Zid Junoon Ki Inteha By SA Khanzadi NovelR50423 Zid Junoon Ki Inteha Episode 28
No Download Link
Rate this Novel
Zid Junoon Ki Inteha Episode 28
Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi
معراج نے گول گپا اٹھا کر اسکو چاروں طرف سے دیکھا ۔۔۔
اپکو اسکا xray نہیں کرنا کھانا ھے۔۔۔
پہلے اسکو پانی میں دالیں اور پھر کھائیں ۔
دعا نے معراج کو خود ایک گول گپا کھا کر طریقہ بتایا۔۔۔۔
معراج نے ایک پانی پوری اٹھا کر املی کے پانی میں ڈالی تو وہ ٹوٹ گئ۔۔۔
افففففو
دعا نے ایک پانی پورئ اٹھائ اور معراج کے منہ میں ڈال دی۔۔۔۔
اور معراج کے reaction کا انتیظار کرنے لگی۔۔۔۔
معراج نے پہلے تو کوئ reaction نا دیا لیکن تھوڑی ہی دیر بعد کھاتے کھاتے معراج کو بے حد مرچیں لگی تھی اور اسکا منہ پورا لال ھوگیا تھا۔۔۔۔
اہہہہہہہہہہ !!!!!
اففف اتنی مرچیں!!!!!
لیکن گول گپا اسکو کافی مزے دار لگا تھا۔۔۔۔
مرچیں بہت ھیں۔۔۔۔پر بہت مزے دار ھے۔۔۔۔۔
ہاں نا ؟؟؟
دعا نے خوشی سے پوچھا تھا۔۔۔
اب معراج بھی ایک کے بعد ایک گول گپا منہ میں ڈال رہا تھا۔۔۔۔
دعا اور معراج دونوں ہی کی انکھوں سے مرچیوں کی وجہ سے آنسو نکل رہے تھے۔۔۔پر
دونوں ہی ایک دوسرے کو دیکھ کر ھنس رہے تھے۔۔۔۔
۔اور ساتھ ساتھ گول گپے کھا رہے تھے ۔۔
ان دونون نے پیٹ بھر کر گول گپے کھائے تھے اور اب پھر اگے کی طرف بڑھ گئے تھے۔۔۔
ویسے واقعی مرچیں بہت تھیں لیکن تھے بہت مزے کہ میں نے کبھی یہ نہیں کھائے تھے۔۔۔۔
معراج نے رومال سے اپنا منہ پونچھ کر کہا تھا۔۔۔
ہاں جو مزہ دیسی کھانوں میں ھے وہ بڑے ھوٹلوں کے پھیکے کھانوں میں کہاں۔۔۔۔
دعا کو اپنی کالج لائف یاد اگئ تھی جب وہ اس طرح کالج میں گول گپے کھاتی تھی۔۔۔۔
ویسے دعا تم نے اپنا بچپن بہت اچھا گزارا ھے نا۔۔۔۔
بہت ھنستا کھیلتا ؟؟؟
معراج کے سوال میں دکھ اور حسرت چھپی تھی جو دعا نے محسوس کی تھی۔۔۔۔
ہاں۔۔۔لیکن ضروری نہیں کے بچپن ہی مزے دار ھو انسان کسی بھی عمر میں بچپن کو جی سکتا ھے۔۔۔۔
دعا نے بڑا اچھا جواب دیا تھا۔۔۔
واہ!!!!
اچھا وہ کیسے۔۔۔۔۔؟؟؟
معراج نے دعا کے ساتھ ساتھ ھوٹل کے بڑے سے باغ میں داخل ھوتے ھوئے کہا۔۔۔
ھوٹل کے پورے باغ میں برف ہی برف تھی۔۔۔۔
اممممم بہت سارے طریقے ھییں۔۔۔۔
دعا نے پاس ہی پڑی برف معراج کو اٹھا کر گولا بنا کر ماری تھی۔۔۔۔
اوووووو !!!!
