Zid Junoon Ki Inteha By SA Khanzadi NovelR50423 Zid Junoon Ki Inteha Episode 7
No Download Link
Rate this Novel
Zid Junoon Ki Inteha Episode 7
Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi
اج پورے ایک ہفتے بعد وہ کالج جارہی تھی۔۔۔۔papers کے بعد دعا کے کالج کی چھٹیاں تھیں۔۔۔اور ان چھوٹیوں کے دوران نا تو وہ کہی گئ تھی نا دوستوں میں سے کسی سے ملی تھی۔۔۔
وہ صبح جلدی اٹھ کر تیار ھوئ اور بیگ تھام کر اپنے کمرے سے نیچے آئ۔۔۔۔تو سامنے ھی ٹیبل پر اشعر اور سمیرا بیگم بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔۔۔۔۔
اسلام علیکم اشعر بھائ !!!
اج تو صبح صبح اپ ادھر خیرت اج سورج کہاں سے نکلا تھا امی ؟؟؟
دعا نے مسکرا کر کہا اور ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھ گئ ۔۔۔
عمار نے ایک نظر دعا پر ڈالی تھی۔۔۔۔جس کا چہرہ چاند سے زیادہ روشن اور پر رونق تھا۔۔۔۔
اشعر نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔
دعا میڈم بس ہم نے سوچا اج لوگوں کے گھر ہی ناشتہ کیا جائے اس لیے اگئے ۔۔کیوں اپ کو کوئ اعتراض ھے ؟؟؟
اشعر نے بھی مزاق میں کہا۔۔۔۔
نہیں بابا مجھے کیوں اعتراص ھوگا۔۔۔اپ کے ماموں کا گھر ھے اپ سو دفعہ آئے۔۔۔۔
لیکن روز روز فری نا ھو جائیے گا اب۔۔۔۔دعا نے ھنس کر کہا اور ساتھ ھی jucie کا کلاس منہ سے لگایا۔۔۔۔
دعا!!!!
سمیرا بیگم نے دعا کی اس بات پر اسکو پیار سے گھورا۔۔۔۔دعا نے ڈرنے کی acting کی تو سمیرا بیگم ھنس دی۔۔۔
افففف اللہ!!!!
امی 8 بجنے والے ھیں میں نکلتی ھوں ۔۔۔
عمیر کہاں ھے ؟؟؟
دعا نے ادھر ادھر دیکھتے ھوئے پوچھا۔۔۔۔
دعا اج عمیر کے طعبت کچھ ٹھیک نہیں ھے تم ایک کام کرو عمار کے ساتھ چلی جاو۔۔۔۔
سمیرا بیگم نے برتن ٹیبل سے اٹھا کر کہا۔۔۔
امی جی۔۔۔۔
دعا نے انکھوں سے ماں کو اشارہ کیا۔۔۔۔دعا کبھی بھی اپنے گھر والوں کے علاوہ کسی کے ساتھ نا جاتی تھی۔۔چاھے وہ اسکا کزن ہی کیوں نا ھو۔۔۔۔
نہیں نہیں امی !!!
اشعر بھائ کو زحمت ھوگی میں خود ہی چلی جاوں گی ۔۔۔دعا نے اشعر کے ساتھ نا جانے کے لیے کہا۔۔۔
نہیں اکیلے جانا زادہ غلط ھے ۔۔۔
اشعر ھے گھر کا بچا ھے چھوڑ ائے گا۔۔۔۔
لیکن امی !!!
