Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zid Junoon Ki Inteha Episode 43

Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi

اگر زیب تک کوئ پھنچ سکتی ھے تو وہ ھے ہما۔۔۔

اگر ہما کو میں نے زارہ سے بھی اندازہ ھونے دیا کہ مجھے پتہ چل گیا ھے تو وہ زیب کو بتادے گی اور پھر بات بگڑ جائے گی۔۔۔

دعا تک پھنچنے کے لیے مجھے لازمی ہما کو اپنے یقین میں لینا ھوگا ۔

ہما اور زیب۔۔۔۔۔

بس ایک بار دعا مجھے ملنے دو۔۔۔

میں تم دونوں کی اس حرکت کو تمھارے لیے عزاب بنا دوں گا۔۔۔۔۔۔

معراج نے غصے گاڑی چلاتے ھوئے کہا۔۔۔

پھر معراج سیدھا گاڑی لے کر اپنے گھر ایا تھا۔۔۔

وہ جانتا تھا تمام تماشہ دیکھنے کے لیے ہما یہاں موجود ھوگی۔۔۔۔

وہ گھر ایا تو اتفاق سے ہما لان میں ہی موجود تھی۔۔۔۔۔

معراج سیدھا چلتے ھوئے ہما کے پاس آیا تھا۔۔۔۔

کیا ھوا ملی تمھاری دعا تمھیں ؟؟؟؟؟

ہما نے زہریلی مسکان سجا کر کہا۔۔۔

نہیں معراج نے جواب دیا اور اس کے ساتھ والی کرسی پر جگہ سنبھالی۔۔۔

میں نے پہلے ہی کہا تھا معراج ۔۔۔وہ ایک غلط لڑکی ھے۔۔۔۔تم نے ہی اس پر اتنا بھروسہ کیا جب کہ وہ بھروسے کے بلکل لائق نا تھی۔۔۔۔۔

ہما نے کہا تو معراج کے تن بدن میں اگ لگ گئ لیکن اسنے ہما کے سامنے اس بات کو ظاہر نا ھونے دیا اور چپ رہا کیونکہ ہما ہی وہ واحد راستہ تھی جس سے معراج دعا تک پھنچ سکتا تھا۔۔۔۔۔۔

تم ٹھیک کہتی ھو ہما۔۔۔۔۔۔

معراج نے بڑی مشکل سے یہ جھوٹ کہا تھا۔۔۔

ہما کو لگا کے بس اب اسکی جیت ھونے ہی والی ھے۔۔۔۔۔

معراج !!!

ہما نے فورن معراج کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر کہا تھا۔۔۔۔

اور اسکےمزید پاس ھوئ تھی۔۔۔۔

معراج کیا رکھا ھے اس دو ٹکے کی لڑکی میں۔۔۔۔وہ تو تمھیں چھوڑ کر کسی اور کے ساتھ بھاگ گئ ھے۔۔۔۔

بس دفعہ کرو نا اسے ۔۔۔

بھول جاو۔۔۔۔

دیکھو نا ۔۔۔میں تم سے کتنا پیار کرتی ھوں۔۔۔

اور تم نے اج تک میری طرف نظر تک نا ڈالی۔۔۔۔

ہما نے معراج کی انکھوں میں دیکھتے ھوئے کہا۔۔۔۔

ہمممم تم ٹھیک کہتی ھو ہما۔۔۔

معراج نے اب اپنا گیم شروع کیا تھا۔۔۔اور معراج سے بڑا گیم planer کوئ نہیں ھوسکتا تھا۔۔۔۔

کیا واقعی ؟؟

ہما نے خوشی سے پوچھا۔۔۔

ہاں۔۔۔۔میں دعا کو بھول سکتا ھوں اگر۔۔۔۔۔

معراج کہتے کہتے روکا تھا۔۔۔۔

اگر ؟؟؟

ہما معراج کے مزید پاس ھوئ تھی۔۔۔۔

بولو نا معراج اگر کیا ؟؟؟؟

معراج کو ہما کے وجود سے اس کی قربت سے وحشت ھو رہی تھی ۔۔۔۔لیکن دعا تک پھچنے کے لیے یہ ضروری تھا۔۔۔

اگر تم میرا ساتھ دو۔۔۔

معراج نے ہما کا ہاتھ تھام کر کہا۔۔۔۔۔۔

بسس ہما کو تو لگا اسکی زندگی سب سے بڑی جیت اسکو مل گئ ھے۔۔

تم

تم سچ کہہ رہے ھو معراج ؟؟؟

بولو تم سچ کہہ رہے ھو ؟؟؟

ہما نے خوشی سے معراج کا چہرہ تھام کر کہا۔۔۔۔۔

ہاں۔۔۔۔

معراج نے اپنے لبوں پر جھوٹی مسکان سجا کر کہا۔۔۔

اوووو معراج۔۔۔۔۔

i love you

I love you so much….

