Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zid Junoon Ki Inteha Episode 27

Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi

اتفاق سے اس بچے کی پیدائش ایک بہت مبارک دن ھوئ تھی۔۔۔۔

جس دن وہ معصوم سا گولوملو سا بچہ اس دنیا میں ایا تھا۔۔۔۔

وہ دن شب معراج کا تھا۔۔۔۔۔

تب کوسم نے اپنے بیٹے کو گلے سے لگا کر کہا تھا۔۔۔۔

میں اسکا نام معراج جہانگیر رکھوں گی !!!!!!!!!

معراج کی پیدائش کے بعد کوسم جہانگیر ہر درد کو بھول بیٹھی ۔۔۔۔

شوہر سے دوری بھی انکو اب زیادہ تکلیف نا دیتی تھی۔۔۔۔

جب انھوں نے یہ خبر راجہ جہانگیر کو سنائ تو وہ بھی بے حد خوش ھوئے لیکن اپنے نا انے کی مجبوری بھی بتائ۔۔۔۔

کوسم نے ہمیشہ کی طرح انکی بات پر یقین کر لیا۔۔۔۔

کوسم ایک طرف تو سیاست کو سنبھالتی تھی۔۔۔

تو دوسری طرف معراج کو۔۔۔انھوں نے معراج کے لیے کوئ ایا نہیں رکھی وہ معراج کا ہر کام اپنے ہاتھ سے کرتی تھی۔۔۔۔

وقت پیر لگا کر بھاگ رہا تھا۔۔۔

کوسم کی جوانی اب ادھڑ پن میں اگئ تھی۔۔۔

انکو کافی لوگوں نے مشورہ دیا تھا کہ وہ راجہ جہانگیر سے طلاق لے کر ان سے شادی کر لیں۔۔۔

ایسے اپنی جوانی کو برباد نا کریں۔۔۔۔

لیکن کوسم نے ہمشہ انکار کردیا تھا۔۔۔وہ راجہ جہانگیر سے بے حد عشق کرتی تھی۔۔۔۔

معراج بڑا ھو رہا تھا۔۔۔

باپ کی دوری کا احساس اسکو کوسم نے کبھی نا ھونے دیا تھا۔۔۔

معراج اب گھوٹنو گھوٹنو چلنے لگا تھا۔۔۔جب راجہ جہانگیر نے اکر ایک چکر لگایا تھا۔۔۔۔

اور پھر کچھ مہینے رہے کر وہ واپس چلے گئے تھے ۔۔۔۔

اس بار کوسم نے بھی انکو نا روکا تھا۔۔۔

معراج بڑا ھو رہا تھا اور دیکھتے دیکھتے اب وہ 8 سال کا ھوچکا تھا۔۔۔۔۔

کوسم اور معراج ایک دوسرے کے بے حد قریب تھے۔۔۔

نا معراج کا کوئ تھا کوسم کے بنا نا کوسم کا کوئ تھا معراج کے بنا۔۔۔

معراج ایک بہت خوش اخلاق بچہ تھا۔۔۔

پڑھا لکھا تمیز دار۔۔۔

ھنس مک۔۔۔۔۔

کوسم اور معراج اکثر چھپن چھاپئ کھیلتے تھے۔۔۔تب کوسم کہی چھپ جاتی تھی اور معراج انکو دھونڈتا تھا۔۔۔

معراج اپنی ماں سے بے حد محبت کرتا تھا۔۔۔۔

جنون والی محبت اس کی اندر کوسم سے ہی ائ تھی۔۔۔۔۔

وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بے حد خوش تھے۔۔۔۔۔

ماما ؟؟؟

یہ دیکھیں میں نے اپکا باندھ دیا اب اپ کہی نہیں جاسکتی۔۔۔۔۔

معراج نے کوسم کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ کے ساتھ رسی سے باندھ دیا تھا۔۔۔۔

اہ میرا پیارا شیر بیٹا۔۔۔۔

میں کہی نہیں جاوں گی تمھیں چھوڑ کر۔۔۔۔

کوسم نے معراج کے گال کر بوسہ دے کر کہا۔۔

تم ہمیشہ ایسے کیوں کہتے ھو؟؟؟معراج۔۔۔۔

ماما مجھے پتا نہیں کیوں لگتا ھے اپ مجھے چھوڑ جائے گی جیسے بابا چھوڑ گئے۔۔

میں اپ کے بغیر نہیں رہے سکتا ماما۔۔۔۔۔

معراج نے ماں کے گلے لگ کر کہا۔۔۔۔ارے میرے بیٹے میں کہہی نہیں جاوں گی۔۔۔۔

وہ ہمشیہ معراج سے وعدہ کرتی تھی۔۔۔

وقت خوشیوں کے ساتھ بیت رہا تھا۔۔۔۔

راجہ جہانگیر نے فون کر کے بتایا تھا کہ وہ اب ہمیشہ ہمئشہ کے لیے پاکستان آرہے ھیں۔

کوسم بے حد خوش تھی۔۔۔

معراج بھی بہت زیادہ خوش تھا۔۔۔کہ اب اسکی پوری فیملی ایک ساتھ رہے گی۔۔۔۔

وہ سمجھ رہے تھے انکی خوشیاں واپس اگئ ھیں۔۔۔

جب ہی انکی خوشیوں کو کسی کی نظر لگی تھی۔۔

☆☆☆

معراج جلدی تیار ھو بابا اتے ھونگے۔۔۔

کوسم بیگم اج بے حد خوش تھی اور بہت اچھی تیار ھوئ تھی۔۔۔۔

اور معراج کو بھی بہت اچھا تیار کیا تھا۔۔۔۔

پورئ حویلی انکی سجی تھی۔۔

کوسم صاحبہ !!

