Zid Junoon Ki Inteha By SA Khanzadi NovelR50423 Zid Junoon Ki Inteha Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Zid Junoon Ki Inteha Episode 14
Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi
دعا میڈم ؟؟؟
پالر کی ایک لڑکی نے اکر اسکو پکارا تھا
جی !!
اپ سے کوئ ملنے آیا ھے !!!!
دعا نے پلٹ کر دیکھا تو دیکھتی ھی رہے گئ کیوں کہ اس کے سامنے ہما کھڑی تھی۔۔۔۔
دعا اٹھ کر اس کے پاس ائ تھی۔۔۔۔اور پھر دونون چل کر ایک کونے میں اگئ تھیں
دعا ؟؟؟؟
ہما نے اپنی چال کے تحت بات کرنا شروع کی تھی۔۔۔۔
دعا پلیز یہ شادی مت کرو۔۔۔۔۔
پلیز !!!!!!
دعا معراج مجھ سے بہت محبت کرتا ھے اور میرا یقین کرو کہ وہ صرف مجھ سے ناراض ھے اس لیے یہ سب کر رہا ھے۔۔۔۔۔۔
ہما نے اپنی طرف سے فرضی کہانی بنائ تھی۔۔۔۔
دعا وہ تو تمھیں پسند تک نہیں کرتا نفرت کرتا ھے تم سے میرا یقین کرو۔۔۔۔
اسکو تم جیسی لڑکیاں نہیں پسند۔۔۔۔۔
تم اس کے ساتھ کبھی خوش نہیں رہو گی دعا۔۔۔۔
میرے خواب چھین کر تم خوش کیسے رہو گی۔۔۔۔
کیا تمھیں ایک بار اپنی اس دوست کا خیال نا ایا۔۔۔۔
ہما نے اب دعا کو بلیک میل کرنا شروع کیا تھا۔۔۔۔
میری محبت ھے معراج۔۔۔۔۔
تم یہ شادی مت کرو دعا۔۔۔۔۔ہما نے اپنا آخری ہربا استعمال کیا تھا۔۔۔۔۔
دعا خاموش کھڑی تھی۔۔۔۔۔
ایک طرف اس کے گھر والوں کی سلامتی تھی تو دوسری طرف اس کی دوست کی محبت۔۔۔۔
وہ کیا کرتی۔۔۔۔۔۔
کچھ تو بولو دعا !!!!
ہما نے زیچ ھوکر کہا۔۔۔۔
میرے پاس بولنے کو کچھ نہیں ھے ہما۔۔۔۔۔
دعا صرف اتنا بول پائ۔۔۔۔۔
تم نے اگر یہ شادی کی تو تم ساری زندگی روتی رہو گی میری بدعا ھے تمھیں دعا۔۔۔۔۔۔
تم برباد ھوگی۔۔۔۔
خوشی کو ترس جاو گی۔۔۔۔۔
ہما بول کر تیزی سے چلی گئ تھی۔۔۔۔
دعا کی انکھ سے ایک ایک انسو گیر رہا تھا۔۔۔۔
میں جانتی ھوں ہما۔۔۔۔۔۔مجھے معاف کردو میں مجبور ھوں۔۔۔۔۔میں نے اگر معراج جہانگیر سے شادی نا کی تو میرے ماں باپ کے ساتھ کچھ بھی کرسکتا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔
میں اپنی قربانی دے سکتی ھوں پر اپنے ماں باپ بہن بھائ کی نہیں!!!!!
