Zid Junoon Ki Inteha By SA Khanzadi NovelR50423 Zid Junoon Ki Inteha Episode 32
No Download Link
Rate this Novel
Zid Junoon Ki Inteha Episode 32
Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi
وہ پچھلے دو گھنٹوں سے نمرہ کو منا رہا تھا کہ نمرہ اب اس سے بلکل اکیلی ملے۔۔۔۔نمرہ اس سے ایک ہی دفعہ ملنے گئ تھی اور وہ بھی وہ اپنے دوست کے ساتھ گئ تھی۔۔۔۔
میں اپ کو پہلے بول چکی ھوں زیب
مجھے یہ سب حرکتیں پسند نہیں ھیں۔۔۔۔اگر اپ کو میں اتنی ہی پسند ھوں تو اپ میرے گھر اپنا رشتہ بھیج دیں۔۔۔۔بس اس کے علاوہ مجھ سے کوئ امید نہیں رکھیے گا۔۔۔۔
نمرہ نے اپنی بات کر کے فون بند کر دیا تھا۔۔
زیب نے زور سے موبئل بیڈ پر مارا تھا۔۔۔۔
بڑی تو بڑی چھوٹی بھی بے انتھاء ضدی نکلی ۔۔۔۔زیب جو چھا رہا تھا نمرہ اس کے لیے مان نا رہی تھی۔۔۔۔
چھائے جو کرنا پڑے نمرہ میں معراج کو برباد کرنے کے لیے ہر قدم اٹھاوں گا۔۔۔۔۔
زیب نے سیگرٹ منہ سے لگائ اور ایک کش لے کر سر کرسی کی پشت سے ٹکا دیا۔۔۔۔۔
نمرہ فون بند کرنے کے بعد کسی گھیری سوچ میں تھی۔۔۔وہ اچھے سے جانتی تھی کے جو وہ کر رہی ھے وہ ٹھیک نہیں ھے۔۔۔۔وہ بری نہیں تھی۔۔۔بس معصوم تھی۔۔۔وہ ان سب میں پھسنا نہیں چھاتی تھی پر کچی عمر نے اسکو ان سب میں پھسا دیا تھا۔۔لیکن تھی وہ دعا ہی کی بہن وہ جانتی تھی کہ عورت کی عزت کیا ھے۔۔۔۔
جو مرد عورت سے سچی محبت کرتا ھے وہ کبھی اسکو تنھائیوں میں ملنے کو نہیں کہتا وہ یہ بات جانتی تھی۔۔۔لیکن زیب کی پیار بھری باتوں نے نمرہ کے دل میں اسکی محبت پیدا کردی تھی۔۔۔لیکن وہ محبت اپنے باپ کی عزت سے زیادہ نہیں تھی۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
معراج جب نھا کر نکلا تو وہ سمجھا دعا کمرے میں نہیں ھے۔۔۔ اسلیے وہ بنا شرٹ پھنے صرف پینٹ پھن کر باہر آگیا تھا۔۔۔
جو شرٹ وہ لے کر گیا تھا اسکا بٹن ٹوٹا ھوا تھا۔۔۔۔۔
اس لیے وہ بنا شرٹ کے باہر آیا تھا۔۔۔۔
اور الماری سے اپنی دوسری شرٹ نکال رہا تھا۔۔۔
تبھی دعا balcony سے کمرے میں داخل ھوئ تھی۔۔
ارے اپ ؟؟
دعا نے balcony سے اکر کہا تھا کہ معراج نے فورن اسکو دیکھا تھا۔۔۔۔
معراج کو اس طرح دیکھ کر دعا حد سے زیادہ شرمندہ ھوئ تھی اور فورن منہ موڑ کر کھڑی ھوگئ تھی۔۔۔جب کہ معراج ویسی کا ویسی گیلے بال لیے کھڑا تھا۔۔۔۔
آپ کو شرم نہیں اتی ؟؟؟
دعا نے معراج کی طرف بنا دیکھے کہا۔۔۔۔
کس بات کی شرم ؟؟معراج نے ڈھٹائ سے کہا۔۔۔
کوئ اس طرح بنا کپڑے پھنے کمرے میں °°چی دعا کہتے کہتے چپ ھوئ۔۔۔۔
