Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zid Junoon Ki Inteha Episode 1

Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi

وہ تیز تیز چلتی ھوئ کالج کے کفیے میں داخل ھوئ جہاں اس کی ساری دوستوں پچھلے ایک گھنٹے سے اسکا انتیظار کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔

اور وہ صاحبہ library میں اس قدر مصروف تھیں کہ ان کو وقت کا بلکل خیال نا رہا تھا۔۔۔۔اور نا یہ یاد رہا تھا کہ اس کی دوست سیرت نے اسکو کال کر کے کہا تھا کہ وہ کیفے اجائے۔۔۔۔۔۔

لو جی آگئ میڈم پڑھاکو !!!!!

عائشہ نے اس کو اپنی طرف آتے دیکھا تو ایک دم بولی اور عائشہ کی نظر کے ساتھ ساتھ ہما اور سیرت کی نظر بھی اس طرف اٹھی جہاں سے وہ چلتی تیزی سے آرہی تھی۔۔۔۔

اور ایک دم تیز تیز چلتے چلتے اس کا پاوں اٹکا اور اس کے ہاتھ سے تمام کتابیں زمین پر گیر گئ۔۔۔۔

اف اللہ اللہ !!!!!!

ایک تو تم لوگ اتنی جلدی کرتی ھو۔۔۔۔دیکھوں میری ساری کتابیں گیر گئ تم لوگ کی جلدی کے چکر میں۔۔۔۔

وہ کتابیں اٹھا کہ ان تینوں کی ٹیبل کے قریب اکر ایک دم شروع ھوگئ تھی۔۔۔۔

اس کی کھڑی ناک غصہ کی وجہ سے لال ھو رہی تھی۔۔۔

بڑی بڑی غزالی انکھوں میں غضہ تھا ۔۔۔اور دھوپ میں چل کر انے کی وجہ سے اسکا سفید رنگ سرخ ھوگیا تھا۔۔۔۔

وہ نازک سی حسینا لگ رہی تھی۔۔۔۔

ایک تو نا خود تم تینوں پڑھتی ھو اور نا مجھے پڑھنے دیتی ھو۔۔۔۔۔

اس نے کرسی پر جگہ سنبھالی اور کتابیں سامنے والی ٹیبل پر رکھ دی۔۔۔۔وہ تینوں مسکرا کر اس کو دیکھنے لگی۔۔۔۔جب بھی اس کی غلطی ھوتی وہ الٹا ان تینوں پر شروع ھوجاتی۔۔۔اور اب وہ تینوں سمجھ چکی تھی کہ میڈم اپنی غلطی تو مانیں گی نہیں اس لیے وہ تینوں خاموشی سے اس کا غصہ ٹھندا ھونے کا انیظار کر رہی تھی۔۔۔۔

“دعا “کی دوستی سیرت اور عائشہ سے بہت پکی تھی اور وہ دونوں بھی دعا پر جان چھڑکتی تھی دعا ان کی ایسی دوست تھی جو ان کے ہر اچھے برے وقت میں انکا ساتھ دیتی تھی۔۔۔دعا جیسی دوست بھی اللہ نصیب والوں کو عطا کرتا ھے وہ دونوں اس بات کو جانتی تھی۔۔

دعا سیرت اور عائشہ کی دوستی بہت پرانی اور پائے دار تھی۔۔۔وہ تینوں ایک دوسرے کی زندگی کا اہم حصہ تھیں۔۔۔ایک دوسرے کی تکلیف میں درد محسوس کرتی تھی۔۔۔۔

لیکن دعا اور سیرت کی دوستی اور بھی زیادہ پکی تھی وہ دونوں بچپن کی ساتھی تھی ایک ساتھ اسکول پڑھا تھا اور اب کالج بھی ساتھ جاتی تھی جبکہ عائشہ اور ہما کالج کی دوستیں تھیں۔۔۔۔

ویسے دعا میڈم ہم پچھلے ایک گھنٹے سے بیٹھے اپ کی آمد کا انتیظار کر رہے تھے اور میڈم آتے ھی ہم پر شروع ھوگئ۔۔۔۔

عائشہ نے منہ بنا کر کہا تو دعا ایک دم ھنس پڑی۔۔

دیکھو اگر میں اس وقت کچھ نا بولتی تو تم تینوں مجھے باتیں سنا سنا کر پاگل کر دیتے اس لیے میں نے پہلے پہل کر دی۔۔۔۔

دعا کی اس بات پر وہ چاروں ھنس دی۔۔۔۔

ویسے یار دعا تم اس قدر پڑھاکو کیوں ھو ؟؟؟

اب کے سوال ہما نے کیا تھا۔۔۔۔

یار ہما !!!!

