Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zid Junoon Ki Inteha Episode 10

Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi

بولو دعا آپی جھوٹ ھے نا یہ سب باتیں ؟؟؟؟؟؟

اب کے عمیر دعا کی خاموشی دیکھ کر پوچھ رہا تھا۔۔۔۔۔

دعا کہ منہ سے رک رک کر نکلا تھا…

جی !!!!!!

نہیں !!!!

یہ سب سچ ھے !!!!

میں اشعر سے نہیں معراج سے شادی کرنا چھاتی ھوں!!!!

دعا نے ایک ایک لفظ مضبوط لہجے سے کہا تھا۔۔۔۔

لیکن دعا کہ ان الفاظ پر احمد صاھب اور سمیرا بیگم اگ بھبولہ ھوگئے۔۔۔۔۔

جبکہ عمیر کو کسی صورت یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔۔

تم ھوش میں ھو دعا ؟؟؟؟؟

جانتی ھو کیا بول رہی ھو تم ؟؟؟؟؟؟؟

ہم تمھاری شادی اشعر سے کرنا چھاتے ھیں۔۔۔۔۔

۔پھر بھی تم یہ سب بول رہی ھو ؟؟؟ احمد صاحب حد سے زیادہ شوک تھے۔۔۔۔

جی جانتی ھوں۔میں اشعر سے شادی نہیں کروں گی۔۔۔۔۔

اور یہ میرا آخری فیصلہ ھے۔۔۔۔ابو۔۔۔۔۔میری پسند معراج ھیں۔۔۔۔۔

دعا !!!!!!!!!

احمد صاحب نے اگے بڑھ کر اپنی جان سے زیادہ پیاری بیٹی کے نرم نرم گال پر ایک زور دار تھپڑ مارا تھا۔۔۔۔۔۔۔ اور دعا کرسی سے زمین پر گیری تھی۔۔۔۔

ابو !!!

! کیا ھوگیا اپ کو ؟؟؟؟

عمیر نے اگے بڑھ کر اپنی بہن کو اپنے سائے میں لیا تھا۔۔۔۔

جان سے مار دوں گا میں اسے !!!!

احمد صاحب کا اشتعال عروج پر تھا۔۔۔۔

کیا اسی دن کے لیے تمھیں اتنا پیار دیا تھا کہ تم اپنی باپ کی عزت کا جنازہ نکال دو۔۔۔۔۔؟؟؟؟

وہ غصے میں چلا رہے تھے۔۔۔جبکہ سمیرا بیگم کے تو ہاتھ پیر ھی ٹھنڈے پڑ گئے تھے۔۔۔۔۔

صیح کرتے تھے لوگ بیٹوں کو جلا کر مار دیا کرتے تھے۔۔۔۔مجھے اج افسوس ھے کہ تم میری بیٹی ھو دعا مجھے افسوس ھے۔۔۔۔۔۔۔

جس لڑکی کو میں اپنا غرور کہتا تھا وہ میری عزت کا تماشہ بنا بیٹھی ھے۔۔۔۔

کیا کمی تھی ؟؟؟؟

کیا میں تمھیں وہ سب نہیں دے پایا ؟؟؟

جن کی وجہ سے تم معراج جیسے شخص سے شادی کرنا چھاتی ھو ؟؟؟؟

دعا بے یقینی سے اپنے باپ کو دیکھ رہی تھی اج پہلی دفعہ دعا نے مار کھائ تھی۔۔۔۔۔

دعا کی انکھوں سے زاروقطار آنسو بھ رہے تھے۔۔۔۔

ایک بات کان کھول کر سن لو دعا !!!!! تمھاری شادی معراج سے نہیں ھوگی۔۔۔۔۔

صرف اور صرف اشعر سے ھوگی۔۔۔۔

سنا تم نے۔۔۔۔!!!

احمد صاحب نے چلا کر کہا تھا۔۔۔۔

سوری ابو میں اشعر سے شادی نہیں کروں گی۔۔۔۔

تو پھر ٹھیک اگر تم نے معراج جہانگیر سے شادی کی تو اس گھر کے دروازے تم پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بندھ ھو جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔

احمد صاحب بے بہت بڑی بات بول دی تھی۔۔۔۔۔اور ان کو امید تھی کہ دعا اب اپنی ضد چھوڑ دے گی۔۔۔۔۔