معراج کو ایک دم زور سے ھنسی آئ۔۔۔۔
محترمہ دعا خان۔۔۔
یہ میرا اپنا کمرہ ھے میرا جیسے دل ھوگا ویسے آوں گا۔۔۔
معراج اب دعا کی شرم سے محظوظ ھو رہا تھا۔۔۔۔۔
اففففف میں بھی کس کو بول رہی ھوں دعا نے سر پر ہاتھ مار کر کہا تھا۔۔۔
اور جانے کے لیے بڑی تھی۔۔۔
تبی معراج کو شرارت سوجی تھی۔۔۔اور اسنے وہی بٹن ٹوٹی شرٹ دوبارہ پہن لی تھی۔۔
رکو دعا ؟؟
معراج نے کمرے سے باہر جاتی دعا کو روکا تھا۔۔۔
جی فرمائیں۔۔۔۔؟؟
دعا نے معراج کو بنا دیکھے کہا تھا۔۔۔
وہ یار میری شرٹ کا بٹن لگا دو گی۔۔۔۔۔
مجھے یہ ہی شرٹ پھن کر جانی ھے۔۔۔
معراج نے یہ بات صرف دعا کو اپنے پاس لانے کے لیے بولی تھی۔۔۔۔۔
دعا نے پلٹ کر معراج کو دیکھا تھا تو معراج شرٹ پھن چکا تھا۔۔۔۔
لیکن اپنی شرٹ کے بٹن بند نا کیے تھے۔۔۔۔
آپ پلیز کوئ اور شرٹ پھن لیں۔۔۔دعا نے معراج کے پاس نا جانا پڑے اس لیے کہا پر وہ بھی معراج تھا۔۔۔۔
مجھے یہ ہی والی پھن کر جانی ھے۔۔۔۔
معراج نے فورن شرارت سے کہا۔۔۔
اففف اچھا لائیں مجھے شرٹ اتار کر دیں۔۔۔۔
دعا نے کہا اور ساتھ ہی اگے بڑھ کر سائیڈ ٹیبل سے سوئ اور دھگے والا بوکس نکالا۔۔۔۔اور معراج کے پاس ائ اور بولی دیں ؟؟
کیا دوں ؟؟؟
معراج نے شرارت سے پوچھا۔۔۔۔
اپنی شرٹ اتار کر دیں۔۔۔
دعا کا مطلب تھا کہ باتھ روم جاکر شرٹ اتار کر اسکو دیں۔۔۔۔
ابھی تو محترمہ کو شرم آرہی تھی اور اب خود ہی میری !!!!
معراج نے شرارت سے دعا کو آنکھ مار کر کہا۔۔۔
توبا
توبا۔۔۔
میرا وہ مطلب نہیں تھا۔۔۔۔میرا مطلب تھا کہ۔۔۔
دعا نے شرمندہ ھوکر کہہ ہی رہی تھی کہ معراج زور سے ھنس دیا۔۔۔۔
مجھے دیر ھو رہی ھے پلیز تم ادھر ہی لگا دو ۔۔۔۔۔
معراج نے اسکے قریب ھوکر کہا۔۔۔۔۔
جلدی کرو۔۔۔۔۔۔
افف اچھا۔۔۔دعا نے چیڑ کر کہا اور سوئ دھگا نکال کر معراج کی شرٹ کا اوپر والا بٹن ٹاک نے لگی۔۔۔۔
معراج نے دعا کے اوپر نظر ڈالی تھی۔۔۔نیلی فورک میں وہ بے حد حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔
معراج نے اپنی نظریں دعا کے چہرے پر جمائ ھوئ تھی۔۔۔
اور دعا ان نظروں سے نروس ھورہی تھی۔۔۔اور اسی وجہ سے اس کے ہاتھ بھی کانپ رہے تھے۔۔۔۔دعا کی اس قدر گبراھٹ دیکھ کر معراج دعا کے اور قریب ھوا تھا۔۔۔۔اور اب ایک ایک قدم بڑا رہا تھا اور دعا ایک ایک قدم پیچھے ھورہئ تھی۔۔۔۔
دعا نے ایک دم نظر اٹھا کر معراج کو دیکھ تھا۔۔۔تو معراج اپنی حد سے زیادہ گھیری آنکھوں سے اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
دعا اب جاکر الماری سے لگی تھی۔۔۔۔سوئ دھگا ابی تک اس کے ہاتھ میں ہی تھا۔۔۔۔
