Zid Junoon Ki Inteha By SA Khanzadi NovelR50423 Zid Junoon Ki Inteha Episode 21
No Download Link
Rate this Novel
Zid Junoon Ki Inteha Episode 21
Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi
کمرے میں داخل ھوا تو کمرے کی تمام لائٹس آف تھی۔۔۔۔بس دعا کا side table کا lamp کھولا تھا۔۔۔
دعا بیڈ پر سوئ ھوئ تھی۔
معراج دھیرے دھیرے قدم بڑھاتا دعا کے پاس پھنچا تھا۔۔
اور ایک نظر دعا پر ڈالی تھی۔
مدھم روشنی میں دعا کا سفید چہرہ مزید چمک رہا تھا۔
اور وہ بلکل بے خبر سو رہی تھی۔۔۔
اس کی حسین رلفیں اڑ اڑ کر اس کے منہ پر آرہی تھی۔
معراج دو پل کھڑا اپنی نشیلی انکھوں سے دعا کو دیکھتا رہا ۔
دعا کا حسن گھائل کرنے والا تھا اور اس وقت سوتے ھوئے معراج کو یہ لڑکی دنیا کی حسین ترین لڑکی دیکھائ دے رہی تھی۔
معراج کا دل زور زور سے ڈھڑک رہا تھا۔۔۔
معراج تھوڑی دیر کھڑا دعا کو دیکھتا رہا.
پھر دوبارہ اس کے زہن میں ہما کے وہ الفاظ گونجے تھے۔۔
وہ بیوی جس نے تمھیں اب تک تمھارے حق تک نہیں دیے ؟؟
تمھیںں جو سکون میں دے سکتی ھوں۔۔
وہ دعا نہیں دے سکتی۔۔
ہما کی بات زہن میں اتے ھی معراج کا دماغ خراب ھوا تھا۔۔
اور وہ جھک کر دعا کی چادر ھٹانے ہی لگا تھا۔
کہ دعا نے ایک دم کروٹ بدل لی تھی۔
معراج کو ایک دم دعا کی آواز اتی محسوس ھوئ تھی۔
جو بول رہی تھی۔
تم اپنی حوس پوری کرلو گے لیکن میری روح ہمیشہ تم سے نفرت کرے گی
تم نے جس دن اپنے حق زبردستی لینے کی کوشش کی اس دن میں اپنی جان لے لوں گی۔
معراج ایک گھیری سانس لے کر پیچھے ھوا تھا۔
اففف یہ میں کیا کر رہا ھوں؟
کیا ھوگیا ھے مجھے۔؟
معراج نے خود سے پوچھا تھا۔۔۔
اور اکر صوفے پر لیٹ گیا تھا
اس وقت معراج حد سے زیادہ ٹھکا ھوا تھا
یہ تھکن صرف جسمانی نہیں تھی یہ تھکن روح کہ تھکن تھی۔
معراج اس وقت ایک سکون کی جگہ چھاتا تھا۔۔
معراج کا اس وقت دل کر رہا تھا کہ وہ پھوٹ پھوٹ کر چھوٹے سے بچے کی طرح روئے۔۔
معراج کی انکھیں ایک دم ھی بھیگی تھی۔
اور اس کو عجیب سا خوف محسوس ھوا تھا۔
وہ صوفے سے اٹھ کر دعا کے برابر میں اکر خاموشی سے لیٹ گیا تھا۔
دعا کی نیند کافی پکی تھی شروع سے اس لیے اس کو حساس نا ھوا تھا۔۔
دعا معراج کی ہی طرف رخ کر کے بے خبر سوئ ھوئ تھی۔۔
معراج دو پل دعا کو دیکھتا رہا۔
وہ دعا کے حد سے زیادہ پاس لیٹا تھا۔
معراج کو دعا کی سانسیں محسوس ھو رہی تھی۔۔۔
دعا کی خوشبو اج پہلی بار معراج نے محسوس کی تھی۔۔۔۔اور یہ خوشبو اس کو ایک روحانی سکون بخش رہی تھی
وہ ایک ٹک دعا کو دیکھا جا رہا تھا۔
کتنا نور والا چہرہ تھا دعا کا
کتنی پاک تھی وہ۔
اور اللہ نے یہ پاک چیز اس کو نصیب کی تھی۔۔۔
لیکن وہ پاک وجود اس سے حد سے زیادہ نفرت کرتا تھا۔۔۔
اچانک اس کی انکھوں سے انسو گیرنے لگے تھے
اس کو ایک عجیب سا سکون سا محسوس ھو رہا تھا
دعا
معراج نے انتھائ بے بسی کے عالم میں دعا کو پکارا تھا
دعا
مجھے تمھاری بہت ضرورت ھے
میں اندر سے بہت اکیلا ھوں دعا۔
پلیز تم تو مجھے سمجھو نا۔
مجھے کوئ نہیں سمجھتا پر تم تو میری ہمسفر ھو۔
تم تو سمجھو مجھے۔
مجھے ہر ایک چھوڑ کر چلا جاتا ھے ۔
