Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zid Junoon Ki Inteha Episode 35

Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi

تم ادھر او !!!!!

اب احمد صاحب نے معراج کو بلایا تھا۔۔۔۔

جی سر ؟؟؟

معراج احمد صاحب کے پاس گیا تھا۔۔۔

تمھیں تمھاری سزاہ سنی تھی نا۔۔۔۔۔۔!!!!

احمد صاحب نے سخت لہجے میں کہا۔۔۔

معراج اور دعا کو محسوس ھوا کہ احمد صاحب نے صرف دعا کو معاف کیا ھے اسے نہیں۔۔۔۔۔

تو تمھاری سزہ ھے کہ تم دعا سے 2 سال تک نہیں ملو گے !!!!

احمد صاحب کے کہنے پر دعا اور معراج دونوں ہی کے چہرے کے رنگ اڑ گئے تھے….

بولو منظور ھے ؟؟

تبھی تمھیں معافی ملے گی نہیں تو نہیں۔۔۔۔

معراج بلکل چپ سا کھڑا تھا۔۔۔۔دعا سے دوری اس کی سانس نکلنے کے برابر تھی۔۔۔۔

اور اب تو دعا بھی اس کے بغیر ایک دن نا رہے سکتی تھی۔۔۔۔۔

دعا کو بھی امید نا تھی احمد صاحب یہ بات کریں گے۔۔۔۔

پر سر !!!!

معراج کو سمجھ نا آیا کہ وہ کیا بولے۔۔۔۔

ابھی تو تم نے کہا تھا آپکی ہر سزہ منظور ھے پھر یہ کیوں نہیں ؟؟؟

احمد صاحب نے مظبوط لہجے میں کہا۔۔۔

معراج خاصی گھیری سوچ میں تھا۔۔۔۔

اور دعا کا تو دل کسی نے موٹھی میں لے لیا تھا۔۔۔

دعا اور معراج کا چھوٹا ھوتا چہرہ دیکھ کر احمد صاحب کو ایک دم ھنسی اگئ تھی۔۔۔

ہاہاہاہا !!!!

برخودار میں مزاق کر رہا ھوں۔۔۔۔۔۔

احمد صاحب نے ھنس کر کہا۔۔۔

تمھاری سزاہ یہ ھے کہ دعا کی طرح تم بھی اج سے مجھے سر نہیں ابو کہو گے۔۔۔۔

احمد صاحب نے معراج کو گلے لگا کر کہا۔۔۔۔

معراج اور دعا دونوں کو ہی اپنی جان واپس آتی محسوس ھوئ۔۔۔۔۔

جی بلکل سر۔۔۔

سوری ابو۔۔۔

معراج نے ھنس کر کہا۔۔۔۔

احمد صاحب نے دعا اور معراج دونوں کو معاف کر دیا تھا۔۔۔دعا کو اس لیے کیونکہ اسکی کوئ غلطئ نا تھی۔۔۔اور معراج کو اس لیے کیونکہ اللہ نے دعا کے نصیب میں معراج جیسا پیار کرنے والا شوہر لکھا تھا۔۔۔

احمد صاحب نے جو جنون اور محبت معراج کی انکھوں میں دعا کے لیے دیکھی تھی وہ خود بھی کوئ لڑکا ڈھونڈ کر لاتے تو کبھی یہ بات نا ھوتی۔۔۔

معراج کا طریقہ غلط تھا مگر انکی بیٹی ایک اچھے گھر میں بھایا کر گئ تھی۔۔۔

جہاں اسکا شوہر اسکا دیوانہ تھا۔۔۔۔

احمد صاحب نے معراج کو دعا کو گلے لگا کر دھیڑ ساری دعائیں دی تھی۔۔۔دعا کی انکھوں سے آنسو نہیں رک رہے تھے اج اس کی زندگی کا بہترین دن تھا۔۔۔وہ بار بار اپنے جان سے پیارے ابو کو چوم رہی تھی۔۔۔۔

