Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zid Junoon Ki Inteha Episode 20

Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi

وہ میری ضد تھی جو پوری ھوچکی پھر کیوں اسکی اتنی پرواہ ھے مجھے۔۔۔۔۔

وہ اس وقت کوئ 15وی سگرٹ پی رہا تھا۔۔۔۔

میں تو ہمیشہ سے لڑکیوں سے چیڑتا ھوں۔۔۔۔۔

شروع سے لڑکیاں میرے لیے روئ ھیں۔۔۔۔۔

ٹرپی ھیں۔۔۔۔

میں ہمیشہ مطمئن رہا۔۔۔۔

لیکن اب مجھے کیا ھوگیا ھے۔۔۔۔

مجھے اس سے پیار ؟؟؟؟

معراج نے خود سے سوال کیا تھا۔۔

نہیں

یہ نہیں ہو سکتا۔۔۔

راجہ معراج کو کبھی ایک لڑکی اپنی محبت میں نہیں ہرا سکتی یہ صرف میری ہمدری ھے اسکے ساتھ۔۔۔

معراج نے اپنی سوچ کو جھٹلایا تھا

میں جتنا اسے ہمدری کر رہا ھوں یہ اتنی مجھے باتیں سنا رہی ھے۔۔۔۔۔باتیں تو بہت بڑی بڑی کرتی تھی۔۔۔۔اب کہاں گئ وہ ساری باتیں۔۔۔۔

راجہ معراج سے ٹکر لو گی ہارو گی۔۔۔۔

میں کسی کے لیے نہیں بدلوں گا۔۔۔۔

جسکو بدلنا ھے وہ میرے لیے بدلے گا

دعا نے جو کیا وہ اسکا انجام بھوکت رہی ھے۔۔۔۔۔

میں کیوں فکر کروں۔۔۔۔۔

میں جیسا تھا ویسا ہی رہو گا۔۔۔۔۔

بھاڑ میں جائے ہر چیز۔۔۔

راجہ معراج کو کسی کے لیے درد نہیں ھوتا۔۔۔

۔وہ سوچ سوچ کر تھک چکا تھا اسکو اسکے سوال کے جواب کہی پر نا ملے تھے۔۔۔۔۔۔

اور جو جواب مل رہے تھے وہ ان کو قبول کرنا نہیں چھاتا تھا ۔۔

آخر کو تھا تو وہ بھی ایک ضدی شخص۔۔۔۔۔اپنی سوچوں سے تنگ اکر اس نے اپنے پورانے والے روپ کو اپنانے کا سوچا۔۔۔۔

اس نے گاڑی لا کر ایک کلب کے سامنے روک دی تھی۔۔۔۔۔اس کے تمام دوست اسکا وہاں انتیظار کر رہے تھے۔۔۔۔

شادی کے بعد سے وہ کسی سے نا ملا تھا۔۔۔۔

گاڑی سے اتر کر وہ ھوٹل کے اندر داخل ھوا تھا تو فورن ہی اسے زاضا مل گیا تھا۔۔۔۔۔

اج بھی معراج کی شخصیت ایسی تھی کہ جہاں سے وہ گزتا لڑکیاں پلٹ کر ضرور دیکھتی۔۔۔۔۔۔

اج ڈرک بلیو شرٹ اور وائٹ پینٹ میں وہ بہت وجہہ دیکھائ دے رہا تھا۔۔۔

اھو ہیرو اج بھی ہیرو ھی ھے !!!

کیا حال ھے راجے ؟؟؟

زاضا نے معراج کے گلے لگتے ھوئے کہا۔۔۔

ٹھیک ھوں تو بتا ؟؟؟

راج اسے مل کر الگ ھوا پھر پوچھا۔۔۔۔

فٹ ھوں۔۔۔۔!!!!!

کسی جارہی پھر تیری شادی شدہ زندگی ؟؟؟

دعا بھابی زیادہ تنگ تو نہیں کرتی۔۔۔

راضا نے ھنس کر پوچھا۔۔۔

معراج کو پتا نہیں کیوں زاضا کا اس طرح بولنا اچھا نہیں لگا تھا۔۔۔۔

وہ دعا کا نام جب بھی اپنے دوستوں سے سنتا اس کو برا لگتا جب کہ زاضا نے عزت سے نام لیا تھا لیکن پھر بھی وہ دعا کا نام کسی عام بندے سے سنا پسند نہیں کرتا تھا۔۔۔۔

دیکھ زاضا !!!!!

