Zid Junoon Ki Inteha By SA Khanzadi NovelR50423 Zid Junoon Ki Inteha Episode 37
No Download Link
Rate this Novel
Zid Junoon Ki Inteha Episode 37
Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi
وہاں سب خوش تھے سوائے سجل کے۔۔۔لو اب ایک اور فیملی میلو ڈرامہ شروع۔۔۔
سجل نے دل میں جل کر کہا۔۔۔۔
ابھی وہ لوگ باتیں ہی کر رہے تھے جب ہما کی کال سجل کے موبئل پر ائ تھی۔۔۔۔۔
سجل ناشتے کی میز سے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئ تھی۔۔۔۔۔۔
ویسے دعا تمھارا جادو اب نظر آرہا ھے۔۔۔۔
رملا نے ایک دبا کر دعا کو چھیڑا تھا۔۔۔
ہاں بھئ دعا یہ اج ایک دن میں معراج صاھب کی کایا کیسے پلٹ گئ ؟؟؟
دلاور نے بھی مسکرا کر پوچھا تھا۔۔۔۔۔
اب تم کچھ زیادہ ہی over react کر رہے ھو۔۔۔معراج نے بڑے مزے سے jucie پیتے ھوئے کہا تھا۔۔۔
ہاں بھائ بس کرو۔۔۔
کیوں میرے بیٹے اور بہو کو تنگ کر رہے ھو۔۔۔۔
اب کے بریرہ بیگم نے مسکرا کر کہا تھا۔۔۔
اج بریرہ بیگم کی زندگی کا انتھائ خوش ترین دن تھا ۔
معراج لو میں نے اج خود تمھارے لیے اپنے ہاتھ سے low oil کے پراٹھے بنائے ھیں ۔۔۔
بریرہ بیگم نے معراج کے اگے پلٹ رکھتے ھوئے کہا۔۔۔
جب اتنے پیار سے بنائے ھیں۔۔۔
تو اتنے پیار سے کھلا بھی دیں۔۔
معراج نے بھی مسکرا کر کہا تھا۔۔۔
بریرہ بیگم تو خوشی سے پھولے نا سما رہی تھی۔۔۔
معراج کو اس طرح دیکھ کر دعا بھی بے حد خوش تھی۔۔۔۔
لو جے دلاور صاحب ویسی یہ اس قدر لاڈلے تھے اور اب تو ہماری value اور بھی کم ھو جائے گی۔۔۔
بلاج نے بھی مسکرا کر کہا تھا۔۔۔
بس تم لوگ جلتے رہو۔۔۔
معراج نے بھی بھائیوں سے مزاق کیا تھا۔۔۔
وہ سگے بھائ نہیں تھے لیکن ان میں محبت بہت تھی۔۔۔
ویسے اج کافی خوشی کا دن ھے۔۔۔اج رات ہم تمام گھر والے ایک ساتھ باہر فیملی dinner کرینگے۔۔۔۔
اب کے جہانگیر صاحب نے کہا تھا۔۔۔
واہ زبردست بابا اپنے تو میرے منہ کی بات چھین لی۔۔۔
دلاور نے فورن کہا تھا۔۔۔
تو پھر ڈن رہا اج رات کا dinner ساری فیملی ساتھ کرے گی۔۔۔۔۔
جہانگیر صاحب کہہ کر اٹھ گئے تھے معراج وہی بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا دعا بھی اس کے ساتھ ہی بیٹھی تھی۔۔۔
