Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zid Junoon Ki Inteha Episode 34

Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi

۔۔۔۔وہ لفافہ اب تک اس کے ہاتھ میں تھا ۔۔۔

وہ اکر بیڈ پر بیٹھ گئ تھی۔۔۔

اور لفافے کو غور غور سے دیکھ رہی تھی۔۔۔

وہ لفافہ دیکھنے سے ہی کافی سال پورانا لگ رہا تھا ۔۔۔

میرے پیارے بیٹے معراج کے نام۔۔۔۔

لفافے کے اوپر اردو میں یہ لکھا تھا۔۔۔۔

دعا کچھ دیر اس لفافے کو دیکھتی رہی ۔۔۔۔۔اور پھر اسنے جیسی لفافے کو کھولا تھا اسکو معراج کی آواز ائ تھی۔۔۔۔

دعا نے اٹھ کر فورن وہ لفافہ اپنی الماری کے اندر چھپا کر رکھ دیا تھا۔۔۔

اور اکر واپس بیڈ پر بیٹھ گئ تھی۔۔۔

تبھئ معراج کمرے میں داخل ھوا تھا۔۔۔

اور آتے ہی اسنے دعا کو سلام کیا تھا۔۔۔۔

اسلام علیکم محترمہ۔۔۔

اب تک تیار نہیں ھوئ آپ ؟؟؟

معراج نے صوفے پر بیٹھ کر کہا۔۔۔

ہاں بس جارہی ھوں۔

معراج کو دیکھ کر اسکو ایک دم سے رونا ایا تھا پتا نہیں کیوں بریرہ بیگم کی باتیں سن کر وہ خاصی اداس ھوئ تھی۔۔۔۔

دعا ؟؟

معراج نے اسکو پکارا تو اسنے فورن نظر اٹا کر اسکو دیکھا۔۔۔

کیا ھوا ؟؟؟

معراج نے دعا کے چہرے پر چھائ اداسی دیکھ کر پوچھا۔۔۔

کچھ نہیں بس طبعیت کچھ ٹھیک نہیں۔۔۔

دعا نے بھانا کیا۔۔۔۔

جھوٹ مت کہو۔۔۔۔

کسی نے کچھ کہا ھے گھر میں ؟؟؟

معراج اس کے لیے فکر مند ھوا تھا اور اب اکر اس کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔

نہیں کچھ نہیں۔۔۔۔

دعا کی انکھیں ایک دم ہی بھیگی تھی۔۔۔۔

اسکو معراج پر بےحد پیار اور رحم آرہا تھا۔۔۔۔۔

دعا تم رو کیوں رہی ھو بولو نا ؟؟؟

معراج نے دعا کی انکھوں میں انسو دیکھ کر پریشان ھوتے ھوئے پوچھا۔۔۔

بس ایسی دل کر رہا تھا۔۔۔۔

دعا نے ایک نظر معراج پر ڈال کر کہا۔۔۔تو اس لمحے اسکو معراج کا چہرہ حد سے زیادہ معصوم لگا۔۔۔۔

زندگی نے کیا کیا نہیں کیا تھا معراج کے ساتھ۔۔۔۔

دعا نے دل میں سوچا۔۔۔

جس ماں کو وہ دل اور جان سے چھاتا تھا وہ خود اپنی مرضی سے اسکو چھوڑ کر کچی عمر میں چلی گئ تھی۔۔۔۔

