Zid Junoon Ki Inteha By SA Khanzadi NovelR50423 Zid Junoon Ki Inteha Episode 38
No Download Link
Rate this Novel
Zid Junoon Ki Inteha Episode 38
Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi
سب نے ساتھ ہی کھانا کھایا تھا۔۔۔۔تمام لوگ ہی خوش تھے۔۔پر سجل اور ہما انکی خوشی دیکھ دیکھ کر اندر اندر جل رہی تھی۔۔۔
کھانے وغیرہ سے فارغ ھوکر معراج نے کھڑے ھوکر کہا۔۔۔
چلو دعا ہم زارہ واک کر کے آتے ھیں۔۔۔
مجھے کہی نہیں جانا دعا نے صاف انکار کیا تھا۔۔۔۔
کیسے نہیں جانا۔۔۔معراج نے اسکو ہاتھ سے تھام کر اٹھایا تھا۔۔۔۔
وہ دونوں سب کو بتا کر اب port grand کی street میں چہل قدمی کر رہے تھے۔۔۔۔
مجھے اج موسم کچھ خراب لگ رہا ھے۔۔
معراج نے بات کا آغاز کیا تھا۔۔۔
نہیں تو !!!
دعا نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔
میں اپ کے موسم کی بات کر رہا ھوں محترمہ۔۔۔۔
معراج نے شرارت سے دعا کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔۔تو دعا کو یاد آیا کہ وہ معراج سے ناراض ھے۔۔۔۔
ابھی وہ دونوں بات ہی کر رہے تھے کہ دعا کے موبئل پر کال انے لگی۔۔۔۔
دعا نے موبئل دیکھا تو نمرہ کی کال تھی۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔
نمرہ کیسی ھو ؟؟
دعا نے کال اٹھاتے ہی کہا۔۔۔
معراج نے دعا کو بینچھ پر بیٹھنے کو کہا اور خود ائس کریم لینے چلا گیا۔۔۔
ہاں نمی میں کوشش کرتی ھوں۔۔۔۔
دو دن بعد معراج کی سالگرہ بھی ھے۔۔۔
چلو میں ایک کام کرتی ھوں بس ایک رات کے لیے اجاتی ھوں۔۔معراج سے اجازت لے کر۔۔۔ہی بتاوں گی تمھیں۔۔۔
ہاں ٹھیک ھے۔۔۔۔
چلو اللہ حافظ۔۔۔۔
دعا نے کال بند کر کے ادھر ادھر دیکھا تو۔۔۔۔
معراج icecream لے رہا تھا۔۔۔
تبی دو لڑکیاں ائ تھی۔۔۔۔اور اس سے ھنس ھنس کر بات کرنے لگی تھی۔۔۔
دعا دور سے بیٹھی دیکھ رہی تھی۔۔۔معراج بھی ھنس رہا تھا۔۔۔۔
ایک تو سمجھ نہیں آتا لڑکیوں کو اج کل کیا ھوگیا ھے۔۔۔
دعا کو ایک دم ہی غصہ آیا تھا اسکو سب برداشت تھا بس معراج کو کسی اور کے ساتھ دیکھنا اس کے بس سے باہر تھا۔۔۔۔۔
معراج انکو دیکھ کر مسکرا کر اللہ حافظ کر کے آرہا تھا۔۔۔۔
دعا کی ناراضگی اب اور مزید بڑھ گئ تھی۔۔۔
یہ لیں محترمہ اپ کی favourite آئس کریم ۔۔۔
معراج نے دعا کے اگے ایک کون کی اور خود bench پر بیٹھ گیا۔۔دعا کے ساتھ ہی۔۔۔۔
مجھے نہیں کھانی۔۔۔
دعا نے خفنگی سے کہا۔۔۔
ہاہاہا دیکھو تم غصہ مجھ سے ھو یا آئس کریم سے ؟؟
معراج نے بڑے مزے سے آئس کریم کھاتے ھوئے کہا۔۔۔
میں کسی سے غصہ نہیں ھوں۔۔۔دعا نے فورن کہا۔۔۔
اچھا واقعی ؟؟ معراج نے ھنس کر کہا۔۔
ہان واقعی ۔۔۔دعا نے اس کے ہاتھ سے کون لے کر کہا۔۔۔
اچھا۔۔کس کا فون تھا۔۔۔؟؟
معراج نے یاد آنے پر پوچھا۔۔۔۔
اھوو ہاں وہ نمرہ کا فون تھا۔۔۔
دعا نے آئس کریم کھاتے کھاتے بتایا۔۔۔
نمرہ کا فون خیریت ؟؟
معراج نے پوچھا۔۔
ہاں بس وہ نمی ضد کر رہی ھے کہ میں رہنے آوں۔۔۔
دعا نے کہا۔۔۔
رہنے ؟؟؟
معراج نے فورن پوچھا۔۔
ہاں رہنے۔۔۔۔دعا نے جواب دیا۔۔۔
کیا ضرورت ھے یار رہنے جانے کی تم بس مل آو نا۔۔۔۔۔
معراج کو ایک دم فکر ھوئ تھی۔۔۔
اھوو ٹو مسٹر اتنی دیر سے مجھے جلا رہے تھے نا۔۔۔اب میں بتاتی ھوں۔۔۔۔
دعا کو شرارت سوجی۔۔۔۔۔۔
نہیں رہنے جانا ھے۔۔۔۔
ویسے بھی اب تو۔۔۔
دعا کہتے کہتے رکی۔۔۔
اب تو کیا۔۔۔۔؟؟؟
معراج نے پریشان ھوکر پوچھا۔۔۔
اب تو۔۔۔کچھ نہیں پتا چل جائے گا۔۔۔۔۔
اب دعا صاحبہ معراج کو جلا رہی تھیں۔۔۔
کیا مطلب ھے ؟؟؟
معراج نے تڑپ کر پوچھا۔۔۔۔
دعا اٹھ کر اب دوبارہ چلنے لگی تھی۔۔
مطلب یہ ھے کہ اب سب ٹھیک ھو چکا ھے !!!!
ھے نا ؟؟
دعا نے چلتے چلتے معراج کو دیکھ کر کہا تھا۔۔۔۔۔
ہاں تو ؟؟
تو ہی کہ بس اب ہمیں۔۔۔۔!!!!!