بسس اب بہت پیار ھو گیا۔۔۔

اب صرف پیار سے پیٹ بھرنا ھے یا کچھ کھانا بھی ھے۔۔۔۔

سمیرا بیگم نے اپنے آنسو پونچھ کر کہا۔۔۔

ہاں بھئ۔۔۔عمیر جاوں بھار سے کھانا لے کر آو اج ہماری بیٹی اور داماد گھر ائے ھیں۔۔۔۔۔۔

احمد صاحب نے خوشی سے کہا۔۔۔۔

معراج اور دعا دونوں بے حد خوش تھے۔۔۔۔

معراج کا دل اب ہلکا پھلکا ھوچکا تھا جب کہ دعا کو پھر سے احمد صاحب کی محبت مل گئ تھی۔۔۔

دعا اور معراج نے کھانا وغیرہ بھی وہی کھایا تھا۔۔۔

کھانے کی میز پر بھی سب نے مل کر معراج کو دعا کے بچپن کے قصے سنائے تھے۔۔۔جس پر دعا خاصی حد تک شرمندہ ھورہی تھی۔۔۔اور معراج ھنس ھنس کر لوٹ پوٹ ھورہا تھا۔۔۔

اج دعا اور معراج اتنا ھنسے تھے کہ شائید ھی وہ دونوں کبھی اتنا ھنسے تھے۔۔۔

احمد صاحب سمیرا بیگم عمیر عمر نمرہ سب بے حد خوش تھے۔۔۔ان کے گھر خوشی لوٹ ائ تھی۔۔۔۔۔

آج انکی فیملی مکمل ھوگئ تھی۔۔۔۔

کھانے وغیرہ سے فارغ ھوکر دعا معراج جانے کے لیے اٹھے تھے تو نمرہ نے دعا سے روکنے کی ضد کی تھی۔۔۔

آپی پلیز روک جائیں نا بہت ضروری بات کرنی ھے۔۔۔

وہ دعا سے بہت ضروری بات کرنا چھاتی تھی۔۔۔

نہیں نمی آج نہیں !!!!

میں پھر آجاوں گی۔۔۔

لیکن دعا اج کسی بھی حال میں یہاں رکنا نہیں چھاتی تھی۔۔۔

وہ نمرہ سے پھر واپس آنے کا وعدہ کر کہ احمد صاحب اور سمیرا بیگم سے مل کر اج خوشی خوشی اپنی سسرال جارہی تھی۔۔۔

اج اسکو پہلی بار لگا تھا کہ اسکی شادی ھوئ ھے۔۔۔۔

معراج گاڑی چلا رہا تھا جب ھی دعا نے اسکو پکرا تھا۔۔۔

معراج !!!

جی کرے اپکا معراج ؟؟

معراج نے خاصے اچھے انداز میں کہا تھا۔۔۔۔وہ اج بے حد خوش تھا۔۔۔ دعا کی زندگی میں سب کچھ نورمل ھورہا تھا۔۔۔

اپ نے ابو سے کیا کہا ؟؟؟

جو ابو ؟؟

دعا کافی حیران تھی۔۔۔

دیکھو دعا !!!

بڑے بزرگ کا کہنا ھے کہ صرف آم کھانے چھایئں گٹلیاں نہیں گنی چھایئں۔۔۔

معراج نے ھنس کر کہا۔۔۔۔

مگر پھر بھی ؟؟

بس بھول جاو ۔۔۔دعا۔۔۔۔

جو ھوا وہ گز گیا۔۔۔

جو ھے اج ھے۔۔۔

اور اج میں ہر چیز ٹھیک ھو گئ ھے۔۔۔۔

معراج نے مسکرا کر دعا کو دیکھا تھا۔۔۔

نہیں ہر چیز نہیں ابھی بھی بہت کچھ باقی ھے۔۔۔۔۔

جو ٹھیک ھونا ھے۔۔۔۔۔۔

دعا نے گھیرے انداز میں کہا تھا۔۔۔

اچھا کیا کچھ ؟؟؟

معراج نے پوچھا۔۔۔

وقت کے ساتھ پتا لگ جائے گا۔۔۔

دعا نے مسکرا کر کہا تھا۔۔

اچھا جی۔۔۔!!

