Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zid Junoon Ki Inteha Episode 29

Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi

لگی تھی کہ وہ لڑکے اسکی طرف بڑھے تھے ۔۔۔۔۔۔۔

اور دعا کا راستہ روکا تھا۔۔۔

وہ سمجھ رہے تھے دعا اکیلی ائ ھے۔۔۔۔

اسلام علیکم!!!!

ان میں سے ایک لڑکے نے مسکرا کر دعا کو سلام کیا تھا۔۔۔۔۔

دعا نے ایک غضے بھری نظر اس پر ڈالی تھی اور اگے بڑھی تھی۔۔۔۔

ویسے اللہ نے حسن بھر بھر کر دیا ھے۔۔۔۔

ایک لڑکے نے دعا کو دیکھ کر کمینٹ پاس کیا تھا۔۔۔۔

تمھاری ہمت !!!

ابھی دعا کچھ بول رہی تھی کہ رملا اسی طرف ائ تھی اور دعا کا ہاتھ تھام کر دوکان سے باہر نکل گئ تھی۔۔۔۔

بھابی وہ لڑکے۔۔۔۔

دعا نے غصے سے کہا۔۔دعا چھوڑو یہاں اگر زارہ سی بھی بات ھوجائے یہ سارے ایک جگہ جما ھو جاتے ھیں تم اگنور کرو۔۔۔

رملا نے دعا کو سمجھایا۔۔۔رملا جانتی تھی کہ اس طرح کے لڑکے کس ٹایپ کے ھوتے ھیں ۔۔۔۔

رملا کے کہنے پر دعا چپ ھوگئ تھی۔۔۔۔

لیکن اسکو غصہ حد سے زیادہ تھا۔۔۔

اب وہ لڑکے دعا اور رملا کا پچھا کر رہے تھے اور باقدہ ان پر کوئ نا کوئ کمنٹ پاس کر رہے تھے۔ ۔۔۔

دعا کا صبر اب جواب دے رہا تھا۔۔۔۔۔۔

لیکن وہ تیز تیز چلتی جارہی تھی۔۔۔تبھی ان لڑکوں نے اگے اکر دوبارہ دعا اور رملا کا راستہ روکا تھا۔۔۔۔

اتنا غصہ

ایک تو غزب کا حسن اور اس پر !!!!!

ابھی اسکے منہ سے الفاظ ادا بھی نا ھوئے تھے کہ جو لڑکا یہ بقواس کر رہا تھا ۔۔۔۔

دعا نے ایک زور دار ٹھپڑ اس کے منہ پر رسید کیا تھا۔۔۔۔اور کہا

اپنی اوقات میں رہو۔۔۔۔

دعا کو واقعی میں حد سے زیادہ غصہ تھا۔۔۔

رملا دعا کی ہمت دیکھ کر گھبرائ تھی۔۔۔

اور جس لڑکے کے منہ پر یہ ٹھپڑ سرے بازار پڑا تھا وہ تو تلملا اٹھا تھا۔۔۔۔

تم نے مجھے !!!!!!

ابھی وہ کھڑے ھوکر دوبارہ کچھ بول ہی رہا تھا ۔۔۔۔۔

کہ پھر ایک زور دار تھپڑ اسکے منہ پر پڑا تھا اور اس بار کا تھپڑ اس قدر زور دار تھا کہ وہ لڑکا اپنی جگہ سے دو قدم ہٹا تھا۔۔۔۔۔

اس بار تھپڑ دعا کا نہیں تھا ۔۔۔

اس بار یہ تھپڑ معراج نے مارا تھا۔۔۔

دعا اور رملا دنوں نے معراج کو حیران ھو کر دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔

معراج نے ایک نظر دعا پر ڈالی تھی۔۔۔

دعا نے معراج کی انکھوں عجیب سی چیز محسوس کی تھی۔۔۔۔

وہ 4 لڑکے تھے۔۔۔۔

اور معراج اکیلا ان سے لڑ رہا تھا۔۔۔۔

رملا اور دعا دونون ہی بہت ڈر گی تھی۔۔۔

رملا فورن ھوٹل کی طرف لپکی تھی کہ وہ بلاج کو بلا کر لائے۔۔۔۔۔۔

دعا وہی کھڑی پھٹی پھٹی انکھوں سے معراج کو دیکھ رہی تھی۔۔۔

جو بر وقت تین لڑکوں سے ایک ساتھ لڑ رہا تھا۔۔۔

وہ لڑکے بھئ اس پر پورا وار کر رہے تھے پر معراج ان پر بھاری پڑ رہا تھا۔۔۔۔

معراج کے دو گھوسے کھانے کے بعد دو لڑکوں نے معراج جہانگیر کو پھیچان کر بیک اوف کر دیا تھا۔۔

لیکن جس لڑکے نے دعا کے اوپر وہ کمنٹ پاس کیا تھا۔۔۔

معراج اس لڑکے کو بری طرح مار رہا تھا۔۔۔۔

وہ لڑکا اپنے منہ پر ہاتھ رکھ رکھ کر خود کو بچا رہا تھا۔۔۔۔۔

وہ بھی معراج کو پہچان چکا تھا۔۔۔۔

اور معراج سے معافی مانگنا چھا رہا تھا۔۔۔

لیکن معراج کے سر پر عجیب سا جنون سوار تھا۔۔۔

وہ ایک کے بعد ایک گھوسو کی بارش اس لڑکے پر کر رہا تھا۔۔۔۔

لوگوں میں سے کوئ اسکا جنون دیکھ کر اگے نا بڑھا رہا تھا۔۔۔سب کو اپنی آفیت پیاری تھی۔۔۔

معراج !!!

معراج پلیز روک جائیں !!!

وہ مر جائے گا۔۔۔

دعا نے دیکھا تھا وہ لڑکا بے ھوش ھو رہا تھا۔۔۔

اور خون نم خون ھو رہا تھا۔۔۔۔۔

معراج !!!!!

وہ مر جائے گا۔۔۔۔

دعا نے معراج کو روکنے کی کوشش کی۔۔۔۔

تبی بلاج اور رملا بھئ ائے تھے۔۔۔۔

بلاج رملا اور دعا تینوں نے مل کر معراج کو روکا تھا۔۔۔

تب معراج نے اس لڑکے کا گربان چھوڑا تھا۔۔۔۔۔تو وہ لڑکا جاکر اپنے دوستوں پر گیرا تھا۔۔

وہ لڑکا خون نم خون زمیں پر پڑا تھا۔۔۔

معراج کا غصہ سے برا حال تھا۔۔۔۔۔

اس نے جلتی انکھوں سے دعا کا ہاتھ تھاما تھا اور ھوٹل کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔۔۔

بلاج اور رملا بھی معراج اور دعا کے پیچھے پیچھے ائے تھے۔۔۔۔

ان لڑکوں کو اپنے کیے کی کافی اچھی سزاہ مل گئ تھی۔۔۔۔۔۔۔

معراج دعا کا ہاتھ تھام کر تیز تیز چل رہا تھا۔۔۔جب دعا نے محسوس کیا تھا کہ معراج کے ہاتھ سے بری طرح خون بہہ رہا ھے۔۔۔۔

اور اس لڑکے کہ منہ پر بھئ جو اتنا زیادہ خون تھا وہ معراج کا ہی خون تھا۔۔۔۔۔

معراج رکو !!!

معراج !!!

