Zid Junoon Ki Inteha By SA Khanzadi NovelR50423 Zid Junoon Ki Inteha Episode 25
No Download Link
Rate this Novel
Zid Junoon Ki Inteha Episode 25
Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi
بارش زوروں پر تھی اور ہلکے ہلکے اندھیرا بھی ھو رہا تھا۔۔۔۔
معراج کو اندھیرے سے ڈرد لگتا تھا۔۔۔
اور دعا کو گھنے جنگل سے ڈر لگتا تھا
دعا ؟؟؟؟؟؟؟
معراج نے دعا کو پکارا تو دعا نے فورن اسکی طرف دیکھا۔۔۔۔
کیا ھوا ؟؟؟
معراج نے دعا کا سفید پڑتا چہرہ دیکھ پوچھا۔۔۔۔
کچھ نہیں۔۔۔۔!!!!
دعا کو عجیب سا خوف محسوس ھو رہا تھا اور حد سے زیادہ ٹھنڈ بھی لگ رہی تھی۔۔۔۔اسکے چہرے پر صاف نظر آرہا تھا۔۔۔
تمھیں سردی لگ رہی ھے ؟؟؟؟
معراج نے دعا کے ہاتھ کو تھام کر کہا۔۔۔
دعا کا ہاتھ برف سے زیادہ ٹھنڈا ھو رہا تھا۔۔۔۔
نہیں ٹھیک ھوں میں۔۔۔۔!!!
دعا نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا تھا۔۔۔۔
بارش مسلسل تیز سے تیز ھوئ جارہی تھی۔۔۔۔
اندھیرا ہر طرف پھیلتا جا رہا تھا۔۔۔۔
معراج کو اندھیرے کو دیکھ کر وحشت ھو رہی تھی۔۔۔۔اور دعا کی فکر اسکو الگ تھی۔۔۔۔
چلو اب کب تک ہم یہاں کھڑے رہیں گے۔۔۔
معراج نے اپنی جیکٹ اتار کر کہا۔۔۔
اپ یہ کیا کر رہے ھیں۔۔۔
کس قدر ٹھنڈ ھے اور اپ جیکٹ کیوں اتار رہے ھیں ۔۔؟؟
دعا نے فورن فکر مند ھو کر کہا۔۔۔
کچھ نہیں ھوگا مجھے۔۔۔۔۔
ہمیں یہاں رات نہیں ھونی چاھیے۔۔۔۔تمھین حد سے زیادہ سردی لگ رہی ھے مجھے معلوم ھے۔۔۔۔!!!!
معراج کو خود سے زیادہ دعا کی فکر تھی۔۔۔۔
چلو۔۔۔!!!!!
معراج نے دعا کو تھام کر اپنے قریب کیا تھا اور اپنی موٹی جیکٹ دعا کے سر پر ڈال دی تھی۔۔۔۔۔تا کہ وہ بارش میں بھیگے نا۔۔۔اور خود وہ صرف ٹی شرٹ میں تھا۔۔۔۔۔
اپ بیمار ھو جائیں گے پلیز یہ نا کریں۔۔۔۔
دعا نے معراج کو صرف ٹی شرٹ میں دیکھ کر کہا۔۔۔
مجھے اس وقت صرف تمھاری فکر ھے۔۔۔۔
بس۔۔۔
معراج نے گھیری انکھوں سے دعا کو دیکھ کر کہا۔۔۔۔
اور پھر اسکو کندوں سے تھام کر اپنے بازوں کے اثار میں لیا۔۔۔اور جیکٹ اس پر دال کر اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔۔۔۔۔۔
دعا پوری جیکٹ سے دھکی ھوئ تھی۔۔۔
لیکن معراج صرف نام پر ھی ڈھکا ھوا تھا۔۔۔۔
