراج نے دھیمے سے مسکرا کر کہا تھا۔۔۔۔

کیا مطلب ؟؟

کون سا گناہ ؟؟دعا نے فورن پوچھا تھا ۔۔

دعا میرا یقین شروع سے ایک چیز پر تھا کہ یہ دنیا مخافتے عمل ھے۔۔۔۔۔

اگر میں کسی کی لڑکی کی زندگی خراب کرتا تو میری بیوی اتنی پاک اور صاف کیسے ھوتی ؟؟؟؟

لڑکیوں سے میرا تعلق تھا۔۔۔۔

کافی CLOSNESS بھی تھی۔۔۔لیکن میں نے کبھی اپنی limit cross نہیں کی۔۔۔۔

اس closeness کی بھی ایک لیمٹ تھی۔۔۔۔۔

جو حق میری بیوی کا تھا ۔

وہ حق میں نے بھی صرف اور صرف اپنی بیوی کے لیے ہی سنبھال کر رکھا تھا۔۔۔۔

اور مجھے اتنا ضرور پتا ھے کہ میں نے ماضی میں کسی لڑکی کی زندگی اس طرح خراب نہیں کی کہ اسکا اثر میرے مستقبل پر پڑے۔۔۔۔۔۔

معراج کا ایک ایک لفظ دعا کے دل کو سکون بخش رہا تھا۔۔۔۔

میری قسم ؟؟؟؟

دعا نے فورن کہا تھا۔۔۔۔

تمھاری قسم میری جان۔۔۔۔۔

معراج نے پیار سے دعا کا ماتھا چوما تھا۔۔۔۔

اور اسکو گلے لگایا تھا۔۔

دعا میں تمھارے جتنا پاک اور صاف تو نہیں ھوں۔۔۔

لیکن تمھاری ایک دعا اللہ نے ضرور پوری کی ھے۔۔۔۔

کیا ؟؟؟ دعا نے فورن پوچھا تھا۔۔۔۔

اللہ نے تمھیں ایک ایسا شوہر عطا کیا ھے جس نے دنیا بھر کا ہر الٹا کام کیا ھے پر اپنی بیوی کا درجہ کسی کو نہیں دیا۔۔۔۔

بہت سی لڑکیوں نے اس جگہ آنے کی خوشش کی لیکن میں نے وہ رتبہ ایک پاک اور صاف وجود کے لیے رکھی تھی۔۔۔

اور دیکھو نا اللہ نے میری وہ عادا کتنی پسند کی کہ مجھے ایک اتنا پاک صاف وجود عطا کیا۔۔۔۔

معراج کی بات سن کر دعا ایک دم شرما کر مسکرائ تھی۔۔۔

اسکو خوشی ھوئ تھی کہ دعا کا یقین جیتا تھا۔

دعا کے لیے ہما کی بات پر یقین کرنا آسان تھا ۔۔۔لیکن دعا کا دل یقین کرنے کے لیے راضی نا تھا۔۔۔۔دعا نے ہما سے جھوٹ کہا تھا کہ وہ reports دیکھ کر سمجھی ھے۔۔

اس کو ہلکا سے گمان ھوا تھا کہ شاید وہ reports نکلی ھیں۔۔

اس نے یہ سب اس لیے کہا تھا کہ ہما کو یہ نا لگے کے دعا نے اسکی بات کا یقین کر لیا ھے۔۔۔

وہ معراج پر پورا یقین کرتی تھی۔۔۔اور اس نے یہ ہی دعا اللہ سے مانگی تھی کہ معراج پر اسکا جو یقین ھے وہ کبھی ٹوٹے نا۔۔اور ایسا ہی ھوا تھا۔۔۔۔

معراج نے سب کچھ کیا تھا۔۔۔۔لیکن جس کام کا الزام ہما نے اس پر لگایا تھا معراج نے وہ کام ہما کے ساتھ تو کیا کسی بھئ لڑکی کے ساتھ نہیں کیا تھا۔۔۔۔

