Zid Junoon Ki Inteha By SA Khanzadi NovelR50423 Zid Junoon Ki Inteha Episode 2
No Download Link
Rate this Novel
Zid Junoon Ki Inteha Episode 2
Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi
دعا خاموشی سے کھوئ ھوئ کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔ٹھندی ٹھندی ھوا اس کو بہت اچھی لگتی تھی ۔۔۔
ٹھندی ھوا ،پورا چاند ،اور سمندر دعا کی کمزوری تھے۔۔
اور اج اتفاق سے یہ تینوں چیزیں تھی۔۔۔۔
عمیر نے کار چلاتے چلاتے میوزک پلیر آون کر دیا تھا۔۔۔۔
ہلکی آواز میں سریلا گانا بج رہا تھا اور دعا کھڑکی سے باہر چاند دیکھنے میں غرق تھی۔۔۔وہ جب بھی 14وی کا پورا چاند دیکھتی اس میں کھو سی جاتی۔۔۔۔
اور وہ یہ بات اج تک سمجھ نا پائ تھی۔۔۔۔
اس کو پیار محبت LOVE STORIES پر بلکل بھی یقین نہیں تھا لیکن جب جب وہ پورے چاند کو دیکھتی تو خاموشی سے بیٹھی اسی چاند کو دیکھتی رہتی۔۔۔۔۔۔
صیح کہا نا اپی ؟؟؟۔۔۔
۔دعا اپنے سوچوں میں گم تھی جب نمرہ نے اس سے پوچھا۔۔۔
کیا ؟؟؟
دعا نے بات نا سمجھتے ھوئے پوچھا۔۔
لیں امی دعا اپی نے سنا ھی نہیں۔۔۔۔
۔یہ چڑیل سوئ ھوئ تھئ نا۔۔۔اب کے عمیر نے دعا کو چھیڑا۔۔۔
اففف عمیر کے بچے۔۔۔۔۔دعا نے گاڑی چلاتے عمیر کے بال پکڑے…
اچھا آپی سوری نا۔۔۔۔
آحمد صاحب اور سمیرا بیگم اپنے بچوں کا ھنسی مزاق دیکھ کر خوش ھوئے۔۔۔۔۔
اللہ میرے بچوں کو ہمیشہ خوش رکھنا آحمد صاحب کے دل سے دعا نکلی۔۔۔۔۔
دعا اپنی ماں نمرہ اور عمر کے ساتھ پیچھے والی سیٹ پر بیٹھی تھی۔۔۔۔اور اپنی ماں سے اب باتوں میں لگی تھی۔۔۔۔
دعا اور اس کی تمام فیملی اج بہت خوش تھی۔۔۔۔اج دعا کے والدین یعنی احمد صاحب اور سمیرا بیگم کی شادی کی سالگرہ تھی۔م۔۔دعا ،نمرہ ۔،عمر ،عمیر نے اپنے والدین کے لیے سی ویو کے ایک حسین ھوٹل پر جو سہال کے بلکل کنارے پر تھا وہاں ایک شاندار Dinner arrange کروایا تھا جس کی Booking عمیر نے پہلے سے کروا دی تھی۔۔۔۔اور اب وہ لوگ اپ ھوٹل پر پھنچ چکے تھے۔۔۔۔
اوے عمیر !!