صاحب جی اگئے۔۔۔۔

ملازمہ نے اکر انکو بتایا تو وہ معراج کا ہاتھ تھام کر خوشی خوشی نیچے ائ تھی۔۔۔

معراج بھاگ کر اپنے باپ کے گلے لگا تھا۔۔۔

اور کوسم بھی مسکرا کر ملی تھی۔۔۔

پر انکی مسکراہٹ بس چند پل کی تھی۔۔۔

کیونکہ جہانگر صاحب اکیلے نا ائے تھے۔۔۔

انکے ساتھ ان کی ایک بیوی اور دو بیٹے بلاج اور دلاور بھی ائے تھے۔۔۔۔۔

جن کو کوسم دیکھ کر حد سے زیادہ شوگڈ تھی۔۔۔

معراج کو تو سمجھ نہین ارہا تھا۔۔۔بس اس رات اسنے کوسم کو بری طرح چیختے اور روتے دیکھا تھا۔۔۔۔

کوسم کے ساتھ ساتھ معراج بھی رویا تھا۔۔۔۔۔

اسکو بریرہ بیگم بہت بری لگی تھی۔۔۔

البتہ بلاج اور دلاور سے اسکی ہ دوستی ھو گئ تھی۔۔۔

جہانگیر صاحب نے کوسم کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ھوئے کوسم کو منا لیا تھا۔۔۔

کوسم نے بریرہ بیگم کو قبول کر لیا تھا اور اس گھر میں رہنے کی جگہ بھی دے دی تھی ۔۔۔۔

یہ کوسم کی جہانگیر صاحب نے بے حد محبت کی نشانی تھی۔۔۔

معراج کوسم سے بہت لڑا تھا کہ انکے گھر میں نئے لوگ کیوں ائے ھیں۔۔۔

لیکن کوسم نے معراج کو کبھی کچھ نا کہا۔۔۔

پر اب نا تو وہ معراج کے ساتھ کھیلتی تھی اور نا اب اسکے ساتھ ھنستی تھی۔۔۔

دن با دن انکی صحت گیرتی جارہی تھی۔۔۔۔

وہ بیمار رہنے لگی تھی اور معراج ہٹ رہنے لگا تھا۔۔۔۔

اتفاق سے بریرہ بیگم کا تعلق کوسم صاھبہ کی پاڑی کہ مخالفین میں سے تھا۔۔۔

آہستہ آہستہ معراج کے گھر پر کسی اور کا قبضہ ھورہا تھا۔۔۔۔

کوسم کی بیماری کی وجہ سے اب پارٹی کی تمام بھاگ ڈور جہانگیر صاحب نے سنبھال لی تھی۔۔۔

گھر اب بریرہ بیگم دیکھتی تھی۔۔۔۔

ہر پل حسنے کھیلنے والی کوسم اب بہت خاموش ھوگئ تھی۔۔۔

شوہر کی بے وفائ نے انکو اندر سے ختم کر دیا تھا۔۔۔۔۔

معراج بڑا ھو رہا تھا۔۔۔۔سب سمجھ رہا تھا ۔۔۔

وہ بریرہ بیگم سے حد سے زیادہ نفرت کرتا تھا۔۔۔۔۔

بریرہ بیگم بازات خود اچھی تھی لیکن بریرہ بیگم کا میکا کوسم کے خلاف تھا۔۔۔۔

اور کوسم کی جان لینا چھاتا تھا۔۔۔

معراج اب دس برس کا ھوچکا تھا۔۔۔۔

بچپن کے مقابلے معراج اب خاصا سنجیدہ ھوگیا تھا۔۔۔۔

وہ بلاج اور دلاور سے بھی کٹا کٹا رہتا تھا۔۔۔۔

لیکن بلاج اقر دلاور ہمیشہ اسکو چھوٹے بھائیوں کی طرح سمجھتے تھے۔۔۔۔۔

رملا انکی پڑوسی تھی وہ بھی اکثر اجایا کرتی تھی۔۔۔

معراج بہت کم ہی ان تینوں کے ساتھ کھیلتا تھا۔۔۔۔

اور بریرہ بیگم سے تو خار کھاتا تھا۔۔۔۔وہ اسکول سے انے کے بعد اپنا تمام تر وقت اپنی ماں کوسم کے ساتھ گزارتا تھا۔۔۔

اکثر معراج کوسم سے بہت لڑتا تھا۔۔۔

اپ انکو اس گھر سے کیوں نہیں نکال دیتی ماما؟؟

معراج جب بی یہ بات بولتا ۔۔

کوسم ہمیشہ کہتی ۔۔۔۔

اللہ کو معاف کرنے والے پسند ھیں۔۔۔۔

اور پھر یہ تمھارے بابا کی خوشی ھے۔۔۔۔۔

ماما یہ کیسے محبت ھے معراج اکثر چیڑ کر کہتا تھا۔۔۔۔

تو کوسم ہمیشہ کہا کرتی تھی۔۔۔۔

سچی محبت وہ ھے جس میں جنون ھے۔۔۔۔۔

اور پھر تم چھوٹے ھو ان سب باتوں کے لیے۔۔۔۔۔

وہ معراج کو اس سب سے دور رکھنا چھاتی تھی۔۔۔

کوسم اکثر رات کو چھت پر جاکر چاند سے باتیں کیا کرتی تھی اور اپنے حال دل چاند سے کہتی تھی۔۔۔

معراج اپنی ماں کو چھپ چھپ کر جب چاند سے باتیں کرتا دیکھتا تو اسکا دل بہت اداس ھوتا۔۔۔۔

جہانگیر صاحب معراج سے بہت محبت کرتے تھے۔ اتنی محبت وہ شاید بلاج اور دلاور سے بھی نا کرتے تھے۔۔۔

لیکن انکی محبت صرف خواہشات تک تھی۔۔۔

وہ بچوں کی خواہش پوری کر دینے کو محبت کا نام دیتے تھے ۔

وقت گزتا جا رہا تھا۔۔۔۔

کوسم کی حالت مزید خراب سے خراب ھوئ جا رہی تھی۔۔۔۔

اج معراج کے دوست زاضا کی سالگرہ تھی۔۔۔

معراج بیٹا چلے جاو۔۔۔

نہیں ماما مجھے نہیں جانا

پلیز !!!

