Zid Junoon Ki Inteha By SA Khanzadi NovelR50423 Zid Junoon Ki Inteha Episode 42
No Download Link
Rate this Novel
Zid Junoon Ki Inteha Episode 42
Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi
زاضا نے پھر پوچھا تھا۔۔۔۔
کچھ نہیں میں تجھ سے بعد میں ملتا ھوں معراج بول کر پھر تیزی سے اپنی گاڑی میں بیٹھ کر نکل گیا تھا۔۔۔۔زاضا حیران پریشان سا تھا۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
دعا چیخ چیخ کر اب تھک چکی تھی۔۔۔۔
وہ رو رو کر اللہ سے بے شمار دعائیں مانگ چکی تھی کہ اللہ اسکی مدد کریں۔۔۔۔
اور معراج کو جلد از جلد یہاں بھیج دیں ۔
وہ معراج کو حد سے زیادہ یاد کر رہئ تھئ۔۔۔۔
معراج ؟؟؟؟
معراج ؟؟
اپ کہاں ھیں ؟
پلیز آجائیں نا۔۔۔اپکی دعا کو بہت ڈر لگ رہا ھے۔۔
دعا روتے روتے خود سے بول کر دل بھیلا رہی تھی۔۔۔۔۔
چھوڑ دو۔۔۔۔
مجھے!!!
جانے دو۔۔۔۔
پلیز!!!!!
دعا ابھی بول ہی رہی تھی کہ زیب اٹھ کر اس کے پاس آیا تھا۔۔۔
آخر اتنا پیار معراج سے کیوں ھے ؟؟؟
زیب نے دعا کے گل کو انگی سے چھونے کی کوشش کی تھی پر دعا نے فورن خود کو پیچھے کر لیا تھا۔۔۔۔
خبردار۔۔۔۔۔
خبردار ۔۔۔۔
جو تم نے مجھے اپنے ہاتھ بھی لگایا۔۔۔۔
دعا نے انکھوں میں جنون رکھ کر کہا تھا۔۔۔۔۔
تم کیوں معراج کا انتطار کر رہی ھو پاگل ھو کیا۔۔۔
وہ تو اب کب کا تمھیں طلاق بھی دے چکا ھوگا۔۔۔
اور اب ہما کے کندھے پر سر رکھ کر انسو بہہ رہا ھوگا۔۔۔۔۔
زیب نے ھنس کر کہا تھا۔۔۔۔
تمھارے جیسے گھٹیا آدمی سے ایسی ہی بات کی امید کی جا سکتی ھے۔۔۔۔
تم کیا جانو کے ایک دوسرے پر یقین کیا ھوتا ھے۔۔۔۔۔
دعا نے مظبوط لہجے میں کہا تھا۔۔۔
ہاہاہاہا۔۔۔
اچھا
تم بتا دو کیا ھوتا ھے یقین ؟؟؟
زیب نے اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھتے ھوئے کہا۔۔۔۔
تمھیں لگتا ھے۔۔۔سوری سوری تمھیں یقین ھے کہ معراج یہاں پھنچ جائے گا۔۔۔۔
ہاہاہا۔۔۔چلو مان لیا معراج ادھر آبھی گیا تو کوئ فائدہ نہیں ھوگا دعا بے بی۔۔۔۔۔
زیب نے انکھوں میں چمک رکھ کر کہا۔۔۔
ککک کیا مطلب م؟؟؟
مطلب یہ کہ تم اور میں فل حال اس شہر سے دوررررررر جارہے ھیں۔۔۔
پھر ادھر سے۔۔۔۔۔
دبئ جاکر اپنی نئ زندگی تمھارے ساتھ شروع کروں گا۔۔۔۔
زیب نے مسکرا کر اپنا سارہ پروگرام دعا کو بتایا تھا۔۔۔
تم نے یہ سوچ بھی کیسے لیا۔۔۔۔؟؟؟
میں صرف معراج کی ھوں صرف معراج کی اور مرتے دم تک صرف انکی رہہوں گئ۔۔۔
تم جیسے گھٹیا انسان کی گھٹیا سوچ پوری ھونے سے پہلے میں اپنی جان لے لوں گی۔۔۔
رو رو کر دعا کی بڑی بڑی انکھ لال ھوگئ تھی۔۔۔
اور وہ زور زور سے بول رہی تھی۔۔۔۔۔
زیب سے اب برداشت نا ھوا تھا۔۔۔اس کے ایک اور زور دار تھپڑ دعا کہ منہ پر مارا تھا۔۔۔۔۔
اب اگر منہ سے معراج کا نام نک نکالا تو بہت برا حال کروں گا۔۔۔۔
معراج نہیں ھوگیا پتہ نہیں کیا ھوگیا۔۔۔۔
ہمیشہ ہر چیز میں اسے پیچھے رہا ھوں میں۔۔۔وہ ہمیشہ ہر چیز میں اگے رہا۔۔۔
تمھیں معراج سے پہلے میں نے پسند کیا تھا۔۔۔
لیکن معراج نے تب بھی مجھے تم سے چھین لیا۔۔۔۔
مگر اب بس۔۔۔۔معراج کو میں اس طرح برباد کروں گا۔۔۔۔۔
کہ تیری اور معراج دونوں کی روح کانپ جائے گی۔۔۔
سمجھی تو۔۔۔
زیب نے اشتعال سے کہا تھا۔۔۔۔
دعا کر معراج ادھر نا آئے جو معراج ادھر آگیا تو ہمیشہ کے لیے جان سے جائے گا۔۔۔۔۔۔
دعا کہ ھونٹ سے بری طرح خون بہہ رہا تھا۔۔۔
انکھوں سے آنسوں ٹپ ٹپ گیر رہے تھے۔۔۔
سب کچھ ختم ھونے کو تھا۔۔۔۔۔
دعا نے ایک بار پھر دل میں روتے روتے معراج کو پکارا تھا۔۔۔۔
معراج !!!!
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
معراج شام سے بنا کچھ کھائے پیے گھوم رہا تھا۔۔۔اسکا جنون قابلے دیدد تھا۔۔۔
وک پاگلوں کی طرح تنہاہ دعا کو تلاش کرنے میں لگا تھا ۔۔۔
وہ تیز رفتاری سے گاڑی بھاگتا ھوا دعا کے گھر پھونچا تھا۔۔۔۔
لیکن وہ جانتا تھا گر وہ اس حال میں گھر کے اندر گیا تو سب اس کے اس حال کی وجہ پوچھیں گے۔۔ اور اگر انکو پتہ لگا کہ دعا kidnap ھوگئ ھے تو اور مصلہ بن جائے گا۔۔
معراج ابھی گاڑی میں بیٹھا سوچ ہی رہا تھا کہ اسکو ایسا لگا دعا نے اسکو آواز دی۔۔۔۔
میری جان۔۔۔۔
میری دعا۔۔۔۔۔
تم جہاں بھی ھو میں تمھارے پاس ضرور آوں گا جان۔۔۔
بس تم درنا مت۔۔۔۔۔۔
معراج نے گاڑی کی پشت سے سر ٹکا کر کہا تھا۔۔۔
اسکی بھئ انکھوں سے بری ب
طرح آنسو گیر رہے تھے۔۔۔۔۔
معراج نے اپنے آنسو پھونچے اور فورن عمیر کو کال کی تھی۔۔۔۔
عمیر نے کال فورن اٹھائ تھی۔۔۔
معراج نے اسکو مختصر سا کہا تھا کہ اسکو نمرہ اور عمیر سے کچھ کام ھے تو وہ کسی بھانے سے نمرہ کو باہر لے کر ائے۔۔۔۔۔
عمیر نے فورن اچھا کہہ کر فون رکھ دیا تھا۔۔۔
تھوڑی دیر گزری تھی کہ نمرہ اور عمیرا چلتے آتے دیکھائے دیے تھے۔۔۔معراج نے دونوں کو اپنی گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔
وہ دونون اکر گاڑی میں بیٹھ گئے تھے معراج نے فورن گاڑی احمد صاحب کے گھر سے اگے کر لی تھی ۔۔۔
معراج بھائ ؟؟
اپ یوں اکیلے سب خیریت ھے نا
دعا اپی کہاں ھے ؟؟؟
عمیر اور نمرہ دونوں نے ہی یہ سوال کیا تھا۔۔۔۔۔
معراج خاموش رہا اسکے پاس دینے کو کوئ جواب نا تھا۔۔۔
تھوڑا ہی اگے جاکر معراج نے گاڑی روک دی تھی۔۔۔
نمرہ مجھے تم سے کچھ بات کرنی ھے۔۔۔۔
معراج اب نمرہ کی طرف موڑا تھا۔۔۔
نمرہ پچھلی نشت پر بیٹھی تھی۔۔
جی بھائ بولیں۔۔۔؟؟
نمرہ نے فورن کہا تھا۔۔۔جب کہ عمیر تھوڑا سا پریشان ھوا تھا۔۔۔
نمرہ
تم زیب کو جانتی ھو ؟؟؟
معراج نے بنا پل لگائے کہا تھا۔۔۔۔۔
نمرہ ایک دم گھبرائ تھی جبکہ عمیر کے کچھ سمجھ نا آیا تھا۔۔۔۔۔
دیکھو نمرہ۔۔۔
اس وقت سچ بولو اپنی اپی اور میرے لیے پلیز۔۔۔۔
معراج نے نمرہ کی گھبراہٹ سمجھتے ھوئے کہا۔۔
کیا مطلب معراج بھائ
کون ھے زیب ؟؟
عمیر نے پوچھا۔۔
اسکا جواب نمرہ مجھ سے زیادہ اچھا دے سکتی ھے عمیر۔۔۔۔
بولو نمرہ ۔۔۔
تمھیں کوئ کچھ نہیں بولے گا نا میں نا عمیر۔۔۔
اور یہ بات بھی ہم تک ہی رہے گی۔۔۔۔
نمرہ اس وقت دعا کی جان کو خطرہ ھے اگر ابھی تم نے سچ نا بتایا تو بہت مشکل ھوجائے گی۔۔
معراج نے نمرہ کی خاموش دیکھ کر کہا۔۔۔۔۔
ککک کیا مطلب ؟؟
کہاں ھیں دعا آپی ؟؟
نمرہ اور عمیر نے پھر پوچھا تھا۔۔۔
دعا کو کسی نے kidnap کر لیا ھے۔۔۔۔
اور اسکے کا پتہ لگانے میں تمھارے پاس آیا ھوں۔۔۔۔
زیب سے کبھی تمھاری کوئ بات ھوئ ھے نمرہ ؟
کبھی تم اور دعا اس سے کسی بھی وجہ سے ملنے گئ۔۔۔؟؟
معراج نے پھر پوچھا تھا۔۔۔۔
جی !!!!
تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد نمرہ شرمندگی سے بولنا شروع ھوئ تھی۔۔۔
زیب اور میری دوستی ھوئ تھی۔۔۔
اور پھر نمرہ نے اسکو وہ تمام بات بتائ جو جو زیب نے اس سے کی اور پھر اسکی ضد پر دعا زیب سے ملنے گئ وہ تو یہ جانتی بھی نا تھی کہ وہ لڑکا زیب ھے۔۔۔
ساری بات سنے کے بعد معراج کا شک اب یقین میں بدل گیا تھا۔۔۔۔
کے دعا کو کہی نا کہی ہما اور زیب نے ہی مل کر kidnap کیا ھے۔۔۔۔
لیکن دعا نے یہ بات مجھے کیوں نا بتائ۔۔۔۔
معراج نے حیرت سے کہا۔۔۔
معراج بھائ ۔۔۔
میں نے دعا آپی کو کہا تھا۔۔۔کہ اپ کو کچھ نا بتائیں۔۔۔۔ورنہ وہ تو اپ سے بغیر پوچھے جانے کے لیے مان بھی نہیں رہی تھی لیکن جب میں نے انکو اپنی قسم دی تو وہ مجبوری میں مان گئ ۔۔نمرہ نے روتے روتے کہا۔۔۔۔
نمرہ تم نے مجھے بتانے کو منع کیا ؟؟
کیا بھائ تم صرف مجھے نام سے بلاتی ھو
دل سے نہیں مانتی کیا ؟؟؟
بھایئوں سے باتیں چھپائ تو نہیں جاتی۔۔۔۔
اب دیکھو ایک ایسی بات کی وجہ سے اج ہم کتنے بڑے مصلے میں ھیں…..
معراج نے ادسی سے کہا۔۔۔
مجھے معاف کردیں معراج بھائ۔۔۔۔نمرہ واقعی بہت شرمندہ تھی۔۔۔۔
لیکن نمرہ تم نے یہ سب ؟؟؟
عمیر نے حیرت سے کہا۔۔۔
عمیر جو بات ھوئ وہ ھوچکی ۔۔۔نمرہ معصوم ھے۔۔۔زیب جیسے گھٹیا لڑکے اپنا مقصد پورا کرنے کے لیے نمرہ جیسی معصوم لڑکیوں کو ھی پھساتے ھیں۔۔۔۔معراج نے عمیر کو سمجھایا ۔۔
پر ابھی سب سے ضروری یہ ھے کہ دعا تک کیسے پھنچا جائے۔۔۔۔
معراج نے سوچتے ھوئے کہا۔۔
وہ جانتا تھا زیب معراج کا دوست تھا اور اس کو کافی سمجھتا بھی تھا۔۔۔
اسنے دعا کو کسی ایسی جگہ رکھا ھوگا جو معراج سے چھپی ھوگی۔۔۔
چلو تم دنوں جاو۔۔۔میں کچھ کرتا ھوں۔۔۔
معراج نے پریشان ھوکر کہا۔۔۔
معراج بھائ میں بھی اپ کے ساتھ چلو گا۔۔۔۔عمیر نے بھی بے حد پریشان ھوکر کہا۔۔۔
نہیں عمیر۔۔۔تم اس وقت نمرہ کو دیکھو اور امی ابو کو سنبھالو۔۔۔۔معراج نے فورن کہا تھا۔۔۔
پر بھائ دعا آپی ؟؟؟۔
عمیر نے کہا تھا۔۔۔
دعا کو ڈھونڈ نے کے لیے مجھے یہ دینا بھی چھوڑنی پڑی تو میں چھوڑ دوں گا۔۔۔
بس تم گھر میں کسی کو نا پتہ لگنے دینا۔۔۔۔
میں تمھیں کال پر سب بتاتا رہوں گا۔۔
معراج نے عمیر کو تسلی دی تھی۔۔۔
پھر معراج نمرہ اور عمیر کو اتار کر چلا گیا تھا۔۔۔
اور نمرہ اور عمیر دونوں ہی بے حد پریشان تھے۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
معراج زیب کے گھر گیا تھا تو زیب وہاں موجود نا تھا گھر پر بھی تالا دلا تھا۔۔۔
زیب کے جتنے ٹھکانے تھے جہاں جہاں زیب ھوتا تھا معراج نے ہر ایک جگہ اسکو تلاش کیا تھا پر زیب کا کہی کچھ پتا نا تھا۔۔۔۔
معراج کا جنون سے برا حال تھا۔۔۔۔
زیب جب مجھے تو ملا نا میں تجھے جان سے مار دوں گا تیری اتنی ہمت کے تو نے میری دعا کو۔۔۔
معراج کی آنکھوں سے پھر انسو بہنے لگے تھے۔۔۔
وہ بری طرح سے دعا کو یاد کر رہا تھا ۔۔
دعا کے ساتھ گزارا ایک ایک پال اسکو یاد آرہا تھا۔۔۔
وہ جانتا تھا زیب کے اندر اتنی ہمت نہیں کے وہ دعا کو کوئ نقصان پھنچائے۔۔
لیکن دعا کیسی اور کے پاس قید تھی معراج کا یہ بات سوچ سوچ کے برا حال ھورہا تھا۔۔۔۔
اگر زیب تک کوئ پھنچ سکتی ھے تو وہ ھے ہما۔۔۔
اگر ہما کو میں نے زارہ سے بھی اندازہ ھونے دیا کہ مجھے پتہ چل گیا ھے تو وہ زیب کو بتادے گی اور پھر بات بگڑ جائے گی۔۔۔
دعا تک پھنچنے کے لیے مجھے لازمی ہما کو اپنے یقین میں لینا ھوگا ۔
ہما اور زیب۔۔۔۔۔
بس ایک بار دعا مجھے ملنے دو۔۔۔
میں تم دونوں کی اس حرکت کو تمھارے لیے عزاب بنا دوں گا۔۔۔۔۔۔
معراج نے غصے گاڑی چلاتے ھوئے کہا۔۔۔
پھر معراج سیدھا گاڑی لے کر اپنے گھر ایا تھا۔۔۔
وہ جانتا تھا تمام تماشہ دیکھنے کے لیے ہما یہاں موجود ھوگی۔۔۔۔
وہ گھر ایا تو اتفاق سے ہما لان میں ہی موجود تھی۔۔۔۔۔
معراج سیدھا چلتے ھوئے ہما کے پاس آیا تھا۔۔۔۔
کیا ھوا ملی تمھاری دعا تمھیں ؟؟؟؟؟
ہما نے زہریلی مسکان سجا کر کہا۔۔۔
نہیں معراج نے جواب دیا اور اس کے ساتھ والی کرسی پر جگہ سنبھالی۔۔۔
میں نے پہلے ہی کہا تھا معراج ۔۔۔وہ ایک غلط لڑکی ھے۔۔۔۔تم نے ہی اس پر اتنا بھروسہ کیا جب کہ وہ بھروسے کے بلکل لائق نا تھی۔۔۔۔۔
ہما نے کہا تو معراج کے تن بدن میں اگ لگ گئ لیکن اسنے ہما کے سامنے اس بات کو ظاہر نا ھونے دیا اور چپ رہا کیونکہ ہما ہی وہ واحد راستہ تھی جس سے معراج دعا تک پھنچ سکتا تھا۔۔۔۔۔۔
تم ٹھیک کہتی ھو ہما۔۔۔۔۔۔
معراج نے بڑی مشکل سے یہ جھوٹ کہا تھا۔۔۔
ہما کو لگا کے بس اب اسکی جیت ھونے ہی والی ھے۔۔۔۔۔
معراج !!!
ہما نے فورن معراج کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر کہا تھا۔۔۔۔
اور اسکےمزید پاس ھوئ تھی۔۔۔۔
معراج کیا رکھا ھے اس دو ٹکے کی لڑکی میں۔۔۔۔وہ تو تمھیں چھوڑ کر کسی اور کے ساتھ بھاگ گئ ھے۔۔۔۔
بس دفعہ کرو نا اسے ۔۔۔
بھول جاو۔۔۔۔
دیکھو نا ۔۔۔میں تم سے کتنا پیار کرتی ھوں۔۔۔
اور تم نے اج تک میری طرف نظر تک نا ڈالی۔۔۔۔
ہما نے معراج کی انکھوں میں دیکھتے ھوئے کہا۔۔۔۔
ہمممم تم ٹھیک کہتی ھو ہما۔۔۔
معراج نے اب اپنا گیم شروع کیا تھا۔۔۔اور معراج سے بڑا گیم planer کوئ نہیں ھوسکتا تھا۔۔۔۔
کیا واقعی ؟؟
ہما نے خوشی سے پوچھا۔۔۔
ہاں۔۔۔۔میں دعا کو بھول سکتا ھوں اگر۔۔۔۔۔
معراج کہتے کہتے روکا تھا۔۔۔۔
اگر ؟؟؟
ہما معراج کے مزید پاس ھوئ تھی۔۔۔۔
بولو نا معراج اگر کیا ؟؟؟؟
معراج کو ہما کے وجود سے اس کی قربت سے وحشت ھو رہی تھی ۔۔۔۔لیکن دعا تک پھچنے کے لیے یہ ضروری تھا۔۔۔
اگر تم میرا ساتھ دو۔۔۔
معراج نے ہما کا ہاتھ تھام کر کہا۔۔۔۔۔۔
بسس ہما کو تو لگا اسکی زندگی سب سے بڑی جیت اسکو مل گئ ھے۔۔
تم
تم سچ کہہ رہے ھو معراج ؟؟؟
بولو تم سچ کہہ رہے ھو ؟؟؟
ہما نے خوشی سے معراج کا چہرہ تھام کر کہا۔۔۔۔۔
ہاں۔۔۔۔
معراج نے اپنے لبوں پر جھوٹی مسکان سجا کر کہا۔۔۔
اوووو معراج۔۔۔۔۔
i love you
I love you so much….