پلیز تم مجھے کبھی چھوڑ کر مت جانا دعا
معراج اس وقت بچے کی طرح سوتی دعا سے منت کر رہا تھا۔
دعا مجھے تمھاری حوس نہیں ھے۔۔
میں بہت اکیلا ھوں
بچپن سے اکیلا ھوں۔
تھک گیا ھوں اکیلے چلتے چلتے میں۔۔ل
معراج ہلکی آواز میں دعا کے پاس لیٹ کر ہی سب بول رہا تھا
شائید اپنے دل کا غبار نکال رہا تھا۔۔
دعا میں رونا چھاتا ھوں
اپنا درد کم کرنا چھاتا ھو ۔
پلیز دعا مجھے سمجھو پلیز
معراج کافی دیر دعا کے پاس اسی طرح لیٹا رہا ۔۔
وہ دعا کو چھونا چھتا تھا پر دعا کی نیند خراب ھونے کے ڈرد سے وہ بلکل ساخت لیٹا دعا کو تک رہا تھا۔۔
اگر دعا اٹھ جاتی تو ایک پل میں اٹھ کر اس سے دور چلی جاتی اور معراج اسکی قربت سے دور ھوجاتا۔۔
اس لیے وہ پوری رات اس طرح ساخت لیٹا دعا کو دہکھتا رہا۔۔
معراج کو حد سے زیادہ سکون ملا تھا۔۔
وہ سکون جو وہ دھونڈ رہا تھا وہ تھوڑا سا سکون معراج کو دعا کی خوشبو میں ملا تھا۔۔۔
اسنے پوری رات دعا کو دیکھ کر گزاری تھی۔
دعا کی ایک ایک عادا ایک ایک حرکت معراج نے اپنے دل میں اترتی محسوس کی تھی۔
اور صبح ھوتے ھی وہ اٹھ کر اکر اپنی جگہ پر لیٹ گیا تھا اور کچھ پل میں ہی سو گیا تھا۔
یہ کیفیت کیوں تھی اس سوال کا جواب معراج کے پاس تھا لیکن وہ خود نہیں جانتا تھا کہ وہ اس سوال کے جواب سے واقف ھے۔۔
☆☆☆☆☆☆☆
دعا کی جب انکھ کھلی تو صبح کے 10 بجے تھے۔
اس کو نیند سے جاگنے کے بعد محسوس ھوا جسے اس کے برابر والی جگہ پر کوئ سویا ھوا تھا۔۔۔۔اس نے اٹھ کر دیکھا تو کوئ نا تھا۔۔۔
اور معراج سامنے صوفے پر بے سد سو رہا تھا۔۔
دعا خاموشی سے اٹھی تھی اور اپنے کپڑے الماری سے نکالے تھے۔
باتھ روم میں جاتے جاتے اسکی نظر سوتے معراج پر پڑی تو وہ اسی طرح جوتے سمیت سو رہا تھا۔
وہ سمجھ چکی تھی کہ پارٹی سے معراج کس حالت میں ایا ھوگا۔۔۔
افففف
دعا کے قدم معراج کی طرف موڑے تھے۔
اسنے معراج کے پاس اکر معراج کی چادر ٹھیک کی تھی۔۔۔اور معراج کے پاوں سے اس کے جوتے اتارے تھے۔۔
عجیب انسان ھے یہ۔۔
پوری رات اپنے دوستوں کے ساتھ نشے کرتے ھیں اور دن میں گدھے گھوڑے بیج کے سوتے ھیں ۔
دعا نے معراج کے پاوں سے جوتے اتار کر سائیڈ میں رکھے تھے۔۔۔اور اب کھڑے ھوکر اسکو دیکھ رہی تھی۔۔
اخر اللہ نے یہ چیز کیا پیدا کی ھے ؟
دنیا میں اگر 8وا عجوبہ کون ھے مجھ سے پوچھا جاتا تو میں یقینن اسکا نام لیتی۔۔
خیر چھوڑو۔
دعا نے معراج پر ایک نظر ڈالی اور باتھ روم کی طرف بڑھ گئ۔۔
باتھ روم سے جب وہ نھا دھو کر نکلی تو تیار ھو کر فورن ھی نیچے آگئ تھی
رملا کے ساتھ دعا کو وقت گزارنا اچھا لگتا تھا۔
دعا نیچے ائ تو روحان اور علیان بھاگتے ھوئے اسکے پاس ائے تھے۔
چاچی اٹھ گئ۔۔۔
دعا نے باری باری دونوں کو چوما تھا۔
پھر رملا کو اکر سلام کیا تھا۔۔
اسلام علیکم
وعلیکم اسلام کیا حال ھے دعا ؟
رملا نے خوشی سے پوچھا تھا
ٹھیک ھوں۔
اپ کیسی ھیں بھابی ؟؟
میں بھی ٹھیک ھوں دعا۔
ابھی دعا اور رملا کھڑی باتیں ھی کر رہی تھی کہ لاوئنج میں بلاج اور بریرہ بیگم داخل ھوئے تھے۔۔
ارے دعا اٹھ گئ کیسی ھو ؟
بیٹا ؟؟
بریرہ بیگم نے پیار سے دعا کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا۔۔
میں ٹھیک ھوں !!!
