Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zid Junoon Ki Inteha Episode 30

Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi

دعا کی نفرت اور معراج کی ضد عشق میں تبدیل ھورہی تھی۔۔۔۔۔

اور یہ صرف اس وجہ سے تھا کہ ان کے درمیان ایک حلال رشتہ قائم تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلے دن صبح جب معراج کی انکھ کھولی تو دعا اسی طرح اسکی باہوں میں گھیری اور میٹھی نیند سو رہی تھی۔۔۔۔

معراج کو اس قدر سکون کی نیند کبھی نا ائ تھی۔۔۔۔

جو اسکو اج رات ائ تھی۔۔۔۔

وہ دعا کو اپنے سینے سے لگائے اس کے تمام تر شکوہ سنتا رہا تھا۔۔

اور دعا اس کے سینے میں اپنے تمام تر آسنو بھاتی رہی۔۔۔۔

دعا ابھی تک ویسی کی ویسی معراج کی باہوں میں تھی۔۔۔

معراج نے اپنا چہرہ اٹھا کر اسکو دیکھا تھا۔۔۔۔

وہ سوتے ھوئے کوئ معصوم سی بچی لگ رہی تھی جو رات روتے روتے سو گئ تھی۔۔۔۔۔

معراج اس پر جھکا تھا اور اس نے ہلکے سے اپنے ھونٹ دعا کے ماتھے سے لگائے۔۔۔۔

اور اسکو بھوسہ دیا۔۔۔۔

دعا کا سر اس کے ایک بازو پر تھا۔۔۔۔

دعا تھوڑی سی ہللی تھی۔۔

معراج پیچھے ھوگیا تھا۔۔۔

اور مسکرا کر اسکو دیکھنے لگا تھا۔۔۔۔

دعا کے بال اس کے منہ پر آرہے تھے ۔۔ ۔

معراج نے اپنی انگلی سے اس کے بال ہٹائے تھے۔۔۔۔

اور پھر ہلکے ہلکے اسکی دونوں انکھیں چومی تھی۔۔۔

وہ دعا سے محبت نہیں عشق کرتا تھا۔۔۔

جنون کا عشق۔۔۔

دعا کی قربت کا نشہ اسکو اج تک کے تمام تر نشو سے بہت مدھوش کر دینے والا لگا تھا۔۔۔

وہ ہلکے ہلکے انکھوں کو چوم کر اب دعا کے لبوں پر جھکا تھا۔۔۔

اسکا دل بغاوت کرنے پر تلا تھا۔۔۔

وہ خود کو روک رہا تھا لیکن دعا کا نشہ اسکو بے سود کر رہا تھا۔۔وہ دھیرے دھیرے بغوات پر اتر ہی رہا تھا۔۔۔۔۔

تب ہی اسکا موبائل زور زور سے بجھنا شروع ھوگیا تھا۔۔۔

معراج کا نشہ ایک دم ٹوٹا تھا۔۔۔۔وہ تھوڑا پیچھے ھوا تھا۔۔۔

دعا ابی تک اسی طرح مدھوش سو رہی تھی۔۔۔۔

معراج نے ہلکے سے دعا کا سر اپنے بازو سے ہٹا کر تکیے پر رکھا تھا۔۔۔

اور جلدی سے فون اٹھا کر باہر ایا تھا۔۔۔

وہ دعا کی نیند خراب کرنا نہیں چھاتا تھا۔۔۔۔۔

ہیلو ؟؟؟

اسلام علیکم

معراج نے فون کان سے لگا کر سلام کیا تھا۔۔۔

اھووووو بڑے لوگ تو ہمیں بلکل بھول ہی گئے ھیں۔۔۔

دوسری طرف زاضا تھا۔۔۔

ہاہاہا ایسی بات نہیں ھے یار بس تجھے پتہ ھے فیملی کے ساتھ ۔۔۔۔معراج نے ھنس کر کہا تھا۔۔۔۔

بس بس فیملی کے ساتھ یا بھابی کے ساتھ۔۔۔

راضا بلاشہ معراج کا بے حد قریبی دوست تھا۔۔۔

مجھے یہ بتا زلیل انسان کے تجھے اسی وقت فون کرنا تھا۔۔۔۔

معراج نے اب جل کر کہا۔۔۔۔

تیری باتوں سے لگ رہا ھے میں نے تجھے بہت سخت قسم کا DISTRUB کیا ھے۔۔۔۔۔

زاضا نے ڈھٹائ سے کہا۔۔۔

انتھائ سخت قسم کا۔۔۔۔معراج نے بنا مروت کے کہا۔۔۔۔

ہاہاہا چل راجے کوئ بات نہیں۔۔۔۔ھوتا ھے۔۔۔راضا نے قہقہ مار کر کہا۔۔۔

اچھا اج تو واپس آرہا ھے۔۔۔۔

میں سوچ رہا تھا رات کو کوئ پارٹی رکھ لوں۔۔۔

راضا نے ہمیشہ کی طرح پارٹی سے اسکا ویلکم کرنے کا سوچا۔۔۔

نہیں یار زاضا کوئ ضرورت نہیں پارٹیوں کی اس میں بے حودگی کے سوا کچھ نہیں ھوتا۔۔۔

میرا تو دل نہیں ھے پارٹی کا معراج کو ایک دم اخری بار پارٹی میں جو حرکت ہما نے کی تھی وہ یاد ائ تھی۔۔۔۔

