Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zid Junoon Ki Inteha Episode 8

Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi

معراج ابھی ابھی جہانگیر صاحب کے آفس سے نکلا تھا۔۔۔۔

معراج کو جب بھی اپنی کوئ بڑی بات منوانی ھوتی وہ جہانگیر صاحب کے آفس میں جاکر ان سے خود بات کرتا تھا۔۔۔۔۔

اج تک اس کی ہر ایک ضد پوری کی گئ تھی۔۔۔۔

لیکن اج اس نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی ضد کی تھی۔۔۔۔

جب ہر ضد پوری کی جائے تو ضد کبھی کبھی جنون بن جاتی ھے۔۔۔

اور حد سے زیادہ جنون جان لوا ھوتا ھے۔۔۔۔۔

معراج جہانگیر صاحب کے کمرے سے نکلا تو اس کے چہرے پر ایک فتاحنہ مسکراہٹ تھی۔۔۔۔

اس کی زندگی کی سب سے بڑی ضد پوری ھونے جارہی تھی۔۔۔۔۔

وہ اپنی ضد پوری کرنے کے آگے یہ نا دیکھتا تھا کہ کیا صیح ھے کیا غلط ھے۔۔۔۔

اس کی ضد کسی کے لیے نقصان دے تو نہیں بن رہی۔۔۔۔۔

معراج کے جانے کے بعد جہانگیر صاحب کچھ سوچتے رہے پھر بریرہ بیگم کو کال ملا کر کچھ ہدایت دی۔۔۔۔

بریرہ بیگم کو بھی حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا۔۔۔۔۔۔

لیکن معراج کے معمالے میں وہ کچھ بھی بولنے سے احتیاط کرتی تھی۔۔۔۔۔۔

معراج ھنستا ھوا آفس سے باہر آیا تھا۔۔۔۔

اپنے کار میں جاکر بیٹھا تب ہی اسکا فون بجا تھا۔۔۔۔۔

بولو ؟؟؟

معراج نے کال اٹھا کر کہا

ہیلو سر !!!!!

اپ نے جو کام کہا تھا وہ ھوگیا۔۔۔۔

کسی نے فون پر معراج کو اطلاع دی تھی۔۔

ہم ٹھیک ھے جانے دو اسکو لیکن اس پر نظر رکھو کے وہ پھر یہ حرکت نا کر پائے۔۔۔۔

معراج نے ہداہت دینے کے ساتھ ھی فون بند کر دیا تھا۔۔۔۔۔

پھر سمندر کے کنارے پر لاکر اس نے کار روک دی تھی اور اپنی کار سے اتر کر کار کے بونٹ پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔

ایک ہاتھ سے سگیرٹ سلگائ اور دوسرے ہاتھ سے فون سے کوئ نمبر ملا کر کان پر لگایا۔۔۔۔!!!!!

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

دعا ابھی ابھی نھا کر باہر نکلی تھی اور شیشے کے سامنے کھڑے ھوکر اپنے حسین لمبے بال سکھا رہی تھی۔۔۔۔۔

اور کسی بہت گھیری سوچ میں تھی۔۔۔۔

اخر یہ سب کون کر رہا ھے ؟؟؟

دعا نے اپنے زہن میں اس معملے کو سلجھانا چھا۔۔۔۔

اشعر بھائ نہیں

عمیر بھی نہیں ھوسکتا

تو پھر ؟؟؟؟

یہ سب میرے ساتھ ایک دم ۔۔۔

افف میرے اللہ !!!!

مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا امی ابو کو بتاوں یا نہیں۔۔۔۔!!!

ابھی دعا اپنی ھی سوچوں میں گرفتار تھی کہ اچانک اس کے موبئل پر گھنٹی بجی۔۔۔۔۔۔

اس نے فون کے نمبر کی طرف دیکھا تو یہ کل والا ہی نمبر تھا۔۔۔

نمرہ اور عمر دعا کا لپ ٹپ use کر رہے تھے اس لیے دعا اپنے کمرے کی کھلی balcony میں اگئ تھی۔۔۔۔

فون بار بار بجا جارہا تھا۔۔۔۔

دعا کے دل میں ایک عجیب سا خوف پیدا ھوا تھا۔۔۔۔۔

موبئل کی اسکرین پر چمکتا یہ نمبر آخر کس کا تھا۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟

یہ ایک سوال بن چکا تھا۔۔۔

دعا کے زہن میں لاکھوں سوال تھے۔۔۔۔۔

کوئ طوفان انے والا تھا۔۔۔۔

کچھ بہت بڑا ھونے والا تھا دعا کا دل کسی انھونی کی خبر سنا رہا تھا۔۔۔۔

فون مسلسل بجا جا رہا تھا۔۔۔۔۔مقابل شخص کوئ ضدی شخص معلوم ھو رہا تھا۔۔

دعا نے تنگ اکر ڈرتے ڈرتے کال اٹھا ہی لی۔۔۔۔

دعا بھی جاننا چھاتی تھی کہ اخر یہ سب کر کون رہا ھے ۔۔۔۔۔

ہیلو ؟؟؟؟؟

دعا نے ہمت کر کے اپنے حلق سے آواز نکالی تھی۔۔۔۔۔

تمھیں کہا تھا نا مجھے تم اس لڑکے کے ساتھ دوبارہ نظر نا آو ۔۔۔۔

ایک بار کی بات سمجھ نہیں اتی۔۔۔۔۔اس کے ساتھ جو کچھ بھی ھوا ھے وہ تمھاری وجہ سے ھوا ھے۔۔۔۔

مس دعا خان۔۔۔۔

مقابل نے بنا کوئ تمید باندھے سیدھا کہا تھا۔۔۔۔

اور اس شخص سے دعا اپنا نام سن کر چکرا گئ تھی۔۔۔۔۔

آخر تم ھو کون ؟؟؟؟

میں جو بھی ھوں ۔۔۔۔۔

تمھیں بس میری بات مانی ھے۔۔۔۔۔اور ہاں ویسے بھی paper ختم ھو چکے ھے تو اب سکون سے گھر میں رہو ویسی کچھ دن بچے ھیں۔۔۔!!!!!

ماقبل بولتے بولتے رکا۔۔۔

کس چیز کے کچھ دن ؟؟؟

دعا نے حیرانی سے پوچھا۔۔۔

تمھاری آزادی کہ۔۔۔۔

مقابل نے ڈھٹائ سے کہا تھا۔۔۔

یہ سب کیا بقواس ھے۔۔۔؟؟؟؟

میں کیوں مناو تمھاری بات ؟؟؟؟

کیا حق ھے تمھارا مجھ پر ؟؟؟؟

تم ھوتے کون ھو مجھ پر حکومت کرنے والے ؟؟؟؟

دعا کا ضبط اب جواب دے گیا تھا۔۔۔۔دعا نے غصے میں مقابل کے الفاظ پر غور نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔

مقابل نے ایک زور دار قہقہ لگایا تھا۔۔۔۔اور ساتھ کہا تھا۔۔۔

میری جان اتنی جلدی کیا ھے۔۔۔۔تمھیں تمھارے ہر ایک سوال کا جواب مل جائے گا۔۔۔۔۔

خبردار!!!!!

جو مجھے کسی بھی گھٹیا tittle سے تم نے نوازہ۔۔۔۔

اگر تم بعاز نا ائے تو میں تمھاری complain پولیس میں کردوں گی۔۔۔۔اور تمھارے ساتھ وہ ھوگا جو تم سوچ نہیں سکتے ۔ ۔۔۔۔

ہاہاہا اچھا واقعی میں تو ڈر گیا۔۔۔

۔۔مقابل نے دعا کا مزاق اڑیا تھا۔۔۔۔

تمھیں جو کرنا ھے کر لو ھوگا وہی جو میں چاہوں گا۔۔۔۔

مقابل کے لجے میں حد درجہ تک ضد تھی۔۔۔۔

تو پھر تم بھی سن لو ۔۔۔۔میں کسی کے باپ سے نہیں ڈرتی۔۔۔۔

دعا نے اپنی بات کر کے فون بند کر دیا تھا۔۔۔۔

دعا کی انکھوں میں انسو ھی آنسو تھے۔۔۔۔۔

یہ سب کیوں ھو رہا ھے ایک دم میرے ساتھ؟؟؟؟

وہ حد سے زیادہ غصے میں ھوتی تو اس کو بری طرح رونا آجاتا۔۔۔۔

اس کی پور سکون زندگی میں ایک دم ہی طوفان آگیا تھا۔۔۔۔۔

سب کچھ بدل رہا تھا۔۔۔۔۔

وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ وہ یہ بات کس سے شیر کر کے اپنے دل کا بوج ہلکا کرے۔۔۔۔