دعا نے مسکرا کر جواب دیا تھا۔۔۔۔
دعا معراج کہاں ھے ؟
اب کے بلاج نے سوال کیا تھا۔۔۔۔
وہ سو رہے ھیں۔۔۔۔دعا نے مختصر سا جواب دیا۔۔۔۔
لو موصوف ابھی تک سو رہے ھیں۔۔۔۔وہ دراصل ہماری فلائٹ جلدی ھوگئ ھے۔۔۔ہمیں یہاں سے ائرپورٹ کے لیے 7 بجے تک نکلنا ھے۔۔
اور ابھی 12 بجنے والے ھے۔۔۔
تم ایک کام کرو جاکر معراج کو اٹھا لو ھوسکتا ھے جانے سے پہلے اسکو اپنے کچھ کام نمٹانے ھو۔۔۔۔۔بلاج نے کرسی پر جگہ سنبھالتے ھوئے دعا کو پوری بات بتائ۔۔۔۔
اچھا۔۔
دعا نے مختصر سا جواب دیا۔۔
معراج کو اٹھانے کے نام پر دعا کا چہرہ سفید ھوا تھا۔۔۔جسکو رملا نے محسوس کیا تھا۔
ہاں جاو دعا تم معراج کو اٹھا دو۔
رملا نے اپنی ھنسی دبا کر کہا تھا۔
میں کیسے
دعا کو سمجھ نا آیا کہ وہ کیا بھانا کرے
کیا مطلب میں کیسے بیوی ھو تم اسکی
رملا نے فورن کہا۔
اچھا جاتی ھوں
دعا کوئ بھانہ تلاش کر رہی تھی۔۔۔جب ھی بلاج نے کہا۔۔۔جاتی نہیں ھوں بھابی صاحبہ اپ فورن جائیں۔۔۔۔بلاج بھی دعا کی گھبراہٹ سے لطف اٹھا رہا تھا۔
بریرہ بیگم کچھ بولنے والی تھی جب ہی رملا نے انکھیں دیکھا کر انکو چپ رہنے کو کہا تھا۔۔
بریرہ بیگم خاموش ھوگئ تھی۔
دعا مرے قدم سے چلتی واپس اپنے کمرے کی طرف بڑھی تھی۔
دعا کے جانے کے بعد بریرہ بیگم نے فورن رملا سے کہا۔
لیکن رملا تمھیں پتا تو ھے معراج کو کوئ کچی نیند سے اٹھائے تو وہ کیا کرتا ھے اور تم نے دعا کو بھیج دیا۔
ماما یہ ہی تو دیکھنا ھے۔۔۔جناب اپنی بیگم سے بھی ایسے پیش اتے ھیں یا۔۔
رملا اپنی بات ادھوری چھوڑ کر ھنسی تھی اور بلاج کو دیکھا تھا۔۔۔۔
بلاج اور رملا معراج اور دعا کی دوری کو سمجھ چکے تھے اور اب دونوں معراج اور دعا کو پاس لانا چھاتے تھے۔۔
☆☆☆☆☆☆☆
دعا کمرے میں داخل ھوئ تو معراج بے سد پڑا سو رہا تھا۔
پہلے اسکو سمجھ نا آیا کہ وہ معراج کو کیسے جگائے۔
دعا معراج کے پاس جاکر صوفے کے قریب کھڑی ھوئ
اور معراج کو آواز دی۔۔
۔سنیں۔۔
معراج جس طرح سورہا تھا اسی طرح سوتا رہا۔
سنیں
دعا نے اب تھوڑی اونچی آواز میں کہا تھا۔
تب بھی معراج پر کوئ اثر نا ھوا تھا۔۔۔اففففف کوئ اتنی پکی نیند بھی سوتا ھے کیا۔۔۔
۔دعا کو کوفت ھوئ تھی۔۔۔۔۔وہ معراج کو چھونا نہیں چھاتی تھی۔
اس لیے اپنا موبئل اٹھا کر اس نے رینگ ٹون لگا کر معراج کے کان کے پاس فون رکھ دیا تھا۔
اور رینگ ٹون بجتے ھی معراج ایک دم اٹھ کر بیٹھا تھا۔۔۔۔معراج کی پشت دعا کی طرف تھی۔
دعا کو ایک دم اس کے اسطرح اچانک اٹھنے پر بے ساختہ ھنسی آئ تھی۔
وہ ابھی مسکرار ھی رہی تھی کہ معراج نے پلٹ کر اپنی نیند بھری انکھوں سے اسکو دیکھا تھا۔۔۔۔اور اٹھ کر اسکی طرف بڑھا تھا۔۔
دعا کی ھنسی ایک دم ھی چھو منتر ھوگی تھی۔
معراج چلتا ھوا دعا کی طرف آرہا تھا اور دعا پیچھے تر پیچھے ھوئے جارہی تھی۔۔۔لیکن معراج روکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
دعا پیچھے ھوتے ھوتے اب الماری سے جاکر لگی تھی۔۔
اور معراج اکر دعا کے بلکل مقابل کھڑا ھوا تھا۔
معراج کی انکھیں نیند کی وجہ سے لال ھو رہی تھی۔۔بال بکھرے ھوئے تھے۔۔دعا کو پتا نہیں کیوں اسکی انکھوں سے خوف محسوس ھوا۔۔۔
دعا نے سائیڈ سے نکلنے کی کوشش کی تو معراج نے ہاتھ رکھ کر اسکا راستہ روکا۔۔
اور خود دعا کے سامنے اس طرح کھڑا تھا کہ دعا کے جانے کے تمام راستے بند تھے ۔
تمھیں نہیں پتا مجھے اس گھر میں کوئ کچی نیند سے اٹھائے تو میں کیا کرتا ھوں
معراج نے نیند سے بھر پور روب دار آواز میں کہا۔
دعا معراج کی اس قدر قربت سے ایک دم پزل ھوئ تھی۔۔۔
وہ بھابی نے ل
مجھے کچی نیند میں اٹھنے سے سخت نفرت ھے۔۔۔معراج نے دعا کی گھبراہٹ محسوس کی تھی۔
بولو کیوں اٹھایا۔۔۔؟؟؟
معراج دعا کے بکل پاس کھڑا کھڑا ہی پوچھ رہا تھا۔
وہ !
