Zid Junoon Ki Inteha By SA Khanzadi NovelR50423 Zid Junoon Ki Inteha Episode 24
No Download Link
Rate this Novel
Zid Junoon Ki Inteha Episode 24
Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi
کتنا دور ھے سیف الملوک ؟
دعا نے تیڑے میڑے راستے دیکھ کر معراج سے پوچھا۔۔۔۔
بسس کچھ دور ھی ھے۔۔۔۔۔۔معراج نے جواب دیا۔۔۔
ہمم اچھا !!!!
دعا نے بھرے جنگل کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔۔
سیف المکوک کا راستہ گھنے جنگل سے ھوتا ھوا جاتا تھا۔۔۔۔
اور ہلکے ہلکے وہ لوگ پہاڑی چھڑ رہے تھے یعنی اونچائ۔۔۔۔۔۔
دعا کے زہن میں ایک دم ہی بریرہ بیگم کی وہ بات یاد ائ کہ معراج کو اونچائ سے دڈ لگتا ھے۔۔۔۔۔
سنیں !!!!
دعا نے معراج کو مخاطب کیا تھا۔۔۔۔۔۔
معراج کو اس وقت چکر تو آرہے تھے پر وہ ظاہر نہیں کرہا تھا۔۔۔۔
آپ کو اونچائ سے ڈر لگتا ھے نا ؟
دعا نے اچانک ہی پوچھا تھا۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔
تمھیں کس نے کہا ؟؟؟
معراج اگر دعا پر ظاہر کر دیتا تو دعا بلاوجے اور پریشان ھو جاتی۔۔۔وہ خد اس وقت ڈر رہی تھی۔۔۔۔۔
معراج کے ڈر کا پتا لگتا تو نجانے اسکا کیا حال ھوتا۔۔۔۔
کسی نے نہیں۔۔۔!!!!
دعا نے جواب دیا اور چیپ کی کھلی کھڑکی سے باہر جنگل کو دیکھنے لگی۔۔۔۔
بڑے بڑے درخت سے ڈھکا یہ جنگ بہت خوفناک تھا۔۔۔۔
یا اللہ اگر یہاں کوئ گھوم جائے تو اس کا کیا حال ھو۔۔
دعا کہ منہ سے ایک دم ہی نکلا تھا۔۔۔۔
کیا حال ھونا ھے۔۔۔۔بس
شیر کا مزے دار سا dinner یا lunch بن جائے گا۔۔۔
معراج نے دعا کا خوف دیکھ کر ویسی بلف مارا تھا۔۔۔۔
کیا ادھر شیر بھی ھیں ؟؟؟
دعا نے حیرت سے پوچھا تھا۔۔۔
ہاں تو اتنے گھنے جنگل میں شیر نہیں ھونگے کیا میں نے تو سنا ھے کہ کافی خوفناک شیر ھوتے ھیں ادھر کہ۔۔۔۔
معراج اب دعا کی کیفیت سے لطف اٹھا رہا تھا۔۔۔۔
وہ یہ سب صرف دعا کو ڈرانے کے لیے بول رہا تھا۔۔۔۔۔
اچھا۔۔۔۔۔!!!