اب خوش ھوگئ محترمہ؟؟

معراج نے دعا کے اوپر جھک کر کہا تھا۔۔۔۔

ہاں ؟؟؟ دعا نے ھنس کر کہا تھا۔۔۔

ویسے دعا جی۔۔۔۔

سب نے مجھے گفٹس دیے ھیں

اپکا گفٹ کہاں ھے ؟؟؟

معراج نے فورن پوچھا تھا۔۔۔

اپکا گفٹ مجھے آج دینا تھا جناب لیکن اب وہ گفٹ اپکو بعد میں ملے گا ۔۔

دعا نے ھنس کر کہا تھا۔۔

اور معراج سے دور ھوئ تھی۔۔۔

جب ہئ معراج نے اسکو بازو سے کھینچ کر اپنی مظبوط گرفت میں لیا تھا۔۔۔۔

ویسے اج تو مجھے سے بڑے سوال کیے گئے۔۔۔

بیوی کا حق ؟؟

خیر ھو ؟؟

معراج نے ایک ائ بور اٹھا کر کہا ۔۔۔۔

وہ بسس یوں ہی۔۔۔۔۔general knowledge کے لیے۔۔۔دعا نے شرما کر کہا ۔۔۔۔

ہاہاہاہا ۔۔۔۔۔اچھا جی سچی ۔۔۔معراج نے ھنس کر کہا۔۔۔۔

ہاں تو اور۔۔۔۔۔۔

دعا نے جھیپ کر کہا۔۔۔

دیکھو اب میں نے تو بیوی والا حق اب تک کسی کو نہیں دیا اب بیوی تو۔۔۔وہ حق دیتی نہیں چلو پھر کچھ اور سوچتا ھوں میں بھی۔۔۔

معراج نے شرارت سے کہا تھا۔۔۔۔

میں جان سے مار دوں گی اپکو۔۔۔

دعا نے محبت سے معراج کو گربان سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ کر کہا تھا۔۔۔

اگر ایسا سوچا بھئ نا تو ہمیشہ کے لیے ناراض ھو جاوں گی۔۔۔۔

دعا نے معراج کی انکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔۔۔۔۔

اور میں تمھیں اتنا پیار کروں گا کہ تم خود بخود مجھے معاف کردو گی۔۔۔معراج نے شرارت سے دعا کے گل پر بوسہ دے کر کہا۔۔۔۔

تو دعا فورن اسکے سینے میں چھپ گئ۔۔۔۔

happy birthday۔۔۔۔۔

دعا نے معراج کی باہوں میں چھپ کر پھر کہا تھا۔۔۔

ہاہاہاہا۔۔۔ویسے اسکی جگہ اگر کوئ 3 magical words بولتی تو زیادہ اچھا گفٹ ھوتا۔۔۔

معراج نے دعا کو اور مظبوطی سے تھاما تھا۔۔۔

دعا شرما کر اور معراج کے اندر چھپ گئ تھی۔۔۔

معراج کے اندر سے انے والی خوشبو اسکو بہت سکون دیتی تھی۔۔۔۔

دعا کے سر کا درد بھی اب غائب ھوچکا تھا۔۔۔۔۔

اور وہ نیند کی گوندگی میں جاچکی تھی۔۔۔۔۔

معراج بھئ انکھیں بند کر کے دعا کو محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔

اور اب نیند میں جارہا تھا۔۔۔۔

دعا ااور معراج ایک دوسرے کا سکون تھے۔۔۔۔۔

اللہ نے انکے دل میں حلال محبت بھر دی تھی۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اگلے دن صبح معراج اور دعا دونوں ہی جلدی اٹھ گئے تھے۔۔۔۔۔معراج کو آج ضروری جہانگیر صاحب کے ساتھ ایک جگہ جانا تھا ۔۔۔۔

جبکہ دعا معراج کو بھیجنے کے لیے اٹھی تھی۔۔۔

معراج کو بڑی مشکل سے دعا نے اٹھا کر باتھ روم بھیجا تھا۔۔۔

اور اب خود اسکے کپڑے نکال کر اسکے جانے کی تیاری کر رہی تھی۔۔۔۔۔

معراج باتھ روم سے نہا کر نکلا تو تولیہ باندھ کر باہر آیا تھا۔۔۔۔۔

افففف اللہ !!!!