میری نجی زندگی کو اج کے بعد ڈسکس نا کرنا۔۔۔۔مجھے دعا کو کسی کے ساتھ ڈسکس کرنا ہرگز پسند نہیں۔۔۔۔۔۔

میں نے ہر چیز سے اسکو پاک رکھا ھے۔۔۔۔۔۔اس لیے آئندہ سے خیال کرنا۔۔۔۔

معراج نے بہت سلجھے ھوئے لہجے میں زاضا کو بہت الجھی ھوئ بات سمجھائ تھی۔۔۔۔۔

اوکے اوکے۔۔۔۔۔

چل اندر چال تیرے لیے بہت سارے سرپرائز ھیں راجے !!!!!

زاضا نے بات کا رخ بدلہ تھا۔۔۔۔

چل !!

معراج اور زاضا جب ھٹ میں داخل ھوئے تو راضا نے دوستوں کی ایک بڑی تعداد جمع کر رکھی تھی۔۔۔

ہمیشہ سے معراج پارٹیوں کی جان رہا تھا۔۔۔

اور شادی کے بعد یہ اس کی پہلی پارٹی تھی۔۔۔۔

کوئ بھی شخص معراج کی موجودگی والی پارٹی مس نا کرتا تھا۔۔۔۔

معراج ھٹ کہ اندر داخل ھوا تو اس کے تمام دوست ایک ایک کر کے اس سے ملنے لگے ۔۔۔۔اور شادی کی مبارک باد دینے لگے۔۔۔۔۔

کیا حال ھے راجے ؟؟؟

زیب بھی اکر معراج سے ملا تھا۔۔۔۔

فٹ !!!

معراج نے مختصر سا جواب دیا تھا۔۔۔۔

زیب کو دیکھ کر معراج کو عجیب سا غصہ آتا تھا۔۔۔۔۔

ثانیہ سمیت بہت ساری پرانی دوستیں معراج کی پارٹی میں موجود تھی۔۔۔

لیکن معراج کو سب سے زیادہ حیرت ھما کو دیکھ کر ھوئ تھی۔۔۔۔۔

زاضا یہ یہاں کیا کر رہی ھے ؟؟؟؟

معراج نے فورن زاضا سے پوچھا تھا۔۔۔۔

راجے اب یہ میری گل فرینڈ بن چکی ھے انے کی ضد کر رہی تھی میں نے بلالیا۔۔۔۔۔

زاضا معراج کا خاصا پورانا دوست تھا۔۔۔۔

کیا ھوا تجھے برا لگا راجے ؟؟؟

نہیں خیر ھے !!!

معراج نے صوفے پر جگہ سنبھالتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔

گانوں کا شور اس دن کی طرح عروج پر تھا۔۔۔

معراج کہ زہن میں ایک دم اس دن کی جھلک ائ جس دن یہ پہلی بار دعا سے ملا تھا۔۔۔۔۔

اس طرح کا ایک ھوٹل تھا۔۔۔

اور اسنے اس کو کھری کھری سنائ تھی۔۔۔

پاگل ھے یہ لڑکی !!

معراج نے دل میں سوچا اور اس کے لبوں پر ناچھاتے ھوئے بھی ہلکی سی مسکراہٹ بکھری تھی۔۔۔۔۔

اور یہ مسکراہٹ ہما زیب سمیت ثانیہ نے بھی محسوس کی تھی۔۔۔۔

کیا بات ھے بڑا مسکرایا جا رہا ھے خود کے ساتھ جناب ؟؟؟

ثانیہ نے مسکرا کر پوچھا تھا۔۔۔

۔ہاں راجے !!!!

لگتا ھے دعا

نے بڑا پیار دیا ھے اسے !!!!

زیب جان کر دعا کو لایا تھا۔۔۔۔

زیب کے منہ سے دعا کا نام سن کر معراج کا دماغ ھی آوٹ ھو گیا تھا۔۔۔۔

زیب اب اگر تو نے دعا کا نام اپنے منہ سے لیا میں ادھر ہی تیری زبان کھینچ لوں گا۔۔۔۔۔۔

پہلی بات کے وہ بھابی ھے تیری اور دوسری بات کہ مجھے پسند نہیں میرے علاوہ کوئ دعا کا نام لے سمجھا۔۔۔۔

معراج نے کسی کی پرواہ کیے بغیر زیب کو کہا تھا۔۔۔۔۔

زیب خاموش ھوگیا۔۔۔۔

زیب صرف معراج کی کمزوری پکڑنے کی کوشش کرتا تھا اور معراج کے جزباتی ھونے کی وجہ سے وہ کافی حد تک اسکی کمزوریاں سمجھ بھی چکا تھا۔۔۔۔۔