بلاج اور رملا نے معراج کو روکنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ بنا کچھ سنے دعا کو لے کر اپنے کمرے میں داخل ھو گیا تھا۔۔۔۔

اور کمرہ لوک کر دیا تھا۔۔۔۔۔

بیٹھو۔۔۔۔۔

معراج نے دعا کو بیڈ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔۔

دعا بنا کچھ بولے بیڈ پر بیٹھ گئ تھی۔۔۔۔۔۔

معراج اپنا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے اگے پیچھے چہل قدمی کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔

اسکے ہاتھ سے خون ویسی ٹپک رہا تھا۔۔

دعا اپنی جگہ سے اٹھی تھی اور اپنے بیگ میں سے first aid بوکس نکال کر لائ تھی۔۔۔۔

معراج اب اکر بیڈ پر بیٹھ چکا تھا۔۔۔۔۔دعا اس کے پاس اکر بیٹھی تھی اور اسکا خون سے بھتہ ہاتھ اٹھا کر اپنے ہاتھ سے پکڑا تھا۔۔۔۔

معراج نے غصے سے ہاتھ جھٹک دیا تھا۔۔۔۔

دعا نے پھر دوبارہ ہاتھ پکڑا تھا۔۔۔

معراج نے پھر جھٹک دیا تھا۔۔۔۔

دعا نے اب ہاتھ غصے سے پکڑا تھا۔۔۔

خبردار جو اب یہ ہاتھ یہاں سے ہلایا اپ نے۔۔۔۔

معراج اپنا ہاتھ پھر ہٹا رہا تھا جب دعا نے مظبوطی سے اس کے ہاتھ کو تھاما تھا۔۔۔

کتنا خون بہہ گیا ھے۔

دعا نے dettol اور cotton نکال کر اسکا خون صاف کیا تھا

معراج کا خون دیکھ کر اسکو عجیب سی تکلیف محسوس ھورہی تھی۔۔۔

انسان میں عقل ھوتی ھے۔۔۔۔

ایسے لوگوں کے منہ نہیں لگا جاتا۔۔۔۔۔

دعا معراج کے ہاتھ پر پٹی باندھتے باندھتے نان اسٹاپ بول رہی تھی۔۔۔۔

ہر جگہ لڑائ جھگڑا ضروری نہیں ھوتا۔۔۔

اب بلاوجہ اپنا کتنا جون بھہا دیا اپنے۔۔۔۔۔

اگر وہ لڑکا مر جاتا تو ؟؟؟

دعا نے اس کے ہاتھ پر پٹی باندھ دی تھی اور اب اپنی جگہ سے کھڑی ھوئ تھی۔۔۔۔۔

کیا ھوگیا اگر اسنے میرے!!!!!!

دعا ابھی اٹھ کر کھڑی ھوئ تھی اور جانے کے لیے پلٹی تھی تب معراج نے کھڑے ھوکر اسکا ہاتھ پکڑ کر اسکو اپنی طرف کھینچا تھا۔۔۔

دعا جاکر سیدھے معراج کے سینے سے لگی تھی۔۔۔۔۔۔

معراج نے اسکو دنوں بازوں سے پکڑ رکھا تھا۔۔۔۔

دعا اپنی بڑی بڑی انکھوں سے معراج کو دیکھ رہی تھی۔۔۔

معراج کئ انکھیں حد سے زیادہ لال تھی۔۔۔۔۔۔

ان میں جنون تھا۔۔۔۔۔

صرف جنون نہیں جنون کی انتھاء تھی۔۔۔۔

تمھارے بارے میں کوئ بھئ جو بقواس کرے کا میں اس انسان کا اسے برا حال کروں گا۔۔۔۔

مجھے برادشت نہیں کے کوئ تم پر بری نظر ڈالے۔۔۔۔

معراج دھیمے مگر سخت لہجے میں بول رہا تھا۔۔۔

دعا نے اسکی انکھوں میں خود کے لیے بے انتھاء محبت دیکھی تھی۔۔۔۔۔۔

تم میری عزت ھو۔۔۔۔

تمھارے ساتھ مجھے یہ سب برداشت نہیں۔۔۔۔۔

معراج نے اپنی بات کر کے دعا کو چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔

کتنا برا لگتا ھے نا جب کوئ دوسرا مرد ہمارئ اپنی عورتوں کی عزت پر کوئ بات کر تا ھے۔۔۔ ؟؟؟

ہم کس قدر اشتعال میں آجاتے ھیں۔۔۔

لیکن عزت تو ہر کسی کی ھوتی ھے۔۔۔

بیٹی تو ہر کوئ ھوتی ھے ۔۔۔

یہ دینا مکفاتے عمل ھے۔۔۔۔

اپنے جو کل کیا وہ اج اپ کے سامنے ضرور آتا ھے۔۔۔۔۔

وہ تمام لڑکیاں جن سے اپنے تعلقات قائم کیے اور انکو چھوڑا ۔۔۔

کیا وہ کسی کی بیٹی یا بہن نہیں تھی ؟؟؟؟

مرد صرف اپنی عزت پر بات برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔

اور خود اپنے ہاتھوں سے دوسرے مرد کی بہن یا بیٹی کی عزت کا جنازہ نکالتا ھے۔۔۔۔

جو چیز ہم اپنے لیے برداشت نہیں کر سکتے۔۔۔۔

وہ ہمیں کسی اور کے لیے بھی نہیں کرنی چھائے۔۔۔۔۔۔۔

دعا کو نجانے کیوں وہ سب یاد ایا تھا جو جو معراج نے اس کے ساتھ کیا تھا۔۔۔۔

جبکہ معراج نے دعا سے معافی مانگ لی تھی لیکن دعا کا یہ زخم ابھی پوری طرح بھرنا نا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دعا کہہ کر باتھ روم میں گھس گئ تھی۔۔۔۔

دعا کی بات سیدھا معراج کے دل پر جا کر لگی تھی کیونکہ دعا کا کہا ہر لفظ سچ تھا۔۔۔۔۔۔۔

وہ اب ایسا نہیں تھا۔۔۔۔

لیکن جو کچھ وہ پہلے کر چکا تھا وہ اج اس سب پر شرمندہ ھوا تھا۔۔۔اسکو سمجھ آیا تھا کہ جب اپنی عزت پر کوئ ہاتھ ڈالے تو کیا محسوس ھوتا ھے۔۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

دعا جب باتھ روم سے نکلی تو معراج بیڈ پر لیٹا تھا۔۔۔

اب اسکا موڈ ٹھیک تھا پر دعا کا موڈ اسکو کچھ خاص اچھا نا لگا تھا۔۔۔۔۔

دعا جاکر صوفے پر لیٹنے لگی تھی۔۔

جب معراج نے کہا۔۔۔۔۔

تمھیں اچھا لگتا ھے میں روز روز تمھیں یہاں انے کی دعوت دیتا ھوں۔۔۔۔

معراج نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔

دعا نے ایک نظر گھور کر اسکو دیکھا اور صوفے پر لیٹنے ہی لگی۔۔۔۔

کہ معراج بول پڑا

ہاں سو جاو ادھر میں تو اس لیے منع کر رہا تھا کیونکہ میں نے وہاں ایک کالی چپکلی دیکھی تھی۔۔۔۔۔

مجھے کیا ادھی رات کو جب وہ تم پر گیرے گی تو چیخ مار کر آو گئ۔۔۔۔

معراج نے اپنی ھنسی دبا کر کہا۔۔۔

کیا ؟؟

کب دیکھی چپکلی ؟؟

دعا ایک دم صوفے سے اٹھی تھی۔۔۔

ابھی جب تم باتھ روم میں تھی۔۔۔۔۔

جھوٹ مت بولیں۔۔

۔دعا نے گھبرا کر کہا۔۔۔

ارے میں کیوں جھوٹ بولو گا۔۔۔چلو تم سو جاوں جب رات کو اندھیرے میں وہ تمھاری چادر میں گھوسے گی نا پھر مزہ آئے گا ۔