ہمارے والدیں یہاں ہمیں تعلیم حاصل کرنے بھیجتے ھیں ۔۔اور پھر اب تو پیپر بلکل سر پر ھیں اگر ابھی صیح محنت کرلی تو انشاءاللہ نتیجہ اچھا ھوگا۔۔۔

اف ہاں تم نے تو پڑھ لکھ کر newtown بن جانا ھے نا۔۔۔

ہما نے جل کر کہا۔۔۔۔دعا نے ھنس کر بات ٹال دی۔۔۔

ہما اور دعا کی دوستی بھی اچھی تھی لیکن ہما کے دل میں کہی نا کہی دعا کے لیے تھوڑی جلن تھی اور وہ صرف اس وجہ سے تھی کہ دعا کالج میں دوستوں میں ہر جگہ ہمیشہ سے سب کی فیورٹ تھی۔۔۔

سب کی زبان پر ہمیشہ دعا کی تعریف رہتی تھی۔۔۔۔

دعا تھی بھی تعریف کے قابل ۔۔۔وہ پڑھائ کے ساتھ ساتھ اخلاق میں بھی نمبر ون تھی۔۔۔۔ٹیچر سے لے کر کیفے کی بودھی آنٹی تک دعا کی گیرویدا تھی۔۔۔۔

اسلام علیکم آنٹی !!!

کیسی ھیں آنٹی آپ؟؟؟؟

دعا ٹیبل سے اٹھ کر counter کی طرف ائ تھئ۔۔۔۔

وسلام بچے !!!!

میں بلکل ٹھیک ھوں۔۔۔۔

آنٹی نے پیارے سے کہا۔۔۔اچھا انٹی پلیز ایک بوتل دے دیں بہت پیاس لگی ھے۔۔۔۔دعا نے آنٹی سے کہا۔۔۔۔

اچھا انٹی کہہ کر fridge کی طرف بڑھ گئ تو دعا نے اپنے بیگ سے کچھ رقم نکل کر انٹی کے پرس میں رکھ دی۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ لو بیٹا بوتل !!!!

آنٹی نے دعا کو بوتل تھمائ۔۔۔۔

thanku aunty

دعا نے آنٹی کو پیسے دیئے اور اپنی ٹیبل کی طرف بڑھ گئ۔۔۔

آنٹی نے جب اپنا پرس کھول کر دیکھا تو اس میں ہمیشہ کی طرح ایک اچھی رقم موجود تھی۔۔۔۔

کیفے والی آنٹی ایک بہت غریب بیوہ خاتون تھی۔۔جو اپنے بچوں کے لیے اس عمر میں بھی کما رہی تھی۔۔۔۔دعا جب بھئ ان کو دیکھتی اسکا دل بہت دکھتا اس لیے وہ جب بھی کیفے آتی کیفے والی آنٹی سے بہت محبت سے بات کرتی ان کی طعبیت پوچھتی اور پھر خاموشی سے ان کے ساتھ باتیں کرتے کرتے ان کے پرس میں کچھ پیسے رکھ کر چلی جاتی اور ان پر کبھی ظاہر نا کرتی کہ وہ پیسے ان بودھی اماں کو اس نے دیے ھیں لیکن بوڈھی اماں سمجھ چکی تھی کہ یہ پیسے ان کے پریس میں کون رکھ سکتا ھے۔۔۔اس لیے وہ جب بھی دعا کو دیکھتی اپنے دل میں اسکو دھیر سادی دعائیں دیتی۔۔۔۔۔

اچھا یار گلز!!!!!

میں نے ایک چیز سوچی ھے۔۔۔!!

دعا اپنی جگہ پر اکر بیٹھی تو اب عائشہ نے بات کا آغاز کیا تھا۔۔۔دعا بوتل پیتے پیتے اس کی طرف متوجہ ھوئ۔۔۔۔

یار میں سوچ رہی تھی کیوں نا ہم facebook پر ایک پیج بنا لیں اور وہ پیج ہم چاروں رن کریں یعنی اس کے اڈمین ہم ھو بڑا مزہ آتا ھے یار ایسے گروپ کے pages میں بہت سے لوگ ھوتے ھیں۔۔۔ان سے گپ شپ لگتی ھے بڑا مزہ آتا ھے۔۔۔۔اور ٹھورا شگل بھی ھوجائے گا۔۔۔

عائشہ نے بڑے اچھے سے اپنی بات کو cover کیا تھا۔۔۔۔

تم سے اسی بےتکے کام کی امید تھی۔۔۔۔اب کے سیرت اور دعا دونوں نے ایک ساتھ ایک ھی بات بولی تھی اور پھر دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا دی ۔۔۔۔

یار تم دونوں کو کیا پتا اتنا مزہ آتا ھے facebook پر اتنے لڑکے ھوتے ھیں لڑکیاں ھوتی ھیں ھنسی مزاق ھوتا ھے۔۔۔سو لوگ سے اپ کی بات ھوتی ھے ۔۔عائشہ نے facebook کا کافی اچھا نقشہ پیش کیا تھا سیرت اور دعا کے سامنے۔۔۔۔۔

دعا اور سیرت دونوں ھی حیران ھوئ تھی کیونکہ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ عائشہ کے گھر کا موحول حد سے زیادہ سخت ھے اور اس کو ان سب چیزوں کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں ھے پھر بھلا عائشہ کو facebook کے بارے میں اتنی جان کاری کیسے تھی۔۔۔۔