زیب بظاہر تو خاموش ھوجاتا تھا لیکن دل کے اندر اندر ایک لاوا پکتا رہتا تھا۔۔۔۔۔

ویسے معراج عجیب بات ھے شادی کے دوسرے تیسرے دن ھی تم پارٹی میں اگئے۔۔۔۔

اب کے ہما نے ٹون مارا تھا۔۔۔۔۔

تم میرے منہ نا لگو تو بھتر ھوگا ہما۔۔۔

معراج سب کو منہ پر ھی سناتا تھا۔۔۔۔۔

ہما مسکرا دی۔۔۔۔۔

معراج کا دل اج پہلی بار اس محفل میں نہیں لگ رہا تھا۔۔۔

اس کو رہے رہے کر دعا کا خیال آتا

ہما اور زاضا اب رکس کر رہے تھے۔۔۔۔۔

اور ثانیہ اور دیگر لڑکیاں بار بار اکر اسکو ڈانس کی آفر کر رہی تھی لیکن جانے کیوں وہ اپنی جگہ دھیٹ بنا بیٹھا تھا۔۔۔۔۔

اس کو رہے رہے کر دعا کا خیال آرہا تھا۔۔۔۔اور وہ اپنی اس چیز سے چیڑ رہا تھا۔۔۔۔

اففففف کیا ھوگیا ھے مجھے۔۔۔۔

معراج کو کوفت محسوس ھوئ تھی۔۔۔یہ لڑکی میرے حواسوں پر سوار ھوتی جارہی ھے ۔۔۔۔

سامنے ھوتی ھے تب سکون سے نہیں رہنے دیتی دور ھو تب نہیں رہنے دہتی۔۔۔۔

معراج منہ منہ میں بڑبڑایا تھا۔۔۔۔۔۔

کیا ھوا ؟؟؟

کس کی بات کر رہے ھو۔۔۔۔

ثانیہ نے معراج کو بڑبڑاتے سنا تو پوچھے بنا نا رہے سکی۔۔۔

کسی کی نہیں۔۔۔۔

معراج نے تنگ اکر ویڈ کی سگریٹ اٹھائ تھی لیکن پھر ناجانے کیوں واپس رکھ دی تھی۔۔۔۔۔

زاضا جو ابھی رکس کر کے آیا تھا۔۔۔۔

اس نے معراج کو ویڈ کی آفر کی تھی لیکن معراج نے منع کر دیا تھا۔۔۔۔

لیکن اس وقت اسکا زہن پھٹ رہا تھا۔۔۔

دعا تھی کہ اسکی سوچ سے جانے کا نام ھی نہیں لے رہی تھی۔۔۔۔۔۔

اس نے اپنے دماغ کو سکون میں لانے کے لیے ویڈ کی ایک سگرٹ سلگائ تھی۔۔۔۔

لیکن اسکے بعد وہ ناجانے کتنی سیگرٹس پی گیا تھا !!!!!

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

دعا عیشاء کی نماز پڑھ کر فارغ ھوئ تھی۔۔۔۔معراج کے جانے کے بعد دعا نے اپنی packing کی تھی۔۔۔پہلے اسنے سوچا وہ معراج کی packing نا کرے لیکن جب وہ بور ھوئ تو اس نے بے دلی کے ساتھ معراج کی بھی packing کر دی تھی۔۔۔

کچھ دیر بعد رملا اس کے پاس آگئ تھی packing بھی دونوں نے مل کر ہی کی تھی۔۔۔ اور پھر روحان اور علیان اس کے پاس کھیلنے کے لیے اگئے تھے۔۔۔

جب روحان اور علیان گئے تھے۔۔۔تو دعا balcony میں جانماز بچھا کر ٹھنڈی ھوا میں نماز پڑھ کر اٹھی تھی۔۔۔اور کرسی پر بیٹھ کر چاند کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔

چاند پورا تو نا تھا۔۔۔لیکن کچھ دن بعد ھی پورا ھونے والا تھا۔۔۔۔۔۔

دعا کی انکھیں ایک دم ھی بھیگ گئ تھی۔۔۔۔

کچھ دونوں میں اس کی زندگی کس قدر بدل چکی تھی۔۔۔۔

وہ کہاں سے کہاں اگئ تھی۔۔۔ہر خواب ریزہ ریزہ ھوچکا تھا۔۔۔

خواہشات سولی پر چڑ کر قربان ھوچکی تھی۔۔۔۔

بس بچا تھا تو ایک بے نام سا رشتہ ایک زبردستی کا تعلق۔۔۔۔

دعا کا دل اندر تک زخمی تھا۔۔۔۔

اس کو ایک دم ھی اپنے گھر والوں کی حد سے زیادہ یاد آئ تھی۔۔۔۔

دعا نے دل میں سوچا کہ کاش وہ معراج سے سم اور فون لے لیتی تو اس وقت وہ عمیر سے بات کر لیتی۔۔۔۔۔

وہ ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ اسکو کمرے سے فون بجنے کی آواز ائ۔۔۔

پہلے وہ سمجھی کہ اسکا وہم ھے۔۔۔۔پھر وہ اٹھ کر کمرے میں ائ تو باقئدہ موبئل بجنے کی آواز آرہی تھی۔۔۔

لیکن موبئل کہی سامنے نا تھا۔۔۔۔

عجیب انسان ھے یہ کوئ بھلا اپنا فون بھی گھر بھول کر جاتا ھے۔۔۔۔

دعا کو معراج پر بلاوجے غصہ آیا ۔۔۔۔۔۔

اب میں نوکر ھوں اسکی جو اسکا فون تلاش کروں۔۔۔۔

دعا نے فون کی آواز پر غور کرتے ھوئے تکیے اٹھا اٹھا کر بیڈ پر چیک کیا تھا پھر جب سایئڈ ٹیبل کی draz کھولی تھی تو سامنے ایک مھنگا ترین موبئل پڑا تھا۔۔۔۔۔

دعا نے موبئل ہاتھ میں اٹھایا تو اس کو بڑی حیرت ھوئ تھی۔۔۔۔موبئل پر چمکتا نمبر عمیر کا تھا۔۔ عمیر کا نمبر موبئل میں فیٹ دیکھ کر کافی خوشی ھوئی۔۔۔

اس نے بنا ایک پل لگائے کال اٹھائ تھی۔۔۔۔۔

ہیلو

عمیر !!!!!

کیسے ھو ؟؟؟؟؟

دعا کی خوشی آواز سے جھلک رہی تھی۔۔۔۔۔

آپی میں بلکل ٹھیک ھو اپ کیسی ھیں۔۔۔۔

کب سے فون کر رہا ھوں اپ فون کیوں نہیں اٹھا رہی ؟؟؟

عمیر نے دعا سے پوچھا تھا۔۔۔۔

مجھے نہیں پتا تھا معراج اپنا فون گھر پر بھول گئے ھیں۔۔۔۔۔

اھو ھو آپی میں تو تمھارے نمبر پر کر رہا تھا معراج بھائ کے تھوڑی۔۔۔عمیر دعا کی بات نا سمجھا تھا۔۔۔۔

میرا نمبر ؟؟؟

میرا کون سا نمبر ؟؟؟

دعا نے حیرانی سے پوچھا تھا۔۔۔

یہ اپکا ہی تو نمبر ھے آپی!!!

معراج بھائ نے دیا تھا۔۔۔کہ جب بھی مجھے اپ سے بات کرنی ھو یا امی اور نمرہ کو کرنی ھو تو وہ اپ کے پرسنل نمبر پر کر کے بات کر لیں۔۔۔

کیوں اپکو نہیں بتایا معراج بھائ نے ؟؟؟

عمیر کی آواز میں اب تشویش تھی۔۔

او!!!!

ہاں بتایا تھا میرے زہن سے نکل گیا سوری

سوری۔۔۔۔

دعا نے فورن بات سنبھالی تھی۔۔۔

اچھا !!!

ویسی آپی معراج بھائ بہت اچھے ھیں۔۔۔

عمیر نے معراج کی تعریف کی تو دعا نے ایک دم بات بدل دی۔۔۔۔

اچھا کیسے ھو تم ؟؟

گھر میں سب کیسے ھیں ؟؟؟

امی نمرہ عمر ؟؟

اور ابو ؟؟؟

مجھے تم سب کی بہت یاد آرہی تھی عمیر۔۔۔

دعا نے ایک سانس میں اتنے سارے سوال کیے تھے۔۔۔۔

آپی اپکی کمی کو اب تک ہم بھی پورا نہیں کر پائے ۔۔۔اپ کے جانے کے بعد سب کچھ ھی بدل گیا ھے۔۔۔۔۔