لیکن ویکن کچھ نہیں چلو جلدی جاو۔۔۔۔
سمیرا بیگم نے دعا کو بھانے سے اشعر کے ساتھ بھیجنا چھا۔۔۔ان لوگ کے دماغ میں جو چل رہا تھا اسے دعا بلکل انجان تھی۔۔۔۔
اسکو کالج کے لیے دیر ھو رہی تھی اس لیے نا چھاتے ھوئے بھی اس کو اشعر کے ساتھ جانے کے لیے زاضی ھونا پڑا۔۔۔
اففف اب اشعر بھائ کے ساتھ جانا پڑے گا۔۔
ایک تو امی کو پتا نہیں کیا ھوگیا ھے۔۔۔دعا منہ منہ میں بڑبڑائ۔۔۔
چلو جلدی بیٹھو۔۔۔۔۔
عمار نے کار start کرتے ھوئے کہا۔۔۔۔
دعا پچھلی نشت کا دروازہ کھول کر بیٹھنے لگی تو اشعر نے فورن کہا۔۔۔۔
دعا صاحبہ میں اپکا driver نہیں ھوں۔۔۔جو اپ جاکر پیچھے بیٹھ رہی ھیں۔۔۔۔
اگے بیٹھو۔۔
نہیں میں پیچھے بیٹھوں گی۔۔۔ٹھیک ھے میں مامی کو !!! عمار سمیرا بیگم کو آواز دنے لگا۔۔۔
دے دیں آواز بیٹھوں گی میں پیچھے ہی۔۔۔۔دعا اپنی ضد پر آڑی رہی۔۔۔۔
انتھاء سے زیادہ ضدی لڑکی ھو تم۔۔۔۔۔
جانتی ھوں۔۔۔۔
دعا پچھلا دروزہ بند کر کے بیٹھ گئ تھی۔۔۔۔
افف ایک تو دعا تم میں اتنا غصہ کیوں ھے ؟؟
اشعر نے کار روڈ پر لاتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔
دعا خاموش رہی اس کے لیے یہ پل شدید ناگور تھے۔۔۔۔۔
اچھا تمھیں پتا ھے زوبی اور امی اسلاماآباد گئ ھیں۔۔۔۔اشعر نے اپنی ماں اور بہن کا بتایا۔۔۔
اچھا واہ !!!
دعا نے فورن کہا۔۔۔۔
ویسے اشعر بھائ اپ سے سیرت نے ٹیوشن کا کہا تھا اسکا کیا ھوا ؟؟؟؟
ہاں اچھا ھوا تم نے یاد کروا دیا اس کو بول دینا میں اسکو ٹیوشن پڑھا دوں گا۔۔۔۔
دعا سیرت کے لیے خوش ھوئ۔۔اچھا اشعر بھائ اپ کو سیرت کیسی لگتی ھے ؟؟؟؟
ہاں اچھی ھے !!!
کیوں !!!
اشعر نے کار چلاتے چلاتے پوچھا۔۔۔۔
نہیں کچھ نہیں بس کار روک دیں اگے راستہ بند ھے۔۔۔۔دعا کے کہنے پر اشعر نے کار روک دی۔۔۔۔
دعا بیگ اٹھا کر اشعر کو اللہ حافظ بول کالج کے اندر داخل ھوگئ۔۔۔۔۔
اج اس کی ملاقات عائشہ اور سیرت سے کافی دن بعد ھو رہی تھی۔۔۔جب دعا اشعر کی کار سے اتری تو اتفاق سے ہما بھی اسی وقت اپنی کار سے اتر کر اندر ائ تھی۔۔۔۔
دعا نے ہما سے زیادہ بات نا کی تھی اور نا ہما نے کوئ بات کی تھی۔۔۔۔۔۔
کلاس ھونے کے بعد وہ کچھ دیر کیفے میں سیرت اور عائشہ کے ساتھ بیٹھی تھی پھر باہر اگئ تھی۔۔
وہ جانتی تھی عمیر کی طبعت ٹھیک نہیں تو وہ اس کو لینے نہیں ائے گا۔۔۔۔وہ اکر کالج سے باہر کھڑی ھوکر آحمد صاحب کا انتیظار کرنے لگی۔۔۔سیرت اور عائشہ اس کے ساتھ ہی کھڑی تھی۔۔۔۔
افففف زلم حسینا !!!!
اتنے حسن سے کس کو گھائل کرو گی ؟؟؟؟
کوئ بائک پر اکر دعا کے سامنے روکا تھا اور یہ جملہ بول کر اپنی اس حرکت پر مسکرا رہا تھا۔۔۔۔
کالج کے باہر اکثر ایسے لڑکے اتے تھے۔۔۔۔سیرت اور عائشہ جانتی تھی ابھی دعا کچھ بولنے ھی والی تھی کہ سیرت اور عائشہ نے اس کو چپ رہنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔
دعا اپنا غصہ قابو کر کہ تھوڑا ہٹ کر اگے کی طرف بڑھ گئ۔۔۔۔۔
دیکھو !!!!
