Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zid Junoon Ki Inteha Episode 36

Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi

ہما بس سمجھ لو کے ہم اپنی منزل سے بہت زیادہ قریب ھیں۔۔۔۔۔

بس کچھ دن کی بات ھے۔۔۔

معراج کی سالگرہ والے دن اسکو دیں گے ہم یہ ایک پیارا سا دھماکے دار سرپرائز۔۔۔۔۔۔

زیب نے بڑی خوشی سے یہ بات ہما سے کی تھی۔۔۔۔

ہاں زیب مجھے بھی بے صبری سے انتیظار ھے اس دن کا جب دعا اور معراج الگ ھونگے۔۔۔۔۔

مجھے جو کام تم نے کہا تھا وہ تو میں شیر کے پینجرے میں بھی جا کر کر آگئ۔۔۔۔

بس تم سے ایک چھوٹی سی لڑکی نمرہ نہیں قابو آرہی ؟؟؟

تم جانتے ھو وہ کس قدر ضروری ھے اس کھیل کے لیے۔۔۔۔۔

دعا تک تم صرف اور صرف نمرہ کے ہی زریعے پھنچ سکتے ھو۔۔۔۔۔

جب تک دونون کے دل میں برائ پیدا نہیں ھوگی وہ الگ نہیں ھونگے ۔۔۔۔۔

ہما نے غصے سے کہا تھا۔۔۔۔

جانتا ھوں یار۔۔۔۔

پر وہ لڑکی دعا ہی کی بہن ھے کسی صورت میرے قابو نہیں آرہی پر تم فکر نا کرو میں نے سوچ لیا ھے اسکو کیسے قابو کر نا ھے۔۔۔۔

بس میں تمھیں ۔۔۔کچھ سمجھاو گا۔۔۔۔

تم نے ویسا ہی کرنا ھے۔۔۔۔

بس کچھ دن کی بات ھے پھر دعا میرے پاس ھوگئ۔۔۔۔

اور معراج تمھارے پاس اور پھر دونوں ایک دوسرے سے حد سے زیادہ نفرت کرینگے دیکھ لینا تم۔۔۔۔۔۔

زیب اور ہما مل کر کچھ بہت بڑا کرنے جارہے تھے۔۔۔

لیکن ہما تم جو کرنے جارہی ھو کیا تم واقعی سوچ چکی ھو کہ تم نے وہی کرنا ھے ؟؟؟؟؟

ہاں۔۔۔۔میں سوچ چکی ھوں۔۔۔۔۔

میری ضد میرا جنون ھے۔۔۔۔۔۔

زیب۔۔۔۔

مجھے ہر حال میں معراج کی ضد توڑنی ھے۔۔۔۔۔

اور اسکی ضد صرف تب ٹوٹے گی جب دعا اسے نفرت کرے گی اور طلاق کا مطلبہ کرے گی۔۔۔

اور دعا کی کمزوری میں اچھے سے جانتی ھوں۔۔۔وہ ہر چیز برداشت کر سکتی ھے۔۔۔لیکن معراج کسی اور عورت کے ساتھ۔۔۔۔

ہاہہاہاہا

یہ وہ کبھی برادشت نہیں کرے گی۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!

ہما نے حد سے زیادہ نفرت سے کہا۔۔۔۔

ہاہہاہا good

زیب بھی ھنسا۔۔۔۔۔

دعا اور معراج کی زندگی میں ابھی سب کچھ ٹھیک نا ھوا تھا۔۔۔۔ابھی ایک اور امتحان اور آزمائش باقی تھی۔۔۔۔

وقت کی ایک بہت بری عادت ھے۔۔۔

کہ وہ اپنی مرضی سے چلتا ھے۔۔۔۔

جب ہم برے ھوتے ھیں تو وہ اچھائ کے موقعے دیتا ھے۔۔۔۔

اور جب ہم اچھائ چھاتے ھیں تو وہ ہماری ہر خوش چھین لیتا ھے۔۔۔

وقت ایک سا نہیں رہتا۔۔۔

جیسے ہر صبح کے بعد اندھیرا آتا ھے۔۔۔۔

ایسی ہر خوش کے بعد غم کے بادل بھی چھاتے ھیں۔۔۔۔۔

یہ ہی زندگی ھے !!!!!۔۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

میرے پیار بیٹے معراج !!!!!!