معراج اب ہر قسم کی social life سے دور ھوچکا تھا۔۔۔ ۔

بیٹا راضا تمھارا بہت اچھا دوست ھے۔۔۔تم جا رہے ھو بس۔۔۔۔

کوسم نے سوچا تھا کہ معراج کا دل کچھ بھیل جائے گا۔۔۔۔

معراج کا دل نجانے کیوں اج روز کے مقابلے بہت عجیب ھو رہا تھا۔۔۔۔

ماما میرا دل نہیں ھے۔۔۔

مجھے لگ رہا ھے کہ ۔۔۔۔۔

معراج کچھ بول ہی رہا تھا تب کوسم نے اسکو چپ کروا دیا تھا۔۔۔

ہمیشہ اچھا سوچا کرو میرے بچے۔۔۔۔

تم جاو ۔۔۔۔

کوسم کے کہنے پر معراج تیار ھونے چلا گیا تھا۔۔۔۔

تیار ھوکر معراج جب آیا تو کوسم نماز پڑھ رہی۔۔۔

ماما میں جلدی آجاوں گا۔۔۔۔

معراج نے ماں کے پاس بیٹھتے ھوئے کہا۔۔

معراج تھا تو دس سال کا لیکن حالت نے اسکو کافی مظبوط بنا دیا تھا۔۔۔۔

ہاں جاو۔۔۔

کوسم نے معراج کے گال پر بوسہ دیا تھا۔۔۔۔

میرے بیٹے۔۔۔۔

تم میرے شیر ھو۔۔۔۔۔

کوسم کی انکھیں نم تھی۔۔۔۔۔

معراج نے بھی اپنی ماں کو پیار کیا اور کہا تھا ۔۔

اور اپ اس شیر کی ماں ھے ۔۔۔یعنی شیرنی جو ہر حالت سے جیتنا جانتی ھے۔۔۔۔

ہممم !!!

چلو تم جاو جلدی اجانا۔۔

جی اچھا !!!

کوسم سے مل کر معراج باہر کی طرف جانے کے لیے نکل رہا تھا۔۔۔

تب معراج نے ایک دم واپس پلٹ کر ماں کو دیکھا تھا۔۔۔۔

ماما ؟؟؟؟

ہاں

مجھے چھوڑ کر کہی جاہیں گی تو نہیں نا ؟؟؟

معراج کے دل میں پھر سے وہی سوال آیا تھا۔۔۔

اور اب کے کوسم نے معراج کو صرف مسکرا کر دیکھا تھا اور کہا تھا۔۔۔۔

جلدی آجانا۔۔۔۔

تمھارا انتیظار کروں گی میں۔۔۔۔۔۔

معراج چلا گیا تھا۔۔۔۔

کوسم معراج کو جاتا دیکھ رہی تھی۔۔۔

ان دونوں کو نہیں معلوم تھا کہ اج انکی ایک دوسرے سے آخری ملاقات ھے۔۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

معراج کا پارٹی میں اکر بھی دل نہیں لگ رہا تھا وہ بس اب جلدی سے گھر جانا چھاتا تھا۔۔

وہ تھوڑی دیر زاضا کے ساتھ رہا پھر اپنے گھر آگیا تھا۔۔۔

جب معراج گھر میں داخل ھوا تو پورے گھر میں عجیب سا اندھیرا ھو رہا تھا۔۔۔

تب معراج اندھیرے سے نہیں ڈرتا تھا۔۔۔

معراج سیدھا کوسم کے کمرے میں آیا تھا۔۔

کوسم کے کمرے کا ہلکا سا دروازہ کھولا ھوا تھا۔۔۔۔۔

معراج اندر داخل ھی ھوا کہ اس کی انکھوں کے سامنے انے والے منظر نے اسکی دنیا الٹ پلٹ کر دی تھی۔۔۔۔۔۔

کوسم کی جان سے پیاری ماں خون میں لت پت زمیں میں پڑی تھیں ۔۔۔۔

اور ان کے پیٹ میں چھورا گھوپا ھوا تھا۔۔

اور انکے پاس بریرہ بیگم کھڑی تھی۔۔۔

معراج کو اپنی انکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔۔

ماما ؟؟؟

معراج بھاگتا ھوا اپنی ماں کے پاس گیا اور کوسم کا سر اٹھا کر اپنی گود میں رکھا تھا۔۔۔۔

ماما ؟؟

ماما ؟؟؟

بریرہ بیگم معراج کو دیکھ کر ایک دم سے گھبرا سی گئ تھی۔۔۔۔۔اور فورن کمرے سے باہر نکل گئ تھی۔۔۔۔