اب اس گھر میں کوئ ھنستا ھی نہیں۔۔۔۔۔

خیر اپ یہ سب چھوڑیں۔۔۔مجھے سن کر بہت اچھا لگا کہ اپ اور معراج بھائ ہنی مون پر جار رہے ھیں۔۔۔۔۔

عمیر نے خوشی کا اظہار کیا تھا جو دعا کا زارہ اچھا نا لگا تھا۔۔۔۔

تمھیں کس نے بتایا۔۔۔۔؟؟؟؟ اور ہاں

عمیر ھنی مون نہیں ھے یہ بس بلاج بھائ کے ساتھ ایک چھوٹا سا سفر ھے میرا تو دل نہیں چھا رہا ۔۔۔۔

دعا نے اپنے بھائ کو اپنے دل کی بات باتئ تھی۔۔۔

مجھے معراج بھائ نے کہا تھا کہ اپ لوگ جا رہے ھیں۔۔۔۔عمیر نے بتایا۔۔۔

اچھا پر میرا دل نہیں ھے عمیر بلکل!!! دعا نے بے دلی سے کہا۔۔۔

ارے اپی کیا ھوگیا اپ کو ؟؟

جانا چھائے اپکو۔۔۔

عمیر نے فورس کیا تھا۔۔۔

تم وہ سب چھوڑو مجھے ابو کے بارے میں بتاو عمیر ؟؟؟

اپی ابو بھی ٹھیک ھو جائیں گے اپ فکر نا کریں۔۔۔۔

انشاءاللہ کچھ وقت کی بات۔۔۔۔ابو اپ سے زیادہ ناراض نہیں رہے سکتے اور جب ابو کو یہ پتا لگے گا کہ اپ معراج بھائ کہ ساتھ اتنی خوش ھیں تو وہ خود با خود ٹھیک ھو جائیں گے۔۔۔۔

عمیر نے اتنی آسانی سے بول دیا تھا کہ معراج کے ساتھ دعا خوش ھے۔۔۔

دعا کے دل میں ایا کے وہ عمیر کو چیخ چیخ کر بتائے کہ وہ خوش نہیں ھے عمیر!!!

پل پل مرتی ھے۔۔۔۔دعا دل میں سوچتے ھوئے خاموش ھوگئ تھی۔۔۔۔

کیا ھوا اپی اپ سن رہی ھیں نا ؟؟؟

عمیر کی آواز نے دعا کی سوچ توڑی تھی۔۔۔۔۔

اچھا یہ امی اور نمرہ بھی اپ سے بات کریں گی۔۔۔۔

پھر دعا اپنی ماں اور بہن سے باتوں میں لگ گئ۔۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆▪☆☆▪

معراج نے اب تک ویڈ کی 8 9 سیگرٹ پی لی تھی۔۔۔اسکی ہمیشہ سے عادت تھی کہ جب وہ شروع ھوتا تھا تو نشے کے آخری منزل تک جاتا تھا۔۔۔۔

اج وہ اس لیے ھی نہیں پی رہا تھا کیونکہ اس کو گھر جلدی جانا تھا۔۔۔۔۔

اور وہ حد سے زیادہ نشے میں اپنے کافی حد تک ھوش کھو دیتا تھا ۔۔۔

اج بھی یہ ہی ھوا تھا۔۔۔۔

معراج اس وقت اپنے تمام ھوش کھو چکا تھا اس وقت وہ نشے کی آخر منزل کو چھو رہا تھا۔۔۔۔

جہاں انسان کو اپنا اپ ھوا میں اڑتا ھوا محسوس ھوتا ھے۔۔۔۔۔

معراج کی آنکھیں مسلسل نشہ کرنے کی وجہ سے حد سے زیادہ لال ھو رہی تھی۔۔۔۔۔

ہما بھی اکر معراج کے ساتھ ھی بیٹھی تھی ۔۔۔۔

اور وہ بھی اس وقت نشے کی حالت میں تھی۔۔۔

معراج !!!!!