وہ بلاج بھائی
دعا ادھر ادھر دیکھ کر بات کر رہی تھی۔۔۔جب معراج نے اپنے ایک ہاتھ سے دعا کا منہ اپنی طرف موڑا تھا۔
تو دعا کی بڑی بڑی انکھیں معراج کی انکھوں سے جاکر ٹکرائ تھی۔۔
اگر تمھارا میرے بغیر دل نہیں لگتا تو بول دیا کرو نا
معراج نے انکھوں میں شوخی لاتے ھوئے کہا۔۔
ایسا کچھ بھی نہیں ھے۔۔۔۔دعا نے اب اپنی گھبراہٹ پر قابو پاکر کہا۔
وہ بلاج بھائ نے اپکو نیچے بلایا ھے۔۔۔۔مجھے کوئ شوق نہیں اپکو اٹھانے کا۔۔۔دعا نے نورمل لہجے میں کہا۔
ابھی معراج کچھ بولنے ھی والا تھا کہ ایک دم روحان اور علیان شور مچاتے کمرے میں داخل ھوئے تھے۔۔۔
معراج فورن دعا سے دور ھوا تھا۔
دعا کو اس وقت روحان اور علیان دو فرشتے لگے تھے۔۔۔
وہ بنا ایک پل لگائے کمرے سے باہر نکل گئ تھی۔۔۔
معراج نے ایک نظر جاتی دعا پر ڈالی تھی اسکو ایک دم کل رات یاد ائ تھی۔۔۔اس نے ایک گھیری سانس لی تھی اور پھر بچوں کے ساتھ باتوں میں لگ گیا تھا۔
میرا دل کرتا ھے ان کے سر پر کوئ چیز دے ماروں۔۔۔۔دعا نے کمرے سے باہر آکر بڑبڑاتے انداز میں کہا اور نیچے واپس اگئ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆
معراج جب نھا دھو کر نیچے آیا تو دعا سامنے ہی لاوئج میں بیٹھی تھی۔۔۔۔تمام لوگ وہاں موجود تھے۔۔۔سجل تو اج کل کسی سے بھی بات نا کرتی تھی۔۔۔۔
دعا کو معراج کے گھر والے سب ھی اچھے لگے تھے ۔بس جہانگیر صاحب سے دعا کی ملاقات کم ھی ھوا کرتی تھی۔۔۔
اور سجل کے تو پر جلتے تھے دعا سے ۔۔۔سجل یا تو اپنی کسی دوست کی طرف چلی جاتی یا گھر ھوتی تو اپنے کمرے میں رہتی۔
موصوف اٹھ گئے۔۔۔
۔بڑی بات ھے۔۔۔
رملا نے معراج کو دیکھ کر کہا۔۔۔
میں تو روز اٹھتا ھوں اس میں بڑی بات کیا ھے بھابی جی ؟
معراج کا موڈ اج بہت خوشگوار تھا۔۔۔۔
وہ دراصل کچی نیند سے اج اپ بہت اچھے موڈ میں اٹھے ھیں نا۔۔۔اس لیے۔۔جب ہم اٹھاتے تھے تو چیخ چیخ کر پورا گھر سر پر اٹھا لیتے تھے تم۔۔
رملا نے فورن معراج کو چھیڑا تھا۔
اھووو بھائی
اج اپ نے جو سپاہی بھیجا تھا مجھے اٹھانے بس یہ اسکا کا کمال ھے۔۔۔۔
معراج نے مسکرا کر کہا تھا اور ساتھ ھی دعا کو دیکھا تھا ۔۔۔۔جو سن کر بھی ان سنا کر رہی تھی ۔۔۔۔
اچھا جی۔۔۔۔معراج کی اس بات پر رملا بھی ھنسی تھی۔
تھوڑی دیر سب وہاں بیٹھے باتیں کرتے رہے ۔۔۔۔جب بلاج نے معراج کو بتایا کے فلائٹ جلدی ھوگئ ھے تو معراج نے کہا پھر مجھے ایک دو کام ھیں میں وہ نمٹا لوں ساتھ ھی بول کر وہ فورن کھڑا ھوا تھا۔۔۔اور باہر کی طرف چلا گیا تھا۔
کچھ پل بعد وہ اندر داخل ھوا تھا۔۔۔اور اب دعا کو پکارا تھا۔۔
دعا
چلو تیار ھو جاو ایک جگہ کام سے جانا ھے ۔۔۔
میں کار میں انتیظار کر رہا ھوں۔۔۔
معراج نے دعا کو کہا اور فورن باہر نکلا گیا دعا کو یہ بھی پھوچنے نا دیا کہ وہ کہاں جارہے ھیں۔۔
کچھ پل بعد ھی دعا چادر اور حجاب لے کر گاڑی میں اکر بیٹھ گئ تھی۔۔۔
معراج نے گاڑی روڈ پر نکالی تو دعا بنا پوچھے نا رہے سکی۔
ہم کہاں جا رہے ھیں ؟؟
اب تھمیں بھاگا کے لے جانے کا بھی کوئ فائدہ نہیں اب میری بیوی جو بن چکی ھو۔۔۔۔
معراج نے دعا کئ بات کا الٹا جواب دیا تھا۔۔
کیا اپ سیدھی بات کا سیدھا جواب کبھی نہیں دے سکتے ؟
دعا نے چیڑ کر کہا۔
دے سکتا ھوں۔۔۔۔پر جب میرا موڈ ھو۔
معراج نے ڈھٹائ سے کہا۔۔
میں اپ کے موڈ کی مھوتاج نہیں ھوں۔
دعا نے فورن کہا۔
تو بس خاموش بیٹھی رہو۔۔۔۔اب تو جہاں میں وہاں تم ۔
معراج نے مسکرا کر دعا کو جلانے کے لیے کہا۔۔
جی نہیں۔۔۔۔۔صرف کچھ دن مسٹر صرف کچھ دن۔۔۔۔
دعا نے اپنے ضدی انداز میں کہا۔
چلو دیکھتے ھیں میڈم۔۔
ابھی تو گاڑی سے اترو