اھووووو لگتا ھے میرا دوست شدید قسم کا عاشق بن چکا۔۔۔۔

راضا نے پھر ھنس کر کہا۔۔۔۔

ھاھاھا ۔۔۔۔۔

بے حد شدید قسم کا۔۔۔معراج نے فورن قبول بھی کیا۔۔۔۔

کیا واقعی ؟؟؟

راضا کو یقین نا ایا۔۔۔

ہاہاہا۔۔۔۔ہاں معراج نے مسکر کر کہا۔۔۔۔

چل بس پھر ڈن ھے میں اب کے پارٹی نہیں ایک فیملی DINNER رکھوں گا اپنے گھر پر تیرا اور بھابی کا۔۔۔۔

اچھا ھے بھابی بھی امی وغیرہ سے مل لیں گی۔۔۔راضا نے فورن کہا۔۔۔

ہاں یہ ٹھیک ھے معراج نے بھئ ہامی بھری۔۔۔

پھر تھوڑی دیر زاضا سے بات کر کے اسنے فون بند کر دیا ۔۔۔اور وہی کھڑے ھوکر دعا نے جو باتیں کل رات کی تھیں وہ سوچنے لگا۔۔۔۔

اللہ نے میرے نصیب میں ایک انتھائ پاک اور صاف لڑکی لکھی تھی۔۔۔اور مین اج تک کس قدر گناہوں میں ڈوبا رہا۔۔۔۔۔

دعا کا آرمان تھا کہ اسکا شوہر ایک ایسا شخص ھو جس کی زندگی میں کوئ لڑکی پہلے نا ائ ھو۔۔۔

یہ بات سچ ھے دعا تم سے پہلے میری زندگی میں بہت سی لڑکیاں ائ مگر مجھے پہلا عشق تم سے ہی ھوا ھے۔۔۔۔

میں تمھارے خوابوں پر پورا نہیں اترا ۔۔۔پر میں تم سے وعدہ کرتا ھوں کہ میری زندگی میں انے والی اب تم آخری لڑکی ھو۔۔۔جس سے میں اپنی آخری سانس تک عشق کروں گا۔۔۔۔۔

معراج نے سوئ دعا پر ایک نظر دال کر اپنے دل میں کہا۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

دعا کی جب انکھ کھولی تب معراج کمرے میں موجود نا تھا۔۔دعا نے شکر ادا کیا تھا کہ ایک دم اسکا سامنا نا ھوا۔۔۔

وہ کل رات کی ہر حرکت پر شرمندہ تھی۔۔۔۔۔

دعا نے اٹھ کر اپنا اور معراج کا تمام سامان سمیٹا تھا۔۔۔۔۔

اج انکو پہلے یہاں سے اسلاماباد جانا تھا اور پھر وہاں سے اج رات ہی کی کراچی کی فلائٹ لینی تھی۔۔۔۔

دعا کے زہن میں بار بار کل رات یاد آرہی تھی۔۔۔

معراج کے باہوں میں سونا یاد آرہا تھا۔۔۔دعا کو بھی معراج کے قربت بے حد اچھی لگتی تھی۔۔۔لیکن وہ کسی صورت خود سے یہ بات قبول کرنا نہیں چھا رہی تھی۔۔۔

وہ معراج کو چھانے لگی تھی۔۔۔۔

یہ بات وہ اتنی جلدہ کہاں مان لیتی۔۔۔۔اخر کو وہ ایک خانزادی تھی۔۔۔۔

اور ضدی بھی بے حد تھی۔۔۔

اسکا دل اب مسلسل معراج کی موجودگی مانگتا تھا۔۔۔۔

وہ اپنا بیک پیک کر کے کھڑی ھوئ تھی۔۔۔

اور بالوں کا جوڑا بنا کر کھڑی سوچ رہی تھی۔۔۔

عجیب انسان ھے صبح صبح پتا نہیں کہاں چلے گئے۔۔۔۔۔

دعا کو بھی معراج سے دور جانا اب اچھا نہیں لگتا تھا۔۔۔

ان کے دل اللہ نے جوڑ دیے تھے۔۔۔۔

وہ کپڑے ناکل کر باتھ روم میں گھس گئ تھی۔۔۔۔

نھا دھو کر دعا جب باہر نکلی تو معراج آچکا تھا۔۔۔۔

اسلام عکیم !!!

معراج نے کافی گرم جوشی سے سلام کیا تھا۔۔۔

وعلیکم اسلام !!!