تمھارا سفید رنگ لال سے کالا نا ھو جائے جانے من چلو میرے ساتھ میں چھوڑ دوں۔۔
اب اس لڑکے سے حد کردی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک الٹے ہاتھ کا تھپڑ ماروں گی شکل دیکھی ھے اپنی بندر جیسی شکل والے انسان دعا بقاعدہ چیک رہی تھی۔۔۔۔سیرت اور عائشہ دونوں ہی شوک ھوئ تھی۔۔۔
اتنی ہی دیر میں اشعر اپنی کار سے اتر کر ان کی طرف آیا تھا۔۔۔۔
اہ اہ دعا کیا ھوا ؟؟؟؟
اشعر بھائ یہ لڑکا مجھے تنگ کر رہا ھے۔۔۔۔
دعا کی انکھ میں موٹے موٹے انسو تھے۔۔۔۔
اچھا چلو کوئ بات نہیں گھر چلو !!! اشعر نے اس گوندے ٹائپ لڑکے کو دیکھ کر اپنی خیر مناتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔
اشعر بھائ ؟؟؟؟؟؟؟
وہ لڑکا مجھ سے بدتمیزی کر رہا ھے !!! دعا نے حیرت زادہ انکھوں سے کہا۔۔۔۔۔
ہاں کوئ بات نہیں ایسے لوگوں کے منہ نہیں لگتے ۔۔۔۔اور بھائ صاحب ان کی طرف سے میں معافی مانگتا ھوں اپ جایئں۔۔۔۔
اشعر نے الٹا اس گوندے نما لڑکے سے کہا اور دعا کو کار کے پاس لے ایا۔۔۔۔۔
دعا کو اشعر پر حد سے زیادہ غصہ آرہا تھا۔۔۔
سارہ راستہ اشعر بولتا رہا لیکن دعا نے ایک لفظ منہ سے نا نکلا۔۔۔۔۔
اور گھر اتے ھی وہ اپنے کمرے میں بند ھو کر رو رہی تھی۔۔۔
جب ہی اسکا فون بجا۔۔۔۔۔
دعا نے بنا دیکھے نمبر اٹھا لیا تھا
ہلیو ؟؟؟؟؟
دعا نے اپنی بھیگی آواز سے کہا۔۔۔۔۔۔۔
اج کے بعد تم اس لڑکے کے ساتھ کالج نہیں آو گی ائ بات سمجھ میں ؟؟؟؟؟
مقابل نے بنا کو تمید باندھے سیدھے سیدھے کہا تھا۔۔۔۔
دعا کو سمجھ نہیں ایا کہ یہ کون شخص ھے !!
دعا نے ایک نظر اپنے فون پر چمکتے نمر پر ڈالی تو یہ کوئ انجانا سا نمبر تھا۔۔۔۔
اپ کون بول رہے ھیں ؟؟
اور مصلہ کیا ھے ؟؟؟
دعا کا غصہ ابھی پوری طرح ٹھندا نہیں ھوا تھا کہ اب کوئ اس کو کال کر کے بلاوجہ کا حق جاتا رہا تھا۔۔۔۔
میں جو بھی ھوں۔۔۔
تم ائندہ کے بعد مجھے اس لڑکے کے ساتھ نظر ائ تو اچھا نہیں ھوگا۔۔۔مجھے ضد دلوں گی بلاوجہ نقصان اٹھاو گی۔۔۔۔۔
مقابل نے اپنی بات کر کے فون کاٹ دیا تھا۔۔۔۔
دعا کی حیرت عروج پر تھی۔۔۔۔
اخر یہ ھے کون ؟؟؟
اور کس حق سے یہ بات کر رہا ھے۔۔۔۔اس کے دماغ میں ایک دم وہ بائک والا لڑکا ایا
اہوو تو اس کی اتنی ہمت۔۔۔۔۔
میں اسکا منہ نوچ لوں گی کل اس نے مجھے کال کیسے کی۔۔۔۔ضد تو تجھے میں باتوں گی بیٹا۔۔۔۔۔!!!