دعا کی کہتے کہتے نظر sketch بنانے والے پر پڑی۔۔۔۔
کتنے پیارے sketch بن رہے ھیں۔۔۔
دعا نے ایک دم کہا۔۔۔
تمھیں پسند ھیں ؟؟؟
معراج نے فورن پوچھا۔۔۔۔
بہت۔۔۔دعا نے فورن کہا۔۔۔
اچھا۔۔۔۔
معراج اور دعا تھوڑا اور آگے بڑھ گئے تھے۔۔۔
وہاں پر مختلیف stalls لگے تھے۔۔۔۔
تم کیا کہہ رہی تھی ؟؟
معراج نے پھر پوچھا تھا۔۔۔
کچھ نہیں۔۔۔دعا نے بات ٹالی تھی۔۔۔۔
ویسے کبھی کبھی ٹھنڈی ھوا کتنی اچھی لگتی ھے نا۔۔۔
دعا نے انکھیں بند کر کے ٹھنڈی ھوا کو محسوس کیا تھا۔۔۔۔
ہممم بہت اچھی لگتی ھے۔۔۔۔۔
معراج کو پتا نہیں کیوں ایک عجیب سا خوف ھوا تھا۔۔۔۔۔
وہ دونوں باتیں ہی کر رہے تھے کے تمام لوگ چلتے ھوئے ان دونو کی طرف ائے تھے۔۔۔
کافی وقت ھوگیا ھے اب گھر چلنا چھائے۔۔۔۔۔
جہانگیر صاحب نے کہا تھا۔۔۔
تو سارے گھر کے لیے روانہ ھو گئے تھے۔۔۔۔۔
گاڑی چلاتے چلاتے بھی معراج کے زہن میں دعا کی بات چل رہی تھی۔۔۔۔
اس کی خبر میں گھر جاکر لیتا ھوں ۔۔۔معراج نے رملا کے ساتھ ھنستی دعا کے اوپر نظر ڈال کر کہا۔۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ لوگ گھر آتے ہی اپنے اپنے کمروں میں اگے تھے۔۔۔
دعا ابھی نماز پڑھ کر فارغ ھوئ تھی جب معراج نہا کر باتھ روم سے نکلا تھا۔۔۔
دعا نے جانماز جگہ پر رکھی اور اپنا ڈوپٹہ کھول کر جگہ پر اگئ۔۔۔۔
معراج بھی اکر بیڈ پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
دعا !!!!! معراج نے اسکو پکارا تھا۔۔۔
جی ؟؟
دعا نے فورن پوچھا تھا۔۔۔۔
تم کیا بول رہی تھی اس وقت ؟؟
معراج نے پھر سے پوچھا تھا۔۔۔۔
جاکر ان سے پوچھ لیں جن کے ساتھ اپ ھنس ھنس کر باتیں کر رہے تھے۔۔۔
دعا نے ٹون مارا تو معراج کو ایک دم ھنسی آگئ۔۔۔
ارے وہ میری دوست کی بہن تھی۔۔۔۔
معراج نے فورن صفائ دی۔۔۔
میں نے اپ سے پوچھا تو نہیں وہ کون تھی۔۔۔
دعا نے اس وقت بلکل بیوی بنتے ھوئے کہا….
ہاہاہا ۔۔۔
اپ نے نہیں اپکی نظروں نے ضرور پوچھا۔۔۔
معراج نے دعا کے سامنے آڑا لیٹتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔۔
مجھے کیا۔۔۔
اپ کی مرضی۔۔۔
جس کو دل ھو بازوں میں پکڑیں۔۔۔
ھنس ھنس کر باتیں کریں ۔۔
ھنس ھنس کر کرکٹ کھیلں۔۔۔۔۔
دعا نے ایک ایک بات نوٹ کی تھی۔۔۔معراج کو کافی حیرت ھوئ ۔۔۔۔
اففففف اللہ اتنی محبت کہ میری ایک ایک عادا پر نظر تھی محترمہ کی۔۔۔۔۔
اور اس قدر جلن۔۔۔۔
معراج نے شوخی سے کہا۔۔۔
سوچ ھے اپکی کہ میں جلتی ھوں۔۔۔۔
دعا نے خفنگی سے کہا۔۔۔۔
ہاہاہا !!!
یہ جلن نہیں تو کیا ھے ؟؟؟
معراج نے اسکا ایک ہاتھ تھام کر کہا۔۔۔
پتا نہیں۔۔۔!!!
دعا نے فورن ہاتھ چھڑوا لیا۔۔۔۔۔
جا کر ہما سے پوچھ لیں۔۔۔
دعا نے جل کر کہا۔۔۔۔
اچھا بابا سوری۔۔۔۔
پکا وعدہ اب کبھی ایسے نہیں کروں گا میں تو بس دیکھ رہا تھا لوگوں کو کتنی جلن ھوتی ھے۔۔۔
معراج نے دعا کے قریب ھوتے ھوئے کہا۔۔۔
بات جلن کی نہیں ھے۔۔۔
بس مجھے اچھا نہیں لگا۔۔۔۔
دعا کی انکھوں میں ایک دم آنسو آگئے تھے۔۔۔۔۔۔
اچھا نا بابا سوری نا !!!!
معراج نے دعا کے کان پکڑ کر سوری کی تو دعا کو ایک دم ھنسی اگئ تھی۔۔۔۔۔
تم ایسی اچھی لگتی ھو دعا
ھنستی کھیلتی۔۔۔
معراج نے اسکی انکھوں میں دیکھ کر کہا۔۔
اچھا سنیں۔۔۔
میں کل گھر چلی جاوں۔۔۔۔پلیز۔۔۔
ایک رات روکنے۔۔۔۔۔
دعا نے اب وہ بات کی تھی۔۔۔
یار ۔۔۔
روکنے کیوں جارہی ھو۔۔۔
ملنے چلی جاو نا۔۔۔
معراج نے پھر سے کہا تھا….
میرا دل چھا رہا ھے۔۔۔پھر اتنے دن سے نہیں گئ۔۔۔
بس ایک رات۔۔۔۔
دعا نے التجا کی تھی۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ھے کل پھر صبح ۔۔۔
میں آفس جاتے تمھیں چھوڑ دوں گا۔۔۔
معراج نے اداس ھوتے ھوئے کہا۔۔۔
پر ایک دن سے زیادہ نہیں پلیز۔۔۔۔۔
معراج نے فورن ہی کہا۔۔۔
جی ٹھیک ھے۔۔۔۔
دعا نے کہا۔۔۔
جانا دعا بھی نہیں چھاتی تھی پر نمرہ اور گھر والے بہت ضد کر رہے تھے۔۔۔۔
دعا اٹھ کر صوفے پر جانے لگی جب معراج نے اسکو ہاتھ سے تھام کر واپس بیڈ پر بیٹھایا تھا۔۔۔
اج تو دور نہیں جاوں نا۔۔۔۔
معراج نے بہت معصومیت سے کہا۔۔۔۔۔۔
بس اج سے میرے پاس سو گی تم۔۔۔۔۔
معراج نے اتنے حق سے کہا کہ دعا انکار ہی نا کر سکی۔۔۔۔۔
ہممم اچھا۔۔۔۔۔۔دعا نے ہلکے سے کہا۔۔۔وہ خود کب معراج سے دور جانا چھاتی تھی۔۔۔۔
دعا بھی معراج کے ساتھ ہی بیڈ پر لیٹ گئ تھی۔۔۔۔
معراج اسکی طرف رخ کر کے لیٹا اسکو ایک ٹک دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ایسے کیا دیکھ رہے ھیں ؟؟؟؟
دعا نے اسکو ایسے دیکھتے پوچھا۔۔۔
تمھیں دیکھتا ھوں تو عجیب سا سکون ملتا ھے۔۔
معراج نے بہت ہلکے سے کہا۔۔۔۔۔
دعا بھی اسکو ایک ٹک دیکھے جارہی تھی۔۔۔۔
معراج !!!!