تم سوچ رہے ھوگے کہ اج تمھاری ماما نے تمھیں یہ خط کیوں لکھا ھے۔۔۔۔؟؟

بس میری جان مجھے تم سے کچھ باتیں کرنی تھی اور وہ باتیں تم سے روبرو کرنے کی میرے اندر ہمت نا تھی۔۔۔۔تمھاری معصوم سی شکل دیکھ کر میرا دل کانپ جاتا تھا میرے بچے۔۔۔۔میں نے بہت دفاع کوشش کی کہ میں تمھیں سب کچھ سمجھاو۔۔۔پر تم ابھی بہت چھوٹے ھو میرے بچے۔۔۔۔

لیکن میں بہت مجبور ھوکر تمھیں یہ خط لکھ رہی ھوں اور یہ قدم اٹھا رہی ھوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

معراج تم میرے بہت بہادر اور شیر بیٹے ھو۔۔۔اب جو میں تمھیں بتانے جارہی ھوں پلیز اسکو سمجھانا چاند۔۔۔۔۔

معراج مجھے کینسر ھے۔۔۔۔۔

اور ھے بھی last stage ۔۔۔۔پہلے میں سوچتی تھی کہ جہانگیر صاحب نے بریرہ سے شادی کیوں کی ؟؟

اللہ سے شکوہ کرتی تھی۔۔۔لیکن اب مجھے سمجھ آیا کہ اللہ کے ہر کام میں مصلیت ھوتی ھے ۔۔۔

اللہ نے میرے بدلے تمھیں بریرہ بیگم عطا کی ھے۔۔۔

معراج میں نے ہر مکمن کوشش کی کے میں خود کو بچا لوں تمھارے لیے۔۔۔لیکن کوئ حل نہیں ھے۔۔۔اس بیماری کا کوئ علاج نہیں ھے۔۔۔۔۔

میرے پاس اتنی ہمت نا تھی کہ یہ سب باتیں میں تمھیں یا جہانگیر صاحب کو بتاوں۔۔۔اور پھر پل پل موت کا انتیظار کروں۔۔۔۔۔تم بھئ مجھے پل پل مرتا دیکھتے تو تم پر کیا بیتی ۔۔۔۔

معراج میں خودخوشی کر رہئ ھوں۔۔۔مجھ سے پل پل موت کا اتیظار نہیں ھوگا۔۔۔میں جانتی ھوں میرے بیٹے میرے بعد تم بکل اکیلے ھو جاوں گے اور شاید میرے اس عمل پر مجھے سے نفرت بھی کرنے لگو۔۔۔

پر میرے بچے مجھ سے اب یہ تکلیف برداشت نہیں ھوتی۔۔۔۔۔۔

مجھے معاف کر دینا۔۔۔۔معراج۔۔۔۔۔

بریرہ بیگم ایک بہت اچھی عورت ھے۔۔۔وہ تمھیں مجھ سے زیادہ پیار دیں گی۔۔۔

اور میرا خواب ھے کہ میرا بیٹا ایک بہت بہادر اور ایک بہت مشھور سیاست دان بنے جو غریبوں کی مدد کرے۔۔۔

میرے اس خواب کو ضرور پورا کرنا معراج۔۔۔۔

کچھ دن بعد تو مجھے ویسی مر جانا تھا بس کچھ دن پہلے جارہی ھوں۔۔۔۔

ھوسکے تو اپنی اس گھنگار ماں کو معاف کر دینا۔۔۔۔۔

مجھے پل پل مرتا دیکھنے سے اچھا ھے تم لوگ مجھے ایک بار ہی مرتے دیکھ لو۔۔۔۔۔

میں تم سے بہت بہت بہت پیار کرتی ھوں میرے شیر۔۔۔۔۔پلیز مجھ سے نفرت نا کرنا معراج۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔۔۔۔

ھوسکے تو مجھے معاف کر دینا۔۔۔

اپنی ماں کو معاف کر دینا جو تمھیں اکیلا چھوڑ کر جا رہی ھے۔۔۔۔

جو تمھارا وعدہ پورا نہیں کر پائ۔۔۔۔اس گھنگھار ماں کو معاف کر دینا میرے بیٹے۔۔۔۔۔۔۔۔

اور بریرہ کو اپنی ماں منانا۔۔۔اور اپنی زندگی میں ہمیشہ خوش رہنا۔۔۔

میری دعائیں ہمیشہ تمھارے ساتھ ھے معراج۔۔۔

تمھاری بےوفا ماں :-

کوسم جہانگیر

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اففففف !!!!!!