سوئ چپ جائے گی۔۔۔
دعا نے کپکاتی اور حد سے زیادہ گھبرائ آواز سے کہا۔۔۔۔۔
چبنے دو۔۔۔۔
معراج نے نشیلی آواز میں کہا۔۔۔۔۔
درد ھوگا!!!!!۔۔۔۔۔
دعا نے معراج کی طرف دیکھ کر ہلکے سے کہا۔۔۔۔
ھونے دو۔۔۔۔۔!!! معراج دعا کی انکھوں میں جھانک کر بول رہا تھا
دعا نے ایک دم نظر ہٹا لی تھی اور کانپتے ہاتوں سے بٹن کو سی رہی تھی۔۔۔
تبی سوئ معراج کے سینے پر لگئ تھی۔۔
اھوو !!!! سوری دعا نے گھبراہٹ بھری آواز میں کہا۔۔
تبی معراج دعا کے اوپر جھکا تھا اور اس کے کان میں ہلکے سے سرگوشی کی تھی۔۔
تم مجھ سے دور اس لیے بھاگتی ھو نا۔۔۔کیونکہ تم میرے پاس آنے سے ڈرتی ھو ۔۔۔کہ کہی تم مجھ سے عشق نا کر بیٹھو۔۔۔۔۔
معراج کی نسانسیں دعا کو اپنے کان پر لگتی محسوس ھوئ تو اس کے جسم میں کرنٹ سا لگا۔۔۔۔
اور معراج دعا کے پاس سے انے والی خوشبو میں پھر مدحوش سا ھو رہا تھا۔۔۔
دعا بولنا چھا رہی تھی پر گھبراہٹ کے مارے اسکے منہ سے الفاظ ادا نہیں ھورہے تھے۔۔۔۔۔
معراج کے اندر سے آنے والی دھیمی دھیمی خوشبو اسکو اچھی لگ رہی تھی۔۔۔
معراج کے بالوں سے گیرتے پانی کی ڈھنڈک دعا کو محسوس ھو رہی تھی۔۔۔
دعا ؟؟؟
معراج اب پھر دعا کے بلکل روبرو ھوا تھا۔۔۔۔اور اسکو پکارا تھا۔۔۔۔
وہ اس وقت دعا کے حد سے زیادہ قریب تھا۔۔۔۔
میری طرف دیکھو۔۔۔۔°
معراج نے دعا کے چہرے کو اپنی ایک انگلی سے اوپر کیا تھا۔۔۔
دعا کے چہرے پر صاف پسینہ نظر آرہا تھا۔۔۔۔۔
دعا میری جان !!!°°°
معراج نے ایک دم بے سد ھو کر اسکو پکارا تھا تو دعا نے فورم انکھیں اٹھا کر معراج کو دیکھا تھا۔۔۔۔
مجھے تمھارے اندر سے آنی والی خوشبو بہت اپنی سی لگتی ھے۔۔۔۔۔
بہت پاک۔۔۔
معراج نے اس سے سرگوشی والے انداز میں کہا۔۔
دعا نے ایک بار پھر اپنی حسین آنکھوں سے اسکو دیکھا تو اس بار معراج خود پر قابو نا رکھ پایا ۔۔۔۔۔
اور بے خود سا ھوتے ھوئے
دعا کے لبوں پر جھکنے لگا۔۔۔۔
معراج کو پاس آتا دیکھ کر دعا نے آنکھیں زور سے بند کرلی تھی۔۔۔۔
اور پتہ نہیں کیوں اسکی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے تھے۔۔۔۔
معراج نے دعا کو پیار کیا۔۔۔۔۔
لیکن وہ پیار اسنے اسکے ماتھے پر کیا اور پیچھے ہٹ گیا۔۔۔۔
دعا نے ایک دم سے انکھیں کھولی تو اسکی آنکھوں میں بے شمار آنسو تھے۔۔۔۔
لیکن وہ آسنو اس بار نفرت کے نا تھے۔۔اج پہلئ بار دعا کے آنسو دیکھ کر معراج کو خوشی ھوئ تھی۔۔۔۔
دعا حیرت سے معراج کو دیکھنے لگی۔۔۔۔
معراج نے اسکو مسکرا کر دیکھا اور تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔
دعا کا دل حد سے زیادہ زور سے ڈھڑک رہا تھ اور صرف دعا کا نہیں معراج کے دل کی ڈھڑکن بھی بے قابو تھی۔۔۔۔۔
معراج کے جانے کے بعد دعا بیڈ پر بیٹھ گئ اور سوچنے لگی۔۔۔۔
معراج کا اسکو ماتھے پر پیار کرنا بے حد اچھا لگا تھا۔۔۔۔
میں نے انکو روکا کیوں نہیں۔۔۔
دعا نے دل میں سوچا۔۔۔۔۔۔
دعا اس وقت خود پر حد سے زیادہ حیران تھی۔۔
کیا معراج بھی اس کے دل کی محبت سے واقف ھوچکا تھا ؟؟؟
دعا نے خود سے سوال کیا۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
معراج ہمیشہ کی طرح تیز رفتاری سے اپنی اسپوڑٹس کار بھاگا رہا تھا۔۔۔
مجھے تم نے اپنا دیونہ بنا لیا ھے دعا۔۔۔۔
معراج اپنے دل میں دعا سے اقرار محبت کر رہا تھا۔۔۔
میرا دل کرتا ھے میں تمھیں خود میں چھپا لوں۔۔۔۔۔
تمھارے پاس آنا چھاتا ھوں پر ڈر لگتا ھے کہ تم مجھے چھوڑ کر نا چلی جاو۔۔۔۔
پتہ نہیں تم بھی مجھ سے محبت کرتی ھو یا یہ صرف میرے ماضی میں ھونے والےواقعے کی وجہ سے میرے ساتھ ہمدردی ھے تمھاری ۔۔۔
معراج کے زہن میں سو سوال تھے۔۔۔
وہ اندر سے بے حد آحساس تھا۔۔۔
تیز رفتاری سے گاڑی اڑاتا وہ گلف کلب پھنچا تھا ۔۔
جہاں اس کے تمام دوست اسکا انتیظار کر رہے تھے۔۔۔۔
معراج سے اج کافی دنوں بعد سب مل کر بہت خوش ھوئے تھے ۔۔۔
سوائے زیب کے۔۔۔۔۔
معراج کے اندر پیدا ھونے والی تبدیلی زاضا نے فورن محسوس کرلی تھی۔۔۔۔
اور کافی خوش بھی ھوا تھا۔۔۔۔
راجے !!!
بڑا خوش نظر آرہا ھے۔۔۔۔؟؟؟
اب کے سوال زیب نے کیا تھا۔۔
الحمد اللہ۔۔۔۔!!!!
معراج نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔۔
ویسے میں نے سنا ھے خوشی کے دن زیادہ نہیں ھوتے۔۔۔۔
زیب نے فورن ہی کہا تھا۔۔۔۔
کیا مطلب ؟؟؟
معراج نے فورن تیور بدل کر پوچھا۔۔۔
مطلب یہ کے انسان کو اچھے اور برے دونوں وقت کے لیے زہن بنا لینا چھائے۔۔۔۔
زیب اج بہت عجیب بات کر رہا ھے تو۔۔۔۔
زاضا نے زیب کو ٹوکا تھا۔۔۔
جب کے معراج گھیری سوچ میں پڑ گیا تھا۔۔۔
نہیں تو بس میں تو اتنا کہہ رہا ھوں۔۔۔
کہ انسان کا کل اسکے آج کے سامنے ضرور آتا ھے۔۔۔
زیب بار بار معراج پر وار کر رہا تھا۔۔۔
زیب۔۔۔۔راضا نے زیب کو ٹوکا۔۔۔۔
معراج جہانگیر اپنے اج کو کیسے اپنے کل سے بچانا ھے اچھے سے جانتا ھے۔۔۔تو بس اپنی فکر کر میری نہیں۔۔۔۔
معراج نے فورن جواب دیا تھا۔۔۔۔
ہاہاہا۔۔۔۔میں بس اپنی ہی تو فکر کر رہا ھوں۔۔۔ریب نے مسکراہٹ سجا کر کہا۔۔۔۔۔
ویسے معراج تجھے بہت جلد میں بہت بڑا سرپرائز دوں گا۔۔۔۔۔
زیب نے ھنس کر کہا۔۔۔۔