تیز بارش میں وہ بھیگ رہا تھا۔۔بارش بھی ناران کی بارش جو برف سے زیادہ ٹھنڈی تھی۔۔۔
دعا معراج کے ساتھ چلتی چلتی ایک ٹک اسکو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
دعا کی نظر معراج سے نہیں ہٹ رہی تھی۔۔۔
جب ہی ایک موٹا سا پھتر دعا کے پاوں میں ایا تھا
افففف اللہ۔۔۔۔۔
دعا نے روکتے ھوئے کہا۔۔۔۔
کیا ھوا ؟؟؟؟؟
میرے پاوں °° دعا نے درد سے کراتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔
معراج نے فورن جھک کر دعا کا پاوں دیکھا تو اس میں سے خون آرہا تھا۔۔۔۔
اھووو !!! بیٹھو ادھر معراج نے پاس ہی والے پتھر پر دعا کو بیٹھایا تھا۔۔۔اور اب خود پورا پورا وہ بارش میں بھیگ رہا تھا۔۔۔۔
تم بھی پاگل ھو دعا۔۔۔۔کوئ slippers پھنتا ھے کیا۔۔۔دیکھو کتنی زور سے پتھر لگا ھے کتنا خون بہھ رہا ھے تمھارا۔۔۔۔۔۔
معراج نے دعا کے خون کو اپنے رومال سے صاف کرتے ھوئے کہا۔۔۔
دعا ایک ٹک معراج کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
معراج کے چہرے پر واضے دعا کے لیے حد سے زیادہ فکر تھی۔۔۔
معراج جھک کر دعا کے پاوں کو ہاتھ میں لے کر اس پر رومال باندھ رہا تھا۔۔۔۔
زیادہ درد تو نہیں ھو رہا دعا ؟؟؟؟
معراج نے نیچے منہ کرے کرے پوچھا۔۔۔
بہت درد ھو رہا ھے۔۔۔۔دعا نے یہ بات صرد پاوں کے درد سے نا بولی تھی وہ کسی بہت گھیری سوچ میں تھی۔۔۔معراج کا یہ نیا روپ اسکو بہت پریشان کر رہا تھا۔۔۔
دعا کا معراج سے نفرت کرنا آسان تھا۔۔۔۔
لیکن معراج سے محبت کرنا اس کے لیے بہت مشکل تھا۔۔۔۔۔
دعا کے دل میں عجیب سی جنگ چھڑی تھی۔۔۔۔
دعا ؟؟؟
معراج نے اب کھڑے ھو کر کہا۔۔۔
دعا نے معراج کی طرف دیکھا تو وہ بارش میں بری طرح بھیگا ھوا تھا۔۔۔
دعا کے دل میں عجیب سی ٹیس اٹھی تھی۔۔۔۔
دعا ہمیں رات ھونے سے پہلے اوپر واپس جانا ھے تاکہ ہمیں خوئ جیپ مل سکے۔۔۔۔۔
معراج نے ہاتھ تھام کر دعا کو اٹھایا تھا۔۔۔۔۔
اور اسکا ہاتھ تھام کر پھر بڑھ رہا تھا۔۔۔۔
پر دعا کے پاوں میں درد ھورہا تھا وہ چل نہیں پارہی تھی۔۔۔۔۔
لیکن اسنے معراج سے کچھ نا کہا تھا۔۔۔۔۔
افف ° دعا ہلکے سے کرائ تھی جب ہی معراج نے اسکو دونوں بازوں میں اٹھا لیا تھا۔۔۔۔۔
معراج تو پورا کا پورا بھیگا ھوا تھا۔۔۔
لیکن دعا بھی اب کافی حد تک بھیگ چکی تھی۔۔۔۔