اسلام مجھے میری مرضی کی شادی کرنے کا حکم۔دیتا ھے ابو جان۔۔۔۔۔۔۔میں صرف معراج سے شادی کروں گی۔۔۔۔۔اور جو۔سزہ اپ مجھے اس کے بعد دیں مجھے قبول ھوگی۔۔۔۔۔۔۔۔

دعا نے اپنے دل پر پتھر رکھ کر کہا تھا۔۔۔

آپئ ؟؟؟؟؟؟؟

عمیر نے حیران ھو کر بہن کو دیکھا تھا۔۔۔اور پھر آحمد صاحب کو دیکھا تھا جو صدمے کی سی حالت میں اپنی بیٹی کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔۔

ہاں عمیر یہ میرا اخری فیصلہ ھے !!! دعا بول کر تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئ تھی۔۔۔۔اور احمد صاحب جاتی دعا کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔یہ انکی وہی دعا تھی جو کبھی باپ کی پسند کے بغیر کپڑے نا پہنتی تھی اور اج اپنے زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ کرنے جارہی تھی وہ بھی ماں باپ کے خلاف جا کر۔۔۔۔۔!!!!!!

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

دعا نے خود کو کمرے میں بندھ کر لیا تھا۔۔۔۔

اور وہ پھوٹ پھوٹ کر اپنا درد کم کرنے کی کوشش کررہی تھی لیکن اسکا درد مسلسل بڑھا جارہا تھا۔۔۔۔۔ وہ چھا کر بھی اپنے ماں باپ کی بات نہیں مان سکتی تھی۔۔۔۔۔

وہ ایک ایسی جگہ پھس چکی تھی جہاں ایک طرف کھائ تھی تو دوسری طرف کنواں تھا۔۔۔۔

دونوں ھی راستوں میں اس کو ھی قربانی دینی تھی۔۔۔

دعا معراج کو جتنا جنتی تھی وہ سمجھ چکی تھی کہ یہ شخص ہر حد پار کرجانے والا شخص ھے۔۔۔۔۔

اور وہ دعا کے خاندان کی عزت کو روند دے گا تو کیا ھو گا ؟؟؟؟؟

یا ضد میں اس کے گھر والوں کو نقصان پھنچا دے گا تو دعا کیا کرے گی۔؟؟

وہ ہمیشہ یہ ہی سوچے گی کہ اس کی وجہ سے اس کے گھر والے مشکل میں ھیں۔۔۔۔۔

دعا یہ سوچ کر ہی در جاتی۔۔۔۔

ماما بابا پلیز مجھے معاف کردیں

پلیز !!!!!!!!

میں یہ سب اپ لوگوں کے لیے ہی کر رہی ھوں۔۔۔۔۔

ابو جان میں اپ کے خلاف جانا نہیں چھاتی پر میں مجبور ھوں ابو۔۔۔۔۔۔

اپ نہیں جانتے ابو کہ اگر میں معراج کے خلاف گئ تو اسکا نقصان صرف اور صرف پر لوگ اٹھائیں گے۔۔۔میں مجبور ھوں بابا اپ کو۔کچھ نہیں بتا سکتی۔۔۔۔۔۔

پاکستان کا courpt نظام ہمیں انصاف نہیں دلا سکتا۔۔۔۔

اگر احمد صاحب کو وہ سب سچ بتا دیتی وہ چھائے جتنا اپنی بیٹی کے لیے لڑتے لیکن راجہ جہنگیر اور معراج جہانگیر سے جیتنا آسان نہیں تھا۔۔۔۔۔

راجہ جہانگیر ایک جانے مانے مشھور politician اور بزنس مین تھے۔۔۔۔

جبکہ احمد صاحب سیدھے سادھے عام سے آدمی تھے۔۔۔۔۔۔وہ کہاں تک لڑتے ۔۔۔۔

دعا اپنی زات سے اپنے ماں باپ کو یہ درد تو دے سکتی تھی کہ وہ ان سے دور چلی جائے۔۔۔ لیکن کبھی بھی ان کی زندگی خطرے میں نہیں ڈال سکتی تھی۔۔۔

اس کی زندگی ایک دم سے تبدیل ھو رہی تھی ہر چیز پرائ ھونے کو تھی۔۔۔۔۔۔

اج احمد صاحب کے گھر میں ماتم سا چھایا ھوا تھا۔۔۔۔

جس گھر میں ہر وقت خوشی سی چھائ ھوتی اج وہاں ویرانا تھا۔۔۔۔

دعا صبح کی کمرے میں بندھ تھی۔۔۔۔عمیر اور سمیرا بیگم ائے تھے اس کو بلانے لیکن وہ باہر نا گئ تھی۔۔۔