عمیر کو بتاتی تو وہ لڑنے مرنے کی بات کرتا۔۔۔احمد صاحب کو اس عمر میں اتنی بڑی ٹیشن دینا ٹھیک نہیں تھا۔۔۔۔۔

دعا حد سے زیادہ پریشان تھی۔۔۔۔۔

آپی چلو نیچے اکر کھانا کھا لو۔۔۔۔

اپ کو امی بلا رہی ھیں۔۔۔۔

عمر نے اکر دعا کا ہاتھ تھام کر کہا تھا۔۔۔۔

اچھا میں اتی ھوں۔۔۔۔دعا نے اپنے آنسو صاف کیے۔۔۔۔۔

دعا اپی ؟

اپ رو رہی ھیں۔۔۔۔

چھوٹے سے عمر نے بہن کی انکھوں کی نمی دیکھ لی تھی۔۔۔

نہیں عمر بس کوئ چیز انکھ میں چلی گئ تھئ۔۔۔

دعا نے اپنے چھوٹے بھائ کے گال پر بوسہ دیتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔

اف دعا اپی اپ کو کسی نے رلایا مجھے بتاو ؟؟؟

عمر نے اپنی چھوٹی چھوٹی انکھوں میں غصہ سجا کر کہا۔۔۔۔۔

آپی اگر عمیر بھائ اپ سے لڑے تو میں ابو سے ان کی شکایت کروں گا۔۔۔۔

عمر دعا کے لیے بہت فکر مند ھوا ۔۔۔۔۔

دعا کو ایک دم عمر کی محبت پر ڈھیر سارہ پیار آیا۔۔۔۔

نہیں میرے پیارے بھائ کچھ نہیں ھوا۔۔۔۔اور جسکا اتنا اچھا چھوٹا بھائ ھو کیا اسکو کچھ ھوسکتا ھے ؟؟؟؟؟

دعا نے پیار سے عمر کو گلے لگاتے ھوئے کہا۔۔۔۔

چلو نیچھے چلتے ھیں۔۔۔۔

دعا سے گھر کا ایک ایک فرد ایسی محبت کرتا وہ سب کی جان تھی۔۔۔۔

دعا نیچھے اکر کھانے کے ٹیبل پر بیٹھ گئ تھی اور خود کو نورمل پیش کر رہی تھی۔۔۔دعا کے تمام گھر والے ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔۔۔۔۔

اج ہفتے کی رات تھی۔۔۔۔سب ساتھ لیٹ تک جاگ کر باتیں کیا کرتے تھے۔۔۔۔

ایک فیلمی bonding تھی۔۔۔

تبھی اس گھر کے لوگوں کو کبھی اور لوگوں کی یا بھار کی دنیا کی رنگینیاں دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں ھوئ۔۔۔۔۔

احمد صاحب اور سمیرا بیگم بچوں کو بھرپور وقت دیا کرتے تھے۔۔۔۔

دعا عمیر نمرہ عمر چاروں خوب ھنسی مزاق کیا کرتے تھے ۔۔۔۔

دعا بھی ان سب میں اکر پھر سے نورمل ھو کر ھنس کھیل رہی تھی۔۔۔۔کتنی خوبصورت زندگی تھی اس کی۔۔۔۔

اس نے اپنے ھنستے ماں باپ اور بہن بھایئوں کو دیکھ کر ان کی سلامتی اور خوشیوں کی دعا کی۔۔۔۔۔

یا اللہ میرے گھر کو کسی کی نظر نا لگے۔۔۔ ایک انجانا سا خوف دعا کو ستا رہا تھا۔۔۔۔۔دعا نے اپنا زہن جھٹکا اور پھر لوڈو کھیلنے لگ گئ۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

