Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zid Junoon Ki Inteha Episode 41

Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi

معراج سمجھا تھا رملا کوئ مزاق کرے گی۔۔

معراج دعا گھر پر نہیں ھے ؟؟؟؟

رملا نے اٹک اٹک کر کہا۔۔۔۔

کیا مطلب کہاں ھے دعا ؟معراج نے فورن سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔

وہ دعا !!!!!!!!!!!!!

رملا بولتے بولتے رکی تھی۔۔۔

وہ دعا کیا بھابی ؟؟؟؟؟

معراج نے اب غصے سے پوچھا تھا۔۔۔

رملا کے اندر بولنے کی ہمت نا تھی۔۔۔

سجل بھابی کہاں ھے دعا ؟؟؟؟

اب کے معراج نے سجل سے پوچھا تھا۔۔

معراج وہ دعا ہمارے ساتھ گئ تھی لیکن پھر۔۔۔۔۔۔

سجل کو بھی اب معراج کے غصے ڈر لگا تھا۔۔۔

یہ کیا بقواس ھے اپ لوگ سیدھی طرح بتا کیوں نہیں رہے کہ کیا بات ھے ؟؟؟

اگر یہ مزاق ھے تو واللہ یہ ایک انتھائ گھٹیا مزاق ھے۔۔۔

دعا کہاں ھے ؟؟؟؟

میں کچھ پوچھ رہا ھوں۔۔۔

معراج اب تقریبن غصے سے چیلایا تھا۔۔۔۔

دعا کسی کے ساتھ بھاگ گئ ھے۔۔۔۔۔۔

ہما نے پیچھے سے کہا تھا۔۔۔

ان الفاظ نے معراج کے پاوں سے زمین نکال دی تھئ۔۔۔۔

تم ھوش میں تو ھو ؟؟؟؟

کیا بقواس کر رہی ھو ؟؟؟

معراج پوری طاقت سے چیلایا تھا۔۔۔۔

میں سچ کہہ رہئ ھوں۔۔۔۔

ہما نے انتھائ ڈھٹیائ سے کہا تھا۔۔۔

تم جیسی گھٹیا عورت کے تو میں منہ نہیں لگنا چھاتا۔۔۔

معراج نے ہما کے منہ پر صاف کہا تھا۔۔۔۔۔

رملا بھابی ؟؟؟

سجل بھابی ؟؟

دعا اپ لوگوں کے ساتھ گئ تھی نا ؟؟؟

کہاں ھے دعا ؟؟

مجھے اس بات کا جواب چھائے آخر کہاں ھے میری دعا ؟؟؟

معراج نے زور سے چیلا کر کہا تو سجل اور رملا دونوں ہی خوف زادہ ھوئ تھی۔۔۔۔

معراج وہ۔۔۔

جب ہم shopping پر گئے تھے تو اچانک دعا نے کہا وہ تھک گئ ھے اور وہ واپس گاڑی میں جارہی ھے۔۔۔

میں نے اسے کہا ٹھیک ھے تم جاو ۔۔۔ہم بھی وہی آجائیں گے ۔۔

جب ہم واپس گاڑی میں پہنچے تو دعا وہاں موجود نہیں تھی۔

رملا نے بتایا تھا۔۔

اور ہما نے اسکو کسی لڑکے کے ساتھ جاتے بھی دیکھا ھے۔۔۔

اب کے سجل نے کہا تھا۔۔۔۔۔

بھابی !!!!!!!!!!

معراج غصے سے ڈھاڑا تھا۔۔۔۔

دعا ایسا ہرگز نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔معراج نے اشتعال سے کہا تھا۔۔۔۔

اسکو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔

تمھاری دعا نے آیسا کیا ھے۔۔۔

تمھیں بہت غرور تھا اسکی پاکی پر ۔۔۔۔

لو مل گئ تمھارے منہ پر کالک وہ۔۔۔۔

ہما نے اب زہر اگلنا شروع کیا تھا۔۔۔۔

میں تمھیں جان سے مار دوں گا اگر کوئ گھٹیا بات تم نے منہ سے نکالی۔۔۔

معراج ہما کی طرف بڑھا تھا جب دلاور اور بلاج نے اسکو پکڑا تھا۔۔

معراج ھوش میں آو۔۔۔

اب کے جہانگیر صاحب بولے تھے۔۔۔۔

بھاڑ میں گیا ھوش۔۔۔۔

معراج نے لال انکھوں سے کہا تھا۔۔۔

اسکی ہمت کسیے ھوئ دعا کے بارے میں بقواس کرنے کی ۔۔۔۔

معراج کا دل چھا رہا تھا وہ ہما کو زندہ جلا دے۔۔۔۔

میں نے کوئ بقواس نہیں کی صرف سچ بتایا ھے۔۔۔

تمھارے لیے جو کچھ دیر پہلے دعا بیگم نے خط اور تصاویر بھیجی ھے اگر تم وہ دیکھ لو تو زیادہ بھتر ھوگا ۔۔۔

ہما نے پھر کہا تھا۔۔۔۔

کون سا خط ؟؟؟

معراج نے اب بریرہ بیگم کو دیکھ کر پوچھا تھا۔۔۔

بریرہ بیگم بری طرح رو رہی تھی۔۔

رملا کی بھی انکھیں نم تھی۔۔۔۔

رملا بھابی کون سا خط ؟؟؟؟؟

معراج پھر چیلایا تھا۔۔۔۔

وہ تمھارے کمرے میں!!!!