معراج ایک دم کے حملے کے لیے تیار نا تھا۔۔۔۔۔
دعا زور سے ھنسی تھی۔۔۔
۔وہ اج یہان خوب انجوائے کر رہی تھی۔۔۔۔
کل انکو واپس اسلاماآباد سے کراچی جانا تھا۔۔۔۔
دعا نے ایک اور گولا اٹھا کر معراج کو مارا تھا۔۔۔۔
اب کے معراج بج گیا تھا۔۔۔۔۔
اور اب معراج نے برف اٹھا کر دعا کو ماری تھی۔۔۔۔
ہاہاہاہا۔۔۔
۔دعا اور معراج نے باقاعدہ ھوٹل کے لان میں سنو فائٹ شروع کردی تھی۔۔۔۔
دعا اور معراج ھنس ھنس کر ایک دوسرے کو برف مار رہے تھے۔۔۔
تب ہی بلاج اور رملا بھی ھوٹل سے باہر ائے تھے۔۔۔۔
اور دعا معراج کو دیکھ کر بے حد حیران ھوئے تھے۔۔۔
وہ دونوں بے حد خوش نظر آرہے تھے۔۔۔۔
معراج دعا کے پیچھے بھاگ بھاگ کر اس پر سنو ڈال رہا تھا اور دعا بھاگ بھاگ کر کبھی خود بچاتی اور کبھی معراج کو برف مارتی۔۔۔۔
دونوں ایک دوسرے میں اس قدر گم تھے کہ انکو بلاج اور رملا کی موجودگی کا بھی علم نا ھوا تھا۔۔۔۔۔
جب دونوں کھیل گود کر فارغ ھوئے تھے تب رملا اور بلاج پر انکی نظر پڑی تھی۔۔۔
ارے اپ لوگ کب ائے دعا نے پاس آکر پوچھا۔۔۔
بس جب تم دونوں اپس میں گم تھے۔۔۔
رملا نے انکھ مار کر کہا۔۔۔۔۔
دعا کھڑی بات ہی کر رہی تھی جب روحان نے سنو فائٹ اسٹاٹ کی تھی اور دعا کو گولا مار کر کہا تھا۔۔۔
صرف چاچو کے ساتھ ہی کھیلنا نے ھے کیا۔۔۔۔
دعا روحان کے پیچھے بھاگی تھئ ۔۔۔
پھر رملا بلاج دعا معراج روحان اور علیان سب کے سب سنو فائٹ کھیلنے لگے تھے۔۔۔۔۔
معراج نے جو انجوائے بچپن میں نا کیا تھا وہ اب کر رہا تھا۔۔۔
دعا بھی کھل کھل کر ھنس رہی تھی۔۔۔۔۔
معراج نے ھنستی کھیلتی دعا پر ایک نظر ڈالی اور پھر دل میں سوچا۔۔۔۔میری روشن صبح اتنی حسین ھوگی میں نے سوچا نا تھا۔۔
☆☆☆☆☆☆☆
بریرہ بیگم بچے کب واپس آرہے ھیں ؟؟؟؟
جہانگیر صاحب نے کھانا کھاتے ھوئے پوچھا۔۔
کل اجائیں گے۔۔۔۔
ہممم اچھا۔۔۔
ویسے معراج کی سالگرہ انے والی ھے میں سوچ رہی تھی کیوں نا ہم اسکے کے لیے سرپرائز پارٹی پلین کریں۔۔۔
بریرہ بیگم نے کھانا کھاتے ھوئے کہا۔۔۔
ہان دیکھ لو مرضی ھے۔۔۔۔
ویسی بھی معراج کے لیے میں کسی بھی چیز کو منع نہیں کرتا۔۔۔
یہ بات سچ تھی کہ بریرہ بیگم اور جہانگیر صاحب دونوں ہی بلاج اور دلاور سے زیادہ معراج کو اہمیت دیتے تھے۔۔۔۔۔
اہممم !!