معراج نے کیا کچھ نا دیکھا تھا اپنی زندگی میں۔۔۔۔۔

وہ اندر سے کتنا دکھی تھا

کتنا اداس رہا تھا۔۔۔۔

دعا ایک ٹک معراج کو دیکھ کر سوچ رہی تھی۔۔۔۔۔

دعا ؟؟؟؟

معراج نے دعا کو پکارا تو اسکی سوچ ایک دم ٹوٹی۔۔۔۔۔۔

جی ؟؟؟ دعا نے ایک دم اپنے آنسو پونچھ کر کہا۔۔۔

کیا ھوا بابا ؟؟

معراج نے ہلکے سے دعا کا ہاتھ تھام کر پھر پوچھا۔۔۔

کچھ نہیں ھوا۔۔۔۔۔بس امی کی یاد آرہی تھی۔

دعا نے کھڑے ھوتے ھوئے کہا۔۔۔

اچھا۔۔۔۔

معراج نے لبوں پر مسکراہٹ سجا کر کہا۔۔۔۔

اچھا جاوں بہت دیر ھوگئ ھے تم تیار ھو جاو ۔۔۔

جی اچھا۔۔۔

دعا فورن ہی تیار ھونے چلی گئ تھی۔۔۔۔

کچھ دیر بعد جب وہ باتھ روم سے نکلی تو معراج نماز پڑھ رہا تھا۔۔۔دعا جا کر شیشے کے سامنے کھڑے ھوکر حجاب پھنے لگی۔۔۔تبی معراج نے نماز مکمل کر کے جانماز جگہ پر رکھی تھی۔۔۔۔

ہم کہاں جارہے ھیں ؟؟

دعا نے پھر سوال کیا تھا۔۔۔۔

اممم۔ ایک جگہ جارہے ھیں۔۔۔

معراج نے مسکرا کر کہا۔۔۔

کس جگہ ؟؟

دعا نے پھر پوچھا۔۔۔۔

سوال بہت کرتی ھو۔۔۔۔

ابھی چلو سب پتا چل جائے گا۔۔۔

میں گاڑی میں انتیظار کر رہا ھوں آجاوں۔۔۔۔

معراج دعا کو اپنی نظروں میں بھرتا کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔

دعا بھی کچھ دیر بعد تیار ھو کر گاڑی میں اکر بیٹھ گئ تھی۔۔۔۔

دعا کے بیٹھتے ہی معراج نے گاڑی روڈ پر نکال دی تھی۔۔۔۔

معراج ؟؟

دعا نے گاڑی چلاتے چلاتے معراج کو ایک دم پکارا تھا۔۔۔۔

ہممم ؟؟؟

معراج نے اسکی طرف گردن موڑ کر پوچھا تھا۔۔۔۔

کچھ نہیں۔۔۔۔۔دعا پتا نہیں معراج سے کیا کہنا چھا رہی تھی۔۔۔۔

کیا ھوا کچھ کہنا چھاتی ھو ؟؟

معراج نے دعا کے ایک دم چپ ھونے پر پوچھا۔۔۔۔۔

نہیں۔۔۔۔دعا نے فورن کہا۔۔۔۔

معراج کو لگ رہا تھا دعا کچھ کہنا چھارہی ھے پر کہہ نہیں پارہئ۔۔۔۔۔

دعا نے دل میں پھر معراج کو پکارا تھا۔۔۔۔

معراج۔۔۔۔

میں نے آپ کو معاف کیا۔۔۔

دعا نے گاڑی چلاتے معراج کو دیکھ کر اپنے دل میں کہا۔۔۔۔

اج کیا بات ھے میڈم ؟؟؟

ہم پر کچھ زیادہ ہی پیار آرہا ھے۔۔۔

معراج نے دعا کی نظرون کو اپنی طرف دیکھا تو فورن شرارت سے بولا۔۔۔

دعا نے فورن نظر ہٹا لی۔۔۔اور خاموش رہئ۔۔۔۔

معراج نے تھوڑی دیر بعد ہی گاڑی لا کر دعا کے گھر کے گیٹ پر روک دی تھی۔۔۔۔

دعا کافی حیران ھوئ تھی ۔۔۔۔۔

چلو۔۔۔معراج نے گاڑی سے اتر کر دعا کو بھی اترنے کو کہا تھا۔۔۔۔

دعا کو بلکل امید نا تھی کہ احمد صاحب کے اس دن کے رویے کے بعد معراج پھر اسکو اس گھر میں لے کر ائے گا۔۔۔۔۔