معراج کو اس وقت کچھ ھوش نا تھا وہ صرف اور صرف کوسم کو بچانا چھاتا تھا۔۔۔۔

کوسم کے جسم سے خون بھتا دیکھ اسکا برا حال تھا۔۔۔

ماما ؟؟؟؟؟

ماما ؟؟؟؟

یہ کس نے کیا بتائیں مجھے ؟؟؟

ماما ؟؟؟؟؟

ماما ؟؟؟؟؟؟؟؟؟

معراج کا رو رو کر برا حال ھو رہا تھا۔۔

کوسم نے ایک نظر مسکرا کر معراج کو دیکھا تھا اور پھر اپنی انکھیں بند کرلی تھی۔۔۔۔

ماما میں اپ مجھے چھوڑ کر نہیں جاسکتی ماما ؟؟؟؟

معراج نے جب کوسم کی انکھیں بند ھوتی دیکھی تو چیخ چیخ کر بولنے لگا۔۔۔

کوسم اس دنیا سے رخصت ھو چکی تھی۔۔۔۔

ماما ؟؟؟؟؟؟؟

معراج کوسم کو اپنے چھوٹے سے سینے سے لگا کر زور زور سے چیخ رہا تھا۔۔۔۔

کوسم کے سوا وہ کسی کو اپنا نا منتا تھا۔۔۔۔

مامااااااااااااااااااااا ؟؟؟؟؟

اتنی ہی دیر میں جہانگیر صاحب بریرہ بیگم بلاج اور وہاج بھی اگئے تھے۔۔۔۔

معراج اس وقت غم سے اس قدر ندھال تھا کہ اسکو کچھ یاد نا تھا۔۔۔۔

اگلے ہی دن کوسم کو دفنا دیا گیا تھا۔۔۔

کوسم کے لاش سے لپٹ کر بھی معراج بے حد رویا تھا اور کسی صورت کوسم کو چھوڑنے کے لیے تیار نا تھا۔۔۔۔

کوسم کو دفنا کر جب معراج گھر ایا تھا تو اسکی نظر بریرہ پر پڑی تھی۔۔۔تم نے مارا ھے میری ماں کو۔۔۔۔۔۔

معراج نے بریرہ بیگم کے پاس اکر کہا تھا۔۔۔

میں تم بھی جان سے مار دوں گا۔۔۔۔۔

معراج کے اوپر عجیب سا جنون سوار تھا ۔۔

بریرہ بیگم بھی ایک دم سے گھبرا سی گئ تھی۔۔۔۔

معراج یہ تم کیا بول رہے ھو ؟؟؟

جہانگیر صاحب نے معراج کو غصے سے ٹوکا تھا۔۔۔۔

اور اسکو اسکے کمرے میں بھیج دیا تھا۔۔۔۔۔

بس تب سے معراج کے دل میں بریرہ کے لیے اور مزید نفرت پیدا ھوگئ تھی۔۔۔

جہانگیر صاحب سے معراج جب بھی اس رات کا زکر کرتا تھا وہ اسکو خاموش کرا دیتے ۔۔۔۔۔

معراج نے بہت کوشش کی تھی کہ وہ اپنی ماں کے قاتل کی تحقیق کرے مگر جہانگیر صاحب نے اسکو موقع نا دیا۔۔اور معراج کو ہہ کہہ کر اس سب سے مطمئن کردیا کہ یہ ایک حادثہ تھا۔۔۔۔جو مخالفین نے کیا تھا۔۔۔اور جہانگیر صاحب نے انکو پھاسی پر بھی چھڑا دیا ھے۔۔۔۔

معراج کے اندر ضد پیدا ھوتی جارہی تھی۔۔۔

وہ ہر ایک سے بدتمیزی کرنے لگا تھا۔

جب بھی بریرہ بیگم کو دیکھتا وہ منہ پر انکو زلیل کر دیتا۔۔۔

جہانگیر صاحب نے معراج کی خواہشات کبھی نا روکی تھی۔۔۔لیکن باپ کی شفقت والا ہاتھ بھی معراج کے سر پر نا رکھا تھا ۔۔

کوسم کی موت کے بعد معراج کو ہر ایک چیز بری لگتی تھی۔۔۔

وہ سب سے بدتمیزی کرتا تھا۔۔۔۔

خاص کر بریرہ بیگم سے۔۔۔

تب جہانگیر صاحب نے اسکی اچھی تربیت کی وجہ سے اسکو uk کے ایک boading school میں بھیج دیا تھا۔۔۔۔۔

معراج جب londan گیا تھا تو وہ 15 سال کا تھا۔۔۔۔

جیسے جیسے معراج بڑا ھورہا تھا اس کو کوسم سے بھی نفرت ھوگئ تھی۔۔۔اسکو عورت زات سے نفرت ھوگئ تھی۔۔۔

وہ کہتا تھا کہ اسکی ماں نے اسے کیا وعدہ پورا نا کیا۔۔۔۔

معراج تن تنھاء اکیلا uk کے boading school میں تعلیم ھاصل کر رہا تھا۔۔۔

حالات نے اسکو حد سے زیادہ بد تمیز ضدی اور خود سر بنا دیا تھا۔۔۔

وہ اپنے استاد سے بھی بدتمیزی کرتا تھا خاص کر لیڈی ٹیچر سے۔۔۔تب اسکو ایک اندھیری کوٹری نما کمرے میں بند کردیا جاتا۔۔۔

اس اندھیرے میں معراج خوب ڈرتا تھا۔۔۔۔

روتا تھا۔۔۔۔

کبھی کوسم کو پکارتا

تو کبھی جہانگیر صاحب کو۔۔۔۔

وہ پورا پورا دن اس اندھیری جگہ پر بند رہتا تھا۔۔۔تب سے معراج کو اندھیرے سے ڈر لگنے لگا تھا۔۔۔۔۔

جہانگیر صاحب اپنی سایست میں اس طرح گوم ھوگئے تھے کہ انکو بیٹے کا خیال مھیہنے میں ایک دو دفعہ سے زیادہ نا آتا تھا۔۔۔۔۔

خیر سے معراج نے جب boading school پاس کرلیا تھا تو وہی کی ایک علی university میں داخلہ لے لیا تھا۔۔۔

ھینڈ سم تو وہ بہت تھا اس لیے اسکی لڑکیاں دیوانی تھی۔۔۔۔

وہ پاکستان جانا نہیں چھاتا تھا۔۔۔اس لیے وہی روک گیا تھا۔۔۔۔

لیکن اپنی تعلیم مکمل کر کے وہ جہانگیر صاحب کے بے حد اسرار پر پاکستان واپس آگیا تھا۔۔۔

کیونکہ یہ تمام پیسہ معراج کا ہی تھا۔۔۔۔اور اس کے بالغ ھونے کے بعد کوسم کی تمام تر جائداد جہانگیر صاھب سے لے کر معراج کے نام ھوگئ تھی۔۔۔۔

