Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zid Junoon Ki Inteha Episode 33

Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi

اور وہاں سے ایک بڑا سا بوکس لائ تھی۔۔۔۔۔

دعا اور رملا دونون نے ساتھ پوچھا تھا یہ کیا ھے۔۔۔

تب بریرہ بیگم نے کہا تھا۔۔۔

اس میں چھپی ھے اس رات کی۔حقیقت۔۔۔۔۔۔

بریرہ بیگم نے جب وہ بوکس کھولا تو خودبخود انکی آنکھوں میں بے شمار آنسو اگئے تھے۔۔۔

انھوں نے بوکس میں سے ایک album اور کچھ زیورات نکالے تھے۔۔۔۔

دعا اور رملا دونوں ہی حیرانی سے بریرہ بیگم کو دیکھ رہی تھی۔۔۔

تبی ھی بریرہ بیگم نے album کھول کر دعا کے اگے کی تھی۔۔۔۔۔۔

دعا نے album ہاتھ میں تھام کر دیکھا تو دعا کی آنکھوں کے سامنے ایک بہت ہی باروب اور بہت خوبصورت عورت نظر ائ تھی۔۔۔۔

دعا کو سمجھنے میں ایک پل نا لگا تھا کہ یہ کون ھوگی ۔۔۔۔۔

دعا کے منہ سے ایک دم تصویر دیکھ کر لفاظ ٹوٹ کر ادا ھوئے۔۔۔

کوسم یعقوب حسین۔۔۔۔؟؟؟

ہاں

یہ ھے

کوسم یعقوب حسین۔۔۔۔

جہانگیر صاحب کی پہلی اور جان سے زیادہ پیاری بیوی

اور معراج کی ماں !!!!

بریرہ بیگم اب وہ تمام حقیقت دعا کو بتانا شروع ھوئ تھی۔۔۔۔۔

اور دعا بہت غور سے یہ تمام باتیں سن رہی تھی۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

جہانگیر صاحب جب لنڈن ائے تھے تو بریرہ بیگم کو جانتے تک نا تھے۔۔۔اور نا بریرہ بیگم انکو جانتی تھی۔۔۔۔

بریرہ بیگم کی والدہ جہانگیر صاحب کی منہ بولی ماں بنی ھوئ تھی۔۔

جنھوں نے راجہ جہانگیر کو رہنے کے لیے اپنے ھی گھر میں ایک کمرہ دیا تھا۔۔۔

بریرہ بیگم اور جہانگیر صاحب کا امنا سامنا کم ہی ھوتا تھا۔۔۔

جہانگیر صاحب زیادہ تر اپنی پڑھائ اور جوب میں مصروف رہتے تھے۔۔اور بریرہ بیگم اپنی پڑھائ اور جوب میں

البتہ بریرہ بیگم کی والدہ سے انکے اچھے تعلقات تھے۔۔۔

بریرہ بیگم کا بھی اپنی ماں کے سوا کوئ نا تھا۔۔۔۔

اور ان کے حالت بھی کچھ زیادہ اچھے نا تھے۔۔۔۔

وہ دونوں ماں بیٹی اس انجان شہرے میں اکیلی رہے رہی تھی۔۔۔۔

اور جہانگیر صاحب بریرہ بیگم کی والدہ کے منہ بولے بیٹے بنے ھوئے تھے ۔۔۔۔

جب بریرہ بیگم کی حالت بگڑنے لگے اور موت ان کے سامنے آکر کھڑی ھوگئ تو انھوں نے مرتے وقت اپنی بیٹی کا ہاتھ جہانگیر صاحب کے ہاتھ میں تھاما دیا تھا۔۔۔اور انے سے یہ وعدہ لایا کہ وہ انکی بیٹی کا خیال رکھیں گے۔۔۔۔۔

اتفاق سے بریرہ بیگم اور انکی والدہ کا تعلق بھی سندھ کے اس علاقے سے تھا جہاں سے جہانگیر صاحب ائے تھے لیکن وہ کوسم کے مخالفین میں سے کسی کی بیوی تھی جو اپنی بیٹی بریرہ کو اس سب سے بچا کر یہاں لے ائ تھی۔۔۔لیکن قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔۔

۔بریرہ بیگم کی والدہ کی وافات کے بعد جہانگیر صاحب کافی مشکل کا شکار ھوگئے تھے۔۔۔۔