ویسے محترمہ۔۔۔۔ااا
معراج نے دعا کے کان میں سرگوشی کی تھی۔۔۔
بات تو ان لوگ کی ٹھیک ھے۔۔۔اپ کا جادو ہے بڑا خطرناک۔۔۔
معراج نے شرارت سے دعا کے کان میں کہا تھا۔۔
دعا نے شرما کر گردن جھکا لی تھی۔۔۔
اہہہممم اہہہہہہمممم
زارہ دوری اختیار کیجیے۔۔۔
اب اپ لوگ کی شادی کو 4 ماہ ھونے والے ھیں۔۔۔۔
رملا نے پھر معراج کو چھیڑا تھا۔۔۔
تمھیں پتا ھے دعا اللہ نے ہم تینوں کو ایک بہن اور تمھیں نند کیوں نہیں دی ؟؟
معراج نے ایک دم کہا تھا۔۔۔
کیوں ؟؟
دعا نے فورن پوچھا تھا۔۔۔
کیونکہ یہ میڈم ہماری بھابی جو بنی تھی۔۔۔۔۔۔یہ بھی کسی جلی کٹی نند سے کم نہیں ھیں ۔
معراج نے رملا کا مزاق اڑیا تھا۔۔۔
معراج کے بچے۔۔۔رملا نے ھنس کر کہا تھا۔۔۔
معراج بھی ھنسے لگا۔۔۔
دعا کو اج اس گھر کا محول بے حد اچھا لگ رہا تھا۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
یہ پیچھے شور کیوں ھو رہا ھے ؟؟؟
ہما نے بات کرتے کرتے پوچھا تھا۔۔۔
بس ان لوگ کے ڈرامے جو ختم نہیں ھوتے۔۔۔۔
ایک تو سمجھ نہیں اتا اس دعا کا میں کیا کروں جب سے اس گھر میں ائ ھے۔۔۔
سب کو اپس میں ملا رہی ھے۔۔۔سجل نے جل کر کہا تھا۔۔۔
کیا مطلب ؟؟
ہما نے نا سمجھتے ھوئے کہا۔۔۔
یار تمھیں تو پتا تھا معراج اپنی ماں کو منہ نہیں لگاتا تھا۔۔۔
اج پتا نہیں اسے کیا ھوا ھے ان سے ھنس کھیل رہا ھے۔۔۔سمجھ سے باہر ھے میرے یہ بات۔۔۔۔کہ یہ لڑکی واقعی ہر چیز کیسے ٹھیک کر دیتی ھے۔۔۔۔۔
سجل دعا سے بری طرح چیڑی ھوئ تھی۔۔۔۔
ہممممم فکر نا کریں آپی بس کچھ دن کی بات ھے۔۔۔۔
اس دعا کا نام و نشان اس گھر سے نا مٹا دیا تو میرا نام بھی ہما نہیں۔۔۔
ہما نے کہا تھا۔۔۔
پر تم کرنے کیا والی ھو ؟؟
سجل نے حیرانی سے پوچھا تھا۔۔۔
بس ایک دھماکہ کرنے والی ھوں آپی۔۔۔۔
خیر اپ یہ سب چھوڑیں میں تھوڑی دیر تک اپکی طرف چکر لگاوں گی۔۔۔
ہما نے کہہ کر فون بند کر دیا تھا۔۔
اللہ جانے یہ لڑکی اب کیا کرے گی۔۔۔
بس جو بھی کرے اس منحوس دعا کو دفاع کر دے ادھر سے۔۔۔۔۔۔
سجل اپنے اپ سے بڑبڑا رہی تھی۔۔جب دلاور نے اسے آواز دی تھی۔۔
سجل
سجل !!!
