Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zid Junoon Ki Inteha Episode 31

Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi

بریرہ بیگم نے اج بہت دل سے یہ تمام تیاریاں کی تھیں۔۔۔۔

وہ لوگ کھانا وغیرہ کھا کر فارغ ھوئے تھے اور بہت زیادہ تھکنے کی وجہ سے اپنے کمروں میں اگئے تھے۔۔۔۔

سجل گھر ھوتے ھوئے بھی ان سے نا ملی تھی۔۔۔۔۔۔

اور کسی نے اس سے ملنے کی ضرورت سمجھی بھی نا تھی۔۔۔

دعا اور معراج جب اپنے کمرے میں داخل ھوئے تو انکا کمرہ بے حد صاف ستھرا تھا۔۔۔۔

دعا اور معراج اج بہت زیادہ تھکے گئے تھے۔۔۔۔۔

اور فورن ہی دونوں اپنے کاموں سے فارغ ھوکر سونے لیٹ گئے تھے۔۔۔۔

دعا اج جان کر صوفے پر سوئ تھی۔۔۔

کیونکہ اسکو معراج کی قربت سے اب گھباہٹ ھوتی تھا۔۔۔۔

وہ معراج کے نشے میں دوبتی چلی جاتی تھی۔۔۔اسلیے وہ اس سے دور ہی رہنا چھاتی تھی۔۔۔

سفر میں تو مجبوری تھی پر یہاں کوئ مجبوری نہیں تھی۔۔۔۔۔

دعا اور معراج دونوں لیٹتے ہی سو گئے تھے۔۔۔۔

ہما اور سجل بڑی مہارت سے اس کمرے سے اپنی پلان کی مین چیز لے کر چلی گئ تھی۔۔۔

معراج کو بھانک بھی نا پڑی تھی۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اگلی صبح وہ دونوں ہی کافی دیر سے اٹھے تھے تھکے ھوئے بہت تھے اس لیے دونوں کی انکھ جلدی نا کھولی تھی۔۔۔۔

آرام سے سو کر اٹھنے کے بعد وہ دونوں نیچے ائے تھے

ناشتے کی میز پر سجل سمیت تمام لوگ موجود تھے۔۔۔۔

دعا اور معراج کو دیکھ کر سجل کا تو موڈ فورن ہی آف ھوگیا تھا۔۔۔۔

جب کے دلاور نے مسکرا کر دونوں کو سلام کیا تھا۔۔۔

اج اتفاق تھا کہ گھر کے تمام لوگ ایک ساتھ میز پر تھے۔۔۔

معراج ؟؟؟

معراج ابھی میز پر اکر بیٹھا ہی تھا کہ جہانگیر صاحب نے اسکو مخاطب کیا۔۔

جی ؟؟

معراج نے juice پیتے ھوئے پوچھا۔۔۔۔

میں نے سنا ھے کہ تم نے ناران میں ایک لڑکے کو بہت مارا ھے کیا تم نہیں جانتے کے !!

ابھی جہانگیر صاحب بول ہی رہے تھے کہ معراج فورن بول پڑا۔۔

اپ جانتے ھیں کے اس لڑکے نے کیا حرکت کی تھی ؟؟؟؟

معراج نے الٹا سوال کیا تھا۔۔۔

ہاں جانتا ھوں۔۔۔

اسنے دعا کے ساتھ بدتمیزی کی تھی۔۔۔لیکن تمھیں سمجھداری سے کام لینا چاھیے تھا۔۔۔۔

جب کے یہ وقت election کا چل رہا ھے۔۔۔۔

مجھے حیرت ھوتی ھے اپ پر !!!!