ایک بات بولوں ؟؟
دعا نے روک روک کر کہا تھا۔۔۔۔
بولو میری جان ۔۔۔۔آاا
معراج کے منہ سے ایک دم نکلا تھا۔۔۔
مجھے کبھی دھوکہ نا دیجے گا۔۔۔
میں ہر چیز برداشت کر سکتی ھوں بس اپ کے ساتھ کسی اور کو نہیں برداشت کر سکتی۔۔
میں اس معملے میں بہت کنجوس ھوں۔۔۔۔
دعا نے گھیری آواز میں کہا۔۔
تمھیں اج جلن ھوئ ؟؟؟
معراج نے اسکی انکھوں میں جھانک کر پوچھا۔۔۔۔
دعا خاموش ھوگی۔۔۔۔۔
معراج نے اسکو اپنے پاس کھینچا تھا اور اپنے گلے سے لگایا تھا۔۔۔۔
دعا بھی اس کے بازوں میں چھپ کر لیٹ گئ تھی۔۔۔
محبت ھوگئ تھی۔۔
بس اقرار ے محبت میں پہل دونوں میں سے کوئ نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔۔
مجھے بہت برا لگا تھا۔۔
جب ہما نے اپ کو چھوا۔۔۔
اگر اپ نے اب ایسا کیا تو میں ہمیشہ کے لیے اپ سے دور چلی جاوں گی۔۔۔بسسس
دعا نے بھیگی آواز میں کہا۔۔۔۔۔
معراج نے دعا کو اور زور سے اپنے سینے میں چھپایا تھا۔۔۔۔
پلیز ایسے مت بولو دعا۔۔۔۔۔۔۔
مجھے نہیں پتا تھا میری شونی میرے لیے اتنی حساس ھے۔۔۔
معراج نے دعا کو سیدھا کیا تھا۔۔۔۔
اور خود اس پر جھک کر بول رہا تھا۔۔۔۔
دعا کی بڑی بڑی جھیل جیسی آنکھوں میں سے آنسو گیر رہا تھا۔۔
معراج نے ہلکے سے جھک کر دعا کی انکھ چومی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ آنسو میرے لیے بہت قیمتی ھیں۔۔۔دعا۔
انکو زائع مت کرو۔۔۔۔۔
دعا نے شرما کر نظریں چرا لی تھی۔۔۔
معراج کی اس قدر قربت۔۔۔۔۔دعا کو confuse کر رہی تھی۔۔۔
جب کہ معراج دعا کے نشے میں بھیک رہا تھا۔۔۔۔۔
معراج ہلکے ہلکے دعا کی طرف جھک رہا تھا۔۔۔۔
جبی دعا شرما کر معراج کے سینے سے لگ گئ تھی۔۔۔۔اور بولی تھی
مجھے بہت نیند آرہی ھے۔۔۔۔
معراج نے زور سے اسکو اپنے ساتھ لگایا تھا اور اسکو سر پر پیار کیا تھا۔۔۔
نجانے کب تک میڈم دور بھاگیں گی۔۔۔معراج نے ھنس کر کہا تھا۔۔۔۔۔
اسکو دعا کی یہ ہی شرماہٹ پسند تھی۔۔۔۔
لڑکی کی انکھ میں حیا کتنی ججتی ھے ۔۔۔۔۔۔معراج نے دل میں سوچا۔۔۔
اج تک معراج کی زندگی میں دعا جسیی لڑکی نہیں ائ تھی۔۔۔
اور دعا کے سر پر اپنا سر رکھ کر سو گیا۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اگلے دن صبح معراج کی جب انکھ کھولی تو دعا تیار ھو رہی تھی۔۔۔
وہ اٹھ کر سیدھا اس کے پاس آیا تھا۔۔۔
دعا شیشے میں کھڑی تیار ھو رہی تھی۔۔۔
جب معراج نے اکر اسکو کمر سے پکڑا تھا۔۔۔
دعا ایک دم ڈری تھی۔۔۔۔۔
اور گھبرائ بھی تھی۔۔۔
معراج اب اسکو چھوتے ھوئے زارہ بھی لحاظ نا کرتا تھا۔۔۔۔
دعا اسکی تھی۔۔۔۔صرف اسکی۔۔۔۔
اور دعا معراج کے لمس سے ہی گھبرا سی جاتی تھی۔۔۔
چھوڑیں۔۔۔
دعا نے شرما کر کہا۔۔۔
چھوڑنے کے لیے تو شادی نہیں کی۔۔۔۔
معراج نے فورن مسکرا کر کہا۔۔۔۔
یار نہیں جاو نا۔۔۔۔
معراج نے اپنے ہاتھ دعا کی کمر کے ارد گرد باندھ دیے تھے۔۔۔۔
اور بچوں کی طرح ضد کر رہا تھا۔۔۔
رات کو تو اپنے کہا تھا چلی جانا۔۔وہ رات کی بات تھی نا۔۔۔۔
نہیں جاو۔۔۔۔
میرا دل نہیں لگے گا یار۔۔۔۔۔۔۔
معراج اسکی دوری کے لیے تیار نا تھا۔۔۔۔۔
بس ایک دن کی بات ھے۔۔۔
معراج کی معصوم شکل دعا کا بھی دل اداس کر رہی تھی۔۔۔۔۔
اچھا وعدہ کرو۔۔۔۔
معراج نے اسکے کندھے پر اپنے تھوڑی ٹکا دی تھی۔۔۔
دعا اسکو شیشے میں دیکھ رہئ تھی۔۔۔
کیسا وعدہ ؟؟ دعا نے پوچھا۔۔۔
واپس آو گی نا۔۔۔؟؟
معراج جو سوال کوسم سے کرتا تھا وہ اج اس سے کیا تھا ۔۔
ہاں آوں گی۔۔۔دعا نے ایک پل لگائے بنا کہا تھا۔۔۔
وعدہ ؟؟
معراج نے اپنا ایک ہاتھ اسکے اگے کیا تھا۔۔۔
ہاں پکا وعدہ۔۔۔دعا نے فورن ہاتھ تھام کر وعدہ کیا تھا ۔۔
اب جلدی سے تیار ھو جائیں۔۔۔ویسی بہت دیر ھوگئ ھے۔۔۔۔
دعا نے معراج کو کہا تو وہ فورن نھانے چلا گیا۔۔اور دعا تیار ھو کر نیچے اگئ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ناشتہ وغیرہ کر کے اور سب سے مل کر دعا اور معراج دعا کے گھر کے لیے نکل گئے تھے۔۔۔