دعا نے بہت بے بسی سے کہا پھر ایک دم بولی۔۔۔
ہم یہاں کیون ائے ؟؟؟؟
دعا نے انتھائ معصومیت سے پوچھا۔۔۔۔
دعا وہ لڑکی تھی جو بلی سے بھی ڈرتی تھی۔۔۔اور اب اس گھنے جنگل میں جہاں سے وہ سفر کر کے جارہی تھی وہان شیر بھی موجود تھا۔۔۔۔
معراج کو دعا کا چہرہ دیکھ کر ایک دم ھنسی ائ۔۔۔۔لیکن اسنے کنٹرول کر کے پھر کہا۔۔۔۔۔
سیف اولملوک دیکھنے۔۔۔۔۔۔ویسے میں مزاق کر رہا ھوں ایسا کچھ نہیں ھے۔۔۔تم ڈرو مت۔
معراج نے دعا کا ڈر دیکھ کر اب سچ کہا تھا۔۔۔۔۔۔
دعا کچھ بولتی اس سے پہلے جیپ کے ڈرایور خان صاحب بولنے لگا۔۔۔۔
صاحب جی یہ بات سچ ھے۔۔۔۔
ادھر بہت خوفناک شیر ھیں۔۔۔تبی ہم رات کے وقت جیپ کا سفر نہیں کرتا۔۔۔۔۔
ہمارا کوشش ھوتا ھے کہ ہم مسافروں کو دن دن میں واپس لے ائے۔۔۔۔
خان صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں کہا تھا۔۔۔۔۔
اپ مزاق کر رہے ھیں نا ؟؟؟
دعا کا ڈر اب مزید بڑھ رہا تھا۔۔۔اس نے خان بابا سے پوچھا۔۔۔
نہیں بیٹا جی ہم مزاق نہیں کررہا ۔۔۔۔
پچھلے دونوں شیر نے ایک گاڑی پر حملہ کیا تھا۔۔۔بس تم سیف الملوک گھوم کر جلدی جلدی واپس آجانا ویسی ادھر بارش کا موسم ھے۔۔۔۔۔
باقی اللہ خیر کرے گا۔۔۔۔۔
خان بابا نے تیز جیپ چلاتے ھوئے کہا۔۔۔۔
سیف اولملوک کا راستہ کافی خطرناک تھا۔۔۔۔
پہاڑی کاٹ کر وہ راستہ بنایا گیا تھا۔۔۔۔
اس لیے اس راستے پر بہت گڈے ھیں۔۔۔۔۔
خان بابا مسلسل دل دھلانے والی باتیں کر رہے تھے۔۔۔۔
دعا نے ایک دم انکھیں بند کر کہ آیت الکرسی پر کر اپنے اوپر پھوکی تھی۔۔۔۔۔
صرف اپنی حفاظت کرنا۔۔۔تم تو چھاتی ھو مجھے کچھ ھو جائے۔۔۔۔
معراج نے دعا کو صرف اپنے اوپر دعا پھونکتے ھوئے دیکھا تو کہا۔۔۔۔
میں نے اس جیپ پر پھوکی ھے ۔۔۔۔اور جیپ میں بیٹھا ہر شخص محفظ رہے گا۔۔۔۔
۔دعا نے توکل سے کہا۔۔۔
اچھا کیا پڑھا ھے تم نے ؟؟؟
مطلب کونسی دعا ؟؟
معراج نے اسکا کامل یقین دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔
میں نے ابھی آیت الکرسی پڑھی ھے۔۔۔۔
اور اللہ تعالی کا وعدہ ھے جو شخص 3 بار آیت الکرسی پڑھ کر اپنے اوپر پھونک لیتا ھے تو اللہ تعالی اسکی حفاظت خود کرتا ھے اور اسکو صیح سلامت واپس اسکی منزل پر پھنچا دیتا ھے۔۔۔۔
دعا کی آنکھوں میں بے حد ایمان تھا۔۔۔۔
معراج نے دعا کی انکھوں میں دیکھا تھا۔۔
تمھیں یہ سب اچھی اچھی باتیں کس نے بتائ ؟؟؟
دعا کے منہ سے اتنی اچھی باتیں سن کر وہ حیران ھوا تھا۔۔۔۔اس کو دین کے بارے میں کیا کچھ پتا تھا۔۔۔
یہ سب باتیں میرے !!!!