ہما کہہ کر فورن معراج کے گلے سے لگی تھی۔۔۔

معراج کا دل کر رہا تھا وہ اس گھٹیا لڑکی کو فورن خود سے دور کر دے مگر مجبوری تھی۔۔۔۔

معراج نے نا چھاتے ھوئے بھی ہما کو گلے سے لگایا۔۔۔۔

معراج میں بہت خوش ھوں۔۔۔

دیکھو نا ایک وقت آیا کہ تمھیں میرا پیار نظر آ ہی گیا۔۔۔۔

ہما معراج کے گلے لگ کر بول رہی تھی۔ ۔

ہاں ہما آگیا۔۔۔۔

معراج نے ہما کو خود سے الگ کر کہ کہا۔۔۔

سب کچھ نظر آگیا۔۔۔

کاش پہلے نظر آجاتا تو تمھارے ساتھ وہ کرتا جو تمھارے وہم و گمان میں بھئ نا ھوتا۔۔۔

معراج نے چبہ چبہ کر کہا۔۔۔مگر ہما اس بات کو معراج کا اقرار سمجھی۔۔۔۔۔

معراج ؟؟؟

ہما نے فورن موقعے سے فائدہ اٹھانا چھا۔۔۔

وہ تو بس معراج کے اشارے کے انتیظار میں تھی ۔۔۔۔

ہمم ؟؟؟معراج نے پوچھا۔۔۔۔

مجھ سے کتنا پیار کرتے ھو تم ؟؟۔ہما نے مسکرا کر پوچھا۔۔۔۔

بہت زیادہ !!!

معراج نے مختصر کہا۔۔۔۔۔۔

تو پھر مجھ سے ابھی کہ ابھی شادی کرو گے ؟؟؟؟

ہما نے معراج کے لیے اسکا کام اور مزید آسان کر دیا تھا۔۔۔ہما معراج کو پھسانا چھا رہی تھی۔۔۔لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ فل وقت وہ پھس رہی ھے۔۔۔۔۔

معراج خاموش رہا۔۔۔

پر ہما ؟؟؟

میں ایک شادی شدہ لڑکا ھوں۔۔۔

معراج نے بنتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔

اھووو کوئ بات نہیں معراج۔۔۔

بس تم اور میں۔۔۔۔۔۔

اور کوئ نہیں۔۔۔۔بولو کرو گے ابھی شادی جب دعا یہ سب کر سکتی ھے تو تم کیوں نہیں ؟؟؟؟

ہما نے کہا۔۔۔۔

ہمممم ٹھیک ھے۔

میں تیار ھوں۔۔۔۔۔

معراج نے فورن کہا۔۔۔

اھوووووو معراج میں اج خوشی سے مرنا جاوں

ہما پھر ایک بار معراج کے گلے لگی تھی۔۔۔۔

ماروں گا تو تمھیں میں ہما بس ایک بار میری دعا کو ملنے دو ۔۔

معراج نے دل میں کہا۔۔۔

تو پھر چلو۔۔۔

ہما نے فورن کہا۔۔۔۔

تم اس حالت میں نکاح کرنے جاو گی ؟؟

معراج نے ہما کے nite suit کو دیکھ کر کہا۔۔۔۔

اھووو اس قدر خوشی ملی ھے کہ کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔۔۔

تم 10 منٹ رکو میں بس تیار ھوکر آتی ھوں ۔۔۔

ہما نے خوشی سے کہا اور بھاگتی ھوئ اندر کی طرف بڑ گئ۔۔۔۔

ہما اندر آتے اتے سوچ رہی تھی۔۔۔

اوووو بیچاری دعا۔۔۔۔

پھر مجھ سے ہار ہی گئ۔۔۔۔

معراج آخر میرا ھو ھی گیا۔۔

ہما جیت گئ۔۔۔۔۔

ہما سمجھ رہئ تھی وہ جیت گئ ھے۔۔۔پر اصلی گیم اب شروع ھوا تھا۔۔۔وہ یہ بھول گئ تھی کہ انسان ایک پاک صاف مظبوط رشتے کو کبھی نہیں توڑ سکتا۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

ہما کے جانے کے بعد معراج نے ہما کے پاس سے جو موبائل اس سے گلے ملتے وقت اٹھایا تھا وہ دیکھا۔۔۔۔۔۔

لیکن بد قسمتی سے اس پر pattern lock لگا تھا۔۔۔

شیٹ۔۔۔

معراج کو ایک دم غصہ ایا۔۔۔

معراج نے ایک دو بار try ماری پر لوک نہیں کھولا۔۔۔۔

پھر اچانک خود با خود ہما کا موبئل فوم بجنے لگا۔۔۔۔۔

اسکیرین پر چمکنے والا نمبر نیا تھا۔۔۔۔

معراج نے کال فورن receive کی تھی۔۔۔۔۔

ہیلو ہما !!!