ہما کہہ کر فورن معراج کے گلے سے لگی تھی۔۔۔
معراج کا دل کر رہا تھا وہ اس گھٹیا لڑکی کو فورن خود سے دور کر دے مگر مجبوری تھی۔۔۔۔
معراج نے نا چھاتے ھوئے بھی ہما کو گلے سے لگایا۔۔۔۔
معراج میں بہت خوش ھوں۔۔۔
دیکھو نا ایک وقت آیا کہ تمھیں میرا پیار نظر آ ہی گیا۔۔۔۔
ہما معراج کے گلے لگ کر بول رہی تھی۔ ۔
ہاں ہما آگیا۔۔۔۔
معراج نے ہما کو خود سے الگ کر کہ کہا۔۔۔
سب کچھ نظر آگیا۔۔۔
کاش پہلے نظر آجاتا تو تمھارے ساتھ وہ کرتا جو تمھارے وہم و گمان میں بھئ نا ھوتا۔۔۔
معراج نے چبہ چبہ کر کہا۔۔۔مگر ہما اس بات کو معراج کا اقرار سمجھی۔۔۔۔۔
معراج ؟؟؟
ہما نے فورن موقعے سے فائدہ اٹھانا چھا۔۔۔
وہ تو بس معراج کے اشارے کے انتیظار میں تھی ۔۔۔۔
ہمم ؟؟؟معراج نے پوچھا۔۔۔۔
مجھ سے کتنا پیار کرتے ھو تم ؟؟۔ہما نے مسکرا کر پوچھا۔۔۔۔
بہت زیادہ !!!
معراج نے مختصر کہا۔۔۔۔۔۔
تو پھر مجھ سے ابھی کہ ابھی شادی کرو گے ؟؟؟؟
ہما نے معراج کے لیے اسکا کام اور مزید آسان کر دیا تھا۔۔۔ہما معراج کو پھسانا چھا رہی تھی۔۔۔لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ فل وقت وہ پھس رہی ھے۔۔۔۔۔
معراج خاموش رہا۔۔۔
پر ہما ؟؟؟
میں ایک شادی شدہ لڑکا ھوں۔۔۔
معراج نے بنتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔
اھووو کوئ بات نہیں معراج۔۔۔
بس تم اور میں۔۔۔۔۔۔
اور کوئ نہیں۔۔۔۔بولو کرو گے ابھی شادی جب دعا یہ سب کر سکتی ھے تو تم کیوں نہیں ؟؟؟؟
ہما نے کہا۔۔۔۔
ہمممم ٹھیک ھے۔
میں تیار ھوں۔۔۔۔۔
معراج نے فورن کہا۔۔۔
اھوووووو معراج میں اج خوشی سے مرنا جاوں
ہما پھر ایک بار معراج کے گلے لگی تھی۔۔۔۔
ماروں گا تو تمھیں میں ہما بس ایک بار میری دعا کو ملنے دو ۔۔
معراج نے دل میں کہا۔۔۔
تو پھر چلو۔۔۔
ہما نے فورن کہا۔۔۔۔
تم اس حالت میں نکاح کرنے جاو گی ؟؟
معراج نے ہما کے nite suit کو دیکھ کر کہا۔۔۔۔
اھووو اس قدر خوشی ملی ھے کہ کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔۔۔
تم 10 منٹ رکو میں بس تیار ھوکر آتی ھوں ۔۔۔
ہما نے خوشی سے کہا اور بھاگتی ھوئ اندر کی طرف بڑ گئ۔۔۔۔
ہما اندر آتے اتے سوچ رہی تھی۔۔۔
اوووو بیچاری دعا۔۔۔۔
پھر مجھ سے ہار ہی گئ۔۔۔۔
معراج آخر میرا ھو ھی گیا۔۔
ہما جیت گئ۔۔۔۔۔
ہما سمجھ رہئ تھی وہ جیت گئ ھے۔۔۔پر اصلی گیم اب شروع ھوا تھا۔۔۔وہ یہ بھول گئ تھی کہ انسان ایک پاک صاف مظبوط رشتے کو کبھی نہیں توڑ سکتا۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ہما کے جانے کے بعد معراج نے ہما کے پاس سے جو موبائل اس سے گلے ملتے وقت اٹھایا تھا وہ دیکھا۔۔۔۔۔۔
لیکن بد قسمتی سے اس پر pattern lock لگا تھا۔۔۔
شیٹ۔۔۔
معراج کو ایک دم غصہ ایا۔۔۔
معراج نے ایک دو بار try ماری پر لوک نہیں کھولا۔۔۔۔
پھر اچانک خود با خود ہما کا موبئل فوم بجنے لگا۔۔۔۔۔
اسکیرین پر چمکنے والا نمبر نیا تھا۔۔۔۔
معراج نے کال فورن receive کی تھی۔۔۔۔۔
ہیلو ہما !!!
یار یہ دعا تو کسی صورت بھی یہ بات ماننے کو تیار نہیں کے معراج نے اسکو طلاق دے دی ھے۔۔۔
پتہ نہیں کس طرح کا یقین ھے اسکا اپنے شوہر معراج پر۔۔۔۔
مجھ سے دو تھپڑ بھی کھا چکی ھے لیکن پھر بھی معراج معراج کی مالا پڑھنا بند نہیں ھوئ یہ پاگل لڑکی۔۔۔۔۔
زیب ایک سانس میں بول رہا تھا۔۔۔
اور یقین معراج کے لیے زیب کی آواز کو پہچانا مشکل نا تھا۔۔۔۔۔
معراج کا جسم جل رہا تھا۔۔۔۔
زیب نے اسکی پھول جیسی دعا پر ہاتھ اٹھایا تھا۔۔۔۔
بولو تم چپ کیوں ھو اخر ؟؟؟
زیب نے ہما کی خاموشی دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔
اھوو اچھا آس پاس کوئ ھے۔۔۔۔؟؟؟
زیب نے خود ہہ جواب دیا۔۔۔
ہم !!
معراج نے ہلکے سے ہم کہا۔۔۔
اوکے۔۔۔۔۔!!!