دعا نے اپنے خیال میں ہما سے کہا تھا۔۔۔۔
آپ پلیز
جلدی آجائیں اپ کافی لیٹ ھو رہی ھیں۔۔۔۔
پالر کی ایک لڑکی نے اکر دعا کو کہا تھا ۔۔۔۔
ہمم دعا واپس مرے قدم چلتی اکر کرسی پر بیٹھ گئ تھی۔۔۔۔۔
پالر والی اس کو تیار کر رہی تھی۔۔۔۔
لیکن اسکو ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کی میت کے لیے اسکو سجایا جارہا ھو۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
معراج کا پورا کمرہ لال گلاب اور سفید موگرے کے پھولوں سے مہک رہا تھا۔۔۔۔۔
بڑا سا کمرہ جس میں حسین فرنیچیر ڈالا ھوا تھا۔۔۔۔۔۔
پورا کمرہ بہت ھی خبوصورت سے تیار کیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔
معراج کے کمرے کی balcony سے سمندر صاف نظر آتا تھا اور بہت ھی خوبصورت منظر پیش کرتا تھا۔۔۔۔۔
معراج نے ایک نظر اپنے سجے کمرے پر ڈالی۔۔۔۔۔۔
اسکو دعا کہ وہ الفاظ یاد آئے۔۔۔۔۔
مجھے تو تمھارا نام لینے میں شرم آتئ ھے۔۔۔۔
میں تم سے نفرت کرتی ھوں۔۔۔۔۔۔
تم سے شادی تو دور کی بات تم سے بات کرنا مجھے نہیں پسند۔۔۔۔۔۔۔
اہ اہ دعا °°°°°
اج تمھاری وہ سب باتیں ردر کر دی میں نے۔۔۔۔۔۔
تمھاری ساری زندگی میری قید میں اجائے گی ۔۔۔۔
دعا خان۔۔۔۔۔۔۔۔
تم نے معراج سے ٹکر لے کر اپنے لیے خود گھڈا کھودا ھے۔۔۔۔۔
معراج اپنے balcony میں کھڑا سوچ رہا تھا۔۔۔جب کسی نے اس کے کمرے میں دستک دی تھی۔۔۔۔۔
come in…..
معراج نے balcony سے کھڑے کھڑے کہا تھا۔۔۔۔۔۔
دروازہ کوھلنے کے ساتھ بریرہ بیگم کمرے میں داخل ھوئ تھیں۔۔۔۔۔۔
معراج کا ان کو دیکھ کر ایک دم ھی موڈ بدل گیا تھا۔۔۔۔
معراج ؟؟؟
بریرہ بیگم نے بیڈ پر معراج کی شیرونی رکھتے ھوئے اسکو پکارا تھا۔۔۔۔
جی فرمائیں۔۔۔۔۔؟؟؟؟
معراج نے کمرے میں واپس اتے حد سے زیادہ عجنیبعت سے کہا تھا۔۔۔
بیٹا !!!!
یہ تمھاری !!!!
بریرہ بیگم اگے کچھ بولتی اس سے پہلے معراج بولنے لگا۔۔۔۔
thank you…..
اور پلیز مسزز جہانگیر اپ مجھے معراج کہا کریں۔۔۔
میں اپ کو پہلے سو دفاع بول چکا ھوں۔۔۔۔
مجھے نفرت ھے جھوٹی محبتوں سے۔۔۔۔۔۔
so plz kindly….dnt call me beta again…..
معراج نے انتھائ بے مروتی کا ثوبت دیا تھا۔۔۔۔۔
اخری کیوں کر رہے ھو تم میرے ساتھ یہ معراج ؟؟؟؟
بریرہ بیگم کی انکھیں انسو سے بھری تھی۔۔۔۔
مجھے اپ سمیت دینا کی ہر عورت سے نفرت ھے مسزز بریرہ اور بہتر ھوگا کہ اج کہ دن اپ یہاں یہ سب تماشہ نا لگایں میں اج بہت خوش ھوں سو پلیز۔۔۔۔۔۔
معراج بول کر اگے بڑھا تو بریرہ بیگم نےفورن کہا۔۔۔۔۔۔
اگر عورت زات سے نفرت ھے تو پھر یہ شادی کیوں ؟؟؟؟؟؟؟؟
دیکھیں مسزز بریرہ یہ اپکا معملہ نہیں ھے۔۔۔۔اپ کی حد صرف میرے باپ کی زندگی تک ھے مجھ تک نہیں اور نا میری نجی زندگی میں مجھے کسی قسم کی مداخلت پسند ھے۔۔۔۔۔۔
انسان کی عزت اسکے اپنے ہاتھ ھوتئ ھے۔۔۔۔۔۔
آپ کو اس چیز کا خیال ھونا چھائے۔۔۔۔اب اپ یہاں سے جاسکتی ھیں۔۔۔۔معراج نے باہر کے دروازے کی طرف اشارہ کر کے کہا تو بریرہ بیگم تیزی سے باہر نکل گئ ۔۔۔۔۔
اور وہ باتھ روم میں گھس گیا۔۔۔۔۔۔!!!!!