ٹیبل بک ھے نا ؟؟؟
دعا نے گاڑی سے اترتے ہی عمیر سے پوچھا ۔۔
ہاں اپی بک ھے اپ کی طرح تھوڑی ھوں۔۔
۔عمیر نے ہمیشہ کی طرح بہن کو چھیڑا۔۔۔۔
دعا نے ناک پھولا کر مسنوئ غصہ سے عمیر کو دیکھا۔۔۔تو عمیر ھنس دیا۔۔۔۔
وہ لوگ اگے پیچھے چلتے ھوٹل میں داخل ھوئے۔۔۔دعا اور سمیرا بیگم آہستہ چلتی آرہی تھی۔۔۔۔۔جب کے عمیر RECEPTION پر کھڑا تھا۔۔۔۔۔
کیا ھوا ؟؟؟
احمد صاحب نے اگے بڑھ کر پوچھا۔۔
کچھ نہیں پاپا میں دیکھتی ھوں اپ بیٹھیں ۔۔۔۔
دعا نے ماما بابا کو WAITING میں بیٹھایا اور خود عمیر کے پاس چلی گئ۔۔۔اس نے کبھی عمیر کو یہ حساس ھونے نا دیا تھا کہ اسکا کوئ بڑا بھائ نہیں ھے وہ ہمیشہ سے بہت بہادر رہی تھی۔۔۔۔اور احمد صاحب کا بیٹا بن کر دیکھایا تھا۔۔۔۔
کیا ھوا عمیر ؟؟؟
دعا نے عمیر کے پاس اکر پوچھا۔۔۔
آپی وہ ہماری TABLE پر کوئ بیٹھ گیا ھے جو ماما بابا کے لیے arrangements تھی وہ دوسری table پر نہیں ھونگی۔۔۔۔عمیر نے منہ بنا کر کہا۔۔۔۔۔۔۔
میں دیکھ رہا ھوں یہ کوئ طریقہ نہیں ھے۔۔۔۔عمیر نے غصہ سے کہا۔۔۔۔
نہیں رہنے دو عمیر اج کا دن خراب نا کرو کوئ بات نہیں کوئ بھی table لے لو ماما بابا جلدی کھانا کھاتے ھیں اور اب تو وقت بھی کافی ھوچکا۔۔۔۔۔
دعا نے reception پر کھڑی لڑکی کو دیکھ کر کہا۔۔۔۔
اپ کوئ بھی table دے دیں ہمیں۔۔۔۔
پر آپی ہماری ٹیبل پر کوئ اور ؟؟؟
عمیر واقعی بہت غصہ میں آگیا تھا۔۔۔۔
کوئ بات نہیں عمیر۔۔۔۔!!!
چھوڑو ھوتا ھے۔۔۔
دعا کافی سمجھدار اور صابر تھی۔۔۔۔
عمیر اپنی بہن کے اگے بولتا نہیں تھا اس لیے چپ ھو گیا۔۔۔۔۔
مینیجر نے لاکر ان کو ایک ٹیبل پر بیٹھا دیا تھا۔۔اور معضرت بھی کی تھی ۔۔۔۔weekend ھونے کی وجہ سے ھوٹل کافی پھرا ھوا تھا۔۔۔۔
اور جگہ نہیں تھی اس لیے ان کو مجبورن وہی بیٹھنا پڑا۔۔۔
دعا کی ٹیبل سے کچھ ہی فاصلے پر بہت تیز میوزک بج رہا تھا۔۔۔۔اور حد سے زیادہ شور اور ہنگامہ برپا تھا۔۔۔جسے کیسی DISCO میں ھوتا ھے۔اور میوزک کا شور اس قدر تھا کہ کانوں میں درد ھونے لگ جائے۔۔۔۔۔۔دعا اور عمیر دونوں کو کافی حیرت ھوئ تھی ۔۔۔وہ لوگ بہت دفاع یہاں ائے تھے یہ ایک فیملی ھوٹل تھا اور اج یہاں کچھ اور ہی حال تھا۔۔۔
وہ لوگ ٹیبل پر جا کر بیٹھے ھی تھے کے کچھ دیر بعد ویٹر کیک لے ایا تھا۔۔۔۔جس پر خوبصورتی سے
HAPPY ANNIVERSARY
MAMA BABA
لکھا ھوا تھا۔۔۔۔۔۔
ارے بچوں اس سب کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔احمد صاحب اور سمیرا بیگم نے کیک دیکھتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔
کیوں ضرورت نہیں تھی بابا۔۔۔۔۔
اج اس مبارک دن کی وجہ سے تو ہماری اتنی پیاری فیملی ھے ۔۔۔۔
دعا نے بہت پیار سے باپ کا ماتھا چومتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔آحمد صاحب کی جان بستی تھی اپنے بچوں میں خاص کر دعا میں۔۔۔
چلیں کیک کانٹیں ماما !!!