خط پڑھنے کے بعد دعا نے اپنا چکراتا سر اپنے ہاتھوں میں تھام لیا تھا۔۔۔

اسکی آنکھوں سے زارو قطار آنسو بہہ رہے تھے۔۔۔۔

کس قدر تکلیف برداشت کی ھوگئ کوسم ماما نے۔۔۔۔

دعا نے اپنے دل میں سوچا۔۔۔۔۔

وہ ابھی اپنی سوچوں میں ہی تھی کہ پیچھے سے معراج نے اسکو پکارا تھا۔۔۔۔

دعا ؟؟؟؟؟

دعا جو اپنا سر تھامے خط ہاتھ میں پکڑ کر بیٹھی تھی ایک دم معراج کی آواز پر گھبرا سی گئ تھی۔۔۔۔۔

معراج بلکل اس کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔۔

کیا ھوا ؟؟؟

تم رو کیوں رہی ھو ؟؟؟

معراج نے دعا کا آنسوں سے بھیگا چہرہ دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔۔۔

خط پڑھتے دعا بہت روئ تھی۔۔۔

کچھ نہیں دعا نے اپنے آنسو پونچھے تھے اور وہ خط ایک ہاتھ سے پیچھے کیا تھا۔۔۔۔

یہ تمھارے ہاتھ میں کیا ھے ؟؟؟

معراج نے دعا کے اس طرح چھپانے پر پوچھا تھا۔۔۔۔

دعا پلیز بولو نا کیا بات ھے ؟؟؟

تم ٹھیک ھو نا ؟؟؟

تمھاری طبیعت تو ٹھیک ھے ۔؟

تم اس طرح کیوں رو رہی ھو ؟؟؟

معراج نے بے چین ھوکر اسے بہت سارے سوال کر دیے تھے۔۔۔۔

دعا خود پر قابو نا رکھ پائ اور فورن معراج کے گلے لگ گئ۔۔۔۔۔

دعا ؟؟؟؟

معراج کو بکل سمجھ نا آرہا تھا۔۔۔۔۔۔

بولو نا میری جان کیا ھوا ھے ؟؟؟؟

معراج نے اسکو زور سے اپنے اندر بیچ کر کہا تھا۔۔۔۔۔

معراج !!!!!

دعا نے ایک دم روتے روتے کہا تھا۔۔۔۔

اور معراج سے الگ ھوئ تھی۔۔۔۔

مجھے اپ کو کچھ دکھانا ھے !!!

دعا نے بھیگی آواز میں کہا۔

کیا ؟؟؟

معراج نے ایک دم گھبرا کر پوچھا۔۔۔۔۔۔۔

بیٹھیں۔۔۔۔دعا نے معراج کو اپنے ساتھ ہی زمین پر بیٹھایا تھا۔۔۔۔۔۔

معراج کو پتا نہیں کیوں عجیب سا خوف محسوس ھو رہا تھا۔۔۔کہی زندگی پھر اس کے ساتھ کچھ ؟؟؟؟؟

بولو دعا ؟؟

مجھے ڈر لگ رہا ھے پلیز بولو ؟؟

کیا بات ھے ؟؟؟

معراج نے پھر پوچھا۔۔۔

تو دعا نے اسکے اگے یہ خط کیا !!!!