پلیز چھوڑیں مجھے میں چل لوں گی۔۔۔
اپ اتنا اوپر کیسے چھڑیں گے۔۔۔مجھے لے کر ؟
دعا !!! چپ کرو۔۔۔۔۔
معراج نے گھیری گھیری انکھوں سے دعا کو دیکھ کر کہا۔۔۔
تو دعا چپ ھوگئ۔۔۔
تقریبن رات ھو ھوئ چکی تھی۔۔۔
اور جتنی خوبوصورت سیف الملوک دن میں لگتی تھی اتنی ہی خطرناک وہ اس وقت رات میں لگ رہی تھی۔۔۔۔
دعا کو ڈر لگ رہا تھا لیکن معراج کی بھاہوں میں اکر اسکا ڈر غائب ھو چکا تھا۔۔۔۔
معراج دعا کو گود میں اٹھائے آہستہ آہستہ پہاڑی چھڑ رہا تھا۔۔۔۔۔
اور دعا معراج کے چہرے کو دیکھ کر اپنے دل میں کہہ رہی تھی۔ ۔
تم سے نفرت تو میں نے آسانی سے کرلی تھی۔۔۔۔پر میں تم سے محبت ؟؟؟
تم کیوں یہ سب کر رہے ھو۔۔۔۔اخیر کیوں۔۔۔۔۔
دعا نے اپنے دل میں سوال کیا تھا۔۔۔
جب ہی معراج نے دعا کو دیکھ کر مسکرا کر کہا۔۔۔۔
ایسے مت دیکھو مجھے۔۔
پیار ھوجائے گا ۔۔۔
دعا نے ایک دم اپنی انکھیں جھکا لی تھی۔۔۔
معراج دعا کو لے کر جب اوپر پھنچا تو وہاں ایک اور مشکل انکا انتیظار کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
معراج نے دعا کو لا کر ایک چھپے میں بیٹھا دیا تھا۔۔۔۔
کافی لوگ واپس جا چکے تھے بس کچھ ہی لوگ وہاں موجود تھے۔۔۔۔
اور جیپ بھی بہت کم تھی۔۔۔۔
دعا تم یہاں بیٹھو میں زارہ جیپ کا پتا کر کے آیا۔۔۔۔۔
معراج دعا کو بول کر سامنے ھی بنی چھوپڑی نما دوکان میں گیا۔۔۔۔
لالا ؟؟؟؟
جیپ بک کروانی ھے ۔۔۔۔!!
معراج نے سامنے بیٹھے ایک بڑی عمر کے آدمی کو دیکھ کر کہا۔۔۔
اپ بیٹھو بیٹا ہم پتہ کرتا ھے۔۔۔۔
بارش کی وجہ سے تمام جیپ واپس جاچکی ھے۔۔۔۔۔
اچھا لالا اپ پتہ کرو میں وہی سامنے بیٹھا ھوں۔۔۔
معراج نے بلکل سامنے بنے ایک لکڑی کے چھتے کی طرف اشارہ کر کے کہا۔۔۔
اچھا ٹھیک ھے بیٹا اپ جاو۔۔۔۔
لالا چائے مل جائے گی۔۔۔اصل میں میری بیوی کو بہت سردی لگ رہی ھے۔۔۔۔
معراج نے جاتے جاتے کہا۔۔۔
بیٹا ہمارا سارہ مال ختم ھوچکا
بس ایک کپ چائے پڑی ھے۔۔۔۔
تم یہ لے جاو ۔۔
خان بابا نے سامنے پڑی چائے معراج کے ہاتھ میں تھاما کر کہا۔۔۔۔۔
شکریہ لالا !!!
معراج نے شکر گزار نظروں سے خان صاحب کو دیکھا پھر چائے کو ڈھک کر وہ بارش میں بھیگتا ھوا دعا کے پاس آیا تھا۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
بلاج !!!