دعا سمیرا بیگم کے ہاتھ میں چھوری تھامتے ھوئے بولی۔۔۔۔سمیرا بیگم کی حالت دیکھ کر دعا سمجھ گئ تھی۔۔۔کہ حد سے زیادہ تیز میوزک کہ وجہ سے سمیرا بیگم پریشان ھو رہی ھیں۔۔۔۔
کیا ھوا امی ؟؟؟
اپ کو headache تو نہیں ھو رہا ؟؟؟
دعا نے ماں کے قریب ھوکر بولا۔۔۔۔
نہیں بیٹا کچھ نہیں ھو رہا۔۔۔۔سمیرا ابیگم نے مختصر سا جواب دیا۔۔۔۔وہ اپنے بچوں کی محنت پر پانی نہیں پھرنا چھاتی تھی جب کہ انکا سر اس وقت درد کی شدت سے پھٹ رہا تھا۔۔۔۔
ان کو maigrain کی شکایت تھی زیادہ شور ان سے برداشت نا ھوتا تھا۔۔۔اور یہاں کان کے پردے پھاڑ دینے والا شور تھا۔۔۔۔
اچھا چلیں امی اپ کیک کاٹیں۔۔۔۔
دعا نے آحمد صاحب اور سمیرا بیگم کو چھوری تھمائ۔۔۔۔
اور پھر ان کے چاروں بچے ایک آواز ھوکر بولے۔۔۔
happy anniversary
mama baba
اور ساتھ ھی احمد صاحب اور سمیرا بیگم نے کیک کاٹا۔۔۔اور چاروں بچوں نے تلیاں بجائ۔۔۔۔بچوں نے باری باری ماں باپ کو چوما اور سب نے ایک ساتھ سیلفی لے کر اس وقت کو یاد گار بنایا۔۔۔۔۔
لیکن سمیرا بیگم بہت چپ تھی۔۔۔۔وہ چھا کر بھی نہیں چھپا پا رہی تھی۔۔۔دعا نے ان کی شکل دیکھ کر اندازہ کر لیا تھا۔۔۔۔
اممم عمیر تم ایک کام کرو کھانے کا order دو !!!
میں بس ابھی اتی ھوں۔۔۔دعا جانتی تھی اگر وہ عمیر کو بولے گی تو عمیر ضرور بات لڑائ تک لے جائے گا وہ پہلے ہی اپنی booked ٹیبل نا ملنے پر تپا بیٹھا تھا۔۔۔۔
تم کہاں جارہی ھو آپی ؟؟؟؟
عمیر نے جاتی دعا کو دیکھ کر کہا۔۔۔۔بس آتی ھوں۔۔۔
نہیں روکو میں بھی چلاتا ھوں۔۔۔۔عمیر اپنی بہن کو اچھے سے جانتا تھا کہ وہ میوزک کی بات کرنے جا رہی ھے۔۔
میں نے کہا نا عمیر تم بیٹھو میں ابھی ائ۔۔۔
دعا بولت ساتھ ھی اپنے ہٹ سے اتر کر reception تک گئ ۔۔جاتے جاتے دعا نے اپنے برابر والے ہٹ پر نظر ڈالی جہاں سب بری طرح رکس میں مشغول تھے اور گانوں کا شور عروج پر تھا۔۔۔۔۔۔
excuse me !!!
دعا نے reception پر کھڑی لڑکی کو مخاطب کر کے کہا۔۔۔۔
yes mama may i help u ??
ریسپشن پر کھڑی لڑکی نے مسکرا کر پوچھا۔۔۔
جی وہ دراصل میری والدہ کو magiran کی شکایت ھے اور زیادہ شور ان سے برداشت نہیں ھوتا۔۔۔۔اور یہاں میوزک حد سے زیادہ loud ھے پلیز اپ اس کو کم کروا دیں۔۔۔۔یہاں اور بھی فیملیز موجود ھے جو اس شور سے پریشان ھو رہی ھیں۔۔۔
دعا نے بہت تمیز سے اپنی شکایت کی تھئ۔۔۔
وہ میڈم ہم ان سے کافی بار بول چکے ھیں لیکن وہ مینیجر کے خاص جاننے والے ھیں۔۔
اس لیے وہ ہماری بات نہیں سن رہے۔۔۔سوری میڈم!!! ہم خود مجبور ھیں ۔۔۔۔reception پر کھڑی لڑکی نے اپنی پریشانی ظاہر کی۔۔۔۔
لیکن یہ کوئ طریقہ تو نہیں ھے جس طرح میوزک لگا ھوا ھے۔۔۔
یہ ایک فیملی ھوٹل ھے ۔۔۔!!!
کیا ان لوگوں کو اتنی تمیز بھی نہیں۔۔۔۔۔ کہ!!!!
ابھی دعا کی بات پوری بھی نہیں ھوئ تھی کہ پیچھے سے کسی مرد کی آواز اس کے کانوں میں ائ جو بہت عجیب انداز میں بول رہا تھا۔۔۔۔
ہاں نہیں ھے تمیز میڈم !!!!!!