راستے بھر معراج اور دعا ھنسی مزاق کرتے ھوئے آئے تھے۔۔۔
وہ دونوں اب ایک دوسرے سے قریب آرہے تھے۔۔۔
دونوں کا ہی دل اج کی دوری پر اداس تھا۔۔
جو گھر کل تک دعا کا اپنا گھر تھا اج شوہر کو چھوڑ کر اس گھر میں جانے پر اداسی سی ھورہی تھی ۔۔۔
عورت زات اللہ نے انتھائ معصوم اور موم دل بنائ ھے۔۔۔جو عزت محبت ملنے پر اپنا سب قربان کر دیتی ھے۔۔۔۔
عورت کو عزت اور سچا پیار دے کر اسکا دل آسانی سے جیتا جا سکتا ھے۔۔۔
دعا معراج جب گھر پھنچے تو عمیر نے انکا استقبال کیا تھا۔۔۔۔
نمرہ عمر سمیرا بیگم بھی بہت خوش ھوئ تھی۔۔۔بیٹی کے آنی کی خبر سن کر اج احمد صاحب بھی جلدی گھر واپس اگئے تھے۔۔۔۔۔
ارےےے کیسی ھے میری گڑیا رانی ؟احمد صاحب نے دعا کو گلے لگاتے کہا تھا۔۔۔
میں ٹھیک ھوں بابا اپ کیسے ھیں ؟؟دعا نے پیار سے پوچھا ۔۔۔پھر سمیرا بیگم سے جاکر ملی۔۔۔۔
معراج اب احمد صاحب سے مل رہا تھا۔۔
احمد صاحب بھی اس سے بہت پیار سے ملے تھے۔۔۔۔
معراج بھائ اپکا بہت شکریہ اپنے اپی کو روکنے کی اجازت دے دی مجھے انکی اتنی یاد آرہی تھی کہ بس ۔۔
نمرہ نے معراج کا شکریہ آدا کیا۔۔۔
ویسے یہ تم نے میرے ساتھ زیاتی کی ھے۔۔۔
معراج نے فورن کہا تھا۔۔۔۔
ہاہہاہا اچھا جی۔۔۔
اپ بھئ تو ہماری آپی کو ہم سے اتنا دور لے گئے۔۔۔۔۔
اب اپ کی باری ھے اب اپ سے اپی دور ھونگی۔۔۔نمرہ نے مزاق میں کہا۔۔۔۔
اپ کی آپی کو مجھ سے اب کوئ بھی دور نہیں کرسکتا۔۔۔۔
معراج نے ایک نظر دعا پر ڈال کر کہا تو۔۔۔دعا دھیمے سے مسکرا دی۔۔۔۔
یہ ھوئ نا بات معراج بھائ۔۔۔۔عمیر نے فورن معراج کا ساتھ دیا تھا۔۔۔۔
ارے معراج بھائ اب بھی اج یہاں رک جاتے کتنا مزہ آتا۔۔۔۔
اب کے عمیر نے کہا تھا۔۔۔
ہاں مزہ تو آتا پر مجھے تھوڑا کچھ کام تھا اس وجہ سے۔۔۔۔۔
معراج نے اداسی سے کہا۔۔۔
اھووو اچھا۔۔۔۔عمیر بھی اداس ھوا۔۔۔
ہاں بیٹا معراج روک جاتے۔۔۔۔
اب کے سمیرا بیگم اور احمد صاحب دونوں نے کہا تھا۔۔۔۔
میں روکتا ضرور امی پر ۔۔۔
معراج نے دعا کی طرف دیکھا کہ شاید دعا بول دے۔۔۔۔۔۔
چلو جس میں تمھیں آسانی ھو بیٹا ویسے بھی یہ اب تمھارا گھر ھے۔۔۔۔۔
احمد صاحب نے ھنس کر کہا۔۔۔
تھوڑی دیر معراج ان سب کے ساتھ بیٹھا دوپہر کا کھانا بھی ادھر ھی کھایا۔۔۔۔
پھر سب سے اجازت لے کر جانے کے لیے اٹھا بس یہ پل ہی بہت مشکل تھا…جب دعا کو چھوڑ کر جانا تھا۔۔۔
جب سے شادی ھوئ تھی دونوں ایک دن کے لیے بھی الگ نا ھوئے تھے۔۔۔۔۔
لڑتے تھے
ناراض ھوتے تھے۔۔۔
پر ساتھ ھوتے تھے۔۔۔۔
معراج باہر جاتے جاتے ایک دم موڑا تھا۔۔۔۔
وہ مجھے واش روم جانا ھے۔۔۔۔
جاو دعا اسکو واش روم لے جاو۔۔۔۔
سمیرا بیگم نے دعا کو کہا ۔۔۔
تو دعا معراج کو اپنے کمرے میں لے ائ۔۔۔
دعا کا بھئ دل اداس سا ھورہا تھا۔۔۔
دعا کے کمرے میں اتے ہی معراج نے کمرہ لاک کیا تھا۔۔۔
اور دعا کو ہاتھ سے کھینچ کر اپنے گلے سے لگایا تھا۔۔۔۔۔
پتا نہیں کیوں دعا سے دوری اس کے لیے بہت مشکل تھی۔۔۔۔۔
دعا نے بھی معراج کی بہوں میں اکر انکھیں بند کر دی تھی۔۔۔۔۔
دعا ۔۔۔۔پلیز جلدی گھر اجانا یار۔۔۔۔
معراج نے پھر بےچارگی سے کہا تھا۔۔۔۔
ایک دن کی تو بات ھے راج۔۔۔۔
کون سا ہمیشہ ا!!!!
دعا ابھی بول رہی تھی کہ معراج نے اسکو چپ کروا دیا۔۔۔۔۔
بس کرو۔۔۔کچھ الٹا مت بولو۔۔۔۔۔
معراج نے اسکو اور مظبوطی سے اپنی بھاہوں میں بھرا تھا۔۔۔۔
پھر تھوڑی دیر بعد الگ ھوا تھا۔۔۔۔
دعا نے معراج کی آنکھوں میں نمی دیکھی تھی۔۔۔۔
دیکھو ادھر ادھر مت جانا۔۔۔
اپنا بہت خیال رکھنا۔۔۔معراج اب دعا کو ہاتھ تھام کر سمجھا رہا تھا۔۔۔۔۔پھر ماتھا چوم کر کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔۔
دعا معراج کے پیچھے نہیں گئ تھی۔۔۔
اج معراج کو جاتا دیکھنا اسکو بہت مشکل لگ رہا تھا۔۔
ایک پل کے لیے دعا کی بھی انکھیں نم ھوئ تھی۔۔۔….