زیب نے کال بند کر دی۔۔۔
معراج نے فورن pattern lock کھولنے کئ کوشش کی تھی۔۔۔
لیکن pattern lock نہیں کھولا تھا ۔۔۔معراج نے فورن ہما کی سیم نکال کر اپنے موبئل میں ڈالی تھی اور اس سے زیب کو ہما بن کر میسج کیا تھا۔۔۔
ہاں زیب۔۔۔
بس تھوڑی سی مصروف ھوں میں۔۔۔
تم میسج پر بات کرو۔۔۔
دعا اور تم ھو کہاں آخر معراج تمھیں ہر جگہ ڈھونڈ رہا ھے تم دونوں جہاں ھو ادھر ہی رہنا۔۔۔۔۔
معراج نے یہ لکھ کر میسج سینڈ کر دیا تھا۔۔۔
کچھ پل بعد ہی جواب آگیا تھا۔۔۔
تمھیں پتہ تو ھے ہم کہاں ھیں۔۔۔پھر دوبارہ کیوں پوچھ رہی ھو۔۔۔۔۔۔
یار معراج کے پرانے والے گودام میں بڑے مچھر ھیں ۔۔۔تم پلیز جلدی مجھے بتاو سب پھر میں دعا کو یہاں سے لے کر لاہور جاوں۔۔۔۔
میں نے ٹرین کی ٹکٹ بک کرلی۔۔۔۔
زیب کا مسیج آتے ہی معراج بنا ایک پل لگائے اپنے کمرے میں گیا تھا۔۔۔
اور اپنا پیسٹل اٹھا کر اپنی جیکٹ کی جیب میں رکھا تھا۔۔۔
اور اب ہما کے کمرے میں آیا تھا ہما بھی بس تیار ھوگئ تھی۔۔۔
معراج نے ہما کا ہاتھ تھاما اور اسکو سیدھا اپنے گاڑی میں لاکر بیٹھایا تھا۔۔۔
اور خود اکر driving سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی اسٹاٹ کردی تھی۔۔۔۔
معراج میں اتنی خوش ھو کہ تم سوچ نہیں سکتے ۔۔۔
ہما نے ایک بار پھر خوشی کا اظہار کیا تھا۔۔۔
میں اج کے ایک ایک پل کو اپنے موبئل میں یاد گار باننا چھاتی ھوں۔۔۔
ہما نے اپنا پریس کھول کر موبئل تلاش کیا تھا۔۔۔۔
لیکن موبئل کہی نا تھا۔۔۔
ہما کے چہرے پر ایک رنگ آتا اور جاتا۔۔۔۔۔
کیا ھوا ؟؟؟
معراج نے فورن ہما کو دیکھ کر پوچھا تھا۔۔۔۔
گاڑی کسی اندھیری سڑک پر چل رہی تھی۔۔۔
ککک کچھ نہیں۔۔۔
ہما نے ہچکچاتے ھوئے کہا۔۔۔
کیا کھو گیا ؟؟
معراج نے پھر پوچھا۔۔۔۔
ممم میرا موبئل شاید گھر رہا گیا۔۔۔۔
ہما نے کچھ سوچتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔
معراج نے اپنی جیب سے موبئل ناکل کر ہما کے اگے کیا تھا ۔۔۔
کہی یہ تو نہیں ؟؟؟؟
معراج نے لال انکھوں سے ہما کو دیکھا تھا ۔۔
معراج کے ہاتھ میں اپنا فون دیکھ کر تو ہما کی ھوایاں آڑ گئ تھیں۔۔۔
یہ
یہ موبئل ؟؟
ہما کا چہرہ پسینا پسن ھوگیا تھا۔۔۔۔
معراج نے اپنی لال ھوتی آنکھوں سے ہما کو دیکھا تھا۔۔۔۔
تم نے میرے ساتھ ؟؟؟
ہما نے پھٹی نگاہوں سے معراج کو دیکھا تھا۔۔۔۔
میں تمھارے ساتھ کیا کروں گا تم سوچ نہیں سکتی۔۔۔
چپ چاپ بیٹھی رہو۔۔۔۔
معراج نے تقیربن چلا کر کہا تھا۔۔۔۔۔
ہما کو اپنا گیم ایک بار پھر ہارتا ھوا دیکھائ دیا۔۔۔۔۔
معراج جہاز سے زیادہ تیز گاڑی آرتا اپنے پرانے گودام جارہا تھا۔۔
ہما کو حیرت کا شیدد جھٹکا تب لگا تھا جب معراج نے high way کارس کیا تھا۔۔
یعنی معراج جان گیا تھا کہ دعا کہاں ھے۔۔۔
ہما کو سمجھ نا آرہا تھا کہ وہ اب کیا کرے۔۔۔۔۔
معراج !!!!!ہما نے دھیمے سے معراج کو پکارا تھا۔۔۔۔
خبرداررررررر
خبردارررررر
جو اب کوئ بقواس کی ۔۔۔۔ادھر یہاں ہی جان سے مار دوں گا۔۔۔۔۔
معراج کی انکھوں سے ہما کو ایک دم خوف سا محسوس ھوا تھا۔۔۔
معراج کی انکھوں میں جنون یا ضد نہیں۔۔۔۔۔۔تھی۔۔۔
بلکہ
جنون کی انتھاء تھی۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
دعا
دعا
دعا
میری پیاری سی دعا۔۔۔۔۔
آخیر تم کیون اتنی ضدی ھو۔۔۔
مجھ سے اب تک کتنی مار کھا چکی ھو پھر بھی نہیں سمجھ رہی۔۔۔۔
تمھارا معراج نہیں ھے وہ۔۔۔
تمھارا صرف زیب ھے بابا۔۔۔۔۔
زیب اب دعا کا ہاتھ زبردستی تھام کر بول رہا تھا۔۔۔۔۔
تمھارا معراج۔۔۔
ہاہاہا۔۔۔۔
چلو کچھ کھا لو۔۔۔۔
دیکھو کتنا خون بہہ گیا ھے تمھارا اس معراج کے نام کی وجہ سے۔۔۔
زیب نے دعا کے ھونٹوں کو چھونے کی خوشش کی تو دعا نے ایک دم اپنی ٹانگ چلا کر زیب کو پہچھے کیا تھا۔۔۔۔
مجھے ہاتھ لگایا تو جان سے مار دوں گہی۔۔
دعا نے چیلا کر کہا تھا۔۔۔۔
اففففف رسی جل گئ مگر بل نہیں گئے۔
ابھی تک ویسی کی ویسی ھی ھو۔۔۔۔۔
زیب نے ھنس کر کہا تھا۔۔۔
ویسے قسم خدا کی چیز تم۔بڑی مست ھو ۔۔
اتنی خوبصورت ۔۔۔۔
اتنی گوری پیاری۔۔۔
پڑھی لکھی سمجھ دار ۔۔۔
معراج میاں کی lottery لگ گئ تھی جو میں نے اس سے چھین لی ۔
زیب نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔۔
ویسے تمھیں دیکھ کر نا بندہ ویسی اپنا ھوش کھو بیٹھتا ھے۔
دیکھو مجھے۔۔۔۔مر رہا ھوں تمھیں چھونے کے لیے۔۔۔۔۔
زیب کی آنکھوں میں اب حیوانیت اتر آئ تھی۔۔۔۔۔
میں تم پر تھوک نا پھنیکو۔۔۔۔
دعا نے چلا کر کہا۔۔۔
تم جیسے مرد انتھائ زلیل اور بے غیرت ھوتے ھیں۔۔۔۔۔
تھو لعنت ھے تم پر لعنت۔۔۔
دعا نے بے بس ھوکر ۔۔۔۔۔۔کہا تھا۔۔۔۔
ہاہاہا۔۔۔تمھاری لعنت بھی منظور ھے بے بی۔۔
زیب اب دعا کے پاس چل کر آیا تھا۔۔۔۔
تم نے کب سے یہ حجاب اوڑھ رکھا ھے چلو اب ہمارے بیچ کیا پردہ اسکو میں اتار دیتا ھوں۔۔۔۔۔۔
دعا کو لگا تھا بس اس پل اس کے جسم سے جان چلی جائے گئ ۔۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔
میرے قریب مت آنا۔۔۔۔۔
دعا نے اپنے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی تھی۔۔۔
جانو۔۔۔اب میں ہی تمھارے پاس آوں گا۔۔
زیب نے اسکے حجاب کا کونا پکڑا تھا۔۔۔
اللہ پاک میری عزت کی حفاظت کر۔۔۔
مجھے ایسے رسوا مت کر میرے اللہ۔۔۔
دعا انے اتنی سی دیر میں اللہ سے لاکھوں دعائیں مانگ لی تھی ۔۔
ہزاروں بار معراج کو پکارا تھا۔۔۔۔
زیب دعا کا حجاب کھینچ نے ہی والا تھا کہ۔۔۔۔
گودام کے دروازے پر دستک ھوئ تھی۔۔
زیب نے ایک دم دعا کا حجاب چھوڑا تھا اور گیٹ کی طرف لپکا تھا۔۔۔۔
یا اللہ۔۔۔۔
میری مدد کر ۔۔۔
میری عزت کو بچا میرے مالک۔۔۔
مجھے میرے شوہر کے لیے پاک اور صاف رکھنا میرے اللہ۔۔۔پلیز۔۔۔۔۔
معراج کہاں ھیں اپ۔۔۔
اپکی دعا اپکو بلا رہی ھے۔۔۔۔۔
دعا نے بری طرح بلکتے ھوئے روتے روتے کہا۔۔۔
زیب نے چھپکے سے جھانک کر دیکھا تو باہر کافی اندھیر تھا کوئ نظر نآ ایا تھا۔۔۔
تو اس نے مجبورن آواز بدل کر پوچھا تھا۔۔۔۔
کون ھے ؟؟؟؟
زیب میں ہما ھوں دروازہ کھولو۔۔۔
باہر سے ہما کی آواز ائ تھی تو زیب تھوڑا نارمل ھوا تھا اور فورن دروازہ کھولا تھا۔۔۔۔
اور خود موڑ کر اندر کی طرف موڑا تھا۔۔۔
اتنی رات کو کیا موت پڑی تھی تمھیں آنے کی اچھا خاصا بنا شادی کا ہنی مون بنے والا تھا۔۔۔
زیب ھنستا ھوا بول رہا تھا۔۔۔اور اگے بڑھ رہا تھا۔۔۔
وہ سمجھا ہما اس کے پیچھے آرہی ھے۔۔۔۔
ہما کی کوئ آواز نا آنے پر زیب نے پلٹ کر دیکھا تو اسکی انکھیں پھٹی کی پھٹی رہے گئ۔۔۔۔
سانس رک گئ۔۔۔
دل کی ڈھڑکن تھم نے لگی۔۔۔۔
ڈر کے مارے ٹانگیں تھر تھر کانپ نے لگی تھی۔۔۔
سامنے ہما نہیں بلکے معراج کھڑا تھا جس کی انکھوں سے بس خون بہنے کی کمی تھی۔۔۔۔۔
زیب کو تو جیسے سانپ سنوگ گیا تھا۔۔۔
ہلق خوشک ھوگیا تھا۔۔۔
تو ؟؟؟
زیب کے منہ سے ابھی پورا ادا بھی نا ھوا تھا۔۔۔
کہ معراج نے تیزی سے اگے بڑھ کر پوری طاقت سے زیب کے منہ پر مکھا مارا تھا۔۔۔۔
اور ساتھ ہی تین چار تھپڑ بھی مارے تھے۔۔۔۔
زیب خود کو سنبھال نا پیا تھا۔۔۔اور سیدھا جاکر دعا کے سامنے گیرا تھا دعا نے نظر اٹھا کر دیکھا تو معراج سامنے سے آتا دیکھائ دیا۔۔۔۔
دعا کو یقین نا آیا۔۔۔
ممم معراج
معراج
معراج ؟؟؟
دعا کی انکھوں سے زارو قطار آنسو بہہ رہے تھے۔۔۔۔
منہ سے الفاظ ادا نہیں ھو رہے تھے۔۔۔۔
معراج بھی بنا ایک پل لگائ دعا کی طرف بڑھا تھا۔۔۔
میری جان۔۔۔۔
میری دعا۔۔۔۔
معراج کی انکھوں سے بھی انسو بری طرژ ٹپک رہے تھے۔۔۔۔
ممم
معراج۔۔۔۔۔
دعا بار بار معراج کا نام دھورا رہی تھی۔۔۔۔
ہاں میری جان دیکھو میں آگیا۔۔۔۔۔
معراج نے دعا کی ہاتھ کھولتے ھوئے کہا تھا۔۔۔
ہاتھ کھولتے ہی دعا معراج کی بھاہوں میں ایسے چھپ گئ تھی۔۔۔
جیسے برسوں سے دونوں ایک دوسرے سے دور ھوں۔۔۔۔
معراج !!!!!!!!!
