Zid Junoon Ki Inteha By SA Khanzadi NovelR50423 Zid Junoon Ki Inteha Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
Zid Junoon Ki Inteha Episode 13
Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi
وقت گزر رہا تھا اور اب ان دونوں کی شادی میں صرف تین دن رہے گئے تھے۔۔۔۔
جیسے جیسے وقت قریب آرہا تھا دعا کا دل معراج کی نفرت سے بھرا جا رہا تھا۔۔۔۔۔
جبکہ معراج دعا سے ایک ایک بدلہ لینے کی ساری planning کر کے بیٹھا تھا۔۔۔۔
وہ خوش تھا کہ اس نے دعا کی انا مٹی میں ملا دی ھے اور وہ اپنی ضد پوری کر رہا ھے۔۔۔۔۔
معراج کا بھائ بلاج بھی اپنی بیوی بچوں کے ساتھ پاکستان آچکا تھا۔۔۔۔
جہانگیر مینش کو ایسے سجایا گیا تھا جیسے پیچھلی دو شادیوں میں بھی سجایا نہیں گیا تھا۔۔۔۔۔
جہانگیر صاحب نے اپنے چھوٹے اور لادلے بیٹے کی شادی میں ایک ایک چیز پر ہزاروں روپے خرچ کیے تھے۔۔۔۔
پورے گھر کے ساتھ ساتھ پورا شھر معراج کی شادی کی خوشی میں سجایا گیا تھا۔۔۔۔۔۔
میڈیا والوں کو بھی شادی کی ہر تقریب میں بلایا گیا تھا۔۔۔۔۔
بلاج اور اسکی بیوی رملا بہت اچھے مزاج کے مالک تھے۔۔۔۔انکے دو بیٹے تھے۔۔۔۔
روحان اور علیان۔۔۔۔۔۔
سجل کے مقابلے معراج کی رملا سے زیادہ بنتی تھی۔۔۔۔۔
جہانگیر منشن میں شادی کی تیاریاں عروج پر تھی۔۔۔۔۔۔
معراج ؟؟؟؟؟
معراج ؟؟؟؟
دعا کی کوئ تصویر تو دیکھاو ؟؟؟
رملا اور بلاج جب سے ائے تھے معراج کے پیچھے لگے تھے۔۔۔۔۔
میرے پاس کوئ تصویر نہیں اور شادی میں ہی دیکھیں گے سب اسکو بس۔۔۔۔
معراج بھی ایک نمبر کا ڈھیت تھا۔۔۔۔
کیوں اتنی پیاری ھے اپکی بیگم کہ اسکو نظر لگ جائے گی۔۔۔۔۔
رملا نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔۔
ہاں وہ تو ھے !!!!!
معراج نے سجل اور ہما کو دیکھ کر کہا۔۔۔۔۔۔
معراج سجل اور ہما کو اچھے سے جانتا تھا۔۔۔۔۔۔
ہما ایک دن پہلے یہاں اگئ تھی۔۔۔۔اور روز معراج سے بات کرنے کا موقع ڈھوند رہی تھی۔۔۔
بلکہ ہما کیا اس کی تمام پرانی girls friend اس سے رابطہ کر کر کے واسطے اور قسمیں دے رہئ تھی کہ وہ یہ شادی نا کرے۔۔۔۔۔۔
لیکن معراج ہما سمیت کسی کے ہاتھ نہیں آرہا تھا۔۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
عمیر کی ضد پر دعا کا گھر بھی سجایا گیا تھا۔۔۔۔پہلے پھوپو نے شرکت سے انکار کر دیا تھا لیکن پھر اپنی بیٹی روبی کا مستقبل سوچ کر وہ راستے پر آگئ تھی۔۔۔۔۔
دعا کے والد احمد صاحب نے اپنی زندگی کی تمام جما پونجی اس شادی پر لگا دی تھی اور انھوں نے بھی کسی چیز کی کمی نا چھوڑی تھی۔۔۔۔
معراج کے لیے ایک سے ایک مھنگہ جوڑا انھوں نے تیار کر وایا تھا۔۔۔۔۔۔اور بھر بھر کر معراج کے بری اور دعا کے جہز کا سامان جہانگیر منشن بھجوایا تھا۔۔۔۔جبکہ راجہ جہانگیر نے کچھ بھئ لینے سے انکار کردیا تھا۔۔۔۔۔