رملا نے روتے روتے کہا تھا۔۔۔ابھی رملا کی بات بھی پوری نا ھوئ تھی کہ معراج دوڑتا ھوا اپنے کمرے کی طرف گیا تھا ۔۔۔۔۔

معراج کا دل اس وقت انتھاء سے زیادہ تیز ڈھڑک رہا تھا۔۔۔

ھوش اڑ چکے تھے۔۔۔۔

وہ ھواس بھکتا سا اپنے کمرے میں داخل ھوا تھا۔۔۔

سامنے ہی سینٹر ٹیبل پر ایک خط اور ایک پیکٹ پڑا تھا۔۔۔۔۔۔

معراج نے بنا ایک پال لگائے وہ پیکٹ اٹھایا تھا۔۔۔۔

اور خط نکال کر پڑھنا شروع ھوا تھا۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

معراج

میں جانتی ھوں جب تم یہ خط پڑھو گے تو تمھیں حد سے زیادہ حیرت ھوگی کہ اچانک یہ سب کیسے ھوا۔۔۔۔

معراج میں کافی عرصے سے تم سے اپنی جان چھڑوانا چھاتی تھی۔۔۔

پر صیح موقعے کی تلاش میں تھی۔۔۔۔

اور اج جب تم دور جارہے تھے تو میں نے سوچا اس سے اچھا موقع مجھے اور نہیں ملے گا۔۔۔

معراج میں تمھارے ساتھ رہنا نہیں چھاتی میں کسی اور کو پسند کرتی ھوں۔۔۔۔تمھارے ساتھ شادی کر کے رہنا میری مجبوری تھی۔۔۔۔پر وہ مجبوری اب مزید نہیں اٹھا سکتی میں ۔۔تم سے دور جانا چھاتی ھوں ہمیشہ کے لیے اور اس شخص سے شادی کرنا چھاتی ھوں جس سے پیار کرتی ھوں ۔۔۔اگر تم یہ سوچ رہے ھو کہ میں اپنے گھر جاوں گی تو یہ بھی تمھاری بھول ھے۔۔۔۔۔

میں اپنے گھر ہرگز نہیں جاوں گی۔۔میں بس اس کے ساتھ ھوں جسکو چھاتی ھوں ۔۔مجھے تمھاری قربت زہر لگتی تھی۔۔۔۔۔میرا دل جب جب تم میرے ساتھ ھوتے تھے تو بھاگ جانے کو چھاتا تھا۔۔۔ مجھے پر رحم کرو اور مجھے طلاق دے دو۔۔۔۔۔

یہ جو دوسرا پیکٹ تمھارے سامنے پڑا ھے اس میں کچھ ایسا ھے جنکو دیکھ کر تم اندازہ کر سکتے ھو کہ میں کسی اور سے تعلق میں تھی۔۔۔۔

ھوسکے تو مجھے بھول جانا اور طلاق دے دینا۔۔۔نا بھی دی تو میں خلا لے کر دوسری شادی کر لوں گی۔۔۔۔۔

منجانب :- دعا خان !

معراج نے خط پڑھتے ہی دوسرے پیکٹ کو کھول کر اس میں سے تصویریں نکالی تھی۔۔۔۔

اور ان تصویروں میں بلا شبہ دعا بیٹھی تھی اور اسکے ساتھ کوئ لڑکا بھی لیکن اس لڑکے کی تمام تر تصاویر پیچھے سے لی گئ تھی۔۔۔

تصویر میں صرف دعا کا منہ نمایا تھا۔۔۔۔۔

معراج ایک کے بعد ایک تصویر دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔

اسکو اپنی انکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔۔

وہ ایک دم سے بے سد سا ھوکر بیڈ پر بیٹھا تھا۔۔۔

دعا !!!!!!!

معراج نے اپنا سر دنوں ہاتھوں سے تھاما تھا۔۔۔۔

اففففف دعاااااااااااااااااااا

معراج اب زور سے چلایا تھا۔۔۔۔۔

اسکو سمجھ نہیں آرہا تھا یہ کیا ھوا ھے۔۔۔

تصاویر جھوٹی نہیں تھی۔۔۔لیکن معراج کا دل یہ منانے کے لیے تیار نا تھا۔۔۔اس کی دعا یہ کر سکتی ھے۔۔۔۔اسکی انکھوں سے بری طرح آنسو بہہ رہے تھے۔

وہ ایک دم سے بیڈ سے اٹھا تھا۔۔۔اور اب تیزی سے اتر کر لاوئج میں سے جارہا تھا جب جہانگیر صاحب نے اسکو روکا تھا۔۔۔

کہاں جا رہے ھو تم ؟؟؟

اتنی دیر میں ہما جہانگیر صاحب کو پورا پورا چھڑا چکی تھی۔۔۔۔

دعا کو ڈھونڈ نے معراج نے اپنی لال آنکھوں سے کہا تھا۔۔۔

تمھیں سمجھ نہیں آتی دعا !!!!!