بلاج ؟؟؟؟
رملا نے گھبرا کر بلاج کو جگایا تھا۔۔۔۔
بلاج دعا معراج اب تک نہیں ائے ھیں۔۔۔اب تو رات ھونے والی ھے۔۔۔۔۔
پلیز کچھ کریں۔۔۔۔۔
رملا حد سے زیادہ پریشان تھی۔۔۔۔بلاج سمجھ رہا تھا کہ وہ کچھ دیر تک اجائیں گے۔۔۔اس لیے وہ آرام سے تھا۔۔۔لیکن اب شام کے 6 بجنے کو تھے پر دعا اور معراج کا کچھ پتا نہیں تھا۔۔۔
بلاج وہ صبح کے گئے ھیں۔۔۔اتنا وقت نہیں لگتا۔۔۔۔
رملا بس اب رونے کو تھی۔۔۔۔۔
بلاج بھی فورن اٹھ گیا تھا۔۔۔۔اور اپنا موبئل اٹھا کر معراج کو کال کر رہا تھا۔۔۔
پر دونوں کے موبئبل power off جارہے تھے۔۔۔۔
یا اللہ خیر کرنا۔۔۔۔۔رملا بار بار دعا مانگی جارہی تھی
رملا تم گھر کچھ مت بتانا میں نیچے سے پتا کر کے آتا ھوں۔۔
بلاج بیڈ سے اٹھ کر اب جیکٹ پھن کر کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔۔۔
روحان اور علیان سوئے تھے۔۔۔۔
اس لیے رملا بھی بلاج کے پیچھے پیچھے باہر اگئ تھی۔۔۔۔
رملا اور بلاج نے لوگوں سے پوچھا تو انکو پتہ لگا کہ تمام لوگ واپس اچکے ھیں۔۔۔۔
ابھی رملا اور بلاج کھڑے سوچ ہی رہے تھے کہ کیا کریں تبھی ایک آدمی نے زور سے کہا تھا۔۔۔
بھائ سیف الملوک سے انے والے راستہ بند ھوگیا ھے۔۔۔۔
مسلسل بارش ھونے کی وجہ سے پہاڑی راستہ بہت زیادہ خراب ھوگیا ھے۔۔۔جس کی وجہ سے وہاں سے جیپ میں واپس آنا آسان نہیں ھے۔۔۔۔۔
بلاج اور رملا نے جب ہی بات سنی تو جیسے انکے پیروں سے زمین ہی نکل گئ تھی۔۔۔۔
دونوں حد سے زیادہ شکوک تھے۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
عمیر زارہ دعا کو فون ملاو میرا دل بہت عجیب ھو رہا ھے۔۔۔۔
سمیرا بیگم ابھی ابھی نماز پڑھ کر سمیر کے پاس ائ تھی۔۔۔۔
کیوں امی خیریت ؟؟؟
عمیر نے پریشان ھو کر پوچھا۔۔۔۔
ہاں اللہ کرے سب خیر ہی ھو۔۔۔ بس پتا نہیں کیوں میرا دل گھبرا رہا ھے۔۔۔۔عمیر تم دعا اور معراج کے خیرت پتا کرو۔۔۔۔۔
سمیرا بیگم کے بولنے پر عمیر نے دعا کا نمبر ملایا تو وہ power off گیا۔۔۔۔پھر اسنے معراج کو فون کیا تو وہ بھی poweroff جارہا تھا۔۔۔۔
کیا ھوا ؟؟؟سمیرا بیگم۔کی پریشانی ابھی بڑھی تھی۔۔۔
کچھ نہیں وہ فون نہیں اٹھا رہے امی گھومنے گئے ھیں۔۔۔اپ پریشان نا ھو ۔۔۔رات تو بات ھوئ ھے اپکی ان سے۔۔۔۔
عمیر نے ماں کو تسلی دی تھی۔۔۔
نہیں عمیر۔۔۔میری بچی کسی مصیبت میں ھے۔۔۔۔۔
سمیرا بیگم کی ممتا نے کہا تھا۔۔۔اچھا اپ فکر نا کریں میں بلاج بھائ کو کال کرتا ھوں۔۔۔
عمیرا نے سمیرا بیگم کو کہا۔۔۔۔اور اب بلاج کو فون ملایا تھا۔۔۔
دوسری تیسری بیل میں بلاج نے کال اٹھا لی تھی۔۔۔۔
بلاج سے بات کرنے کے ساتھ ساتھ عمیر کے چہرے کا رنگ بدل رہا تھا۔۔
لیکن وہ منہ سے کچھ اس لیے نہیں بول رہا تھا کیونکہ سمیرا بیگم بلکل سامنے بیٹھی پریشان ھو رہی تھی۔۔۔۔
عمیر نے جب کال بند کی تو وہ خاصا پریشان تھا۔۔۔
لیکن اسنے سمیرا بیگم سے کہا۔۔۔۔
امی آپ پریشان نا ھو اپی اور معراج بھائ ابھی گھومنے گئے ھیں۔۔۔
بلاج بھائ بول رہے تھے وہ دونون جب ائیں گے تو معراج بھائ خود کال کر لیں گے۔۔۔۔۔
عمیر کی بات سن کر سمیرا بیگم کا دل نجانے کیوں یہ بات منے کو تیار نا تھا۔۔۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
معراج جب دعا کے پاس آیا تو دعا سردی سے کانپ بری طرح کانپ رہی تھی۔۔۔۔
اور اسکا سفید چہرہ اب نیلا ھو رہا تھا۔۔۔۔
ھونٹ بری طرح کانپ رہے تھے۔۔۔۔
یہ لو یہ پی لو۔۔۔۔۔
معراج نے دعا کے پاس بیٹھ کر چائے دعا کو تھامائ تھی…..