نمرہ اور عمر دونوں ھی اس سب سے انجان تھے۔۔۔۔۔

گھر میں ایک ادسی کی فضا پھیل چکی تھی۔۔۔

ازمائش شروع ھوچکی تھی۔۔۔۔۔

دعا نماز پڑھ کر بیٹھی قرآن پاک پڑھ رہی تھی جب سمیرا بیگم دعا کے کمرے میں داخل ھوئ تھیں۔۔۔۔۔

دعا نے قرآن پاک پڑھ کر ایک طرف رکھا۔۔۔

تمھارے ابو نے جہایگر صاحب کو جواب دے دیا ھے۔۔۔۔۔وہ کل اکر شادی کی تاریک پکی کر جائیں گے۔۔۔۔لیکن دعا اپنے ابو کی وہ بات یاد رکھنا اس میں ۔۔۔میں بھی انکا ہی ساتھ دوں گی۔۔۔۔۔

اس گھر کے دروازے تم پر بندھ ھوجائیں گے۔۔۔۔۔۔

دعا خاموشی سے سن رہی تھی۔۔۔۔

کیا اسی دن کے لیے تمھارے باپ نے تم پر بھروسہ کیا تھا دعا ؟؟؟

مت کرو میری بچی ایسا ۔۔۔۔۔

یہ لوگ انکی جوٹی شھورت کسی کی نہیں ھوتی۔۔۔۔

سمیرا بیگم رو رہی تھی۔۔۔

دعا وہ لوگ ہم سے الگ ھیں ہمارا ان سے کوئ مقابلہ نہیں ھے۔۔۔۔۔اپنے جیسے لوگوں میں ھی شادی کرنی چھائے۔۔۔۔۔

اپنے ابو اور مجھے اتنا دکھ مت دو بیٹے ابھی بھی وقت ھے سنبھال جاو دعا۔۔۔۔۔!!!!

پلیز دعا !!!!!

سمیرا بیگم نے پیار سے بیٹی کو سمجھایا تھا۔۔۔

امی میں فیصلہ کر چکی ھوں۔۔۔۔دعا اپنے اردے میں کمزور نہیں پڑنا چھاتی تھی۔۔۔۔۔

اس لیےمظبوطی سے بولی…اگر کسی کو زارہ سے بھی خبر ھوجاتی کہ دعا یہ سب مجبوری میں کر رہی ھے تو وہ لوگ اس کو یہ قربانی نا دینے دیتے اور ناتیجہ نکلتا معراج جہانگیر سے جنگ جس میں وہ اپنا سب کچھ لگا کر بھی جیت نہیں پاتے۔۔۔۔۔۔

یہ پاکستان تھا۔۔۔جہاں پیسے کی طاقت سب سے بڑی طاقت تھی۔۔۔۔

اللہ تمھیں عقل دے دعا۔۔۔۔۔۔

سمیرا بیگم ٹوٹے دل کے ساتھ کمرے سے نکل گئ تھی۔۔۔۔

امی میرا فیصلہ میں کر چکی ھوں۔۔۔۔۔

دعا کی انکھوں سے پھر آنسوں گیر رہے تھے۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

معراج صاحب اپ کو بڑے صاھب اپنے کمرے میں بلا رہے ھیں۔۔۔۔

معراج laptop پر کچھ کام کر رہا تھا۔۔۔جب ملازم۔نے اکر اس کو بتایا تھا۔۔۔

اچھا تم۔جاو میں اتا ھوں۔۔۔۔

معراج laptop بند کر کے جہانگیر صاحب کے کمرے کی طرف آیا۔۔۔۔

نوک کر کے اندر داخل ھوا تو وہاں دلاور سجل سمیت سب موجود تھے ۔۔۔

معراج بھی جاکر بیٹھ گیا۔۔۔۔

راجہ جہانگیر بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔۔۔۔جب کہ بریرہ بیگم اور سجل صوفے پر بیٹھے تھے۔۔۔۔

برخدار !!!!!

جہانگیر صاحب نے معراج کو پکارا تھا۔۔۔۔

جی پاپا ؟؟؟؟

تمھارا رشتہ انکار ھوگیا ھے !!!!

معراج نے ایک دم حیران ھو کر باپ کو دیکھا تھا۔۔۔۔

کیا مطلب ؟؟؟؟؟؟؟

مطلب یہ کہ انکا فون آیا تھا۔۔۔اور وہ اپ سے !!!!