دعا نے اپنے انسو پونچھے اور اٹھ کر باتھ روم چلی گئ۔۔۔۔۔۔
دعا ضدی تو بے انتھا تھی۔۔۔۔۔۔اس نے سوچ لیا تھا کہ اسکو کیا کرنا ھے۔۔۔اب وہ مطمئن سی فریش ھو کر ظہر کی نماز ادا کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اگلے دن دعا جان کر اشعر کے ساتھ گئ تھی۔۔۔
اشعر سے اس نے ایک لفظ بات نا کی تھی۔۔۔۔اسکو اشعر کی بزدلی پر حد سے زیادہ غصہ تھا۔۔
۔لیکن وہ اج اس بائیک والے کو سبق سکھانا چھاتی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ اشعر کی کار سے اتر کر کالج کے اندر چلی گئ ۔۔۔۔
زور کی نسبت اج دعا کلاس میں حاضر نہیں تھی۔۔۔۔وہ پریشان تھی۔۔
کیا بات ھے دعا کیوں پریشان ھو ؟؟؟
سیرت نے دعا کو خاموش پاکر پوچھا۔۔۔۔
کچھ نہیں !!!
دعا نے مختصر سا جواب دیا
بتاو نا کیا بات ھے ؟؟؟
سیرت نے فورس کیا!!!
یار میری زندگی میں ایک دم ہر چیز بدل رہی ھے سمجھ نہیں ارہا کہ ھو کہا رہا ھے میرے ساتھ۔۔۔۔
دعا نے ساری تفصیل سیرت کو بتائ تو سیرت بھی خاصی پریشان اور فکر مند ھوئ۔۔۔۔
نہیں دعا میرا نہیں خیال کے وہ کال تجھے بائک والے نے کی ھوگی۔۔۔۔۔سیرت نے اپنا اندازہ بتایا تھا۔۔۔۔
ہممم دیکھتے ھیں اج اگر اس لڑکے نے کچھ کیا تو اشعرر بھائ کچھ بولے نا بولے میں اسکا منہ توڑ دوں گی۔۔۔۔
دعا نے غصہ سے کہا۔۔۔۔۔
ہیلو گلزز !!!!
ہما اج کافی دن بعد کیفے میں اکر ان کے ساتھ بیٹھی تھی۔۔۔ہما کی سرگرمیاں اب کافی بدل چکی تھی۔۔۔۔
تھوڑی دیر ہما ان کے ساتھ بیٹھی تھی پھر کال انے پر اٹھ کر چلی گئ تھی۔۔۔ہما کے جانے کے بعد عائشہ نے منہ بنا کر کہا۔۔۔۔۔
جب سے اسکی دوستی معراج جہانگیر سے ھوئ ھے اس کے تو مزاج نیچھے نہیں ارہے۔۔۔۔
معراج کے نام پر دعا کو ایک دم وہ دن یاد آیا۔۔۔۔۔
دعا نے زہن سے اسکا خیال جھٹک دیا۔۔۔۔
سنا ھے معراج اس سے شادی کا بول رہا ھے۔۔۔۔۔۔
کہی بول نا دے یہ کہاں اور معراج جہانگیر کہاں۔۔
۔عائشہ نے جل کر ۔۔۔۔
یار عائشہ اسکی زندگی ھے اسکا جو دل میں ائے کرتی پھیرے۔۔۔۔۔دعا نے بوکس بیگ میں رکھتے ھوئے کہا۔۔۔۔
ہممم خیر چھوڑو۔۔۔۔۔
اچھا دعا اور سیرت میں اسلاماآباد جا رہی ھوں میرے ابا کی چھٹیاں ھیں نا تو سوچا اسلاماآباد میں گزار لیں۔۔۔۔۔۔بس کالج کا یہ اخری ویک ھی ھے اس کے بعد تو کالج بھی ختم ھو جائے گا۔۔۔۔۔