بریرہ بیگم بھی بلکل تنھاء ھوگئ تھی۔۔۔

تب جہانگیر صاحب نے پریشان ھو کر بریرہ بیگم سے کہا تھا کہ وہ انکی ماں سے کیا وعدہ پورا نہیں کرسکتے ۔۔کیونکہ پاکستان میں انکی بیوی انکا انتیظار کر رہی ھے جن سے وہ حد سے زیادہ محبت کرتے ھیں۔۔۔۔

اور بریرہ بیگم سے شادی سے صاف انکار کر دیا تھا۔۔۔

اور پھر اپنے ہی ایک دوست سے بریرہ بیگم کی شادی طے کر دی تھی۔۔۔پر بد قسمتی سے انکا وہ دوست ایک انتھائ غلط قسم کا انسان تھا جو بریرہ بیگم کو نجائز کاموں میں استعمال کرنے کے لیے ان سے جھوٹی شادی کر رہا تھا۔۔۔

اس بات کا پتہ جب جہانگیر صاحب کو لگا تو انھوں نے حد سے زیادہ مجبور ھو کر بریرہ بیگم سے شادی کر لی تھی۔۔۔

جہانگیر صاھب جانتے تھے اگر یہ بات وہ کوسم کو بتا دیں گے تو کوسم جیتے جی مر جائے اور جہانگیر صاحب بھی کوسم کو نہیں چھوڑ سکتے تھے اس لیے انھوں نے اس بات کو راض ہی رکھا۔۔۔۔لیکن بریرہ بیگم کو اچھے سے سمجھا دیا تھا کہ انکی زندگی میں کوسم کی اہمیت کیا ھے۔۔۔

بریرہ بیگم نے بھی کبھی کوسم کا برا نہیں سوچا تھا بلکے وہ تو جہانگیر صاحب کی شکر گزار تھی کہ انھوں نے انکو اپنا نام دیا۔۔

اسی عرصے میں جہانگیر صاحب پاکستان چکر لاگا کر اجاتے تھے۔۔۔وہ ہمشہ کے لیے بریرہ کو بھی پاکستان لانا چھاتے تھے لیکن بریرہ اور انکے کچھ قانونی غازات کا مصلہ تھا اس لیے اسکی تیاریوں کی وجہ سے وہاں رکے ھوئے تھے ۔۔

اس عرصے میں اللہ نے انکو دو بیٹے بھی عطا کر دیے تھے۔۔۔

دلاور اور بلاج۔۔۔۔وہ شادی کر چکے تھے اور بریرہ کو انکے حقوق بھی دے رہے تھے۔۔۔لیکن انکا دل انکا پیار سب صرف اور صرف کوسم کے لیے تھا۔۔۔۔

پھر ایک دن انھوں نے اکر بریرہ بیگم کو بتایا تھا کہ کوسم سے انکا بیٹا پیدا ھوا ھے۔۔۔۔

وہ اس دن اس قدر خوش تھے کہ جتنے خوش وہ بلاج اور دلاور کی پیدائش پر نا تھے۔۔۔۔۔

وہ بہت روے تھے کہ وہ اپنی جان سے زیادہ پیاری بیوی سے اس وقت اتنا دور ھیں۔۔۔۔

زندگی گز رہی تھی اور جہانگیر صاحب کی لاکھ کوشش کے بعد وہ سب لوگ ایک ساتھ پاکستان واپس آنے میں کامیاب ھوگئے تھے۔۔۔۔۔۔

بریرہ بیگم بلاج اور دلاور بھی انکے ہمرہ آئے تھے۔۔۔۔۔۔

جب کوسم صاحبہ کو اس بات کا علم ھوا تو وہ حد سے زیادہ دکھی ھوئ لیکن وہ بھی ایک بہت اچھی خاتون تھی۔۔ پھر جلدی انھوں نے بریرہ بیگم کو اپنا لیا۔۔۔

تب معراج کی عمر 8 سال تھی۔۔۔۔

بریرہ بیگم جب بھی معراج اور کوسم کو دیکھتی تو انکو اپنے دل کے اندر تکلیف محسوس ھوتی۔۔۔کہ انکی وجہ سے جہانگیر صاحب کا گھر خراب ھوا۔۔۔۔