دعا نے معراج کے ہاتھ سے جب چائے لی تو اسکو محسوس ھوا کہ اسکا ہاتھ دعا سے زیادہ برف ھو رہا تھا۔۔۔۔
اپ کی کہاں ھے ؟؟؟؟؟
دعا نے فورن پوچھا۔۔۔۔۔
میں چائے نہیں پتا۔۔۔معراج نے جھوٹ کہا۔۔۔
معراج کو اب بری طرح چھیکیں آرہئ تھی۔۔۔
کیا ھوا جیپ کا ؟؟
دعا نے چائے کا گھونٹ بھرتے ھوئے پوچھا۔۔۔
وہ بول رہے ھیں ابھی جیپ منگوا رے ھیں۔۔۔۔
ہم۔۔۔۔۔!!!
یہ لیں !!! دعا نے تھوڑی سی چائے پی کر معراج کے اگے بڑھائ تھی۔۔۔۔
سردی بہت ھے !!!
معراج نے بنا کچھ بولے دعا کے ہاتھ سے چائے کا کپ لیا تھا۔۔۔
اور ایک کپ سپ پیا تھا۔۔۔۔۔
پاوں کیسا ھے تمھارا ؟؟؟
معراج نے دعا کے پاوں کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔۔
ٹھیک ھے۔۔۔دعا نے مختصر سے جواب دیا تھا۔۔۔۔۔
کافی اندھیرا ھو گیا ھے۔۔۔
دعا نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔۔۔
ہممم !!! معراج نے مختصر جواب دیا اس وقت اسکا دل بہت عجیب ھو رہا تھا۔۔۔
۔وہ دعا کے سامنے ظاہر نہیں کر رہا تھا پر اس وقت معراج کی طبعیت خراب ھو رہی تھی۔۔۔
بچپن سے اسکو اندھیرے سے ڈر لگتا تھا۔۔۔
اور اندھیرا بھی وہ جو پہاڑیوں کے بیچ میں ھوتا ھے۔۔۔۔۔۔
دعا ؟؟؟؟
معراج نے ایک دم دعا کو پکارا تھا۔۔۔
دعا نے معراج کی طرف دیکھا۔۔۔۔
ڈرنا نہیں میں ھوں تمھارے ساتھ۔۔۔۔
معراج نے دعا کا ہاتھ تھام کر کہا۔۔۔۔اور دعا کے اور پاس ھوا۔۔۔۔۔
دعا کو واقعی اس وقت حد سے زیادہ ڈر لگ رہا تھا۔۔۔۔سیف الملوک پر بڑھتا اندھیرا اسکا دل ڈھلا رہا تھا۔۔۔۔
آس پاس لوگ بہت کم تھے۔۔۔۔
وہاں پر اب صرف وہ لگ موجود تھے جن کی وہاں دوکانیں تھی۔۔۔۔
باقی تمام لوگ واپس جاچکے تھے۔۔۔۔۔۔
بارش اب نا ھونے کے برابر ھو رہی تھئ۔۔۔لیکن سردی بہت زیادہ بڑھ گئ تھی۔۔۔
دعا اور معراج دونون ہی بارش میں بھیگے ھوئے تھے۔۔
اللہ کرے بس جلدی سے جیپ اجائے سب پریشان ھو رہے ھونگے۔۔۔۔
دعا نے کہا۔۔۔۔۔
ہاں بس آتی ھوگی فکر نا کرو۔۔۔
ویسے دعا سوچو اگر اس وقت یہاں وہی دیو آجائے۔۔۔۔۔
معراج کو شرارت سوجی۔۔۔۔
پلیز اپ ایسی باتیں نا کریں۔۔۔
دعا نے جل کر کہا۔۔۔
دیکھو تمھیں وہ کہانی بتائ تھی نا اس نے کہ ایک دیو تھا۔۔۔
جو پری کا عاشق تھا ہم ہم پری تو یہاں ھے۔۔۔راجہ بھی ھے بس دیو کی کمی ھے۔۔۔۔