بریرہ بیگم نے جواب دیا۔۔۔
یہ بات سن کر تو جیسے سجل کو اگ لگ گئ تھی۔۔۔
اسکو اب تک یہ بات سمجھ نا ائ تھی کہ اس گھر میں اخر معراج کی اتنی اہمیت کیوں ھے۔۔۔
سجل کو جلن معراج سے نا تھی۔۔۔
سجل کو جلن دعا سے تھی۔۔۔۔۔
دلاور اور سجل جب کمرے میں ائے تھے تو سجل ہمیشہ کی طرح دلاور سے لڑنا شروع ھوگئ تھی۔۔۔
مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اس گھر میں سب معراج کو اتنی اہمیت اور عزت کیوں دیتے ھیں ؟؟؟
سجل نے جل کر کہا تھا۔۔۔۔
اس سے تمھیں کوئ مصلہ نہیں ھونا چھائے۔۔۔۔۔
دلاور نے اپنا کام کرتے ھوئے اسکو جواب دیا تھا۔۔
کیوں مطلب نہیں ھونا چاھئے۔۔۔
تمھاری اور بلاج بھائ کی اس گھر میں دو کوڑی کی بھی عزت نہیں ھے۔۔۔۔۔
تم سب سے چھوٹا ھے وہ اور اسکے نخرے ایسے ھیں۔۔۔جیسے اس گھر کا مالک وہ ھو۔۔۔۔
سجل نے منہ بنا کر کہا۔۔۔۔۔۔۔
ہاں یہ ہی سمجھ لو۔۔۔
یہ سب معراج کا ھے۔۔۔یہ اسکی مہربانی ھے کہ ہم اس گھر میں پڑے ھیں۔۔۔۔
اور تم۔جو ہر وقت معراج کی برائ میں لگی رہتی ھو نا اپنے کام سے کام رکھا کرو۔۔۔۔۔
اس گھر میں اور ہمارے دلوں میں معراج کی جو جگہ ھے اسکا تم اندازہ بھی نہیں کرسکتی۔۔۔۔۔
اور میں تمھیں اخری بار سمجھا رہا ھوں !!
سجل
۔۔۔۔اب میں تمھارے منہ سے کوئ بقواس نا سنو۔۔۔
دلاور کو اب واقع غصہ اگیا تھا۔۔۔
کیا مطلب؟؟؟
کیا کہا اپنے نے یہ سب معراج کا ھے ؟؟؟
سجل کو اپنے کانوں پر یقین نا آیا تھا۔۔۔۔
وہی کہا جو تم نے سنا ھے۔۔۔اگر ہم۔عزت سے اس گھر میں پرے ھیں تو پڑی رہو ۔۔۔اور مزید کے چکر میں جو تمھارے پاس ھے وہ بھی نا کھو بیٹھنا۔۔۔۔۔۔
سجل کی جلن دعا اور معراج سے بڑتی ھی جارہی تھی۔۔کچھ وجہ ہما کی بھی تھی اور کچھ وجہ اسکی اپنی تھی۔۔۔۔
اگر مجھے پتا ھوتا کہ تم اس قدر گنگلے ھو تو
اسے اچھا میں تم سے نہیں معراج سے ہی شادی کر !!!!
سجل کے منہ آلفاظ ادا بھی نا ھوئے تھے کہ دلاور زور سے چلایا تھا۔۔۔۔
خبردار۔۔۔۔۔
دفع ھوجاو یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔
بے غیرت ھو تم۔۔۔۔۔۔۔
اور بس بلاج کا اتنا کہنا تھا کہ سجل ناراض ھوکر اپنے میکے چلی ائ تھیں۔۔۔
اپنےمیکے اکر اسنے تمام صور تحال ہما کو بتائ تھی۔۔۔۔۔
اپی اپ فکر نا کریں۔۔۔۔بس دعا معراج کو واپس آنے دیں۔۔۔۔
میں انکی زندگی میں نفرت کا ایسا رنگ گھولی گی کہ پھر کبھی یہ دونوں ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کی غلطی نہیں کریں گے۔۔۔۔۔۔
بس کچھ دن کی خوشی بنا لینے دیں اسکے بعد معراج اور میں۔۔۔۔بسسس اور کوئ نہیں۔۔
ہما نے انکھوں میں جنون رکھتے ھوئے کہا۔
عمیر جب نمرہ کے کمرے میں داخل ھوا تو نمرہ کسی سے بات کر رہی تھی اور عمیر کو دیکھ کر اسنے فورن اپنا فون کان سے ہٹا کر گھبرا کر کال کاٹ دی تھی۔۔۔۔۔