جہانگیر صاحب کو ایک دم ھنسی اگئ۔۔۔۔۔۔

بھائ ہم جھوٹ نہیں بول پاتے۔۔۔۔

اپ کے ھونے والے سسرال سے فون آیا تھا اور اپ کا رشتہ پکا ھوگیا ھے اور کل اپ کی شادی کہ ڈیٹ فکس کرنے جانا ھے۔۔۔۔۔

جہانگیر صاحب نے واقعی خوش ھو کر بتایا تھا۔۔۔معراج کی ہر ضد پوری کر کے وہ بہت خوشی محسوس کرتے تھے۔۔۔۔۔۔

معراج کے چہرے پر ایک فتحانہ مسکراہٹ ابری۔۔۔۔۔

سجل اور بریرہ بیگم خوش نہیں تھی۔۔۔۔

ایک اپنی بھن کی جلن میں خوش نہیں تھی اور دوسری اس بچی کی آنے والی زندگی سے ڈر رہی تھی۔۔۔۔

دلاور نے معراج کو گلے لگا کر مبارک باد دی تھی۔۔۔۔

تم تو بڑے ھی چھپے رستم نکلے معراج صاھب۔۔۔۔۔

دلاور نے معراج سے الگ ھوتے ھوئے کہا تھا۔۔۔۔

معراج صرف ہلکا سا مسکرایا تھا۔۔۔

مبارک ھو دیور صاحب !! سجل نے جھوٹی مسکان سجا کر کہا۔۔۔۔۔

اب بتا بھی دو لڑکی کون ھے ؟؟؟

سجل سے رہا نا گیا تو پوچھ بیٹی۔۔۔۔۔

مبارک ھو معراج۔۔۔۔

بریرہ بیگم نے دور سے ہی مبارک باد دی تھی۔۔۔۔

شکریہ!!!!

معراج نے سب کو مختصر سا جواب دیا تھا۔۔۔۔

سجل بھابی لڑکی اپ کے لیے سرپرائز ھے۔۔۔۔معراج سجل سے زیادہ ھوشیار تھا اس لیے اس کو بتانا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔۔۔

معراج اب جہانگیر صاحب کے گلے لگا تھا۔۔۔۔

Thanku papa!!

خوش رہو !!! جہانگیر صاحب نے سچی خوشی محسوس کی تھی۔۔۔۔۔۔

معراج تھوڑی دیر وہاں بیٹھ کر اپنے کمرے

میں واپس اگیا تھا!!!!

معراج خوش تھا بہت خوش تھا لیکن وہ خوشی دعا سے شادی کرنے کی نہیں تھی۔۔۔وہ خوشی دعا سے اس کی باتوں کا بدلہ لینے کی تھی۔۔۔

وہ خوشی اپنی ضد پوری ھونے کی تھی۔۔۔

وہ خوشی اپنا اپ منوانے کی تھی۔۔۔۔۔۔

معراج نے اپنے خیال میں دعا سے کہا!!!

ایک ایک لفظ کا حساب لوں گا تم سے دعا خان بس کچھ دن اور !!!!

پھر فون نکال کر دعا کا نمبر ڈائل کردیا تھا۔۔۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

دعا انکھیں موندے اندر اندر انسو بھا رہی تھی۔۔۔اندر اندر جل رہی تھی۔۔۔اس کے پاس اور کوئ option نا تھا۔۔۔۔۔

ابھی وہ اپنی سوچوں میں گم تھی کہ اچانک اسکا فون بجنے لگا۔۔۔

وہ جانتی تھی کہ یہ کس کا فون ھوگا۔۔۔۔۔

پہلے فون پر چمکنے والے نمبر کو نفرت سے دیکھتی رہی۔۔۔لیکن پھر کال اٹھا لی۔۔۔۔

Hello my future wife

معراج نے دعا کو جلانے کے لیے کھا۔۔۔

دعا اس وقت کچھ بولنے کے قابل نا تھئ۔۔۔۔

اچھا تو پھر کیا فیصلہ ھوا تمھارا ؟؟؟

معراج نے جان کر بھی انجان بنے کی کوشش کی۔۔۔

لے آنا اپنی جھوٹی برات میری میت کو ساتھ لے جانے!!!!!!!!

دعا نے کہہ کے فون بند کیا اور زور سے زمین پر دے مارا۔۔۔۔

میں تمھیں کبھی معاف نہیں کروں گی معراج جہانگیر !!!!!!!

کبھی نہیں۔۔۔۔۔۔!!!!!