یار یہ دعا تو کسی صورت بھی یہ بات ماننے کو تیار نہیں کے معراج نے اسکو طلاق دے دی ھے۔۔۔

پتہ نہیں کس طرح کا یقین ھے اسکا اپنے شوہر معراج پر۔۔۔۔

مجھ سے دو تھپڑ بھی کھا چکی ھے لیکن پھر بھی معراج معراج کی مالا پڑھنا بند نہیں ھوئ یہ پاگل لڑکی۔۔۔۔۔

زیب ایک سانس میں بول رہا تھا۔۔۔

اور یقین معراج کے لیے زیب کی آواز کو پہچانا مشکل نا تھا۔۔۔۔۔

معراج کا جسم جل رہا تھا۔۔۔۔

زیب نے اسکی پھول جیسی دعا پر ہاتھ اٹھایا تھا۔۔۔۔

بولو تم چپ کیوں ھو اخر ؟؟؟

زیب نے ہما کی خاموشی دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔

اھوو اچھا آس پاس کوئ ھے۔۔۔۔؟؟؟

زیب نے خود ہہ جواب دیا۔۔۔

ہم !!

معراج نے ہلکے سے ہم کہا۔۔۔

اوکے۔۔۔۔۔!!!

زیب نے کال بند کر دی۔۔۔

معراج نے فورن pattern lock کھولنے کئ کوشش کی تھی۔۔۔

لیکن pattern lock نہیں کھولا تھا ۔۔۔معراج نے فورن ہما کی سیم نکال کر اپنے موبئل میں ڈالی تھی اور اس سے زیب کو ہما بن کر میسج کیا تھا۔۔۔

ہاں زیب۔۔۔

بس تھوڑی سی مصروف ھوں میں۔۔۔

تم میسج پر بات کرو۔۔۔

دعا اور تم ھو کہاں آخر معراج تمھیں ہر جگہ ڈھونڈ رہا ھے تم دونوں جہاں ھو ادھر ہی رہنا۔۔۔۔۔

معراج نے یہ لکھ کر میسج سینڈ کر دیا تھا۔۔۔

کچھ پل بعد ہی جواب آگیا تھا۔۔۔

تمھیں پتہ تو ھے ہم کہاں ھیں۔۔۔پھر دوبارہ کیوں پوچھ رہی ھو۔۔۔۔۔۔

یار معراج کے پرانے والے گودام میں بڑے مچھر ھیں ۔۔۔تم پلیز جلدی مجھے بتاو سب پھر میں دعا کو یہاں سے لے کر لاہور جاوں۔۔۔۔

میں نے ٹرین کی ٹکٹ بک کرلی۔۔۔۔

زیب کا مسیج آتے ہی معراج بنا ایک پل لگائے اپنے کمرے میں گیا تھا۔۔۔

اور اپنا پیسٹل اٹھا کر اپنی جیکٹ کی جیب میں رکھا تھا۔۔۔

اور اب ہما کے کمرے میں آیا تھا ہما بھی بس تیار ھوگئ تھی۔۔۔

معراج نے ہما کا ہاتھ تھاما اور اسکو سیدھا اپنے گاڑی میں لاکر بیٹھایا تھا۔۔۔

اور خود اکر driving سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی اسٹاٹ کردی تھی۔۔۔۔