دعا نے نظریں چرا کر جواب دیا تھا۔۔۔۔

دعا نے جب بیڈ پر دیکھا تو وہاں بہت سارے shoppings bag پڑے تھے۔۔۔۔

یہ کس لیے ؟؟

دعا نے حیران ھو کر کہا۔۔۔

وہ کچھ نہیں بس گھر والوں کے لیے کچھ shopping کی ھے۔۔۔تم ان کو بیگ میں رکھ دینا۔۔۔

معراج نے ایک ہاتھ میں پکڑی سیگرٹ کا کش لگاتے ھوئے کہا۔۔۔۔

وہ صوفے پر ٹانگیں پھیلا کر بھیٹھا تھا اور سگرٹ بھی پی رہا تھا اور موبائل میں کوئ ضروری کام بھی کر رہا تھا۔۔۔۔

دعا نے ایک نظر معراج پر ڈالی تھی۔۔۔

وہ ایک انتھائ پرکشش اور وجیہ لڑکا تھا۔۔۔۔

اور اج وہ بلیو پینٹ بیلو چیک شرٹ اور بلیو کوٹ میں بے حد حسین لگ رہا تھا۔۔۔۔

نجانے کتنی لڑکیاں انکی اس وجاہت پر لٹو ھوئ ھونگی اور انھوں نے فائدہ اٹھایا ھوگا۔۔۔۔

دعا کو عجیب سی جلن ھوئ تھی۔۔۔

دعا طولیے سے اپنے بال خشک کر رہی تھی اور معراج کو ایک ٹک دیکھ رہی تھی۔۔۔

جب ہی معراج کی نظر اس پر پڑی تھی۔۔۔

اگر ہینڈسم لگا رہا ھوں تو بول دو۔۔۔۔

معراج نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔

تو دعا ایک دم جھیپ گئ۔۔۔

ایسا کچھ بھی نہیں ھے میں بس کچھ سوچ رہی تھی۔۔۔۔

دعا نے ڈریسنگ کی طرف پلٹ کر کہا۔۔۔۔

معراج اٹھ کر اسکے پاس آیا تھا۔۔۔

ہاں جو کچھ تم سوچ رہی تھی وہ مجھ سے ہی تعلق رکھتا ھے۔۔۔

معراج نے dressing پر بیٹھتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔

اتنی خوش فہمی ھونا بھی اچھی بات نہیں ھوتی۔۔۔

جناب

دعا نے ایک ائ بورو اٹھا کر کہا۔۔۔۔

اففففف یہ ادااا !!!!

معراج نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر acting کی۔۔۔

دعا نظر انداز کر کے اب چوڑیاں پھن رہی تھی۔۔۔۔۔

معراج نے اسکو ہاتھ سے پکڑ کر اپنے پاس کھینچا تھا۔۔۔۔

دعا بے دھیانی میں کھڑی تھی ۔۔تو فورن اسکے پاس گیری۔۔۔

معراج نے اسکے ہاتھ سے چوڑایاں لے کر اب اسکو خود پھینانا شروع کی تھی۔۔۔۔۔

اور مسلسل اسکی گھیری انکھوں میں دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

دعا معراج سے نظریں نہیں ملا رہی تھی۔۔۔۔

چھوڑیاں میں پھن لوں گی۔۔۔

دعا نے اپنا ہاتھ چھوڑانا چھا مگر جیسے معراج کے تو کان پر جو بھی نا رنگی تھی۔۔۔۔

وہ آہستہ آہستہ دعا کے ہاتھ میں چوڑیاں ڈال رہا تھا۔۔۔

دعا اب اس سے گھبرانے لگی تھی۔۔۔۔

مجھ سے انکھیں کیوں نہیں ملا رہی ۔۔۔۔۔

معراج نے گیری آواز میں کہا۔۔۔۔

دعا نے تبی اپنی جھیل جیسی آنکھوں سے اسکو دیکھا تھا۔۔۔

تب دونوں کی انکھیں ایک دوسرے سے ٹکرائ تھی۔۔۔۔۔۔

اور ایک دوسرے کی انکھوں میں کھو گی تھیں ۔۔۔

دعا نے ایک دم اپنی انکھیں ہٹا لی تھی اور اب اپنا ہاتھ بھی چھڑوا لیا تھا۔۔۔

وہ معراج سے اب پہلے کی طرح نہیں لڑتی تھی۔۔۔۔

معراج نے ایک نظر دعا پر ڈالی تھی۔۔۔۔

دعا سر سے پیر تک بے حد حسین تھی۔۔۔۔

معراج کی مسلسل نظروں سے دعا نروس ھو رہی تھی۔۔۔تبی ہی جل کر بولی۔۔۔

آخر کیا مصلہ ھے ؟؟؟؟

کچھ نہیں!!!