ہما نے اپنی نشیلی آواز میں معراج کو پکارا تھا۔۔۔۔۔

بولو ؟؟؟؟؟

معراج کی آواز میں بھی حد سے زیادہ نشہ تھا۔۔۔۔

مجھے تم سے کچھ بات کرنی ھے۔۔۔۔

کیا ہم دونوں ادھر چل سکتے ھیں ؟؟؟؟

ہما نے ایک اور بند ھٹ کی طرف اشارہ کر کے کہا تھا۔۔۔۔

مجھے کوئ بات نہیں کرنی۔۔۔۔۔

معراج بول کر اٹھا تھا اور ھٹ سے باہر نکل کر ھوٹل کی دوسری طرف آگیا تھا۔۔۔۔

جہاں سے سمندر کا کنارہ ٹکرا رہا تھا۔۔۔

معراج اکر کھڑا ھوکر سمندر کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

ٹھندی ٹھندی ھوا اس کے منہ کو چھو رہی تھی۔۔۔۔

اس نے انکھیں بند کر کے ایک گھیری سانس اندر لی تھی۔۔۔۔۔۔

وہ اپنا ایک ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈال کر کھڑا تھا اور دوسرا ہاتھ ھٹ کی چھوٹی سی دیور پر رکھا تھا۔۔۔۔۔

معراج انکھیں بند کر کے سکون تلاش کر رہا تھا ۔۔۔

وہ سکون کا ترسا ھوا۔۔۔۔تھا۔۔۔

جب ھی اسکو محسوس ھوا تھا کہ کوئ نرم ہاتھ اسکے بازو سے ھوتے ھوئے اپ اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ پھیر رہا تھا۔۔۔

معراج نے فورن اپنی انکھیں کھولی تھی۔۔۔۔تو سامنے ہما کھڑی تھی۔۔۔۔

معراج ابھی کچھ بولتا اسے پہلے ہما معراج کے بے حد قریب اکر کھڑی ھوگئ تھئ۔۔۔۔

وہ اس وقت معراج کے بلکل روبارو کھڑی اپنے تمام فاصلے ترک کرچکی تھی۔۔۔۔۔

معراج جو اس وقت حد سے زیادہ نشے کی کفیت میں تھا ایک دم اس سب کے لیے تیار نا تھا۔۔۔۔۔

معراج نے اپنی نشے سے دھوت ھوتی انکھوں سے ہما کو دیکھ کر نشیلی آواز میں کہا

ہما!!!!

اششش !!!!!!!!

ہما نے معراج کے لبوں پر انگلی رکھی تھی۔۔اور اب اپنے ہاتھ معراج کے چہرے پر رکھے تھے۔۔۔اور اپنی انکھیں بند کی تھی۔۔۔۔

ہما کے لیے یہ بات کوئ خاص بات نا تھی۔۔۔وہ جس سرکل میں رہیتی تھی وہاں یہ ہی ھوتا تھا۔۔۔لڑکیاں لڑکے نشے میں دھوت ھوکر اپنی پاکیزگی کو اپنے ہاتھوں سے اگ لگاتے تھے۔۔۔۔۔

لڑکیاں خود اپنی حیا کا جنازہ نکلتی تھی ۔۔۔۔۔۔اور لڑکے ان کی اس حرکت سے فائدہ اٹھاتے تھے۔۔۔معراج بھی انھی لڑکوں میں سا تھا۔۔۔۔۔۔اس لیے ہما کو یہ حرکت کرنے میں کوئ روکاوٹ پیش نا ائ تھی۔۔۔۔۔

وہ بس معراج کو حاصل کرنا چھاتی تھی۔۔۔۔اور اسکو حاصل کرنے کے لیے کوئ بھی حد پار کر نے کو تیار تھی۔۔۔۔

ہما نے اپنی انکھیں بند کر کے معراج کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں سے تھما تھا معراج جو اس سب کو سمجھ نا پایا تھا اور نشے میں تھا اس لیے اپنے اپ کو دھیرے دھیرے ہما کے حوالے کر رہا تھا۔۔۔۔۔

معراج کو ہما اپنے مزید پاس آتی دیکھائ دی تو معراج نے بھی آنکھیں بند کرلی !!!!!!

لیکن انکھیں بند کرتے ھی اسکی آنکھوں کے سامنے ایک پاکیزہ وجود آیا تھا۔۔۔۔۔۔

جو اس کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

دعا نے عمیر اور نمرہ وعیرہ سے کوئ دو گھنٹے بات کی تھی۔۔۔۔اور اب وہ خاصی مطمئن اور پر سکون تھی۔۔۔۔۔

دعا نے جب گھڑی پر نظر ڈالی تو گھڑی میں رات کے دو بج رہے تھے۔۔۔۔۔۔دعا اٹھی اور اکر dressing table کے سامنے کھڑی ھو کر اپنے بالوں میں برش پھیرنے لگی۔۔۔۔۔۔۔

عجیب انسان ھے یہ ۔۔۔۔

مجھے سمجھ نہیں اتا بلکل بھی۔۔۔۔۔

عمیر سے بات کی بعد دعا کے دل میں معراج کے لیے اچھائ کی ایک چھوٹی سی کرن اوبھری تھی۔۔۔۔۔

چلو کچھ تو اچھا ھے اس میں۔۔۔۔۔!!!