یہ کیا ھے ؟؟؟

معراج نے دعا کے ہاتھ میں پکڑے اس پیرپر کو تھام کر پوچھا۔۔۔۔۔۔

کوسم

ماما

کا

خط۔۔۔۔۔۔

دعا کے منہ سے الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر ادا ھوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا ؟؟؟؟؟

معراج کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا۔۔۔۔۔

اس نے ایک پل لگائے بغیر دعا کے ہاتھ سے وہ خط تھاما تھا۔۔۔۔۔

اور پڑھنا شروع کیا تھا۔۔۔۔

ایک ایک لفظ کے ساتھ معراج کے چہرے پر ایک رنگ آتا اور ایک رنگ جاتا۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اج کتنے سالوں بعد اپنی ماں کے ہاتھ سے لکھی کوئ چیز پڑھ رہا تھا۔۔۔۔۔

وہ لکھائ بلاشبہ کوسم کی ہی تھی۔۔۔۔

جیسے جیسے معراج خط پڑھ رہا تھا اسکی آنکھوں سے بری طرح آنسو گیر رہے تھے۔۔۔

دعا بھی اسکے ساتھ ہی بیٹھی تھی۔۔۔

معراج کو اپنی آنکھوں پر یقین نا آرہا تھا کہ جو سب وہ پڑھ رہا ھے کیا وہ واقعی حقیقت تھی ۔؟؟

زندگی نے اس کے ساتھ کتنا بڑا مزاق کیا تھا۔۔۔۔

خط ختم ھونے کے بعد معراج پر سختےجیس کیفیت تھی۔۔۔

اسکی آنکھوں سے آنسو گیر رہے تھے۔۔۔لیکن وہ بکل ساخت بیٹھا تھا۔۔

معراج ؟؟؟؟

معراج ؟؟؟

دعا اب معراج کے روبرو گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسکا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر اسکو پکار رہئ تھی۔۔۔

معراج !!!!

معراج !!!!

پلیز کچھ تو بولیں۔۔۔۔

دعا !!!

دعا !!!!

معراج کچھ بولنا چھا رہا تھا لیکن آنسو کا پھندا بار بار اس کے حلق میں لگ رہا تھا۔۔۔۔۔

دعا !!!

ماما !!

نے !!!

دعا یہ کیوں ؟؟؟

ماما نے خودخوشی ؟؟؟

معراج کو سمجھ نا آرہا تھا۔۔۔۔

دعا ؟؟؟

معراج کی کیفیت اس وقت بکل معصوم سے بچے جیس ھو رہی تھی۔۔۔

مامااااااااااااااااااااا

ماااااااااااااااااااااااا

معراج ایک دم تکلیف سے زور سے چیخا تھا۔۔۔۔۔۔

معراج پلیز خود کو سنبھالیں۔۔

۔پلیز۔۔۔۔

دعا نے اسکو اس طرح چیختا دیکھا تو اسکو کندھوں سے تھام کر بولی۔۔۔۔

معراج پلیز۔۔۔۔۔۔

دعا ماما نے کیوں ؟؟؟

معراج بری طرح رو رہا تھا۔۔۔

وہ بری طرح ٹوٹ چکا تھا۔۔۔۔

اچھا اندر آئیں۔۔۔

دعا معراج کا ہاتھ تھام کر اسکو اند کمرے میں لائ تھی اور اسکو بیڈ پر بیٹھایا تھا۔۔۔۔

اور خود جاکر جگ میں سے پانی نکال کر لائ تھی۔۔۔۔۔

معراج کو اس نے اپنے ہاتھ سے پانی پلایا تھا۔۔۔۔

دعا !!!!

معراج نے پھر اسکو پکارا تھا۔۔۔

پلیز معراج اپ خود کو سنبھالیں۔۔۔دعا نے اسکے پاس ھوکر اسکے آنسو پونچھ کر کہا تھا۔۔۔

دعا ماما نے خودخوشی کی ؟؟؟

وہ خود جان کر مجھے چھوڑ کر گئ ؟؟

معراج نے شیدید درد محسوس کرتے ھوئے کہا۔۔۔

معراج وہ مجبور تھی۔۔۔۔۔پلیز اپ پہلے ریلکیس ھو۔۔۔دعا نے پھر معراج کو پانی پلایا تھا۔۔۔۔اور اسکے آنسو پونچھے تھے۔۔۔