معراج نے بھی لبوں پر مسکان سجا کر کہا۔۔

معراج ؟؟

دعا نے پھر اسکو مخاطب کیا۔۔

جی ؟؟؟؟

معراج نے پھر اسکو پیار سے دیکھا۔۔۔

Thank you so much❤

دعا واقعی معراج کی شکر گزار تھی۔۔اس لیے بولے بنا نا رہے سکی۔۔۔

میں نے صرف اپنی غلطی سدھاری ھے۔۔۔

معراج نے گھیرے انداز میں کہا۔۔۔۔

ویسے اتنے سارے گفٹس کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔

دعا نے یاد آنے پر کہا۔۔۔

محترمہ !!!

وہ گفٹس اپ کے لیے نہیں تھے جو اپ پریشان ھو رہی ھے۔۔۔

وہ گفٹس میری ماں بہن اور بھائیوں کے لیے تھے تو اپ فکر نا کریں۔۔۔۔

دعا کے گھر والوں کے لیے معراج کے دل میں بے پناہ محبت تھی۔۔۔

ہمممم۔۔۔۔۔۔اچھا جی !!!! دعا نے مسکرا کر کہا۔۔۔

پھر دعا خاموشی سے کھڑکی سے باہر دیکھ کر سوچنے لگی۔۔۔۔۔

معراج اور اسکا سفر کہا سے شروع ھوا تھا۔۔۔لیکن معراج نے اپنے عمل سے اسکی نفرت کو محبت میں تبدیل کر دیا تھا۔۔۔

معراج نے جو عزت اور محبت دعا اور اس کے گھر والوں کو دی تھی۔۔۔

وہ دعا کبھی تصور بھی نا کر سکتی تھی۔۔۔۔۔

میری زندگی میں تو سب ٹھیک ھو گیا راج۔۔۔۔

اب آپکی باری ھے ۔۔۔۔

ابھی بھی بہت ساری چیزیں ٹھیک ھونی ھے راج۔۔۔۔۔۔

ابھی اپکی زندگی مجھے خوشیوں سے بھر دینی ھے وہ ہر غم تکلیف کو اپ سے دور لے جانا ھے۔۔۔۔۔

اپ سے بے حد عشق کرنا ھے۔۔۔۔۔

اپ سے اپ کے عشق کا اظہار کروانا ھے۔۔۔۔

اپنے عشق کا اظہار کرنا ھے۔۔۔

اور پھر جاکر اپنی نئ زندگی کا آغاز کرنا ھے۔۔۔اپ کو اپنے تمام حقوق دے کر۔۔۔

دعا نے دل میں سوچ کر مسکرا کہ معراج کی طرف دیکھا تھا جو گاڑی چلانے میں مصروف تھا۔۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

دعا اور معراج گھر میں داخل ھوئے تو کسی بات پر ھنستے ھوئے داخل ھوئے تھے۔۔۔رات کافی ھو چکی تھی۔۔۔گھر کے تمام لوگ ہی اپنے کمروں میں جا چکے تھے۔۔۔۔لیکن بریرہ بیگم انکا انتظار کر رہی تھی۔۔ ۔

ارے تم دونوں اگئے اتنے لیٹ کیوں ھوگے۔۔۔ ؟

بریرہ بیگم نے انکو آتا دیکھ کر کہا۔۔۔۔

معراج کا موڈ فورن ہی خراب ھوا تھا۔۔۔اور اسنے کوئ جواب بھی نا دیا تھا۔۔۔۔جبکہ دعا نے کہا تھا۔۔۔

سوری ماما!!!!

بس وہ امی کے گھر گئ تھی وقت کا پتا نہیں لگا۔۔۔۔۔

کوئ بات نہیں بچے ۔۔۔

اچھا کیا۔۔۔

چلو آو اج میں نے خاص معراج کے لیے cooking کی !!!