نمرہ وہ میں ؟؟؟
عمیر کہتے کہتے ایک دم چپ ھوا تھا۔۔۔اسکو نمرہ کی یہ حرکت کچھ عجیب لگی تھی۔۔۔۔
ہاں بولیں بھای کیا ھوا ؟؟
نمرہ نے گھبرا کر پوچھا تھا۔۔۔۔
وہ کچھ نہیں تمھیں امی نیچے بلا رہی تھیں اس لیے آیا تھا۔۔۔۔۔۔
جی اچھا میں بس آقصہ سے بات کر کے آتی ھوں۔۔۔۔
نمرہ نے عمیر سے کہا۔۔۔۔
اچھا۔۔۔
عمیر کمرے سے باہر نکل گیا لیکن اسکو پتا نہیں کیوں کچھ دنوں سے نمرہ کے اندر کافی جینچینگ لگ رہی تھی۔۔۔
وہ اب ہر وقت ہی موبئل میں گھسی ھوتی تھی۔۔۔۔۔
اسکول سے واپس بھی وہ اب اکثر لیٹ ہی آتی تھی۔۔۔۔۔
عمیر کے دل میں کہی بار یہ شق آیا تھا کہ لیکن وہ اپنی بہن پر حد سے زیادہ بھروسہ کرتا تھا۔۔۔۔
عمیر کے کمرے سے جانے کے بعد نمرہ کے موبئل پر پھر کال ائ تھی۔۔۔جو نمرہ نے فورن ہی اٹھا لی تھی۔۔۔۔
اپ کو کتنی بار کہا ھے اس وقت فون نا کیا کریں اس وقت میرے بھائ گھر پر ھوتے ھیں۔۔۔۔
نمرہ نے فون پر بات کرنے والے کو کہا تھا۔۔۔۔
ارے میری جان جب پیار کیا تو ڈرنا کیا۔۔۔۔۔دوسری طرف والے نے چیپ جملہ مارا تھا۔۔۔
اچھا بس فضول باتوں کی ضرورت نہیں ھے۔۔۔۔نمرہ سے منہ بنا کر کہا۔۔۔
اچھا سنو !!!
مجھ سے کل تم ملنے آو گی نا ؟؟؟؟
افف ہاں دیکھوں گی کہہ تو دیا نا۔۔۔
نمرہ نے چیڑ کر کہا۔۔۔۔اور فون بند کردیا۔۔۔
میری جان نمرہ۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹا ھنس رہا تھا۔۔۔۔۔
تم ھی میرے کھیل کا سب سے بڑا پتہ ھو۔۔۔۔۔
بس اب کچھ دن تمھارے ساتھ یہ پیار کا دھونگ رچا لوں۔۔۔۔۔ اس کے بعد جیت میری ھوگی ۔۔۔۔۔
وہ ابھی لیٹا سوچ ہی رہا تھا کہ پھر اسکا موبائل بجا تھا۔۔۔۔۔
اور وہ فون پر باتوں میں لگ گیا تھا۔
☆☆☆☆
ہاہاہاہا
افف اج تو مزہ آگیا ۔۔۔۔
معراج نے پھولتی سانس کے ساتھ کہا اور کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔۔
ہاں بلکل۔۔۔۔
بلاج رملا اور دعا نے بھی اپنی جگہ سنبھالی تھی۔۔۔
ویسے کافی دنوں کے بعد ہم اس طرح کھیلں ھے۔۔۔۔
بلاج نے پانی پیتے ھوئے کہا۔۔۔
ہاں بلکل رملا نے کہا۔۔
یہ سب دعا نے شروع کیا تھا۔۔۔
معراج نے مسکرا کر کہا اور سیگرٹ نکال کر سلگائ۔۔۔۔
معراج اج بہت ہی زیادہ ھینڈسم لگ رکا تھا۔۔
ویسے اللہ نے چاند سورج کی جوڑی بنائ ھے۔۔۔۔
رملا نے دعا معراج کو ساتھ بیٹھا دیکھ کر مسکرا کر کہا۔۔۔۔۔
دعا معراج دونوں ہی دھیرے سے مسکرا دیے ۔
دعا نے معراج پر ایک نظر ڈالی معراج بھی اج بے حد وجیہ دیکھائ دے رہا تھا۔ ۔
پینٹ شرٹ کے اوپر جیکٹ اس پر کافی جچچ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
اور ھنستے ھوئے معراج اور بھی پیارا لگتا تھا۔۔۔۔
اچھا دعا مجھے کچھ shopping کرنی ھے تم اور میں اگے تک چلتے ھیں !!