دعا جوش سے بولتی بولتی ایک دم روکی تھی۔۔۔۔
کیا ھوا ؟؟؟
دعا کہ ایک دم روکنے پر معراج نے پوچھا تھا۔۔۔۔
میرے ابو نے سکھائ تھیں۔۔۔۔دعا نے اگے کا جملہ پورا کیا تھا۔۔۔۔اور معراج نے اسکی آواز میں بھیگا پن صاف محسوس کیا تھا۔۔۔۔۔
اور اس کو دل میں حد سے زیادہ شرمندگی بھی محسوس ھوئ تھی۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر کے لیے جیپ میں بلکل خاموشی چھا گئ تھی۔۔۔۔
معراج بہت کچھ کہنا چھاتا تھا۔۔۔پر ہمت نا تھی۔۔۔
اور دعا کے پاس کچھ کہنے کو نا تھا۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
بلاج ویسے اچھا ھوا نا دعا اور معراج ایک جگہ اکیلے گئے ھیں ؟؟؟
رملا نے بلاج کے ساتھ روڈ پر چلتے چلتے کہا۔۔۔۔۔
ہاں اچھا ھوا۔۔۔۔مجھے ایسا لگتا ھے رملا کہ معراج دعا سے محبت کرتا ھے۔۔۔۔
لیکن دعا معراج سے خفا ھے۔۔۔۔۔
اور میرے خیال سے اقرار محبت اب تک معراج صاحب نےبھی کیا نہیں۔۔۔
بلاج نے اپنے زہن سے اندازہ لگایا تھا۔۔۔
اگر ایسی بات ھوتی تو شادی کیون کرتے۔۔۔۔۔
رملا نے سوچتے ھوئے کہا۔۔۔۔
رملا۔۔۔۔تم نے معراج میں فرق نوٹ نہیں کیا میں نے کیا ھے۔۔
وہ اب چہڑتا نہیں بھیس نہیں کرتا۔۔۔۔۔
معراج نے شادی ضد میں اکر کی تھی جتنا میں معراج کو جانتا ھوں۔۔۔بلاج نے گھیرے انداز میں کہا !!!
اچھا اپ یہ کیسے کہہ سکتے ھیں۔۔۔رملا نے پوچھا۔۔۔
دیکھو۔۔۔۔
جب سے شادی ھوئ ھے دعا کہ گھر سے کوئ نہیں ایا اور نا دعا ان کے پاس گئ۔۔۔اس سے صاف مطلب ظاہر ھے دعا کہ گھر والے زاصی نہیں تھے۔۔۔
خاص کر دعا کے والد صاحب۔۔۔انکا رویہ میں نے شادی میں بھی نوٹ کیا تھا۔۔۔۔
ہممم !!
رملا نے سوچتے ھوئے کہا۔۔۔۔
تو یعنی دعا نے معراج سے محبت کی شادی کی ؟؟؟؟
رملا نے ایک دم خلصہ کرتے ھوئے بلاج سے پوچھا۔۔۔
نہیں !!!!!!
میرا نہیں خیال یہ دعا کی طرف سے محبت کی شادی تھی۔۔۔۔
خیر چھوڑو جو ھوا سو ھوا اب بس میں چھاتا ھوں میرا بھائ خوش رہے۔۔۔۔۔
اور میں نے اسکی خوشی دعا کے ساتھ محسوس کی ھے رملا۔۔۔۔
جب سے دعا معراج کی زندگی میں ائ ھے۔۔۔
وہ بدل رہا ھے۔۔۔۔۔
خوش رہنے لگ ھے
ھسنے لگا ھے۔۔۔۔۔
بس اللہ کرے دعا بھی معراج کے قریب ھو جائے اور سب کچھ بھول کر نئ زندگی شروع کردے۔۔۔۔۔بلاج کی باتوں میں معراج کے لیے بے شمار پیار تھا۔۔۔۔
ہمم آمین۔۔۔۔!!!