معراج نے گاڑی ایک resturant کے سامنے لاکر روک دی تھی۔۔
مجھے بھوک نہیں دعا نے فورن کہا تھا۔
میں تمھیں کھانا کھلانے آیا بھی نہیں ھوں۔
معراج نے دعا کو جلاتے ھوئے کہا۔
پھر کیوں ائے ھیں؟
دعا نے سوالیہ نظروں سے معراج کو دیکھا
اپنی گرل فرینڈ سے ملوانے۔
معراج نے سیریس انداز میں کہا۔۔۔
تو دعا نے ایک پل میں اس کی بات کا یقین کیا۔۔
کیا؟
مجھے کوئ شوق نہیں۔
دعا نے فورن کہا۔
پر مجھے تو ھے نا چلو اب اترو۔
معراج نے دعا کی طرف کا دروازہ کھولتے ھوئے کہا۔
اففف کیا مصیبت ھے میں نے کہا نا مجھے نہیں جانا کہی۔
دعا نے چیڑ کر کہا۔
جانا تو پڑے گا میڈم۔
معراج نے دعا کا ہاتھ تھام کر کہا۔۔
میں نہیں جاوں گی۔۔۔۔اپ کی دوست ھیں اپ جائیں۔
دعا نے اپنا ہاتھ چھڑواتے ھوئے غصے سے کہا۔
دوست نہیں میری جان ھے وہ۔
معراج نے ھنس کر کہا تو دعا کو پتا نہیں کیوں غصہ سا ایا تو ؟
تو کیا کروں میں ؟
ایک بار مل لو اسے یار۔۔۔وہ دیکھنا چھاتی ھے تمھیں ۔۔۔معراج نے اب پھر دعا کا ہاتھ تھاما تھا اور تیزی سے اسکو لے کر ھوٹل میں داخل ھوا تھا۔۔
مجھے کسی سے نہیں ملنا چھوڑو میرا ہاتھ
اففف
دعا اپنا ہاتھ چھڑوا رہی تھی جب معراج اسکو لے کر ایک ٹیبل پر اکر رک گیا تھا۔
دعا نے ایک نظر ٹیبل پر بیٹھے لوگوں پر ڈالی تو اسکو اپنی انکھوں پر یقین نا آیا۔
سامنے نمرہ عمیر عمر اور سمیرا بیگم تھے۔
معراج نے دعا کا ہاتھ چھوڑا تو دعا فورن جاکر سمیرا بیگم کے گلے سے لگ گئ تھی۔
اور فورن ھی رونا شروع ھوگئ تھی۔۔
لو جی پھر میڈم رونا شروع معراج نے دل میں سوچا تھا۔۔
☆☆☆☆☆☆
سمیرا بیگم نمرہ عمیر عمر بہت خوش تھے کیونکہ وہ دعا سے اج پورے ایک ہفتے بعد مل رہے تھے
دعا کے چہرے پر ایک الگ طرح کی خوشی دیکھ کر معراج کے دل کو بھی سکون ھوا تھا۔
معراج نے کھانے کا order دیا تھا اور اب بیٹھ کر عمیر سے باتیں کر رہا تھا۔۔۔
عمیر اور معراج کی کافی حد تک دوستی ھو گئ تھی۔
آپی معراج بھائ کتنے اچھے ھیں نا جانے سے پہلے اپ کو ہم سے ملانے لے کر ائے ھیں۔۔
یہ معراج بھائ کا ہی سرپرائز تھا۔۔۔۔
نمرہ نے دعا کے پاس بیٹھ کر ہلکی سی آواز میں کہا۔۔
دعا خاموش رہی اور ایک نظر معراج پر ڈالی جو عمیر سے بات کر کے کسی بات پر ھنس رہا تھا۔۔۔۔۔اور اس وقت بہت حسین لگ رہا تھا۔
اپی وہ دیکھیں۔۔۔۔۔لڑکیاں کس طرح معراج بھائ کو دیکھ رہی ھیں
لڑکیاں مرتی ھیں معراج بھائ پر اپ واقعی بھائ بہت ھینڈسم ھیں
نمرہ نے دعا کو ساتھ والی ٹیبل پر بیٹھی لڑکیوں کی ٹیبل کی طرف اشارہ کر کہا۔
دعا نے جب نظر ادھر گھومائ تو واقعی لڑکیاں معراج کو دیکھ کر کر اپس میں باتیں کر رہی تھی ۔۔۔
دعا کو عجیب سا محسوس ھوا۔۔۔۔۔ تھا
جب لڑکیوں کی نظر دعا پر پڑی تو دعا نے نجانے کیوں ان لڑکیوں کو گھور کر غصے سے دیکھا تھا۔
لیکن وہ چپ رہی۔۔
اس کی گھوری سے اتنا ضرور ھوا تھا کہ وہ لڑکیاں سمجھ چکی تھی کہ یہ محترمہ اس کی بیوی ھے۔
تھوڑی ہی دیر بعد کھانا آگیا تھا۔۔
دعا نے محسوس کیا تھا کہ سمیرا بیگم بھی معراج کو بہت پسند کرتی ھیں ۔۔اور سب سے زیارہ دعا کو حیرت تب ھوئ تھی۔
جب معراج سمیرا بیگم کو بار بار امی کہہ کر پکارتا اور کھانا آفر کرتا۔۔
معراج تو اپنی سگی ماں کو امی نہیں کہتا تھا تو پھر ؟
سمیرا بیگم کو کیوں ؟؟
دعا ایک گھیری سوچ میں تھی اور معرج کو دیکھ رہی تھی خو سمیرا بیگم کو بول رہا تھا
امی اپ یہ لے لیں۔
وہ دعا کے گھر والوں کا خیال دعا سے زیادہ رکھ رہا تھا ۔
کبھی عمیر سے ھنسی مزاق کرتا تو کبھی نمرہ اور عمر کو چھیڑتا۔۔
کبھئ سمیرا بیگم سے باتیں کرتا تو کبھی دعا کو دیکھ کر مسکراتا۔۔