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
لال اناری رنگ کا شرارہ جس پر حسین گولڈن رنگ سے کام ھوا تھا۔۔۔۔۔پاوں میں حسین ترین لال اور گوکڈن ہائ سینڈیل جو دعا نے پہن رکھی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاتھوں میں بھری لال رنگ کی چوڑیاں اور انگلیوں میں سجی انگھوٹیاں بہت ھی خوبصورت دیکھائ دے رہی تھی ۔۔۔۔۔
گالے میں پہنا ہار بھی اپنی مثال اپ تھا۔۔۔
اور دعا !!!!!
اس کے گلابی ھونٹوں پر لال lipstick بڑی مہارت سے لگائ گئ تھی۔۔۔۔۔۔
بڑی بڑی انکھوں پر Bridal make.up کر کے اور بڑا کر دیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔
کھڑی ناک میں پڑی گول بڑی سی نتھنی اور ماتھے پر سجا ٹیکا بہت ھی حسین لگ رہے تھے ۔۔۔
دعا نے حجاب کے اوپر شرارے کا دوپٹہ سیٹ کرویا تھا اور ماتھے پر ٹیکا بھی ھجاب کے اوپر ھی بڑی مہارت سے سیٹ کیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
دعا اس وقت حسین ترین سے بھی زیادہ دلقش اور خوبصورت دیکھائ دے رہی تھی۔۔۔۔۔۔
لیکن دعا کے چہرے کی اداسی کسی صورت کم نا ھوئ تھی۔۔۔۔
ماءشااللہ بہت ھی پیاری لگ رہی ھیں اپ۔۔۔۔۔
پالر والی نے دعا کو دیکھ کر ایک بار پھر تعریف کی تھی۔۔۔۔
میں نے اپنی زندگی میں بہت سی دلہنوں کو تیار کیا ھے۔۔۔۔۔
لیکن اپ کے چہرے پر کچھ اور ہی بات ھے ۔۔۔اور میں سمجھ رہی تھی کہ اپکا یہ حجاب اپ کی look کو خراب کر دے گا۔۔۔۔
لیکن اج پہلی بار میں نے ایک حجابی دلہن تیار کی ھے جو میری اج تک کی تیاری کی گئ تمام دلہنوں سے زیادہ حسین لگ رہی ھے۔۔۔۔۔۔۔
میری سوچ بدلنے کا شکریہ !!!!
پالر والی حقیقتن دعا کی مشکور ھوئ۔۔۔۔
دعا نے جب پالر والی کو حجاب تھمایا تھا تو وہ بار بار دعا کو اس چیز پر فورس کر رہی تھی کہ دعا یہ حجاب نا لے اسے اس کی شادی کے دن کی look خراب ھو جائے گی۔۔۔۔
لیکن دعا نے صاف یہ بات بول دی تھی کہ وہ اپنے بالوں کا پردہ کرتی ھے اور کسی صورت اپنا حجاب نہیں چھوڑے گی۔۔۔۔۔۔۔
پھر پالر والی نے کافی ناراضگی کے ساتھ یہ بات مانی تھی۔۔۔۔
لیکن جب دعا پوری تیار ھوگئ تھی تب پالر والی کو سمجھ آیا تھا کہ حجاب خوبوصورتی کو کم نہیں کرتا بلکہ حجاب لڑکی کو منفرد بنا دیتا ھے۔۔۔۔۔
پالر والی دعا کو باہر لائ تو نمرہ اور سیرت بھی تیار تھے۔۔۔۔۔
جیسی انکی نظر دعا پر پڑی وہ دونوں بھی ایک پل کے لیے اپنی نظر دعا سے ہٹانا بھول گئ تھی۔۔۔۔
دعا اج حسن کی دیوی لگ رہی تھی۔۔۔اسکا حسن اس کی جھکی نظر اور اداس چہرے کی وجہ سے اور مزید جھلک رہا تھا۔۔۔۔۔
آپی ماءشااللہ !!!!