میں تمھاری زندگی کو جہانم بنا دوں گی۔۔۔۔۔

دعا نے روتے دوتے ٹوٹے دل اور بےبس ھوتے اپنے انسو پونچھ کر کہا۔۔۔۔۔۔

تم رتسو گے محبت کو دیکھنا ایک دن تم تڑپو گے۔۔۔۔

پھر دعا اٹھی اور جانماز اٹھا کر نماز ادا کی وہ دعا مانگتے ھوئے ۔روتی رہی ۔۔۔۔بلکتی رہی۔۔۔

اپنے اللہ سے مدد مانگتی رہی۔۔۔۔!!!!!!!!

یہ کیسا نظام ھے میرے رب ؟؟؟؟ یہ ملک یہاں کے لوگ تو یہ بتا ہم کس سے مدد مانگیں ؟؟

یہ ایک اسلامی ملک ھونے کہ باوجد ایسا ملک ھے جہاں اپنے حق کے لیے لڑنے والے کے پاس بہت سارہ پیسہ اور طاقت ھونا ضروری ھے۔۔۔۔۔

پیسے کی طاقت ایمانداری سے زیادہ ھے۔۔۔۔

کوئ مظلوم کس کے سہارے پر جیئے !!!!!

دعا اس وقت حد سے زیادہ بے بس تھی۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اگلے ہی دن جہانگیر صاحب اور بریرہ بیگم نے اکر شادی کی تاریک پکی کردی تھی۔۔۔۔۔پہلے شادی کی تاریک ایک ماہ کے بعد کی طے پائ تھی۔۔۔لیکن معراج کہ جلدی کی وجہ سے تاریک ایک ماہ کے بجائے دو ہفتوں میں اگئ تھی۔۔۔۔

وہ بھی احمد صاحب کے بے پناہ اسرار کے بعد ان کو دو ہفتے ملے تھے۔۔۔۔

احمد صاحب دعا کو کھالی ہاتھ رخصت نہیں کرنا چھاتے تھے اس لیے وہ اپنی حثیت کے مطابق دعا کا جہیز بنانا چھاتے تھے۔۔۔۔جبکہ احمد صاحب کے لیے یہ شادی فخر کا بعض نا تھی اور نا انکی پسند کی شادی تھی لیکن پھر بھی وہ اپنی بیٹی کو کھالی ہاتھ بھیجنا نہیں چھاتے تھے۔۔اور اب تک انھوں نے اس بات کا زکر اپنے خاندان میں کسی سے نہیں کیا تھا۔۔۔

وہ جانتے تھے کے انکی بہن ان سے ہمیشہ کے لیے خفا ھوجائیں گی۔۔۔۔۔۔۔

احمد صاحب حد سے زیادہ اداس تھے۔۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

دعا ان لوگ کے سامنے انا نہیں چھاتی تھی اس لیے معراج کے منع کرنے کے باوجود کالج چلی گئ تھی۔۔۔۔۔۔

جب معراج کو اس بات کا علم ھوا تھا تو وہ فورن اپنے گھر سے نکل کر دعا کے کالج پھنچ گیا تھا۔۔۔۔۔

دعا اپنی practicle کلاس میں بیٹھی پڑھ رہی تھی۔۔جب ایک ٹیچر نے اسکو کہا

دعا خان !!!

اپ کو میڈم بلا رہی ھیں۔۔۔۔

اچھا میم میں جاتی ھوں۔۔۔۔

دعا تھوڑی پریشان اٹھ کر میڈم کے آفس میں جارہی تھی۔۔۔۔

MAY I COME IN MADAM ????

دعا نے میڈم کے افس کے باہر کھڑے ھوکر پوچھا۔۔۔۔۔

ہاں بیٹا آو آو !!!!!

میڈم نے اپنی سیٹ سے اٹھ کر دعا کو خوش آمدید کہا تھا۔۔۔۔۔دعا میڈم کہ اس قدر پیار نچھاور کرنے پر خاصی حیران تھی۔۔۔

میڈم اپنے مجھے بلایا تھا ؟؟؟

دعا نے اپنے الجھتے دماغ کے ساتھ سوال کیا۔۔۔

ہاں بچے بلایا تھا۔۔۔۔۔

تم نے ہم سے اتنی بڑی بات آخر کیوں چھپائ ؟؟؟؟؟

میڈم نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔۔

کون سی بات ؟؟؟؟

دعا نے حیرانی سے انکھیں پھیلا کر پوچھا اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ کس بارے میں بات کر رہی ھیں۔۔۔۔