اسکا یہاں موجود ھونا لازمی تھا۔۔۔

اس لیے معراج علی تعلیم لے کر واپس آگیا تھا۔۔اور اب اپنی ماں کی جگہ پر سب سنبھال رہا تھا۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

یو کے سے انے کے بعد معراج ایک انتھائ خود سر اور حد سے زیادہ ضدی انسان بن چکا تھا۔۔۔۔

جس لڑکے نے بچپن اپنی ماں کے سائے میں گزارا ھو اور ایک دم وہ سایا اس سے چھین کر اس کو دوسرے ملک بھیج دیا جائے جہاں کے لوگوں نے اسکی معصوم اور کچی عمر میں اسکو اندھیروں میں بند رکھا ھو۔۔۔۔

اسکی تربیت بھی اپنے کھلے محول کے حساب سے کی ھو۔۔۔۔

جو سالوں دین سے دور رہا ھو

کیا وہ لڑکا خود سر ضدی نا ھوتا ؟؟؟؟

یو کے سے انے کے بعد راجہ جہانگیر نے معراج کے لیے خزانے کا منہ کھول دیا تھا۔۔۔

وہ جو چیز کہتا وہ پتھر پر لکیر بن جاتی۔۔۔۔

اسکا کہا کوئ نہیں ٹال سکتا تھا۔۔۔۔راجہ جہانگیر بھی اسکی ہر ایک بات مانتے اس کی بڑی بڑی غلطیوں پر پردا ڈال دیا کرتے۔۔۔۔

کیونکہ راجہ جہانگیر کے پاس جو کچھ تھا وہ معراج کا ہی تو تھا۔۔۔

وہ جس محول میں پلا بڑا تھا وہاں کی عورتوں کو اسنے ہمیشہ کھلا اور بے حیا ہی پیایا تھا۔۔۔

وہ عورتوں کی عزت تو ویسے ہی نہیں کرتا تھا اور اب جس محول سے وہ سب دیکھ کر آرہا تھا ۔۔۔اب تو اس کو عورت زات انتھائ بےکار شیے لگنے لگی تھی۔۔۔

جو صرف ایک دل بھلانے اور اپنی نفس کی خواہش پوری کرنے کی چیز ھے۔۔۔۔۔

جب کہ کوسم نے اسکی بہت اچھی تربیت کی تھی۔۔۔۔لیکن وہ اب کوسم کی ہر بات کا الٹ کر رہا تھا۔۔۔۔

وہ اپنے بچپن سے بھاگنا چھاتا ۔۔۔۔۔

وہ کوسم سے خفا تھا۔۔۔۔۔

اسکا دل بچین رہتا تھا۔۔۔۔

وہ خود کو جان کر تکلیفیں دیتا تھا۔۔۔اور اپنی زات کو انتھائ سخت دل بنا لیا تھا۔۔۔۔۔

وہ عورتوں کے ساتھ تعلقات قائم کرتا اپنے مزے لیتا اور چھوڑ دیتا۔۔۔۔

کسی کے رونے بلکنے کا اس پر اثر نا ھوتا تھا۔۔۔۔۔

اسکو اکثر خواب بھی اتے تھے جس میں وہ اکثر کوسم کو دیکھتا تھا۔۔۔۔لیکن وہ اب اپنے بچپن سے نفرت کرتا تھا۔۔۔

وہ ہر ایک شے سے نفرت کرتا تھا۔۔۔۔

اور ان ہی حالت میں اس کی ملاقات دعا سے ھوئ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

معراج نے دعا کو اپنے ماضی کی ایک ایک بات بتا چکا تھا۔۔۔۔

جو درد وہ پچھلے کتنے سالوں سے جھیل رہا تھا اسکا پردہ اج اس نے فاش کیا تھا۔۔۔

جو زلم۔اس کے ساتھ معصوم عمر میں ھوئے تھے۔۔۔۔۔۔

دعا حد سے زیادہ حیران تھی۔۔۔۔اس کے پاس کہنے کو کچھ نا تھی۔۔۔۔

زندگی نے واقعی معراج کے ساتھ زیاتی کی تھی۔۔۔۔۔

دعا ؟؟؟؟؟

معراج نے سب کچھ بتانے کے بعد اسکو پکارا تھا۔۔۔

جی ؟؟؟؟

دعا نے فورن کہا تھا۔۔۔۔

معراج اسکی گود سے اٹھ کر اب اس کے سامنے روبارو بیٹھا تھا۔۔۔

دعا !!!

میں نے کبھی عورت کو اچھا نہیں سمجھا۔۔۔۔۔

میں سمجھتا تھا عورت ایک انتھائ کمزور چیز ھے۔۔۔۔۔

اور سب کی سب ایک جیسئ ھوتی ھیں۔۔۔

پ تم نے میری سوچ کا منہ توڑ جواب دیا ھے۔۔۔۔

میں نے جو تمھارے ساتھ کیا اسکی شاید معافی بھی نہیں ھوگی۔۔۔۔

لیکن مجھے اپنی ہر ایک غلطی کا احساس ھے۔۔۔۔۔

ھوسکے تو مجھے معاف کر دینا۔۔۔۔

معراج واقعی میں شرمندہ نظر آرہا تھا۔۔۔۔

دعا حیران تھی۔۔۔اسلیے کچھ نا بولی۔۔۔۔

اس کے زہن میں سو سوال تھے۔۔۔۔

لیکن وہ اس وقت خاموش رہی معراج نے جو راض اسکو بتایا تھا وہ واقعی دل چھیر دینے والا زاض تھا۔۔۔۔

معراج اٹھ کر اب پھر دوکان سے باہر آگیا تھا۔۔

ہلکی ہلکی صبح ھو رہی تھی۔۔۔

اندھیرا جا چکا تھا۔۔۔

جو منظر رات کو خوفناک لگ رہا تھا اب وہی منظر حسین دکھائ دے رہا تھا۔۔۔۔

معراج کے پیچھے پیچھے دعا بھی باہر نکلی تھی۔۔۔۔اور اکر معراج کے برابر میں کھڑی ھوئ تھی۔۔۔۔۔