اپ کو کسی کی بری نظر نا لگے۔۔۔۔۔
نمرہ نے اگے بڑھ کر دعا کو پیار کر کے کہا تھا۔۔۔۔
واقعی دعا بہت حسین لگ رہی ھو۔۔۔۔سیرت نے بھئ پیار سے دوست کا ہاتھ تھام کر کہا تھا۔۔۔۔۔
دعا نے نظر اٹھا کر دونوں کو مسکرا کر دیکھا تھا ۔۔۔۔۔
چلو جلدی کریں عمیر بھائ باہر لینے آگیا ھے۔۔۔۔۔۔نمرہ نے دعا کا شرارہ ایک طرف سے تھامتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔
پھر وہ لوگ باہر اکر گاڑی میں عمیر کے ساتھ بیٹھ کر ہال کے لیے روانہ ھو گئے۔۔۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ہال کے باہر پھولوں سے سجی گاڑی سے وہ اتر کر کھڑا ھوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
دھول کی اونچی آواز کے ساتھ ساتھ معراج کے دوستوں نے firing بھی اسٹاٹ کر دی تھی۔۔۔۔۔
وہ شھزادوں کی طرح گاڑی سے اتر کر سب کے بیچم بیچ کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔
اور اس کے دوست مسلسل اس کی شادی کی خوشی میں firing کر کے اپنی خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔۔۔۔
راجہ جہانگیر دلاور واہج سب بہت خوش دیکھائ دے رہے تھے۔۔۔۔۔
میڈیا والے پل پل کی reporting کر رہے تھے۔۔۔
معراج پر تمام لوگوں کی نظریں ٹکی ھوئ تھی۔۔۔۔۔
وہ ہلکے ہلکے چلتا ہال کے اندر داخل ھوا تھا۔۔۔۔۔۔
دعا کی تمام کزن سمیت نمرہ سیرت نے بھی اس پر پھول نچھاوڑ کیے تھے۔۔۔۔۔
اور وہ مغرور سا چلتا آرہا تھا۔۔۔۔
وہ اپنی جیت سے بس کچھ پل دور تھا۔۔۔۔۔
معراج نے کالے کلر کی حسین شیروانی زیب تن کی ھوئ تھی۔۔ جس پر بڑی مہارت سے حسین کام کیا گیا تھا۔۔۔۔۔
ہال کی ہر ایک لڑکی دعا کی قمست پر رکش کھارہی تھی۔۔۔۔۔
اسلام علیکم معراج بھائ !!!!!
عمیر نے معراج کو گلے لگاتے ھوئے سلام کیا۔۔۔۔
ہممم !!!!
معراج نے مسکرا کر عمیر کو دیکھا تھا۔۔۔۔۔
احمد صاحب نے معراج سے کوئ بات نا کی تھی اور نا معراج نے ان سے کوئ بات کرنا ضروری سمجھا تھا۔۔۔۔۔
عمیر نے معراج کو لا کر اسٹیج پر بیٹھا دیا تھا۔۔۔۔۔۔جہاں مولوی صاحب بیٹھے تھے۔۔۔۔۔۔۔
دلہن کو بلا لیں نکاح کی مبارک تقریب کو شروع کرتے ھیں۔۔۔مولوی صاحب نے عمیر کو دیکھ کر کہا۔۔۔۔
جی ضرور مولوی صاحب۔۔۔۔عمیر نے مولوی صاھب کو جواب دیا اور پھر نمرہ کے ہمراہ ڈیسنگ روم کی طرف چل دیا۔۔۔۔۔۔
معراج نے جاتے عمیر کو دیکھا تو اس کے لبوں پر ایک مسکان سج گئ تھی۔۔۔۔
اہ اہ بڑی ھسنی آرہی ھے موصوف کو۔۔۔۔
رملا نے معراج پر سجی مسکراہٹ دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔
رملا بھابی اپ اب مجھ پر نظر نا رکھیں ۔۔
میری بیوی آنے والی ھے اب ۔۔۔۔