معراج نے مسکرا کر کہا۔۔۔

تو یہاں کیوں بیٹھے ھیں ؟؟؟

دعا نے سوال کیا۔۔۔

میری مرضی معراج نے شانے اٹھا کر جواب دیا۔۔۔۔۔

اچھا پھر مجھے اسطرح مت دیکھیں۔

دعا نے چیڑ کر کہا۔۔۔

کیوں نا دیکھوں تمھیں دیکھنے کا تو مجھے ثواب ملتا ھے۔۔۔۔

میری چیز ھے میری مرضی۔۔۔۔

معراج نے شرارت سے کہا۔۔۔

دعا کو سمجھ نا آیا کہ وہ کیا جواب دے۔۔۔۔

وہ ابھی کچھ بول رہی تھی کہ انکے دروازے پر دستک ھوئ تھی۔۔۔

معراج دروازے کی طرف بڑھا تھا۔۔۔پھر موڑ کر دعا کو بیڈ سے دوپٹہ اٹھا کر دیا۔۔۔۔۔۔

یہ اوڑھ لو۔۔۔۔۔

دعا نے معراج کے ہاتھ سے ڈوپٹہ فورن ہی تھام لیا تھا۔۔۔۔

جب دعا نے حجاب لے لیا تب معراج نے دروازہ کھولا تھا۔۔۔۔

سر اپکو اپ کے بھائ نیچے بلا رہے ھیں گاڑی تیار ھے۔۔۔۔۔

ملازم نے اکر انکو کہا تھا۔۔۔

اچھا ہم آرہے ھیں۔۔۔

تم یہ سامان آحتیاط سے لے جاو۔۔۔

معراج نے shopping bags ملازم کو تھامتے ھوئے کہا۔۔۔۔

دعا بھی تیار ھوچکی تھی اور اب جانے کے لیے بلکل تیار کھڑی تھی۔۔۔

معراج بھی تیار کھڑا تھا۔۔۔

دعا اپنا بیگ اٹھا کر نکل رہی تھی جب معراج نے اسکو روکا تھا۔۔۔

دعا ؟؟؟

جی ؟؟؟دعا نے پلٹ کر پوچھا تھا۔۔۔

ایک سیلفی لیتے ھیں ۔۔۔

کیوں ؟؟؟دعا نے فورن کہا۔۔۔

بس ایسی یہاں سے بہت ساری یادیں لے کر جارہا ھوں پتہ نہیں پھر موقع ملے نا ملے۔۔۔

تم تصویرے دیکھ کر ہی مجھے یاد کر لینا۔۔

اس نے انکھ مار کر کہا۔۔۔

معراج اس کے پاس آیا تھا اور اپنے ھوٹل کی بلکونی میں کھڑے ھوکر اس نے دعا کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تصویر لی تھی۔۔۔

اچھا ھوا اپنے یہ تصویر لے لی جب میں اپکی زندگی سے چلی جاوں تو اپ یہ تصویر دیکھ کر سوچیے گا۔۔۔

ایک تھی دعا °°°°

معراج کے اس طرح بولنے پر اسکو غصہ آیا تھا تو اسنے بھی الٹا ہی جواب دیا تھا۔۔۔۔

تم مجھے چھور کر جاو تو۔۔۔۔جان سے مار دوں گا۔۔۔

معراج نے دعا کی انکھوں میں جھانک کر کہا۔۔۔

معراج کی انکھ میں جنون تھا۔۔۔۔

چھوڑ کر تو میں جاوں گی۔۔۔اور تب اپ چھا کر بھی مجھے نہیں روک پائیں گے۔۔ ۔

دعا کے زہن میں اب اس طرح کی کوئ بات نہیں تھی۔۔۔

بس وہ معراج کے اوپر یہ شو نہیں کرنا چھا رہی تھی کہ اب دعا وہ دعا نہیں رہی جو معراج سے دور جانا چھاتی ھے۔۔۔اب تو یہ وہ دعا بن گئ ھے جو ہمیشہ اسکے پاس رہنا چھاتئ ھے۔۔

دعا بول کر پلٹی تھی۔۔اور اپنی ھنسی روک کر اگے بڑھ گئ تھی۔۔۔

معراج بھی اسکے پیچھے بڑھا تھا۔۔۔پر دعا کے جواب نے اسکو خاموش کر دیا تھا۔۔۔۔۔

انسان کبھی کبھی کوئ بات صرف مزاق میں کہہ دیتا ھے ۔۔لیکن کوئ نہیں جانتا کہ کس وقت کیا ھو جائے۔۔۔۔

قبولیت کی گھڑی کوئ بھی ھوسکتی ھے۔۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