ہم یہاں ؟؟

دعا نے گاڑی سے اتر کر حیرت سے پوچھا۔۔۔۔

ہممم۔۔۔۔کیوں اتنے دل بعد واپس ائ ھو کیا امی ابو سے نہیں ملو گی۔۔۔

معراج نے مسکرا کر کہا اور گھر کی بیل بجا دی۔۔۔

تھوڑی ہی دیر بعد عمیر نے گیٹ کھول دیا تھا۔۔۔۔

اسلام علیکم مہمانوں۔۔۔۔۔آااا

عمیر نے ھنستے ھوئے انکو ویلکم کیا تھا۔۔۔۔۔

عمیر کے انداز سے پتا لگ رہا تھا کہ یہ سب کچھ پہلے سے طے تھا۔۔۔۔

کیا حال ھے دعا آپی ؟؟

عمیر اب دعا سے ملا تھا۔۔۔

میں ٹھیک ھوں عمیر تم کیسے ھو ؟؟

ابو کیا گھر پر ھیں ؟؟؟

دعا نے سب سے پہلا سوال یہ ہی کیا تھا۔۔۔۔

ائے اندر ائے۔۔۔۔

عمیر نے اس بات کا کوئ جواب نا دیا تھا۔۔۔۔

دعا اور معراج گھر کی اندر داخل ھوئے تو نمرہ اور عمر بھاگ کر اکر دعا کے گلے لگے تھے۔۔۔

دعا بھی ان سے مل کر خوش ھوئ تھی۔۔۔

کیا حال ھے جی جو۔۔۔۔؟؟

نمرہ اب معراج سے مل رہی تھی۔۔۔

فٹ فاٹ چھوٹی دعا اپ سنائے۔۔۔

معراج نے ہلکے سے نمرہ کے سر پر چپت لگا کر کہا ۔۔۔

وہ نمرہ کو بلکل بہنوں کی طرح ٹریٹ کرتا تھا۔۔۔

اج دعا کے تمام گھر والے خاصے خوش نظر آرہے تھے۔۔۔۔۔

دعا کے دل میں بار بار یہ خیال آرہا تھا کہ نجانے ابو کو جب معلوم۔ھوگا ھم ائے ھیں تو وہ کیا سلوک کریں گے ۔۔۔۔

اج معراج اور دعا کو عمیر سیدھا اندر لاوئج میں لایا تھا۔۔۔

تبھی سمیرا بیگم کچن سے نکل کر ائ تھی۔۔۔

دعا فورن ان کے گلے سے لگ گئ تھی۔۔۔

اسلام علیکم آمی کیسی ھیں آپ ؟؟

دعا نے ماں کے گلے ملتے پوچھا میں بلکل ٹھیک ھوں بیٹا تم کیسی ھو ؟؟

سمیرا بیگم نے اسکے گال پر بوسہ دے کر کہا۔۔۔۔۔۔

میں ٹھیک ھوں امی۔۔۔۔

دعا نے سمیرا بیگم کے چہرے کو غور سے دیکھا تو اسکو سمیرا بیگم کے اندر تھوڑی تھوڑی کوسم کی شوات ائ۔۔۔۔

اسلام علیکم امی۔۔۔

معراج اب سمیرا بیگم کے اگے جھکا تھا اور ان کا ہاتھ اپنے سر پر رکھوایا تھا۔۔۔۔

کیسے ھو معراج بیٹا ؟؟

سمیرا بیگم نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر پوچھا تھا۔۔۔

میں بلکل ٹھیک ھوں۔۔۔۔امی۔۔۔

معراج نے مسکرا کر جواب دیا تھا۔۔۔۔

دعا کو اب سمجھ آیا تھا کہ معراج دعا کی امی کو امی کیوں کہتا تھا۔۔۔۔۔

عمیر میرے ساتھ باہر آنا معراج عمیر کو لے کر باہر نکل گیا تھا جبکہ دعا نمرہ وغیرہ وہی بیٹھ گئے تھے۔۔۔۔۔

جب ہئ تھوڑی دیر بعد معراج اور عمیر باہر گاڑی سے کافی سارے shoppings بیگ لے کر اندر داخل ھوئے تھے۔۔۔