معراج نے دعا کو دیکھ کر ایک انکھ دبا کر کہا۔۔۔۔۔
دعا ویسی ڈری ھوئ تھی اور اس اندھیری خوفناک جگہ پر دیو کا نام سن کر اسکی انکھوں میں ایک دم ہی آنسو اگئے تھے۔۔۔
اھوو ڈرو نہیں کچھ نہیں ھوگا بس جیپ اتی ھوگی۔۔۔۔۔۔
معراج نے دعا کو تسلی دی تھی۔۔۔
جب ہی سامنے سے خان بابا نے اکر ان کو ایک بری خبر سنائ تھی۔۔۔۔
صاحب جی واپس جانے کا تمام راستہ بند ھو چکا ھے۔۔۔۔۔۔
نا کوئ جیپ اوپر آسکتی ھے۔۔۔
نا کوئ جیپ ادھر سے جا سکتی ھے۔۔۔
بس ایک پیدل چلنے والا ہی راستہ ھے۔۔۔۔۔۔
جس سے لوگ واپس جاتا ھے۔۔۔۔۔
دعا اور معراج دونوں ہی ایک پل کے لیے سختے میں اگئے تھے۔۔۔۔
کککک کیا مطلب اب ہم یہاں سے نہیں جا سکتے ؟
دعا نے بھیگی انکھوں سے معراج کو دیکھ کر روندی آواز میں کہا۔۔۔۔
دعا پلیز تم رو مت میں کچھ کرتا ھوں۔۔۔۔
لالا پیدل جانے کے سوا اور کوئ راستہ نہیں ھے ؟؟؟؟
معراج نے پوچھا۔۔
نہیں بیٹا ہم تو پہاڑی لوگ ھیں۔۔۔ہمیں عادت ھے اپ لوگ کا انا جانا مشکل ھوگا۔۔۔۔
پہاڑی اترنا آسان نہیں ھے وہ بھی اتنی بڑی۔۔۔۔۔
خان بابا نے بات کی واضحت کی۔۔۔
ہممم اچھا۔۔۔۔۔!!!
معراج نے کچھ سوچتے ھوے کہا۔۔۔
معراج پہاڑی نہیں اتر سکتا تھا۔۔۔اور نا دعا کے پاوں کی حالت اس قابل تھی ۔۔۔
اگر وہ یہ قدم اٹھاتا تو ادھے راستے میں پھس جاتا۔۔۔۔
تھوڑی دیر سوچنے کے بعد معراج نے خان بابا سے کہا۔۔۔۔
لالا پھر ایک کام کریں اپ۔۔۔۔
اپ واپس نیچے جاکر جو نمبر میں آپکو دے رہا ھوں انکو کال کر کے بتا دینا کے ہم ادھر پھسے ھیں۔۔
وہ ہمیں یہاں سے نکال لیں گے۔۔۔۔۔
معراج نے بلاج کا visinting card نکال کر خان بابا کو دیا تھا۔۔۔۔۔معراج جانتا تھا کہ بلاج کچھ نا کچھ کر کے انکو ادھر سے نکال لے گا۔۔۔۔
خان بابا نے visiting card لے کر معراج کو اپنی دوکان میں بیٹھنے کو کہا ۔۔۔
بیٹا اپ اور باجی جی میری دوکان میں بیٹھ جاو۔۔۔
میں نیچے جاکر کچھ کرتا ھوں۔۔۔۔خان بابا نے معراج کو تسلی دی تھی اور
چلے گئے تھے۔۔۔۔۔
معراج جب واپس دعا کی طرف پلٹا تو دعا گم سم بیٹھی تھی۔
چلو دعا ادھر چلتے ھیں۔۔۔
معراج نے دعا کو ہاتھ سے تھاما تھا اور اب دونوں اکر خان بابا کی دوکان میں بیٹھ گئے تھے۔۔۔۔۔
خان بابا کی دوکان دوکان کم چھوپڑی زیادہ تھی۔۔۔لیکن باہر کے مقابلے یہاں سردی کم تھی۔۔۔۔۔