اب معراج کچھ سنبھالا تھا۔۔۔۔

دعا نے اسکا سر اپنی گود میں رکھا تھا۔۔۔۔

اور اسکا ہاتھ اج خود تھاما تھا۔۔۔۔۔

معراج پلیز اب سمجھیں۔۔۔۔

جو گز چکا اسکو ہم نہیں بدل سکتے۔۔۔۔۔

ماما مجبور تھی۔۔۔۔۔

وہ تکلیف میں تھی۔۔۔۔۔۔

دعا پیار سے معراج کے سر میں ہاتھ پھیرتے پھیرتے اسکو سمجھا رہی تھی۔۔۔۔۔

اور معراج بکل خاموش سا لیٹا اسکو سن رہا تھا۔۔۔معراج کے پاس تھا ہی کیا کہنے کو۔۔۔۔

معراج ماما نے جو کیا وہ بھی اپ سب کے لیے کیا نا۔۔۔۔کہ اب سب انکو تکلیف میں دیکھتے تو اپ برداشت نا کر پاتے۔۔۔۔

انھوں نے قدم ضرور غلط اٹھایا پر وہ تھک چکی تھی انسے تکلیف برادشت ناھوئ تھی۔۔۔۔۔۔۔

اپ اج تک سمجھتے رہے کہ انکو بریرہ ماما نے مارا ھے۔۔۔۔جب کہ وہ تو اج تک اپ سے یہ حقیقت چھپاتی ائ ھیں۔۔۔۔تاکہ اپ کوسم ماما سے نفرت نا کریں۔۔۔وہ اج تک اپکی تمام نفرت بنا کچھ بولے سنتی ائ ھیں۔۔۔۔۔

انھوں سے اتنے سال اس گناہ کی سزاہ اٹھائ جو انھوں نے کیا ہی نہیں ۔۔۔

دعا بہت پیار سے معراج کو سمجھا رہی تھی۔۔۔۔

معراج کو اس وقت حد سے زیادہ شرمندگی محسوس ھورہی تھی۔۔۔۔۔

معراج۔۔۔۔

کوسم ماما اپنی جگہ ٹھیک تھی۔۔۔

اور بریرہ ماما اپنی جگہ۔۔۔۔۔کوسم ماما کی جگہ ہمارے دل میں ہمیشہ جو ھے وہی رہے گی۔۔۔۔

لیکن بریرہ ماما بھی اپ سے بہت پیار کرتی ھیں۔۔۔وہ اپکو وہ تمام ممتا کا پیار دینا چھاتی ھیں۔۔۔۔جو انھوں نے بلاج اور دلاور بھای کو بھی نہیں دیا۔۔۔۔

پلیز معراج۔۔۔۔۔

بریرہ ماما کو انکے نا کیے گناہ کی سزاہ مت دہں۔۔۔۔

وہ تڑپتی ھیں اپ کے منہ سے ماں سنے کو۔۔۔۔۔۔۔

اور پلیز کوسم ماما کو غلط نا سمجھیں۔۔۔۔۔

دعا نے اپنی بات ختم کی تو معراج ایک دم اٹھ کر بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔

کیا ھوا ؟؟؟

دعا نے فورن پوچھا تھا۔۔۔۔

پتا نہیں میں نے جو گناہ جانے انجانے میں کیا ھے اسکے لیے مجھے وہ معاف کرینگی یا نہیں ؟؟؟

کیون نہیں کرینگی ضرور کرینگی وہ تو کب سے اپ پر ممتا نچھاور کرنا چھاتی ھیں۔۔۔۔راج۔۔۔۔

ایک بار انکو ماں بلا کر تو دیکھیں۔۔۔۔

جو ھوچکا وہ ھوچکا۔۔۔

لوگوں کے پاس ایک ماں ھوتی ھے۔۔۔اللہ نے اپ کو دو ماں دی ھیں جو دونوں ماں اپ سے بہت پیار کرتی ھے۔۔۔

راج ایک ماں کو تو کھو چکے اپ۔۔۔۔

دوسری کو اب مت کھویں۔۔۔۔

سب کچھ بھول کر ایک بار انکو ماں مان کر دیکھیں۔۔۔۔۔۔

دعا نے معراج کا ہاتھ تھام کر اسکو حوصلہ دیا تھا۔۔۔۔

معراج فورن کھڑا ھوا تھا۔۔۔

کہاں جارہے ھیں ؟؟

دعا نے فورن پوچھا۔۔۔۔

اپنی دوسری ماں سے معافی مانگنے۔۔۔جو گناہ انھوں نے کیا نہیں اسکی سزہ کیوں بھوکتی یہ پوچھنے۔۔۔۔۔