ارے بھئ تم اتنے بڑے گھر کی بہو بنے جارہی ھو اور تم نے کسی کو کان و کان خبر نا ھونے دی۔۔۔۔

میڈم نے خوشی سے کہا تھا۔۔۔

میڈم کے منہ سے یہ بات سن کر دعا کے چہرے کا رنگ ھی اڑھ گیا تھا۔۔۔۔۔

وہ یہ بات کسی سے شیر نہیں کرنا چھاتئ تھی۔۔۔۔سوائے اپنے گھر والوں کے ۔۔۔۔اب تک اس نے یہ بات سیرت تک کو نا بتائ تھی۔۔۔۔تو پھر یہ بات اس کی میڈم کو کیسے پتا چل گئ تھی ؟؟؟

میڈم ایسی کوئ بات نہیں!!!!!

دعا گھبرا سی گئ تھی۔۔۔اور اسنے سوچا تھا کہ وہ اس بات سے صاف انکار کر دے گی۔۔۔۔۔

بس اب ہم سے ۔۔۔تم نہیں چھپا سکتی دعا اپ کو بہت بہت مبارک ھو کہ تم جہانگیر صاحب کی بہو بنے جارہی ھو۔۔۔

پر میڈم ایسی کوئ بات نہیں۔۔۔۔۔

دعا کہ منہ میں ابھی الفاظ ادھے تھے جب پیچھے سے آواز ائ۔۔۔۔

دیکھا میڈم شگفتہ !!!!

میں نے کہا تھا نا دعا مجھ سے ناراض ھے۔۔۔۔۔۔

دعا نے ایک دم پلٹ کر پیچھے مڑ کر دیکھا تھا۔۔۔

تو وہ دروازے کے بیچم بیچ کھڑا مسکرا رہا تھا۔۔۔۔

ارے او او بیٹا !!!

میڈم معراج کو دیکھ کر فورن اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ھوئ تھی۔۔۔

دعا پھٹی پھٹی اور نفرت بھری نگاہ سے معراج کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

جو اس کو دیکھ کر جلانے والی ھنسی ھنس رہا تھا۔۔۔۔۔

میڈم یہ مجھ سے سخت ناراض ھیں اب اپنے خود ھی دیکھ لیا ۔۔۔معراج نے ایک آئ برو اٹھا کر میڈم کی نظر سے بچھ کر دعا کو دیکھ کر ایک انکھ دبائ تھی۔۔۔۔۔۔

معراج کی بات پر میڈم مسکرا دی۔۔۔۔

کیوں دعا ؟؟؟؟

تم کیوں ناراض ھو ؟؟؟

میڈم کا اس سب سے کوئ تعلق تو نا تھا لیکن معراج نے ابھی ابھی ان کے کالج کو ایک بھاری رقم میں donation دیا تھا۔۔۔۔

اس لیے وہ اس وقت کسی بھی چیز کی پرواہ کیے بغیر دعا سے معراج سے ناراضگی کی وجہ جنا چھارہی تھی۔۔۔

میڈم کچھ نہیں میں کلاس میں جاوں میرا خاص practicle چل رہا ھے۔۔۔۔

دعا نے فورن سے کہا۔۔۔۔

ارے تم اب کلاس میں نہیں اب تم۔معراج کے ساتھ جاو گی۔۔۔۔۔

جاو شادی میں کم وقت ھے جاکر shopping کرو۔۔۔۔

پر میڈم ؟؟؟؟؟؟

پر ور کچھ نہیں بس تم اب کلج بھی نہیں انا اپنی شادی کی تیاریوں میں لگو بیٹا۔۔۔۔۔

دعا کو کافی حیرت تھی کہ یہ سب اس کی میڈم بول رہی ھیں۔۔۔۔۔دعا نے ایک نظر سامنے پڑے چیک پر ڈالی تو اسکا دل اندر سے کاٹ سا گیا۔۔۔۔۔۔

دعا یہاں کوئ تماشہ نہیں بنانا چھاتی تھی اس لیے خاموشی سے پلٹ کر جانے لگی۔۔۔۔۔

معراج کے چہرے پر فتحانہ مسکراہٹ تھی۔۔۔

وہ قدم قدم پر دعا کو احساس دلا رہا تھا کہ وہ کس قدر کمزور ھے معراج کے طاقت کے سامنے۔۔۔۔۔۔۔