ارے یہ سب کیا ھے ؟؟؟

سمیرا بیگم نے فورن پوچھا تھا۔۔۔۔

امی بس کچھ نہیں۔۔۔۔

تھوڑے سے گفٹ لائے ھئں دعا اور میں۔۔۔

معراج نے مسکرا کر کہا۔۔۔تو دعا خاصی حیران ھوئ یہ تو وہی shoppings بیگ تھے جو معراج نے ناران سے جانے والے دن لیے تھے۔۔۔

اپ نے یہ سب کب لیے ؟؟

معراج اکر جب دعا کے ساتھ صوفے پر بیٹھا تو دعا نے فورن پوچھا۔۔۔

جب تم گدھے گھوڑے بیچ کر سوئ تھی۔۔۔معراج نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔

اپنے تو کہا تھا گھر والوں کے لیے ھے۔۔۔۔

دعا نے سوالیہ انداز میں پوچھا۔۔۔

یہ میرا ہی گھر ھے محترمہ۔۔۔۔

معراج نے مسکرا کر بڑا پیارا جواب دیا۔۔۔۔۔

معراج کو کس قدر خیال تھا اس کے گھر والوں کا۔۔۔

بھائ یہ چھپ چھپ کر باتے کرنے کی نہیں ھو رہئ۔۔۔۔

نمرہ نے فورن دعا معراج کو چھیڑا تھا۔۔۔۔

ہاہاہا ۔۔۔۔دیکھو فورن تم نے سالی والا روپ دیکھا دیا۔۔۔معراج نے ھنس کر کہا۔۔۔۔

شکر کریں بھائ ابھی اسنے سالی والا دیکھایا ھے روپ نہیں تو یہ ایک چڑیل کی بہن ھے اپ خود اندازہ لگا لیں۔۔

عمیر نے ہمیشہ کی طرح دعا کو چھیڑا تھا۔۔۔دعا نے ایک گدی اٹھا کر عمیر کو ماری تھی۔۔۔۔

معراج دونوں کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔۔۔اج وہ یہاں کافی comfertable تھا….

معراج بیٹے اس سب کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔

سمیرا بیگم نے پھر گفٹ پر نظر ڈال کر کہا۔۔۔

ارے امی کچھ بھی نہیں ھے ۔۔بس وہاں کہ کچھ سوغات ھے۔۔۔۔۔معراج نے کہا۔۔۔

وہ ٹھیک ھے بیٹا پر پھر بھی۔۔۔تکلف کی کیا ضرورت۔۔۔۔سمیرا بیگم نے کہا۔۔۔

ایک منہ سے بیٹا کہہ رہی ھیں اور ایک منہ سے مہمان بنا رہی ھیں۔۔۔

اگر بیٹا کوئ چیز گھر لاتا ھے تو اس سے اتنے سوال نہیں کیے جاتے۔۔۔۔

معراج نے مسکرا کر بہت اپنائیت سے کہا تو سمیرا بیگم کو ماننا ہی پڑا۔۔۔

اج یہ سب دیکھ کر دعا کو خاصی حیرانی ھو رہی تھی۔۔۔

اج کسی کو احمد صاحب کے غصے کی فکر نا تھی۔۔۔

ابھی دعا یہ سوچ ہی رہی تھی کہ احمد صاحب نے عمیر کو آواز دی تھی۔۔۔

عمیر اٹھ کر فورن احمد صاحب کے پاس گیا تھا۔۔۔

دعا کے دل میں ایک عجیب سی اداسئ پیدا ھوئ۔۔۔

معراج بھائ اپ زارہ ادھر آجائے۔۔۔۔عمیر نے اسکو لاوئج نے اندر انے کو کہا اور خود بھی لاوئنج کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔

تبھی معراج بھی اٹھ کر عمیر کے پیچھے جانے لگا تو دعا نے فورن پوچھا۔۔۔

آپ کہاں جارہے ھیں ؟؟؟؟

آرہا ھوں۔۔۔۔

معراج نے ہکے سے کہا۔۔۔

پلیز اب کوئ تماشے کی ضرورت نہیں ہم چلتے ھیں ادھر سے۔۔۔۔

بات اور نا بگڑ جائے دعا نے اس ڈر سے کہا۔۔۔۔

تم بیٹھو میں آرہا ھوں۔۔۔۔۔

معراج کہہ کر اگے بڑھ گیا تھا۔۔۔

جب کہ دعا حیران پریشان سی نمرہ اور سمیرا بیگم کو دیکھ رہی تھی۔۔۔

اللہ خیر کرے اب پتا نہیں کتنا بڑا مصلہ بنے گا دعا نے دل میں سوچا تھا۔۔۔۔

عمیر اب واپس اکر بیٹھ گیا تھا۔۔۔

تم معراج اور ابو کو اکیلے چھوڑ کر کیوں چلے آئے ؟؟؟؟

دعا کے چہرے پر واضحے پریشانی تھی۔۔۔۔

ان دونوں کو کچھ بات کرنی تھی۔۔۔اپ کیوں اس قدر پریشان ھو رہی ھیں۔۔۔؟

عمیر نے نورمل انداز میں کہا جیسے معراج اور احمد صاھب کے بیچھ کوئ بات ہی نا تھی۔۔۔۔

اپ سب اس قدر انجان کیوں بن رہے ھیں ؟؟

دعا کو اب غصہ آرہا تھا۔۔۔

آپئ اپ تھوڑی دیر تحمل سے بیٹھ جائے۔۔۔

نمرہ نے دعا کو کہا۔۔۔۔۔آااا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

معراج احمد صاحب کے کمرے میں دستک دے کر داخل ھوا تھا۔۔۔۔آحمد صاحب rolling کرسی پر بیٹھے تھے۔۔۔۔۔

معراج کمرے میں داخل ھوا تو انھوں نے معراج کو بیڈ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔

معراج جاکر بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔۔

مجھے عمیر بتا رہا تھا کہ تم نے اس سے کہا ھے تمھیں مجھ سے کوئ بات کرنی ھے۔۔

احمد صاحب نے سیدھی بات کی تھی۔۔۔

جی سر مجھے اپ سے بات تو کرنی ھے۔۔۔۔لیکن اس وقت جو بات میں اپ سے کرنا چھاتا ھوں۔۔۔۔اس کے لیے مجھے اپ کے طعاون کی ضرورت ھے۔۔۔معراج نے بہت تمیز کے انداز میں بات کا آغاز کیا۔۔

کس طرح کا طعاون ؟؟

احمد صاحب نے فورن پوچھا۔۔۔۔سر بات کو اگر آسانی سے سنا اور سمجھا جائے گا۔۔۔۔تو یقین ہماری غلط فہمی دور ھوگی۔۔۔۔

ہم دونوں کی position ایک جیسی ھے۔۔۔۔دعا ہم دونوں کی ہی زندگی کا ایک اہم حصہ ھے ۔۔۔

تم کیا کہنا چھاتے ھو سیدھے سیدھے بولو۔۔۔

احمد صاحب نے ناسمجھتے ھوئے کہا۔۔۔سر مجھے اپ کو کچھ بتانا ھے۔۔۔جو ھوچکا اسکو بدلہ نہیں جاسکتا۔۔۔۔

لیکن انسان اپنی غلطی کی معافی ضرور طلب کر سکتا ھے۔۔۔۔

کونسی غلطی ؟؟؟

احمد صاحب کو معراج کی بات سمجھ نہیں آرہی تھی۔۔۔۔۔

سر ااا

اپ کی ناراضگی دعا سے بجا ھے۔۔۔۔وہ بے قصور ھے۔۔۔۔

معراج اب سیدھے مودے کی بات پر ایا تھا۔۔۔۔

وہ میرا اور اسکا معملہ ھے۔۔۔۔احمد صاحب نے اپنی ضد سے کہا۔۔۔۔

سر اب دعا میری زندگی سے جوڑ چکی اور اب اسکی ہر پریشانی میری پریشانی ھے ۔

احمد صاحب نے معراج کی آنکھوں میں دعا کے بے انتھاء محبت محسوس کی تھی۔۔۔۔۔

سر اپ سمجھتے ھیں کہ دعا نے اپ میں اور مجھے میں سے مجھے چنا ھے جب کہ یہ غلط ھے۔۔۔۔

دعا نے اپکو چنا تھا !!!!