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
معراج کے جانے کے بعد دعا کچھ دیر احمد صاحب اور بریرہ بیگم کے پاس بیٹھی تھی۔۔۔۔
دونوں ہی دعا کی باتوں سے اندازہ لگا چکے تھے۔۔۔کہ دعا معراج کے ساتھ کس قدر خوش ھے۔۔۔۔
اسکی ہر بات معراج سے شروع ھوتی اور اس پر ختم ھوتی۔۔۔۔
احمد صاحب اور بریرہ بیگم دونوں کا ہی دل کافی حد تک مطمئن تھا۔۔۔
چلو نا آپئ۔۔۔۔
مجھے کچھ بات کرنی ھے اپ سے۔۔۔۔
دعا اپنے امی ابو سے بات کر رہی تھی۔۔۔جب ہی نمرہ اسکو ہاتھ پکڑ کر ضد کر کے اپنے کمرے میں لے گئ تھی۔۔۔۔
اففف نمرہ کیا ھے۔۔۔۔۔تھوڑی امی ابو کے پاس تو بیٹھنے دو۔۔۔
نمرہ کے اس طرح ضد کرنے پر دعا نے کہا۔۔۔بعد میں بیٹھیے گا نا ابھی چلیں۔۔۔۔۔نمرہ نے کہا۔۔
اچھا امی ابو میں تھوڑی دیر تک آتی ھوں۔۔۔
دعا احمد صاحب اور سمیرا بیگم سے کہہ کر نمرہ کے ساتھ اسکے کمرے کی طرف بڑھ گئ۔۔۔۔
کتنی خوش ھے نا ہماری بیٹی ؟؟؟
سمیرا بیگم نے احمد صاحب کو دیکھ کر کہا۔۔۔۔
ہاں ماشاءاللہ۔۔۔۔
مجھے بہت سکون ملا دعا کو اس طرح دیکھ کر۔۔۔
احمد صاھب نے مسکرا کر کہا۔۔۔
ویسے احمد صاحب اپ سے ایک بات پوچھوں۔۔
سمیرا بیگم نے چائے کا گھونٹ بھرتے ھوئے کہا۔۔
ہاں پوچھیں۔۔۔ آا
اس دن معراج نے کیا کہا جو اپنے اسے اور دعا کو ایک دم معاف کر دیا۔۔۔
سمیرا بیگم نے سوال کیا۔۔۔۔
بس چھوڑو پورانی باتوں کو سمیرا۔۔۔
پر تم جانتی ھو۔۔۔میں نے معراج کی انکھوں میں جو محبت دعا کے لیے دیکھی ھے۔۔۔وہ شاید اگر ہم دعا کی کہی شادی کراتے تو نا ھوتی۔۔۔۔
اللہ کے ہر کام میں مصلیت ھوتی ھے۔۔۔۔
اسکا کوئ کام غلط نہیں ھوتا۔۔۔۔
مجھے اج فخر ھے۔۔۔۔
کہ معراج میرا دماد ھے۔۔۔۔۔
احمد صاحب نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔۔
تو سمیرا بیگم بھی مسکرا دی۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اففف بولو نمی کب سے تم نے وابال مچا رکھا ھے۔۔۔
آخر ایسی بھی کیا بات کرنی ھے تمھیں مجھ سے ؟؟؟
دعا نے کمرے میں اکر پوچھا۔۔۔
وہ اپی مجھے بہت ضروری بات کرنی ھے اپ سے۔۔۔۔۔نمرہ نے دعا کے سامنے ہی بیڈ پر بیٹھتے ھوئے کہا۔۔۔۔
اچھا بولو کیا بات ھے ؟؟
دعا نے پریشان ھوکر کہا۔۔۔
وہ اپی۔۔۔۔
میں۔۔۔
وہ۔۔۔۔
مجھے سمجھ نہیں آرہا کس طرح بولو۔۔
نمرہ اب دعا کے سامنے گھبرا رہی تھی کہ دعا پتہ نہیں کیا سوچے گی۔۔۔
بولو نمرہ کیا بات ھے ؟؟؟
کچھ کیا ھے تم نے۔۔۔
امتحان میں فیل ھوئ ھو ؟؟؟
دعا اس کو اب تک بچہ سمجھتی تھی اس لیے بچوں والے سوال پوچھ رہی تھی۔۔۔
اففو نہیں آپی۔۔۔
اب میں بچی تھوڑی ھوں۔۔۔
بڑی ھوگئ ھوں۔۔۔۔
میٹرک پاس کرچکی ھوں۔۔۔۔
نمرہ نے جل کر کہا۔۔
ہاہاہا اچھا بی اماں اب بولو بھی کیا ھوا۔۔۔؟؟
دعا نے نمرہ کے جلنے پر کہا۔۔۔
اچھا اپ پہلے وعدہ کریں کے کسی کو وہ بات نہیں باتیں گی۔۔معراج بھائ کو بھی نہیں وہ پتہ نہیں میرے بارے میں کیا سوچیں گے ۔۔۔۔
نمرہ آخر ھوا کیا ھے۔۔۔بتاو تو۔۔۔۔
دعا نے کہا۔۔۔
افف آپئ اپ پہلے وعدہ کریں نا۔۔۔
نمرہ نے وعدے کے لیے اگے ہاتھ بڑھیا۔۔۔
اچھا وعدہ اب بولو۔۔۔۔۔
دعا نے اسکے ہاتھ میں ہاتھ رکھ کر کہا۔۔
وہ
اپی
میں نا !!!
وہ ایک !!
لڑکا
مجھے
میں اسکو۔۔۔۔
نمرہ اٹک اٹک کر بول رہی تھی۔۔۔۔
اففف پتہ نہیں کیا بول رہی ھو نمی۔۔۔
دعا کے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔۔
آپی میں ایک لڑکے کو پسند کرتی ھوں اور چھاتی ھوں۔۔۔
اپ اسے ملنے چالیں میرے ساتھ۔۔۔۔
نمرہ نے ہمت کر کے ایک ہی نسانس میں سب کہہ دیا تھا۔۔۔۔۔
کیا ؟؟؟؟
دعا کو ھیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا۔۔۔۔
نمی ؟؟؟؟ دعا نے حیرت سے اسکو دیکھا۔۔۔۔وہ چھوٹی سی نمی واقعی اب بڑئ ھو گئ تھی۔
آپئ پلیز ۔۔۔۔
اپ غصہ نا ھوں۔۔میں اپکو سب بتاتی ھوں۔۔۔۔۔
نمرہ نے بول کر اسکو تمام کہانی سنائ۔۔۔
کس طرح اسکے دوست کے بھائ نے اسکا نمبر لیا پھر کس طرح اس کئ اور اسکی بات شروع ھوئ۔۔۔۔۔
پھر وہ اسکو ملنے بلاتا رہا پر وہ نا گئ۔۔اور اب وہ دعا سے ملنا چھاتا ھے۔۔۔تاکہ دعا ان دونوں کے ساتھ ھو تو وہ نمرہ کے گھر رشتہ لائے ۔۔۔۔
نمرہ نے ساری بات دعا کو بتا دی تھی۔۔۔۔
دعا ابھی تک حیرت میں تھی۔۔۔
نمرہ تم نے یہ سب کس طرح کیا۔۔۔۔
میرا سارہ واقعہ تمھارے سامنے تھا پھر بھی ؟؟؟
تم کب اتنی بڑی ھو گئ۔۔۔۔؟؟؟
دعا کو حد سے زیادہ حیرت ھو رہئ تھی۔۔۔
آپئ میں نے اللہ کا وعدہ کچھ غلط نہیں کیا۔۔۔۔
بس اسکو کہا تم چھاتے ھو مجھے تو میرے گھر رشتہ لاو۔۔۔۔
پر نمرہ اگر وہ لڑکا غلط ھوا تو ۔۔
کون ھے؟؟؟
کیا نام ھے ؟؟؟
کیا کرتا ھے ؟؟
نمی مجھے تم پر بھروسہ ھے پر اج کل کے لڑکے۔۔۔تم نہین جانتی کس حد تک جا سکتے ھیں ۔۔۔۔۔
آپی وہ اچھا لڑکا ھے۔۔۔۔اپ سے ملنا چھاتا ھے۔۔۔ہمارے رشتے کی بات کرنا چھاتا ھے۔۔۔
آپی پلیز اپ ایک بار اس سے مل تو لیں نا۔۔۔
پلیز۔۔۔
نمرہ نے انکھوں میں آنسو لا کر کہا۔۔۔۔
پر نمی امی ابو عمیر؟
ان کے بغیر۔۔۔
آپئ میں نے ابھی صرف اپکو بتایا ھے۔۔۔۔
اگر آپ کو وہ ٹھیک لگا تو ہی رشتہ لائیں گے
نہیں تو اللہ کا پکا وعدہ میں کبھی اسے بات نہیں کروں گی۔۔۔۔
پر ایک بار مل تو لیں اپ۔۔۔۔
نمرہ نے دعا کو حد سے زیادہ فورس کیا تھا۔۔۔تب جاکر دعا نے یہ کہا تھا کہ وہ معراج سے پوچھ کر بتائے گی۔۔۔۔
نہیں نا آپی پلیز۔۔۔
معراج بھائ سے نہیں پلیز۔۔۔۔۔
اپ میرے لیے اتنا نہیں کرسکتی۔۔۔
نمرہ نے اب blackmailing شروع کر دی۔۔۔
نمرہ ایسے معراج کو بنا بتائے کسی لڑکے سے ملنا غلط ھے۔۔۔
افففف آپی ۔۔۔اپنے معراج بھائ کو کچھ بھی بتایا میں اپ سے کبھی بات نہیں کروں گئ۔۔۔
اپ کو قسم ھے میری۔۔۔۔
نمرہ کافی جزباتی ھو گی تھی۔۔۔
اچھا بابا نہیں بتا رہی تم رو مت۔۔۔۔
پھر ایک کام کرو اج شام کا رکھ لو۔۔۔۔
نہیں !!!