ابھی بریرہ بیگم کا جملہ پورا ادا نا ھوا تھا کہ معراج بول پڑا۔۔۔۔۔

کتنی بار کہا ھے یہ ڈرامے مت کیا کریں سمجھ نہیں اتی آپکو۔ ؟؟؟؟

کیا دیکھانا چھاتی ھیں ؟؟؟

کے اپ میری ماں ھیں ؟؟؟؟

اپ میری ماں ساری زندگی نہیں بن سکتی۔۔۔۔۔

معراج نے انتھائ بدتمیزی سے کہا۔۔۔۔بریرہ بیگم ایک دم سے شرمندہ ھوئ تھی۔۔۔۔۔

نہیں میں نے تو !!!!

وہ بولتے بولتے رو دی تھی۔۔۔۔

اب یہ جھوٹے آنسو بھا لیں فورن۔۔۔۔جیسے میری ماں کو مارا ویسی مجھے بھی اچھا بن کر مارنا چھاتی ھیں۔۔۔۔

مجھے نفرت ھے اپ کے اس روپ سے مجھے مجبور نا کریں کہ میں اپکو اس گھر سے نکال دوں۔۔۔۔

اچھا خاصا موڈ خراب کر دیا۔۔ ۔

معراج بڑبڑاتا اپنے کمرے میں بڑھ گیا تھا۔۔۔

جبکہ بریرہ بیگم بری طرح رونا شروع ھوگی تھی۔۔۔

ماما پلیز !!!

دعا نے انکو سنبھالا تھا۔۔

پلیز اپ روئے مت۔۔۔۔

پلیز۔۔۔۔۔

دعا کو بھی رونا آرہا تھا۔۔۔وہ ویسی کسی کی آنکھ میں آنسو نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔۔۔

میں ٹھیک ھوں بیٹا۔۔۔۔

جاو تم معراج کے پاس جاو۔۔۔۔

بریرہ بیگم نے اپنے آنسو پونچھ کر کہا تھا۔۔۔۔

ماما سب ٹھیک ھو جائے گا میرا یقین کیجیے۔۔۔۔

دعا نے بریرہ بیگم کو تسلی دی تھی۔۔

انشاءاللہ۔۔۔۔۔

بریرہ بیگم نے دعا کو بوسہ دے کر کہا۔۔۔۔

اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئ۔۔۔۔

دعا جب اپنے کمرے میں ائ۔۔۔تو معراج باتھ روم میں تھا۔۔۔۔

وہ اپنا حجاب اتارتے ھوئے سوچ رہی تھی کہ وہ یہ بات معراج سے کس طرح کرے۔۔۔۔

ابھی وہ اسی سوچ میں تھی جب معراج باتھ روم سے باہر نکلا تھا۔۔۔۔

اففف آج تو میں بہت زیادہ تھک گیا ھوں۔۔۔۔

اور پتا نہیں سر میں کیوں اتنا درد ھورہا ھے۔۔۔

معراج نے بیڈ پر بیٹھ کر اپنا سر تھام کر کہا تھا۔۔۔۔

کیا ھوا ؟؟

معراج کو اس طرح دیکھ کر دعا اس کے پاس ائ تھی۔۔۔

کچھ نہیں بس سر دکھ رہا ھے۔۔۔۔

معراج نے اسکو ہاتھ پکڑ کر اپنے سامنے بیٹھایا تھا۔۔۔۔

اور ایک نظر دعا پر ڈالی تھی کھلے لمبے بال ۔۔۔

بڑی بڑی انکھیں۔۔

کھڑی سی ناک۔۔۔

گلاب جیسے ھونٹ۔۔۔۔

چاند جیسی رنگت ۔۔۔۔۔والی لڑکی اللہ نے اس کے نصیب میں دی تھی۔۔۔۔۔۔معراج جب جب دعا کو دیکھتا تھا اسکو دعا سے اور محبت ھوتی چلی جاتی تھی۔۔۔۔

اب تو خوش ھو نا تم ؟؟؟؟

معراج نے اسکا ہاتھ تھام کر پوچھا تھا۔۔۔

تو دعا صرف مسکرا دی تھی۔۔۔۔

بولو ؟؟؟

معراج نے اسکی مسکراہٹ دیکھ کر پوچھا تھا۔۔۔۔

وہ اسکے منہ سے سنا چھاتا تھا۔۔۔۔

جی بہت!!!