ہاں آرہی ھوں۔۔۔
سجل کہہ کر انی لوگوں کی طرف ائ تھی۔۔۔
آجاوں ہم یہاں کچھ پلان کر رہے ھیں ۔۔۔۔
دلاور نے خوشی سے کہا تھا۔۔۔۔
مجھے کوئ دلچسپی نہیں۔۔۔
سجل کہہ کر چلی گئ تھی۔۔۔
دعا اور معراج دونوں نے اس کے رویے کو محسوس کیا تھا۔۔۔۔
لیکن معراج کو تو سجل شروع سے ہی نا پسند تھی اس لیے اسکو زارہ بھی پرواہ نا ھوئ۔۔۔۔۔
وہ لوگ کافی دیر بیٹھے میز پر ھنسی مزاق کرتے رہے۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
نمرہ تمھیں اب تک میرے اوپر یقین نہیں ھوا ؟؟
زیب نے فون پر کہا تھا۔۔
نہیں بات یقین کی نہیں صیح اور غلط طریقے کی ھے۔۔۔۔
میں ایسا کوئ قدم نہیں اٹھانا چھاتی جس سے میرے گھر والوں کو دکھ ھو۔۔۔
نمرہ نے صاف صاف کہا تھا۔۔۔
یعنی تم مجھ سے پیار نہیں کرتی ؟؟ زیب نے emotional blackmailing شروع کی تھی۔۔۔
اپ میری پسند ھیں۔۔
پیار نہیں۔۔۔
نمرہ اپنی بات کی مظبوط تھی۔۔۔
پر نمرہ میں تم سے بے حد پیار کرتا ھوں پلیز مجھ سے ایک بار مل لو نا ۔۔۔۔
میں پھر کبھی نہیں کہو گا۔۔۔۔
زیب نمرہ کو مناتے مناتے اب زیچ ھوچکا تھا ۔۔
اپ ایک بار میرے کہنے سے زہر پی لیں ۔۔۔میں پھر کبھی پینے کو نہیں کہو گی۔۔۔
نمرہ نے بڑا اچھا جواب دیا تھا۔۔۔دو پل کے لیے زیب کی زبان پر بھی تالا لگ گیا تھا۔۔۔
اچھا تم بول
تم کیا چھاتی ھو ؟؟
زیب نے اپنے ہتیار ڈالتے ھوے پوچھا تھا۔۔۔نمرہ کو وہ ہاتھ سے کسی صورت جانے نہیں دینا چھاتا تھا۔۔۔
میں چھاتی ھوں تم میرے گھر رشتہ لاو۔۔۔
تم معراج بھائ سے بات !!!!
نمرہ کی بات ادھوری تھی کہ زیب گھبرا کر بول پڑا۔۔۔
تم پاگل ھو ؟؟؟؟
معراج کو کچھ نہیں پتا چلنا چاھیے ۔۔۔۔
پلیز۔۔۔۔۔
کیوں ؟؟؟ نمرہ نے حیرت سے پوچھا۔۔۔
بس نہیں۔۔۔
تم ایک کام کرو۔۔۔
اپنی بہن دعا کے ساتھ مجھ سے ملنے آجاوں ایک بار دعا مجھے دیکھ لے اسکو ہمارے بارے میں سب پتا ھوگا۔۔۔تو ہمارا رشتہ آسانی سے ھوگا۔۔۔۔
اب ٹھیک ھے ؟؟؟؟
زیب کے زہن میں ایک نیا پلان آیا تھا۔۔۔۔۔
ہاں یہ ٹھیک ھے۔۔۔
دعا آپی جب رہنے آئیں گی۔۔۔تو میں انکو سب بتاوں گی۔۔۔پھر جو وہ بولیں گی۔۔۔۔
ہممم !!!! زیب کو اب جا کر کچھ سکون ھوا تھا۔۔۔۔
پر سنو دعا کو اگر یہ پہلے پتا لگ گیا کہ میں کون ھوں تو وہ منع کر دے گی۔۔۔تم اسکو بھی میرا نام وغیرہ کچھ نا بتانا وہ سب میں سنبھال لوں گا۔۔۔۔
تم اور دعا بس مجھ سے ملنے آجانا ٹھیک ھے ؟؟؟؟
ہاں ٹھیک ھے۔۔۔
اکیلے ملنے جانے سے اچھا نمرہ کو یہ لگا تھا کہ وہ دعا کو سب سچ بتا دے۔۔کیوں کے نمرہ کی نیت صاف تھی۔۔وہ زیب کے گندے ارادوں سے بلکل بے خبر تھی وہ انتھائ معصوم تھی۔۔۔