معراج کو واقعی میں اب غصہ آرہا تھا۔۔۔

کس چیز کی حیرت ؟؟

جہانگیر صاحب نے پوچھا۔۔۔۔

میری بیوی کو اگر کوئ چھیڑے گا تو میں اسکو جان سے مار دوں گا۔۔۔۔میں تو اسے مار بھی دیتا ۔۔۔۔بلاج نے مجھے روک لیا۔۔۔

مجھے نا اپ کے election کی پہلے فکر تھی نا اب کبھی ھوگی۔۔۔

معراج نے انتھائ روڈ انداز میں بات کی تھی۔۔۔۔

تم ھوش میں ھو۔۔۔۔معراج۔۔۔یہ کس طرح بات کر رہے ھو۔۔۔

جہانگیر صاحب کو معراج کا یہ انداز پسند نا ایا تو فورن بولے۔۔۔دعا پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

میں صرف وہ کر رہا ھوں جو بہت پہلے کر لینا چاھیے تھا۔۔۔۔معراج نے بھی اسی طرح جواب دیا۔۔۔۔

اپ لوگ صبح صبح یہ کیا بات لے کر بیٹھ گئے۔۔۔

بریرہ بیگم نے جب بات بگڑتی دیکھی تو فورن بولی۔۔۔۔

یہ اپ کا مصلہ نہیں ھے ۔۔۔۔

میرے اور میرے باپ کا معملہ ھے۔۔۔اپ خاموش رہیں تو اچھا ھوگا۔۔۔

معراج نے انتھائ بتمیزی سے بریرہ بیگم کو کہا۔۔۔۔۔

سجل کو یہ سب کچھ اچھا لگ رہا تھا۔۔۔وہ تو چھاتی ہی یہ تھی۔۔۔

معراج ھوش میں او۔۔۔تم جانتے ھو یہ election جتنا ہمارے لیے کتنا ضروری ھے اور جب لوگوں کے یہ پتا لگے کا کے پارٹی کا اسلی سربرہ سرے بازار اپنی بیوی کے لیے لڑ رہا ھے تو وہ کیا سوچیں گے۔۔۔۔

جہانگیر صاحب کی بات سن کر معراج ایک دم ہی غصے میں اگیا تھا۔۔۔۔

اور کرسی کو زور سے دھکیل کر اٹھا تھا۔۔۔دعا کے لیے یہ سب کچھ کافی حیران کن تھا۔۔۔۔۔

بھاڑ میں گئ ہر چیز۔۔۔

میرے لیے میری بیوی سے زیادہ اہم اور کوئ چیز نہیں۔۔۔۔

میں اپ کی طرح سخت دل انسان نہیں بن سکتا جو جھوٹی شوہرت کے لیے اپنی بیوی کے قاتلوں پر رحم کرے۔۔۔۔

معراج نے کہہ کر ایک نظر بریرہ بیگم پر ڈالی تھی اور کرسی کو گیرا کر کمرے میں چلا گیا تھا۔۔۔۔

بریرہ بیگم کی تو شرم سے انکھیں جھک گئ تھی۔۔۔جب کے جہانگیر صاحب خاموش سے ھوگئے تھے۔۔۔۔۔یقین معراج کی بات سے انکو تکلیف ھوئ تھی۔۔۔۔

دعا نے اج جب جہانگیر صاحب اور بریرہ بیگم کو ساتھ دیکھا تو اس کو بریرہ بیگم پر حد سے زیادہ حیرت ھوئ کہ ایک عورت ھوکر وہ کسی دوسری عورت کو کسیے مار سکتی ھیں۔۔۔

اور جہانگیر صاحب نے اپنی بیوی کو کتنا بڑا دھوکہ دیا۔۔۔۔

دعا ان پر ایک نظر ڈال کر معراج کے پیچھے پیچھے چلی گئ تھی ۔۔۔

دلاور رملا اور بلاج تو یہ بات جانتے تھے۔۔۔لیکن سجل کے لیے یہ بات بلکل نئ تھی۔۔۔۔

اور اسنے فورن ہی دلاور سے پوچھا تھا ….