مجھے سمجھ نہیں آتا اس انسان کے کتنے روپ ھیں۔۔۔۔اور کونسا روپ اسکا اصلی روپ ھے۔
کس روپ پر یقین کرو اور کس روپ پر یقین نا کروں ۔
مجھے کیوں اسکی کا ہر عمل بناوٹی لگتا ھے۔۔
دعا نے دل میں سوچا۔۔
کیا ھوا دعا ؟
معراج نے دعا کو سچوں میں گم دیکھا تو پوچھا
کچھ نہیں۔
دعا نے مختصر سا جواب دیا۔۔۔
کھانا وغیرہ کھانے کے بعد کچھ دیر وہ لوگ بیٹھ کر باتیں کرتے رہے۔۔۔۔دعا کا دل بار بار احمد صاحب کو یاد کر رہا تھا۔۔۔۔اس نے سمیرا بیگم سے بھی احمد صاحب کا پوچھا تو سمیرا بیگم نے کوئ جواب نا دیا تھا۔
چلو دعا کافی دیر ھوگئ ھے؟
معراج نے گھڑی میں دیکھ کر کہا۔3 بج گئے ھیں۔۔۔۔اب ہمھیں چلنا چھائے
دعا کا دل بلکل نہیں چھا رہا تھا۔۔۔لیکن اب وہ لوگ اس کے لیے پرائے ھوچکے تھے۔۔
دعا بنا کچھ بولے خاموشی سے اٹھ گئ تھی۔
اچھا عمیر ہم چلتے ھیں بس تھوڑا ہی وقت رہے گیا ھے
جی بھای ضرور
بہت بہت شکریہ معراج بھائی
عمیر نے معراج کے گلے لگتے ھوئے کہا۔۔۔
بھائ بھی بول رہے ھو شرمندہ بھی کر رہے ھو
معراج نے ھنس کر کہا
پھر سمیرا بیگم نمرہ اور عمر سے مل کر دعا کی طرف پلٹا میں گاڑی میں انتیظار کر رہا ھوں تم مل کر آجاوں۔۔۔۔
دعا کو بول کر وہ فورن ھوٹل سے نکل گیا تھا
دعا
سمیرا بیگم نے دعا کو پکارا تھا۔۔
جی ؟
دعا نے سمیرا بیگم کا ہاتھ تھام کر کہا۔
دعا مجھے تمھارے اتیخاب پر بہت فکر ھے۔۔۔۔امید کرتی ھوں کہ جلدی تمھارے ابو بھی یہ ہی بولیں گے ۔۔۔معراج بہت اچھا لڑکا ھے بس مجھے لگتا ھے یہ تھوڑا ضدی ھے پر دل کا برا نہیں ھے دعا۔
سمیرا بیگم کی بات پر دعا خاموش رہی ۔
چلو اب تم جاو اور صفر پر معراج کا اور اپنا بہت خیال رکھنا۔۔۔۔اور معراج کا کسی صورت ساتھ مت چھوڑنا۔
سمیرا بیگم نے بہت گھیری بات کی تھی۔۔۔
ہم اچھا
دعا نے مختصر سا جواب دیا اور پھر بہن بھائیوں سے مل کر ھوٹل سے باہر نکل گئ تھی۔۔۔اور اکر گاڑی میں بیٹھ گئ تھی
دعا کے گاڑی میں بیٹھتے ھی معراج نے گاڑی اسٹاٹ کر دی تھی
اور تھوڑی ہی دیر بعد گاڑی لاکر اب ایک اور جگہ روک دی تھی۔
دعا نے اس بار یہ نا پوچھا تھا۔کیونکہ معراج نے جہاں گاڑی روکی تھی وہ احمد صاحب کی دوکان والی جگہ تھی۔
ہم یہاں ؟
دعا نے حیرت سے معراج کو دیکھا تھا۔
چلو اترو تو گاڑی سے ۔
معراج نے اپنی کار کی سیٹ بیلٹ کھول کر دعا کو اترنے کا اشارہ کیا تھا۔
دعا کو واقعی یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ وہی معراج ھے۔
معراج اور دعا گاڑی سے اتر کر ساتھ ساتھ اگے پیچھے چلتے ھوئے احمد صاحب کی دوکان میں پھنچے تھے۔
دعا کی انکھیں بھیگی ھوئ تھی۔۔
دعا نے ادھر ادھر نظر ڈالی تو اس کو احمد صاحب counter پر بیٹھے نظر ائے تھے جو اس وقت اپنے کام میں حد سے زیادہ مصروف تھے۔
جاو اپنے ابو سے مل لو جا کر ۔
معراج نے دوکان کے باہر روک کر دعا کو کہا تھا۔۔
ابو غصہ ھونگے۔۔
دعا کے منہ سے ایک دم نکلا تھا۔
معراج نے دعا کا ہاتھ تھاما تھا اور اب خود بھی اس کے ساتھ چلتا ھوا counter تک پھونچا تھا۔۔۔۔
دوکان میں موجود تمام لوگ معراج سے واقف تھے۔۔
احمد صاحب کی نظر جب دعا اور معراج پر پڑی تو دو پل کے لیے وہ ساخت سے ھوگئے۔۔
ارے دعا بیٹی ائ ھے
احمد صاحب کے ایک بہت پورانے سیلز مین نے دعا کو دیکھ کر کہا۔۔۔دعا کا پچپن انی کے سامنے گزرا تھا۔۔
اسلام علیکم انکل کیسے ھیں اپ
دعا نے فورن پوچھا
بیٹی میں ٹھیک ھوں او او تم بیٹھو۔انھوں نے دوکان کے اندر ہی دو کرسیاں رکھ کر معراج کو اور دعا کو بیٹھنے کو کہا
احمد صاحب لوگوں کی فکر زیادہ کرتے تھے اس لیے لوگ باتیں نا بنایئں وہ اٹھ کر ان دونوں کے پاس بیٹھ گئے تھے۔۔۔۔