عائشہ نے اپنی بات ختم کی تو ساتھ ھی ہما نے کہا۔۔۔۔

یار عائشہ تم نہیں جانتی کیا یہ دونوں بوڈھی روحیں ھیں۔۔۔

ان دونوں کے پاس سب کچھ ھونے کے باوجود ان کو استمعال کرنا نہیں آتا۔۔۔ smartphone صرف کال ملانے کے لیے نہیں ھوتے ان میں wifi بھی اس لیے دیا گیا ھے کہ اس کو استمعال کیا جائے۔۔۔۔۔بس انسان کو زندہ دل ھونا چاھیے اب تم عائشہ کو ھی دیکھ لو اس کے پاس تو فون بھی نہیں ھے لیکن اس کو کتنی جانکاری ھے ۔۔۔۔۔!!!

ہما نے صاف سیرت اور دعا کو یہ بات باور کروائ تھی کہ وہ دونوں باہر کی دنیا سے بلکل لا تعلق ھیں۔۔۔

دیکھوں یار مجھے ان سب میں کوئ interest نہیں ھے۔۔۔

اور نا مجھے ان سب چیزوں کا شوق ھے اور ہما جہاں تک بات ھے زندہ دل ھونے کی تو فیس بک use کرنے یا نا کرنے سے زندہ دلی کا بھلا کیا تعلق ؟؟؟

فیس بک use کرنے میں کوئ برائ نہیں ھے یہ خود انسان پر ھے کہ وہ کس طرح سے فیس بک کو use کرتا ھے اچھے اور برے ہر چیز کے دو راستے ھیں۔۔۔اور میرے پاس سب موجود ھونے کے باوجود میں use نہیں کرتی اس کی وجہ صرف یہ ھے کہ مجھے خود یہ سب پسند نہیں اس لیے میری طرف سے کوئ امید نا رکھنا اور امتحانوں میں تو بلکل بھی نہیں دعا نے صاف انکار کر دیا تھا۔۔۔۔

جب کے سیرت کچھ حد تک متاثر ھوئ تھی۔۔۔۔۔ویسے دعا یار ایک بار چیک کرنے میں کیا برائ ھے۔۔۔ایک بار دیکھ لیتے ھیں۔۔۔پیپر تو ابھی بہت دور ھیں۔۔۔۔

سوری سیرت!!

یار مجھے نا اس سب میں ڈالو ہاں تم کرنا چھاتی ھو تو کرلوں کوئ ایشو نہیں !!!

دعا نے اپنی بات ختم کی اور ساتھ ھی اسکا فون بجا۔۔۔۔

ٹن ٹن !!!

جی ہیلو !!!

اسلام علیکم !!!!!

اچھا ٹھیک ھے میں آرہی ھوں۔۔۔۔

یار میرا بھائ اگیا ھے میں اج اس کے ساتھ جا رہی ھوں۔۔۔

کال کاٹ کر اسنے سب کو اللہ حافظ بولا اور کتابیں اٹھا کر کیفے سے باہر اگئ۔۔۔۔۔۔۔۔

دعا اج کل کی لڑکیوں سے مختلیف دماغ کی لڑکی تھی اس لیے وہ کسی بھی ایسے چکر میں نہیں پھسنا چھاتی جو اگے چل کر اس کے لیے مصلہ بن جائے۔۔۔۔۔

جب کہ وہ تینوں ادھر ھی بیٹھی باتیں کرتی رہیں۔۔۔۔۔

اسلام علیکم نمونے ۔۔۔۔!!!

دعا نے کالج کے گیٹ سے باہر آتے ھی اپنے چھوٹے بھائ کو بڑے انوکھے انداز میں سلام کیا۔۔۔۔

وعلیکم اسلام چڑیل کیسی ھو ؟؟؟

میں ٹھیک ھوں

کوئ بھلا اتنی دیر سے آتا ھے ؟؟؟؟

دعا نے بائیک پر بیٹھتے ساتھ ھی کہا۔۔۔۔

اف دعا آپی آپ کی یہ اپنی غلطی نا ماننے والی عادت کبھی نہیں جائے گی لیٹ خود ھوئ اور بول مجھے رہی ھو۔۔۔۔۔۔

اچھا چلو جلدی بیٹھو مجھے تمھیں چھوڑ کر واپس دکان بھی جانا ھے۔۔۔۔۔

دعا جلدی سے بایک پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔

اچھا تمھیں یاد ھے نا اج کیا ھے آپی ؟؟؟؟؟

عمیر نے بائیک چلاتے ھوئے کہا۔۔

ہاں یاد ھے بابا !!!

اج امی ابو کی شادی کی سالگرہ ھے نا ۔۔۔۔

ہممم !!!