اپ کو کتنی بار کہا ھے ایسے باہر نا ایا کریں۔۔۔۔

دعا نے ایک دم اپنا رخ موڑ کر کہا تھا ۔۔۔۔

ہاہاہاہا۔۔۔کیوں ؟؟؟

میں نے جو یہ حسین six packs اور body بنائ ھے وہ اپنی بیگم کو نا دیکھاو تو پڑوسن کو جاکر دیکھاو۔۔۔۔معراج نے ھنس کر کہا تھا۔۔۔۔

دعا کو بھی ھنسی آئ تھی۔۔۔

اچھا سنیے

میں نے بیڈ پر اپ کے کپڑے نکال کر رکھے ھیں اپ جلدی سے چینج کرلیں۔۔۔میں نیچے جاکر اپکا ناشتہ تیار کرواتی ھوں۔۔۔

دعا بول کر کمرے سے باہر اگئ تھی۔۔۔اور اب نیچے اکر معراج کا ناشتہ خود تیار کیا تھا۔۔۔۔

گھر کے تمام لوگ ہی جاگ چکے تھے۔۔۔۔

دعا ناشتہ بنا کر پھر اپنے کمرے میں آئ تھی تو معراج بلکل تیار کھڑا تھا۔۔۔

ایک پل کے لیے دعا کی نظر معراج پر جاکر رک گئ تھی۔۔۔

وہ سفید کوٹن کے خلف دار شلوار قمیض میں انتھائ وجیہ سیاست دان لگ رہا تھا۔۔۔۔۔

دعا کے دل میں ایک دم کوسم کی وہ بات ائ۔۔۔۔

میرا دل کرتا ھے میرا بیٹا ایک دن بہت بڑا سیاست دان بنے۔۔۔۔۔

کیا ھوا ایسے کیا دیکھ رہی ھو ؟؟؟

معراج نے دعا کو ایک ٹک دیکھتے ھوئے دیکھا تو فورن بولا۔۔۔۔

مستقبل کے مشھور سیاست دان کو دیکھ رہی ھوں

دعا نے مسکرا کر جواب دیا تھا۔۔۔

معراج بھئ دھیمے سے مسکرایا تھا۔۔۔

اور چل کر اسکے پاس ائ تھی۔۔۔۔

اور اس کے سامنے کھڑے ھوکر اسکے کالر کا بٹن بند کر رہی تھی۔۔۔۔۔

ویسے اس مستقبل کے مشھور سیاست دان کی حسین بیوی۔۔۔۔۔

روز مجھے اور بھی زیادہ حسین کیوں دیکھائ دیتی ھے۔۔۔

معراج نے شرارت سے دعا کی کمرے کے گیرد اپنے ہاتھوں سے زنجیر بنائ تھی۔۔کیوں کہ مستبقل کے سیاست دان ایک عاشق مزاج انسان ھیں۔۔۔

دعا نے ھنستے ھنستے کہا تھا۔۔۔۔

اچھااا بتاوں ابھی۔۔۔۔۔

معراج نے اسکو زور سے پکڑا تھا۔۔۔۔

ہاہاہا اچھا چھوڑیں۔۔۔

نیچے اپکا ناشتہ تیار پڑا ھے جلدی چلیں۔۔۔۔

دعا نے اپنے اپکو چھوڑواتے ھوئے کہا۔۔۔

یار کیا ھے۔۔۔۔

کس بے وقوف کا دل کرتا ھے اتنی حسین بیوی کو چھوڑ کر جانے کا۔۔۔

معراج نے پھر سے معصوم بن کر کہا۔۔۔۔

ہاہہا بس بہت مسکے ھو گئے جناب۔۔۔بابا ناراض ھونگے۔۔۔۔جلدی کریں۔۔۔۔

دعا نے پیار سے کہا تھا۔۔۔

ہممم اچھا۔۔۔ویسے یہ کپڑے تم نے کب سلواے میں تو کمیز شلوار پھتنا نہیں تھا۔۔۔

بس اس دن دلاور بھائ کے tailor آئے تھے تو میں نے اپکے لیے بھی کچھ کپڑے پسند کر کے دے دیے تھے سیلنے۔۔۔