دعا کی پشت اس شخص کی طرف تھی۔۔۔۔دعا ایک دم پلٹی ۔۔۔تو وہ اس کے بلکل مقابل کھڑا تھا۔۔۔اور دونوں میں چند قدم کا ہی فاصلہ تھا۔۔۔۔۔۔
جی ؟؟؟؟
دعا نے حیرت سے کہا اور پھر ایک نظر اپنے مقابل کھڑے شخص پر ڈالی۔۔۔۔
پینٹ کی pockets میں ایک ہاتھ ڈالے اور ایک ہاتھ سے سگریٹ کا کش لگاتے اس نے پھر سے اپنا جملہ دوھرایا تھا۔۔۔
ہاں نہیں ھے تمیز ؟؟؟؟
میں اپ سے بات نہیں کر رہی ھوں !!! دعا نے کہا اور پھر reception کی طرف منہ موڑ نے ہی لگی تھی۔۔۔کہ اس شخص نے دوبارہ کہا۔۔۔
مگر میں اپ سے ہی بات کر رہا ھوں محترمہ۔۔۔۔
میں ہی وہ بدتمیز شخص ھوں !!!!
معراج نے ڈھٹائ کے سارے ریکاڈ توڑ ڈالے تھے۔۔۔۔
دعا پھر ایک دم موڑی۔۔۔۔۔اب کے معراج نے اس کو سر سے لے پیر تک عجیب انداز میں دیکھا تھا۔۔۔۔۔
کالے کلر کی لمبی فورک پہنی اور سر پر حجاب لی لڑکی سے وہ مخاطب ھوا تھا۔۔۔۔معراج کی زندگی میں بہت سی لڑکیاں ائ گئ تھی۔۔۔۔اور اس کی زندگی میں انے والی تمام لڑکیاں ضرورت سے زیادہ آزاد اور موڈرن تھی۔۔۔۔جن سے وہ ہر طرح کا مزاق کرتا تھا اور وہ ساری کی ساری لڑکیاں معراج پر لٹو تھی۔۔کچھ اس پر اور کچھ اس کی دولت پر۔۔۔۔ہر وقت معراج کے اگے پیچھے گھومتی تھی۔۔۔یہ ہی وجہ تھی جو معراج کو لڑکیوں سے بات کرنے کی بلکل بھی تمیز نا تھی۔۔۔۔۔۔اور ایک پردہ دار لڑکی سے کس طرح کی بات کرنی چاھیے یہ بھی اندازہ نا تھا۔۔۔
دیکھیں مسٹر !!!
اگر اپ ہی وہ شخص ھیں تو پلیز music sound تھوڑا کم کروا دیں۔۔۔میری والدہ کو magiran کا problem ھے۔۔۔۔۔دعا نے اپنے غصہ پر بہت مشکل سے قابو پاتے ھوئے اپنی بات کی تھی۔۔۔
تو ؟؟؟؟
یہ اپ کی والدہ کا مصلہ ھے میرا نہیں محترمہ۔۔۔۔۔!!!
معراج نے بہت بےروخی سے کہا۔۔۔۔اور پھر زاضا کو دیکھ کر بولا اگر اتنا ھی مصلہ ھے سر کے درد کا تو گھر بیٹھنا چھائے نا۔۔۔۔
یہ بات سن کر دعا کو اپنا غصہ قابو میں رکھنا مشکل ھوگیا ۔۔۔لیکن پھر بھی وہ یہاں کوئ بدمزگی نہیں چاھتی تھی اس لیے آرام سے بولی۔۔۔
look mr !!!
stay in ur limits….
i dnt want create any dramatic sean here….so plz kindly its my request….slow down the music ……this is family resturant…..
اہ اہ۔۔۔وہاں کیا انگلش بولتی ھیں۔۔معراج نے دعا کا مزاق اڑیا۔۔۔۔۔اور پھر فورن بولا۔۔
سوری میوزک سلو نہیں ھوگا۔۔۔۔۔۔
اور ویسے بھی اپ کی والدہ کو اگر یہ مصلہ تھا تو ان کو نہیں انا چھائے تھا۔۔۔میوزک تو کم نہیں ھوگا۔۔۔ اور !!!