کل کا رکھ لو۔۔۔۔صبح کا۔۔۔۔
دعا نے کہا تو نمرہ بہت خوش ھوگی۔۔۔
اوکے آپی میں ابھی اسکو اپ کے سامنے کال کر لیتی ھوں۔۔۔۔
نمرہ نے فورن کہتے ہی اپنا موبئل نکال کر کال ملائ تھی۔۔۔
دوسری طرف سے فورن ہی کال پیک کرلی گئ تھی۔۔۔
ہیلو۔۔۔
ٹھیک ھوں۔۔۔
ہاں میری اپی مان گئ ھے۔۔
کل دوپہر 1 بجے تک ملتے ھیں۔۔۔کسی ریسورنٹ میں۔۔۔
نمرہ بات کر رہی تھی اور دعا اسکو حیرت سے دیکھ رہی تھی۔۔۔
ہاں اوکے۔۔۔
اللہ حافظ۔۔۔۔
Thannnnk youuuuu Appi
you are the best appi in the world…..
ummmmah …
نمرہ نے دعا کے گل پر بوسہ دے کر کہا۔۔
نمرہ بہت خوش تھی۔۔۔۔
پر نمی یہ ہے غلط۔۔۔یہ پہلی اور آخری بار ھے۔۔۔۔۔۔
یہ سب کچھ ٹھیک نہیں۔۔۔اج کل اس طرح لڑکوں پر بھروسہ نہیں کرنا چھائے۔۔۔۔
ہر لڑکا اعتبار کے قابل نہیں ھوتا۔۔۔تم ابھی بہت چھوٹی ھو نمی ان سب کے لیے۔۔۔۔
دعا نے پیار سے نمرہ کو سمجھایا تھا۔۔۔۔۔
اچھا چلیں نیچے امی ابو کے پاس چلتے ھیں۔۔۔۔
ہمم چلو۔۔۔
دعا اور نمرہ کمرے سے باہر نکل گئ تھی…
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
نمرہ کی کال بند ھوتے ہی۔۔۔۔اسنے فورن ہما کو کال ملائ تھی۔۔۔
ہیلو۔۔۔
ہما۔۔۔۔
بس سمجھو۔۔۔۔
ایک اسٹیپ مکمل ھوا۔۔۔۔
کال دعا مجھ سے ملنے آرہی ھے۔۔۔۔
ہاہاہاہا۔۔۔جب اسکو پتہ لگے کا اسکی بہن کا عاشق میں ھوں تو کتنا مزہ ائے گا۔۔۔
زیب نے ھنس کر کہا تھا۔۔۔
واہ تم نے یہ کام بہت اچھا کیا زیب۔۔۔بس کال ہر چیز پلان کے مطابق ھونی چھایے۔۔۔۔۔
دعا معراج کے بیچ نفرت کی دیور کی پہلی اینٹ ھے یہ۔۔۔
ایک بار جب دل میں شک اجائے نا۔۔۔تو اچھے اچھے رشتے ٹوٹ جاتے ھیں۔۔۔۔
ہما کی آواز میں جنون جلن ضد سب تھا۔۔۔۔
ہممممم ۔۔۔۔۔۔معراج اپنی ہر چیز پر اکڑتا تھا۔۔۔اس کی سب سے پیاری چیز کو میں اپنے نام کروں۔۔۔گا۔۔۔۔
زیب نے مسکرا کر کہا۔۔۔
چلو پھر کل ملتے ھیں۔۔۔۔
ہاں اوکے۔۔۔۔
زیب سے بات کرنے کے بعد ہما کو کچھ سکون آیا تھا۔۔۔۔
زیب اور ہما اپنی منزل سے بس کچھ قدم ہی دور تھے۔۔۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
معراج صبح کا نکلا ابھی گھر آیا تھا۔۔۔ایک ایک پل میں اسکو دعا کی کمی محسوس ھورہئ تھی۔۔۔
اسکا دل کسی چیز میں نہیں لگ رہا تھا۔۔۔
مسلسل اسکا دل بس دعا کے پاس جانا چھا رہا تھا۔۔۔۔۔
لیکن پھر اسنے سوچا وہ بیچاری ایک دن کے لیے گئ۔۔۔ھے اچھا نہیں لگتا۔۔۔
وہ گھر آگیا تھا۔۔۔۔
گھر انے کے بعد اس نے سب کے ساتھ کھانا کھایا تھا۔۔۔
لیکن اپنے ساتھ والی کرسی کھالی دیکھ کر اسکا دل اندر سے اداس تھا۔۔۔
اج اسنے کسی سے بات نا کی تھی اور سیدھا اپنے کمرے میں ایا تھا۔۔۔۔
افففف ایک تو یہ لڑکی۔۔۔۔
عجیب عادت کر دی ھے اس نے میری۔۔۔جب سے گئ ھے۔۔۔
ایک پل کے لیے مجھ سے الگ نہیں ھوئ۔۔۔
معراج نے جھنجلا کر کہا۔۔۔۔
ایک تو منع کیا تھا کہ رہنے مت جاو لیکن نہیں جانا تھا۔۔۔
اب خود مزے کر رہی ھونگی محترمہ۔۔۔
اور یہاں میں انکو یاد کر کر پاگل ھوا ھوں۔۔۔۔
معراج اپنے اپ سے بڑبڑاتا باتھ روم گھس گیا تھا۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
دعا کھانا وغیرہ کھا کر ابھی فارغ ھوئ تھی۔۔۔۔عمیر نمرہ وغیرہ اسے باتوں میم لگے تھے پر اسے رہے رہے کر معراج کا خیال ستا رہا تھا۔۔۔۔
دعا کا دل بھی کسی چیز میں نہیں لگ رہا تھا۔۔۔
کتنا مشکل ھوتا ھے محبت کرنے والے شخص سے دور رہنا دعا نے دل میں سوچا۔۔۔۔۔۔
خیر سے سب کے ساتھ ھنسی مزاق کر کے دعا اپنے کمرے میں اگئ تھی۔۔۔نمرہ بھی اسکے پیچھے پیچھے ائ تھی۔۔۔
عجیب انسان ھے ایک کال تک نہیں کی۔۔۔
دعا نے دل میں سوچا۔۔۔
وہ بار بار اپنا موبئل چیک کر رہی تھی۔۔۔۔
ارے اپی اپ خود کال کر لو نا۔۔۔جب اتنا دل کر رہا ھے بات کرنے کو تو۔۔۔۔
نمرہ نے چھیڑتے ھوئے کہا۔۔۔
تم نا بہت بڑی بی آماں بن گی ھو۔۔۔۔