رملا نے بھی دل سے کہا تھا۔۔۔۔
بلاج اور رملا دنوں معراج سے بہت پیار کرتے تھے….اور دل سے چھاتے تھے دعا اور معراج ایک ھوجائیں۔۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ دونوں پچھلے 2 گھنٹے سے صفر کر رہے تھے اور اب بل آخیر وہ خیر سے سیف الملوک پھنچ گئے تھے۔۔۔
سیف الملوک ایک اتنھائ پیاری جگہ تھی۔۔۔۔۔۔
پہاڑیوں کے بیچ میں جھیل بنی تھی جو نجانے کتنے فٹ گھیری تھی۔۔۔۔۔چاروں طرف پہاڑیاں تھی جو ہلکی ہلکی برف سے ڈھکی ھوئ تھی۔۔۔۔
ایک پہاڑی جسکا نام ملکلہ بربت تھا وہ برف کی چادر اوڑے کھڑی تھی۔۔۔۔
دعا اور معراج جیب سے اتر کر کھڑے ھوئے تو خان بابا کے موبئل پر کسی کا فون آیا۔۔۔۔
اور وہ پشتو میں بات کرنے لگے جو معراج اور دعا کہ سمجھ سے بلکل اوپر تھی۔۔۔۔
کیا بول رہے ھیں یہ ؟؟؟
معراج نے دعا کو دیکھ کر پوچھا۔۔۔
مجھے کیا پتا ؟؟؟ دعا نے کہا۔۔۔
اچھا بس تم نام کی خان ھو اسکا مطلب ؟؟
معراج نے دعا کو چھیڑا۔۔۔ارے مجھے پشتو آتی ھے پر زیادہ نہیں۔۔۔۔۔
دعا نے اپنی جھیپ مٹانے کے لیے کہا۔۔۔۔۔
اچھا چلو تم بتاو کے پشتو میں
zata sara mina koum …
کا کیا مطلب ھے ؟؟؟؟
معراج نے دعا کی گھیری انکھوں میں دیکھ کر کہا۔۔۔۔۔
دعا کو پشتو بلکل بھی نہیں اتی تھی۔۔۔وہ بچپن سے ہی کراچی میں پلی بڑی تھی۔۔۔۔
لیکن اپنی خاندانی زبان نا انے پر اسکو کافی شرمندگی محسوس ھوئ تھی۔۔۔
ہاں مجھے پتا ھے ۔۔۔۔۔
دعا نے سوچا کون سا معراج کو پشتو آتی ھوگی۔۔۔۔جو سمجھ آتا ھے بول دیتی ھوں۔۔۔۔۔
اچھا بتاو کیا ھے ۔۔۔معراج نے مسکرا کر پوچھا۔۔۔؟؟
دعا ابھی جواب دینے ھی والی تھی۔۔۔۔
کہ خان صاحب فون بند کر کے بول پڑے
بیٹا °°
ہمارا بیوی کی طبعیت خراب ھوگئ ھے ابھی اسکو فورن ہسپتال لے جانا پڑے گا۔۔۔
ہم کو معاف کردو بیٹا ہمیں ابھی فورن واپس جانا پڑے گا ہم!!!
خان صاحب واقعی بہت پریشان دیکھائ دے رہے تھے۔۔۔۔
اارے خان بابا کوئ بات نہیں اپ جائیں۔۔۔۔
معافی مت مانگیں۔۔۔
دعا نے فورن کہا تھا۔۔
پر بیٹا تم لوگ واپس نیچے کیسے او گے ادھر تو سب اپنی اپنی جیپ میں آتا ھے کوئ extra جیپ نہیں ھوتی ادھر۔۔۔۔خان صاحب نے فکر مند ھو کر کہا۔۔۔
نہیں خان بابا اپ فکر نا کرو ہم کچھ arrange کرلیں گے۔۔۔اس وقت اپکا اپنی بیوی کے پاس ھونا ضروری ھے۔۔۔
معراج نے کہہ کر جیب سے والٹ نکالا اور جیپ میں صفر کرنے کے پیسے دیے اور ساتھ ہی 10 ہزار دیے۔۔۔
ارے بیٹا ہمیں یہ نہیں چھائے۔۔۔۔