کیوں اج تک میری ہر بدتمیزی برداشت کی یہ پوچھنے۔۔۔۔۔۔

پر اس وقت ؟؟؟

دعا نے حیران ھوکر کہا۔۔۔

فجر کی آزان ھو رہی ھے وہ ضرور اٹھی ھونگی۔۔۔

معراج کہہ کر کمرے سے باہر نکل گیا تھا ۔۔۔۔تو دعا بھی اسکے پیچھے پیچھے نیچے ائ تھی۔۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

وہ دونون نیچے ائے تو بریرہ بیگم اتفاق سے باہر لاوئج میں ہی نماز پڑھ رہی تھیں۔۔۔۔

دعا تو سیڑیوں پر رک گئ تھی جب کہ معراج ان کے سیدھے ہاتھ کی طرف جاکر کھڑا ھو گیا تھا۔۔۔۔۔

بریرہ بیگم نے سلام پھیرا تو معراج کو دیکھ کر بہت حیران ھوئ۔۔۔۔۔

معراج کی آنکھیں لال ھو رہی تھی۔۔۔

ارے بیٹا تم اس وقت ؟؟؟

بریرہ بیگم نے معراج کو دیکھ کر ایک دم کہا۔۔۔۔۔

کچھ چھایئے تھا ؟؟

بریرہ بیگم نے ہمیشہ کی طرح بے حد ممتا سے کہا تھا۔۔۔۔۔

جی !!!!!

معراج نے مختصر سا کہا۔۔۔

وہ اس وقت حد سے زیادہ ندامت محسوس کرہا تھا۔۔۔

کیا بچے ؟؟؟

بریرہ بیگم نے پیار سے پوچھا۔۔۔۔

معافی !!!!!!

معراج کہہ کر ایک دم ہی انکے سامنے گھوٹنوں کے بل بیٹھا تھا۔۔۔وہ جانماز پر بیٹھی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔

معراج

میرے بچے !!!!

معراج کو ایسے دیکھ کر وہ تڑپ اٹھی تھی۔۔۔۔اور فورن اس کے پاس ائ تھی۔۔۔

اور خود بھی رونے لگی تھی۔۔۔

کیوں اج تک میری ہر بدتمیزی برداشت کی ؟؟؟

کیوں مجھے ہمیشہ اس سچ سے چھپا کر رکھا۔۔۔

کیوں برداشت کی اس گناہ کی سزہ جو اپ نے کیا ھی نہیں ؟؟؟

معراج نے ایک دم ہی ان سے بھیگی آنکھوں سے سوال کرنا شروع کر دیے تھے۔۔۔

اپ مجھ پر ممتا نچھاوار کرتی رہی اور میں نفرت دیتا رہا۔۔۔۔

کتنا خودغرض ھوں میں۔۔۔۔۔۔۔

معراج میرے بچے ایسے مت بولو۔۔۔تم بہت اچھے ھو بیٹا۔۔۔۔

بریرہ بیگم واقعی معراج سے سگی ماوں والا پیار کرتی تھی۔۔۔۔

میری تکلیف کی خاطر اپنے یہ سب سہا۔۔۔۔

اور میں نے کیا کیا ؟؟؟

اپ کو لوگوں کے سامنے سب کے سامنے زلیل کرتا رہا اور اپنے اف تک نا کی آخر کیوں ؟؟؟؟؟؟؟؟