معراج نے بھی رملا کے ساتھ مزاق کیا۔۔۔۔۔
پلیز آپ دونوں ادھر دیکھیے گا۔۔۔۔۔
فوٹوگرافر نے معراج اور رملا کو کمرے کی طرف متوجہ کیا تھا۔۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
دعا dressing room میں تنھا بیٹھی تھی بس کچھ پل کے بعد اس کی زندگی تباہ ھونے والی تھی۔۔۔۔۔
وہ اپنوں سے
اپنی خوشی سے بہت دور جانے والی تھی۔۔۔۔
یہ تمام رشتے جو اسکے اپنے تھے وہ ختم ھونے والے تھے۔۔۔۔
اس کے زہن میں اسکا بچپن ماں باپ کا لاڈ اٹھا بہن بھائیوں سے لڑنا تما یادیں گھوم رہی تھی۔۔۔۔۔
وہ اب تک کرو یا نہیں کی کفیت میں تھی۔۔۔۔دعا کا دل چھا رہا تھا کہ وہ یہاں سے بہت دور بھاگ جائے جہاں معراج کا سایہ اس پر نا پڑے۔۔۔
وہ معراج سے حد سے زیادہ نفرت کرتی تھی اور ہما کی باتیں سنے کے بعد دعا کا دل اور مزید اداس ھوگیا تھا۔۔۔۔
اس کی زندگی کا آغاز بددعاوں سے ھو رہا تھا۔۔۔۔۔
دعا اپنی سوچوں میں گم تھی جب عمیر کمرے میں داخل ھوا تھا۔۔۔۔۔۔
دعا آپی ؟؟؟؟؟؟
چلو بارات اگئ ھے۔۔۔۔۔
عمیر نے بہن کے پاس کھڑے ھوتے ھوئے کہا۔۔۔۔
دعا نے عائب دماغی سے عمیر کو دیکھا تھا۔۔۔۔۔
عمیر !!!!
دعا نے عمیر کا ہاتھ تھام کر اسکو اپنے پاس صوفے پر بیٹھایا تھا۔۔۔۔۔
جی اپی ؟؟؟
تم مجھ سے دور کیوں بھاگ رہے ھو میرے بھائ ؟؟؟؟
صبح سے تم مجھ سے نہیں ملے کیوں ؟؟؟؟
اج تو تمھاری بہن ہمیشہ کے لیے جارہی ھے۔۔۔
دعا نے بھائ سے شکوہ کیا تو عمیر اور دعا دونوں کی انکھوں میں انسو آگئے۔۔۔۔
آپئ میں اپ کی انکھوں میں انسو اور اپ سے دوری برادشت نہیں کر سکتا میں جب جب اپکو دیکھتا ھوں مجھے رونا آتا ھے اور میں رو کر اپنے اپ کو کمزور نہیں کرنا چھاتا۔۔۔۔۔
اپی معراج بھائ اچھے انسان ھیں وہ اپ کو خوش رکھیں گے۔۔۔۔
عمیر نے ایک دم یہ بات کی تھی۔۔۔۔۔۔
دعا کا دل چھا رہا تھا وہ چیخ چیخ کر عمیر کو معراج کی سخت دلی کے بارے میں بتائے لیکن اسکی زبان اسکا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔۔۔۔
چلیں اپ کو مولوی صاحب بلا رہے ھیں۔۔۔۔۔۔۔
عمیر نے دعا کا ہاتھ تھام کر اسکو کھڑا کیا تھا۔۔۔۔۔۔
میں ہمشہ اپ کے ساتھ ھوں اپی اپ فکر نا کریں۔۔۔۔عمیر نے بہن کو تسلی دی اور پھر ہاتھ تھام کر dressing room سے باہر لے آیا ۔۔۔۔۔
دعا کے باہر آتے ہی ہال کی تمام لائٹس آف کردی گئ تھی اور صر ایک لائٹ دعا پر تھی۔۔۔۔۔
معراج نے دور سے آتی اس لڑکی پر نظر ڈالی تھی۔۔۔۔۔spot لائٹ میں وہ دھیرے دھیرے چلتی اسکی طرف آرہی تھی۔۔۔۔۔
لال شرارہ اور مزید چمک رہا تھا۔۔۔معراج ایک پل کے لیے اس پر سے اپنی نظر ہاٹنا بھول گیا تھا۔۔۔۔۔