احمد صاحب کو بھی اندازہ ھوگیا تھا کہ راجہ جہانگیر ایک اچھا انسان ھے۔۔۔۔
لیکن وہ بھی ضدی بیٹی کے ضدی باپ تھے۔۔۔۔
انکی انا اس چیز کو نہیں مان رہی تھی ۔۔۔۔۔
اور وہ دعا سے اب تک شدید قسم کے ناراض تھے۔۔۔۔
سمیرا بیگم بیٹی کی جدائ کا وقت قریب دیکھ کر اب موم ھوگئ تھی۔۔۔۔
نمرہ عمیر عمر تینوں اداس بھی تھے اور دعا کی شادی پر خوش بھی۔۔۔۔
نمرہ سیرت اور زوبی کے زور پر دعا مایو بھی بیٹ گئ تھی۔۔۔۔
جہانگیر منشن سے بھی دعا کے لیے بھر بھر کر سامان آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
جس کو دیکھ کر نمرہ اور سیرت سمیت سجل کی بھی انکھیں پھٹ گئ تھی کیونکہ سجل کی بھی ایسی شادی یا تیاری نا تھی۔۔۔۔
سب اپنی اپنی جگہ سیٹ ھوچکے تھے سوائے احمد صاحب اور دعا کہ۔۔۔۔۔
ایک ایک دن اسکو اس کی موت کے قریب ھوتا محسوس ھو رہا تھا۔۔۔۔
جس لڑکی کی شادی ھو وہ کس قدر خوش ھوتی ھے لیکن دعا کے چہرے پر ماتم سا سما تھا۔۔۔۔۔۔۔
وہ احمد صاحب کی ناراضگی اور ان کے غصے سے حد سے زیادہ اداس تھی۔۔۔۔
اس کو اگر کسی سے سب سے زیادہ نفرت تھی وہ معراج جہانگیر تھا۔۔۔۔۔۔
اج اس کے گھر مایوں تھی۔۔۔۔
دعا کے گھر بھی تمام لوگ جما ھوچکے تھے سیرت پہلے ہی یہاں اگئ تھی۔۔۔۔زوبی بھی ضد کر اگئ تھی۔۔۔۔
نمرہ کی دوستوں کو نمرہ نے بلا لیا تھا اس لیے کافی ساری لڑکیاں جما ھوچکی تھیں۔۔۔۔
نمرہ سیرت زوبی اور باقی تمام لڑکیاں مل کر ڈھولک پر گانے گا رہی تھیں۔۔۔۔
ایک سما سا بنا تھا۔۔۔۔
دعا کہ ہاتھوں پر پالر والی مھندی لگا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
دعا گم سم سی بیٹھی تھی جب پالر والی نے کہا۔۔۔۔۔
اپ بہت lucky ھیں !!!!
مطلب ؟؟؟
دعا نے حیرت سے پوچھا۔۔۔۔
آپ کی مھندی بار بار پھیل رہی ھے۔۔۔۔۔اور کہتے ھیں جب دلہن کی مھندی بار بار پہلے تو اس لڑکی کا شوہر اسے جنون والی محبت کرتا ھے۔۔۔۔۔
دعا کی انکھوں سے ایک کے بعد ایک انسو گیرنے لگے۔۔۔۔۔
محبت ؟؟؟؟
وہ شخص تو مجھ سے میری کہی باتوں کا بدلہ لے رہا ھے۔۔۔۔۔
وہ جنون کی نفرت کر سکتا ھے جنون کی محبت نہیں۔۔۔۔
یا اللہ کیا لکھا ھے میرے نصیب میں !!!
دعا نے اپنے دل میں کہا۔۔۔۔۔
یہ لیں ھوگئ اپ کی مھندی مکمل !!!!
دعا نے اپنے ھاتوں پر لگی سجی مھندی دیکھی جو اس کے گورے گورے ہاتھوں پر بے حد حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔
مھندی کے حسین پھولوں کے درمیان بہت خوبصورت سا دل بنا کر اس کے اندر معراج کا نام لکھا گیا تھا۔۔۔
دعا کی نظر ایک دم اس نام پر آکر ٹک گئ۔۔۔۔۔اور اس نے دل میں اپنے سوال کا جواب دیا۔۔۔۔
یہ لکھا ھے میری نصیب میں !!!!