لقمان

لقمان

جاکر معراج کا کمرہ صاف کروا دو۔۔۔۔

اور سنو اج کھانے میں ساری چیزیں معراج کی پسند کی بنانا۔۔۔۔۔

وہ لوگ رات تک یہاں آجائیں گے۔۔۔۔۔

بریرہ بیگم اج صبح سے ہی اٹھ کر تیاریوں میں لگ گئ تھی۔۔۔۔

وہ معراج کی ایک ایک چیز کو صاف ستھرا کر وا رہی تھی۔۔۔

وہ معراج کی ماں نہیں تھی۔۔۔لیکن اسے محبت ماوں والی کرتی تھی۔۔۔

ابھی بریرہ بیگم کچن سے باہر ہی نکلی تھی۔۔۔

جب ہی ہما اور سجل باہر سے گھر میں داخل ھوئے تھے۔۔۔

ارے اچھا ھوا سجل بیٹا تم اگئ بس میں تمھیں ہی کال کرنے والی تھی۔۔۔

بریرہ بیگم نے مسکرا کر کہا۔۔۔

کیوں ؟؟

مجھے کیون کال کرنے والی تھی اپ ماما ؟؟؟

سجل نے جلے انداز میں کہا تھا۔۔۔

بیٹا اج کتنے دونوں بعد بچے واپس آرہے ھیں۔۔۔۔

اچھا ھے سارے گھر والے ایک ساتھ ھوں۔۔۔۔۔

بریرہ بیگم نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔

نا مجھے انکے انے میں کوئ دلچسپی ھے نا جانے میں تھی۔۔۔

سجل نے بے رخی سے کہا تو بریرہ بیگم بھی خاموش ھوگی۔۔۔

اور واپس کچن میں اکر کام کرنے لگی۔۔۔

ہما اور سجل اج کسی مقصد سے یہاں ائے تھے۔۔۔۔۔۔

بریرہ بیگم جب کچن میں چلی گئ تھی۔۔۔

تو سجل اور ہما ان سے نظر بچا کر دعا اور معراج کے کمرے میں چلی گئ تھیں۔۔۔

بریرہ بیگم سمجھی تھی کہ دونوں بہنیں آپس میں باتیں کرنے اپنے کمرے میں گئ ھیں۔۔۔

لیکن وہ تو دعا کے کمرے میں گئ تھیں۔۔۔۔

اور جاکر وہاں ایک ایسا بیج بو رہی تھی جو دعا اور معراج کو ہمیشہ کے لیے جدا کرنے کا پہلا قدم تھا۔۔۔

جب انسان کے دل میں برائ پیدا ھونے لگ جاتی ھے تب انسان ہر برا عمل کرنے کے لیے تیار ھوتا ھے۔۔۔

اس وقت جنون ھوتا ھے تو صرف اپنی ضد پوری کرنے کا۔۔۔

اور ہما کے سر پر بھی اس وقت صرف ضد کا جنون سوار تھا۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اج نمرہ کو لینے عمیر اسکو بنا بتائے اس کے اسکول پھنچا تھا۔۔۔

اسکول کی چھٹی ھوچکی تھی اور تمام لڑکیاں باہر آچکی تھی سوائے نمرہ کے۔۔۔۔۔

عمیر نے اسکول کے لالا سے پوچھا تو اسکول کے لالا نے بتایا کہ وہ تو اج اسکول ائ نہیں۔۔۔۔

عمیر کے لیے یہ بات بے حد حیرانی کی تھی۔۔۔۔

اسنے گھر فون کر کہ سمیرا بیگم سے پوچھا تھا کہ نمرہ پھنچی نہیں پھنچی تو انھوں نے کہہ دیا تھا کہ نمرہ گھر نہئں ائ اب تک۔۔۔۔

عمیر کافی حد تک پریشان ھوا تھا۔۔۔

اور سیدھا گھر ایا تھا۔۔۔۔

عمیر کے گھر آنے کے کچھ دیر بعد کی نمرہ بھئ گھر آگئ تھی۔۔۔۔

نمرہ کہاں تھی تم؟؟

عمیر نے اسکے آتے ہی سوال کیا تھا۔۔۔

نمرہ اچانک اس سوال کے لیے تیار نا تھی۔۔۔

اس لیے بولی

وہ بھائ میں ایمان کے ساتھ تھی۔۔۔اسکی امی کی طبعیت بہت خراب ھوگئ تھی صبح جب میں اور ایمان اسکول جارہے تھے۔۔۔۔

بس تبی اسکے ساتھ میں hospital چلی گئ تھی۔۔۔۔

نمرہ نے بر وقت کہانی بنائ تھی۔۔۔اور عمیر نے نمرہ کی بات پر یقین بھی کر لیا تھا۔۔۔

اسکے زہن میں دور دور تک نا تھا کہ نمرہ کس جال میں خود کو پھسا رہی ھے ۔۔

اھوو کیسی ھیں اب اسکی امی ؟؟

سمیرا بیگم نے کچن سے نکل کر کہا۔۔۔

جی اب بھتر ھیں کافی۔۔۔۔۔

نمرہ نے کہا۔۔۔۔

ہمم وہ مجھے یہ کہنا تھا نمرہ کے رات کو دعا آپی اور معراج بھائ آرہے ھیں۔۔۔

ہم انکو لینے ائر پورٹ چلیں گے۔۔۔

عمیر نے نمرہ کو کہا۔

۔ہاں ٹھیک ھے۔۔۔نمرہ نے خوشی سے فورن ہامی بھر لی اور اپنے کمرے میں اگئ۔۔۔

اپنا کمرہ لاک کر کے اسنے تیزی سے اپنے بیگ سے وہ تمام گفٹس نکالے تھے جو اسکو اس لڑکے نے دیے تھے۔۔۔

اففف اب انکو کہاں چھپاوں۔۔۔

نمرہ الماری کھول کر چیزیں رکھنی لگی۔۔۔۔۔۔۔۔

نمرہ ایک غلط راہ پر چل دی تھی۔۔۔

اور غلط رہا کا انجام غلط ہی ھوتا ھے۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

وہ لوگ ناران سے نکل چکے تھے اور اب تھوڑی ہی دیر میں اسلاماآباد پھنچے نے والے تھے۔۔۔

راستے کا سفر اچھا گزر رہا تھا۔۔۔۔

روحان اور علیان مسلسل دعا کے کان کھا رہے تھے۔۔۔

اور دعا انکی باتوں پر ھنس رہئ تھی۔۔۔۔

معراج ھنستی دعا کو دیکھ کر خوش ھوا تھا اور اب کھڑ کی سے باہر دیکھ کر سوچ رہا تھا۔۔۔۔