دعا نے نمرہ کو کان سے پکڑ کر کہا۔۔۔
ہاہاہا۔۔۔۔نمرہ زور سے ھنس دی۔۔
اچھا سوری نا اپی۔۔۔۔
نمرہ اپنی جگہ پر جاکر لیٹ گئ تھی۔۔
مجھے تو بہت سخت نیند ائ ھے اپی۔۔۔
اپ جاگو معراج بھای کی یاد میں۔۔۔۔
نمرہ ابھی بس سونے ہی لگی تھی کہ اسکو یاد آیا تھا کہ اسکو اج عمر کے ساتھ سونا تھا۔۔۔
اہوو آپی مجھے اج عمر کے ساتھ سونا ھے۔۔۔
عمیر اب الگ سوتا ھے۔۔۔
میں اسکو پاس جاتی ھوں۔۔۔
ہمم تم جاوں۔۔۔
دعا نے نمرہ کو کہا تو نمرہ فورن چلی گئ تھی۔۔
دعا نے اپنا ڈوپٹہ اتار کر ایک طرف رکھا تھا۔۔۔۔۔اور بیڈ پر سر پکڑ کر بیٹھ گئ تھی۔۔۔۔
افف ایک رات اتنی مشکل کیوں ھو رہی ھے آخیر۔۔۔۔
دعا نے سوچا۔۔۔۔
مجھے معراج سے اتنا عشق اچانک کیوں ھوگیا۔۔۔
مجھے سمجھ نہیں آتا۔۔۔۔۔
دعا ابھی بڑبڑا ہی رہی تھی۔۔۔۔کہ اس کے موبئل پر معراج کی کال ائ تھی۔۔۔۔
بس مل گیا وقت تو کرلی کال نہیں تو کوئ خیال نہیں تھا میرا ۔۔
دعا بے بڑبڑاتے ھوئے کال اٹھائ تھی اور کافی ناراضگی سے ہیلو کہا تھا۔۔۔۔
اففف اس قدر غصہ ؟؟
معراج نے گھیر آواز میں کہا تھا۔۔۔
معراج کی آواز سن کر اسکو عجیب سا سکون ملا تھا۔۔۔
ویسے ابھی بھی کال کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔
دعا نے ٹون مارا تھا۔۔۔۔
تو محترمہ اپ بھی تو کال کر سکتی تھی ۔۔۔
معراج نے جواب دیا تھا۔۔۔۔
مجھے تو اپکی یاد نہیں آرہی تھی اس لیے نہیں کی۔۔۔
دعا نے صاف جھوٹ کہا تھا۔۔۔۔
اچھا سچی ؟؟
معراج نے ھنس کر پوچھا تھا۔۔۔۔
ہاں سچی۔۔۔۔!!! دعا نے مسکرا کر کہا تھا۔۔
ویسے میں سوچ رہا تھا اگر کوئ مجھے بول دیتا کہ روک جاو۔۔۔تو میں روک بھی جاتا۔۔۔۔۔
معراج نے کہا تھا۔۔۔
کوئ کو کہنے کی ضرورت اس لیے نہیں تھی کہ کسی کو خود پتہ ھونا چھایے کہ کوئ کیا چھاتا ھے۔۔۔۔
دعا نے بڑے اچھے انداز میں جواب دیا تھا۔۔۔معراج ایک دم زور سے ھنسا تھا۔۔
تو کہا کیوں نہیں مجھے !!! معراج نے سوال کیا۔۔۔۔
کیونکہ اپ نے سمجھا ہی نہیں۔۔۔
دعا نے بھی جواب دیا۔۔۔
اچھا اگر کوئ ابھی بول دے تو میں آجاوں گا۔۔۔۔
معراج کی آواز میں اب شرارت تھی۔۔۔
کوئ ضرورت نہیں۔۔۔۔رات بہت ھوگئ ھے سو جائیں۔۔۔۔۔
دعا نے ھنس کر کہا تھا۔۔۔
سوچ لو میری بغیر نیند نہیں آنی تمھیں۔۔۔۔
اپکی سانسوں کو میری عادت ھوگئ ھے
مسزز معراج جہانگیر۔۔۔۔۔
معراج نے کافی محبت بھرے اندز میں کہا تھا۔۔۔۔
اتنی خوش فہمی بھی اچھی نہیں ھوتی۔۔دعا جانتی تھی ایسا ھی ھے پر وہ دعا ہی کیا جو اپنی کمزوری پکڑی جانے دے۔۔۔۔
چلو سو کے دیکھ لو۔۔۔
جب بھی تڑپ کر مجھے بلاو گی میں آجاوں گا۔۔۔۔
معراج نے کہہ کر فون بند کر دیا تھا۔۔۔۔
دعا بھی ھنستے ھنستے اپنی جگہ پر لیٹ گئ تھی۔۔۔
اور وہی ھوا تھا کافی دیر کوشش کرنے کے بعد بھی اسکو نیند نہیں آرہی تھی۔۔۔۔
افففففف معراااااج
اپ آآآآ ہئ جاتے۔۔۔۔
دعا نے بیڈ سے اٹھ کر زور سے کہا تھا۔۔۔۔
اسکو کسی صورت نیند نہیں آرہی تھی۔۔۔
وہ اٹھ کر اپنی balcony کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔
ایک تو جناب کی بولی ہر بات سچ ھوتی ھے۔۔۔
ان سے تو جھوٹ بول دیا پر حقیقت یہ ھے واقعی مجھے نیند نہیں آرہی۔۔۔
دعا خود قلامی کر رہی تھی۔۔۔۔جب ہی کسی نے کہا تھا۔۔۔
دیکھا میں نے تو پہلے ہی کہا تھا۔۔۔
دعا نے دیکھا تو معراج balcony کی دیور کے ساتھ ٹیک لگا کر پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال کر کھڑا اسکو مسکرا کر دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
دعا نے اپنی انکھیں مل کر دیکھا تو وہاں کوئ نا تھا۔۔۔
اللہ اللہ
دعا پاگل ھوگئ ھے تو۔۔۔
دعا نے اپنے سر پر ہلکے سے تھپڑ مارا تھا۔۔۔
وہ سمجھ رہی تھی یہ اسکا وہم ھے۔۔۔۔
وہ اکر واپس اپنے بیڈ پر لیٹ گئ تھی۔۔۔۔۔
کمرے کی لائٹس آوف تھی۔۔۔
تبی اس نے اپنا موبئل اٹھا کر معراج کی فوٹو نکل کر دیکھی تھی۔۔۔۔