اج ہم امی ابو کو ایک surprise دیں گے ۔۔۔بلکہ آپی اج ہم سب مل کر dinner پر چلیں گے۔۔۔۔۔عمیر نے ماں بابا کی wedding anniversary پلن بہن سے شیر کیے۔۔۔ہاں ٹھیک ھے ۔۔۔۔۔جہاں تم بولو گے چلے جایئں گے بابا۔۔۔۔۔

ابھی جلدی سے گھر پہنچا دو بہت بھوک لگی ھے یار۔۔۔ دعا نے شدت کی بھوک محسوس کرتے ھوئے کہا۔۔۔

ارے ہمارئ بہن کو بھوک لگی ایسی کون سی بات ھے ابھی میں اپنی بہن کو مزے دار برگر کھلاتا ھوں۔۔۔۔

عمیر کے زہن میں ضرور کوئ شرارت سوجی تھی۔۔۔۔

تمھاری مہربانی تم مجھے بس گھر پہنچا دوں پچھلی بار کی طرح مرچوں والا برگر نہیں کھانا میں نے۔۔۔دعا نے عمیر کی کمر پر چوٹی نوچتت ھوئے کہا۔۔۔۔

اف آپی یار !!!!!!

عمیر دعا کی اس حرکت میں تلملا اٹھا اور دعا زور سے ھنس دی۔۔۔

بچو !!!!مجھے بھی ایسا ھی لگا تھا اس دن مرچوں والا برگر کھا کر۔۔۔۔

عمیر کو اس دن والا واقع یاد آیا اور وہ زور سے ھنسنے لگا۔۔۔۔

دعا اپنے بہن بھائ میں سب سے بڑی تھی لیکن اسکے چھوٹے دونوں بھائ بھی اس کے لاڈ خوب اٹھاتے تھے ۔۔ان سب بہن بھایئوں میں بے پناہ محبت تھی اس لیے لڑایئا اور ھنسی مزاق بھئ خوب چلاتا تھا۔۔۔۔

عمیر دعا کو گھر اتار کر دوکان چلا گیا تھا۔۔۔۔دعا جب گھر میں داخل ھوئ تو زور زور سے اپنی ماں کو پکارنے لگی۔۔۔۔

ماما !!!!

ماما !!!

ماما !!!

ارے بابا کہاں ھیں اپ۔۔۔۔؟؟؟

دعا اپنی ماں کو پکارتی ھوئ ان کے کمرے تک اگئ۔۔۔

سمیرا بیگم کی نماز کی نیت بندھی تھی اس لیے وہ ان کے بلکل پاس جا کر بیٹھ گئ۔

سمیرا بیگم نے جب سلام پھیرا تو دعا نے فورن ماں کو گل پر بوسہ دے کر کہا۔۔۔۔

اسلام علیکم امی جان !!!

کیسی ھیں میری پیاری سی امی ؟؟؟؟

دعا نے لاڈ سے ماں کی گود میں سر رکھ کر کہا۔ ۔۔

میں ٹھیک ھوں تم کیسی ھو ؟؟؟

سمیرا بیگم نے پیار سے بیٹی کو چومتے ھوئے کہا۔۔۔۔

امی میں بلکل ٹھیک ھوں۔۔۔بہت بھوک لگی ھے پلیز اپنے ہاتھ سے کھانا کھلا دیں نا۔۔۔۔

دعا ابھی تک اپنی ماں سے بلکل بچوں کی طرح لاڈ کرتی تھی۔۔۔

اچھا بابا چلو اٹھو تم جا کر چینج کرو میں کھانا لگاتی ھوں۔۔۔

سمیرا بیگم نے کہا تو دعا فورن اٹھ گئ۔۔۔اچھا ٹھیک ھے امی۔۔۔!!!

دعا !!!!!

دعا جانے لگی تو سمیرا بیگم نے آواز دی

جی امی۔۔۔۔

بیٹا زارہ نمرہ اور عمر کو بھی بلا لانا۔۔۔

جی ٹھیک ھے امی۔۔۔

دعا ماں کی بات سن کر اوپر اپنے بہن بھائ کے کمرے میں چلی گئ۔۔چھوٹے بہن بھائ سے ملے بنا اس سے رہا نہیں جاتا تھا۔۔۔۔۔۔اور سمیرا بیگم کچن میں کھانا نکالنے لگی۔۔۔۔

سی وی یو کی کھلی روڈ پر وہ اپنی گاڑی جہاز سے بھی زیادہ تیز اڑا رہا تھا۔۔۔۔۔اس کی گاڑی کی رفتار اتنی تیز تھی کہ وہ جس جس جگہ سے اپنی لال حسین اور کافی مھنگی گاڑی لے کر گزر رہا تھا وہاں کی تمام گاڑیاں اور لوگ مڑ مڑ کر اس کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔

یہ وہ کار تھی جس کو رکھنے کی لوگ تمنا کرتے ھیں اور اس کار کو تیز speed میں بھاگنا واقعی بہت کامل تھا ۔۔۔۔

اور دوسرا speaker پر تیز آواز میں بجنے والے میوزک نے سب کی توجہ اس کی طرف مائل کرنے پر مجبور کر دی تھی۔۔۔

وہ گاڑیاں جو اس سے ریس لگا رہی تھی وہ لاکھ کوشش کے باوجود اسکا مقابلہ نہیں کر پارہی تھی۔۔۔۔۔۔۔