جہانگیر صاحب کے الفاظ ادا نا ھوئے تھے کہ معراج گلہ پھاڑ کر چلایا تھا۔۔۔لال آنگارے جیسی آنکھیں پھیل گئ تھی۔۔۔۔

بسسسسسسسسسسسس !!!!!!!!

ایک لفظ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

معراج نے بہت مشکل سے خود پر قابو پاکر کہا تھا۔۔۔۔۔

کیوں ایک لفظ نہیں۔۔۔۔

ہما نے کیا بتایا ھے ؟؟

تمھاری بیوی ایک مرد کے ساتھ بھاگ گئ ھے۔۔۔

لعنت بھیجو ایسی لڑکی پر۔۔۔۔

جہانگیر صاحب کانوں کے حد سے زیادہ کچے تھے ۔۔۔۔۔۔

سمجھ نہیں آتی میں نے کہااااا بسسسسسسسسسس

معراج نے زور سے اپنا ہاتھ سینٹر ٹیبل کے شیشے پر مارا تھا۔۔۔

معراج کا جنون دیکھنے کے لائق تھا۔۔۔کچھ پل میں اسکی حالت غیر ھوگئ تھی۔۔۔۔۔

ٹیبل کا شیشا ٹوٹ کے چکنا چور ھوچکا تھا۔

معراج کے ہاتھ سے بری طرح خون بہہ رہا تھا۔۔۔۔

جہانگیر صاحب بھی معراج کی ہی طرح غصے کے تیز تھے۔۔۔۔۔

تم یہ سب اس گھٹیا لڑکی۔۔۔۔!!!!

وہ گھٹیا نہیں ھے۔

بیوی ھے وہ میری بیوی۔۔۔۔۔۔۔!!!!!

ائ بات سمجھ ۔۔۔

بیوی ھے وہ میری۔۔۔۔

زندگی ھے وہ میری ۔۔۔۔۔۔

معراج بری طرح اشتعال سے چیلا رہا تھا۔۔۔۔۔

اسکا غصے سے برا حال تھا۔۔۔

گھر کے تمام لوگ اسکی یہ حالت دیکھ کر حیران تھے۔۔۔۔

جبکہ ہما کو ایک بار پھر اپنا گیم ہارتا ھوا لگ رہا تھا۔۔۔۔

بیوی ھے وہ میری بیوی !!!! !

ایسا نہیں کرسکتی دعا۔۔۔۔

میری دعا ایسی نہیں ھے سنا آپ نے سنا ؟؟؟

معراج نے زور سے چیخ کر کہا تھا ۔۔

تم نے سوچا ھے اگر یہ خبر باہر پھیل گئ تو تمھاری پارٹی پر کیا اثر پڑے گا۔۔۔۔

تم election ہار جاو گے ۔۔تم کیا سمجھتے ھو تم پولیس کی مدد لو گے تو یہ بات چھپ جائے گی ؟؟؟

معراج ھوش میں آوں کتنے سالوں سے اس پل کا اتنیظار کرتا آیا ھوں میں ۔۔اب یہ سب اس لڑکی کی وجہ سے برباد ھونے نہیں دوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔

جہانگیر صاحب بھئ اب غصے سے چلایے تھے ۔۔۔۔

بھاڑ میں گئ ہر چیز۔۔۔۔

بھاڑ میں گیا یہ election مجھے دعا کے لیے اگر دنیا بھی چھوڑنی پڑی تو ایک پل نہیں لگاوں گا میں۔۔۔

سنا اپ نے ؟؟؟؟

اپ ایک انتھائ خود غرض politican ھیں۔۔۔۔

اپ کو کیا لگتا ھے دعا کو دھونڈ نے کے لیے مجھے اپ کے دو ٹکے کی پولیس والوں کی ضرورت ھوگی۔۔۔

میں دعا کو دھونڈ کر دیکھاوں گا۔۔۔۔معراج اس وقت جنون کی انتھاء پر تھا۔۔۔۔

دھونڈ اسکو جاتا ھے جو غائب ھوتا ھے۔۔۔اسکو نہیں جو چھوڑ کر بھاگ جاتا ھے۔۔۔

اب کے ہما بولی تھی۔۔۔۔

میں تمھارا منہ توڑ دوں گا۔۔۔۔۔

معراج نے ایک زور دار دھکا ہما کو دیا تھا لیکن ہما بروقت پیچھے ھوئ تھی۔۔۔

سجل خاصی حیران اور پریشان تھی۔۔۔وہ جانتی تھی کہ کہی کچھ غلط ھے۔۔۔۔

ہما کا اس طرح بڑھ چھڑ کر بولنے میں ہی کچھ مصلہ تھا۔۔۔۔

سجل اس لیے خاموش ہی تھی۔۔۔

جب کہ ہما تلملا اٹھی تھی۔۔۔

ارے بس کرو۔۔۔

تم جس کی پاکی کا علان کرتے گھومتے تھے اس نے تمھاریبعزت کا جنازہ نکال دیا۔۔۔۔

تمھارے جیسی گھٹیا نہیں ھے میری دعا۔۔۔

میری دعا پاک تھی۔۔۔

میری دعا پاک ھے۔۔۔

اور میری دعا پاک رہے گی۔۔۔۔

سنا تو نے۔۔۔۔۔

اور اگر دعا کچھ بھی ھوا تو سب سے پہلے جان میں تیری لوں گا۔۔۔

معراج نے ہما کو اشارہ کر کے کہا تھا اور تیزی سے لاوئج سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔۔۔