دعا جب کلاس میں واپس اپنا سامان لینے لوٹی تو کلاس کی تمام لڑکیاں اس کے ہی بارے میں بات کرہی تھی۔۔۔سب جان چکی تھی کہ دعا کو لنے معراج جہانگیر آیا ھے۔۔۔۔۔

سیرت کی حیرت عروج پر تھی۔عائشہ ایک دن پہلے ہی اسلاماآباد چلی گئ تھی۔۔۔۔۔۔۔ہما اج کل کالج نہیں آرہی تھی۔۔۔

دعا ؟؟؟ یہ سب ؟؟؟

سیرت نے حیرت بھری نگاہ سے دعا کو دیکھا جو سامان اٹھا کر اپنے بیگ میں ڈال رہی تھی۔۔۔۔

میں تم سے بعد میں بات کروں گی دعا نے اپنے انسو قابو میں رکھنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔

تمام کلاس اس کے بارے میں بات کر رہی تھی۔۔۔۔

کوئ بول رہا تھا۔۔۔

کہ دونوں کا چکر ھوگا۔۔۔

تو کوئ بول رہی تھی۔۔۔۔صیح پیسے والا بندہ پھاسیا ھے۔۔۔۔

کتنی شریف بنی گھومتی تھی اور نکلی کیا۔۔۔۔۔۔

توبا توبا۔۔۔۔۔

سب کی جلن ان کی باتوں میں واضع تھی لیکن یہ سب الفاظ دعا کے لیے قبالے برداشت نا تھے۔۔۔۔۔

ایک ایک آواز دعا کے دل پر نشان چھوڑ رہی تھی۔۔۔۔۔

دعا نے ایک نظر تمام لڑکیوں کو دیکھا تو وہ سب کی سب چپ ھوگئ اور دعا تیزی سے اپنا بیگ اٹھا کر دوبارہ میڈم کے آفس کی طرف بڑھ گئ۔۔۔

معراج دعا کو دیکھ کر اٹھا اور میڈم کو خدا حافظ بول کر اس کی طرف آیا۔۔۔۔۔

دعا نے ایک نفرت بھری نگاہ اس پر ڈالی۔۔۔۔۔

اہ سو سیڈ کوئ تمھاری نہیں سنتا۔۔۔۔

معراج نے دعا کے پاس اتے ھی ھنس کر اس کی بے بسی کا مزاق اڑیا۔۔۔۔

مس دعا خان۔۔۔۔۔۔

تو پھر اپ جیسی لڑکی مجھ جیسے لڑکے کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ھو ھی گئ۔۔۔۔۔

دعا ابھی کچھ بولنے ھی لگی تھی کہ۔۔۔۔

کالج کی ایک دو لڑکیوں نے معراج کے پاس اکر اسکو ہیلو کہا۔۔۔

جن کا معراج نے خوشی سے جواب دیا۔۔۔۔۔ وجہ دعا کو جلانے کی تھی۔۔۔

معراج فیس بک کا کرش تھا اور تمام لڑکیاں اس کو پسند کرتی تھی۔۔۔وہ اج ان کے کالج میں تھا۔۔۔۔۔سب کی سب اس سے اکر مل۔رہی تھی۔۔۔۔۔

معراج کے پاس کافی لڑکیاں ہجوم کی شکل میں جما ھوگئ تھی۔۔۔

دعا تھوڑی پیچھے کھڑی تھی۔۔اسکو اس سب سے کوئ شگف نا تھا۔۔۔۔ ۔دعا خاموشی سے کھڑی تھی جب معراج نے ایک دم دعا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھما اور باہر کی طرف جانے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔دعا کو تو جیسے کرنٹ سا لگا تھا۔۔۔۔۔

اور تمام لڑکیاں معراج کو اس طرح دعا پر حق جتتا دیکھ کر ایک دم ھی ایک ساتھ ھوکر

اووووووووو بولی تھئ

معراج نے سب ایک مسکان اپنے ھونٹوں پر سجائ تھی۔۔۔

دعا نے ہاتھ چھوڑانے کی کوشش کی پر ناکام رہی ہاتھ مظبوطئ سے تھاما ھوا تھا۔۔۔۔۔۔

کالج کی ایک ایک لڑکی ان دونوں کو مڑ مڑ کر دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔

معراج نے گرے کلر کی پینٹ مھرون کلر کی شرٹ پہن رکھی تھی جس کی آستین اس نے موڑ کر بازوں تک کی ھوئ تو۔۔۔۔