وہ چہرے پر فتحانہ مسکراہٹ سجائے گاڑی مزید تیز سے تیز چلا رہا تھا۔۔۔۔

وہ جانتا تھا کہ کوئ پیدا نہیں ھوا جو اس کا مقابلہ کر سکے۔۔۔

یا اس کو ہرا سکے۔۔۔

اس نے اپنی حسین لال کلر کی sports car لا کر winner line پر روک دی۔۔۔۔۔

وہ مقابلہ جیت چکا تھا۔۔۔۔۔۔

اس کے تمام دوست بھی اس کے پیچھے اپنی گاڑی پارک کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔

وہ اپنی حسین لال کلر کی sports کار سے اترا تو ہر ایک انکھ نے اس کو موڑ کر دیکھا۔۔۔۔

اس نے بلیک ٹی شرٹ اور بلیو jeans کے ساتھ مھنگے ترین جوتے پہن رکھے تھے۔۔۔اس کی انکھوں پر لگے branded glasses اور ہاتھ میں راڈو کی گھڑی اس کی شخصیت اور وجاہت کو چار چاند لگا رہی تھی۔۔۔

وہ بے حد وجیہ ، ہینڈ سم ،سمارٹ تھا۔۔۔۔۔

وہ اپنی گاڑی سے اتر کر کھڑا ھوا تو اس کے سارے دوست اس کے پاس گھیرا بنا کر کھڑے ھوگئے۔۔۔۔

یار راجہ جی!!!

“راجہ ” اسکا نیک نیم تھا۔۔۔۔۔اکثر دوست اس کا نام لنے کے بجائے اس کو راجہ جی کہا کرتے تھے۔۔۔

واقع یار تیری یہ نیو گاڑی کامل کی ھے۔۔۔۔

زاضا نے اتے ھی اس لال گاڑی پر ہاتھ پھیرتے ھوئے کہا۔۔۔۔

ہاں کال ہی ائ ھے۔۔۔

اس نے راضا کی بات کا جواب دے کر اپنے ایک ہاتھ سے سگیرٹ سلگائ اور ایک کش لگایا۔۔۔

ایک دن میں تمھیں ضرور ہاروں گا۔۔۔

اب کے زیب نے کہا تھا اور اس کے لہجہ میں صاف جلن تھی۔۔۔۔۔۔۔

اس نے ایک زور دار قہیہقہ لگایا۔۔۔۔۔۔

یہ صرف تمھارا خواب ھے۔۔۔۔۔۔زیب۔۔۔۔!!!

راجہ معراج !!!

کو ہارنے والا کوئ اس دنیا میں پیدا نہیں ھوا ۔۔کوئ مجھے ہارئے یہ مجھے پسند نہیں اور کسی کو جیتنے میں دیتا نہیں۔۔۔۔!!!!!!

راجہ صرف ایک ھوتا ھے !!!!!

اور وہ میں ھوں !°°°°

معراج کے لہجے میں بلا کا غرور اور ضد تھی۔۔۔۔۔

میں مزاق کر رہا تھا !!!

مجھے مزاق بھی ایسا پسند نہیں۔۔۔۔۔۔!!!!معراج بولتا ھوا تیزی سے اندر ھوٹل کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔

اور معراج کے تمام دوست بھی اس کے پیچھے پیچھے ھوٹل میں چل دیے۔۔۔۔

ایک دن تجھ سے ضرور بدلہ لوں گا معراج !!!!!

وعدہ ھے میرا بھی۔۔۔۔ زیب نے اپنے خیال میں معراج سے بول کر اپنے دل کی بھاڑاس نکالی اور پھر معراج کے پیچھے چل۔دیا۔۔۔۔

اس کو مزاق میں بھی اپنی ہار برداشت نہیں تھی۔۔۔زیب معراج کو اچھے طریقے سے جانتا تھا کہ واقعی معراج جہانگیر کو ہارنا آسان کام نہیں تھا۔۔۔۔

وہ ایک حد سے زیادہ ضدی انسان تھا۔۔۔۔

جو اپنے اگے کسی کو کچھ نہیں سمجھ تھا ۔۔۔۔

اس کے لیے اس کی اپنی زات سب سے زیادہ اہم تھی۔۔۔۔۔۔

اور اس کی زات کیسی کے سامنے ہار جائے یہ اس کو ہرگز برداشت نا تھا۔۔۔۔

وہ سب اکر ھوٹل کی ایک بک ٹیبل پر بیٹھ گئے۔۔۔

ٹھندی ٹھندی ھوا اور ساتھ ساتھ چلتا سمندر اس وقت ایک حسین منظر پیش کررہا تھا۔۔۔

معراج جب ٹیبل پر اکر بیٹھ رہا تھا تب کافی لڑکیوں کی نظر اس پر اکر رک سی گئ تھی۔۔۔۔بلاشبہ وہ کسی hero سے کم نا تھا۔۔۔۔۔

یار راجہ جی !!!!