مجھے اتنا غرور میں رہنے دیا ؟؟؟

بتا دیتی اپ مجھے کہ میں ایک بد نصیب شخص ھوں جس کی ماں اسکو خود چھوڑ کر گی۔۔۔۔

کیوں سنتی رہی سب۔۔۔۔۔۔۔۔

نہیں معراج ایسے نہیں بولو۔۔۔کوسم مجبور تھیں۔۔۔۔۔۔

بریرہ بیگم نے روتے روتے کہا۔۔۔۔۔

میں نے تمھیں اج تک یہ سب اس لیے نہیں بتایا تھا کہ تم کوسم سے نفرت نا کرو۔۔۔۔۔۔

اور اپ سے جو نفرت کی وہ ؟؟؟؟؟

اپ کو جو درد دیے وہ ؟؟؟؟

اپنے کیوں کچھ نا کہا مجھ سے ؟؟؟

کیوں میری ہر بے جا ضد پوری کی ؟؟؟؟

معراج محبت اور ندامت بھرے شکوہ کر رہا تھا ۔۔۔۔۔

ماں

ھوں

نا

بریرہ بیگم نے روک روک کر کہا تھا۔۔۔۔

معراج نے فورن انکو گلے لگا لیا تھا۔۔۔۔

مجھے معاف کردیں امی۔۔۔۔

مجھے معاف کردیں۔۔۔۔۔۔

۔پلیز۔۔۔

۔معراج بریرہ بیگم کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر چھوٹے سے بچے کی طرح رو رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے معاف کر دیں۔۔۔۔۔۔۔

معراج ماں سے معافی نہیں مانگتے تم نے مجھے کیا کہا ؟؟؟

پھر کہنا میرے بیٹے ؟؟؟

بریرہ بیگم بھی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔۔۔۔

امی !!!!!!!

میری امی آاااا

معراج بہت معصومیت سے بول رہا تھا۔۔۔

میرا بیٹا !!!!!

بریرہ بیگم اسکے گلے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روئ تھی۔۔۔۔

اج انکے آنسوں کے زریعے سالوں پرانی نفرت دھل رہی تھی۔۔۔

اور ماں بیٹے کی محبت کا رشتہ کھل کر نکھر رہا تھا۔۔۔۔

امی اگر دعا مجھے سب نا بتاتی میں ہمیشہ اسی طرح۔۔۔۔

اپ کو گھنہگار۔۔۔۔۔مجھے معاف کر دیں۔۔۔

معراج واقعی بہت شرمندہ تھا۔۔۔

بس جو جوا اسے بھول جاو میرے بچے۔۔۔۔۔۔

بھول جاو۔۔۔۔۔۔۔

بس تم نےمجھے امی کہہ دیا میری سب سے بڑی خواہش پوری ھوگئ۔۔۔۔

بریرہ بیگم نے معراج کے ماتھے پر بوسہ دے کر کہا تھا۔۔۔۔۔

دعا بھی اب ان دونوں کے پاس اکر کھڑی ھوگئ تھی۔۔۔۔۔۔۔

دعا میری بچی ادھر آو۔۔۔۔۔۔

بریرہ بیگم نے پیار سے دعا کو اپنے پاس بلایا تھا۔۔۔۔۔

اور اسکو اور معراج کو ساتھ گلے لگایا تھا۔۔۔۔۔۔

اج مجھے میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی مل گئ۔۔۔۔

اج مجھے لگتا ھے میرے اللہ نے مجھے معاف کر دیا۔۔۔۔

بریرہ بیگم نے پیار سے کہا۔۔۔۔۔۔

پھر کافی دیر دعا معراج بریرہ بیگم کے پاس بیٹھے رہے۔۔۔۔

جاوں بچو اب تم دونوں سو جاو۔۔۔۔۔۔

بریرہ بیگم سے مل کر معراج اور دعا اپنے کمرے میں اگئے تھے۔۔۔

دونوں نے ساتھ مل کر فجر کی نماز ادا کی تھی۔۔۔۔۔۔۔

معراج کا دل حد سے زیادہ پر سکون تھا۔۔۔۔

نماز سے سلام پھیر کر اسنے دعا مانگی تھی۔۔۔۔۔

اور ساتھ ہی کوسم سے بھی مخاطب ھوا تھا۔۔۔

میری پیاری ماما میں کبھی اپ سے خفا نہیں ھوسکتا۔۔۔۔بس یہ تو اللہ نے لکھا تھا۔۔۔۔بس اپ مجھے جلدی چھوڑ کر چلی گئ۔۔۔۔

اپکی جگہ تو میری دل میں کوئ نہیں لے سکتا۔۔۔۔

لیکن اپ کی جیسی ایک جگہ اب میں امی کو دوں گا۔۔۔انھوں نے بہت صبر کیا ھے۔۔۔۔۔۔۔

مجھے اللہ نے موقع دیا ھے کہ اپکی ممتا میں امی میم تلاش کر سکوں۔۔۔۔۔میں اپ سے بکل خفا نہیں ھوں ماما۔۔۔۔۔۔