اور اس کے بڑے بڑے طاقتور بازو اس میں سے جھلک رہ تھے۔۔۔ ماتھے پر پڑے بال اور ہلکی بڑھی شیف اس پر جج رہی تھی۔۔۔۔۔اور وہ بے حد وجیہ دیکھائ دے رہا تھا۔۔۔۔جبکہ دعا کالج کے سادہ سے uniform میں بھی بے حد حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔

وہ دونوں ایک ساتھ چاند سورج کی جوڑی لگ رہے تھے کالج میں موجود ہر لڑکی دعا کی قسمت پر رکش کھا رہی تھی۔۔۔۔۔

معراج نے دعا کو گاڑی میں لاکر بیٹھا دیا تھا اور تب تک اسکا ہاتھ نا چھوڑا تھا۔۔اور ساتھ ہی اس کے طرف والے دروازے کو اپنی key مدد سے fix لوک کردیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے دعا کو فرار ھونے کا موقع ھی نہیں دیا تھا۔۔۔ابھی معراج driving سیٹ پر اکر بیٹھا تھا تو دعا نے ایک دم چیخ کر کہا۔۔۔۔

تم کیا چیز ھو اخر ؟؟؟؟؟؟؟

دروزہ نہیں کھولنے کی وجہ سے دعا زیچ ھو کر تقریبن چلائ تھی۔۔۔۔

اس کا لال ھوتا چہرہ معراج نے غور سے دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔

میں بڑی دلچسپ چیز ھوں۔۔ویسے لڑکیاں لڑکوں چیز بولتی ھیں یہ مجھے اج پتا لگا۔۔۔۔ How sweet۔۔۔۔۔!!!!

معراج نے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔

تو دعا کلس کر رہ گئ۔۔۔۔۔

معراج نے اج دعا کو جلانے کی قسم کھا رکھی تھی۔۔۔

معراج نے کار اسٹارٹ کر کے مین روڈ پر نکالی تو دعا کو اس سے عجیب سا خوف محسوس ھوا۔۔۔۔

اس کے فرار کے تمام راستے بند ھوچکے تھے۔۔۔۔۔

یہ تم مجھے کہاں لے جارہے ھو ؟؟؟؟

دعا نے کھڑکی سے باہر ایک انجان راستے کی طرف دیکھا۔۔۔

دعا کو راستے کا اتنا علم نہیں تھا وہ جہاں جاتی عمیر یا احمد صاحب کے ساتھ ھی جاتی تھی۔۔۔ہاں البتہ کالج سے گھر کا راستہ اسکو اضبر یاد تھا۔۔۔۔۔

کہاں لے جارہے ھو ؟؟؟؟؟

دعا کی گھبراہٹ بڑھتی جارہی تھی۔۔۔۔۔

دیکھو اب تو ویسی تم میری بیوی بنے والی ھو تو میں نے سوچا پہلے ھی اسکا فائدہ اٹھا لیا جائے۔۔۔۔۔۔معراج نے دعا کے پاس جکھتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔۔

دور رہو مجھ سے !!!!!!

دعا تقریبن چلائ تھی۔۔۔۔۔۔۔

ابھی کہاں دور مس دعا خان۔۔۔۔۔۔ابھی تو تم ہاتھ ائ ھو۔۔۔۔!!!!!!!!

معراج دعا کی اس کیفیت سے بہت انجوائے کر رہا تھا۔۔۔۔۔دعا کو اس طرح پریشان ھوتا دیکھ کر اسکو اندر اندر مزہ آرہا رہا تھا۔۔۔۔۔

دعا نے گھبرا کر ایک بار پھر لاک کھولنے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔

فضول میں اپنی energy ضائع کر رہی ھو۔۔۔۔۔۔

کوئ فائدہ نہیں۔۔۔۔

معراج کے پاس سے فرار پانا نا مکمن ھے۔۔۔۔۔۔۔سکون سے بیٹھ جاو بلاوجے مجھے غصہ نا دلاو۔۔۔۔۔۔

معراج نے دعا کو گھور کر دیکھ کر کہا۔۔۔۔

دعا کی انکھوں میں موٹے موٹے انسو آرہے تھے۔۔۔۔۔۔۔اور وہ اس طرح سہمی ھوئ تھی۔۔۔جسی کوئ بلی کا بچہ ماں سے بچھڑ کر سہم جاتا ھے ۔۔۔۔۔۔۔

دعا اس سے پہلے کچھ بولتی معراج نے اپنی کار ایک سنسان سی جگہ پر کر روک دی۔۔۔۔

اور مسکرا کر دعا کو دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دعا !!!!!!!!