معراج نے کھنے کے ساتھ ہی جان کر لائٹ آف کردی تھی۔۔۔۔۔

اچھا میں تو سورہا ھوں۔۔۔

تم رات کو چپکلی کے ساتھ سونا۔۔۔۔۔۔

معراج مسلسل دعا کو ڈرا رہا تھا۔۔۔۔۔

لائٹ آف ھونے کے بعد تو دعا کو اب واقعی خوف محسوس ھوا تھا۔۔۔۔۔

اب وہ اپنے بات سے بھی نہیں ہٹنا چھا رہی تھی اس لیے معراج کے سونے کا انتظار کرنے لگی۔۔۔۔

لیکن چپکلی کے ڈرد نے اسکو زیادہ دیر روکنے نا دیا اور وہ اٹھ کر فورن معراج کے برابر والی جگہ پر لیٹ گئ تھی۔۔۔

معراج اسکو دیکھ کر مسکرایا تھا۔۔۔۔۔۔

زیادہ ھنسے کی ضرورت نہیں ھے اچھا نا۔۔۔۔

وہ تو بس میں اس لیے یہاں اگئ کہ ۔۔۔۔

دعا کو کوئ بھانہ نا ملا۔۔۔۔

ہاہاہا تو میں نے کب پوچھا ؟؟؟

معراج نے ھسن کر کہا۔۔

پھر ھنسے کیوں ؟؟؟

دعا نے اسکی طرف کروٹ کر کے پوچھا۔۔۔۔

کچھ نہیں۔۔۔۔۔معراج نے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔اور وہ بھی اسی کی طرف منہ کر کے لیٹ گیا۔۔۔

بس سوچ رہا تھا جھنگلی بلیاں بھی چپکلیوں سے ڈرتی ھیں۔۔۔۔

معراج نے اپنی ھنسئ روک کر کہا۔۔۔

مجھے کوئ ڈر نہیں لگتا ۔۔۔۔۔۔

وہ تو میں اس لیے یہاں ائ ھو کہ میں ادھر کیوں سوں۔۔۔۔

اتنے چھوٹے صوفے پر۔۔۔۔

دعا نے بےتکا سا بھانہ کیا تھا۔۔۔۔

ہاں صیح صیح ۔۔۔معراج نے کہا اور دعا کے چہرے پر نظر ڈالی۔۔۔۔

روشن شفاف چہرہ چمک رہا تھا۔۔۔حسین زلفیں مچل رہی تھئیں۔۔۔

دعا ؟؟؟؟؟

معراج نے ایک دم اسکو پکارا تھا۔۔۔۔۔

دعا نے اپنی بڑی بڑی انکھوں سے اسکو دیکھا تھا۔۔۔۔

کیا تم سے ایک بات پوچھو ؟؟؟؟

معراج نے اب سنجیدہ ھوکر کہا تھا۔۔۔۔ میں نا بولو گی تو کونسا اپ نہیں پوچھیں گے اس لیے اپ پوچھ لیں۔۔۔۔

دعا نے اسکو دیکھتے ھوئے کہا۔۔۔۔

دعا کیا تمھیں زندگی میں کبھی کسی لڑکے سے محبت نہیں ھوئ ؟؟؟؟

معراج نے سنجدیگی سے کہا۔۔۔۔

نہیں۔۔۔۔۔کبھئ نہیں !!!

دعا نے مختصر جواب دیا۔۔۔۔۔

ہمم !!!

ایسا کیوں ؟؟؟

ایسا تو نہیں ھوسکتا کے کوئ لڑکا تم پر عاشق نا ھوا ھو یا تمھیں اچھا نا لگا ھو۔۔۔۔

معراج کو حیرت ھوئ۔۔۔

نہیں !!! ایسے بہت سے واقعی ھوئے تھے۔۔۔۔

پر میں نے کبھی یہ سب نا سوچا تھا۔۔۔۔

میں نے ہمشہ سے اللہ سے صرف ایک ایسا انسان مانگا تھا جو پاک اور صاف ھو۔۔۔۔۔

میں نے بچپن سے لے کر خود کو کسی اور کی ملکیت بنے نا دیا تو میں بھی یہ ہی چھاتی تھی کہ !!!