میں اپ سے بہت پیار کرتا ھوں اور کرتا رہوں گا ۔۔۔

معراج نے بھیگی انکھوں سے دعا مانگی تھی اور پھر دعا کو دیکھا تھا۔۔۔

دعا نے بھی اسی وقت معراج کی طرف مسکرا کر دیکھا تھا۔۔۔۔

اندھیری رات کا سفر ختم ۔۔۔۔۔۔۔۔دعا۔۔۔۔

روشن صبح کی روشنی میری زندگی میں شامل کرنے کے لیے شکریہ۔۔۔۔

معراج نے مسکرا کر دعا کو کہا تھا تو دعا بھی مسکرا دی۔۔۔۔

پھر دونوں اکر سونے لیٹ گئے تھے۔۔۔۔

اور زہنی طویل تھکن کی وجہ سے فورن سو بھی گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔.

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

صبح جب دعا معراج ناشتے کی میز پر ائے تو وہاں تمام لوگ ہی موجود تھے۔۔۔۔

معراج اور دعا دونوں ہی بے حد خوش تھے۔۔۔وہ سمجھ رہے تھے انکی زندگی سے مصلے ختم ھوچکے ھیں ۔۔لیکن آیسا نہیں تھا۔۔۔

وہ دونوں اکر میز پر بیٹھ گئے تھے۔۔۔۔وہاں گھر کے تمام لوگ ہی موجود تھے۔۔۔۔۔

اور اپنے اپنے ناشتے میں مصروف تھے۔۔۔جب ہی بریرہ بیگم کچن سے نکلی تھی۔۔۔۔

اسلام علیکم امی !!!!!

معراج نے فورن مسکرا کر سلام کیا تھا۔۔۔

معراج کے اس طرح سلام کرنے پر دلاور کے منہ میں جو چائے تھی وہ باہر اتے اتے رکی۔۔۔۔

جہانگیر صاحب جو اخبار پڑھنے میں مصروف تھے انھوں نے اخبار ہٹا کر دیکھا تھا ۔۔۔

بلاج کو نولہ نگلتے نگلتے ٹھسکا لگا تھا جبکہ رملا اور سجل شوگڈ تھی۔۔۔۔

سب کا reaction دیکھ کر دعا مسکرا رہی تھی۔۔۔۔

وعکیکم اسلام میرے بیٹھے۔۔۔۔

بریرہ بیگم نے پیار سے اکر اسکا ماتھا چوما تھا ۔۔۔۔۔۔

میز پر موجود تمام لوگ اس موجزے پر یقین نہیں کر رہے تھے اور انکھیں حیرت سے پھیلا کر معراج کو دیکھ رہے تھے ۔۔

کیا ھے ؟؟؟؟؟؟؟

معراج نے سب کی نظریں اپنے اوپر دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔

یہ سورج اج کہاں سے نکلا ؟؟؟

رملا نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔

دعا نے بے سختہ ھنسی تھی۔۔۔

اب سب overacting نا کرنا۔۔۔۔وہ تم سب کے ساتھ ساتھ میری بھی ماں ھیں۔۔۔۔۔۔۔

معراج نے شرما کر مسکرا کہ کہا تھا۔۔۔۔۔۔

اھھھھھھھھھھوووووووووووو ۔۔۔۔۔۔۔۔

بلاج اور دلاور نے نے حد خوشی سے ایک آواز ھو کر اوووو کہا تھا۔۔۔۔

یعنی ماں بیٹے کی ناراضگی ختم؟؟؟

جہناگیر صاحب نے مسکرا کر پوچھا تھا۔۔۔۔

ماں بیٹے میں ناراضگی ھوتی نہیں۔۔۔۔

بریرہ بیگم نے جواب دیا تھا۔۔۔۔

بلکل۔۔۔۔معراج نے مسکرا کر سر ہلایا تھا۔۔۔۔

وہاں سب خوش تھے سوائے سجل کے۔۔۔لو اب ایک اور فیملی میلو ڈرامہ شروع۔۔۔سجل نے دل میں جل کر کہا۔۔۔۔

ابھی وہ لوگ باتیں ہی کر رہے تھے جب ہما !!!!!