ہر اندھیری رات کے بعد ایک روشن صبح ضرور ھوتی ھے۔۔۔۔

اندھیرا چھائے کتنا ھی کیوں نا۔۔۔۔روشنی کی چھوٹی سی کرن اس اندھیرے کو مار دیتی ھے۔۔۔۔۔

ایک اندھیری اور خوفناک رات کے بعد ہی روشن صبح کا آغاز ھوتا ھے۔۔۔۔۔

جو منظر رات کو خوفناک دیکھائ دیتے ھیں در حقیقت روشن دن میں وہ منظر بے حد حسین ھوتے ھیں۔۔۔۔

دعا نے بہت گھیری بات کی تھی۔۔۔۔۔

معراج ؟؟؟

دعا اسکی طرف پلٹی تھی۔۔۔

میں اپکا درد کم نہیں کر سکتی پر اتنا ضرور کہو گی کہ اس میں اپکی ماما کی کوئ غلطی نہیں۔۔۔انھوں نے اپ سے کوئ وعدہ خلافی نہیں کی۔۔۔

بس اللہ نے انکی زندگی اتنی رکھی تھی۔۔۔۔

معراج ابھی کچھ بولنے ہی والا تھا کہ تیز ہلی کوپٹر کی آواز نے معراج اور دعا کو پلٹنے پر مجبور کیا تھا۔۔۔۔۔

ہلی کوپٹر انکو ریسکیو کرنے آگیا تھا۔۔۔

چلو۔۔۔۔۔

معراج اگے ہلی کوپٹر کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔۔۔۔

روکیں۔۔۔۔معراج۔۔۔۔۔۔۔

دعا نے معراج کو روکا تھا۔۔۔

مجھے امید ھے کہ یہاں گزری ھوئ رات کی روشن صبح کی روشنی ا اب کبھی اپکی زندگی کو اندھیرے میں تبدیل نہیں ھونے دے گی۔۔۔

ان پہاڑیوں میں سے جانے سے پہلے خود سے ایک وعدہ کریں۔۔۔۔

کہ اپ وہ اندھیرا اب اپنی زندگی میں کبھی نہیں ھونے دیں گے ۔۔۔

جتنا ڈر سے ہم ڈرتے ھیں اتنا ڈر ہمیں ڈراتا ھے۔۔۔۔۔

ڈر سے انکھیں ملا کر اسکو دیکھو ڈر ڈر کر بھاگ جاتا ھے۔۔۔۔!!!!

اور اج اپ اپنا ماضی یہاں چھوڑ کر جائیں گے۔۔۔۔۔۔

دعا نے معراج کو سمجھایا تھا۔۔۔۔۔

جس کا جواب معراج نے صرف ہمممم میں دیا تھا۔۔۔۔

اور پھر دونوں اپنا تمام سامان لے کر ہلی کوپٹر میں بیٹھ گئے تھے ۔ ۔۔۔۔۔

ہلی کوپٹر ہوا میں اڑ رہا تھا۔۔۔۔سیف الملوک کی پہاڑیاں دور ھوتی دیکھائ دے رہی تھے۔۔۔۔

معراج اور دعا دونوں ان پہاڑیوں کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔

یہاں گزری ھوئ رات واقعی ایک روشن صبح لے کر انکی زندگیوں میں ائ تھی۔۔۔۔

دعا کے دل میں معراج کی محبت پیدا ھوئ تھی۔۔۔

اور معراج نے اپنے ماضی سے چھٹکارا حاصل کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ رات ایک بہت یادگار رات تھی۔۔۔۔۔۔

معراج نے دور جاتی پہاڑیوں کو دیکھ کر دل میں شکریہ کہا تھا۔۔۔۔۔

اور دعا نے دور جاتی پہاڑیوں کو دیکھ کر الوداع کہا تھا۔۔۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

ہلی کوپٹر نے انکو ناران کے ایک کھلی جگہ پر اتا تھا وہاں سے بلاج نے اکر انکو پیک کر لیا تھا۔۔۔۔

بلاج اور رملا دونوں ہی معراج اور دعا سے بے حد شرمندہ تھے۔۔۔۔

دعا معراج پلیز مجھے معاف کردو۔۔۔۔

میری وجہ سے تم لوگ نے ایک خوفناک رات گزاری۔۔۔۔

رملا نے دعا کے گلے لگتے ھوئے معراج اور دعا نے معافی مانگی۔۔۔۔

نہیں بھابی۔۔۔معافی مت مانگے۔۔۔۔کل کی رات خوفناک نہیں تھی۔۔۔۔۔

معراج نے رملا کو دیکھ کر مسکرا کر کہا تھا۔۔۔۔

دعا نے بھی رملا کو پیار سے گلے لگایا تھا۔۔۔

دعا اور معراج کافی تھک چکے تھے اس لیے فورن کمرے میں آرام کرنے آگئے تھے اس وقت صبح کے 9 بجے تھے۔۔۔