پورے پاکستان میں ایسی گاڑیاں نہیں ھے تو نے یہ کیسے پاکیستان منگوائ۔۔۔۔؟؟؟؟؟

راضا کا دل شائید اس کی گاڑی پر آچکا تھا۔۔۔

اس لیے اپنی جگہ پر بیٹھتے ھی سب سے پہلا سوال زاضا نے یہ ہی کیا۔۔۔

معراج نے مسکرا کر اپنی جگہ سنبھالی اور پھر بڑے مغرور آنداز میں بولا۔۔۔۔

یہ کار میری ضد تھی۔۔۔اور میری ضد میرا جنون ھے۔۔۔۔۔

راجہ معراج کا جس چیز پر دل آجائے چھائے وہ دنیا کے کسی کونے میں کیوں نا ھو۔۔۔۔۔اس کے پاس آجاتی ھے۔۔۔۔۔۔۔

چلو اج تم سب کو میری طرف سے dinner ھے میری جیتنے کی خوشی میں ۔۔۔۔۔

معراج نے بول کر ساتھ ھی hotel کے مینیجر کو بلایا۔۔۔۔

ایس سر ؟؟؟؟

میری پسند کا میوزک لگاو اور میرے دوستوں کے لیے خاص اہتمام کرو۔۔۔۔ اج میرے دوستوں کو میری طرف سے dinner ھے کسی چیز کی کمی نہیں ھونی چاھیے۔۔۔۔معراج نے مینیجر کو حکم دینے کے انداز میں کہا۔۔۔۔

اوکے سر !!!!

مینیجر خاموشی سے چلا گیا۔۔۔۔جب کے معراج نے جس چیز کی دیماند کی تھی وہ ھوٹل کے رولز کے خیلاف تھی کیونکہ یہ ایک فیملی ھوٹل تھا ۔۔۔

لیکن ھوٹل والے راجہ معراج کے ساتھ پنگا لینے کی غلطی ہرگز نہیں کر سکتے تھے۔۔۔۔

منیجر معراج سے اچھی طرح واقف تھا۔۔۔۔وہ کوئ چھوٹی موٹی بلا نہیں تھا۔۔۔۔وہ راجہ جہانگیر کا سب سے لاڈلہ اور چھیتا بیٹا تھا۔۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

احمد خان کی دو بٹیاں دعا اور نمرہ تھی اور دو بیٹے عمیر اور عمر تھے ۔۔یہ ایک خوش گورا گھرانا تھا۔۔۔۔۔احمد خان ایک بہت شریف انسان تھے جن ھونے اپنی تمام عمر عزت کمانے میں لگا دی تھی۔۔۔۔کراچی کے اچھے علاقے میں نے انکا اپنا گھر اور کاروبار تھا۔۔۔وہ ناتو حد سے زیادہ امیر تھے اور نا بہت زیادہ غریب وہ درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والےا نسان تھے۔۔۔جن ھونے اپنی ساری عمر محنت اور حلال کمائ کمانے میں گزاری تھی۔۔۔

اور اب خیر سے اپنے بچوں کے ساتھ ایک پر سکون نعمتوں سے بھری زندگی گزار رہے تھے۔۔۔

اور خیر سے ان کے گھر میں اللہ نے بےشمار خوشیاں اور سکون بھی آتا کیا تھا۔۔۔۔

سارے بہن بھائ میں بہت محبت اور پیار تھا۔۔۔

سمیرا بیگم اور احمد خان صاحب نے اپنے بچوں کی تربیت بہت اچھی کی تھی۔۔۔۔۔

عمیر خیر سے مٹریک کر کے فارغ ھوچکا تھا اور اب پڑھائ کے ساتھ ساتھ اپنا کاروبار بھی سنبھال رہا تھا۔۔۔جبکہ عمر ابھی اسکول پڑھ رہا تھا وہ ابھی صرف 5وی جماعت کا طلب علم تھا۔۔۔اور نمرہ 8 کلاس کی طلب علم تھی

جب کہ دعا کراچی کے سب سے مشہور میڈیکل کالج سے اپنی تعلیم حاصل کر رہی تھی۔۔عمیر اور دعا میں 2 سے 3 سال کا فرق تھا۔۔اس لیے دونوں بہن بھائ کی اپس میں بہت بنتی تھی۔۔دعا کی جان عمیر میں بستی تھی اور عمیر کی دعا میں۔۔۔۔۔

دعا

بہت زہین اور دل محونے والی لڑکی تھی۔۔۔سب سے بڑی ھونے کی وجہ سے ماں باپ سب کی ھی بہت لاڈلی تھی اور اپنے چھوٹے بہن بھایئوں کی جان تھی۔۔۔۔

احمد صاحب جب گھر آئے تو دعا عمیر عمر اور نمرہ نے مل کر ماں باپ کو جانے کے لیے زاضی کر لیا تھا ۔۔۔۔احمد صاحب اپنے جان سے پیارے بچوں کی بات بلکل نہیں ٹال سکتے تھے اس لیے جانے پر زاضامند ھو گئے۔۔۔۔۔