اپ نے یہ نام میری مھندی پر کیوں لکھا ؟؟؟؟؟
دعا نے مھندی والی سے پوچھا۔۔۔۔۔
میں نے یہ نام اس لیے رکھا کہ شادی کی رات کو اپ کے شوہر اپ کہ ہاتھ میں یہ نام ڈھونڈیہں۔۔
ویسے اگر پہلی نظر میں ڈھونڈ لہا تو اسکامطلب اپ کا ساتھ پکا ھے۔۔۔۔۔
مھندی والی کی الٹی سیدھی باتوں سے دعا کا سر پھٹ رہا تھا۔۔۔۔
یہ سب بکواس ھے۔۔۔۔
اور کچھ نہیں۔۔۔۔۔
دعا نے بے رخی سے کہا۔۔۔۔۔۔
نمرہ اور سیرت وغیرہ نے اب دھولک پر اور مزید تیز گانے گانے شروع کر دیے تھے
سیرت باجی عائشہ باجی کیوں نہیں ائ ؟؟؟
نمرہ نے سیرت سے سوال کیا تھا۔۔۔
نمرہ عائشہ اپنے گاوں گئ ھوئ ھے۔۔۔۔اسکو اس سب کے بارے میں فل حال کچھ نہیں پتا۔۔۔۔۔شاید۔۔۔۔۔
سیرت نے جواب دیا اور دل میں سوچنے لگی جب عائشہ کو یہ پتا لگے گا تب پتا نہیں کیا ھوگا۔۔۔!!!!
عمیر عمر بھی دعا کے پاس بار بار آرہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
بس آحمد صاحب ایک بار بھی بیٹی کے پاس نا ائے تھے اور یہ چیز دعا کو اندر اندر مار رہی تھی کہ اس کے جان سے زیادہ پیار کرنے والے باپ اج اسکو دیکھ نہیں رہے ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
چلو بیٹھو ادھر !!!
دلاور اور بلاج معراج کو دوستوں سے اٹھا کر اندر لائے تھے۔۔۔۔
کیا مصیب ھے آخر ؟؟؟؟
معراج نے چیڑ کر کہا تھا۔۔۔
چلو رملا اس کو پکڑ کر جلدی سے obtan لگاو۔۔۔۔۔۔۔
بلاج نے معراج کو کرسی پر بیٹھا کر کہا…..
بلاج مجھے یہ سب پسند نہیں۔۔۔۔
معراج کرسی سے اٹھا ۔۔۔۔
چلو ہمارے لیے نا سھی دعا کے لیے لگا لو۔۔۔۔۔۔
اب کہ راضا نے کہا تھا ۔۔۔۔
کس کے لیے ؟؟؟؟
معراج نے زاضا سے ایک eye brow اٹھا کر پوچھا۔۔۔۔
میرا مطلب ھے دعا بھابی کے لیے لگا لو۔۔۔۔۔
معراج دعا کی عزت کرانا اچھے سے جانتا تھا۔۔۔
ہاں بھئ راج اج تو دعا بھابی کے نام لگا ھی لو یہ obtan بلاج اور دلاور نے بھی معراج کو چھیڑا تھا۔۔۔۔
نہیں مجھے نہیں لگانا ایک بار بول دیا نا۔۔۔۔۔۔
حیرت کی بات ھے دعا کہ لیے بھئ نہیں لگا رہے دیور جی obtan سجل نے ھنس کر کہا۔۔۔۔۔۔
وہ کیا ھے نا سجل بھابی۔۔۔۔
دعا نے کہا تھا وہ مجھے سب سے پہلے obtan لگائے گی ابھی میں یہاں سے سیدھا اس کے ہی پاس جانے والا ھوں۔۔۔
اب یہ تو پھر میری جان کا حق ھے نا کیا خیاک ھما؟؟؟