دعا ۔۔۔۔؟؟؟

دعا جب نھا کر باہر نکلی تو معراج ابھی نماز پڑھ کر فارف ھوا تھا۔۔۔۔۔

اور اسکو پکارا تھا۔۔۔۔

جی ؟؟؟

دعا نے اپنے گیلے بال خوشک کرتے ھوئے کہا ۔۔۔۔۔۔

Thankyou……

معراج نے دعا کو دیکھ کر مسکرا کر کہا۔۔۔۔

کس لیے ؟؟؟

دعا نے حیران ھوکر پوچھا۔۔۔۔۔

بس دل نے کہا تو کہہ دیا ۔۔۔۔۔

معراج نے مسکرا کر کہا۔۔۔اور دھپ سے بیڈ پر لیٹ گیا۔۔۔۔

افف میں تو بہت تھک گیا ھوں۔۔۔۔۔

تم بھی سو جاو تھوڑی دیر۔۔۔۔۔

معراج نے بیڈ پر لیٹتے ھوئے دعا کو مشورہ دیا تھا۔۔۔۔

ہممم اچھا۔۔۔۔دعا نے مختصر کہا تھا۔۔۔۔۔

اور سنو ؟؟؟

معراج نے پھر اسکو پکارا تھا۔۔۔

صوفے پر سونے کا تکلف نا کرنا۔۔۔۔۔

معراج نے شرارت سے کہا تھا…..کل تو لوگوں نے میرے سینے کو ہی اپنا تکیہ بنایا ھوا تھا۔۔۔۔

معراج نے دعا کو چھیڑا تھا۔۔۔۔

دعا کو عجیب سی شرم محسوس ھوئ تھی۔۔۔۔اس نے اپنا سر جھکا لیا تھا اور ڈوپٹہ آوڑھ کر جانماز پر کھڑی ھو گئ تھی۔۔۔۔

معراج سو چکا تھا۔۔۔۔

دعا نے نماز پڑھی تھی اور اب جاکر صوفے پر لیٹ رہی تھی جب معراج کی بات اسکو یاد ائ تھی اور ایک دم اسکے لبوں پر مسکراہٹ بکھری تھی۔۔۔۔۔۔

وہ خاموشی سے اکر معراج کے برابر میں لیٹ گئ تھی۔۔۔۔

معراج بے سود سو رہا تھا۔۔۔۔

اج اسکے چہرے پر سکون ھی سکون تھا۔۔۔۔۔

دعا ایک ٹک اسکو دیکھے جارہی تھی۔۔۔۔۔

میں نے سوچا تھا میں ساری عمر تم سے نفرت کروں گی۔۔۔۔

لیکن نجانے کب تم نے میرے دل میں جگہ بنا لی۔۔۔۔۔

مجھے تم حد سے زیادہ برے لگتے تھے۔۔۔

تم میں ہر ایک برائ تھی۔۔۔۔

لیکن اب ۔۔۔۔۔تمھارے اس روپ سے مجھے !!!!!

دعا اپنے دل میں کہتے کہتے بھی رکی تھی۔۔۔۔۔

تم سے نفرت کرنا میرے لیے زیادہ آسان تھا۔۔۔۔

پر اب !!!!

دعا معراج کو دیکھتے دیکھتے ہی سو گئ تھی۔۔۔۔

معراج کی جب انکھ کھلی تو وہ دعا کے بلکل قریب کروٹ سے گھسا لیٹا تھا اور دعا کا ہاتھ اس کی کمرے پر تھا۔۔۔

معراج نے مسکرا کر دعا کو دیکھا تھا۔۔۔

بس کردو یہ دوری کا رشتہ دعا۔۔۔

مر رہا ھوں تمھارے پاس انے کے لیے۔۔۔۔

معراج نے سوتی دعا کو دیکھ کر کہا تھا۔۔۔۔۔۔

پر میں جب تک تم سے اپنے دل کی بات نا کہو گا جب تک تم مجھ سے عشق نا کرنے لگو۔۔۔۔

ماما کی دوری تو برداشت کرلی تھی تمھاری دوری برداشت نہیں کر پاوں گا۔۔۔۔۔

دعا !!!!!!!

میں مرجاوں گا۔۔۔۔

معراج نے دعا کے سوتے وجود سے کہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

بلاج اور رملا کے کمرے میں دستک ھوئ تھی۔۔۔بلاج نے دروازہ کھولا تو دعا معراج اندر داخل ھوئے تھے۔۔۔۔

اور بھئ آرام کرلیا اپ دونوں نے ؟؟؟؟

رملا نے مسکرا کر پوچھا تھا۔۔۔۔

جی کر لیا دعا نے مسکرا کر جواب دیا تھا۔۔۔۔۔

ویسے کل کی رات کافی romantic رہی ھوگی نا۔۔۔۔۔

رملا نے ہمیشہ کی طرح چھیڑ خانی شروع کی تھی۔۔۔۔

رملا کی بات پر معراج نے دعا کو اور دعا نے معراج کو دیکھا تھا اور دونوں ہی زور سے ھنسے تھے۔۔۔۔۔۔

کیا ھوا تم دونوں ھنس کیوں رہے ھو ؟؟؟

بلاج نے اج پہلی بار معراج کو اس طرح کھلکھلاتے ھنستا دیکھا تھا۔۔۔۔

کچھ نہیں بھابی بس اپکی بات پر ھنسی اگئ۔۔۔معراج نے اپنی ھنسی روک کر کہا۔۔۔

کیوں ایسا بھی کیا ھوا اس رات میں۔۔۔۔رملا بھی کہاں چھوڑنے والی تھی۔۔۔۔

بس کچھ خاص نہیں بھابی۔۔۔۔

اندھیرے سے روشنی کا سفر طے کیا۔۔۔۔۔کسی ہم سفر کے ساتھ۔۔۔۔

معراج نے دعا کو دیکھ کر رملا کو کہا۔۔۔۔

اووووووووو کیا بات ھے لگتا ھے سیف الملوک کی جھیل نے کافی گھیرا اثر ڈالا ھے۔۔۔۔۔۔

رملا نے ھسن کر کہا۔۔۔

اچھا میں اور دعا نیچے تھوڑی دیر مال روڈ گھومنے جارہے ھیں۔۔۔۔۔

تم لوگ بھی نیچے آجاو پھر تھوڑا اگے تک چلیں گے۔۔۔۔۔۔

ویسی کل واپس جانا ھے ۔۔۔۔۔

معراج بلاج کو بول کر دعا کے ساتھ باہر نکل گیا تھا۔۔۔۔

وہ دونون باہر ائے تو برف نے ہر ایک شے کو سفید کر رکھا تھا۔۔۔۔۔۔

ناران کا مال روڈ بہت حسین تھا۔۔۔بہت سارے لوگ مختلیف دوکانوں پر کھڑے سامن لے رہے تھے ۔۔۔۔