دعا کی انکھوں میں ایک دم آنسو آگئے تھے۔۔۔۔۔۔۔

اور وہ چپ ھوگئ تھی۔۔۔۔

چپ کیوں ھوگئ بولو ؟؟

معراج نے کہا۔۔۔۔

اب ان باتوں کا فائدہ نہیں ھے۔۔۔۔۔۔

دعا نے اپنے آنسو پونچھ کر کہا۔۔۔

میں پھر بھی سنا چھاتا ھو ۔۔۔۔

معراج نے فورس کیا دعا کی انکھ سے بھتے آنسو اسکو اندر اندر رلاتے تھے۔۔۔۔۔

دعا پھر ایک دم شروع ھوئ تھی۔۔۔۔۔

میں نے اج تک کسی بھی لڑکے کو اپنے قریب نا آنے دیا۔۔۔

کسی لڑکے سے دوستی نا کی۔۔

کیونکہ میں ایک پاک اور صاف ہمسفر چھاتی تھی۔۔۔۔۔

ایک آیسا ہم سفر ھو میرے لیے پاک رہا ھو۔۔۔۔۔

میں اپنے کزن سے دور بھاگتی تھی امی ابو کے بغیر کہی نہیں جاتی تھی۔۔۔۔

دعا اب اپنے دل کی بھاڑاس نکال کر رو رہی تھی۔۔۔۔

مجھے انتظار تھا صرف ایک ایسے شخص کا جس کی زندگی میں آنے والی میں پہلی عورت ھوتی۔۔۔۔

میں نے شروع سے صرف ایک کے لیے خود کو مخصوص کیا تھا۔۔۔

عام لڑکیوں کی طرح میرے بھی بہت سارے خواب تھے۔۔۔۔

دعا کی آنکھوں سے بری طرح آنسو بھہ رہے تھے۔۔۔۔

میرے ابو جب مجھ سے ناراض ھوئے۔۔۔۔

میرا سب کچھ ختم ھوگیا تھا۔۔۔۔

میری زندگی الٹ پلٹ ھوگئ تھی۔۔۔

کیا کیا سوچا تھا۔۔۔۔

دعا اب بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔۔۔۔اور روتے روتے ہچک ہچک کر بول رہی تھی بہت تکلیف ھوتی ھے جب اپ کے خواب ٹوٹ جائیں۔۔۔۔۔۔

معراج دعا کو روتا دیکھ کر بلکل اسکے پاس ھوا تھا۔۔۔۔۔۔

شششش !!!!

بس چپ !!!!!

معراج نے اب زبردستی دعا کو اپنے سینے سے لگایا تھا۔۔۔

دعا پہلے تو پیچھے ھوئ تھی لیکن معراج نے اسکو اپنے پاس گھسیٹ کے اسکو اپنی مظبوط باھوں میں سمیٹ لیا تھا۔۔۔

اور معراج کی باہوں میں انے کے بعد دعا اور مزید پھوٹ کر روئ تھی۔۔۔۔۔

ابو کی ناراضگی مجھ سے برادشت نہیں ھوتی۔۔۔۔۔۔

میں تو ان کے بغیر ایک پل نہیں رہے سکتی تھی۔۔۔۔

کیوں کیا تم نے ایسا ؟؟؟؟

بولو کیوں ؟؟؟

مجھ سے میرے باپ کو چھینا ؟؟؟؟

دعا معراج کے گلے لگے لگے شکوہ کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔

تم نے مجھے اپنانے کے لیے غلط اقدام کیوں آٹھائے۔۔۔۔میرے باپ کو مجھ سے نفرت کیوں کراوئ۔۔۔۔۔۔