سامنے سیلز مین موجود تھے اسلیے وہ کچھ بول نا سکے۔
ابو
دعا نے بھیگی آواز میں احمد صاحب کو پکارا تھا۔
ابو میں اج اسلاماآباد جارہی ھوں اپ سے ملنے ائ ھوں۔
دعا نے بڑی ہمت سے کہا تھا۔
اچھا ماشاءاللہ۔۔
آحمد صاحب نے مجبوری میں اتنا ہی جواب دیا
وہ اپنی دوکان پر کوئ ہنگامہ کر کے تماشہ نہیں بنوانا چھاتے تھے۔
ابو
دعا نے ایک بار پھر باپ کو پکارا تھا۔
احمد صاحب نے دعا کو دیکھا تو دعا کی انکھیں بھیگی ھوئ تھی احمد صاحب نے اپنی نظریں ہٹا لی۔
سر ہم اج اسلاماآباد جا رہے ھیں
دعا اپ کو بہت زیارہ یاد کر رہی تھی۔۔۔۔اپ سے ملنا چھاتی تھی تو میں اسکو یہاں لے آیا۔
معراج نے تفصیل بتائ
ہممم اچھا۔۔! احمد صاحب اب بھی اپنی ضد پر قائم تھے۔۔
میرے خیال سے اب ہم چلتے ھیں۔
معراج کے لیے اتنا کرنا بھی بہت تھا کہ وہ یہاں تک چل کر اگیا تھا۔
لیکن اب احمد صاحب کا سخت رویہ اسے برداشت نا ھو رہا تھا۔
معراج کھڑا ھوا تو دعا اور احمد صاحب بھی کھڑے ھوئے تھے
ابو !!!! میرے لیے دعا کیجیے گا ھوسکے تو مجھےمعاف کر دیجئے گا۔
دعا نے احمد صاحب کے گلے لگتے ھوئے کہا۔
احمد صاحب نے بھی مجبورن دعا کے سر پر ہاتھ رکھا۔
کیونکہ سیلز مین دعا اور احمد صاحب کے اپس کے پیار سے اچھی طرح واقف تھے۔۔۔۔وہ اب مزید کوئ بات بنا برداشت نہیں کر سکتے تھے۔۔۔
ہممم اچھا۔۔۔تم اپنا اور اپنے شوہر کا خیال رکھنا۔۔۔اللہ خیر سے تم دونوں کو لائے۔
احمد صاحب نے دعا کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔تو دعا کی خوشی کا ٹھکانا تھا۔۔۔۔اسنے ایک دم ھی احمد صاحب کے ہاتھوں کو پکڑ کر چوما تھا۔۔
معراج کو ایک ہلکی سی خوشی محسوس ھوئ تھی۔۔
☆☆☆☆☆☆☆
احمد صاحب سے مل کر وہ لوگ سیدھا گھر ائے تھے۔
دعا کا دل اب کافی پر سکون تھا۔۔۔وہ دل سے معراج کی مشکور تھی لیکن زبان سے اسنے اب تک معراج سے کوئ بات نا کی تھی۔
وہ کبھی سوچتی کہ اسکو شکریہ بول دے لیکن پھر فورن ہی اسکے زہن میں یہ سوچ اتی کہ یہ سب اسی کی وجہ سے تو ھوا ھے۔۔
میں اسکا شکریہ ادا کیوں کروں۔
اور یہ ہی وجہ تھی کہ وہ روک جاتی۔
گھر اتے ھی انکو تیار ھوکر نکلنا تھا۔اپس میں دونوں کو بات کرنے کا وقت ہی نا ملا تھا۔۔
دعا سفر کے نفل پڑھ کر اٹھی تھی جب معراج تیزی سے کمرے میں داخل ھوا تھا
اھو ھوو میں نے تو لقمان کو بول کر packing بھی نہیں کوائ کیا مصیبت ھے یار۔
معراج نے اپنی الماری کھولتے ھوئے خود کالمی کی تھی۔۔
میں نے اپکی packing کر دی ھے۔۔۔۔
دعا نے جانماز جگہ پر رکھ کر کہا اور اکر شیشے کے سامنے کھڑی ھوکر حجاب باندھنے لگی۔
معراج نے موڑ کر دعا کو دیکھا
تم نے ؟
کی ؟
سچی ؟؟
معراج کے لبوم پر مسکراہٹ تھی۔
جی ؟؟۔
دعا نے بنا دیکھے مختصر سا جواب دیا۔۔۔۔۔ دعا کا دھیان معراج کی طرف نا تھا۔
ہم ہممم۔
تمھیں تو مجھے سے زیادہ جلدی ھے ھنی مون پر جانے کی۔۔
معراج نے دعا کے بلکل پیچھے کھڑے ھوکر اسکے کان میں کہا تو دعا ایک دم سے ڈر گئ اور جو پین حجاب میں لگانا تھا وہ ایک دم اسکی انگلی میں گھوس گیا۔
اففففففف اللہ
دعا نے ایک دم اپنی انگلی اگے کی تو اس میں سے خون بھہ رہا تھا۔
اففف کیا کرتی ھو تم جھنگلی بلی
معراج نے دعا کامنہ اپنی طرف موڑا تو اسکی انگلی سے خون بھہ رہا تھا۔
معراج نے فورن جیب سے رومال نکال کر اسکی انگلی پر رکھا تھا۔
ٹھیک ھوں میں
دعا نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچتے ھوئے کہا۔۔
تم مجھ سے ایسے دور بھاگتی ھو جیسے میں کوئ بیماری ھوں ۔
دعا کے اس طرح ہاتھ کھینچنے ہر معراج نے منہ بنا کر کہا۔
بیماری بھی اپ کے سامنے چھوٹی ھے جناب اور ہاں مجھے کوئ شوق نہیں تھا وہ تو رملا بھابی نے کہا تو مہں نے کردی