ٹھنڈ بھی بہت اچھی تھئ۔۔۔۔

کافی پیو گی ؟؟؟

معراج نے دعا سے پوچھا تھا۔۔۔۔

جی !!! دعا نے فورن کہا تھا۔۔۔

معراج اور دعا چلتے ھوئے کافی والے کے پاس ائے تھے۔۔۔۔

اور کافی لے کر ہلکے ہلکے مال روڈ پر چل رہے تھے۔۔۔۔

مل روڈ ناران کی کافی بڑی مارکیٹ تھی۔۔۔

معراج کافی پی رہا تھا جب اس نے دیکھا کہ اس پاس سے گزتے لڑکے دعا کو بہت غور غور سے دیکھ رہے ھیں۔۔۔۔

اسکو ایک دم ہی غصہ آیا تھا۔۔۔۔

اس نے دعا پر نظر ڈالی تو وہ بڑے مزے سے کافی پینے میں مصروف تھی۔۔۔

فون کلر کے حجاب میں اور پینک جیکٹ میں دعا بہت حسن لگ رہی تھی۔۔۔۔۔

معراج کو دعا کو دیکھتے ھوئے بے حد پیار آتا تھا۔۔۔۔

دعا کے چہرے پر حد سے زیادہ معصومیت اور بھول پن تھا۔۔۔۔۔

وہ دونوں ساتھ چلتے چلتے آرہے تھے جب دعا کی نظر گول گپوں پر پڑی تھی۔۔۔۔

وہ گول گپوں کی دیوانی تھی۔۔۔۔۔

اس کے منہ سے ایک دم گول گپوں کو دیکھ کر نکلا تھا۔۔۔

ہائے پانی پوری !!!!

اور وہ اس ٹھیلے کی طرف لپکی تھی۔۔۔۔

معراج بھی اسکے پیچھے آیا تھا۔۔۔۔

یہ کیا چیزیں کہا رہی ھو۔۔۔۔

پاگل ھو گلہ خراب ھوجائے گا۔۔۔۔معراج نے فورن کہا۔۔۔۔

نہیں ھوتا ۔۔۔

کچھ نہیں ھوتا۔۔۔دعا نے ھنس کر کہا۔۔۔

بھیا اپ دو پلیٹ پانی پوری بنا دیں۔۔

دعا نے کافی معراج کو تھاما کر کہا۔۔۔۔۔

اور سنیں بھیا۔۔۔

مرچیں زارہ زیادہ۔۔۔۔۔

دعا کا موڈ اج کافی اچھا تھا۔۔۔۔

گول گپے والے نے گول گپے دعا کے سامنے رکھے تو اسنے ایک گول گپا اٹھا کر املی کی پانی میں بھیگو کر منہ میں ڈالا تھا۔۔۔۔۔

امممممممم مزہ اآگیا۔۔۔۔

دعا ایک کے بعد ایک گول گپا کھا رہی تھی۔۔۔۔

معراج اسکو ایسے گول گپے کھاتا دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

جیسے دعا کوئ بہت انوکھا کام کرہی ھے۔۔۔۔

کیا ھواا؟؟؟

دعا نے معراج کئ حرت سے دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔

کیا واقعی یہ بہت مزے دار ھوتے ھیں ؟؟؟

معراج نے کبھی اس طرح کی چیزیں ٹرائے نا کی تھی۔۔۔

اور اب دعا کو اتنے مزے سے گول گپے کھاتا دیکھ کر اسکا بھی دل چہا رہا تھا۔۔کہ وہ گول گپے کھائے۔۔۔

افففف اپنے کبھی گول گپے نہیں کھائے؟؟؟

دعا نے حیرت سے پوچھا تھا۔۔۔۔

تو اپنے کیا ہی کیا ھے زندگی میں۔۔۔۔۔دعا نے ایک اور گول گپا منہ میں ڈال کر کہا۔۔۔۔

دعا معراج سے اج پہلی بار اتنی خوش اخلاقی سے پیش آرہی تھی۔۔۔۔

بھیا ایک اور پلیٹ بنا دیں ۔۔

دعا نے تسیری پلیٹ کا کہا۔۔۔۔

یہ کس لیے ؟؟

معراج نے حیران ھوکر پوچھا۔۔۔۔

اپ کے لیے اور کس لیے ؟؟؟؟؟

جب کوئ چیز کھائ نہیں تو اسکا مزہ کیسے معلاوم ھوگا۔۔۔۔۔۔

دعا نے بڑے انوکھے انداز میں کہا تھا۔۔۔۔اچھا چلو ٹارئے کرتا ھوں۔۔۔۔۔

دعا نے پلیٹ معراج کے سامنے کی۔۔۔۔تو معراج نے گول گپا اٹھا کر اسکو چاروں طرف سے دیکھا ۔۔۔

اپکو اسکا xray نہیں کرنا کھانا ھے۔۔۔دعا نے ھنس کر کہا۔۔۔۔

پہلے اسکو پانی میں دالیں اور پھر کھائیں ۔

دعا نے معراج کو خود ایک گول گپاکھا کر طریقہ بتایا۔۔۔۔

معراج نے ایک پانی پوری اٹھا کر املی کے پانی میں ڈالی تو وہ ٹوٹ گئ۔۔افففف اپ بھی نا۔۔۔۔۔

دعا نے ایک پانی پورئ اٹھائ اور معراج کے منہ میں ڈال دی۔۔۔۔

اور معراج کے reaction کا انتیظار کرنے لگی۔۔۔۔

معراج نے پہلے تو کوئ reaction نا دیا لیکن !!