دعا نے ایک بار بھی نظر آٹھا کر معراج کو دیکھنے کی ضرورت نا سمجھی تھی۔۔۔
جب دعا کو اسٹیج پر لاکر بیٹیا گیا تو ہال کئ تمام لائٹس اون ھوگئ تھی۔۔۔۔۔
جب دعا معراج ایک ساتھ اسٹیج پر بیٹھے سے تب ہر ایک منہ سے ہی الفاظ ادا ھو رہا تھا۔۔۔۔
چاند سورج کی جوڑی ھے۔۔۔۔۔
بہت خوبصورت ھیں دونون بلکل ایک جیسے پیارے ھیں۔۔۔۔
کوئ کہتا تھا۔۔۔۔
کیا قسمت پائ ھے دعا نے۔۔۔۔
تو کوئ کہتا تھا ۔۔۔
کیا دلہن ملی ھے معراھ کو۔۔۔۔۔
بریرہ بیگم اور رملا کو بھی دعا بے حد پسند آئ تھی۔۔۔۔
لیکن دعا کو دیکھ کر سب سے زیارہ حیرت کا پہاڑ زیب پر ٹوٹا تھا۔۔۔اور اسکو کسی صورت اپنی انکھوں پر یقین نا آرہا تھا۔۔۔۔۔۔وہ حیرت کے شدید جھٹکے میں تھا۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
دعا کے پاس بیٹھتے ھی معراج نے ایک بار پھر نظر دعا پر ڈالی تھی۔۔۔۔اسکو دعا میں عجیب سے کشش محسوس ھورہی تھی۔۔۔
معراج کے وہم ہ گمان میں بھی نا تھا کہ دعا شادی والے دن بھی اپنے حجاب کا خیال ایسے کرے گی۔۔۔۔۔
معراج کو ایک عجیب سا سکون محسوس ھوا تھا۔۔۔۔۔۔
نکاح کی تقریب شروع کریں مولوی صاحب۔۔۔۔۔
جہانگیر صاحب نے آحمد صاحب کی اجازت سے نکاح شروع کرنے کے کیے کہا۔۔۔۔
دعا کے دل کی ڈھڑکن روکنے لگی تھی۔۔دعا ابھی بھی وقت ھے چھوڑو یہ سب منا کردو۔۔۔۔۔
یہ انسان ؟؟؟؟
وہ نہیں جس کے لیے تم نے دعا مانگی تھی۔۔۔۔
دعا کے اندر سے آواز آئ تھی۔۔۔۔
مولوی صاحب نے نکاح کی دعا پڑھنا شروع کردی تھی۔۔۔۔۔
اور اب وہ معراج سے اجازت طلب کر رہے تھے۔۔۔۔۔
معراج جہانگیر ولد راجہ جہانگیر اپ کو دعا خان ولد احمد خان سے اپنا نکاح 50 لاکھ حق مہر کے ساتھ قبول ھے ؟؟؟؟
جی قبول ھے !!!!!!
معراج نے ایک پل لگائے جواب دیا تھا۔۔۔۔۔
کیا اپ کو قبول ھے ؟؟؟؟
مولوی صاحب نے پھر پوچھا تھا۔۔۔۔۔
جی قبول ھے !!!!!
کیا اپ کو قبول ھے ؟؟؟؟
جی قبول ھے آااااااا
معراج کے تین بار قبول ھے بولنے کے بعد پورے ہال میں تلیاں بجی تھیں۔۔۔۔۔
معراج نے نکاح نامے پر دستخط بھی کر دیے تھے ۔۔۔۔
اور اب وہ دعا کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔جس سے مولوی صاحب سوال کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔
دعا خان
ولد آحمد خان اپ کو معراج جہانگیر والد راجہ جہانگیر سے اپنا نکاح 50 لاکھ حق مہر کے ساتھ قبول ھے ؟؟؟؟؟
دعا گم سم بیٹھی رہی !!!!!!
بلکل خاموش ساخت !!!!!
معراج کے چہرے پر سجی ھنسی اب تبدیل ھوگئ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
مولوی صاحب نے پھر دوبارہ اپنے الفاظ دھورائے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
دعا نے !!!!!