راجججججج !!!!
دعا معراج کی بھاہون میں بری طرح پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔۔ وہ بہت زیادہ ڈر گئ تھی
معراج نے پوری طاقت سے دعا کو اپنے اندر چھپایا تھا اور یہ حساس دیلا تھا کہ وہ اگیا۔۔۔۔۔
معراج مجھے کبھی مت اکیلا چھوڑئے گا۔۔۔
دعا نے روتے ھوئے معراج کے گلے سے لگ لر کہا۔ ۔
کبھی نہیں میری جان کبھی نہیں۔۔۔
معراج نے دعا کو خود اے الگ کیا تھا۔۔۔
اور دعا کا ماتھا اس کے رخسار کو پاگلوں کی طرح چوما تھا۔۔۔۔
دعا کو دیکھ کر وہ بلکل ھوش کھو چکا تھا۔۔۔۔
دعا یہ خون ؟؟؟
معراج نے دعا کے ھونٹ کے پاس جما خون دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔
اسنے تمھیں مارہ ؟؟؟
معراج نے دعا سے پوچھا۔۔۔۔ ہاں۔۔۔دعا نے روتے روتے کہا۔۔۔
زیب ابھی تک ویسے کا ویسی بے سد زمین پر پڑا تھا۔۔۔۔
ہما بھاگ کر زیب کے پاس ائ تھی اٹھو اور کچھ کرو۔۔۔
ہما نے زیب کو سہارہ دے کر اٹھایا تھا۔۔۔
زیب ابھی اٹھ کر کھڑا ہی ھوا تھا ۔۔۔کہ معراج یہ سن کر اپے سے باہر ھوگیا تھا کہ اس نے دعا پر ہاتھ اٹھایا ھے۔۔۔
معراج نے زیب کے دوبارہ کھڑے ھوتے ہی اسکو گربان سے پکڑ کر بری طرح مارنا شروع کیا تھا۔۔۔۔
ایک کے بعد ایک وہ تھپڑوں اور مکوں کی برسات کر رہا تھا ۔
تیری ہمت کیسے ھوئ دعا کو چھونےکی۔۔۔
بیوی ھے وہ میری پیار کرتا ھوں اس سے میں۔۔۔۔
تو نے میری بیوی پر ہاتھ اٹھایا۔۔۔۔
میں تجھے جان سے مار دون گا۔۔۔۔۔
معراج بری طرح سے زیب کو مار رہا تھا۔۔۔۔
زیب کے اندر اتنا دم نا تھا کہ وہ معراج جیسے انسان سے لڑ پاتا۔۔۔۔
معراج کا جنون دیکھنے لائق تھا۔۔۔۔۔
میری دعا کو مارا۔۔۔۔۔
میری دعا کو۔۔۔۔
دعا تھوڑی دور کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
اور اج پہلی بار اسکو کسی کے پٹنے پر افسوس نہیں خوشی ھورہی تھی۔۔۔
راج اسکو بہت ماریں۔۔۔۔
دعا روتے روتے پیچھے سے بول رہی تھی۔۔۔
ہما بلکل سن کھڑی تھی۔۔۔
بلکل چپ چاپ۔۔۔۔
اپنی ہار کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
جنون حد پار گر گیا تھا۔۔۔۔
زیب بلکل ہلکان ھوچکا۔۔۔۔معراج نے اسکو اس قدر مارا تھا کہ وہ تقریبن مرنے کے قریب تھا۔۔۔
اسکا خون نم خون ھوتا چہرہ۔۔۔۔۔
بلکل پھٹ چکا تھا۔۔۔
لیکن معراج کا جنون کسی صورت کم نہیں ھورہا تھا۔۔ ۔
لڑتے وقت معراج کی گن اس کی جیب سے نکل کر نیچھے گر گئ تھی۔۔۔
معراج نے جی بھر کر زیب کو مارہ تھا۔۔۔
زیب بلکل بے ھوشی میں تھا۔۔۔۔۔
ہما کی نظر جیسی گن پر پڑی وہ ایک دم گن کی طرف لپکی۔۔۔۔
دعا اور معراج دنوں کا دھیان زیب پر تھا۔۔۔۔
معراج !!!!
چھوڑ دو زیب کو۔۔۔
نہیں تو گولی مار دوں گی۔۔۔
ہما نے چیخ کر کہا تھا۔۔۔
معراج نے ایک دم زیب کو ڈھکا تو وہ زمین پر بری طرح سے گیرا۔۔۔۔
جب کے ہما کے ہاتھ میں گن دیکھ کر دعا کو معراج کی فکر شروع ھوگئ تھی۔۔۔
گولی مارو گی ؟؟؟
معراج نے ہما کی طرف قدم بڑھاتے ھوئے پوچھا۔
ہاں گولی مار دوں گی ۔۔
خبردار جو تم اگے بڑھے۔۔۔۔
ہما نے گن معراج کی طرف کر کہ کہا۔۔۔
مارو گولی۔۔۔۔۔
مارو۔۔۔۔
معراج نے بڑھتے بڑھتے کہا تھا۔۔۔
ہما کے ہاتھ اب بری برح کانپ رہے تھے۔۔۔۔۔۔
معراج میں کہتی ھوں روک جاوں۔۔۔
ہما نے کپکاتی آواز سے کہا ۔۔۔۔۔۔۔
معراج اسی طرح اسکی طرف بڑھ رہا تھا۔
جب ہما نے اسکی کمزوری پر وار کیا تھا۔۔۔۔۔
ہما نے مسکرا کر معراج کو دیکھا تھا۔۔۔۔
تم میرے نہیں ھوئے تو میں تمھیں اسکا بھی ھونے نہیں دون گی جس کے تم ھونا چھاتے ھو۔۔۔۔
ہما نے معراج کو اپنے پاس آتا دیکھ کر کہا۔۔۔
اور ایک دم ہی گن کر رخ تھوڑا موڑ کر گولی چلا دی۔۔۔۔۔
گولی گن سے نکل چکی تھی۔۔۔
معراج !!!!!
دعا کی درد سے ایک آواز نکلی تھی۔۔۔
معراج نے پلٹ کر دیکھا تو دعا اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھی کھڑی تھی۔۔۔۔۔۔
اور خون بری بری طرح سے بھنا شروع ھوا تھا۔۔۔۔
دعااااااااااااااااا !!!
معراج پوری طاقت سے چلایا تھا۔۔۔
اور بھاگ کر دعا کے پاس واپس گیا تھا۔۔۔۔
دعا بس لھڑکڑا کر گیرنے ہی والی تھی کہ معراج نے اکر اسکو اپنی باہوں میں لیا تھا۔۔۔۔۔۔
دعاااااااااااااا
دعاااااااااااا
معراج پاگلوں کی طرح چیخ رہا تھا۔۔۔۔
ہما دور سے کھڑی ان دونون کو دیکھ رہئ تھی۔۔۔۔
پھر ایک اور گولی چلنے کی آواز آئ تھی۔۔۔۔۔
معراج نے نظر اٹھا کر دیکھا تو ہما نے اپنے اپ کو بھی گولی مار لی تھی۔۔۔
دعااااااا
میری جان۔۔۔۔۔
دعا درد سے قرارئ رہی تھی۔۔۔۔۔
اور بہت ہمت کر کے بول رہئ تھی۔۔۔
معراج !!!!!
میری
جان میں
میں
اپ سے بہت پیار کرتی ھوں۔۔۔
دعا اٹک اٹک کر بول رہی تھی۔۔۔
خون بہہ جانے کی وجہ سے وہ نیم بے ھوشی میں جارہی تھی۔۔۔
اپ کو حد سے زیادہ چھاتی ھوں ۔۔۔
راج
لیکن کاششش۔۔۔
اپ سے یہ سب میں پہلے بول دیتی تو۔۔۔
تو اج !!!!!! اہ اہ اہ۔۔۔دعا بولتے بولتے درد سے قرائ تھی۔۔۔
مجھے اتنا درد نا ھوتا۔۔۔۔
کسی کے لیے زندگی نہیں رکتی
جو غلطی پہلے ھو چکی اسکو مت دھورانا۔۔۔۔
میں
میں آاا
نا ھو کہ بھی تمھارے ساتھ ھوں ۔۔۔
خون بری طرح بہہ چکا تھا سانس رک رک کر آرہی تھی۔۔
دعا ھچکیاں لیتے لیتے بول رہی تھی۔۔۔۔
معراج کا دل بند ھونے والا تھا۔۔۔۔۔
خدا کے لیے ایسے نہیں بولو۔۔
تمھیں کچھ نہیں ھوسکتا۔۔۔۔۔
معراج نے دعا کو زور سے اپنے گلے سے لگایا تھا ۔۔۔
اور فورن اپنی گود میں اٹھا کر گاڑی تک لیا تھا۔۔۔۔۔
دعا درد سے قرا رہی تھی۔۔۔
دعا میں
میں
تمھیں کچھ نہیں ھونے دوں گا۔۔۔۔
تمھیں کچھ نہیں ھوسکتا ۔۔۔۔
دعا بس تم نے سونا نہں ھے ۔۔۔
میری جان مجھ سے باتیں کرو۔۔۔۔
معراج دعا کو اٹھا کر گاڑی پاس لا رہا تھا۔۔۔۔۔
دعا نیم بند انکھوں سے معراج کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
راج
راج
دعا نے مدھوش آواز میں کہا۔۔۔
بولو جان۔۔۔۔۔۔
میں ھوں کچھ نہیں ھونے دوں گا۔۔۔۔
mairaj
i
i
love you….