کیا مطلب ؟؟

احمد صاحب کی آواز میں اب کے نرمی تھی۔۔۔

سر دعا نے یہ شادی صرف اور صرف میری زبردستی پر کی ھے۔۔۔

دعا نے صرف اپکی عزت کو بچانے کی خاطر مجھ سے شادی کی ھے دعا بے قصور ھے۔۔۔۔۔۔

معراج نے شروع سے لے کر آخر تک تمام بات صاف صاف احمد صاحب کو بتا دی تھی۔۔کہ کس طرح اسنے دعا کو black male کیا تھا۔۔کس طرح دعا کو اسنے اس شادی کے لیے منایا اور کس طرح دعا اس سے اب تک اس بات پر خفا ھے۔۔۔۔

معراج کی تمام بات سنے کے بعد احمد صاحب شوک کی سی کیفیت میں تھے۔۔۔۔

سر میں جانتا ھوں ۔۔میں نے اپ کو تکلیف پھنچائ ھے۔۔۔میرا عمل اس وقت غلط تھا ۔۔لیکن اج میری نیت بے حد صاف ھے۔۔۔۔دعا کے بارے میں اپ نے جو کچھ سوچا وہ سب غلط تھا سر۔۔۔۔۔

اصلی گھنگار میں ھوں۔۔۔

دعا نے مجھ سے زیادہ ہمیشہ اپ سے محبت کی ھے سر اور کرتی رہے گی۔۔۔۔مجھے آپ کی دی گئ ہر سزاہ قبول ھے سر۔۔لیکن اگر اپنے یہ امید کی کہ اپ کہ کہنے پر میں دعا کو چھوڑ دوں گا تو یہ بات میرے بس سے باہر ھے ۔۔۔۔۔دعا کو اپنی آخری سانس تک میں نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔۔

اور نا اسکے بغیر جی سکتا ھوں۔۔۔اپ کو سب بتانے کا مقصد صرف یہ ھے کہ دعا سے اپنی نازاضگی ختم کر لیں۔۔۔دعا کی زندگی میں اپکی بہت اہمیت ھے۔۔وہ سب برداشت کر سکتی ھے پر اپ کی ناراضگی نہیں۔۔۔۔

بس میں یہ ہی کہنا چھاتا ھوں سر۔۔۔

کہ اپکو جو سزاہ مجھے دینی ھے اپ دیں۔۔۔۔

میں حاظر ھوں۔۔۔

پر پلیز دعا کو معاف کردیں ۔۔۔

معراج نے اج پہلی بار کسی سے التجا کی تھی۔۔۔

احمد صاحب بکل خاموش سے بیٹھے تھے۔۔ ۔۔

وہ معراج کی محبت پر حد سے زیادہ حیران تھے۔۔۔۔

معراج کی انکھوں میں دعا کے لیے جنون کسی سے چھپا نہیں تھا۔۔۔۔

کیا میں خود دعا کے لیے اتنا پیار کرنے والا شوہر دھونڈ سکتا تھا ؟؟

احمد صاحب نے خود سے سوال کیا تھا۔۔۔۔

معراج اپنا ہر گناہ اپنے منہ سے قبول کر رہا تھا۔۔۔۔

ھوسکے تو میری اس غلطی کو معاف کر دیں سر ۔۔

معراج اپنی غلطی کی معافی مانگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔

کافی دیر چپ رہنے کے بعد احمد صاحب بولے تھے۔۔۔

اگر میں تمھیں کہو دعا کو چھوڑ دو یہ ہی تمھاری سزہ ھے۔۔۔۔۔

سوری سر۔۔۔۔

مجھے اپ جان سے مار دیں میں اف نہیں کروں گا

پر دعا کو مجھ سے کوئ الگ نہیں کرسکتا۔۔۔۔

معراج ابھی تک اپنی بات پر قائم تھا۔۔۔۔۔

احمد صاحب ایک دم سے کرسی سے اٹھے تھے تو معراج بھی ان کے ساتھ کھڑا ھوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