دعا نے بتایا۔۔۔۔

ہمم تبھی میں کہو مجھے یہ کپڑے اتنے اچھے کیوں لگ رہے۔۔۔

معراج نے بے حد پیار سے کہا تھا۔۔۔۔

ہاہاہا۔۔۔۔۔اچھا۔۔۔

ویسے کافی اچھے لگ رہے ھیں اپ اس میں ۔۔

دعا نے بھی اج تعریف کی تھی۔۔۔

اچھا thankyou ۔۔۔۔

پھر روک جاوں گھر ؟؟؟

معراج نے شرارت سے کہا تھا۔۔۔

ہاہہاا جی نہیں چلہیں نیچے۔۔۔۔

دعا معراج کا ہاتھ تھام کر اسکو نیچے لے ائ تھی۔۔۔

ناشتے کی میز پر سب موجود تھے

معراج اور دعا بھئ سب کو سلام کر کے اکر میز پر بیٹھ گئے تھے۔۔۔

اج گھر کے تمام لوگوں کا ہی موڈ اچھا تھا۔۔۔

اج سے ٹھیک 4 دن بعد election کے مقابلے شروع ھو رہے تھے۔۔۔۔

معراج کا یہ پہلا سال تھا جس میں وہ خود election میں کھڑا ھو رہا تھا۔۔۔۔

جہانگیر صاحب ہر ممکن کوشش کرنا چھاتے تھے کہ یہ election معراج ہی جیتے۔۔۔۔۔۔

دعا اور معراج ابھی ناشہ ہی کر رہے تھے جب رملا اور سجل نے دعا سے باتوں باتوں میں کہا تھا۔۔۔

کہ اج کیوں نا shopping پر چلیں۔۔۔

دعا ؟؟

میں اور سجل shopping پر جانے کا سوچ رہے ھیں تم بھی چلو۔۔۔۔

رملا بھابی مجھے مارکٹ جانے کی بلکل عادت نہیں ھے۔۔۔

دعا نے ناشتہ کرتے کرتے کہا تھا۔۔۔

وہ جانتی تھی معراج اسکو اکیلے جانے کی اجازت ہرگز نا دے گا۔۔۔اور وہ بھی تب جب وہ اج گھر سے کافی دور سندھ جا رہا تھا۔۔۔

اہووو دعا اکیلی تھوڑی ھو۔۔۔

میں اور رملا بھابی ھیں نا۔۔۔

اب کے سجل نے کہا تھا۔۔۔

کل کے بعد سے سجل بھی اب ٹھیک ھونے لگی تھی۔۔۔

سجل بھابی۔۔۔دعا گھیری سوچ میں پڑ گئ تھی۔۔۔

اچھا ھے تھوڑا مزہ اجائے گا۔۔۔

girls day out

ھوجائے گا۔۔۔

سجل نے شوخی سے کہا تھا۔۔۔

رملا اور دعا دونون مسکرا دی تھی۔۔۔

میں معراج سے پوچھ لوں۔۔۔

دعا نے فورن کہا تھا۔۔۔

ارے تم نے جس طرح پوچھنا ھے نا اس طرح معراج کبھی بھی اجازت نہیں دے گا۔۔۔

رملا نے فورن کہا تھا ۔۔وہ جانتی تھی معراج دعا کے معملے میں کس قدر حساس ھے۔۔۔

معراج ؟؟

معراج ؟؟

معراج دلاور سے بات کر رہا تھا جب رملا نے معراج کو پکارا تھا۔۔۔

بلکل بھی نہیں دعا اپ لوگوں کے ساتھ کہی نہیں جارہئ۔۔۔

معراج نے دلاور سے بات کرتے کرتے رک کر کہا تھا اور پھر دلاور سے باتوں میں لگ گیا تھا۔۔۔