معراج نے جلتی سجل اور جلتی ہما کو اور جلایا تھا۔۔۔۔
جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں تھا۔۔۔۔۔
معراج کی اس بات پر اس کے تمام دوستوں اور بلاج دلاور رملا نے ایک آواز ھوکر
اوووووووووو کہا تھا۔۔۔۔۔۔
معراج کی اس بات پر سجل تو نورمل ھی جلی تھی۔۔۔لیکن ہما کی اگ کی انتھاء نا تھی۔۔۔۔۔۔
معراج کے منع کرنے کے باوجود دملا دلاور اور بالاج نے اسکو ہلکا ہلکا سا obtan لگا دیا تھا……
معراج تھوڑی دیر ان لوگوں کے ساتھ بیٹھا پھر اٹھ کر کمرے میں اگیا۔۔۔۔۔
وہ باتھ روم سے باہر نکلا تو ہما اس کے کمرے میں موجود تھی۔۔۔۔۔
تم یہاں کیا کر رہی ھو ہما ؟؟؟؟؟؟
تم سے بات کرنا چھاتی ھوں معراج پلیز مجھے سن لو۔۔۔۔۔
دیکھو دعا سے شادی مت کرو۔۔۔۔
وہ میرے ساتھ کالج پڑھتی تھی۔۔۔۔
اسکا چکر اس کے کزن !!!!!!!!
خبردار !!!!!!!!!
معراج تقریبن چلایا تھا۔۔۔۔۔
میری ھونے والی بیوی کا نام اگر کسی اور کے ساتھ کیا تو تمھارا منہ توڑ دوں گا۔۔۔۔۔۔۔
ایک بات کان کھول کر سن لو ہما۔۔۔۔۔
تم نے مجھ سے تعلقات قائم کیے تھے۔۔۔۔
میں نے نہیں۔۔۔۔۔
تم میرے قریب خود ائ تھی اور جب لڑکی اپنی عزت کی حافطت نہیں کرے گی تو مال غنیمت کو کون چھوڑتا ھے ؟؟؟؟
تم نے خود اپنی حفاظت نہیں کی۔۔۔
پر دعا جیسی لڑکی تمھارے قابل نہیں ھے ۔۔۔۔۔
اچھا واقعی ؟؟؟؟
کیا تم میرے قابل ھو ؟؟؟؟؟
معراج نے ہما کی طرف ایک eyebrow اٹھا کر دیکھا۔۔۔۔۔۔
لڑکے کو اپنی اعادوں سے پاس لانا کافی نہیں ھوتا ہما
لڑکا ایسی لڑکی کے ساتھ گھومتا ھے پھرتا ھے مزے لیتا ھے پھر چھوڑ دیتا ھے۔۔۔۔
اور شادی ایک ایسی لڑکی سے کرتا ھے جسی دعا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے تو خیر عورت زات سے ہی نفرت ھے لیکن ان سب میں دعا تم سب سے بہتر ھے۔۔۔۔۔۔۔
ابھی بھی وقت ھے یہ سب حرکتیں چھوڑ دو۔۔۔۔۔۔
اور دور رہو مجھ سے۔۔۔۔۔۔
معراج نے ہما کو سنا کر باہر کی برف چلا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
ہما کے زہن میں ایک نئ چیز نے جنم لیا تھا۔۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
دعا کے گھر تقریب زوروں پر تھی۔۔۔۔دعا کافی دیر سے لاوئج میں بیٹھی ٹھک گئ تھی اس لیے اب اپنے کمرے میں اگئ تھی۔۔۔۔
افففف