دعا نے ہلکے سے کہا تھا۔۔۔۔

ہممممم !!!

تو اسکا مطلب میڈم نے مجھے معاف کر دیا ؟؟؟

معراج نے شرارت سے دعا کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا تھا۔۔۔۔

میں نے ایسا تو نہیں کہا۔۔۔۔

دعا کی چوری نا پکڑی جائے اس لیے دعا نے فورن کہا تھا۔۔۔۔

تو اب تو سب ٹھیک ھوگیا نا پھر اب کیوں ناراضگی ھے ؟؟؟؟

معراج نے حیرت سے پوچھا۔۔۔

بس میری مرضی !!!!

دعا نے شانے اٹھا کر کہا۔۔۔۔

اھوووو اچھا جی۔۔۔۔۔معراج نے ایک ائی بورو اٹھا کر کہا۔۔۔۔۔

یعنی ابھئ بھی میڈم ہم سے دور دور !!!!

معراج نے پھر شرارت سے کہا تھا۔۔۔۔

مجھے لگتا ھے اج زیادہ ھنسے کی وجہ سے اپ کے دماغ پر اثر ھوگیا ھے۔۔۔

دعا نے فورن اٹھ کر کہا تھا۔۔۔۔

معراج نے پھر اسکا ہاتھ تھاما تھا۔۔۔

ھنسے کا تو نہیں پتا۔۔۔۔البتہ ایک حسین پری کا ضرور ھوگیا ھے۔۔۔۔

معراج نے حد سے زیادہ پیار سے کہا۔۔۔۔

دعا نے منہ موڑ کر اپنی ھنسی روکی تھی۔۔۔

اس وقت دعا کے دل نے زور سے ڈھڑک کر اسکو حساس دلایا تھا۔۔۔

کہ یہ دل صرف معراج کا ھے۔۔۔۔

اچھا چھوڑیں۔۔۔

دعا نے اپنا ہاتھ چھوڑا کر کہا تھا۔۔۔اور جاکر تیل کی شیشی اٹھائ تھی۔۔۔۔

اور معراج کے پاس ائ تھی۔۔۔

معراج نے پھر اپنا سر تھام لیا تھا۔۔۔۔

چلیں اپ ادھر بیٹھیں۔۔۔

دعا نے معراج کو زمین پر بیٹھنے کو کہا !!!

کیوں ؟؟؟

معراج نے فورن حیرت سے پوچھا۔۔۔۔

اپ سے اٹھک بیٹھک کروانئ ھے اس لیے۔۔۔۔

دعا نے اج الٹا جواب دیا تھا جیسے ہمیشہ معراج دیتا تھا۔۔۔

ہاہاہا

اچھا واقعی ؟؟

معراج نے مسکرا کر پوچھا تھا۔۔۔اور زمین پر گدی رکھ کر بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔

دعا پیچھے بیڈ پر بیٹھ گئ تھی۔۔۔۔

اپ تیل بلکل نہیں لگاتے اس وجہ سے سر میں درد ھوتا ھے۔۔۔۔

دعا نے معراج کے گھنے بالوں میں تیل ڈال کر اپنے نرم نرم ہاتھوں سے مالیش شروع کی تھی۔۔۔

دعا کے ہاتھوں سے معراج کو عجیب سا سکون ملا تھا۔۔۔اور اسنے اپنی آنکھیں بند کر کے۔۔۔اپنا سر دعا کے گھٹنوں سے ٹکا دیا تھا۔۔۔۔

جیسے درخت کو پانی کی ضرورت ھوتی ھے ایسے ہی بالوں کو تیل کی ضرورت ھوتی ھے۔۔۔۔

دعا معراج کے سر میں مالش کرتے کرتے بول رہی تھی۔۔۔۔

ہمممم !!! معراج نے گھیری سانس لے کر کہا۔۔۔

اس نے آخری بار سر میں تیل آٹھ سال کی ہی عمر میں ڈالا تھا۔۔۔جب کوسم اسکو تیل لگا کر مالیش کیا کرتی تھی۔۔۔