تمھاری سزہ میں تمھیں باہر ہی سناوں گا۔۔۔

احمد صاحب کہہ کر اپنے کمرے سے باہر کی طرف بڑھ گئے تھے معراج بھی باہر کی طرف بڑھا تھا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

عمیر میرا دل گھبرا رہا ھے پلیز اندر جاکر دیکھو نا کیا ھوا ھے ؟؟؟

دعا نے اب تک کوئ 15 بار یہ ہی بات کی تھی۔۔۔۔

افف اللہ !!!

اپی معراج بھائ کی اتنی فکر ۔۔۔

ابو انکو کہا نہیں جائیں گے۔۔۔نمرہ نے دعا کو چھیڑے ھوئے کہا۔۔۔

تم اپنا منہ بند رکھو نمرہ۔۔۔۔

دعا اس وقت واقعی غصے میں تھی۔۔۔۔

دفاع ھوجاوں۔۔۔میں خود ہی جاتی ھوں۔۔۔دعا صوفے سے اٹھ کر جانے ہی لگی تھی جب معراج اور احمد صاحب اندر داخل ھوئے تھے۔۔۔۔۔۔

دعا احمد صاحب کو دیکھ کر ایک دم رکی تھی۔۔۔۔۔۔

ابو !!!

دعا کے منہ سے ایک دم نکلا تھا۔۔۔۔وہ ایک دم انکے گلے ملنے اگے بڑھی تھی پھر خود ہی روک گئ تھی ۔۔اس نے ایک دم ہی مایوسی سے گردن جھکا لی تھی۔۔۔۔۔

اج ہماری شھزادی ہم سے گلے نہیں ملے گی ؟؟؟؟؟

احمد صاحب نے ہمیشہ کی طرح کہا تھا۔۔۔

دعا نے ایک دم حیرت سے گردن اٹھا کر احمد صاحب کو دیکھا تھا۔۔۔۔

تو احمد صاحب اسکو مسکرا کر دیکھ رہے تھے۔۔۔

دعا فورن جاکر انکے گلے سے لگ گئ تھی۔۔۔۔

اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی۔۔

ابو !!!!!

احمد صاحب بھی کتنے دنوں بعد اپنی بیٹی کو پیار کر رہے تھے تو انکی انکھیں بھی نم ھوگی تھی۔۔۔۔۔۔

سمیرا بیگم عمیر عمر اور نمرہ بہت خوش تھے۔۔ ۔

معراج بھے دونوں کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔۔۔۔

اسکی محنت رنگ لے ائ تھی۔۔۔۔۔

میری پیاری بیٹی۔۔۔۔۔

احمد صاحب نے پیار سے دعا کا ماتھا چوما تھا۔۔۔۔۔

دعا کی تو خوشی کا ٹھکانہ نا تھا وہ حد سے زیادہ خوش تھی۔۔۔۔۔

اج احمد صاحب کے گھر کے تمام لوگ حد سے زیادہ خوش تھے۔۔۔۔۔۔

تم ادھر او !!!!!

اب احمد صاحب نے معراج کو بلایا تھا۔۔۔۔

جی سر ؟؟؟

معراج احمد صاحب کے پاس گیا تھا۔۔۔

تمھیں تمھاری سزاہ سنی تھی نا۔۔۔۔۔۔!!!!

تمھاری سزہ یہ ھے کہ تم دو سال تک دعا سے نہیں ملو گے۔۔۔۔تبھی تمھیں معافی ملے گی نہیں تو نہیں۔۔۔۔۔۔

احمد صاحب نے سخت لہجے میں کہا۔۔۔

معراج اور دعا کو محسوس ھوا کہ احمد صاحب نے صرف دعا کو معاف کیا ھے اسے نہیں۔۔۔۔۔

کیا؟؟؟

معراج اور دعا دونوں ہی حیران سے تھے !!!!!!

پر سر!!!!