دعا نے معراج کی غلط فہمی دور کرنی چھائے
ہاں میں نے مان لیا۔
معراج نے دعا کو جلانے والے انداز میں کہا۔
اور مسکرانا شروع ھوگیا۔۔۔وہ یہ ظاہر کر رہا تھا جیسے دعا جھوٹ بول رہئ ھو۔
میں جھوٹ نہیں بول رہی اچھا نا۔۔
دعا نے معراج کی ھنسی پر جل کر کہا۔۔
ہاہاہاہا معراج نے ایک زور داد قہقہ لگایا
تو میں نے کب کہا تم نے جھوٹ کہا ؟
اب جس کے دل میں چور ھوتا ھے وہی یہ بات کرتا ھے۔۔
وہ کیا مثال ھے۔
چور کی ڈاڑی میں تنکا۔۔
معراج نے دعا پر ٹون مارا تھا۔۔
اہ ھیلو مسٹر۔۔۔
دعا ابھی کچھ بول ہی رہی تھی کہ لقمان نے اکر کمرے کے دروازے پر دستک دی تھی۔
ہاں اجاو۔۔
معراج کی آواز پر لقمان اندر داخل ھوا تھا۔۔۔
اپ دونوں کا سامان دے دیں۔۔۔۔اور بلاج بھائ جانے کے لیے بول رہے ھیں۔۔۔
لقمان نے نظر جھکا کر کہا۔۔۔۔
اچھا تم جاو۔۔۔۔
۔ہم اتے ھیں۔۔
۔اور وہ رہا سامان
لقمان سامان اٹھا کر چلا گیا تو تھوڑی ہی دیر بعد دعا معراج بھی نیچے اگئے تھے۔۔
بلاج رملا روحان اور علیان جانے کے لیے تیار تھے۔۔
دلاور تو تھا لیکن سجل اپنے کمرے سے نا نکلی تھی۔
دعا اور معراج پہلے جہانگیر صاحب سے ملے تھے۔
اچھا پاپا
ہم چلتے ھییں۔
معراج نے جہانگیر صاحب کے گلے لگتے ھوئے کہا۔۔
ہاں جاو میں نے بلاج کو بھی ایک بات سمجھائ اور تمھیں بھی کہہ رہا ھوں۔
میرے election بلکل سر پر ھیں مخالفین مجھے ہارنے کے لیے موقعے دھونڈ رہے ھیں۔
تم لوگ سے کسی قسم کی کوئ غلطی میرے لیے نقصان دے ھوسکتی ھے
میں اس وقت اس چیز کو معاف نہیں کروں گا۔
اس بات کا خیال رکھنا۔
معراج کے لبوں پر ایک درد بھری مسکان ابھری تھی۔۔۔۔جو دعا نے محسوس کی تھی۔۔۔
فکر نا کریں !
اپ اپنے مقصد میں ہمیشہ کامیاب ھوئے ھیں اب بھی ھونگے۔
معراج نے تنظیہ انداز میں کہا تھا۔
ہممم جاو۔
خوش رہو۔
جہانگیر صاحب نے اب دعا کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا۔۔
معراج اپنی جگہ پر ہی کھڑا تھا۔۔۔جبکہ دعا بریرہ بیگم سے ملنے ائ تھی۔
اچھا امی۔۔۔۔ہم جارہے ھیں۔
دعا نے بریرہ بیگم کا ہاتھ تھام کر پیار سے کہا۔۔۔۔تو بریرہ بیگم بہت خوش ھوئ
جاو۔۔
خیر سے صفر ھو۔۔۔۔تمھارا۔۔۔۔بریرہ بیگم نے دعا کو گلے لگاتے ھوئے کہا۔۔
بریرہ بیگم نے خود ہی معراج کو پکارا
معراج ؟
فرمائیں ؟
معراج نے وہی روڈ انداز میں کہا۔
اپنا اور دعا کا خیال !
جی
بریرہ بیگم کی بات پوری نا ھوئ کہ معراج نے انکو چپ کروادیا تھا۔
چلو بلاج دیر ھو رہی ھے۔۔۔۔بلاج سے باتیں کرتا معراج باہر نکل گیا تھا۔۔۔
دعا کو یہ بات بہت عجیب لگی تھی۔
امی اپ بھی اپنا خیال رکھیے گا۔۔۔۔
دعا نے بریرہ بیگم کی دل جوئ کی تھی۔
دعا ؟
جی ؟
معراج کو زیادہ اونچائ اور بہت اندھریے سے گھبراہٹ ھوتی ھے۔۔۔۔پلیز تم اسکا بہت خیال رکھنا۔۔۔۔۔
بریرہ بیگم کے انداز میں بے شمار ممتا موجود تھی۔۔۔جو دعا نے محسوس کی تھی۔۔۔۔
جی اچھا۔۔۔۔۔دعا نے مسکرا کر بریرہ بیگم کو دیکھا تھا۔۔۔۔
چلیں دعا ؟؟؟
رملا نے دعا کو پکارا۔۔۔
جی
پھر دعا اور رملا اگے پیچھے قدم بڑھاتی گھر سے باہر نکل گئ تھی۔۔۔۔
بریرہ بیگم نے جاتی دعا کو دیکھ کر دل میں دعا مناگی تھی۔۔۔
یا اللہ یہ صفر معراج اور دعا کی زندگی کو روشن کر دے۔
دونوں میں عشق پیدا کر دے میرے اللہ۔
دعا کے دل میں معراج کی محبت بھر دے۔
معراج نے چاھئے بریرہ بیگم کو ماں منا ھو یا نا منا ھو پر ان کے دل میں اسکی ممتا ہمیشہ سے تھی۔۔۔وہ سمجھ چکی تھی کہ معراج اور دعا کا اپسس کا کیا تعلق ھے۔۔۔
وہ اچھے سے جانتی تھی معراج کی خوشی کیا ھے۔۔۔۔؟؟۔
اخر کو وہ ایک ماں تھی
وہ لوگ کافی