رملا نے دعا سے کہا۔۔۔
جی ٹھیک ھے بھابی چلیں۔۔۔
دعا نے فورن حامی بھر لی۔۔۔
بلاج اور معراج اپنی گفتوگو میں مصروف تھے۔۔۔۔
دعا اور رملا اٹھے تو معراج نے پوچھا۔۔۔
اب دونوں میڈم کہاں جارہی ھیں۔۔۔۔؟؟؟
اپ فکر نا کریں میں اپکی بیوی کو بھاگا کر نہیں لے جارہی بس تھوری سے shopping کرنے جارہی ھوں۔۔۔
تم اور بلاج باتیں کرو ہم آتے ھیں۔۔۔
رملا نے دعا کا ہاتھ تھام کر کہا۔۔۔۔
دعا نے معراج کی طرف دیکھا تو وہ ایسی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
دعا کو بھی اب اندازہ ھو چکا تھا دعا جب اسکی نطروں کے سامنے نا ھوتی تھی تو وہ کس قدر بے چین ھوتا تھا۔۔۔
میں بھی چلتا ھوں۔۔۔
معراج نے کہا۔۔۔
ارے نہیں تم بیٹھو تھک گئے ھو بس ہم قریب ھی ھیں۔۔۔
تھوڑی دیر اپنی بیگم سے دور بھی رہا کرو بیٹا۔۔۔۔
رملا نے آنکھ مار کر ھنس کہ کہا۔۔۔
ہاہاہا بس یہ ہی ایک کام بہت مشکل ھے بھابی!!!
معراج نے دعا کو اپنی نظروں کے احصار میں لے کر کہا۔۔۔تو دعا نے شرما کر گردن موڑ دی۔۔۔
اور روحان سے باتوں میں لگ گئ۔۔۔۔
رملا دعا ہاتھ پکڑ کر اگے بڑھی تو معراج نے پیچے سے آواز دی۔۔۔
دعا سنو !!!!
دعا رک گی۔۔۔۔معراج اٹھ کر اسکی طرف آیا تھا۔۔۔
اور اسکے ہاتھ میں کچھ پیسے رکھے تھے تمھیں جو چھائے ھو لے لینا۔۔۔۔۔
مگ مجھے اسکی ضرورت نہیں۔۔دعا نے فورن کہا تھا۔۔۔۔
یہ تمھاری ضرورت نہیں یہ تمھارا حق ھے۔۔۔۔۔
معراج نے مسکرا کر کہا تھا۔۔۔
مجھے واقعی یہ نہیں چھائے۔۔۔۔دعا بھی خاصی ٹھرک والی تھی۔۔۔۔
ارے رکھ لو دعا ۔۔۔
شادی کے شروع میں ہی شوہروں کا یہ حال ھوتا ھے ۔۔۔پھر تو مانگنے سے بھی نہیں دیتے۔۔۔
رملا نے مسکرا کر کہا۔۔
ہہاہاہا بلکل بس تم رملا بھابی سے سیکھ لو۔۔۔۔
معراج نے مسکرا کر کہا تھا۔۔۔۔
دعا نے نچھاتے ھوئے بھی وہ پیسے رکھ لیے تھے اور رملا کے ساتھ مارکیٹ گھومنے نکل گی تھی۔۔۔۔
معراج اور بلاج باتوں میں لگ گئے تھے۔۔۔
☆☆☆☆☆☆
دعا اور رملا تقریبن ہر ہی دوکان میں جاکر سامن کرید رہی تھی۔۔۔۔
ناران کے مال ڑود پر کافی رش تھا اور اس موسم میں زیادہ تر لڑکوں کی ٹولیاں بھی آئ ھوئ ھوتی تھیں۔۔۔۔
ابھی دعا اور رملا ایک گفٹ شاپ میں داخل ھوئ تھی۔۔۔۔
رملا کچھ سامان لینے اگے بڑھ گی تھی۔۔۔
جبکہ دعا دوکان کے دوسرے حصے میں پڑی بکس دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
دعا نے اردگرد سراسری نظر گھومائ اور پھر دوکان دیکھنے میں لگ گئ۔۔۔
لیکن اسکو اب محسوس ھوا تھا کہ دو تین لڑکے اسکا پیچھا کررہے ھیں۔۔۔۔
اس نے جب یہ محسوس کیا تو یہ گھبرائ ابھی وہ رملا کے پاس جانے ہی لگی تھی کہ وہ لڑکے اسکی طرف بڑھے تھے ۔۔
اور دعا کا راستہ روکا تھا۔۔