خان بابا نے 5000 کے دو نوٹ دیکھ کر کہا۔۔۔
خان بابا رکھ لیں ضرورت پڑے گی۔۔۔۔
اپ اپنی بیوی سے بہت پیار کرتے ھیں نا انکو کچھ ھونا نہیں چھایے۔۔۔۔۔
معراج نے خان بابا کے ہاتھ میں زبردستی پیسے تھما کر کہا۔۔۔۔
ہاں بیٹا ہم کرتا ھے پر اپکو کیسے پتا ؟؟؟
خان بابا نے سوال کیا۔۔۔
بس اپ کی انکھوں میں ایک دم جو انکو کھونے کے ڈر سے آنسو ائے اسکو دیکھ کر۔۔۔۔
معراج نے گھیرے انداز میں کہا۔۔۔۔۔
ہام بیٹا تم ٹھیک کہتے ھوئے ہمارا گھر والی ہماری جان ھے۔۔۔۔۔
بہت بہت شکریہ بیٹا۔۔۔۔۔۔
خان صاحب معراج کے بہت شکر گزار تھے۔۔۔۔
شرمندہ نا کریں بابا اب اپ جائیں۔۔۔۔معراج نے خان بابا کو گلے لگاتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔
دعا کے لیے معراج کا یہ روپ بکل نیا تھا۔۔۔۔
وہ خاموش کھڑے گھیری گھیری نظر سے معراج کو دیکھ کر سوچ رہی تھی۔۔۔۔
کیا واقعی یہ وہی شخص ھے جس کو میں نے cvu پر شور کر نے سے روکا تھا ۔۔۔
تب والے معراج اور اب والے معراج میں کس قدر فرق ھے۔۔۔۔
دعا کھڑی سوچ رہی تھی تب معراج نے اس کے پاس اکر ایک دم کہا۔۔۔
کیا سوچ رہی ھیں میڈم ؟؟؟
معراج کے اس طرح بولنے پر اسکی سوچ ایک دم ٹوٹی تھی۔۔۔۔۔
کچھ نہیں۔۔۔۔!!!!
اچھا چلو۔۔۔۔
چلتے ھیں اگے۔۔۔
معراج نے کہہ کر قدم اگے بڑھا دیے تو دعا بھی اسکے پیچھے پیچھے چل پڑی۔۔۔۔
جھیل تک جانے کے لیے ان لوگ کو تھوڑی پہاڑی اترنی تھی۔۔۔۔۔
معراج نے تو جوگرز پہھنے تھے وہ فورن فورن اتر رہا تھا۔۔۔پر دعا کو مصلہ ھو رہا تھا۔۔۔۔
لیکن وہ بنا کچھ بولے اترے جارہی تھی۔۔۔
اہ !!!!
دعا کہ منہ سے ایک دم سسکی نکلی تھی۔۔۔
کیا ھوا ؟؟
معراج نے فورن پلٹ کر پوچھا تھا ۔
کچھ نہیں میں slippers پھن کر ائ ھوں۔۔۔۔
دعا نے معراج کے اگے پاوں کر کے کہا۔۔۔۔
تم پاگل ھو ؟؟؟
معراج نے حیرت سو پوچھا۔۔۔
تم پہاڑی پر slippers پھن کر ائ ھو۔۔۔۔
اچھا چلو میرا ہاتھ پکڑ کر اترو کہی گیر جاوں گی۔۔۔
معراج نے دعا کا ہاتھ فورن تھاما تھا اور اپنے ساتھا پکڑ کر نیچے اتر رہا تھا۔۔۔۔۔
دعا نے گھیری نگاہ سے اسکو دیکھا کتنی فکر تھی اسکو دعا کی۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ لوگ جھیل تک پھنچ گئے تھے ۔۔۔
جھیل بے حد حسین تھی۔۔۔۔
کافی سارے لوگ وہاں موجود تھے۔۔
دعا کو یہ حسین جگہ بے حد پسند ائ تھی۔۔۔
یہاں پر سردی بھی غزب کی تھی۔۔۔۔
بہت پیاری جگہ ھے۔۔۔۔!!!
دعا نے ایک پتھر پر جھیل کے تھوڑا پاس بیٹھ کر کہا۔۔۔
ہممم !!!