افف اللہ اس لڑکے کے کان۔۔۔

بات وہاں کر رہا ھے دماغ ادھر ھے۔۔۔

دعا کا زکر جہاں ھو یہ وہاں ھوتا ھے۔۔۔

رملا نے ھنس کر کہا تو دعا کو اپنا اپ اس پل بہت خوش نصیب لگا۔۔۔۔

معراج کے بچے ۔۔۔

بات تو سنو۔۔۔

اب کے سجل نے کہا تھا۔۔وہ بھی اب معراج سے رملا ہی کی طرح مزاق کرنا شروع ھوگئ تھی۔۔۔

سوری میرے ابھی بچے نہیں ھوئے۔۔۔۔جو اپ کی بات سنے۔۔۔

معراج نے ھنس کر کہا۔زیچ کرنے میں تو معراج کا کوئ سانئ نہیں تھا۔۔۔۔

یار کیا ھے معراج۔۔۔

تھوڑی دیر کی بات ھے۔۔۔۔

اچھا ھے دعا بھی کچھ کپڑے لے لے گئ۔۔۔

رملا نے ضد کی تھی۔۔۔

بھابی اج میں بھی گھر نہیں ھوں۔۔۔

اپ لوگ کسی دن میرے ساتھ رکھ لیجیے گا۔۔ ۔

معراج کا دل کیس صورت نہیں مان رہا تھا۔۔۔

اففف معراج۔۔۔

تم ہماری اتنی سے بات نہیں مان سکتے۔۔۔رملا اور سجل نے اب منہ بنا کر کہا تھا ۔۔۔

بھائ مجھے دعا کہی جاتی ھے تو سکون نہیں ھوتا ۔۔۔

اس لیے اپ دونوں سے معضرت ۔۔۔۔

معراج نے صاف کہا تھا۔۔۔۔

دعا یہ سب دیکھ کر ھنس رہی تھی۔۔۔۔

تم کیا ڈانت نکال رہی ھو بولو نا راج کو۔۔۔

رملا نے دعا کو کونی مار کر کہا تھا۔۔

ہاہاہا اچھا میں منا لوں گئ بھابی۔۔۔۔

دعا نے ہلکے سے رملا سے کہا تھا۔۔۔

ناشتہ وغیرہ کرنے کے بعد معراج اور جہانگیر صاحب جانے کے لیے اٹھے تھے۔۔۔

بس وہ نکل ہی رہے تھے کہ معراج نے ایک دم کہا تھا ۔۔

اھووو میرا موبئل رہے گیا۔۔دعا زارہ میرا موبئل لا دو۔۔۔

معراج نے دعا کو کہا تو دعا فورن چلی گئ تھی۔۔۔۔

اھوو دعا کو نہیں ملے گا میں دیکھ کر آتا ھوں معراج بھی بھانے سے کمرے میں گیا تھا۔۔۔

بریرہ بیگم اور رملا معراج کی اس حرکت پر خوب ھنسی تھی۔۔۔

معراج کمرے مین داخل ھوا تو دعا نے اسکو دیکھ کر فورن کہا ۔۔۔

کہاں ھے اپ کا موبئل ؟؟

میرے پاس۔۔۔

معراج نے شرارت سے دعا کو ہاتھ سے پکڑ کر اپنے پاس کیا تھا۔۔۔

تو پھر مجھے کیوں ؟؟ دعا نے حیرت سے پوچھا۔۔۔

کیونکہ میں اپنی بیگم سے ایک چھوٹی سی پیاری سی kissi لینے آیا تھا۔۔۔

معراج نے شرارت سے کہا۔۔۔۔

معراج حد سے زیادہ شرارتی تھا۔۔۔۔۔

لیکن وقت نے اسکو کافی سخت بنا دیا تھا لیکن ان سب کچھ نارمل ھونے کے بعد معراج پھر سے شرارتی ھو گیا تھا۔۔