کیا بات ھے راجہ صاحب اج بہت خوش ھو ؟؟؟؟

زاضا نے مسکراتے معراج کو دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔

ہاں بس یہ سمجھ لو کہ میری ایک بڑی ضد پوری ھونے جارہی ھے۔۔۔۔۔

معراج نے غرور سے کہا۔۔۔

اہ بھائ تیری اج تک کون سی ضد پوری نہیں ھوئ یہ بتا دے۔۔۔۔۔

راضا نے ھنس کر کہا تو معراج بھی ھنس دیا۔۔۔۔

نہیں لیکن اس بار کی ضد الگ تھی زاضا۔۔۔۔

کسی کو سبق سکھانا ضروری ھوتا ھے کبھی کبھی۔۔۔۔

معراج نے ایک مسکان سجا کر کہا۔۔۔۔۔

تیرے دماغ میں کیا چل رہا ھے ؟؟؟؟

اب کے زیب نے پوچھا تھا۔۔۔۔

جو بھی چل رہا ھے بہت جلد تیرے سامنے ھوگا۔۔۔۔۔

معراج نے سیگرٹ کا کش لگاتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔

راج تجھے پتا ھے اپنے زیب میاں کسی کے عشق میں گرفتار ھوگئے ھیں۔۔۔۔

سمیر نے مسکرا کر معراج کو بتایا۔۔۔۔۔

اچھا کس کے ؟؟؟؟

معراج نے سیگرٹ کا ایش پھینکتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔

اور ایک ہاتھ سے jucie کا گلاس اٹھا کر منہ سے لگایا۔۔۔۔۔

یار وہ ہی حجاب والی لڑکی ۔۔۔سمیر نے ایک دم کہا تو معراج اور زاضا دونوں ہی شکوک۔ھوئے۔۔۔۔۔

معراج کو لگا جسے اس پر کسی نے کھولتا ھوا پانی ڈال دیا ھو ۔۔۔۔

کیا کہا ؟؟؟؟؟

معراج نے ایک دم اپنے تیور بدل کر پوچھا۔۔۔۔۔سمیر اور زیب دونوں ھی معراج کے اس reaction کی امید نہیں کر رہے تھے۔۔۔۔۔

ہاں معراج تو نے مجھے گھٹیا ہرکت کرنے سے منع کیا تھا نا۔۔۔اب میں اس لڑکی کو پسند کرنے لگا ھوں اور اماں کو اس کے گھر رشتے کے لیے بھیج رہا ھوں۔۔۔۔وہ میری ھی بہن کے کالج میں پڑھتی ھے۔۔۔۔۔

زیب نے مسکرا کر کہا تھا۔۔۔۔اور وہ کسی حد تک معراج کی جلن کا بھی اندازہ کرنا چھا رہا تھا۔۔۔۔

وہ لڑکی !!!

ہاں اسکا نام ۔۔۔۔۔۔ابھی زیب کے منہ سے الفاظ ادا نا ھوئے تھے کہ معراج ایک دم بول پڑا۔۔۔۔

خبردار جو تو نے اسکا نام اپنی زبان سے لیا زیب !!!!

یہ آخری اور پہلی بار تھا جو تو نے اس کا زکر کیا۔۔۔۔۔میں دوبارہ یہ سب نا سنو۔۔۔۔اور تیری اماں وہاں نہیں جایئں گئ ۔۔۔۔۔زیب اگر معراج کا دوست نا ھوتا تو وہ کب کا اسکا منہ توڑ چکا ھوتا۔۔۔۔لیکن معراج نے اپنے غصہ پر قابو رکھا اور زاضا کو بول کر اٹھ گیا۔۔۔

زاضا اس کو اپنی زبان میں سمجھا دینا۔۔۔۔۔

معراج جہانگیر کی جس چیز پر نظر اجائے کوئ اسے دیکھے یہ مجھے پسند نہیں تو اسکا نام لینا دور کی بات۔۔۔۔۔

راج بول کر تیزی سے نکل گیا۔۔۔۔اگر معراج تھوڑی دیر اور وہاں رکتا تو زیب کا حشر کر دیتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

معراج کو ایک عجیب سی جلن محسوس ھو رہی تھی وہ جلن جو اس نے کبھی محسوس نا کی تھی۔۔۔

معراج نے اپنی جیب سے ایک weed کی سگیرٹ نکالی اور منہ سے لگالی۔۔۔۔

وہ جب غصہ میں ھوتا تو اپنے mind کو سلو کرنے کے لیے weed پیتا۔۔۔۔

کافئ دیر سڑکوں پر مارا مارا پھیرنے کے بعد وہ گھر پھنچا تھا اور اکر اپنی جگہ پر خاموشی سے سوگیا تھا۔۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اج اتفاق سے اتوار تھا اور احمد صاحب سمیت سب لوگ گھر پر ھوتے تھے۔۔۔۔۔