میں بس ایک سے دو ہفتے کے لیے جاوں گی۔۔۔۔
عائشہ نے تفصیل بتائ۔۔۔۔
چلو اچھا ھے مزہ ائے گا۔۔۔۔۔۔سیرت نے مسکرا کر کہا۔۔۔
مجھے اسلاماآباد بہت پسند ھے۔۔
تم گئ نہیں کبھی ادھر ؟؟
عائشہ نے حیرت سے سوال کیا۔۔۔۔
نہیں شوق بہت ھے لیکن کبھی جانے کا اتفاق نہیں ھوا۔۔۔۔
دعا نے بھی مسکرا کر کہا۔۔۔۔
وہاں جاکر ہمیں بھول نا جانا عائشہ !!! دعا نے محبت سے عائشہ کا ہاتھ تھام کر کہا۔۔۔۔۔
پاگل تجھ جیسی دوست کو میں نہیں بھول سکتی اور ویسے بھی میں اج نہیں جارہی ۔۔۔
جو تو اتنی emotional ھورہی ھے۔۔۔۔
عائشہ نے فورن ھنس کر کہا۔۔۔۔۔دفاع ھو۔۔۔دعا نے عائشہ کا ہاتھ جھٹک کر پیار سے کہا۔۔۔۔سیرت بھی ھنس دی۔۔۔۔
چل دعا چلتے ھیں دیکھتے ھیں اج تیرے عاشق کا تو کیا حال کرتی ھے۔۔۔۔سیرت نے ھنس کر کہا۔۔۔۔۔
دعا کالج کے گیٹ سے باہر نکلی اور پھر کل والی جگہ پر کھڑی ھوئ۔۔۔۔
ابھی ان تینوں کو وہاں کھڑے 5 منٹ گزرے ھونگے کہ۔۔۔
وہ ہی بایئک والا لڑکا اس کے پاس آتا دہکھائ دیا۔۔۔۔دعا نے سوچ لیا تھا کہ وہ اج اس کو چپلوں سے مارے گی۔۔۔۔۔
وہ دعا کے پاس پوھنچا تو دعا ایک دم بول پڑی
دیکھو اگر اج !!!!!
ابھی دعا کے الفاظ پورے ادا نہیں ھوئے تھے کہ اس کو اپنی انکھوں کے سامنے والے منظر پر یقین نا آیا۔۔۔۔۔
وہ لڑکا دعا کے قدموں میں کان پکڑ کر بیٹھا تھا۔۔۔۔۔
دعا کی انکھیں ھیرت سے پھٹی ھوئ تھی اور عائشہ اور سیرت کی بھی۔۔۔۔
بہن جی۔۔۔۔
مجھے سے غلطی ھوگئ۔۔۔۔
مجھے نہیں پتا تھا اپ کیا چیز ھیں۔۔۔۔مجھ سے بہت بڑی بھول ھوگئ اپنے اس بھائ کو معاف کر دیں۔۔۔۔۔۔
دعا کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ایک دم یہ ھوا کیا ھے۔۔۔۔۔
پلیز بہن معاف کر دیں۔۔۔
مجھے پتا ھوتا کہ اپ کی اتنی پھنچ ھے تو میں کبھئ اپ پر نظر ڈالنے کی غلطی نا کرتا۔۔۔۔۔۔اگر اپ نے مجھے معاف نا کیا تو میرے ساتھ کیا ھوگا اپ سوچ نہیں سکتی۔۔۔۔
پلیز چھوٹی بہن مجھے معاف کردیں۔۔۔۔۔اپ بولیں تو میں مرغا بن جاتا ھوں۔۔۔
سیرت اور عائشہ کی ھنسی چھوٹ گئ تھی۔۔۔جب کے دعا حد سے زیادہ حیران تھی۔۔۔۔
بھائ اچھا اپ کھڑے ھوں۔۔۔۔میں نے معاف کیا پر اپ کیا بول رہے ھیں مجھے کچھ سمجھ نہیں ارہا۔۔۔۔۔
بس شکریہ بہن !!!