ہر وقت خوش رہتا تھا۔۔۔۔

جناب اپ کو کس نے کہا کہ اپ کی بیگم اپکو kissi دینے والی ھے۔۔۔۔

دعا نے مسکرا کر کہا تھا۔۔۔۔

اممم

ابھی ابھی میری بیگم نے ہی کہا۔۔

معراج نے ھنس کر کہا۔۔۔۔

اچھا راج ۔۔۔۔

سنیں۔۔۔۔

دعا نے فورن کہا تھا۔۔

اففف میں تو سنا ہی تمھین چھاتا ھوں تم بولتی نہیں۔۔۔۔

معراج نے دعا کے سر سے سر ملا کر شرارت سے کہا تھا۔۔۔۔

میں بھابی کے ساتھ چلی جاوں shopping پر پلیز ؟؟

دعا نے التجا کی تھی۔۔۔

تمھیں جو لینا ھو میرے ساتھ جا کر لے لینا نا دعا۔۔۔

معراج نے سنجدیگی سے کہا تھا۔۔۔۔

دعا میرا بلکل دل نہیں مان رہا اج تمھیں اس طرح بھیجنے کو۔۔۔

پر میرا دل چھا رہا تھا۔۔

دعا نے اب اداسی سے کہا تھا۔۔۔دعا نے سوچا تھا وہ اج معراج کو ایک بہت اچھا surpirse بھی دے گی لا کر کچھ۔۔۔

اچھا چلو چلی جاو۔۔۔معراج نے دعا کا اداس چہرہ دیکھ کر کہا۔۔۔

لیکن سنو۔۔

پلیز اپنا خیال رکھنا۔۔۔

معراج نے اجازت دی تو دعا کہ چہرے پر ایک دم خوشی اگئ۔۔۔

Thankyou…

دعا نے مسکرا کر کہا۔۔

صرف thankyou سے کام نہیں چلنا میڈم ایک میٹھی سی پیاری سی !!!!