جس کو زیب نے اپنے عشق جھوٹے عشق میں پھسا لیا تھا۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اج جہانگیر منیشن میں ھنسی کی آواز گونجھ رہی تھی۔۔۔
دعا رملا روحان علیان معراج دلاور بلاج اور گھر کے ملازم مل کر کرکٹ کھیل رہے تھے۔۔۔۔
دعا اور معراج مخالف ٹیم میں تھے۔۔۔
سجل دور جھولے پر بیٹھی یہ سب دیکھ کر جل رہی تھی۔۔۔۔
جہانگیر صاحب اور بریرہ بیگم بھی دور کرسیوں پر بیٹھے بچوں کو کھیلتا دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
دعا اور رملا بیٹینگ کر رہی تھی۔۔۔
اور معراج بال کر رہا تھا۔۔۔
اب دعا bating پر اکر کھڑی ھوئ تھی۔۔۔
اج وہ ھنسی مسکراتی چھکتی بہت اچھی لگ رہی تھی۔۔۔
اففف اپ سے تو ہم پہلے ہی ہارے ھوئے ھیں۔۔۔
معراج نے شرارت سے دعا کے پاس سے گزرتے ھوئے کہا۔۔۔
دعا نے اپنے لبوں کو دانتوں میں ڈبا کر اپنی مسکراہٹ روکی تھی۔۔۔۔
دعا کو معراج جان جان کر ہلکی بال کر رہا تھا۔۔۔
بلیو پینٹ اور کلی شرٹ میں وہ ہیرہ لگ رہا تھا۔۔۔
اور دعا بھی لائٹ پینک کلر کی فورک میں پری لگ رہی تھی۔۔۔
معراج نے دعا کو بال کرائ تھی تو دعا نے زور سے بلا گھوما کر بال دور پھینکی تھی۔۔۔۔
اور خود ہی خوشی سے چیخیں مار رہی تھی۔۔۔
معراج کو اس وقت اس پر بے حد پیار آیا تھا۔۔۔
معراج نے اپنا پورا over اسکو جان کر ہلکی بال کرائ تھی۔۔اور دعا بڑے بڑے شوٹ مار مار کر خوش ھورہی تھی۔۔
یہ دیکھو زارہ اپنی بیگم کو کتنی ہلکی بال کر رہا ھے۔۔۔
رملا نے معراج کو پیار سے تھپڑ لگا کر کہا تو معراج ھنسے لگا۔۔۔
معراج کا over اب ختم ھوچکا تھا۔۔۔۔اور اب دلاور نے بال کرنا شروع کی تھی۔۔معراج feilding پر آگیا تھا۔۔۔
رملا نے ایک اونچا شوٹ مارا تھا۔۔۔جبی معراج catch لینے کے لیے پیچھے ھورہا تھا۔۔۔۔
تو اسکی ٹکر بری طرح ہما سے ھوئ تھی۔۔۔اور وہ سیدھا معراج کے بازوں میں اکر گیری تھی۔۔۔۔معراج نے بھی ایک دم کچھ نا سمجھتے ھوئے اسکو سنبھالا تھا۔۔۔۔
اور فورن سیدھا ھوا۔۔۔
دور کھڑی دعا کو نجانے کیوں اس پل بلکل اچھا نا لگا تھا۔۔۔اسکا موڈ ایک دم ہی آف ھوا تھا۔۔۔۔۔
تم آندھی ھو ؟؟؟
نظر نہیں آتا ؟؟؟
معراج نے غصے سے کہا تھا۔۔۔
ہما اسکو ویسی زہر لگتی تھی۔۔۔۔
ہما جان کر اسکو مسکرا کر دیکھ رہئ تھی تا کے دور کھڑی دعا اسکا غلط مطلب لے۔۔۔
ہاں اندھی تو ھوں تمھاری محبت میں۔۔۔۔
ہما نے ھنس کر کہا تھا۔۔۔
تمھارا دماغ خراب ھے۔۔۔معراج نے کہا تھا اور اگے بڑھا تھا۔۔۔۔
تبھی سجل ہما کے پاس ائ تھی۔۔۔ارے ہما اچھا کیا تم بھی اگئ۔۔۔
ہممم۔۔۔
ہما نے سر ہلا کر کہا۔۔