اف آپی جلدی کرو۔۔۔۔۔

نمرہ نے دعا کو حجاب بندھتے دیکھا تو بولی۔۔۔نمرہ بھی دعا ہی کی طرح پیاری تھی ۔۔۔

بس نمی دو منٹ دعا نے اپنا حجاب سیٹ کیا اور ایک نظر اپنے سراپے پر ڈالی۔۔

کالی فورک اور خوبصورت سے حجاب میں وہ بہت حسین لگ رہی تھی۔۔۔

میک اپ کے نام پر صرف زارہ سی LIPSTICK لاگئ تھی ۔۔۔۔

ماشاءاللہ آپی اپ بہت خوبصورت ھیں۔۔۔۔۔نمرہ نے اپنی بہن کی دل سے تعریف کی تھی۔۔۔

دعا ایک دم ھنس دی اچھا واقع ؟؟؟

مجھے تو نہیں لگتا ۔۔۔مجھے تو لگتا ھے میری پیاری سی نمی اس دینا کی سب سے پیاری لڑکی ھے۔۔۔۔دعا نے پیار سے بہن کی تھوڑی پکڑتے ھوئے کہا۔۔۔۔دعا اپنے چھوٹے بہن بھائیوں سے بے پناہ محبت کرتی تھی۔۔۔۔

نہیں اپی اپ کچھ الگ طرح کی پیاری ھیں اپ کو بس دیکھتے رہنے کا دل کرتا ھے اور اج اس کالے رنگ میں اپ بہت ھی حسین لگ رہی ھیں۔۔۔۔

ھی ھی ھی اچھا۔۔۔۔۔!!! نمرہ کی اس قدر تعریف کرنے کا مطلب دعا فورن سمجھ گئ تھی

نمرہ تم اج پھر سر پر حجاب نہیں لے رہی نا ؟؟؟

دعا نے نمرہ کی شرارت پکڑتے ھوئے کہا۔۔۔۔

آپی پلیز نا!!!

اج ایسی جانے دیں کل سے پکا لوں گی ۔۔نمی میں نہیں چھاتی کوئ بھی شخص میری پیاری سی بہن پر بری نظر ڈالے اور پھر میری بہن اتنی پیاری ھے کہ کہی اس کو کسی کی نظر نا لگ جائے۔۔۔۔چلو جلدی سے حجاب لو۔۔۔دعا نے پیار سے بہن کو کہا تو نمرہ نے فورن دعا کی بات مان لی دعا کی بات اس گھر میں کوئ نہیں ٹالتا تھا پھر دونوں بہنیں گاڑی میں اکر بیٹھ گئ سب گھر والے پہلے سے گاڑی میں بیٹھے ان دونوں کا ہی انتیظار کر رھے تھے۔۔۔۔۔

وہ سب پورے راستے ھنسی مزاق کرتے سی ویو جارہے تھے

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

عجیب شخص ھے ایک تو کسی اور کی بک ٹیبل پر اکر بیٹھ گیا ھے اور اب پورے ھوٹل میں ایک طوفان مچا رکھا ھے۔۔۔سر اپ پلیز ان کو یہاں سے جانے کو بول دیں ۔۔۔۔ویٹر نے اکر منیجر سے شکایت کی تھی۔۔۔۔

کسی کی بات کر رہے ھو ؟؟؟؟

مینیجر نے بڑبڑاتے ویٹر سے پوچھا۔۔۔۔۔

ویٹر نے معراج والے ھٹ کی طرف اشارہ کر کے کہا انکی۔۔۔۔۔

تم جانتے ھو وہ کون ھے ؟؟؟؟

مینیجر نے ویٹر کو حیرت سے دیکھتے ھوئے پوچھا

نہیں کون ھے سر ؟؟؟

راجہ جہانگیر کا سب سے لاڈلہ بیٹا ھے یہ۔۔۔راجہ۔معراج ۔۔۔۔۔۔

تم کیا چھاتے ھو ان کو یہاں سے نکال دوں ؟؟؟

پھر یہ ھوٹل بندھ کروا دوں۔۔۔۔۔ تم نہیں جانتے یہ لڑکا کیا چیز ھے۔۔۔

۔جتنا تمھارا کام ھے تم اتنا کرو جاکر۔۔۔۔معراج سر کی ٹیبل پر کسی بھی چیز کی کمی نہیں ھونی چاھئے۔۔۔مینیجر نے ویٹر کو حکم دیا۔۔۔

پر سر وہ کسی اور کیbooked ٹیبل پر بیٹھے ھیں۔۔۔۔وہ ھٹ کسی نے پہلے ھی بکڈ کروا لیا اور اس میں ARRANGEMENTS بھی ھوئ ھیں۔۔۔۔

وہ سب میں سنبھال لوں گا۔۔۔

تم بس جاکر اپنا کام کرو۔۔۔

یہ معراج سر کو دے دو۔۔

مینیجر نے ویٹر کے ہاتھ میں حکہ تھاماتے ھوئے کہا۔۔۔۔

ویٹر نے اکر حکہ معراج کے سامنے ٹیبل پر رکھ دیا۔۔۔

معراج نے فورن حکہ کا پائپ اٹھا کر ایک کش لگایا تھا۔۔۔۔۔اور ساتھ ھی اس کے منہ سے بہت سارا دھوا نکلا تھا۔۔۔۔