معراج نے شرارت سے کہتے کہتے اپنا گال آگے کیا تھا۔۔۔

دعا نے شرما کر اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیے تھے۔۔

چھوڑیں نا۔۔بابا انتیظار کر رہے ھونگے۔۔دعا نے کہا تھا۔۔۔

جی نہیں پہلے کسسسسسیییییی۔۔۔۔

معراج نے بچوں کی طرح ضد کی تھی۔۔۔۔

اففف معراج کیا ھے۔۔۔

دعا نے ھنس کر کہا تھا۔۔۔۔۔۔

دعا ہلکے ہلکے معراج کے گل کی طرف جھک رہی تھی۔۔

جب ہی معراج کو جہانگیر صاحب نے زور سے آواز دی تھی۔۔۔

ایک تو میرے ابا جان اج کے اج ہی مجھے سیاست دان بنا کر چھوڑیں گے ۔۔۔

معراج نے ھنس کر کہا تھا۔۔

تو دعا کو بھی ایک دم ھنسی آگئ۔۔۔۔

وہ پھر پیچھے ھوئ تھی۔۔

چلو جی لوگوں نے تو دینی نہیں۔۔۔۔

اب ہم چلتے ھیں۔۔۔۔

دعاوں میں یاد رکھنا ۔۔۔۔

معراج نے مظلومیت سے کہا۔۔۔۔۔

دعا ھنس رہئ تھی۔۔۔

چلیں اب۔۔۔

دعا نے کہا تھا تو معراج اور وہ کمرے سے باہر آگئے تھے۔۔۔

سڑیاں اترتے اترتے معراج کو ایک دم سے عجیب سا محسوس ھوا تھا۔۔۔

ایک انجانا سا خوف ھوا تھا۔۔۔

ایسا لگا تھا ۔۔۔کہ کچھ غلط ھوگا۔۔۔۔۔

معراج رک گیا تھا۔۔

کیا ھوا ؟؟

دعا نے معراج کو درمیان میں رکا دیکھا تو پوچھا۔۔

کچھ نہیں۔۔۔

معراج نے اپنا وہم سمجھ کر کہا اور مسکرا کر دعا کے ساتھ اترنے لگا۔۔۔

جاتے جاتے معراج نے دعا کو اپنا credit card تھاما دیا تھا۔۔۔

پتا نہیں دعا کو دیکھ کر اسکو انجانا سا خوف ستا رہا تھا۔۔۔

اسکو محسوس ھوا تھا جیسے اب وہ گھر آئے گا۔۔۔

تو یہاں موجود نہیں ھوگی۔۔

دعا نے اسکو باہر گاڑی تک چھوڑنے آئ تھئ۔۔

معراج گاڑی میں بیٹھ چکا تھا۔

لیکن ایک بار پھر اتر کر دعا کے پاس آیا تھا۔۔۔

معراج اب کچھ سنجیدہ سا تھا۔۔۔

کیا ھوا ؟دعا نے معراج کے چہرے پر پریشانی دیکھ کر کہا تھا۔۔

اپنا بہت خیال رکھنا۔۔۔

اور سنو۔۔۔۔

معراج نے عجیب سے مسکرا ہٹ سجا کر کہا تھا۔۔

جی ؟؟ دعا نے اسکی طرف دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔

واپس آوں گی نا ؟؟؟

معراج نے آج ویسا ہی سوال کیا تھا جیسا سوال وہ ہمیشہ کوسم سے کیا کرتا تھا۔۔۔۔

نہیں۔۔۔۔۔۔دعا نے مزاق میں شرارت سے کہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

دعا ؟؟؟

معراج نے حیرت سے کہا اس کا دل اب اور پریشان ھوا تھا۔۔۔۔

ہاں بابا آوں گی۔۔

دعا نے ھنس کر کہا تھا۔۔۔۔

وعدہ ؟؟

معراج نے اسکے اگے اپنا ہاتھ کر کے کہا تھا۔۔۔۔۔

ہاں !!! دعا نے بھی اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں رکھا تھا۔۔۔

دعا کو معراج کی آنکھوں میں عجیب سا خوف محسوس ھوا تھا۔۔۔۔۔

معراج گاڑی کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔۔

اور جاتے جاتے اس نے موڑ کر دعا کو دیکھا تھا۔۔۔۔

دعا نے اسکو اللہ حافظ کیا تھا۔۔۔

معراج گاڑی میں بیٹھ کر چلا گیا تھا۔۔۔

معراج کے جانے کے بعد دعا کو بھی کچھ عجیب سا محسوس ھوا تھا۔۔۔

پر اسنے اپنا وہم سمجھا تھا ۔۔۔۔

معراج کے بعد دعا نے اپنے کمرے میں اکر نماز پڑھی تھی اور اب جانے کے لیے تیار ھو رہی تھی۔۔۔

تھوڑی دیر بعد وہ تیار ھو کر نیچے آگی تھی۔۔۔۔۔

سجل اور رملا پہلے سے اسکا انتیظار کر رہی تھی۔۔۔اور دعا کے آتے ہی وہ لوگ نکل گئ تھی۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

ابھی وہ لوگ گاڑی میں ہی تھے کہ سجل کے موبئل پر ہما نے کال کی تھی۔۔۔۔

ہما کا نام سنتے ہی دعا کا موڈ آف ھوا تھا۔۔۔۔

ہاں ہم shopping پر جارہے ھیں۔۔۔

ہاں ٹھیک ھے ۔۔۔۔

تمھاری مرضی۔۔۔۔

ہم تینوں ھیں۔۔۔

سجل کی باتوں سے اندازہ ھو رہا تھا

شاید ہما بھی انکو جوائن کرے گی۔۔۔

دعا کو اب غصہ آیا تھا کہ وہ ان کے کیوں آئ۔۔۔۔

خیر تھوڑی دیر بعد وہ لوگ shopping mall پھنچ گئے تھے۔۔۔ابھی ان لوگ نے تھوڑی بہت ہی ساپنگ کی تھی کہ ہما بھئ آگئ تھئ ۔۔۔۔