میرا انا تو ضروری تھا نا۔۔۔۔۔
ویسے کیا ھو رہا ھے۔۔۔۔ہما نے دلاور سے پوچھا تھا کچھ نہیں بس کرکٹ کھیل رہے ھیں۔۔۔۔
دلاور نے مسکرا کر جواب دیا تھا ۔۔
میں بھی کھیلوں ؟؟ ہما نے خود ہی کہا تھا۔۔۔۔
ہاں کیوں نہیں۔۔۔۔۔
تم ایک کام کرو ہماری ٹیم میں آجاوں۔۔۔ویسے ہماری ٹیم میں صرف معراج اور میں ھیں۔۔دلاور نے کہا۔۔۔
ہاں ٹھیک ۔۔۔۔ہما نے فورن مان لیا۔۔
اب معراج اور ہما ایک ساتھ bating پر ائے تھے۔۔۔۔
بلاج بال کرا رہا تھا۔۔۔
اور دعا feilding کر رہی تھی۔۔
دعا کا اترا چہرہ دیکھ کر معراج سمجھ چکا تھا کہ میڈم کو ہما کا کھیل اور میری ساتھی بنا اچھا نہیں لگا۔۔۔
معراج کو شرارت سوجی تھی اور وہ جان جان کر ھنس ھنس کر کھیل رہا تھا
اور ہما کو بھاگ بھاگ کر رن لینے کو کہہ رہا تھا۔۔۔
تھوڑی دیر تو دعا نے برداشت کیا تھا پھر مغرب کی آزان کے وقت وہ نماز کا کہہ کر اپنے کمرے میں آگئ تھی۔۔۔۔
معراج نے جب ادھر ادھر دیکھا تو دعا اسکو دیکھائ نا دی۔۔۔
وہ اسکے پیچھے جانے لگا جب ہی ہما نے اسکو روکا تھا۔۔۔
معراج !!!؟؟؟
بکو ؟؟
معراج نے چھوٹ کہا تھا۔۔۔
تمھیں نظر نہیں آتی میری محبت ؟؟؟؟
ہما نے ہلکے سے کہا تھا۔۔۔
اب اگر کوئ بقواس کی تو سب کے سامنے مجھ سے تھپڑ کہا لو گی۔۔۔
معراج نے فورن کہا تھا۔۔۔
معراج اتنا غرور نا کرو۔۔۔
بہت مھنگا پڑے گا۔۔۔
ہما نے جلتی آنکھوں سے کہا تھا۔۔۔
تم جیسی برساتی مینڈیکا میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی معراج کہہ کر فورن اگے بڑھ گیا تھا۔۔۔
ہاہاہا تمھارا سارہ غرور تار تار ھونے والا ھے جناب۔۔۔۔
ہما نے جاتے معراج کو دیکھتے ھوئے کہا۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
دعا جب کمرے میں ائ تھی تو اسکو معراج پر بلاوجے ہی غصہ آرہا تھا۔۔۔
دعا اور معراج ایک دوسرے کے لیے بے حد حساس تھے۔۔۔
مجھے سمجھ نہیں آتا ۔۔لڑکیوں کو دیکھ کر منہ پر اتنی چمک کیوں آجاتی ھے انکے۔۔۔۔۔
دعا نے جل کر کہا تھا۔۔۔۔
جو بھی کریں ۔۔۔۔
مجھے کیا۔۔۔۔
ابھی اسکو بازوں سے پکڑا تھا گود میں بھی اٹھا لیں۔۔۔
مجھے کیا۔۔۔۔
دعا خود سے زور زور سے بڑبڑاتی ۔۔۔الماری سے کپڑے نکال رہی تھی۔۔۔
اہم اہم۔۔۔
کیا واقعی اٹھا لوں گود میں ؟؟؟؟
معراج نے الماری کے ساتھ کھڑے ھوکر کہا تھا۔۔
دعا نے ایک ائ برو اٹھا کر معراج کو غصے سے دیکھا تھا۔۔
اور الماری زور سے بند کر کہ بنا کوئ جواب دیے اگے بڑھی تھی۔۔
جب ہی معراج نے اسکے اگے کھڑے ھوکر اسکا راستہ روکا تھا۔۔۔۔
چھوڑیں میرا راستہ۔۔۔
دعا نے غصے سے کہا تھا۔۔۔
پہلے میری بات کا جواب دو۔۔۔