کس کا قاتل ؟؟؟

کون بیوی ؟؟؟

سجل نے حیرت سے دلاور سے پوچھا۔۔۔

تم ہر معملے میں مت گھوسا کرو۔۔۔۔۔

دلاور کے پاس اسکو دینے کے لیے کوئ جواب نا تھا تو وہ یہ کہہ کر اٹھ کر اپنے کمرے میں اگیا تھا۔۔۔

جب کہ بریرہ بیگم رو رہی تھی جن کو بلاج اور رملا نے سنبھالا تھا۔۔۔۔

نجانے کب ختم ھوگئ اسکی نفرت مجھ سے۔۔۔۔

بریرہ بیگم نے روتے روتے بلاج کے گلے لگ کر کہا۔۔۔۔۔

ماما !!!!

اپ اسکو اس رات کا سچ بتا کیوں نہیں دیتی۔۔۔

بلاج نے ماں کے آنسو کو محسوس کرتے کہا۔۔

میں نہیں چھاتی کو وہ اس رات کے بارے میں کچھ بھی جانے وہ جس بھرم میں جی رہا ھے اسے جینے دو نہیں تو وہ ٹوٹ جائے گا بلاج۔۔۔۔

بریرہ بیگم نے روتے روتے کہا۔۔۔۔

ہممم۔۔۔۔۔بلاج نے ایک ٹھنڈی اہ بھری۔۔۔۔۔

جاو رملا امی کو کمرے میں لے جاو ۔۔۔۔

بلاج کے کہنے پر رملا فورن بریرہ کو تھام کر انکے کمرے میں کے ائ تھیں۔۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

دعا جب کمرے میں داخل ھوئ تو اسکے سامنے زمین پر ٹوٹی ھوئ چیزیں پڑی تھی۔۔۔۔

پورے کمرے کا حال برا ھو رہا تھا۔۔۔

اور معراج سر تھام کر بیٹھ پر بیٹھا ھوا تھا۔۔۔۔

دعا کو نجانے اس پل معراج پر بے حد پیار آیا تھا۔۔۔۔

وہ جاکر معراج کے بلکل پاس بیٹھ گئ۔۔۔۔

معراج نے ایک گھیری سانس لی اور منہ اس کی طرف موڑا۔۔۔۔

معراج کی آنکھیں نم تھی۔۔۔

دعا نے اس وقت ایسی کوئ بات کرنا مناسب نا سمجھا۔۔۔۔۔۔

ویسے ایک بات بولو۔۔۔۔۔

دعا نے معراج کو دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔

بولو ؟؟

معراج نے غصے سے بھری آواز سے کہا۔۔۔۔

ویسے اپنی چیزوں تک غصہ آتارنا ٹھیک تھا یہ میری چیزیں کس خوشی میں اپ نے توڑی ؟؟؟

دعا نے زمین پر ٹوٹی پڑی اپنی پرفیوم کی بوتل اٹھا کر کہا۔۔۔۔۔

وہ اچھے سے جانتی تھی معراج کو کیسے نورمل کرنا ھے۔۔۔۔

میری مرضی ۔۔۔معراج نے جواب دیا۔۔۔

اھوو اپ کی مرضی کیوں۔۔۔

یہ جتنا اپ کا کمرہ اتنا میرا بھی ھے۔۔۔

دعا نے اج پہلی بار اس کمرے کو حق سے اپنا کہا تھا۔۔۔۔

اچھا واقعی ؟؟؟

معراج نے ایک ائر بور اٹھا کر پوچھا۔۔۔

تو اور !!!!

اپ نے خود ہی کہا تھا نا۔۔۔کہ آا

دعا کہتی کہتی چپ ھوئ۔۔۔۔

کہ ؟؟؟

معراج نے دعا کی بات مکمل ھونے کے لیے کہا۔۔۔

کہ جب تک میں یہاں ھوں یہ میرا گھر بھی ھے۔۔۔۔

دعا نے اپنا باقی کا جملہ پورا کیا۔۔

جب تک ؟؟؟

معراج نے فورن پوچھا۔۔۔۔

ہاں بس جب تک میں ادھر ھوں۔۔۔

دعا نے فورن کہا۔۔۔

اور اپ کب تک ادھر ھیں ؟؟؟

معراج اب پوری اس کی طرف موڑ کر پوچھ رہا تھا۔۔۔

دعا نے فورن نظر ہٹا لی تھی۔۔۔

دعا کے دل میں آیا کے بول دے اپنی آخری سانس تک ۔۔لیکن وہ دعا ہی کیا جو اپنی بات مان لے۔۔۔