اتوار کے دن دعا کافی late اٹھتی تھی۔۔۔۔۔

وہ اٹھی تو دوپہر کے 3 بج رہے تھے۔۔۔۔

اف اللہ اج بہت دیر سے اٹھی ھوں میں۔۔۔۔

دعا نے اپنے بالوں کو جوڑا باندھا اور باتھ روم میں گھس گئ۔۔۔

کپڑے وغیرہ تبدیل کر کے اس نے نماز پڑھی اور پھر نیچے اتر کر لاوئج میں اگئ جہاں سے احمد صاحب اور سمیرا بیگم کی باتوں کی آوازیں آرہی تھی۔۔۔۔

دعا گرم جوشی سے سلام کرتی اپنے لاوئج میں داخل ھوئ تھی۔۔۔۔

اسلام علیکم امی ابو جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور جیسے وہ لاوئنج میں داخل ھوئ تھی۔۔۔۔۔

سامنے ھی ٹیبل پر بڑےبڑے مٹھاییوں اور پھولوں کے ٹوکرے پڑے تھے۔۔۔ ۔

ارے واہ ۔

ں یہ کون لایا دعا نے اگے بڑھ کر ٹوکروں کو چھوا۔۔۔۔اور پھر احمد صاحب اور سمیرا بیگم کو دیکھا وہ دونوں کافی حد تک پریشان نظر آرہے تھے۔۔۔۔۔

احمد صاحب اور سمیرا بیگم کچھ دیر تک دعا کو گھورتے رہے پھر سمیرا بیگم بولی۔۔۔

کیا واقعی دعا تم نہیں جانتی یہ ٹوکرے کون لایا ھے ؟؟؟؟؟؟

سمیرا بیگم کے انداز پر دعا کو حیرت ھوئ تھی۔۔۔۔۔

اج تک کبھی انھوں نے اس سے ایسے بات نا کی تھی۔۔۔۔

ان کی نظر میں اج شک دیکھائ دیا دعا کو۔۔۔۔

جی امی واقعی میں نہیں جانتی یہ سب کون لایا ھے ۔۔۔۔۔

دعا نے حیرت سے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جھوٹ مت بولو دعا !!!

احمد صاحب نے غم سے بھری آواز میں کہا تھا۔۔۔۔۔۔

دعا کو لگا کوئ اس کے دل میں سلاخ چھوبو رہا ھو ۔۔۔۔۔۔

ابو میرا یقین کریں۔۔۔۔

دعا اگے بڑھنے لگی تو احمد صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا اور خود لاوئنج سے باہر کی طرف چلے گئے۔۔۔۔۔۔

دعا نے پھٹی پھٹی نگاہوں سے پہلے سمیرا بیگم کو دیکھا پھر عمیر کو۔۔۔۔۔

امی یہ سب کیا ھے ؟؟؟

عمیر اور دعا دونوں نے ایک ساتھ سوال کیا تھا۔۔۔۔

اس کا جواب میں تم سے لوں گی دعا۔۔۔۔۔

سمیرا بیگم نے بہت سخت لہجے میں کہا۔۔۔۔۔

ابھی میں عمیر اور تمھارے ابو ضروری کام سے حیدرآباد جا رہے ھیں۔۔۔۔تم سے اکر بات کروں گی۔۔۔۔

ابھی تم چھوٹے بہن بھائیوں کا خیال رکھنا۔۔۔۔

تمھارے نانا کی طبعیت نہیں ٹھیک اس لیے جانا ضروری ھے۔۔۔۔۔

رات تک اجائیں گے ہمم۔۔۔

سمیرا بیگم بھی دعا نے سے ملے بنا نکل گئ تھی۔۔

۔۔

دعا نے بے بسی سے عمیر کو دیکھا۔۔۔۔

عمیر یہ سب ؟؟؟؟؟؟

اپی مجھے خود نہیں پتا یہ کیا بول رہئ ھیں اپی مگر تم پریشان نا ھو میں دیکھتا ھوں کیا مصلہ ھے ۔۔۔۔۔تم اپنا خیال رکھنا اپی اور پریشان بلکل نہیں ھو۔۔۔۔ گھر کا دروازہ لوک کر کے رہنا۔۔۔

عمیر نے بڑی بہن کو تسلی دیتے ھوئے کہا۔۔۔اور خود بھی جانے کے لیے نکل گیا۔۔۔

دعا بے سد سی ھوکر صوفے پر بیٹھ گئ۔۔۔۔

اے میرے اللہ مجھے اس آزمائش میں ثابت قدم رکھنا پتا نہیں کونا سا نیا طوفان انے والا ھے۔۔۔۔۔امی ابو نے اج تک میرے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا۔۔۔۔تو پھر اب۔۔۔؟؟؟؟؟؟