بھار بڑی بڑی پہاڑیاں گزری رہی تھی کھیت گزر رہے تھے۔۔۔

میں کتنی حسین یادیں لے کر جا رہا ھوں یہاں سے۔۔۔۔۔

یہاں پر انے سے پہلے میری زندگی کچھ اور تھی اور اب یہاں سے جانے کے وقت میری زندگی کچھ اور ھے۔۔۔۔۔

اور یہ سب دعا کی وجہ سے ھوا ھے۔۔۔۔

اللہ پلیز اسکو کبھی مجھ سے جدا نا کرنا۔۔۔۔۔

معراج نے آسماں کو دیکھ کر دعا مانگی تھی۔۔۔۔۔

اور میوزک پلیر کا volume تیز کردیا تھا۔۔۔۔

کچھ گانے کبھی کبھی بلکل ہمارے دل کا حال بیان کر رہے ھوتے ھیں۔۔۔

راحت علی خان کی آواز میں بجتا یہ گانا معراج کو سن کر عجیب سی خوشی محسوس ھوئ تھی۔۔۔

Bilkul socha na

Bilkul samjha na

Kaise ye sab ho gaya

Pyar mujhe tumse hi

Jaane kab ho gaya

دعا بھی اس گانے کے الفاظ سن کر اس گانے کی طرف متوجہ ھوئ تھی۔۔۔

اور کھڑکی سے باہر دیکھ کر یہ گانا سنے لگی۔۔۔۔

Tum mujhse anjaan the

Main tumse anjaan thi

Mujhko na thi kuch khabar

Main kitni nadaan thi

Ab toh har lamha

Ik bechaini hai

Ye kya gazab ho gaya

Pyaar mujhe tumse hi

Jaane kab ho gaya۔۔۔

معراج اور دعا دنوں کے زہن میں اپنی پہلی ملاقات یاد ائ تھی۔۔۔جب یہ دونوں ایک دوسرے کو جانتے نا تھے۔۔۔۔اور اج یہ دونوں ایک دوسرے کہ پہچان بن گئے تھے۔۔۔

Ahista ahista hum

Kab itne paas aa gaye

معراج نے گزری ھوئ رات کو سوچا تھا۔۔۔جب دعا اسکی بھاہوں میں سو رہی تھی۔۔۔اور اس کے اتنے پاس تھی کہ معراج نے اس کے ڈھڑکتے دل کو محسوس کیا تھا۔۔۔

Dil se guazarte huve

Ehsaas pe chhaa gaye

دعا نے سیف الملوک والی رات یاد کی تھی۔۔جب معراج نے اسکو اپنے تمام زاض دیے تھے ۔۔۔۔

Pehle na haal apna aisa tha

Jo haal ab ho gaya

Pyaar mujhe tumse hi

Jaane kab ho gaya

Ho..

pyar mujhe tumse hi

Jaane kab ho gaya

گانا ختم ھونے پر دونوں ہی مسکرائے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔

اور بر وقت ایک دوسرے کو شیشے میں دیکھا تھا۔۔۔

معراج اگے بلاج کے ساتھ بیٹھا اسکو بیک mirror سے دیکھ رکا تھا اور دعا بھی اسکو اسی mirror میں دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔

خیر سے وہ لوگ آسلاماآباد کے ائرپورٹ پر پھنچ گئے تھے۔

انھوں نے تقریبن 6 سے 7 گھنٹے کا سفر کیا تھا۔۔۔

اور کافی تھک چکے تھے۔۔۔

ائرپورٹ وہ وقت پر پھنچ گئے تھے۔۔اور بودینگ کروا کر جہاز میں بھی بیٹھ چکے تھے۔۔۔

دعا اور معراج اج بھی ایک ساتھ بیٹھے ۔۔دونوں ہی ایک دوسرے سے نا کہے لیکن ایک دوسرے کی موجودگی دونوں کے لیے ہی بہت اہم تھی۔۔۔

دعا سیٹ بیلٹ باندھ رہی تھی جب معراج نے اسکو پکارا تھا…..

دعا ؟؟؟

ہمم !!!!

دعا نے سیٹ بیلٹ بندھ کرتے ھوئے بنا نظر اٹھائے کہا!!