معراج میں اتنی خوش ھو کہ تم سوچ نہیں سکتے ۔۔۔

ہما نے ایک بار پھر خوشی کا اظہار کیا تھا۔۔۔

میں اج کے ایک ایک پل کو اپنے موبئل میں یاد گار باننا چھاتی ھوں۔۔۔

ہما نے اپنا پریس کھول کر موبئل تلاش کیا تھا۔۔۔۔

لیکن موبئل کہی نا تھا۔۔۔

ہما کے چہرے پر ایک رنگ آتا اور جاتا۔۔۔۔۔

کیا ھوا ؟؟؟

معراج نے فورن ہما کو دیکھ کر پوچھا تھا۔۔۔۔

گاڑی کسی اندھیری سڑک پر چل رہی تھی۔۔۔

ککک کچھ نہیں۔۔۔

ہما نے ہچکچاتے ھوئے کہا۔۔۔

کیا کھو گیا ؟؟

معراج نے پھر پوچھا۔۔۔۔

ممم میرا موبئل شاید گھر رہا گیا۔۔۔۔

ہما نے کچھ سوچتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔

معراج نے اپنی جیب سے موبئل ناکل کر ہما کے اگے کیا تھا ۔۔۔

کہی یہ تو نہیں ؟؟؟؟

معراج نے لال انکھوں سے ہما کو دیکھا تھا ۔۔

معراج کے ہاتھ میں اپنا فون دیکھ کر تو ہما کی ھوایاں آڑ گئ تھیں۔۔۔

یہ

یہ موبئل ؟؟

ہما کا چہرہ پسینا پسن ھوگیا تھا۔۔۔۔

معراج نے اپنی لال ھوتی آنکھوں سے ہما کو دیکھا تھا۔۔۔۔

تم نے میرے ساتھ ؟؟؟

ہما نے پھٹی نگاہوں سے معراج کو دیکھا تھا۔۔۔۔

میں تمھارے ساتھ کیا کروں گا تم سوچ نہیں سکتی۔۔۔

چپ چاپ بیٹھی رہو۔۔۔۔

معراج نے تقیربن چلا کر کہا تھا۔۔۔۔۔

ہما کو اپنا گیم ایک بار پھر ہارتا ھوا دیکھائ دیا۔۔۔۔۔

معراج جہاز سے زیادہ تیز گاڑی آرتا اپنے پرانے گودام جارہا تھا۔۔

ہما کو حیرت کا شیدد جھٹکا تب لگا تھا جب معراج نے high way کارس کیا تھا۔۔۔

یعنی معراج جان گیا تھا کہ دعا کہاں ھے۔۔۔

ہما کو سمجھ نا آرہا تھا کہ وہ اب کیا کرے۔۔۔۔۔

معراج !!!!!ہما نے دھیمے سے معراج کو پکارا تھا۔۔۔۔

خبرداررررررر

خبردارررررر

جو اب کوئ بقواس کی ۔۔۔۔ادھر یہاں ہی جان سے مار دوں گا۔۔۔۔۔

معراج کی انکھوں سے ہما کو ایک دم خوف سا محسوس ھوا تھا۔۔۔

معراج کی انکھوں میں جنون یا ضد نہیں۔۔۔۔۔۔تھی۔۔۔

بلکہ

جنون کی انتھاء تھی۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

دعا

دعا

دعا

میری پیاری سی دعا۔۔۔۔۔

آخیر تم کیون اتنی ضدی ھو۔۔۔

مجھ سے اب تک کتنی مار کھا چکی ھو پھر بھی نہیں سمجھ رہی۔۔۔۔

تمھارا معراج نہیں ھے وہ۔۔۔

تمھارا صرف زیب ھے بابا۔۔۔۔۔

زیب اب دعا کا ہاتھ زبردستی تھام کر بول رہا تھا۔۔۔۔۔

تمھارا معراج۔۔۔

ہاہاہا۔۔۔۔

چلو کچھ کھا لو۔۔۔۔

دیکھو کتنا خون بہہ گیا ھے تمھارا اس معراج کے نام کی وجہ سے۔۔۔

زیب نے دعا کے ھونٹوں کو چھونے کی خوشش کی تو دعا نے ایک دم اپنی ٹانگ چلا کر زیب کو پہچھے کیا تھا۔۔۔۔