ہما کو اب کچھ خطرہ محسوس ھوا تھا۔۔

رملا یہ سب کیا ھے ؟؟؟

بریرہ بیگم نے روتے روتے پوچھا تھا۔۔۔

امی معراج ٹھیک بول رہا ھے دعا ایسا نہیں کر سکتی ضرور کچھ غلط ھے ۔۔معراج گیا ھے نا بس اپ اللہ سے دعا کریں۔۔۔

معراج کو دعا مل جائے۔۔۔۔

رملا نے بھی روتے روتے کہا تھا۔۔۔سجل

گھیری سوچ میں تھی۔۔۔دلاور اور بلاج چپ تھے۔۔۔

جہانگیر صاحب غصے سے اپنے کمرے میں جاچکے تھے۔۔۔۔

اور ہما اب ایک طرف کونے میں ائ تھی۔۔۔

اور اس نے فورن ااپنے موبئل سے ایک کال ملائ تھی۔۔۔

ہیلو زیب !!!!

معراج کو شک ھو گیا ھے۔۔۔۔

جس جگہ تم نے دعا کو رکھا ھے اس جگہ کا پتہ تمھارے فرشتوں کو بھی ھونا نہیں چھایے۔۔۔۔

معراج اور دعا ہرگز نہیں ملنے چھائے۔۔۔۔

دعا کو لے کر اگر باہر بھی جانا پڑے تو تم چلے جانا ائ بات سمجھ لیکن دعا اور معراج ایک نہیں ھونے چھائے یہ آخری موقع ھے ہمارے پاس۔۔۔۔۔

ہما بے زیب کو instruction دے کر فون بند کر دیا تھا۔۔۔۔

اوووو چی چی چی۔۔۔

بیچاری دعا۔۔۔۔۔ہما نے زہریلی مسکان سجا کر کہا تھا۔۔۔۔۔

جب ہی پیچھے سے کسی نے اسکو آواز دی تھی۔۔۔۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

دعا نیم بے ھوشی میں تھی۔۔۔اور ہلکے ہلکے اپنی انکھیں کھول رہی تھی۔۔۔اسکا سر بری برح چکرا رہا تھا۔۔۔۔

اس نے انکھیں کھولی تو ایک تیز بلب کی روشنی نے اسکی انکھیں دوبارہ بند ھونے پر مجبور کردی تھی۔۔۔۔

دعا کو اپنا سر چکراتا محسوس ھوا تھا۔۔۔

اففف اللہ۔۔۔۔۔

میرا سر۔۔۔۔

دعا کو اپنا سر بہت بھاری بھاری محسوس ھوا تھا۔۔۔۔۔۔

اس نے پھر انکھیں کھول کر بند کی تھی تب اسکو ایک مرد کا وجود نظر آیا تھا۔۔

اس کے منہ سے فورن نکلا تھا۔۔۔

معراج !!!!!

دعا نے بند انکھوں سے معراج کو پکارا تھا۔۔۔۔۔

اور پھر ہلکے ہلکے اپنی آنکھیں کھولی تھی۔۔۔۔

اور ایک ایک چیز پر نظر گھوما کر دیکھا تھا۔۔۔

وہ جس جگہ پر تھی وہ جگہ کو تو وہ پہچانتی نا تھی۔۔۔۔

وہ شاید کیس گودام میں بند تھی۔۔۔

دعا نے اپنے ہاتھ سے اپنا سر تھامنے کی کوشش کی تو اسکو اندازہ ھوا اسکے ہاتھ رسی سے باندھے ھوئے ھیں۔۔۔

دعا نے ایک دم اپنی پوری انکھیں کھولی تھی اور ادھر ادھر دیکھا تھا۔۔۔

وہ کسی بہت پرانے سے گودام میں ایک کرسی پر بیٹھی تھی اسکے ہاتھ اور پاوں اس کرسی سے بندھے ھوئے تھے۔۔۔۔

دعا کو سمجھ نا آیا تھا کہ وہ یہاں کیسے ؟۔

دعا نے ایک دم اپنا آپ ازاد کروانے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔۔

وہ سمجھ چکی تھی کہ وہ kidnap ھوچکی ھے۔۔۔۔۔

اففف

اففف

اتنا غصہ۔۔۔۔۔۔

دعا زور زور سے اپنا ہاتھ چھڑوانا چھارہئ تھی جب کسی نے کہا تھا۔۔۔

دعا نے نظر اٹھا کر دیکھا تو سامنے زیب تھا۔۔۔۔

تتتت

تم ؟؟؟

دعا نے پھٹی آنکھوں سے زیب کو دیکھا تھا۔۔۔

ہاں میں

surprise

surprise

زیب نے گندی سی مسکان سجا کر کہا تھا۔۔۔۔

تمھاری ہمت کیسے ھوئ مجھے یہاں لانے کی۔۔۔۔

دعا بری طرح چیلائ تھی۔۔۔۔۔

دعا کی آنکھوں سے بھی اپ آنسو بہنا شروع ھوئے تھے۔۔۔

اففففففف یہ غصہ ۔۔۔

یہ اکڑ۔۔۔۔

اب سمجھ آیا معراج کیوں فدا ھے تم پر اتنا۔۔۔۔

زیب نے دعا کے سامنے بیٹھے ھوئے کہا۔۔۔۔

معراج کو پتہ لگانا تو تم زندہ نہیں بچو گے۔۔۔۔

بہت برا حال ھوگا تمھارا۔۔۔۔

سمجھ ائ۔۔۔۔

دعا نے اشتعال سے کہا تھا۔۔۔

ہاہاہاہا معراج ؟؟؟

معراج تو بیچارہ تمھیں طلاق دینے کی تیاری کر رہا ھوگا۔۔۔۔

تھوڑا بہت ڈھونڈ کر اپنا دل ٹھنڈا کرے گا پھر تمھارے خط پر یقین کر لے گا۔۔۔۔۔

زیب نے ھنس کر کہا ۔۔۔

کون سا خط ؟؟؟

دعا نے حیرت سے پوچھا۔۔

کیا بقواس کر رہے ھو تم ؟؟؟

دعا پھر چیلائ تھی۔۔۔

جانے من بقواس نہیں حقیقت ھے۔۔۔تمھاری طرف سے معراج کو خط بھیج دیا ھے۔کہ۔۔۔

معراج مجھے طلاق دے دو۔۔۔

میں کسی اور سے پیار کرتی ھو ۔۔۔۔

اوووو اب بیچارہ معراج پھر سے اکیلا ھوجائے گا۔۔۔

زیب بڑی خوشی سے سب بتا رہا تھا۔۔۔

یہ سب جھوٹ ھے۔۔

بقواس ھے یہ سب۔۔۔۔

ہاں جھوٹ تو ھے پر معراج کو کون بتائے گا یہ جھوٹ ھے ؟؟؟

وہ بیچارہ تو ان تصویروں پر یقین کرے گا نا جو تمھاری اور میری ساتھ ھیں ؟؟؟

زیب نے پھر سے زہریلی مسکان سجا کر کہا تھا۔۔۔۔

میں تمھارا منہ توڑ دوں گی۔۔۔۔دعا بری طرح پھڑپھڑا رہئ تھی۔۔۔۔

افففف ویسے معراج کی جیسی ھو تم بھی ۔۔

ضدی۔۔۔۔

بے خوف۔۔۔۔

i like it

پر کیا کریں ۔۔اب تم معراج کی نہیں میری بن جاو گی۔۔۔۔۔

زیب نے ھنس کر کہا تھا۔۔۔۔

شکل دیکھی ھے تم نے اپنی ؟؟؟

بند جیسی شکل ھے تمھاری۔۔۔

تمھیں کیا لگتا ھے ۔۔۔؟؟

معراج ان تصویروں پر یقین کر لیں گے ۔۔۔

ہاہاہا۔۔۔۔سوچ ھے تمھاری زیب ۔۔۔جب معراج یہاں پھونچیں گے نا۔۔۔تو تمھارا روم روم۔۔۔۔درد سے پھٹے گا۔۔۔۔۔

وہ معراج ھیں۔۔۔

میرے معراج۔۔

دعا کے معراج۔۔۔۔

وہ مجھ پر شک نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔

دعا نے انتھائ یقین سے کہا تھا۔۔۔۔

دعا کے اس یقین پر زیب کو خوف سا ھوا۔۔۔۔

چپ کرو تم۔۔۔

ایسا کچھ نہیں ھوگا۔۔۔

معراج کے فرشتے بھی یہاں نہیں پونچھ سکتے۔۔۔

یہ اس شیر کا جنگل ھے۔۔۔۔

زیب نے اپنا سینہ ٹھوک کر کہا۔۔۔

ہاہہاہاا

شیر ؟؟؟

تم اور شیر ؟؟؟؟

تھووووو ۔۔۔۔۔

دعا نے زمین پر تھوک پھنک کر کہا۔۔۔۔

تم جیسا انسان شیر نہیں گیڈڑ سے بتر ھے۔۔۔۔۔

شیر بتاوں کون ھے ؟؟؟

شیر معراج ھیں

جو تمھیں ڈھونڈ کر کتے کی طرح ماریں گے۔۔۔

شیر سامنے سے وار کرتا ھے۔۔۔اگر تم شیر ھوتے اور تم میں دم ھوتا تو تم مجھے معراج کے سامنے سے اٹھا کر لے کے جاتے۔۔۔۔

ہاہہاہا پر تم تو چوہے ھو۔۔۔۔۔

دعا نے روتے روتے ھنس کر کہا تھا۔۔۔

وہ ڈر رہی تھی۔۔۔

پر اپنا ڈر دیکھانا نہیں چھارہی تھی۔۔۔

چپپپ کر۔۔۔۔!!!