بس جب تک بھی ھوں ۔۔۔یہ میرا گھر ھے کہہ دیا نا۔۔۔۔بس کہہ دیا۔۔۔

دعا نے انگلی اٹھا کر جان کے action مار کر کہا۔۔۔۔

تو معراج کو ایک دم اس کے انداز پر ھنسی ائ ۔۔۔۔۔۔

اور دعا بھی مسکرا دی۔۔

کتنا سکون ملا تھا دعا کو معراج کی ھنسی دیکھ کر ۔۔

اچھا دعا سنو۔۔۔۔

دعا اٹھ کر اگے بڑھی تھئ تو معراج نے اسکو پکارا

جی ؟

دعا نے موڑ کر اسکو دیکھا۔۔۔

تیار رہنا شام کو ایک جگہ جانا ھے ضروری ۔۔!!!

۔میں کچھ دیر کے لیے ایک جگہ کام سے جاوں گا ۔۔۔پھر شام میں ساتھ جانا ھے ہم دونوں کو۔۔۔

معراج نے کھڑ ھوکر اسکو کہا اور الماری سے کپڑے نکالنے لگا۔۔۔۔

کہاں جانا ھے ؟؟؟

دعا نے حیران ھو کر پوچھا۔۔۔

شام کو خود تمھیں پتا لگ جائے گا ۔۔۔۔

معراج نے مسکرا کر کہا اور باتھ روم میں گھس گیا۔۔۔۔

اب پتا نہیں کہاں جانا ھے ان جناب کو۔۔۔

دعا نے اپنے دل میں سوچا۔۔۔۔

پھر وہ نیچے چلی آئ تھی۔۔۔

رملا بھابی

رملا بھابی ؟؟؟

دعا کو رملا سے کچھ کام تھا تو وہ رملا کے پاس اس کے کمرے میں ائ تھی۔۔۔۔

لیکن رملا وہاں موجود نا تھی۔۔۔تب بلاج نے اسکو بتایا تھا کہ رملا نیچے ماما کے پاس ھے۔۔۔۔

دعا نے پہلے سوچا وہ بھی چلی جائے لیکن پھر وہ واپس اپنے کمرے میں آگئ تھی۔۔۔۔

ابھی وہ بیٹی سوچ ہی رہی تھی کہ اس کا موبئل زور زور سے بجنے لگا۔۔۔۔

دعا نے فون اٹھا کر سلام کر کے پوچھا کون ؟؟

کون کی بچی میں سیرت بات کر رہی ھوں ۔۔

دسری طرف سیرت تھی۔۔۔

اھو سیرت کیسی ھو تم ؟؟؟

شادی کے بعد سیرت سے اج اسکی بات ھو رہی تھی۔۔۔۔

کیسی دوست ھے تو شوہر کیا ملا دوست کو بھول گئ ۔۔وہ تو شکر ھے میں نے نمرہ سے تمھارا نمبر لے لیا۔۔۔

سیرت نے ساتھ ہی شکوے شروع کر دیے تھے۔۔۔۔

دعا ھنس ھنس کر اسکے شکوے سن رہی تھی اور اس سے بات کر رہی تھی۔۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

نمرہ میں تم سے بہت پیار کرتا ھوں میرا یقین کرو۔۔۔۔۔وہ مسلسل نمرہ کو اپنے پیار کا یقین دلا رہا تھا۔۔۔۔۔

اگر پیار کرتے ھو تو مجھے ایسے تنھائ میں ملنے کیوں بلاتے ھو ؟؟؟

نمرہ نے فورن پوچھا تھا۔۔۔

بس مجھے تم سے ملنا اچھا لگتا ھے نمی۔۔۔۔۔

وہ پچھلے