دعا نے دل میں سوچا۔۔۔۔

اور پھر اپنے بالوں کی پونی باندھ کر اپنی جگہ پر اگئ سونے۔۔۔۔۔

لائٹس اف کر کے جب وہ لیٹی تو اس کو ایک دم ہی محسوس ھوا تھا جیسے کچھ غلط ھونے جا رہا ھے۔۔۔۔

پتا نہیں اب تک کیوں نہیں ائے یہ موصوف ؟؟؟

دعا کہ منہ سے ایک دم ھی نکلا تھا۔۔۔اپنے گھر والوں سے بات کرنے کے بعد اسکا موڈ خاصا اچھا ھوا تھا۔۔۔

دعا نے اپنی گھبراہٹ کے بعد سوچا۔۔۔۔

اور پھر لیٹ کر کافی دیر معراج کے متعلق سوچنے لگی۔۔۔۔

وہ سوچنا نہیں چھاتی تھی پر سوچ بار بار وہی جارہی تھی۔۔کبھی کبھی انسان کی سوچ اس کے بلکل مختلیف چلتی ھے ۔۔۔اور انسان مجبور ھوکر وہی سوچنے لگتا ھے جو وہ نہیں سوچنا چھاتا ۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

معراج کی انکھیں بند ھوتے ھی اسکو ایک پاکیزہ وجود نظر ایا تھا۔۔۔۔۔

وہ پاکیزہ وجود جو اللہ نے اس کے لیے حلال بنایا تھا۔۔۔۔

جو حد سے زیادہ پاک تھا۔۔۔

معراج نے ایک پل میں ھی انکھیں کھول لی تھی۔۔۔۔

ہما کی انکھیں بند تھیں اور بس وہ ایک غلط قدم اٹھانے جا ہی رہی تھی۔۔۔

کہ معراج نے ایک زور دار جھٹکے سے ہما کو۔پیچھے ڈھکیلا تھا۔۔۔۔۔

ہما نے خود کو گیرتے گیرتے سنبھالا تھا۔۔۔۔

معراج ؟؟؟؟؟

ہما کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا اور اسکا سارہ کا سارہ نشہ چھو منتر ھوگیا تھا۔۔۔۔۔

ھوش میں ھو تم ؟؟؟؟؟

تمھاری ہمت کیسے ھوئ یہ گھٹیا حرکت کرنے کی ؟؟؟

معراج پوری قوت سے چیخ رہا تھا۔۔۔۔

ہما کے لیے معراج کا یہ روپ بلکل نیا تھا۔۔۔

وہ پھٹی پھٹی نگاہ سے معراج کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔

وہ سمجھتی تھی کہ معراج کو حاصل کرنے کا صرف ایک یہ ہی طریقہ ھے۔۔۔۔۔

معراج یہ سب پہلی بار تو نہیں ھو رہا!!!

ہما نے ڈھٹائ سے کہا تھا۔۔۔۔

پہلے میں شادی شدہ نہیں تھا۔۔۔۔۔اب میں شادی شدہ ھوں۔۔۔

معراج نے غصے سے کہا تھا۔۔۔۔

میں جانتی ھوں اچھی طرح جو شادی تم نے کی ھے۔۔۔۔۔

تمھارے لیے یہ کوئ بڑی بات نہیں ھے معراج۔۔۔۔

کیا ھوا تم مجھ سے کیسی بات پر خفا ھو کیا ؟؟؟

ہما ایک بار پھر معراج کے پاس اکر پوچھ رہی تھی۔۔۔

میں تم سے کیوں خفا ھوں گا ؟؟؟؟؟

تم پاگل ھو ہما۔۔۔۔۔

تمھیں شرم انی چاھئے میں کسی اور کا شوہر ھوں اب ۔۔۔۔

معراج خود نہیں جانتا تھا وہ یہ سب کیوں بول رہا تھا۔۔۔۔

اہ شوہر ؟؟؟

تو تم دعا کے لیے یہ سب۔۔۔۔وہ تو گھر ھے اسکو کیا پتہ اس سب کا ؟؟؟

ابھی تو مزے کا وقت ھے معراج۔۔۔۔۔۔!!!