زیب نے ایک تھپڑ دعا کے منہ پر مارا تھا۔۔۔۔

دعا کا نازک سا ھونٹ پھٹ گیا تھا۔۔۔۔اور اس میں سے خون آرہا تھا۔۔۔۔۔

تمھارے معراج کو یہاں آنے سے پہلے مروا دوں گا میں۔۔۔

زیب غصے سے بول کر نکل گیا تھا۔۔۔

اور دعا بری طرح رو رو کر معراج کو پکار رہی تھی۔۔۔

معراج

معراج

پلیز مجھے لے جائیں ادھر سے ۔۔۔

پلیززززز ۔۔۔۔۔۔

یا اللہ میری مدد فرما۔۔۔

دعا نے روتے روتے اللہ سے دعا مانگی۔۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

معراج کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ دعا کو کہاں دھونڈے وہ اتنا جانتا تھا دعا اسکو چھوڑ کر کبھی نہیں جا سکتی یہ یقینن ایک جھوٹ تھا وہ جانتا تھا دعا کو۔۔۔

کسی نے kidnap کیا ھے مگر سوال یہ تھا کہ کس نے کیا ھے ؟؟؟

معراج نے اسکو ہر جگہ ڈھونڈ تھا پر وہ کہی نا ملی تھی۔۔۔

شام سے رات ھوچکی تھی۔۔۔پر کچھ پتا نا لگا تھا۔۔۔

معراج نے جاکر گاڑی سی ویو کے کنارے پر روک دی تھی۔۔۔۔۔۔

اور گاڑی سے اتر کر وہ اپنے بونٹ پر جاکر بیٹھا تھا۔۔۔

ایک سیرگٹ نکال کر اس نے سلگائ تھی۔۔۔۔۔۔۔

جب میں گیا دعا تھی۔۔۔۔

پھر یہ سب گئے !!!

تب بھی دعا تھی۔۔۔

ہما نے دعا کو دیکھا۔۔۔

اور ہما کو کیسے پتاہ میرے کمرے میں ایک خط پڑا ھے اور خط میں تصویرے ھیں۔۔۔۔

چلو خط وہ پڑھ سکتی ھے۔۔۔۔۔

لیکن تصویر والا پیکٹ تو بلکل بند تھا۔۔۔

تو اسکو کیا پتہ کہ اس میں تصویر ھی ھے۔۔۔۔

ہما کے علاوہ اور کسی نے یہ سب نا دیکھا۔۔۔۔۔

معراج بہت گھیری سوچ میں جاکر یہ سب سوچ رہا تھا۔۔۔۔۔۔

ہماا کہاں سے ائ !!!!!؟؟؟shooping پر۔۔۔۔

اور چلو آبھی گئ تو وہ دعا کے پیچھے کیوں گئ۔۔۔۔۔

کہی نا کہی ہما تو اس سب میں involve ھے۔۔۔۔۔

لیکن وہ لڑکا کون تھا۔۔۔۔۔

معراج اصل وجہ تک پھنچا چھا رہا تھا وہ جانتا تھا کہ دعا ادھر ادھر کہی نہیں ھوگی ۔۔۔۔

وہ لڑکا ۔۔۔

آشعر !!!

پر اشعر اور ہما کا کیا لینک ھوسکتا ھے۔۔۔۔۔

معراج نے دماغ پر زور دینے کی کوشش کی ۔۔۔

نہیں آشعر نہیں ھوسکتا۔۔۔اس کے اندر اتنا دم نہیں پھر کون۔۔۔۔۔۔ھوسکتا ھے وہ لڑکا۔۔۔

دعا نے مجھے بتایا کیوں نہیں کے وہ کسی لڑکے سے ملی ھے۔۔۔۔۔۔

اور ملی تھی تو ایسی کیا وجہ تھی جو دعا نے مجھ سے چھپائ۔۔۔۔۔

دعااااااااااااا

میری جان کہاں ھو تم۔۔۔۔۔۔

یا خدا۔۔۔۔۔۔۔میری مدد کر۔۔۔۔۔

معراج نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا ۔۔۔

اسکی انکھوں سے انسو ٹپک رہے تھے۔۔۔۔

میرے اللہ تو نے میری ماں کو واپس جب لیا تھا تب میں اندھیروں میں پڑ گیا تھا۔۔۔

پھر تو نے مجھے دعا کی شکل میں روشنی عطا کی۔۔۔۔۔

میرے اللہ مجھ سے وہ روشنی مت چھین۔۔۔۔۔۔

میری مدد کر ۔۔۔

مجھے ہمت دے میرے اللہ کے میں دعا کو ڈھونڈ سکوں۔۔۔۔۔

میری دعا مجھے ملاو دے میرے اللہ۔۔۔۔

بس ایک بار مجھے پتہ لگ جائے دعا کہاں ھے۔۔۔

معراج ابھی آسمان کی طرف منہ کر دعا مانگ رہا تھا۔۔۔

جب ہی اسکا موبئل بجا تھا۔۔۔۔

اس نے فون اٹھایا تو راضا کا تھا۔۔۔

معراج کہاں ھے تو ؟؟؟

زاضا نے فورن پوچھا تھا۔۔۔

بس تھوڑا مصروف ھوں راضا تجھ سے پھر بات کروں گا۔۔۔۔

معراج فون رکھنے لگا تھا جب راضا نے کہا۔۔۔۔

یار عجیب بات ھے نا تو اتنے دن سے ملنے آیا ھے نا ہی زیب کا کچھ اتا پتہ ھے آخیر تم دوستوں کو ھو کیا گیا ھے۔۔۔۔