دعا ایک دم ڈھپ سے اپنے بیڈ پر لیٹ گئ تھی۔۔۔۔۔
افففف اتنا تھک گئ ھو۔۔۔۔۔۔۔
دعا کے کانوں میں جیسی یہ آواز گونجی اس نے سیدھے لیٹے سر پیچھے کی طرف کر کہ دیکھا تو اس کو الٹا معراج نظر آیا۔۔۔۔
وہ ایک دم دم جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گئ۔۔۔۔۔۔
تم ؟؟؟؟
ہاں میں۔۔۔۔کیوں نہیں آسکتا ؟؟؟؟
معراج اس کے پاس اکر بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔۔۔
کیوں ائے ھو تم یہاں ؟؟؟؟
دعا نے پیچھے ھٹتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔
تمھاری بے بسی دیکھنے۔۔۔۔
معراج نے بھی جلا دینے والا جواب دیا۔۔۔۔
کہاں گئ وہ مغرور لڑکی ؟؟؟؟؟
معراج نے مسکرا کر پوچھا۔۔۔۔۔۔
دعا کے دل پر ایک زخم سا لگا۔۔۔۔۔۔۔
مر گئ۔۔۔۔۔ دعا نے فورن کہا۔۔۔۔۔
اچھا واقعی۔۔۔۔۔
برائ اتنی جلدی مرتی نہیں ویسے۔۔۔۔۔۔معراج زیچ کرنے میں ماہر تھا۔۔۔۔۔۔
دعا نے ایک نفرت بھری نگاہ معراج پر ڈالی ۔۔۔۔
تم یہاں سے جارہے ھو یا شور مچاوں میں ؟؟؟؟؟
اہ دھمکی۔۔۔۔۔چلو مچاو شور۔۔۔۔
معراج دعا کے قریب ھوا۔۔۔۔۔
دعا اٹھ کر الماری کے پاس چلی گئ۔۔۔۔۔
پلیز جاوں یہاں سے میری زندگی کا اور تماشہ مت بناو دعا کہ انداز میں واضع تھکن تھی۔۔۔۔نجانے وہ کتنی راتوں سے سوئ نہیں تھی۔۔۔۔۔
معراج اٹھا اور اس کے قریب آیا۔۔۔۔۔
بس ایک دن اور دعا خان۔۔۔۔۔۔۔۔
بس ایک دن۔۔۔۔۔
پھر ساری زندگی تمھاری زندگی کی دور میرے ہاتھ میں ھوگی۔۔۔۔۔۔۔
معراج اگے بڑھتے ھوئے بول رہا تھا تو دعا ایک دم پیچھے ھوئ۔۔۔۔۔پیچھے دیور تھی۔۔۔۔
یہ صرف تمھاری سوچ ھے معراج جہانگیر۔۔۔۔۔
دعا نے بھی شیرنی جسی آواز میں کہا۔۔۔۔میں تم سے آزاد ھو کر دکھاوں گی۔۔۔۔۔۔
ہاہاہا اچھا۔۔۔۔۔۔
معراج ایک دم پلٹا اور دعا کے کمرے میں پڑے obtan کے پیلاے میں سے ہاتھ پر obtan لے کر دعا کے پاس آیا۔۔۔۔۔
دعا حیرت سے اسکو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
جاوں یہاں سے !!!
دعا ایک بار پھر بولی۔۔۔۔۔
معراج نے ہاتھ میں لگا obtan دعا کے رخسار پر لگا دیا۔۔۔۔۔
یہ میرا رنگ ساری زندگی کے لیے تم پر چھڑ گیا دعا خان۔۔۔۔
کل تمھاری آزادی تین الفاظ کے بعد میری غلام بن جائے گی۔۔۔۔۔
ہاں لیکن وہ آزادی صرف تین ھی لفظ کی غلام ھوگی ۔۔۔
۔معراج جہانگیر۔۔۔۔۔۔
صرف تین لفظ !!!