لو جی۔۔۔۔آاا
جیتا جاگتا بندہ ساتھ ھے اور لوگ فوٹو دیکھ رہے ھیں۔۔۔۔
اب کے بار دعا نے فورن کمرے کے لائٹس آون کی تھی تو معراج بیڈ کے سامنے پڑی کرسی پر بیٹھا تھا۔۔۔
دعا اسکو دیکھ کر ایک دم اٹھی تھی۔۔۔
اپ
یہاں ؟؟؟
ابھی کیسے ؟؟؟؟
دعا نے ایک ساتھ سوال کیے تھے۔۔۔
ہاہاہاہا تم اپنا وہم سمجھ رہی تھی۔۔۔۔
دیکھ لو میں نے کہا تھا نا تم دل سے یاد کرو گی میں آجاوں گا۔۔۔
معراج نے بڑے مزے سے مسکرا کر کہا تھا۔۔۔۔
کوئ دیکھ لے گا تو کیا سوچے گا۔۔۔۔
دعا نے پریشان ھوکر کہا۔۔۔
یہ ہی کہہ گا میاں بیوی میں بے حد پیار ھے۔۔۔
معراج نے کھڑے ھوکر مسکرا کر کہا۔۔۔
دعا نے شرما کر منہ موڑ لیا تھا۔۔۔۔
تبھی معراج نے اکر اسکو کمرے پکڑا تھا۔۔۔
اور اس کے کندھے پر اپنا سر رکھا تھا۔۔۔۔
دعا کی ڈھڑکن ایک دم تیز ھوئ تھی
تمھاری بہت یاد آرہی تھی دعا۔۔۔۔۔۔
کب سے سونے کی کوشش کر رہا تھا۔۔
دل تھا کہ مان نہیں رہا تھا۔۔۔
اس لیے سوچا تم سے مل آوں۔۔۔۔
معراج نے سنجیدگی سے کہا تھا۔۔۔۔
اور پھر انکھیں بند کر کے دعا کے بالوں میں سے انے والی خوشبو کو محسوس کرنے لگا۔۔۔۔
صرف مل آوں ؟
دعا نے ہلکے سے کہا تھا۔۔۔۔
اگر صبح یہاں سے ایسے برامد ھوا نا تو ہم پہلے شادی شدہ جوڑے ھونگے جو اس طرح ملنے پر ڈانٹ کھایں گے۔۔۔
معراج نے ھسن کر کہا۔۔۔۔۔
دعا !!!!!
معراج نے بہت دھیمے انداز میں دعا کو پکارا تھا۔۔۔
ہممم !!!
دعا نے ہلکے سے کہا تھا۔۔۔۔
تمھارا نشہ ھوگیا ھے مجھے۔۔۔۔
اور یقین مانوں تمھارا نشہ دنیا کے بڑے سے بڑے نشے سے خطرناک ھے۔۔۔۔۔
معراج بہت ہلکے ہلکے مدھم آواز میں سرگوشی کر رہا تھا۔۔۔
معراج نے اب اپنا رخ دعا کی طرف کیا تھا۔۔۔۔
اب دعا اس کے بلکل روبرو کھڑی تھی۔۔۔۔
بہت یاد کیا تمھیں۔۔۔۔
معراج نے مسکرا کر کہا تھا۔۔۔
اور دعا کی آنکھوں میں جھانک کر کہا تھا۔۔۔
میں نے بھی۔۔۔۔!!
دعا بے بے حد ہلکی آواز میں کہا تھا۔۔۔
معراج نے دعا کا سر دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر چوما تھا۔۔۔۔
اور پھر اسکو زور سے گلے سے لگایا تھا۔۔۔۔
دعا نے اسکے سینے سے لگ کر انکھیں بند کرلی تھیں۔۔۔
میں کل جلدی تمھیں لینے آجاوں گا۔۔۔
اور اب بس رہنے نہیں اوں گی۔۔۔اور جب آو گی میں ساتھ آیا کروں گا۔۔۔
معراج نے بچوں کی طرح کہا تو دعا کو اس پر ایک دم بہت سارہ پیار ایا۔۔۔
ہممممم دعا نے ہلکے سے کہا۔۔۔
اب دیکھو۔۔۔
محترمہ کے پاس کیسی نیند آرہی ھے۔۔۔۔اب گھر جاکر بھی اجائے گئ۔۔۔۔
معراج نے ھسن کر کہا تو دعا اسے الگ ھوئ۔۔۔۔
چلو میں چلتا ھوں۔۔۔۔
تم بھی بس اب سو جاو۔۔۔
ہمم دعا نے مسکرا کر معراج کو دیکھا۔۔۔
وہ شخص اسکی زندگی بن چکا تھا۔۔کچھ عرصہ پہلے جب وہ اس طرح اس کمرے میں آیا تھا۔۔۔تو دعا کو اس سے زیادہ نفرت کسی سے نا تھی۔۔۔۔
اور اب اس سے زیادہ محبت کسی سے نا تھی۔۔۔
اور آج اس طرح وہی شخص ایا تھا۔۔لیکن آج وہ اسکا محرم تھا۔۔۔۔
معراج دعا کے ماتھے کو ایک بار پھر چوم کر نکل گیا تھا۔۔۔
جیسے آیا تھا ویسے ھی چلا بھی گیا تھا۔۔۔۔
معراج نے گھر پھنچ کر اسکو msg کر دیا تھا تو۔۔۔
دونوں اب سکون کی نیند اپنی اپنی جگہ پر سو گئے تھے۔۔۔۔۔
☆☆![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆
اگلے دن صبح اٹھتے ھی نمرہ نے جانے کا شور مچا دیا تھا۔۔۔دعا نے سمیرا بیگم سے کہا تھا کہ اسکو بازار جانا ھے۔۔۔دعا اور نمرہ جلدی جلدی تیار ھوکر کیفے کے لیے نکل گئ تھی۔۔۔۔
کیفے کے پورے راستے میں نمرہ نے دعا کا سر کھایا تھا ۔۔۔۔۔
خیر سے وہ کیفے پھنچ گئ تھی۔۔۔دعا کو بہت عجیب لگ رہا تھا لیکن چھوٹی بھہن کی خاطر اس نے یہ رسک لیا تھا۔۔۔۔
ابھی وہ کیفے کے اندر داخل ھوئ تھی کہ نمرہ نے ایک ٹیبل کی طرف آشارہ کر کہ کہا وہ رہے۔۔۔
دعا اور نمرہ جب اس ٹیبل کی طرف بڑھی تو