وہ معراج کا روڈ پن اور کوسم کی خاموشی کو سمجھ چکی تھی۔۔۔

اس لیے انھوں نے ایک دن جہانگیر صاحب سے کہہ دیا تھا کہ وہ انکو طلاق دے دیں۔۔۔۔۔

اب وہ اس قابل ھوگئ ھیں کہ اپنے بچوں کو سنبھال سکے۔۔۔۔۔

جہانگیر صاحب اس بات کے لیے زاضی نا تھے کہ وہ بریرہ بیگم کو طلاق دیں۔۔البتہ وہ کوسم کی خاموشی اور ناراضگی دیکھ کر علیدہ ھونے کے لیے مان گئے تھے۔۔۔۔کہ وہ اور بریرہ بیگم اپنا تعلق ختم کر کے علیدہ رہے گئے لیکن بچوں کی تمام زمہہ داری اٹھائیں گے۔۔۔۔۔

یہ ہی بات بتانے وہ ایک دن کوسم کے کمرے میں گئ تھی جس دن معراج اپنے دوست کی پارٹی میں گیا تھا۔۔۔۔

وہ کوسم سے معافی مانگنا چھاتی تھی اور انکو بتانا چھاتی تھی کہ وہ ہمیشہ کے لیے اس گھر سے جارہئ ھیں۔۔۔

جب وہ کوسم کے کمرے میں داخل ھوئ تو کوسم ابھی ابھی خط لکھ کر فارغ ھوئ تھی۔۔۔۔

کوسم میں اندر آجاوں ؟؟

بریرہ بیگم نے دروازے پر کھڑے ھوکر پوچھا تھا۔۔۔

ہمم آجائیں۔۔۔۔کوسم نے اپنی جگہ سے اٹھ کر کہا تھا۔۔۔۔

مجھے اپ سے کچھ بات کرنی ھے۔۔۔بریرہ بیگم۔نے کمرے میں داخل ھوتے ہی کہا تھا۔۔۔۔

مجھے بھی۔۔۔!!!!!کوسم نے مسکرا کر کہا تھا۔۔۔۔

کوسم نے انکو ایک خط تھاما کر کہا تھا کہ جب معراج گھر ائے تو وہ یہ خط معراج کو دیں دے ۔۔۔۔۔

وہ اج جلدی سو جائیں گی۔۔۔۔

بریرہ بیگم نے مسکرا کر وہ خط تھام لیا تھا۔۔۔اور ان سے معافی بھی مانگ لی تھی اور وہ سب باتیں بھی بتا دی تھی کہ وہ یہ گھر چھوڑ کر جارہی ھیں۔۔۔

لیکن اس پر کوسم نے صرف مسکرا کر اتنا ہی کہا تھا

کہ اس سب کی ضرورت نہیں۔۔۔۔

بریرہ بیگم اس سے پہلے کچھ بولتی کوسم نے انکو چائے لانے کا کہہ دیا تھا۔۔۔

بریرہ بیگم کچھ حیران سی ھوتی چائے لینے کچن میں اگئ تھی اس دن اتفاق سے گھر میں صرف بریرہ بیگم اور کوسم ہی تھے۔۔۔۔

جب وہ چائے بنا کر کوسم کے کمرے میں واپس لوٹی تو وہاں کا منظر دیکھ کر انکی حوائیاں اڑ گئ تھی۔۔۔۔۔

کوسم نے خودخوشی کرلی تھی۔۔۔۔

اور زمیں پر خون نم خون پڑی تھی۔۔۔۔انھوں نے اپنے پیٹ میں چھورا مارا تھا۔۔۔۔

کوسم ؟؟

کوسم ؟

یہ اپنے کیا کرلیا۔۔۔بریرہ بیگم بھاگ کر انکی طرف بڑھی تھی۔۔۔

اور انکا چھورا نکالنے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔۔

لیکن خون دیکھ کر خوف کے مارے انکے sense کام نا کرہے تھے۔۔۔

انکے ہاتھ بری طرح کانپ رہے تھے۔۔۔

کوسم بار بار ایک ہی جملہ بول رہی تھی۔۔۔۔

معراج کا خیال رکھنا۔۔۔۔

معراج کا خیال رکھنا۔۔۔۔

بریرہ بیگم بے حواس سے کھڑی سب سمجھنے کی کوشش کرہی تھی تبھی معراج آیا تھا اور اس نے یہ سب منظر دیکھا تھا۔۔۔۔

تب سے اج تک معراج بریرہ بیگم کو اپنی ماں کا قاتل سمجھتا تھا۔۔۔

جبکہ بریرہ بیگم نے ہمیشہ معراج کو اپنے بچوں سے زیادہ مانا تھا۔۔۔۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