باہر اب بہت گھوپ اندھیرا ھوچکا تھا۔۔۔
ان دونوں کے علاوہ دور دور تک وہاں کوئ نا تھا۔۔۔۔
دعا اکر کونے میں بیٹھ گئ تھی۔۔۔۔
جب کہ معراج ادھر ادھر لال ٹین ڈھوند رہا تھا۔۔۔۔
دوکان میں صرف چھوٹی سی موم بتی کی روشنی تھی۔۔۔۔
تبی ہی اسکو دعا کے رونے کی آواز ائ۔۔۔۔
معراج جب موم بتی لے کر دعا کے پاس پھنچا۔۔۔۔
تو دعا بری طرح رو رہی تھی۔۔۔۔۔
دعا ؟؟؟؟
معراج نے اسکو پکارا تھا۔۔۔۔۔
دعا کیا ھوا ؟؟؟؟
معراج نے اسکو کھڑا کر کے اپنے سامنے کیا تھا۔۔۔
ارے پگلی رو نہیں کچھ نہیں ھوگا۔۔۔۔کچھ دیر کی بات ھے پھر بلاج بھای کچھ نا کچھ کردیں گے بابا کو بول کر تم پریشان با ھو ہم یہاں سے نکل جائیں گے۔۔۔۔۔۔
معراج نے دعا کو تسلی دی تھی۔۔۔۔۔
نہیں !!!!
کچھ نہیں ھوگا۔۔۔
دیکھنا ہم مر جائں گے۔۔۔۔۔
دعا نے روتے روتے کہا۔۔۔۔
مجھے بہت ڈر لگ رہا ھے معراج۔۔۔۔۔
ہم یہاں اکیلے ھیں۔۔۔۔
حد سے زیادہ اندھیرا ھے۔۔۔یہاں۔۔۔۔اپکو
اپکو بھی اندھیرے سے ڈر لگتا ھے۔۔۔صبح تک ہم نہیں بچیں گے۔۔۔۔!!!!!
دعا نے معراج کی انکھوں میں دیکھ کر کہا تو معراج نے ایک دم اسکو اپنے ساتھ لگا لیا۔۔۔۔
شیییییی !!!!!
معراج کے مظبوط باھوں میں اکر دعا چپ ھوگئ تھی اور اب اس سے گلے لگ کر بری طرح رو رہی تھی۔۔۔۔
مجھے بہت ڈر لگتا ھے راج
مجھے بہت ڈر لگتا ھے ایسے کہی پھس جانے سے۔۔۔۔
دعا نے معراج کی بھاہوں میں اپنا منہ چھپا کر کہا۔۔۔
دعا میری جان !!!!
میں ھوں نا تمھارے ساتھ !!!
کچھ نہیں ھوگا۔۔۔
میرا وعدہ ھے میں تمھیں کچھ نہیں ھونے دوں گا۔۔۔۔
معراج نے دعا کو اپنے ساتھ لگائے لگائے کونے میں بیٹھایا تھا اور خود بھئ اکر دعا کے ساتھ بیٹھ گیا تھا۔۔
دعا اسی طرح اس کے گلے سے لگی تھی۔۔۔۔
معراج نے اسکو اور مظبوطی سے اپنے ساتھ لگائے رکھا تھا۔۔۔۔۔
اس وقت بس وہ دونون ایک دوسرے کا سہرا تھے ۔۔۔
موم بتی کی روشنی بھی ختم ھو رہی۔۔۔اور اب چھوپڑی میں بھی اندھیرا پھیل رہا تھا۔۔۔۔
دعا کا وجود حد سے زیادہ ٹھنڈا ھو رہا تھا۔۔۔۔۔
معراج بھی بھیگا ھوا تھا۔۔۔۔۔بڑھتا اندھیرا معراج کی حالت خراب کر رہا تھا۔۔۔
ماضی کی ایک یاد اسکو ستانے کو تھی۔۔۔۔
دعا اسکے سینے سے سر ٹکا کر اسکے ساتھ بیٹھی تھی
جب ہی معراج نے !