دعا نے ایک دم سے معراج کو کہا تھا۔۔۔معراج نے چلتے چلتے اپنی بہاھوں میں پکڑی دعا کو دیکھا تھا۔۔۔۔
دعا مسکرا کر معراج کو دیکھ رہئ تھی۔۔۔۔
پھر ایک دم دعا نے آنکھیں بند کرلی تھیں۔۔۔
معراج بری طرح رو رہا تھا۔۔۔۔
دعاااااااااااااااااااااا
معراج نے دعا کو لر کر گاڑی میں بیٹھایا اور خود گاڑی کو بہت تیز رفتاری سے چلاتا وہ ھسپتال پھنچا تھا۔۔۔۔
دعا کو پورے راستے وہ جگانے کی کوشش کرتا رہا مگر دعا نے انکھیں نا کھولی۔۔۔
وہ پورا راستہ پاگلوں کی طرح دعا کی زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا اللہ سے۔۔
میرے اللہ پلیز دعا کو کچھ نا ھونے دینا۔۔۔
دعا کو زندگی دینا میرے اللہ۔۔۔
دعا کے بغیر میری زندگی بے معنی ھوجائے گی ۔۔۔
میرے اللہ دعا کو زندگی دے۔۔۔
معراج نے ھسپتال آتے ہی دعا کو گاڑی سے نکال کر پھر اپنی گود سے میں اٹھایا تھا۔۔۔
اور دعا کا نڈھال بے ھوش ھوتا جسم لے کر ہسپتال میں داخل ھوا تھا۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر۔۔۔
ڈاکٹر۔۔۔۔
معراج پورے ھسپتال میں چیلا رہا تھا ۔۔۔
سر اپ انکو یہاں لیٹا دیں۔۔۔
نرس نے اسٹریچر کی طرف اشارہ کیا تو معراج نے دعا کو لیٹا دیا۔۔۔
ڈاکٹر نے اکر فورن دعا کو i.c.u میں لے جانے کو کہا تھا۔۔۔۔
دعا کو ائ سی یو میں لے جایا جارہ تھا۔۔۔۔
معراج کسی صورت اسکا ہاتھ نہیں چھوڑ رہا تھا۔
آپ پلیز صبر رکھیں اللہ سب خیر کریں گے…
ڈاکٹر نے معراج کی حالت دیکھ کر کہا معراج کے ہاتھ سے دعا کا ہاتھ چھوٹ رہا تھا۔۔۔۔
دعا ؟؟؟
دعا ؟؟؟
معراج کی انکھوں سے زارو قطار آنسو نکل رہے تھے۔۔۔
دعا جب اندر چلی گئ تو معراج باہر ہی کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔
ایک بار پھر زندگی نے اسکو ایک ایسے موڑ پر لاکر کھڑا کر دیا تھا۔۔۔
جہاں بہت سال پہلے وہ کھڑا ھوا تھا۔۔۔۔
اور اج ایک بار پھر وہ اسی جگہ تھا۔۔۔
جس لڑکی سے وہ بے انتھائ عشق کرتا تھا وہ اج زندگی اور موت کی جنگ میں تھی۔۔۔۔
معراج کے زہن میں دعا کی ایک ایک عادا ایک ایک بات یاد آرہی تھی۔۔۔۔۔
جس طرح وہ ھنستی تھی۔۔
جس طرح وہ لڑتی تھی۔۔۔
جیسے وہ خوش ھوتی تھی۔۔۔۔
میری جان دعا پلیز واپس آجاوں نا ۔۔۔۔
پلیز۔۔۔
مجھے چھوڑ کر مت جانا دعا
اپنے راج کو تنھاء نا کرنا۔۔۔۔۔۔
معراج کی آنکھیں نم تھیں۔۔۔۔۔
وہ ابھی بیٹھا سوچ ہی رہا تھا۔۔۔کہ اس کے موبئل پر عمیر کی کال ائ تھی۔۔۔
معراج نے کال اٹھائ۔۔۔
ہیلو معراج بھائ دعا آپی کہاں ھیں ؟؟
عمیر نے سب سے پہلا سوال یہ ہی کیا تھا۔۔۔۔۔
عمیر دعا۔۔
دعا ۔
کو گولی لگی ھے ۔۔
معراج نے بہت ہمت کر کہ بتایا تھا۔۔۔معراج کی آواز درد سے بھری تھی۔۔۔
کیا ؟؟؟؟؟؟؟
دعا آپی کو ؟؟
اپ کس ہسپتال میں ھیں۔۔۔۔
میں بس ارہا ھوں۔۔۔۔
عمیر بھی گھبرایا تھا۔۔۔معراج نے عمیر کو نام وغیرہ بتا کر فون بند کر دیا تھا۔۔۔۔
اور خود اٹھ کر مسجد آگیا تھا۔۔۔۔
وضو کر کے معراج نے رک رک کر نماز ادا کی تھی
نماز کا سلام پھیر کر معراج بچوں کی طرح اللہ سے ضد کر رہا تھا ۔۔۔۔
میرے اللہ میں جانتا ھوں۔۔۔میں نے ضد کی دعا کو ضد سے ھاصل کیا میرا طریقہ غلط تھا۔۔۔۔
میری ضد جنون بن گئ تھی۔۔۔
پر اللہ سچی محبت بھی تو وہی ھے جس میں جنون ھے۔۔۔
اللہ پلیز دعا کو زندگی دے۔۔۔
معراج کافی دیر وہاں بیٹھا رہا پھر واپس آیا تو احمد صاحب سمیرا بیگم کے ساتھ ساتھ معراج کے گھر والے بھی
موجود تھے۔۔
معراج نے کسی سے بات نا کی اور اکر دعا کے ائ سی یو کے باہر کھڑا ھوگیا۔۔۔
کافی دیر بعد ڈاکٹر کمرے سے باہر نکلے تھے۔۔۔۔
ڈاکٹر ؟؟دعا ؟؟
معراج نے فورن پوچھا تھا۔ ۔۔۔۔
اللہ نے اپ کی سن لی ھے میری زندگی کا یہ پہلا کیس ھے جو اتنا خون بھی بہہ جانے کے بعد جان بجھ گئ ھے۔۔۔
this is a marical…
ڈاکٹر نے مسکرا کر معراج کو دیکھ کر کہا تھا….
معراج کی تو خوشی کا ٹھکانا با تھا۔۔۔
ڈاکٹر
میں دعا سے مل سکتا ھوں۔۔۔۔
پلیز۔۔۔
معراج نے فورن کہا تھا۔۔۔
دعا نے ایک ایک پل کی دوری اس کے لیے بہت مشکل تھی۔۔۔۔
جی ضرور۔۔۔
ڈاکٹر نے مسکرا کر کہا تھا۔۔۔
معراج بنا ایک پل لگائے دعا کی پاس اندر کمرے میں داخل ھوا تھا۔۔۔
دعا منہ پر oxygen لگائےلیٹی تھی۔۔۔۔معراج جاکر اس کے پاس والی کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔۔
کہا تھا نا مجھے چھوڑ کو جاوں گی تو واپس بلا لوں گا۔۔۔۔
معراج نے سوتی دعا کو دیکھ کر کہا۔۔۔
اور پھر دعا کا ہاتھ پکڑ کر چوم لیا۔۔۔۔۔
اللہ نے معراج کی سن لی تھی۔۔۔۔اللہ نے معراج کو اس کی دعا دے دی تھی
AFTER SIX MONTH……
گلابی اور نیلے کلر کے خوبصورت سے لینگے میں وہ ولیمے کی دلہن بنی بے حد پیاری لگ رہی تھی۔۔۔
اج سے ٹھیک ایک سال پہلے اسکی شادئ ھوئ تھی۔۔۔
اور اج ٹھیک ایک سال بعد اسکا ولیمہ بھی تھا اور شادی کی سالگرہ بھی۔۔۔۔
بیوٹیشن نے اسکو تیار کر دیا تھا اور اب اس پرفائنل نظر ڈال رہی تھی۔۔۔
اپ بے حد حسین لگ رہی ھیں۔۔۔میڈم۔۔۔۔
بیوٹیشن نے کہا تو وہ ھسنے لگی۔۔۔
یہ تو میرے شوہر کے عشق کا رنگ ھے۔
اس نے مسکرا کر کہا۔۔۔وہ اج بہت خوش تھی۔۔۔۔
اج سے ایک سال پہلے اسی دن وہ بہت روئ تھی۔۔۔اور اج ایک سال بعد اسکے خوشی کا ٹھکانا نا تھا۔۔۔۔۔۔
دعا آپی۔۔۔۔۔
قسم نے معراج بھائ کے اندر صبر نام کی کوئ چیز نہیں ھے۔
نمرہ کمرے میں داخل ھوتے ھوئے بول رہی تھی۔۔۔
ہاہہاہا کیوں دعا نے ھنستے ھنستے پوچھا۔۔۔۔
بس انکا بس چلے نا تو اپ کو بھاگا کے لے جائیں ۔۔۔
جب سے ائے ھیں ایک رٹ لگائ ھے دعا کو بلاو۔۔۔۔
نمرہ نے منہ بنا کر ھنس کہ کہا۔۔۔۔۔
ہاہاہا اچھا۔۔۔تو صیح کہہ رہے ھیں۔۔۔چلو جلدی لے کر چلو۔۔۔
دعا نے کھڑے ھوتے ھوئے کہا۔۔۔
لوجی دلہا تو دلہا ادھر دلہن کو بھی بڑی جلدی ھے۔۔۔۔
نمرہ نے ھنس کر کہا تو دعا بھی ھنس دی۔۔۔
پھر نمرہ دعا کو تھام کر ہال میں لائ تھی۔۔۔ ۔
ہال میں سب مجود تھے
معراج نے اس پر ایک نظر ڈالی تھی۔۔۔۔
وہ اج سے ایک سال پہلے جیسی پیاری اور معصوم تھی۔۔۔اج ٹھیک ایک سال بعد وہ ایسی ہی تھی۔۔۔۔۔