دعا نے بھی حاظر جواب دیا تھا۔۔۔۔۔
اہ میں ڈر گیا۔۔۔
معراج نے اپنے ہاتھ سے دعا کے دوسر گال کر بھی obtan مل دیا تھا۔۔۔۔
افففف کیا مصلہ ھے دعا نے چیڑ کر کہا۔۔۔
معراج مسکرا دیا
بس ایک دن اور جی لو اپنی آزدی دعا خان۔۔۔
کل چڑیا کی آزدی ختم۔۔۔۔
معراج بول کر تیزی سے جس balcony سے آیا تھا اس سے ہی نکل گیا تھا۔۔۔۔۔
نفرت کرتی ھوں میں تم سے۔۔۔۔۔۔۔
دعا واپس اکر بیڈ پر بیٹھ گئ تھی۔۔۔۔جب نمرہ ایک دم اندر داخل ھوئ۔۔۔۔۔
اپی تم یہاں کیوں آگئ ؟؟؟
بس ویس !!!! تھک گئ ھوں نمرہ۔۔۔۔۔دعا نے obtan کا ڈوپٹہ سر سے اتار کر کہا۔۔۔۔
ارے اپی اپ کو obtan منہ پر کس نے لگایا جب نیچے سے ائ تو یہ نہیں تھا نا۔۔۔۔۔
ابھی تو اپکی رسم ھونی تھی سب سے پہلے جو obtan لگاتا ھے وہ بہت جان عزیز بن جاتا ھے۔۔۔
اففف نمرہ یہ فضول باتیں نا کیا کرو دعا نے چیڑ کر کہا۔۔۔
پھر ایک دم شیشے میں اسکی نظر پڑی تو اس کے دونوں گال پیلے رنگ سے رنگے تھے۔۔۔۔۔
ہاں سیرت نے آتے اتے لگا دیا تھا۔۔۔۔tissu اٹھا کر دعا سے اپنا منہ رگڑ رگڑ کر صاف کیا تھا۔۔۔۔۔
چلو نیچے چلتے ھیں۔۔۔۔۔۔
پھر دیر رات تک دعا کی تقریب چلتی رہی سب چلے گئے تو دعا احمد صاحب کے کمرے میں گئ۔۔۔۔
ابو ؟؟؟؟؟؟
احمد صاحب کے پاس بیٹھ کر دعا نے ہاتھ تھاما تھا۔۔۔۔
ابو پلیز مجھ سے بات کریں۔۔۔۔۔دعا کی آواز بھیگی ھوئ تھی۔۔۔۔۔۔
احمد صاحب اپنا ہاتھ جھٹک کر باتھ روم میں چلے گئے تھے۔۔۔۔
دعا نے ایک نظر سمیرا بیگم کو بے بسی سے دیکھا اور پھر بھاگتئ ھو اپنے کمرے میں جا کر خود کو بند کر لیا اور نجانے کتنی دیر وہ آپنی قسمت پر روتی رہی۔۔۔۔اور روتے روتے اس کی انکھ لگ گئ۔۔۔۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
دعا کو اکر سمیرا بیگم نے اٹھایا تھا اج اس کی شادی تھی۔۔۔۔۔
لیکن دعا کی شکل سے ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی شخص کو پھانسی دینے کے لیے تیار کیا جا رہا ھو۔۔۔۔۔۔
چلو دعا تیار ھو جاو پالر جانا ھے۔۔۔۔۔
سمیرا بیگم نے پیار سے بیٹی کے پاس بیٹھ کر کہا۔۔۔۔۔۔
تو دعا سے اپنے انسو قابو میں رکھنا نا ممکن ھوگیا۔۔۔۔۔۔
اور دعا سمیرا بیگم کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔بیٹی کی جدائ کے احساس نے سمیرا بیگم کو بھی موم کر دیا تھا۔۔۔۔وہ بھی اپنی بیٹی کے ساتھ بیٹھی آنسو بھا رہی تھی۔۔۔۔۔
اج دعا کا اس گھر میں آخری دن تھا۔۔۔۔
کتنا آرمان ھوتا ھے اس دن کا ہر لڑکی کو۔۔۔۔
اور دعا نے تو اپنے وجود کو اج کے دن کے لیے سنبھال کر رکھا تھا۔۔۔۔۔ا
س نے اج کے دن کے لیے کیا کیا سوچ رکھا تھا۔۔۔۔
اج کے دن اسکو وہ شخص ملنا تھا جس کا اس نے انتیظار کیا تھا۔۔۔
خود کو ھر ایک سے بچا کر صرف اور صرف اپنے شریک حیات کے لیے محفوظ رکھا تھا۔۔۔۔
عام لڑکیوں کی طرح دعا کا بھی ارمان تھا کہ اسکا شوہر اس سے دل اور جان سے محبت کرے اسکو عزت دے۔۔۔۔کہ جب وہ اپنے گھر والوں کو چھوڑ کر جائے تو اسکا شوہر ایسا ھو جو اسکو پیار اور عزت دے کر باپ مان سے دوری کا درد کم کر دے ۔۔۔۔۔
لیکن دعا جانتی تھی وہ جس شخص کے پاس جارہی ھے وہ اس کو تکلیف دکھ کے سوا کچھ نہیں دے سکتا۔۔۔۔۔
اور دعا اس سے محبت کی طلب گار تھی بھی نہیں۔۔۔۔
یہ صرف مجبوری کا رشتہ تھا۔۔۔۔۔
کافی دیر سمیرا بیگم کے ساتھ لگ کر دعا روتی رہی تھی۔۔۔۔
سمیرا بیگم یہ سمجھ رہی تھی کہ بیٹی کو جدائ کا غم ھے لیکن بیٹی کو جدائ سے زیادہ غم اس کے خواب ٹوٹنے کا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ ایک پاک اور صاف شریک حیات چھاتی تھی۔۔۔۔۔
جیسے اس نے خود کو پاک رکھا تھا ویسے ھی۔۔
۔لیکن ؟؟؟؟؟
سب خواب ٹوٹ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!