معراج کو دعا کی یہ جلن حد سے زیادہ اچھی لگی تھی۔۔۔۔
مجھے کسی بات کا جواب نہیں دینا۔۔۔
ابھی دعا بول کر فارغ ھوئ تھی کہ رملا نے کمرے کا دروازہ نوک کیا تھا۔۔۔
ارے بھابئ ائے ائے۔۔۔
دعا نے فورن رملا کو اندر انے کو کہا تھا۔۔
معراج تم برا نا مانو تو میں اور دعا ایک ساتھ تیار ھو جائیں۔۔۔مجھے کچھ کام بھی ھے دعا سے۔۔۔۔
رملا نے معراج سے کہا تھا ارے بھابی کوئ بات نہیں اپ آرام سے تیار ھو دونون ۔۔۔میں ویسی تیار ھوں۔۔۔
معراج دعا پر ایک نظر ڈال کر کمرے سے باہر نکلتے نکلتے موڑا تھا۔۔۔
حسین اور پیاری پیاری لیڈز پلیز زیادہ وقت نہیں لگایئے گا ویسی بہت سخت بھوک لگی ھے۔
معراج نے ھنس کر کہا تھا اور چلا گیا تھا۔۔۔
رملا نے فورن ہی کمرہ لوک کر دیا تھا۔۔شکر چلا گیا۔۔۔
معراج کے جانے کے بعد رملا نے شکر ادا کیا تو دعا ھیران ھوئ۔۔۔
کیا ھوا بھابی ؟؟
دعا پوچھے بنا نا رہے سکی۔۔۔
وہ دعا مجھے تم سے کچھ بات کرنی تھی۔۔۔
وہ دراصل میں نے سوچا ساتھ تیار بھی ھوجائیں گے اور ڈسکس بھی کر لیں گے ۔۔رملا نے بیڈ پر بیٹھتے ھوئے کہا۔۔۔
جی بھابی خیرت کیا ھوا ؟؟
دعا کچھ پریشان سی ھوئ۔۔۔
وہ دعا معراج کی سالگرہ ارہی ھے پرسوں۔۔تو میں سوچ رہی تھی اس بار اسکو سرپرائز دیتے ھیں۔۔۔
رملا نے بتایا۔۔۔
ہاں کیوں نہیں بھابی یہ تو بہت اچھی بات ھے۔۔۔۔پھر کیا پلان کیا اپ لوگ نے ؟؟؟
دعا ساری ناراضگی بھول گئ تھی۔۔۔اور خوشی سے پوچھ رہی تھی ۔۔۔
میڈم اس بار پلان اپ کریں گی۔۔۔۔
اس بار اس کی birthday اپکی ہی وجہ سے special ھوگی نا۔۔۔۔
رملا نے ایک انکھ دبا کر کہا۔۔۔تو دعا نے شرما کر سر نیچے کر لیا تھا ۔۔
معراج بہت کم ہی اپنی birthday مناتا ھے۔۔۔گھر کے حلات سے تو تم واقف ہی تھیں۔۔۔کوسم ماما کی وجہ سے وہ birthday نہیں بناتا تھا۔۔۔لیکن اس سال سب کچھ بدل چکا ھے۔۔۔
معراج کی زندگی میں پیاری سی دعا نے اکر سب ٹھیک کر دیا ھے نا۔۔۔۔۔
رملا نے دعا کی تھوڑی کو پیار سے تھام کر کہا۔۔۔۔۔
دعا مسکرا دی تھی۔۔۔۔۔
ہممم۔۔۔بس میں چھاتی ھوں بھابی معراج ہمیشہ خوش رہیں۔۔۔اب کبھی وہ اداس نا ھوا۔۔۔۔
دعا نے بہت دل سے کہا تھا۔۔۔
اور اج پہلی بار رملا نے دعا کی انکھوں میں معراج کے لیے وہی جنون اور محبت دیکھی تھی جو معراج کی انکھوں میں تھئ۔۔۔
دعا تم سے ایک پرسنل بات پوچھ سکتی ھوں ؟؟
رملا نے سنجیدگی سے پوچھا۔ ۔
جی بھابی بولیں۔۔۔
دعا نے فورن پوچھا۔۔۔
تم پہلے معراج سے محبت نہیں کرتی تھی نا ؟؟؟
رملا کے اس سوال پر دعا ایک دم چونکی تھی۔۔۔اور خاموش رہی۔۔۔
اور اب تم اس پر جان دیتی ھو ہاں نا ؟؟