معراج بھی اس کے ساتھ پتھر پر بیٹھا تھا۔۔
ان دونوں کی سانس پھول رہی تھی وہ کافی پہاڑی اتر کر ائے تھے۔۔۔۔۔
معراج کی طبعیت کچھ عجیب ھو رہی تھی۔۔۔
پر اسنے دعا پر شو نا کیا تھا۔۔۔
تم نے بتایا نہیں اسکا مطلب ؟؟؟
معراج بے پھولتی سانس کے ساتھا کہا۔۔۔
کس کا مطلب ؟؟
دعا نے پوچھا۔۔۔
zata sara mina koum dua !!!
معراج نے دعا کی انکھو میں انکھیں ڈال کر کہا۔۔۔۔۔
ہاں اسکا مطلب ھے تم کیسی ھو دعا ؟؟
دعا نے اپنے دماغ سے تکا مارا تھا۔۔۔۔
معراج کو ایک دم ھنسی اگئ ۔۔۔۔
اچھا واقعی سچ بتاو ؟؟ معراج نے اپنی ھنسی روک کر کہا۔۔۔
ہاں تو اور۔۔۔دعا نے ڈھٹائ سے کہا۔۔۔
اچھا بتاو
da tor ta makh de wrkh shaa !!!
معراج نے پشتو میں ایک اور جملہ پوچھا تھا ۔۔۔
اسکا کا کیا مطلب ھے۔۔۔۔؟؟؟
معراج نے پھر پوچھا۔۔۔
اسکا مطلب ھے۔۔۔۔۔
کے میں ٹھیک ھوں۔۔۔
دعا نے پھر تکا مارا۔۔۔۔
جو غلط تھا۔۔۔
ہاہاہا معراج زور سے ھنسا پھر
معراج ابھی کچھ بول ہی رہا تھا کہ۔۔۔
ایک آدمی انکے پاس ایا۔۔۔۔
اپ دونوں کو سیف الملوک کی کہانی سنی ھے ؟؟؟
دعا معراج دونوں نے پلٹ کر اسکو دیکھا تھا۔۔۔
سیف الملوک کی کہانی ؟؟؟؟
دعا نے حیرت سے پوچھا۔۔۔
ہاں باجی یہاں کی ایک بہت مشہور کہانی ھے۔۔۔
جو ایک راجہ اور ایک پری کی کہانی ھے۔۔۔۔۔
اس آدمی نے بہت اعتماد سے کہا۔۔۔۔
دعا کا interest دیکھ کر معراج نے دعا سے پوچھا
تم نے سنی ھے کہانی ؟؟؟
ہاں !! دعا کو کہانیوں کا ویسی بہت شوق تھا۔۔۔
چلو بھائ سناو اپنی کہانی۔۔۔۔
معراج نے کہا تو وہ بندہ وہی بیٹھ گیا۔۔۔۔
ہلکی ہلکی بندا باندی مسلسل ھورہی تھی۔۔۔۔
لوگ واپس مڑ کر جارہے تھے۔۔۔دعا معراج کافی نیچے تھے اس لیے انکو اندازہ نا ھوا۔۔۔۔۔
وہ ادمی اب اپنی کہانی شروع کر رہا تھا دعا معراج دونون اسکو غور سے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
بہت سال پہلے !!!!!!!!!