اور اسکو حد سے زیادہ سکون ملتا تھا۔۔۔۔اور اج وہی سکون اسکو دعا کی مالش سے مل رہا تھا۔۔۔

کوسم جب ہی اس کے زہن میں آتی تھی اس کی آنکھوں میں خودبخود آنسو آجاتے تھے۔۔۔

دعا ؟؟؟

معراج نے انکھیں بند کر کے دعا کو پکارا تھا۔۔۔۔

مجھے بہت نید آرہی ھے۔۔۔۔

پلیز میں لیٹ جاوں تو تم ایسے مالش کر دینا میں سو جاوں گا۔۔۔۔

میں زہنی طور سے بہت تھک گیا ھوں۔۔۔۔

معراج نے بے حد معاصومیت سے کہا تھا۔۔۔۔۔

جی اچھا۔۔۔۔

دعا نے فورن کہا تھا۔۔۔

معراج اب آکر انکھیں بند کر کہ بیڈ پر لیٹ گیا تھا۔۔۔

اور دعا اسکے ساتھ برابر میں بیٹھی مالیش کر رہی تھی۔۔۔۔

معراج کو حد سے زیادہ سکون مل رہا تھا۔۔۔۔

دعا !!!!

معراج نے بہت ہلکے سے اسکو پکارا تھا۔۔۔۔

مجھے اس تھکن سے نجات دلا دو۔۔۔۔

معراج کی آواز دعا کو بھیگی ھوئ محسوس ھوئ تھی۔۔۔

دعا کے پاس کوی جواب نا تھا اس لیے وہ خاموش رہی۔۔۔۔

معراج کو اس قدر سکون مل رہا تھا کہ وہ ہلکے ہلکے نیند میں جارہا تھا۔۔۔۔

دعا !!!!

نیند کی مدھوشی میں معراج نے پھر اسکو پکارا تھا۔۔۔

پلیز مجھے کبھی چھوڑ کر مت جانا۔۔۔۔۔۔۔

معراج نے نیند سے بند ھوتئ آنکھیں کھول کر دعا کو دیکھا تو اس میں نیند کے ساتھ ساتھ بے شمار آنسو بھی تھے۔۔۔

دعا کو بے ساختہ معراج پر بے حد پیار آیا تھا۔۔۔۔اسکا دل چھا وہ معراج کا ماتھا چوم کر بولے کہ وہ کبھی اسکو چھوڑ کر نہیں جائے گی۔۔۔

لیکن شرم نے اسکو روک رکھا۔۔۔۔

دعا کافی دیر اسی طرح بیٹھی مالش کرتی رہی۔۔

معراج اب کافی گھیری نیند سو چکا تھا۔۔۔۔

رات کے دو بجے تھے۔۔۔۔

دعا اٹھی اور وضو کر کے نماز ادا کی تھی۔۔۔

پھر اس نے رو رو کر معراج کی خوشیوں کے لیے دعا مانگی تھی۔۔۔

میری اللہ میری مدد فرما میں کس طرح معراج کی زندگی میں پھر سے سب نورمل کرسکوں۔۔۔۔۔

مجھے بتا میرے رب۔۔

دعا جانماز سے کافی دیر دعا مانگنے کے بعد اٹھی تو اس وقت گھڑی میں تین بج رہے تھے

اسکو اتنی خاص نیند نا ائ تھی اس لیے اسنے سوچا کہ کیوں نا وہ خط دعا پڑھ لے۔۔۔۔

دعا نے ہلکے سے اپنی الماری کھولی اور اس میں سے خط نکال کر خاموشی سے باہر اکر balcony میں کرسی پر بیٹھ گی۔۔۔

بہت تیز ھوا چل رہی تھی۔۔۔

دعا کچھ دیر لفافہ غور سے دیکھتی رہی۔۔۔۔

پھر اسنے وہ!!