رملا نے پیار سے دعا کا ہاتھ تھام کر کہا ۔۔۔
تو دعا مسکرا دی۔۔۔
بھابی پہلے کا نہیں پتا۔۔۔۔
لیکن اب میں معراج کے بغیر ایک دن نہیں رہے سکتی۔۔۔۔
دعا نے قبول کر لیا تھا ۔۔
تو معراج کو بتایا ؟؟ رملا نے فورن پوچھا تھا۔۔۔
نہیں بھابی سالگرہ والے دن۔۔۔۔بتاوں گی۔۔۔
دعا نے شرما شرما کر کہا۔۔۔
اللہ تم دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے۔۔۔دعا۔۔۔۔
رملا واقعی دعا کی خیر خواہ تھئ۔۔۔۔۔۔
آمین ۔۔۔
دعا نے بھئ کہا تھا ۔۔
چلو جلدی تیار ھو جاو نہیں تو تمھارا شوہر کان کھاجائے گا۔۔۔
رملا نے ھنس کر کہا تو دعا بھی کپڑے لے کر باتھ روم میں گھس گئ۔۔۔۔جبکہ رملا تیار ھونے لگی۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
معراج اکر باہر لاوئنج میں بیٹھ گیا تھا جب ہی ہما یہاں اس کے پاس ائ تھی۔۔۔۔
تم اب تک دفاع نہیں ھوئ یہاں سے ؟؟
معراج نے سیدھا کہا تھا۔۔
معراج آخیر تم مجھ سے اتنی نفرت کیوں کرتے ھو ؟؟
ہما اس نے اسکے پاس بیٹھتے ھوئے کہا۔۔۔۔
نفرت اور محبت اپنوں سے کی جاتی ھے۔۔۔ہما۔۔۔
میرا تم سے کوئ تعلق نہیں ھے۔۔۔تم میرے ماضی کا ایک انتھائ شرمناک حصہ ھو۔۔۔اور کچھ نہیں۔۔۔معراج نے مظبوط لہجے میں کہا تھا
پر معراج۔۔۔۔!!! ہما کچھ بولنے لگی تب معراج نے اسکو روکا تھا۔۔۔
بسسس ہما !!!!
مجھے جو کہنا تھا کہہ دیا میں نے۔۔۔۔
اور ایک بات اور اب ھر وقت یہاں منہ اٹھا کر نا آجایا کرو۔۔۔وہ کیا ھے نا میری بیوی کو میرا کسی لڑکی سے بات کر برداشت نہیں۔۔۔
معراج نے ہما کو مزید جلایا تھا۔۔۔
ہاہاہاہا تمھاری بیوی۔۔۔۔
وہ اب تک تمھاری بیوی بنی بھی ھے معراج ؟؟؟
ہما نے مزاق آڑنے والے انداز میں کہا۔۔
وہ کیا ھے نا ہما ۔۔۔
تمھاری طرح تمھاری سوچ بھئ بے حد چھوٹی اور گندی سی ھے۔۔۔میاں بیوی کا تعلق صرف ایک چیز پر نہیں ٹیکا ھوتا۔۔۔۔
میاں بیوی کا تعلق ۔۔عزت ،محبت ،یقین ، مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا۔۔۔
ایک دوسرے کا سہارہ بنے کو ہمسفر کہا جاتا ھے۔۔۔دل ملتے ھیں میاں بیوی کہ۔۔۔
اور جو بات تم کر رہی ھو ۔۔
وہ رشتہ تو تم نے خود مجھ سے بھی قائم کرنے کی کوشش کی تھی کیا تم میری بیوی بن گئ ؟؟؟
معراج نے ہما کو منہ توڑ جواب دیا تھا۔۔۔
ہما اپنی نسوانیت کو ھتیار بنا کر مرد کا دل نہیں جیتا جاتا۔۔۔۔۔
مرد ہمیشہ ایک ایسی عورت کو پسند کرتا ھے ۔۔۔جو پاک صاف ھو۔۔۔۔جو اسکے بچوں کو اچھی تربیت دے سکے۔۔۔۔
میں نے اج تک ماضی میں تمھارے ساتھ جو کچھ بھی کیا میں اس کے لیے شرمندہ ھوں۔۔۔میں اندھیروں میں بھٹک رہا تھا۔۔