زاضا نے اداسی سے کہا تھا۔۔۔۔

معراج نے کال بند کر دی تھی۔۔۔

اور واپس اپنی گاڑی میں اکر بیٹھا تھا۔۔۔

تیز گاڑی چلاتے وہ سوچ رہا تھا۔۔۔

ہماا کا لینک ھے۔۔۔۔

تو دعا کا اس لڑکے سے کیا لینک۔۔۔۔۔

افففف معراج نے زور سے گاڑی کے اسٹیر نگ پر ہاتھ مارا تھا۔۔۔۔۔

اسکی سوچ الجھی جارہی تھی ۔۔۔۔

سلجھ نہیں رہی تھی۔۔۔۔

دل پھٹ رہا تھا۔۔

دعا کو کھونے کا درد تھا۔۔لیکن اس بار وہ ہارا نہیں تھا۔

وہ لڑ رہا تھا۔۔۔

دعا کو تلاش کرنے کے لیے اپنا دماغ چلا رہا تھا۔۔۔۔۔

پر کوئ راستہ نا تھا۔۔

ابھی وہ سوچ رہا تھا پھر ایک بار اسکو زاضا کی کال ائ تھی۔۔

ایک تو اس نے میرا دماغ کھا رکھا ھے اگر زیب غائب ھے تو میں۔۔۔۔۔۔!!!!

معراج نے تیز چلتی گاڑی کو ایک دم بریک مار کر روکا تھا۔۔۔۔۔

زیب ؟؟

غائب ھے ؟؟؟؟؟

زاضا نے کہا زیب غائب ھے۔۔۔۔۔

ہما اور زیب ؟؟؟؟؟

کئ بار مل چکے ھیں ۔۔

ہاں ہما اور زیب ھو سکتے ھیں۔۔۔۔

زیب بھی دعا کو پسند کرتا تھا لیکن دعا زیب سے کیوں ملنے گئ۔۔۔۔

میرا دل کیوں کہہ رہا ھے کہ ہما سے ہی کوئ connection ھے زیب کا۔۔۔۔

معراج نے فورن فون اٹھا کر زاضا کو کہا تھا ۔۔۔

میں تجھ سے ملنے آرہا ھوں۔۔۔۔۔

معراج نے فون بند کر کے دوبارہ تیز گاڑی آڑائ تھی۔۔۔۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

ہما ؟؟؟

یہ سب تم نے جان بوجھ کر ؟؟؟؟

سجل نے ہما کے پیچھے کھڑے ھو کر اسکی تمام تر گفتگو سن لی تھی۔۔۔۔

ہاں میں نے کیا ھے آپی۔۔۔

اور بہت اچھا کیا ھے ۔۔۔۔

دعا کے ساتھ ایسا ہی ھونا چھائے۔۔۔

ہما نے جل کر کہا تھا۔۔۔

ہما تم ھوش میں ھو ؟؟؟

سجل نے ہما کو بازو سے پکڑ کر اپنی طرف موڑا تھا۔۔۔۔۔۔

ہممم ھوش میں ھوں اس میں کونسی نا ھوشی والی بات ھے ؟؟؟

سچ تو بول رہہی ھوں سب۔۔۔

ہما نے ڈھٹائ سے کہا۔۔۔۔۔

ہما دعا سے اختلافات اپنی جگہ۔۔۔

پر ایک لڑکی کی زندگی کو خطرے میں ڈالنا اسکی عزت آبرو کو بدنام کرنا غلط ھے۔۔۔

سجل ہما کے مقابلے میں دل کی خاصی اچھی تھی۔۔

اھوووو پیلز اپی۔۔۔

اپ کیوں پاک پتیجا بن گئ ھیں؟؟

پہلے اپ بھی تو چھاتی تھی دعا اس گھر سے دفاع ھو جائے اب کیا ھوا ؟؟

ہما نے مزے سے کرسی پر بیٹھتے ھوئے پوچھا تھا۔۔۔

ہما وہ صرف غصے میں کہا تھا۔۔یہ بات سچ ھے کہ دعا مجھے بری لگتی تھی۔۔۔پر میں غلط تھی ہما۔۔۔۔۔

وہ دل کی بہت اچھی ھے۔۔۔۔۔چھائے اس سے جتنا مرضی اختلاف ھو۔۔پر اسکے یہ سب نہیں سوچا میں نے ۔۔۔تم غلط کر رہی ھو یہ نا کرو ابھی بھی وقت ھے اگر معراج کو پتہ لگا تو وہ تمھارا جو حال کرے گا وہ تو کرے گا ساتھ میں مجھے بھی اس گھر سے لات پڑ جائے گی۔۔۔