بولو نا ؟؟؟؟؟

دعا معراج کے ہی سینے میں چھپ کر اسے ہی شکوہ کر رہی تھی۔۔۔۔۔

معراج دعا کو اور مزید اپنے اندر سمیٹ رہا تھا۔۔۔۔۔

اور دعا کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر اس کے تمام شکوہ سن رہا تھا۔۔۔۔

میں تم سے بہت نفرت کرتی ھوں۔۔۔۔

دعا نے تھکے تھکے انداز میں روتے روتے کہا۔۔۔۔۔اور خوف مزید معراج کی بھاہوں میں چھپ کر رونے لگی۔۔۔

وہ اج رو رو کر اپنے دل کا سارہ غبار نکال دینا چھاتی تھی۔۔۔۔

اور معراج اسکو ایسا کرنے دے رہا تھا۔۔۔کیونکہ جب تک دل سے برائ کی بڑاھس نا نکلتی تب تک عشق کا جنون دل میں پیدا نا ھوتا۔۔۔۔۔

مجھے بہت درد ھوتا ھے جب ابو مجھے نہیں دیکھتے۔۔۔۔

مجھے بہت درد ھوتا ھے جب لوگ سمجھتے ھیں کہ میں نے اپکو پیسے کے لیے پھسایا ھے۔۔۔۔۔

مجھ پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے تھے۔۔۔۔

میرے ابو نے تو مجھے یہ تک کہا کہ میں ان کو بھی اس لیے چھوڑ رہی ھوں کیونکہ مجھے اپ کہ دولت میں دلچسپی ھے۔۔ ۔

دعا بری طرح رو رو کر کہہ رہی تھی۔۔۔

یہ سب تمھاری وجہ سے ھوا ۔

دعا تھکے انداز میں بول رہی تھی اور اپنی تمام تھکن معراج کے سینے میں اتار رہئ تھی۔۔۔۔

معراج نے اسکو اس قدر مظبوطی سے اپنے اندر سمیٹ رکھا تھا کہ دعا کو عجیب سا سکون ملا تھا۔۔۔وہ اس سے شکوہ اسکی بھاہوں میں کر رہی تھی۔۔۔۔

میری جان دعا

میں سب ٹھیک کردوں گا۔۔۔۔۔

معراج نے دعا کے بالوں پر پیار کر کے کہا تھا۔۔۔۔۔۔

کچھ ٹھیک نہیں ھوگا۔۔۔۔دعا بولی تھی۔۔۔۔

دعا ئے معراج سب ٹھیک کردیں گے۔۔۔۔

معراج نے کہہ کر اپنی انکھیں بند کی تھی اور دعا کو زور سے اپنے اندر سمیٹ لیا تھا۔۔۔۔۔

معراج کا ہاتھ دعا کی کمر پر تھا اور ایک اسکے بالوں پر۔۔۔

اور دعا بھی روتے روتے نیند اور معراج کے نشے میں جارہی تھی۔۔۔

وہ دونون ایسی ایک دوسرے کی بھاہوں میں باتیں کرتے رہے۔۔۔۔۔۔

اور نجانے کب سو گئے۔۔۔۔۔

اج دلوں سے نفرت نکلنے کی رات تھی۔۔۔۔

شکوہ دور ھونے کی رات تھی۔۔۔۔

اللہ نے میاں بیوی کا راشتہ ایسا پاک اور صاف بنایا ھے کہ انسان چھائے جتنا ناراض ھو اپنے ہمسفر سے لیکن سکون اسکو اپنے ہمسفر کی باہہوں میں ہی ملتا ھے۔۔۔۔۔۔

دعا کی نفرت اور معراج کی ضد عشق میں تبدیل ھورہی تھی۔۔۔۔۔

اور یہ صرف اس وجہ سے تھا کہ ان کے بیچ ایک حلال رشتہ قائم تھا۔۔۔

☆☆

اگلے دن صبح جب معراج کی انکھ کھولی تو !!!