پتا نہیں اللہ کو میری کونسی نیکی اچھی لگی جو اس نے میری زندگی میں دعا کی صورت میں اجلا بھیجا۔۔۔۔۔
تم بھئ ان اندھیروں سے نکل او۔۔۔ضد انا میں کچھ نہیں رکھا۔
معراج نے اب بہت ریسان سے ہما کو سمجایا تھا۔۔۔
پر ہما تو ہما تھی۔۔۔۔۔
میں دعا سے زیادہ اچھی ثابت ھونگی معراج۔
ہما نے معراج کا ہاتھ ایک دم تھام کر کہا۔۔
تبھی رملا اور دعا سیڑیاں اتر کر نیچے آئ تھی۔۔۔۔۔
ہما نے جان کر دعا کو دیکھ کر معراج کا ہاتھ تھاما تھا۔۔۔۔
پلیز معراج ؟؟؟
معراج بھی ایک دم حیران ھوا تھا۔۔۔۔
کیا ھو رہا ھے ادھر ؟؟
رملا نے ھنس کر کہا تھا۔۔جب کہ دعا کو معراج پر اور مزید غصہ آیا تھا۔۔۔۔
کچھ نہیں بس ہما نے ھنس کر کہا تھا۔۔
معراج نے فورن اپنا ہاتھ چھوڑوایا تھا۔۔۔
اور پلٹ کر دعا کو دیکھا تھا۔۔۔۔۔
لال فورک گولڈن حجاب پھنے وہ ہلکا سا میک اپ کیے کھڑی تھی۔۔۔۔
چھوٹی سی ناک غصے کی وجہ سے پھولی ھوئ تھی۔۔۔
معراج نے ایک دم دعا کو اپنی نظروں میں بھرا تھا اور اسکی طرف گیا تھا۔۔۔۔
افففففف خداااااااا
اج تو زلم حسن والے لوگ گھائل کرنے کے ارادے سے تیار ھوئے ھیں۔
معراج نے جاکر دعا کے کان میں کہا تھا۔۔۔
اپ کو گھائل کرنے والے اور لوگ بہت مجود ھیں ۔۔۔
دعا خفنگی سے بولتی اگے بڑھ گئ تھی۔۔۔۔
معراج کو اس پل دعا پر بے حد پیا آیا۔۔۔۔۔
ارے بابا !!!
اتنی نارضگی کیوں۔۔۔معراج نے دعا کے پیچھے چلتے چلتے کہا۔۔۔
کوئ غصہ نہیں مجھے۔۔۔
دعا نے بنا منہ موڑے کہا۔۔۔
ہاہاہا۔۔۔۔اچھا سچی۔۔۔
معراج نے اسکو ہاتھ سے پکڑ کر اپنے پاس کھینچا تھا۔۔۔
دعا فورن ہی اپنا اپ چھوڑوا کر گاڑی میں اکر بیٹھ گئ تھی۔۔۔
اھووو میری جان مجھ سے اتنی محبت کرتی ھے۔۔۔ارے پگلی تمھارے علاوہ میری زندگی میں کسی کی جگہ نہیں شونی۔۔۔ !!!!
معراج نے اپنے دل میں کہا ۔۔۔
اور اکر گاڑی میں بیٹھ گیا تھا۔۔۔
معراج اور دعا کے ساتھ بلاج اور رملا بیٹھے تھے۔۔
جب کے سجل دلاور ہما ایک گاڑی میں تھے۔۔
اور جہانگیر صاحب بریرہ بیگم اور روحان ایک گاڑی میں۔ ۔۔
دعا پیچھے رملا کے ساتھ بیٹھی تھئ جب معراج بار بار back mirror سے دعا کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
دعا اسکی زندگی بن چکی تھی۔۔
دعا کی ناراضگی معراج سے برداشت نا ھوتی تھئ۔۔۔
وہ لوگ ھنسی مزاق کرتے کرتے port grand پھنچ گئے تھے۔۔۔۔
دعا نے معراج سے کوئ بات نا کی تھی۔۔معراج جان جان کر دعا کو بات بات پر چھیڑ رہا تھا۔۔
پر دعا کسی بات کا جواب نہیں دے رہی تھی۔۔
سب نے ساتھ ہی کھانا کھایا تھا۔۔۔۔تمام لوگ ہی خوش تھے۔۔پر سجل اور ہما انکی خوشی!!!