ہما دیکھو ماما بابا باہر جاکر شفٹ ھو گئے ھیں۔۔۔۔۔

تم بھئ چلی جاو۔۔۔۔

مجھے میرے سسرال میں خوش رہنے دو پلیز۔۔۔۔

سجل نے ہاتھ جوڑ کر کہا تھا۔۔۔

میں سب کو سچ بتانے جارہئ ھوں ۔۔۔۔۔سجل نے کہا تھا

واہ

واہ اپی۔۔۔

اب وقت ایا تو سیدھی بن گئ اپ۔۔۔

اگر اپنے ایسا کچھ سوچا بھی نا تو میرے ساتھ ساتھ اپ کا بھی بھنڈا پھوٹ جائے گا۔۔

اس لیے یہ غلطی ہرگز نا کیجیے گا۔۔۔۔۔

اپ کی بہلائ اس میں ھے کہ اپ خاموش رہیں۔۔۔۔۔

ہما نے انتھائ بے مروتی سے کہا تھا۔۔۔

تم مجھے اپنی بہن کو بلیک میل کر رہی ھو ہما۔۔۔۔

سجل کی انکھوں میں آنسو تھے۔۔

مجھے صرف اپنے مقصد کی فکر ھے مجھے معراج اور دعا کو الگ کرنے کے لیے اگر اپنی بہن کا گھر خراب کرنا پڑا تو میرا یقین کریں میں ایک پل کو نہیں سوچوں گی۔۔۔۔

اپنے کام سے کام رکھیں آپی۔۔۔یہ ہی اپک کے لیے اچھا ھے۔۔۔

ہما نے انکھوں میں جنون رکھتے ھوئے کہا۔۔۔

سجل حیرت سے ہما کو دیکھ رہی تھی۔۔۔

ہما اپنے مقصد اپنی ضد اور جنون میں اس قدر پاگل ھوگئ تھی کہ اسکو سوائے معراج کے کچھ نظر نا آرہا تھا۔۔۔۔

جب اپ جنون کی انتھاء پر ھوتے ھیں تب کوئ بھی چیز اپکو سمجھ نہیں آتی۔۔۔کسی کی فکر نہیں ھوتی۔۔۔۔

اپ کو فکر ھوتی ھے تو صرف اپنے مقصد کی۔۔۔

اپ کو پیار ھوتا ھے تو صرف اپنے جنون سے۔۔۔۔۔۔۔۔

ہما اس وقت ضد جنون کی انتھاء پر تھی۔۔۔۔۔!!!!!!!!

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

معراج تیز رفتاری سے گاڑی اڑاتا ھوا زاضا کے پاس پھنچا تھا۔۔۔۔

زاضا اپنے گھر کے باہر اسکی کا انتیظار کر رہا تھا۔۔۔

معراج نے گاڑی سے اتر کر راضا سے سب سے پہلے پوچھا تھا۔۔

زاضا زیب کہاں ھے ؟؟؟؟

یار تجھے کیا ھوا ھے سب خیریت ھے نا تو اتنے غصے میں کیوں ھے زاضا نے معراج کی حالت دیکھ کر پریشان ھوکر پوچھا۔۔۔۔

وہ سب تو چھوڑ تو مجھے بتا کہ زیب کب سے غائب ھے۔۔۔۔

یار زیب کی جب سے اس لڑکی کا کیا نام تھا ۔۔۔۔

ہاں نمرہ

اس سے دوستی ھوئ تھی نا تب سے زیب پتا نہیں کن چکروں میں لگ گیا ھے۔۔۔اور اج فون کر رہا ھوں تو وہ بھی نہیں اٹھا رہا۔۔۔۔

زاضا نے نارمل آنداز میں کہا تھا۔۔۔

لڑکی کا کیا نام لیا تو نے ؟؟؟؟

معراج نے حیرت سے پوچھا تھا۔۔۔ ۔

میرے خیال سے نمرہ تھا۔۔۔

پر تو کیوں پوچھ رہا ھے۔۔۔۔۔

نمرہ ؟؟؟؟

معراج نے سوچتے ھوئے پھر دھورآیا۔۔۔۔۔

نمرہ زیب ہما ؟؟

کہی دعا نمرہ کی وجہ سے۔۔۔

معراج کے زہن میں ایک دم ایک گھیرا سلجھی تھی۔۔۔

تجھے کیسے پتا اس لڑکی کا نام نمرہ تھا؟؟؟

معراج نے سوچا ھوسکتا ھے زاضا نے غلط سنا ھو یا یہ مہز ایک اتفاق ھو۔۔۔۔

یار ایک دو دفعہ اس نے میرے سامنے بھی بات کی تھی۔۔۔بڑا غلط بندہ ھے زاضا وہ لڑکی بہت معصوم تھی۔۔۔

زاضا اسکو ملنے بلاتا تھا تو وہ ہمیشہ منع کر دیتی تھی۔۔۔۔۔۔

اس سے بہت لڑتا تھا یہ۔۔۔۔

پتہ نہیں مجھے تو نہیں لگتا یہ اس کے لیے سیریس تھا ۔۔۔

زاضا نے جو محسوس کیا تھا وہ بتایا تھا۔۔۔۔۔

معراج اور سوچ میں پڑ گیا تھا۔۔۔۔

پر تجھے کیا ھوا ھے ؟؟؟

زاضا نے پھر پوچھا تھا۔۔۔۔

کچھ نہیں میں تجھ سے بعد میں ملتا ھوں معراج بول کر پھر تیزی سے اپنی گاڑی میں بیٹھ کر نکل گیا تھا۔۔۔۔زاضا حیران پریشان سا تھا۔۔۔