بریرہ بیگم کی تمام بات سنے کے بعد دعا عجیب سے حیرانی میں تھی۔۔۔۔

تو اپنے یہ بات اب تک کیوں چھپائ ؟؟

دعا نے حیرانی سے پوچھا

اور وہ خط ؟؟

دعا نے سوالیہ نظروں سے بریرہ بیگم کی طرف دیکھا تو بریرہ بیگم نے ایک لفافہ دعا کے ہاتھ میں دے دیا۔۔۔۔

اپنے یہ خط معراج کو کیوں نا دیا ؟؟؟

دعا نے ایک اور سوال کیا ؟

یہ خط معراج کو نا دینے کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ میں نہیں چھاتی تھی معراج کو کبھی اس بات کا علم ھو کہ کوسم نے خودخوشی کی ھے۔۔۔

مجھے معراج کی نفرت قبول تھی۔۔

لیکن وہ کوسم سے نفرت کرے یہ مجھے ہرگز برادشت نا تھا۔۔۔

لیکن کوسم ماما نے خود خوشی کیوں کی ؟؟

دعا کے زہن میں ایک اور سوال ایا تھا۔۔۔

اس سوال کا جواب اس خط میں ھے دعا۔۔۔۔۔

بریرہ بیگم نے ایک گھیری سانس لے کر کہا تھا۔۔۔۔

یہ سب میری وجہ سے ہی ھوا اور معراج مجھ سے ٹھیک ہی تو نفرت کرتا ھے۔۔۔بریرہ بیگم دکھے دل سے کہہ رہی تھئ۔۔۔

نہیں ماما !!! یہ سب قسمت کا لکھا تھا۔۔۔

اور جتنی سزاہ اپ کو بھوکتنی تھی اپ بھوکت چکی ۔۔۔۔۔

دعا نے بریرہ بیگم کو گلے لگا کر کہا تھا۔۔۔

اتنے سالوں سے اپ اس گناہ کی گھنہگار بنی ھیں جو اپنے کیا ہی نہیں صرف اس وجہ سے کہ معراج کو دکھ نا ھو۔۔۔۔۔۔

اپ ان سے زلیل ھوتی رہی۔۔۔۔

دعا نے حیرانی سے پوچھا۔۔۔

اسکو بریرہ صاحبہ کے صبر پر حیرت ھوئ۔۔۔۔

تو اور کیا کرتی دعا۔۔۔

معراج کوسم پر جان دیتا تھا۔۔۔جب اسکو پتا لگتا کہ اسکی ماں نے ہار کر خودخوشی کرلی تو اس پر کیا بیتی۔۔۔۔

میں نے تو معراج کا اچھا ہی چھا تھا لیکن حالت نے کبھی میرا ساتھ نا دیا۔۔۔۔۔

معراج ہمیشہ کہتا ھے کہ میں کوسم کی جگہ لینا چھاتی۔۔۔ھوں

پر میرا یقین کرو اج تک میں نے یہ نہیں سوچا۔۔۔کوسم کی جگہ صرف اسکی ھے۔۔۔

جہانگیر صاھب کی زندگی میں بھی

اس گھر میں بھی

اور ہمارے دلوں میں بھی۔۔۔۔

جیانگیر صاحب اج تک انکو یاد کر کے راتوں کو روتے ھیں۔۔۔۔

وہ جو سیاست کو اپنے اوپر سوار رکھتے ھیں اسکی ایک وجہ یہ بھی ھے کہ وہ کوسم کی بنائ پارٹی کو بلندیوں پر دیکھنا چھاتے ھیں ۔

کوسم کا خواب تھا کہ ایک دن معراج بہت مشھور سیاست دان بنے۔۔۔۔

وہ بس اس خواب کو پورا کرنا چھاتے ھیں۔۔۔اس لیے اتنے فکر مند رہتے ھیں ۔۔۔۔

میری ہمیشہ سے دعا ھے کہ میرا بچہ معراج ہمیشہ خوش رہے اور بس ایک بار مجھے ماں کہہ کر بلائے۔۔۔۔

لیکن وہ تو مجھ سے حد سے زیادہ نفرت کرتا ھے۔۔۔

میری ہر کوشش اسکو جھوٹی لگتی ھے۔۔۔

بریرہ بیگم بری برح رو رو کر کہہ رہی تھی۔۔۔۔۔

اپ فکر نا کریں سب ٹھیک ھو جائے گا۔۔۔

دعا نے بریرہ بیگم کو گلے لگا کر کہا۔۔۔۔

دعا بریرہ بیگم کے کمرے سے اٹھ کر اب اپنے کمرے میں اگئ تھی۔۔۔۔ہ لفافہ اب تک اس کے۔