جسکا معراج نے کوئ جواب نا دیا۔۔۔۔
اور پھر معراج راضا سے باتوں میں لگ گیا۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
معراج کے جانے کے بعد دعا کافی دیر لیٹی معراج کے مطالق سوچتی رہی پھر نیچے آئ تھی دوپہر کا وقت تھا۔۔۔۔گھر میں سناٹا سا تھا۔۔۔
دعا کو معراج کے بغیر یہ گھر کاٹنے کھانے کو ڈوڑتا تھا اس لیے وہ اپنا دل بھلانے رملا کے پاس جارہی تھی۔۔۔۔
تبھی اسکو خیال آیا کہ کیوں نا وہ بریرہ بیگم سے انکی طعیت پوچھ لے۔۔۔
معراج کی اتنی باتوں کے بعد بھی دعا کے دل میں انکی ہمدردی تھی۔۔۔۔
دعا کمرے کی طرف بڑھی تو کمرے کا دروازہ کھولا تھا۔۔۔
اور رملا بریرہ سے بول رہی تھی۔۔۔
آمئ اپ وہ سچ اب معراج کو بتا دیں۔۔۔
معراج کی نفرت اپ سے دن با دن بڑھتی جارہی ھے۔۔۔۔
پلیز ماما ۔۔۔۔اپ کتنے سالوں سے خود کو زلیل کرواتی آرہی ھیں۔۔۔۔۔
رملا بریرہ بیگم کے پاس بیٹھی انکو سمجھا رہی تھی۔۔۔۔
نہیں۔۔۔میں معراج کو اور تکلیف نہیں دے سکتی۔۔۔
میں معراج سے بلاج اور دلاور سے زیادہ پیار کرتی ھو ۔۔۔۔رملا۔۔۔
بریرہ بیگم اور رملا کی باتوں نے دعا کو کافی حد تک حیران کیا تھا۔۔۔۔۔
اور فورن ہی کمرے میں داخل ھوئ تھی۔۔۔
دعا کو دیکھ کر رملا اور بریرہ بیگم دونوں کا رنگ سفید ھو گیا تھا۔۔۔
دعا کے چہرے سے صاف پتا لگ رہا تھا کہ وہ سب سن چکی ھے ۔۔۔۔۔
دعا خاموشی سے اکر بریرہ بیگم کے پاس بیٹھی تھی اور انکا ہاتھ تھام کر مظبوط لہجے میں بولی تھی۔۔۔
معراج کو نہیں بتا سکتی پر مجھے تو بتا سکتی ھیں نا ۔۔۔
پلیز ماما ایسا کیا ھوا تھا اس رات ؟؟؟
معراج ابھی جس اگ میں جل رہے ھیں شاید وہ آگ ہم مل کر بجھا سکتے ھیں ۔۔۔۔۔۔
وہ ممتا وہ پیار جسکو وہ ڈھونڈ رہے ھیں۔۔۔وہ اپ میں چھپا ھے ماما۔۔۔
لیکن معراج اپ کو غلط مانتے ھیں۔۔
حقیقت کا پتا ھونا ضروری ھے ماما
پلیز معراج کو نا صیح مجھے بتا دیں۔۔۔۔
دعا ٹھیک کہہ رہئ ھے ماما ۔
رملا نے بھی دعا کی تعید کی۔۔۔
نہیں۔۔۔آا
ا بریرہ بیگم نے روتے روتے کہا۔۔
ماما میں وعدہ کرتی ھوں۔۔ ۔
سب ٹھیک ھو جائے گا ۔۔۔۔میرا یقین کریں اس حقیقت کو مجھے بتانے میں صرف اور صرف معراج کی بھالائ چھپی ھے۔۔۔۔۔
اپ نہیم چھاتی کے معراج اپ کو ماما کہہ کر بولائیں۔۔۔
اپنی ہر نفرت بھول جائیں۔۔۔
دعا نے بریرہ بیگم کو بہت فورس کیا تھا۔۔۔۔
تبھی وہ اٹھ کر اپنی الماری کی طرف گئ تھی۔۔۔
اور وہاں سے ایک بڑا سا بوکس لائ تھی۔۔۔۔۔
دعا اور رملا دونون نے ساتھ پوچھا تھا یہ کیا ھے۔۔۔
تب بریرہ بیگم نے کہا تھا۔۔۔
اس میں چھپی ھے اس رات کی۔حقیقت۔۔۔۔