معراج نے اسٹیج سے اٹھ کر دعا کو ہاتھ دیا تھا۔۔۔
دعا نے معراج کا ہاتھ تھاما اور اسٹیج پر چھڑی تھی۔۔۔
معراج نے مسکرا کر دعا کو دیکھا اور دعا نے معراج کو۔۔۔۔۔۔
معراج بھی اج بے حد وجیہ اور حسین لگ رہا تھا۔۔۔۔۔
میری زندگی۔۔۔
معراج نےدعا کو مسکرا کر دیکھ کر کہا تو دعا نے سر جھکا لیا۔۔۔۔۔۔
سب لوگ بہت خوش تھے۔۔۔
احمد صاحب اور سمیرا بیگم بھی مطمئن تھے
معراج اور دعا دونوں کی زندگی میں اب خوشیاں آچکی تھیں۔۔۔۔۔۔
ولیمے کی تقریب کے بعد معراج دعا کو فورن ھی رخصت کر کے لے ایا تھا۔۔۔
دعا پچھلے 6 مہینے سے اپنی طبعت کی وجہ سے اپنے میکے میں رہے رہی تھی۔۔۔
پھر جب دعا ٹھیک ھوئ تو سب نے کہا کہ دعا اور معراج کا نکا کروا کر ہی اس کو بھیجا جائے۔۔۔۔۔
اج دونوں کا خیر سے ولیمہ ھوگیا تھا۔۔۔۔۔اور اب معراج دعا کی خوشی سے اسکو اپنے گھر لے جارہا تھا۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ سجے ھوئے کمرے میں معراج کا ہاتھ تھام کر داخل ھوئ تھی۔۔۔۔
معراج نے کمرے میں داخل ھوتے ہی فورن کمرہ بند کر لہا تھا۔۔۔۔
چھ مہینوں میں اس کمرے میں صرف اتنا فرق ایا تھا جس دیوار پر معراج کی اکیلے کی تصویر لگی تھی اب وہاں دعا اور معراج کی ایک بہت حسین تصویر بڑے سے frame میں کر کے لگا دی گئ تھی۔۔۔
دعا نے ایک بار پورے کمرے پر نظر گھومائ تھی۔۔۔۔
اور اس کمرے میں اکر اسکو سکون سا ملا تھا۔۔۔۔
ابھی وہ کھڑی سب دیکھ رہی تھی جب معراج نے اکر اسکو پیچھے سے پکڑا تھا۔۔۔۔۔
میری جان۔۔
اس کمرے نے
اور میں نے تمھیں بہت بہت بہت یاد کیا ھے۔۔۔
welcome back home…
معراج نے دعا کا رخ اپنی طرف موڑ کر کہا تھا۔۔۔۔
دعا نے معراج کا چہرہ غور سے دیکھا تھا ۔۔
وہ اج انتھاء سے زیادہ خوش تھا۔۔۔۔۔
بہت حسین لگ رہی ھو۔۔۔۔
معراج نے دعا کو اپنے اور پاس کیا تھا۔۔۔اور اپنے ہاتھ اس کی کمر پر رکھےتھے۔۔۔۔
تو اج میڈم مجھے میرے تمام تر حق دے رہی ھیں ؟؟؟
معراج نے شرارت سے دعا کے نزدیک ھوکر کہا تھا۔۔۔۔
جی نہیں۔۔۔۔۔
دعا نے فورن ھنس کر کہا تھا۔۔۔۔
اب کیوں جی نہیں ؟؟
معراج نے اسکو مزید خود میں سمایا تھا۔۔۔
بسسسس نہیں۔۔۔
دعا نے شرارت سے کہا تھا اور اپنا اپ معراج سے چھڑوا کر دور ھوئ تھی۔۔۔۔
نہیں کی بچی معراج دعا کے پاس آیا تھا۔۔۔
اور اکر اسکو اپنی گود میں اٹھایا تھا۔۔۔اور لا کر بیڈ پر لیٹایا تھا اور خود بھی اسکے ساتھ ایک کروٹ ھوکر لیٹ گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اب دعا کے ہاتھو کو تھام کر اس پر جھکا اسکو دیکھ رہا تھا۔۔۔
اب تو کہی نہیں جانے دوں گا۔۔۔۔
معراج نے کہہ کر دعا کا ماتھا چوما تھا۔۔۔۔۔
دعا کو اپنے دل کی ڈھڑکن تیز ھوتئ محسوس ھوئ تھی۔۔۔۔
جانتی ھو دعا۔۔۔
تمھیں بہت یاد کیا میں نے۔۔۔
تمھارے بنا ایک ایک پل عزاب سے کم نا تھا۔۔۔
معراج اب سنجیدگی سے بول رہا تھا اور ساتھ ساتھ دعا کے زیور اتارنا شروع کیے تھے۔۔۔۔
پھر اسکا حجاب اور اور شرارے کا ڈوپٹہ اتار کر ایک طرف رکھا تھا۔۔۔۔۔۔
دعا خاموشی سے معراج کے پاس لیٹی تھی۔۔۔
دعا !!!
معراج نے اب دعا کی آنکھیں چومی تھی۔۔۔۔۔
دعا اسکی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔۔ ۔
i love u mrs mairaj jhangir.
معراج نے دھیمے سے کہا تھا۔۔۔
تو دعا مسکرا دی تھی۔۔۔
پھر بہت ہلکے سے بولی تھی۔۔۔
i love you to mr mairaj
معراج نے دعا کہ منہ سے یہ الفاظ سنتے ہی اسکو اپنی سینے سے لگایا تھا۔۔۔
اور دعا اسکی بھاہوں میں چھپ کر لیٹ گئ تھی۔۔
اج کتنے دونوں بعد دونوں ایک دوسرے کو محسوس کر رہے تھے۔۔۔۔۔
معراج نے اب دعا کو خود سے الگ کیا تھا۔۔۔۔
اور ہلکے سے اپنے لب دعا کے ماتھے پر رکھ کر اسکو چوما تھا۔۔۔
میں تم سے اس قدر پیار کروں گا ۔۔کہ تم میرے پیار سے تنگ پڑ جاو گی۔۔۔۔۔
بس دعا کبھی مجھ سے کچھ چھپانا مت۔۔۔۔۔۔
معراج نے دھیمے سے کہا تھا۔۔۔تو دعا کو ایک دم 6 مہینے پہلے والا واقع یاد آیا تھا اور وہ اداس ھوئ تھی۔۔۔۔
معراج مجھے معاف کر دیں مجھے اپ سے زیب!!!
دعا ابھی بول رہہ تھی کہ معراج نے اسکےلبوں پر انگلی رک دی تھی ۔
بسسس جو ھو گیا اسکو ایک برا خواب سمجھ کر بھول جاو۔۔۔
اج کی رات میں اور تم اپنی نئ زندگی اس وعدے سے شروع کریں گے کہ ہمارے درمیان کوئ پردہ نہیں ھوگا۔۔۔
شک نہیں ھوگا۔۔۔۔۔
انشاءاللہ دعا نے معراج کے چہرے پر ہاتھ پھیر کر کہا تھا۔۔۔۔۔
معراج دھیرے دھیرے دعا کے رخسار پر جھکا تھا ۔۔۔اور اب ایک ایک کر کہ دعا کے گال پر بوسہ دے رہا تھا ۔۔
دعا کی سانس پھول رہی تھی۔۔۔
جبکہ معراج ہمیشہ کی طرح دعا کے نشے میں کھو رہا تھا۔۔۔
معراج اب دعا کے لبوں پر جھکا تھا۔۔۔
جب اس نے دھیرے سے دعا کو پکارا تھا۔۔
دعا ؟؟؟
دعا نے ہمم کہا تھا۔۔۔۔
اج میرے حق مجھے تم اپنی خوشی سے دے رہی ھو ۔۔۔
معراج نے مدھوش ھوتی آواز سے پوچھا تھا۔۔۔
اور خود دعا کی بڑی بڑی انکھوں میں جھانک رہا تھا۔۔۔۔
دعا بھی اسکی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔۔۔
پھر ایک دم دعا نے معراج کو اپنی طرف پیار سے کھینچا تھا۔۔۔۔
میں پوری کی پوری اپکی ھوں۔۔۔
میرا ہر ایک حق اپکا ھے میری جان۔۔۔
دعا نے سرگوشی کی تھی۔۔۔۔
معراج نے مسکرا کر دعا کو دیکھا تھا ۔۔
اور پھر دھیرے سے پورا کا پورا دعا کے لبوں پر جھک گیا تھا۔۔۔
اج دعا شرما کر نہیں بھاگی تھی ۔۔۔۔۔وہ اج اپنے تمام حق معراج کو سونپ رہی تھی۔۔۔
اپنا آپ معراج کے حوالے کر رہی تھی۔۔
وہ ایک روح ھونے جارہے تھے۔۔۔
اج کی رات ایک مبارک زندگی کی شروعات کی رات تھی۔۔۔
پیار کی رات تھی۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سب کچھ ٹھیک ھو گیا تھا ۔۔
جہانگیر صاحب نے بھئ دعا سے معافی مانگ لی تھی۔۔۔
معراج نے بھی جہانگیر صاحب کو معاف کر دیا تھا۔۔۔
زیب جیل میں اپنی قید کاٹ رہا تھا جبکہ ہما نے اپنے ہاتھ سے اپنی جان لے لی تھی۔۔۔۔
وہ جنون کے ایسے راستے پر چل پڑی تھی جہاں سے واپس نا ممکن تھی۔۔۔اس راستے میں سب برداشت ھوتا ھے سوائے اپنی ہار کہ۔۔۔۔