یار معراج تجھے کب سے وہ لڑکی گھور گھور کر دیکھ رہی ھے ۔۔زاضا نے معراج کے سیدھے ہاتھ والی ٹیبل پر بیٹھی ایک لڑکی کو دیکھ کر کہا۔۔۔جو پچلھے آدھے گھنٹے سے معراج کو گھور گھور کر دیکھ رہی تھئ۔۔۔۔

معراج نے زاضا کہ بولنے پر ایک نظر اس طرف دیکھا اور نظر ہٹا لی پھر بولا معلوم ھے۔۔۔

یار تجھے اتنی فیٹ لڑکی لائن کروارہی ھے اور تو ھے کہ اس کو ٹھیک سے دیکھ نہیں رہا۔۔اس سے جا کر بات کر یار ۔۔زاضا نے آرام سے حکہ پیتے معراج کو دیکھ کر کہا۔۔۔۔

تو پاگل ھے ؟؟؟

زاضا

معراج کسی کے پاس چل کر نہیں جاتا۔۔۔۔

جس کو آنا ھوتا ھے وہ معراج کے پاس چل کر آتا ھے۔۔۔۔اور یہ لڑکی بھی خود اٹھ کر ائے گی۔۔۔۔۔۔

جلدی کیا ھے زاضا ؟؟؟؟

معراج نے ایک انکھ دبا کر کہا اور دلفریب مسکان اپنے لبوں پر سجائ۔۔۔۔۔۔

تو واقع میں عجیب ھے یار۔۔۔۔

تجھے کوئ نہیں سمجھ سکتا۔۔۔۔

زاضا نے معراج کی مسکان کا مطلب نا سمجھتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔۔

لڑکیاں معراج پر قدم قدم پر گیرتی تھی لیکن اس کی عادت تھی وہ کبھی خود سے کیسی لڑکی کو دوستی کی آفر نا کرتا تھا۔۔۔۔۔

بلکہ اگنور کرتا تھا اور یہ ہی وجہ تھی جو لڑکیاں اس کی طرف کھچتی آتی تھی۔۔۔۔معراج جہانگیر کو ignore کرنا کسی لڑکی کے بس کی بات نا تھی۔۔۔۔۔وہ حد سے زیادہ handsome اور smart تھا۔۔۔

جب حد سے زیادہ پیسہ پاس ھو تو غرور اور ضد سر چھڑ کر بولتی ھے

اور اس پر اسکا غرور اس کی وجاہت کو کہی سے کہی پھنچا دیتا تھا۔۔۔۔

اور کچھ دیر بعد ہی یہ ھوا تھا۔۔۔۔سیدھے ہاتھ پر تینوں بیٹھی لڑکیاں معراج کی ٹیبل کی طرف اگئ تھی اور ان تینوں نے خود ان کی پارٹی جوائن کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔۔۔۔جس کو زاضا اور باقی تمام دوستوں نے فورن قبول کر لیا تھا ۔۔۔۔لیکن وہ لڑکیاں معراج کی جواب کی منتظر تھی۔۔

can we join ur party mr ??

لال ٹائٹ شرٹ اور وائٹ کلر کی پینٹ کے ساتھ ہائ ہیل پھنی خوبصورت لڑکی نے معراج سے پوچھا تھا۔۔۔۔۔

معراج نے ایک نظر اس پر ڈالی۔۔۔وہ لڑکی بھی اپنی میک اپ سے لت پت انکھوں سے معراج کو گھور رہی تھی۔۔۔۔

as ur wish !!!!

why not !!!!

معراج نے ہلکی سی مسکان سجا کر اپنے مخصوص انداز میں کہا ۔۔۔۔۔

ان لڑکیوں نے ایک پل لگائے بغیر کہا۔۔۔

Thank you handsome…

وہ تینوں لڑکیاں بھی ان کے ساتھ ھی ٹیبل پر بیٹھ گئ۔۔۔

my name is SANIA

اسی لڑکی نے معراج کی طرف ہاتھ بڑھا کر کہا :-

I m mairaj

معراج نے اس سے ہاتھ ملاتے ھوئے جواب

دیا ۔۔۔۔

یار تھوڑا میوزک۔اور بڑھاو

LETS PARTY GUYZZ!!

ثانیہ نے بہت جوش سے معراج کو دیکھتے ھوئے کہا۔۔۔ تو ویٹر کو بلا کر زاضا نے میوزک اور بڑھوا دیا تھا اور اب پورے ھوٹل میں تیز آواز میں گھونجتے میوزک کی آواز آرہی تھی۔۔۔۔۔اور پاڑی اپنے شوروں پر تھی۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

دعا اور اس کی تمام فیملی اج بہت خوش تھی۔۔۔۔اج دعا کے والدین یعنی احمد صاحب اور سمیرا بیگم !!