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
بلاج مجھے عجیب سا ڈر لگ رہا ھے پتا نہیں کیوں۔۔۔۔۔
اپ معراج دعا کو کال کر کے بول دیں کے وہ دونوں واپس آجائیں۔۔۔۔
رملا نے بلاج سے گھبرا کر کہا۔۔۔
ارے ایک دم کیا ھوا تمھیں ؟؟؟
بلاج نے حیرت سے پوچھا۔۔۔۔
بلاج ابھی میری ماما سے بات ھوئ وہ بھی یہ ہی بول رہی تھی کہ انکا کا دل گھبرا رہا ھے۔۔۔
دعا معراج کے لیے برے برے خیال آرہے ھیں
پتا نہیں مجھے ایسا کیوں لگ رہا ھے کچھ غلط ھوگا
اپ پلیز انکو بولیں کے واپس آجائے پلیز۔۔۔
رملا بریرہ بیگم سے بات کر کے واقعی بہت گھبرائ ھوئ تھی۔۔۔
اچھا روکو تم فکر نا کرو میں بات کرتا ھوں معراج سے۔ ۔
رملا کی پریشانی دیکھ کر بلاج نے جیب سے فون نکال کر معراج کو کال ملائ تھی۔۔۔
power off
آیا۔۔۔۔
بلاج نے ایک دو بار کوشش کی لیکن معراج اور دعا دونوں کا فون power off جارہا تھا۔۔۔۔
میرے خیال سے ادھر سگنل نہیں آتے۔۔۔۔
بلاج کو بھی اب فکر ھوئ تھی۔ ۔
ابھی وہ دونون لان میں بیٹھے باتیں ہی کر رہے تھے
ایک دم بہت تیز بارش شروع ھو گئ ۔۔۔۔۔
بلاج اور رملا فورن ھوٹل کہ اندر اگئے۔۔۔۔۔
اففف میرے اللہ دعا اور معراج کی حفاظت کرنا۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔۔۔
رملا کو واقعی بہت عجیب سا خیال آرہا تھا۔۔۔۔
سب خیر ھوگی۔۔۔۔تم فکر نا کرو۔۔۔۔
بلاج نے رملا کو گلے لگا کر کہا۔۔۔۔۔
اور خود بھی دعا کی۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ آدمی اب کہانی سنا کر جا چکا تھا۔۔۔دعا معراج اسی طرح وہاں بیٹھے تھے ۔۔۔۔۔
کیا اپکو بھی لگتا ھے یہ آدمی سچ بول رہا تھا ؟؟؟؟
کیا واقعی کوئ دیو تھا ؟؟؟
کیا واقعی کو پری تھی ؟؟؟
کیا واقعی ایک راجہ تھا۔۔۔۔؟
دعا معراج سے پوچھ رہی تھی۔۔۔۔
ہاں ھوسکتا ھے۔۔۔پر مجھے نہیں لگتا۔۔۔۔
معراج نے جیب سے سگرٹ نکال کر سلگائ۔۔۔
کیوں ؟؟؟
دعا نے پوچھا۔۔۔۔
بس ویسی۔۔۔۔۔!!!!
تم خود سوچو کیا یہ حقیقت ھو سکتی ھے۔۔۔
کہ ایک راجہ کو خواب میں ایک پری دیکھائ دی ۔۔۔جو دیو کی قید میں تھی۔۔۔
وہ راجہ اسکو دھونڈتا ھوا یہاں تک آتا ھے تو وہ یہاں اسکو مل جاتی ھے اور وہ اسکو دیو سے چھڑوا لیتا ھے اور یہاں انکا پیار امر ھو جاتا ھے۔۔۔۔
مجھے یقین نہیں اتا۔۔۔
معراج نے ھنس کر کہا۔۔۔۔
ہاں ھو سکتا ھے ۔۔۔
پر دعا کافی گھیری سوچ میں تھی۔۔۔۔دعا ابھی کچھ سوچ رہی تھی کہ معراج ایک دم کھڑا ھوا تھا۔۔۔
یار باتوں میں پتہ نہیں لگا ہمیں اب چلنا چھائے ۔۔۔
وہ ابھی کھڑا ہی ھوا تھا کہ ایک دم بہت تیز بارش شروع ھوگئ تھی۔۔۔۔
وہ دونوں تھوڑا سا اگے جاکر ایک چھتے میں بیٹھ گئے تھے۔۔۔۔۔
اففف اب یہ بارش۔۔۔۔۔
معراج نے ایک دم کہا تھا۔۔۔۔۔
دعا خاموش تھی اسکو بہت سخت ٹھند لگ رہی تھی۔۔۔۔۔
لوگوں کی تعداد بھی اب بہت کم ھوگئ تھی۔۔۔۔۔
بارش ضرور پر تھی اور ہلکے ہلکے اندھیر بھی ھو رہا تھا۔۔۔۔
معراج کو اندھیرے سے ڈرد لگتا تھا۔۔۔
اور دعا کو گھنے جنگل سے۔۔
دعا ؟؟
معراج نے دعا کو پکارا تھا