ہما نے برا چھاہا تھا تو اس کا انجام بھی برا ہی ھوا تھا ۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
after 4 years ……
معراج جہانگیر زندہ باد۔۔۔
معراج جہانگیر زندہ باد۔۔۔۔
لوگوں کا حد سے زیادہ ہجوم کھڑا کب سے یہ نعرہ لگا رہا تھا۔۔۔
وہ ابھی اپنی تقریر ختم کر کے کھڑا ھوا تھا۔۔۔۔۔
لوگ اس کے دیوانے تھے۔۔
وہ ایک انتھائ مشھور سیاست دان بن چکا تھا۔۔
تمام لوگ کو دیکھ کر معراج کو کوسم کی وہ بات یاد ائ تھی۔۔۔
میرا بیٹا ایک دن بہت بڑا سیاست دان بنے گا۔۔۔اور کوسم کا یہ خواب پورا ھوا تھا۔۔۔۔
معراج اج ایک جانا مانا مشھور سیاست دان تھا۔۔۔جو غریبوں کا مسیح تھا۔۔۔۔
سفید کپڑوں میں وہ بے حد وجیہ لگ رہا تھا۔۔۔
ان چار سالوں میں اس پر زارہ سا بھی فرق نا پڑا تھا۔۔۔۔۔
وہ ھجوم میں سے ھوتا ھوا جہانگیر صاحب کی طرف ایا تھا۔۔۔
وہ مسکرا کر اسکو دیکھ رہے تھے۔۔
مجھے آج فخر ھو رہا ھے کہ تم میرے اور کوسم کے بیٹے ھو۔۔۔اور یعقوب حسن کے نواسے ھو۔۔۔۔
جہانگیر صاحب کی انکھیں نم تھیں۔۔۔
معراج نے مسکرا کر جہانگیر صاحب کو گلے لگایا تھا ۔۔۔
مجھے فخر ھے کہ میں اپکا بیٹا ھوں ۔۔ان چار سالوں میں ان باپ بیٹھے کی بھی دوری ختم ھوگئ تھی۔۔۔۔۔۔۔
چلو اب گھر چلتے ھیں۔۔۔۔جہانگیر صاحب نے کہا تو وہ دونوں گھر انے کے لیے نکل گئے۔۔۔
معراج اور جہانگیر صاحب جب گھر میں داخل ھوئے تھے۔۔۔
علیان روحان کے ساتھ فروا کھیل رہی تھی۔۔۔۔
فروہ سجل اور دلاور کی بیٹی تھی۔۔۔سجل بھی ان اپنے سسرال میں بے حد خوش تھی۔۔۔
رملا بریرہ بیگم اور سجل سامنے ہی بیٹھی تھیں۔۔
انکو آتا دیکھ کر سب نے معراج کو سلام کیا تھا۔۔۔اتنی ہی دیر میں دلاور اور بلاج بھی اکر بیٹھ گئے تھے۔۔
امی۔۔۔دعا کہاں ھے ۔؟؟
معراج نے ادھر ادھر دیکھ کر پوچھا تھا۔۔
اج بھی وہ دعا کے پیچھے اسی طرح پاگل تھا ۔۔۔
بھاگ گئ۔۔۔
سجل نے ھنس کر کہا تو معراج نے ایک زور دار قہقہ لگایا تھا۔۔۔۔۔
سجل کو جب ہما کے بارے میں پتہ لگا تو وہ بہت اداس ھوئ تھی۔۔۔
لیکن ان سالوں میں دعا اور معراج نے سجل کو اتنا اپنا پن دیا تھا کہ وہ سب کچھ بھول چکی تھی اور ان لوگ کے ساتھ بے حد خوش تھی۔۔۔۔
اندر ھے۔۔۔
موسم اپ کے دیر سے انے پر خاصا خراب ھے۔۔۔
رملا نے ھنس کر کہا۔۔۔
اھووو یہ تو خطرناک بات ھے۔۔معراج ھنس کر کہہ کر اٹھ گیا تھا۔۔۔۔
اور اندر اپنے کمرے کی طرف آیا تھا۔۔۔۔
جب دعا کی آواز اس کو سن کر ھنسی آئ تھی۔۔۔
ایک تو تم۔۔۔
اور ایک تم تمھارے ابا جان دونوں کے دونوں کبھی میری نا سنا بس ہمیشہ مجھے تنگ کرنا۔۔۔۔
اتنی سے ھو تم اور ابھی سے اپنے باپ پر ھو چھوٹے راجہ بنے گھومتے ھو۔۔۔۔
غصہ تو بلکل اپنے بابا والا ھے
معراج چپکے سے کمرے میں داخل ھوا تھا۔۔۔۔۔
چھوٹے راجہ کو دیکھ کر مسکرایا تھا۔۔۔جب معراج نے اسکو انگلی سے چپ رہنے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔۔
دعا کی پشت معراج کی طرف تھی اور وہ چھوٹے راجہ کو کپڑے تبدیل کر رہی تھی۔۔۔۔
کہا تھا اپکے بابا کو کے جلدئ آجائے گا۔۔۔لیکن جب سے جناب سیاست دان بنے ھیں بیوی کے لیے تو پیار ہی نہیں بچا۔۔۔۔
دعا چپڑ چپڑ بولے جارہی تھی۔۔۔
اور معراج دعا کے بلکل پیچھے کھڑا سن کر ھنس رہا تھا۔۔۔
اب دیکھنا آکر اتنے معصوم بن جائے گے کہ ایک دم ان پر پیار اجائے۔۔۔۔
دعا نے ھنس کر کہا تھا۔۔۔۔
تبی معراج نے اسکو پیچھے سے تھاما تھا۔۔۔
اللہ اللہ۔۔۔
در گئ میں دعا نے اسکی طرف پلٹ کر دیکھ کہ کہا۔۔۔۔
دعا بھی ویسی کی ویسی تھی بس اب تھوڑی زیادہ موٹی ھوئ تھی۔۔۔
اللہ ان دونوں کہ گھر ایک اور اولاد بھیج رہا تھا اور دعا کا پورا 9وا مہینا چل رہا تھا۔۔۔۔
چھوٹا راجہ ابھی 3 سال کا تھا ۔۔۔۔۔
اففف اتنا سارہ غصہ اتنے معصوم باپ بیٹے پر۔۔۔معراج نے دعا کا ماتھا چوما تھا۔۔۔
اور پھر اپنے بیٹے کو گود میں اٹھایا کر چوما تھا۔۔۔
ہارون بہت ہی پیارا گولو مول سا بچا تھا۔۔۔
اور اب دعا کے گھر بیٹی کی امد ھورہئ تھی۔۔۔
دعا نے ٹیسٹ کرویا تھا ۔۔۔۔جب پتہ لگا کہا اب کی بار بیٹی ھونے والی ھے تو معراج بہت خوش ھوا تھا۔۔اور ہارون کی دفعہ میں بھی وہ بے انتھاء خوش تھا۔۔۔۔۔
بس اب اتے ساتھ ہی مسکا شروع۔۔۔
دعا نے ھسن کر کہا تھا۔۔۔
ارے مسکا نہیں جان۔۔۔
معراج نے دعا کا ہاتھ تھاما تھا۔۔۔
اج وہ ایک جلسہ تھا۔۔۔تو ادھر دیر ھوگی۔۔۔
معراج نے دعا کو اپنے ساتھ لگاتے ھوئے کہا۔۔۔
اج بھی وہ دعا پر اسی طرح جان دیتا تھا اور دعا اس پر۔۔۔
اچھا کچھ کھاییں گے جان ؟؟
دعا نے فورن پیار سے پوچھا تھا۔۔۔۔
نہیں بابا بس چلو۔۔۔
نمرہ اور راضا ہمارہ انتیظار کر رہے ھونگے۔۔
نمرہ نے خوب لڑنا ھے مجھ سے ۔۔۔معراج نے ھنس کر کہا تھا۔۔۔۔
معراج نے نمرہ اور زیب کی شادی کروادی تھی اور اب وہ دنوں وہاں خوش تھے۔۔۔
عمیر کی بھی شادی زوبی سے ھوگئ تھی۔۔۔
اسکا اپنا گھر بسا ھوا تھا ۔ ۔
ہاہاہا چلیں۔۔۔۔
دعا اگے جانے کے لیے بڑھی جب معراج نے اسکو ہاتھ سے پکڑ کر اپنے پاس کھینچا تھا۔
وہسے ہارون ماما کی کسی بڑی میٹھی ھے نا ؟۔؟
معراج نے ہارون کو انکھ مار کر کہا تو ہارون ھنسے لگا۔۔۔۔۔اور بولا
ہاں ۔۔۔۔
چلیں ماما ایک kissiدیں۔۔
معراج نے ہارون کا گال اگے کیا تو دعا نے فورن اسکو بوسہ دیا۔۔
میرا بیٹا۔۔۔۔۔اور پیار سے اسکو دیکھا۔۔۔
اپ میری باری معراج نے اپنا گال اگے کر کہ مسکرا کر کہا تو دعا کو ایک دم ھنسی اگئ۔۔۔
ہاہاہا۔۔۔
امممممممہ دعا نے اسکو بھی ایک بوسہ دہا۔۔۔
معراج نے بھی پیار سے دعا کو ماتھے پر چوما اور پھر ہارون کو چوما۔۔۔۔
پھر دعا کا ہاتھا تھام کر باہر لان میں اگیا۔۔۔
اج جہانگیر صاحب کی فیملی مکمل ھوچکی تھی۔۔۔۔
دعا کو ایک کرسی پر بیٹھا کر معراج بھی اسکے ساتھ بیٹھ گیا تھا۔۔۔اور ہارون کھیلنے چلا گیا تھا۔۔۔۔
معراج نے ایک نظر ھنسی مسکراتی دعا پر ڈالی ۔۔۔
پھر دعا کے وجود پر نظر ڈالی جہاں اسکی بیٹی پل رہی تھی۔۔۔
پھر ہارون کو دیکھا۔۔۔۔۔
پھر آسمان کی طرف دیکھ کر مسکرایا۔۔۔۔
اور کہا۔۔۔
بے شک میرے رب تو بڑا رحمن ھے۔۔۔۔۔۔