دعا کی سوچ سے ہر چیز باہر تھی۔۔۔۔۔

ایک کہ بعد ایک پریشانیا اس پر آرہی تھی۔۔۔۔

اس نے اپنے چکراتے سر کو تھاما اور اٹھ کر عمر اور نمرہ کے لیے ناشتہ بنایا۔۔۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

وہ کافی دیر سےروڈ پر گاڑی کھڑی کیے کچھ سوچ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔اپنی گاڑی میں وہ تقریبن ایک گھنٹے سے بیٹھا تھا اور اس کی نظر مسلسل ایک جگہ اٹکی تھی۔۔۔۔۔

وہ بس صیح موقعے کا انتطار کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔

کچھ دیر وہ کچھ سوچتا رہا پھر ایک قدم اپنی گاڑی سے اتر کر کھڑا ھوگیا تھا۔۔۔۔۔۔

رات کا وقت تھا اس لیے روڈ سنسان تھی۔۔۔۔۔۔۔وہ ہلکے ہلکے قدم بڑھتا اگے بڑھا تھا۔۔۔

ایک بار اس نے دوبارہ ادھر ادھر نظر گھومائ تھی۔۔۔

پھر اپنی منزل کے بلکل پاس اکر وہ اپنے جانے کا راستہ تلاش کر رہا تھا۔۔۔۔۔اور پھر بل آخیر اسکو راستہ مل گیا تھا۔۔۔۔۔۔

اور وہ ایک بار پھر اپنی ضد کی خاطر ایک اور غلط اقدام اٹھا رہا تھا۔۔۔۔بنا کچھ سوچے سمجھے۔۔وہ جو سوچتے لیتا تھا پھر اسکو ہر حال میں پورا کرتا چھائے وہ کام کتنا بھی مشکل اور کھٹین کیوں نا ھو۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔بس ایسا ھی تھا وہ۔۔۔۔۔۔۔ضدی!!!!!!!!!

☆☆☆☆☆☆☆☆▪☆☆☆☆☆☆☆

رات کے 9 بجے تھے اور اب تک دعا اس قدر سوچ چکی تھی کہ اس کہ سر کی رگیں پھٹ رہی تھی۔۔۔۔۔

اگلے دن عمر اور نمرہ کو اسکول جانا تھا اس لیے وہ دونوں سو چکے تھے۔۔۔پورا دن دعا ان دنوں کے ساتھ ھی لگی تھی۔۔۔۔

۔عمر اکیلا تھا اس لیے نمرہ اس کے ساتھ ھی کمرے میں سوئ تھی۔۔۔

دعا ان دونوں کو دیکھ کر اپنے کمرے میں اگئ تھی۔۔۔۔

اور فون ملا کر عمیر سے واپس انے کے خبر لے رہی تھی وہ لوگ آدھے راستے میں تھے ابھی بھی انکو انے میں 1 گھنٹا تھا۔۔۔۔

دعا اٹھ کر اپنے ٹیریس میں اگئ۔۔۔۔اور چاند کو دیکھنے لگی۔۔۔۔۔ٹھندی ٹھندی ہوا اس کو چھوتی تو وہ سکون محسوس کرتی۔۔۔۔۔

تھوڑی دیر وہاں کھڑے رہنے کے بعد کو جانماز لے کر اپنے ٹیریس میں اگئ۔۔۔اور وہی نماز شروع کردی۔۔۔

دعا نے ایشا کی نماز پڑھ کر سلام پھیرا تو اسکی انکھوں سے زارو قطار انسو بھنے لگ گئے۔۔۔

یا اللہ میری مدد کر مجھے بتا یہ سب کیا ھو رہا ھے۔۔۔۔۔

میری کچھ سمجھ نہیں آرہا ایک دم یہ سب کیوں بدل رہا ھے۔۔۔۔۔

دعا زور زور سے دعا مانگ رہی تھی۔۔۔۔ابھی نماز پڑھ کر اس نے جانماز اٹھائ تھی۔۔۔۔

افففف کتنی لمبی لو لگاتی ھو تم اپنے اللہ سے !!!!!!!!!

کسی نے پیچھے سے کہا۔۔۔

دعا نے پلٹ کر دیکھا تو !!!!!