دعا اور سمیرا بیگم رو کر فارغ ھوئ تھی کہ نمرہ عمر اور عمیر دعا کے پاس اکر بیٹھ گئے۔۔۔۔۔۔
دعا کی جدائ کا غم تینوں پر بہت تھا۔۔۔
دعا ان کی جان سے پیاری بہن تھی۔۔۔۔
اپی اب اپ ہمارے ساتھ نہیں ریں گی نا ؟؟؟؟
عمر نے بھیگی آنکھوں سے پوچھا تو دعا کو اپنے چھوٹے بھائ پر بے تحاشہ پیار آیا۔۔۔۔۔۔
اور اس نے عمر کو گلے لگا لیا۔۔۔۔۔
دعا آپی میں اپ کے بغیر کیسے رہوں گی اب کہ نمرہ بھی دعا کے گلے لگ کر رو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
عمیر سر جھکا کر بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔
دعا نے دونوں بھائ بہن کو پیار کیا۔۔۔۔پھر
عمیر ؟؟؟؟؟؟
کو پکارا۔۔۔۔۔
چلو آپی پالر جانا ھے لیٹ ھو رہا ھے۔۔۔۔۔
عمیر بنا دعا سے نظر ملائے کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
سیرت عائشہ اور نمرہ بھی دعا کے ساتھ ہی پالر جارہی تھی۔۔۔۔۔
دعا جب اپنے کمرے سے نکل رہی تھی اسکو اپنی انکھوں کے سامنے اپنا بچپن نچتا دیکھائ دیا۔۔۔۔
چھوٹی سی دعا کے ساتھ بیٹھے احمد صاحب اور سمیرا بیگم دیکھائ دی۔۔۔
نمرہ کے ساتھ ھسنی مزاق کرنا ایک ایک چیز اسکو یاد آرہی تھی۔۔۔۔۔
چلو دعا !!!!
سیرت نے 6 بار اکر اسکو کہا تھا۔۔۔۔۔
وہ مرے مرے قدم اٹھاتی نیچھے لاوئج میں ائ تھی۔۔۔۔
گھر کا ایک ایک کونا اس کی یادوں سے سجا تھا۔۔۔۔۔
احمد صاحب گھر پر نہیں تھے۔۔۔
دعا اپنے گھر کی دیوروں پر ہاتھ پھرتی ھوئ باہر کی طرف جارہی تھی۔۔۔۔
اج وہ اس جنت جیسے گھر سے ہمہشہ ہمیشہ کے لیے رخصت ھوکر ایک جہنم میں جارہی تھی۔۔۔
عمیر نے دعا سارے راستے کوئ بات نا کی تھی۔۔۔۔وہ دعا کو دیکھتا تو اسکو رونا آتا اور عمیر کو رونے کی عادت ھرگز نا تھی۔۔۔۔۔۔
پالر پر اتار کر عمیر فورن ھی چلا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اور دعا سیرت نمرہ پالر کے اندر داخل ھو گئ تھی۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
دعا میڈم ؟؟؟؟؟
پالر کی ایک لڑکی نے اکر اسکو کارا تھا
جی !!
اپ سے کوئ ملنے آیا ھے !!!!
دعا نے پلٹ کر دیکھا تو دیکھتی ھی رہے گئ کیوں کہ اس کے سامنے !!