ہما کو دیکھ کر دعا سے برداشت نا ھوا تھا اس لیے اس نے اکر رملا سے کہا تھا۔۔۔

رملا بھابی

میں کار میں اپ لوگوں کا انتیظار کر رہی ھوں۔۔۔۔

میں تھک گئ ھوں ۔۔۔۔اپ لوگ آرام سے shopping کر کے آجائے۔۔۔

دعا نے رملا سے کہا تھا۔۔۔

اور اپنی کار کی طرف جانے کے لیے چلی گئ تھی۔۔

تبھی ہما نے ایک کونے میں جاکر کال کی تھئ۔۔۔

ہیلو۔۔۔۔۔

ہاں۔۔۔۔

تم کہاں ھو ؟؟

ویسا ہی ھوا ھے۔۔۔۔جیسا سوچا تھا۔۔

بس زیب اگر اب کوئ غلطی ھوئ۔۔۔

تو سمجھنا کہ اب کے بار سب ختم۔۔۔۔

ھوش میں رہے کر کام کروں۔۔۔

یہاں میں سنبھال لوں گی۔۔۔

ہما نے زیب کو instruction دے کر فون بند کر دیا تھا۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

معراج مجھے بہت خوشی ھے اج کا جلسے میں تم نے بہت اچھا خطاب کیا ۔۔۔اج مجھے تمھارے اندر تمھاری ماں اور نانا کی شوات آئ۔۔۔۔۔

جہانگیر صاحب نے معراج کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر شابشی دی۔۔

معراج نے صرف مسکرا کر جہانگیر صاحب کو دیکھا تھا۔۔

وہ سندھ کے جس علاقے میں ائے تھے وہ کراچی سے کوئ 5 سے6 گھنٹے دور تھا۔۔۔

اور یہاں سگنل کا بھی خاصا مصلہ تھا۔۔۔

معراج کا دل ایک دو با بہت بری طرح گھبرایا تھا۔۔۔

اس نے سوچا وہ دعا سے بات کر لے لیکن کوئ نا کوئ کام اجانے کی وجہ سے وقت نا ملا۔۔۔

اب وہ بس راستے میں تھا اور بس اڑ کر دعا کے پاس جاکر اسکو گلے لگانا چھاتا تھا۔۔۔

اج اس نے دعا کو بہت یاد کیا تھا۔۔۔۔

اور اس کے دل میں عجیب سے وہم بھی آرہے تھے۔۔۔۔

ابھی وہ اللہ اللہ کر کے گھر پونچھا تھا۔۔

وہ خوشی خوشی گھر میں داخل ھوا تھا کہ دعا اسکا استقبال کرے گی۔۔۔۔

لیکن دعا شاید اندر تھی اس لیے نہیں ائ تھی۔۔

وہ لاوئنج میں داخل ھوا تو۔۔۔۔

تمام لوگ وہاں بیٹھے تھے۔۔۔۔

ہما بھی موجود تھی۔۔

رملا اور سجل کے چہرے کی ہوایئاں اڑی ھوئ تھی۔۔۔۔۔

معراج نے آتے ہی سب سے پہلے سوال کیا تھا۔۔۔۔

رملا بھابی دعا کہاں ھے ؟؟؟؟؟

رملا خاموش رہی تھی۔۔۔

دعا ؟؟؟؟

دعا ؟؟؟؟

معراج نے اب باقعدہ اسکو پکارا تھا۔۔۔

بھابی کہاں ھیں یہ محترمہ ؟؟؟

معراج نے پھر پوچھا تھا۔۔۔

معراج وہ دعا ۔۔۔

رملا بولتے بولتے رکی۔۔

کیا دعا ؟؟؟

معراج سمجھا تھا رملا کوئ مزاق کرے گی۔۔

معراج دعا گھر پر نہیں ھے ؟؟؟؟

رملا نے اٹک اٹک کر کہا۔۔۔۔

کیا مطلب کہاں ھے دعا ؟معراج نے فورن سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔

وہ دعا !!!!!!