اب تو میڈم کو ڈر نہیں لگے گا نا۔۔۔۔

معراج نے مسکرا کر پوچھا۔۔۔

مجھے ڈر پہلے بھی نہیں لگتا تھا

دعا نے جھوٹ کہا۔۔۔

ہاں تبھی پورا راستہ میرا کندھا توڑا گیا تھا۔ ۔

معراج نے ھنس کر کہا۔۔

دعا بھی دوسری طرف منہ کر کے ھنسی تھی۔۔۔

جہاز پھر پرواز بھرنے کے لیے تیار تھا۔۔۔

معراج نے دعا کا ہاتھ زور سے تھاما تھا ۔۔

وہ جانتا تھا کہ دعا کو ڈر لگ رہا ھے۔۔۔

دعا ایک دم انکھیں بند کرنے ہی لگی تھی ۔۔۔۔

کہ معراج نے ایک دم کہا۔۔۔۔

بس میری انکھوں میں دیکھنا ۔۔۔۔

تم نے ہی کہا تھا ڈر سے ڈرو گے ڈر تمھیں ڈرائے گا۔۔

ڈر کو انکھ ملا کر دیکھو گے ڈر بھاگ جائے گا۔۔۔۔۔

معراج کے اسطرح کہنے پر دعا نے جہاز اڑتے ھوئے آنکھ بند نہیں کی تھی۔۔

اور معراج کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی

جہاز نے تیز اسپیڈ کی تھی اور کچھ ہی پل میں دھم سے ہوا میں اڑ گیا تھا۔۔۔۔۔۔

دعا معراج کی آنکھوں میں اس قدر کھوئ ھوئ تھی۔۔۔

کہ اسکو یہ علم ہی نا ھوا کہ جہاز ھوا میں اچکا ھے۔۔۔۔

جب تک میں تمھارے ساتھ ھوں۔۔۔۔۔تمھیں کسی چیز سے ڈرنے کی ضرورت نہیں دعا۔۔۔!!

معراج نے ویسی ہی اسکی آنکھوں میں جھانک کر کہا۔۔۔۔

دعا نے ایک دم اپنی نظر ہٹائ۔۔۔۔اس کو اج چکر بھی نہیں آئے تھے۔۔۔۔۔۔۔

معراج قدم قدم پر اسکا ساتھ دیتا تھا۔۔۔

وہ دن با دن دعا کی ہمت بنتا جا رہا تھا۔۔۔

اور دعا اسکی کمزوری بنتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔

معراج نے اپنا سر اب دعا کے کندھے پر رکھ دیا تھا۔۔ ۔

دعا نے اسکو گھور کر دیکھا ۔

کیا دیکھ رہی ھو۔۔

جاتے ھوئے تم نے میرا کندھا توڑا تھا۔۔۔

اب میری باری ھے

معراج نے ھنس کر کہا اور اپنی انکھیں بند کردی۔۔۔

دعا بھئ مسکرا دی۔۔۔۔

تھوڑی ہی دیر بعد معراج کی انکھ لگ گی تھی۔

دعا کو ننید نہئں آرہی تھی۔۔۔۔

اور وہ بور ھو رہی تھی۔۔۔تب ہی اسکی نظر معراج کے موبئل پر پڑی تھی۔۔۔

اس نے ہلکے سے معراج کی اوپر والئ جیب سے اسکا موبائل نکلا تھا۔۔۔۔

اور جب اسکو کھولنے لگی تو اس میں password لگا تھا۔۔۔۔۔

اسکو سمجھ نا آیا اس نے ایک دو password ڈال کے ٹارئے کی لیکن

کوئ فائدہ نا ھوا۔۔۔

اسنے ایسے اپنا نام لکھ کر دیکھا تو موبئل فورن unlock ھو گیا تھا۔۔۔

اسکو کافی حیرانی ھوئ تھی۔۔۔۔

معراج کے موبئل کے wallpaper پر اسکی اور دعا کی شادی والی pic لگی تھی۔ ۔

وہ ادھر ادھر گھسے بنا gallery میں گئ تھی۔۔۔۔

معراج کا موبائل دعا کی تصویروں سے بھارا پڑا تھا۔۔۔۔۔

اس میں بہت ساری دعا کی ایسی pics تھی جو دعا کو معلوم بھی نا تھا کہ کب کی pic ھے۔۔۔۔

شادی کے دن سے لے کر اج تک کی دعا کی تمام تصویرے موجود تھی۔۔۔جو یقینن معراج نے چھپ کر لی تھی۔۔۔۔

کسی تصویر میں دعا روحان کے ساتھ کھڑی تھی۔۔۔

تو کہی رملا او وہ کسی بات پر ھنس رہی تھی ۔۔

کہی دعا کی سوتی ھوئ تصویر تھی۔۔۔

تو کہی نماز پڑھتے ھوئے۔۔۔۔۔

معراج نے دعا کی ایک ایک حرکت کو اپنے پاس محفوظ کر رکھا تھا۔۔۔۔۔

دعا کی نظر اب اس پیک پر پڑی تھی جو اس نے جہاز میں نے اسکی اور اپنی تصویر لی تھی جب دعا سوئ ھوئ تھی۔۔۔

اور تو اور اج صبح کی بھی تصویر موجود تھی جب وہ اپنے طولیے سے بال سکھا رہی تھی۔۔۔۔۔۔

دعا کی آنکھیں ایک دم ہی نم ھوئ تھی۔۔۔

اس نے اپنے کندھے پر سوتے معراج کو ایک نظر دیکھا تھا۔۔۔۔

اور معراج کا موبائل واپس سکی جیب میں رکھ دیا تھا۔۔۔۔۔

تم ایسے کیوں ھو ؟؟؟

دعا نے سوتے معراج سے کہا۔۔۔۔

وہ دعا سے کس قدر محبت کرتا ھے اس بات کا اندازہ دعا کو آج ھوا تھا۔۔۔۔۔

وہ جس طرح کا محبت کرنے والا شوہر چھاتی تھی۔۔۔۔

معراج کی محبت اس سے بہت زیادہ تھی۔۔۔۔۔۔

دعا نے اپنا سر بھی اس کے سر پر ٹکا دیا تھا۔۔۔۔

مجھے نہیں معلوم کہ میں صیح ھوں یا غلط ۔۔

بس مجھے تم سے عشق ھوگیا ھے معراج جہانگیر !!!!