اپ سے اور بات کرنے کی اجازت نہیں تھی مجھے۔۔۔۔
وہ اٹھ کر ایسے غائب ھوا تھا جیسے گدھے کے سر سے سنگ ۔۔۔
سیرت اور عائشہ کا ھنس ھنس کر برا ہال ھوگیا تھا۔۔۔۔
وہ دعا تو نے کہا چیڑیل بن کر اس بیچارے کو ڈرایا تھا ؟؟؟
کتنا ڈرا ھوا سہما سا لگ رہا تھا۔تو نے کیا پڑھ کر پھونکا تھا بیچارے پر۔۔۔۔۔؟؟؟۔۔۔
سیرت نے ھنس ھنس کر کہا۔۔۔۔
نہیں مجھے نہیں پتا یہ سب کیا ھوا ھے۔۔۔
دعا نے حیران ھو کر کہا۔۔۔۔۔
دعا ایک بہت گھیری سوچ میں تھی۔۔۔۔۔
اچھا تجھے نہیں پتا اور وہ تجھ سے معافی مانگ گیا۔۔۔۔اب کے عائشہ نے مزاق اڑایا تھا۔۔۔
کہی اشعر بھائ نے؟؟؟
سیرت نے سوچ کر کہا۔۔۔
نہیں ان کی بزدلی میں کل دیکھ چکی ھوں۔۔وہ نہیں ھوسکتے۔۔۔۔۔دعا نے سوچتے ھوئے کہا۔۔۔۔
اور تینوں اپنے گھر کی طرف چل دی۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
دعا جب گھر پہنچی تو اس کی انکھیں پھٹی کی پھٹی رہے گئ تھی۔۔۔ابھی دعا اس سوچ سے نہیں نکلی تھی کہ ایک اور عجیب چیز دعا کے سامنے تھی۔۔۔۔۔
اشعر سامنے صوفے پر بیٹھا تھا۔۔۔۔جس کے سر اور ہاتھ پر پٹی بندھی تھی۔۔۔منہ سوجا ھوا تھا۔۔۔۔۔
دعا کو تو ایسا لگا جیسے کیسی نے اس کے سر پر کچھ دے مارا ھو۔۔۔۔
یہ سب کیا ھو رہا ھے میرے اللہ میرے ساتھ؟؟؟؟
دعا نے حقیقتن فکر مند ھو کر کہا۔۔۔۔۔
دعا کے زہن میں ایک دم کل والی کال ائ۔۔۔۔۔
وہ فورن اگے بڑھ کر اشعر کے پاس گئ۔۔۔۔
اشعر بھائ یہ سب ؟؟؟؟؟
کیسے ؟؟؟؟
دعا نے اشعر اور عمیر کو دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔
دعا آپی پتا نہیں کچھ لڑکے اشعر بھائ کو بلاوجہ مار کر چلے گئے۔۔۔۔اور ساتھ ساتھ یہ بھی بول رہے تھے کہ انسان کو اتنا ڈرپوک نہیں ھونا چھائے کہ کسی لڑکی کا محافظ نا بن سکے۔۔۔۔۔۔عمیر نے جلدی سے بتایا۔۔۔۔۔
اہ !!!
ایسا کچھ نہیں کہا دعا عمیر ایسی بول رہا ھے۔۔۔۔۔اشعر نے عمیر کو انکھیں دیکھائ۔۔۔۔
ہاہاہا جھوٹ نا بولو بھائ۔۔۔۔تم نے خود ھی بتایا۔۔۔۔
اور دیکھو بندوں نے اپ کو مارا غلط لیکن بات ٹھیک تھی۔۔۔عمیر نے اب مزاق کرنا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔
اب بتاو اشعر بھائ تم کس لڑکی کے محافظ نہیں بن سکے ؟؟؟؟
عمیر نے پوچھا تو دعا نے ایک دم نظر اشعر پر ڈالی جو شرمندگی سے دعا سے نظر نہیں ملا رہا تھا۔۔۔۔
دعا دھیرے دھیرے چلتے اپنے کمرے میں اگئ۔۔۔۔
اور بیگ ٹیبل پر رکھ کر سر پکڑ کر بیڈ پر بیٹھ گئ۔۔۔۔۔
یہ سب؟؟؟
کون ؟؟؟
اففف اللہ !!!!!
دعا کو رونا آرہا تھا۔۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
معراج ابھی ابھی جہانگیر صاحب کے آفس سے نکلا تھا۔۔۔۔معراج کو جب بھی اپنی کوئ بڑی بات منوانی ھوتی وہ جہانگیر صاحب کے آفس میں جاکر ان سے خود بات کرتا تھا۔۔۔۔۔ا اج تک اس کی ہر ایک ضد پوری کی گئ تھی۔۔۔۔لیکن اج اس نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی ضد کی تھی۔۔۔۔
جب ہر ضد پوری کی جائے تو ضد کبھی کبھی جنون بن جاتی ھے۔۔۔اور حد سے زیادہ جنون جان لوا ھوتا ھے۔۔۔۔۔
معراج جہانگیر صاحب!!!!