اور کس شادی کی بات کر رہے ھو تم معراج ؟؟؟؟

کس شادی کی ؟؟؟

وہ شادی جس کا کوئ وجود نہیں ؟؟؟

وہ شادی جس میں اب تمھاری بیوی نے تمھیں تمھارے شوہر ھونے کے حق نہیں دیے ؟؟؟

اب تک اسنے تمھیں اپنا شوہر نہیں مانا تو کس طرح کی شادی ھے یہ تمھاری ؟؟؟

میں جانتی ھوں دعا تمھیں وہ سکون کبھی نہیں دے سکتی جو سکون میں تمھیں دے سکتی ھوں۔۔۔۔

معراج۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دعا اور میرا کیا مقابلہ دعا تو میرے پیر کی !!!!

ہما کے سر پر عجب جنون سورا تھا۔۔۔۔وہ ایک بار پھر بولتے بولتے معراج کا ہاتھ تھامنے ہی لگی تھی۔۔۔

کہ معراج نے پوری طاقت سے ایک زور دار جھٹکا ہما کو دیا تھا۔۔۔

اور اب کے ہما جاکر سیدھا زمیں پر گیری تھی۔۔۔۔

دعا کے بارے میں اپنے گندے منہ سے ایک لفظ اور نکالا تو جان سے مار دوں گا۔۔۔۔

دعا اور تمھارا کیا مقابلہ ٹھیک کہا تم نے ۔۔۔۔

دعا ایک پاکیزہ لڑکی ھے۔۔۔۔۔جو اپنی حیا کو چھپانا جانتی ھے۔۔۔۔

اور تم ایک بے حیا لڑکی کو جو اپنی حیا کو خود گیر مرودں کے سامنے پیش کرتی ھو۔۔۔۔۔۔

تمھیں کیا لگتا ھے مرد صرف اس چیز پر مرتا ھے ؟؟؟؟؟

لعنت بھجتا ھوں میں تم پر ہما۔۔۔۔۔

لعنت!!!

میری دعا ایک پاک صاف لڑکی ھے۔۔۔۔۔۔اس کو اج کے بعد اپنے اپ نے مت ملانا ورنہ تمھارے حلق سے زبان کھینچ لوں گا۔۔۔۔۔۔

معراج نے انگلی اٹھا کر ہما کو warn کیا تھا۔۔۔۔۔

اور تیزی سے ہٹ سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔۔

ہما وہی زمیں پر بیٹھی حد سے زیادہ غصے اور جنون کی کفیت میں تھی۔۔۔۔

تم نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا معراج۔۔۔۔

تم نے ہما حسن کے ساتھ اچھا نہیں کیا ۔۔۔۔

دیکھتی ھوں اب میں بھی کب تک۔ٹکتی ھے تمھاری دعا کی پاکیزگی۔۔۔۔۔۔!!!!!

ہما نے کھڑے ھوکر جنون سی کیفیت میں کہا تھا۔۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆▪▪▪▪▪☆☆☆☆☆☆☆

معراج کو حیرت ھو رہئ تھی کہ اسکو اخر ھو کیا گیا ھے۔۔۔۔۔۔

اخر یہ لڑکی میری سماعت میں کیوں چھپ گئ ھے۔۔۔۔۔

معراج اس وقت کچھ عجیب و غیریب کیفیت میں تھا۔۔۔۔

اسکو ہما کا وہ جملہ اندر تک جاکر لگا تھا۔۔۔۔۔

تمھاری دعا تمھیں وہ سکون کبھی نہیں دے سکتی جو میں دے سکتی ھوں۔۔۔۔

اس نے زور سے غصے میں car کے staring پر ہاتھ مارا تھا۔۔۔۔

اج میں دعا سے زبردستی اپنے تمام حقوق لوں گا۔۔۔۔

معراج نے اپنے زہن میں سوچ لیا تھا اور تیز رفتاری سے گاڑی بھگاتا ھوا جہانگیر مینش پھنچا تھا۔۔۔۔۔

گاڑی کھڑی کر کے وہ سیدھا اپنے کمرے کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔

کمرے میں داخل ھوا تو کمرے کی تمام لائٹس آف تھی۔۔۔۔

بس دعا کا side table کا lamp کھولا تھا۔۔۔

دعا بیڈ پر سوئ ھوئ تھی۔۔۔۔

معراج دھیرے دھیرے قدم بڑھاتا دعا کے پاس پھنچا تھا۔۔۔۔۔۔۔

اور !!!