دعا نے اپنے دل میں کہا۔۔۔۔

اور معراج کے بالوں میں ہلکا سا بوسہ دیا۔۔۔۔۔

اور انکھیں بند کر کے معراج کے سر پر سر رکھ کر سو گئ۔۔۔۔

انکی زندگی میں محبت نے دستک دے دی تھی۔۔۔

خوشیاں آرہی تھیں۔۔۔۔۔لیکن ہم سے جلنے والوں سے ہماری خوشیاں ہزم نہیں ھوتی۔۔۔وہ ہر مکمن کوشش کرتے ھیں کہ ہم سے ہماری خوشیاں چھین لیں۔۔۔۔

دعا اور معراج سے جلنے والے بھی بہت لوگ تھے۔۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

وہ لوگ کراچی ائرپورٹ پھنچ چکے تھے اور اب آپنا سامان لے کر جب باہر نکلے تھے۔۔۔۔

تو دلاور عمیر نمرہ انکو وہاں نظر آئے تھے ۔۔

عمیر اور نمرہ کو دیکھ کر تو دعا کی خوشی ساتویں آسمان پر تھی۔۔۔۔

وہ فورن جاکر نمرہ اور عمیر سے ملی تھی۔۔۔اسکو بلکل امید نا تھی کہ وہ دونوں اسکو لینے آئیں گے۔۔۔۔

عمیر تمھیں تو میں نے نہیں بتایا تھا کہ میں آرہی ھوں۔۔۔۔

پھر تم کیسے آئے ؟؟ دعا نے حیران ھوکر پوچھا۔۔۔

آپی اپ سے زیادہ ہم سے تعلق معراج بھائ رکھتے ھیں۔۔۔

انھوں نے بتایا۔۔۔۔۔۔

عمیر نے بتایا۔۔۔۔۔

دعا نے ایک نظر گھوما کر معراج کو دیکھا جو اب دلاور سے مل رہا تھا۔۔۔۔۔

اور اب عمیر اور دعا کی طرف ہی آیا تھا۔۔۔۔

اسلام علیکم معراج بھائ۔۔۔۔

عمیر نے معراج سے گلے ملتے ھوئے سلام کیا۔۔۔

وعلیکم اسلام۔۔۔۔!!!

کیسے ھو عمیر ؟؟

معراج نے گلے مل کر کہا۔۔۔

اسلام علیکم جی جا جی۔۔۔نمرہ نے بھئ سلام کیا تھا۔۔۔

وعلیکم اسلام سالی صاحبہ۔۔۔

معراج نے نمرہ کو بھی پیار سے جواب دیا ۔۔۔۔۔۔

دعا نے محسوس کیا تھا کہ معراج عمیر اور نمرہ سے بہت پیار کرتا تھا۔۔۔۔

وہ لوگ تھوڑی دیر وہی کھڑے باتیں کرتے رہے۔۔۔پھر نمرہ اور عمیر اپنے گھر کی طرف نکل گئے۔۔۔

اور یہ لوگ جہانگیر میںنش جانے لگے۔۔۔

گاڑی میں بیٹھ کر دعا کو ایک دم ہی سمیرا بیگم اور احمد صاحب کی یاد ائ تھی۔۔۔۔۔۔

کاش امی ابو بھی اج آجاتے۔۔۔دعا نے دل میں کہا۔۔۔

معراج نے دعا کے چہرے پر اداسی دیکھ لی تھی۔۔۔۔

لیکن کچھ کہا نہیں تھا۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

وہ لوگ جب جہانگیر میںنشن پوھنچے تو رات کے 11 بج رہے تھے۔۔۔۔جہانگیر صاحب اور بریرہ سے مل کر ان لوگ نے سب سے پہلے کھانا کھایا تھا۔۔۔۔۔

دعا بریرہ بیگم سے ویسے نا ملی تھی جیسے وہ ہمیشہ ملتی تھی۔۔۔

بریرہ بیگم نے محسوس کیا تھا کہ اب معراج کی طرح دعا کا بھی بریرہ بیگم سے موڈ ٹھیک نا تھا۔۔۔۔

وہ سمجھ گئ تھی۔۔کہ معراج نے دعا سے وہ بات کردی ھے۔۔۔جو وہ پچھلے کتنے سالوں سے اکیلا جھیل رہا تھا۔ ۔

ان کے دل میں عجیب سی تکلیف ھوئ تھی۔۔۔۔۔

معراج کے ساتھ ساتھ اب دعا بھی انسے نفرت کرنے لگے گی یہ سوچ کر انکا دل اداس ھوگیا تھا۔۔۔۔

بریرہ بیگم نے اج بہت دل سے یہ تمام تیاریاں کی تھیں۔۔۔۔

وہ لوگ کھانا وغیرہ کھا کر فارغ ھوئے تھے اور بہت زیادہ تھکنے کی وجہ سے اپنے کمروں میں اگئے تھے۔۔۔۔

سجل گھر ھوتے ھوئے بھی ان سے نا ملی تھی۔۔۔۔۔۔

اور کسی نے اس سے ملنے کی ضرورت سمجھی بھی نا تھی۔۔۔

دعا اور معراج جب اپنے کمرے میں داخل ھوئے تو !