مجھے ہاتھ لگایا تو جان سے مار دوں گہی۔۔

دعا نے چیلا کر کہا تھا۔۔۔۔

اففففف رسی جل گئ مگر بل نہیں گئے۔

ابھی تک ویسی کی ویسی ھی ھو۔۔۔۔۔

زیب نے ھنس کر کہا تھا۔۔۔

ویسے قسم خدا کی چیز تم۔بڑی مست ھو ۔۔

اتنی خوبصورت ۔۔۔۔

اتنی گوری پیاری۔۔۔

پڑھی لکھی سمجھ دار ۔۔۔

معراج میاں کی lottery لگ گئ تھی جو میں نے اس سے چھین لی ۔

زیب نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔۔

ویسے تمھیں دیکھ کر نا بندہ ویسی اپنا ھوش کھو بیٹھتا ھے۔

دیکھو مجھے۔۔۔۔مر رہا ھوں تمھیں چھونے کے لیے۔۔۔۔۔

زیب کی آنکھوں میں اب حیوانیت اتر آئ تھی۔۔۔۔۔

میں تم پر تھوک نا پھنیکو۔۔۔۔

دعا نے چلا کر کہا۔۔۔

تم جیسے مرد انتھائ زلیل اور بے غیرت ھوتے ھیں۔۔۔۔۔

تھو لعنت ھے تم پر لعنت۔۔۔

دعا نے بے بس ھوکر ۔۔۔۔۔۔کہا تھا۔۔۔۔

ہاہاہا۔۔۔تمھاری لعنت بھی منظور ھے بے بی۔۔

زیب اب دعا کے پاس چل کر آیا تھا۔۔۔۔

تم نے کب سے یہ حجاب اوڑھ رکھا ھے چلو اب ہمارے بیچ کیا پردہ اسکو میں اتار دیتا ھوں۔۔۔۔۔۔

دعا کو لگا تھا بس اس پل اس کے جسم سے جان چلی جائے گئ ۔۔۔۔۔

نہیں۔۔۔۔

میرے قریب مت آنا۔۔۔۔۔

دعا نے اپنے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی تھی۔۔۔

جانو۔۔۔اب میں ہی تمھارے پاس آوں گا۔۔

زیب نے اسکے حجاب کا کونا پکڑا تھا۔۔۔

اللہ پاک میری عزت کی حفاظت کر۔۔۔

مجھے ایسے رسوا مت کر میرے اللہ۔۔۔

دعا انے اتنی سی دیر میں اللہ سے لاکھوں دعائیں مانگ لی تھی ۔۔

ہزاروں بار معراج کو پکارا تھا۔۔۔۔

زیب دعا کا حجاب کھینچ نے ہی والا تھا کہ۔۔۔۔

گودام کے دروازے پر دستک ھوئ تھی۔۔

زیب نے ایک دم دعا کا حجاب چھوڑا تھا اور گیٹ کی طرف لپکا تھا۔۔۔۔

یا اللہ۔۔۔۔

میری مدد کر ۔۔۔

میری عزت کو بچا میرے مالک۔۔۔

مجھے میرے شوہر کے لیے پاک اور صاف رکھنا میرے اللہ۔۔۔پلیز۔۔۔۔۔

معراج کہاں ھیں اپ۔۔۔

اپکی دعا اپکو بلا رہی ھے۔۔۔۔۔

دعا نے بری طرح بلکتے ھوئے روتے روتے کہا۔۔۔

زیب نے چھپکے سے جھانک کر دیکھا تو باہر کافی اندھیر تھا کوئ نظر نآ ایا تھا۔۔۔

تو اس نے مجبورن آواز بدل کر پوچھا تھا۔۔۔۔

کون ھے ؟؟؟؟

زیب میں ہما ھوں دروازہ کھولو۔۔۔

باہر سے ہما کی آواز ائ تھی تو زیب تھوڑا نارمل ھوا تھا اور فورن دروازہ کھولا تھا۔۔۔۔

اور خود موڑ کر اندر کی طرف موڑا تھا۔۔۔

اتنی رات کو کیا موت پڑی تھی تمھیں آنے کی اچھا خاصا بنا شادی کا ہنی مون بنے والا تھا۔۔۔

زیب ھنستا ھوا بول رہا تھا۔۔۔اور اگے بڑھ رہا تھا۔۔۔

وہ سمجھا ہما اس کے پیچھے آرہی ھے۔۔۔۔

ہما کی کوئ آواز نا آنے پر زیب نے پلٹ کر دیکھا تو اسکی انکھیں پھٹی کی پھٹی رہے گئ۔۔۔۔

سانس رک گئ۔۔۔

دل کی ڈھڑکن تھم نے لگی۔۔۔۔

ڈر کے مارے ٹانگیں تھر تھر کانپ نے لگی تھی۔۔۔

سامنے ہما نہیں بلکے معراج کھڑا تھا جس کی انکھوں سے بس خون بہنے کی کمی تھی۔۔۔۔۔

زیب کو تو جیسے سانپ سنوگ گیا تھا۔۔۔

ہلق خوشک ھوگیا تھا۔۔۔

تو ؟؟؟

زیب کے منہ سے ابھی پورا ادا بھی نا ھوا تھا۔۔۔

کہ معراج نے تیزی سے اگے بڑھ کر پوری طاقت سے زیب کے منہ پر مکھا مارا تھا۔۔۔۔

اور ساتھ ہی تین چار تھپڑ بھی مارے تھے۔۔۔۔

زیب !!