معراج نے اپنی پوری بات مکمل بھی نا کی تھی کہ دعا ایک دم بول پڑی۔۔۔۔
میرے خیال سے اپ ایک اتہائ خود سر اور ضدی انسان ھیں۔۔۔جن کو زارہ سی تمیز نہیں ھے کہ لڑکیوں سے کس طرح سے بات کی جاتی ھے۔۔۔۔اور بڑوں کی عزت کیا ھوتی ھے۔۔۔!!! میرے خیال سے اپ اپنی والدہ سے بھی ایسے ھی بات کرتے ھونگے۔۔۔۔۔
دعا نے تمیز سے معراج کو سنائ تھی۔۔۔
oh hello miss hijaban
مجھے نا تمیز سکھاو ائ سمجھ ۔۔تم لڑکیاں تو بھانا دھوندتی ھو بات کرنے کا۔۔۔۔معراج نے بہت تلخ لہجے میں کہا۔۔۔۔۔
معراج کو کوئ اتنا بول جائے یہ اس کو برداشت نا تھا۔۔۔۔
میرے خیال سے اپ کو حد سے زیادہ غلط فہمی ھے
مسٹر شو اف۔۔۔۔!!!!
جتنا پیسہ اپنے خود پر لگایا ھے نا اگر اتنا پیسہ اپ اپنی تعلیم پر لگا دیتے تو اج اچھے خاصے انسان ھوتے ۔صرف مہنگے کپڑے یا مھنگے ھولیے سے ھی انسان ظاہر نہیں ھوتا اخلاق نا ھو تو یہ سب بے کار ھے۔۔۔۔۔۔
اور جہاں تک بات اپ سے بات کرنے کا موقع دھونڈ نے کی ھے ۔۔۔
تو جناب !!!!
مجھ جیسی لڑکیاں اپ جیسے لڑکوں سے بات کرنا تو دور دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی۔۔۔۔یہ سراسر اپ کی غلط فہمی ھے کہ لڑکیاں اپ سے بات کرنے کا موقع دوندھتی ھیں۔۔!!!!!
معراج کچھ بولتا اس سے پہلے دعا بول کر تیزی سے نکل گئ۔۔۔۔۔۔
معراج کا غصہ سے برا حال تھا۔۔۔پہلی بار کسی لڑکی نے اس سے اس طرح بات کی تھی اور پہلی بار کوئ لڑکی اس کی شخصیت سے متاثر نا ھوئ تھی۔۔۔۔
وہ غصہ سے جاتی دعا کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
جو دیکھتے دیکھتے اس کی انکھوں سے اوجل ھوگئ تھی۔۔۔
معراج چھوڑ دفاع کر پاڑی میں چلتے ھیں !!! زاضا اگے بڑھنے لگا تو معراج نے ایک ہاتھ سے اشارہ کر کے کہا
نہیں !!!!
اور تیزی سے ھوٹل سے بہار نکل گیا۔۔۔۔۔
معراج جہانگیر کا سوچ سوچ کے برا حال ھو رہا تھا۔۔۔۔۔اس لڑکی کی اتنی ہمت کے مجھ سے ایسے بات کر لے۔۔۔۔۔۔ معراج نے زور سے اپنے کار کے ھینڈل پر ہاتھ مارا۔۔۔
اف اس لڑکی کی اتنی ہمت کہ معراج کو بول کر نکل جائے۔۔۔۔۔۔
وہ دعا کے پیچھے اس لیے نہیں گیا کیونکہ اس کو کسی کے پیچھے جانے کی عادت نا تھی اور نا وہ اس وقت اپنے ھوش میں تھا کہ جاکر اس لڑکی سے لڑتا وہ اس وقت ویڈ کے حد سے زیادہ نشے میں تھا۔۔۔۔۔
وہ کھالی روڈ پر جہاز سے بھی زیادہ تیز اپنے گاڑی ڈوڑا رہا تھا۔۔۔اور ایک کے بعد ایک سگرٹ سلگا کر لمبے لمبے کش بھرنے لگا۔۔۔۔۔اور بار بار اس لڑکی کے منہ سے ادا ھونے والے الفاظ کو یاد کرنےلگا۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
کیا ھوا اپی کہاں گئ تھی ؟؟؟
عمیر نے دعا کے لال چہرے کو دیکھتے ھوئے کہا۔۔۔۔
کہی نہیں وش روم گئ تھی ۔۔۔دعا نے اپنے اپ کو نارمل پیش کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔کیا بات ھے اپی ؟؟؟
عمیر نے پھر زور دیا۔۔۔
اف کچھ نہیں عمیر چلو کھانا کھاو ٹھندا ھورہا ھے۔۔۔۔۔
دعا کی اپنی ٹیبل پر واپس انے کے چند منٹ بعد میوزک بند ھوگیا تھا۔۔۔۔۔
اللہ کا شکر یہ شور ختم ھوا۔۔۔۔سمیرا بیگم سے دل سے اور زبان سے ایک دم نکلا تھا۔۔۔۔
ان لوگوں نے کھانا کھایا اور واپس گھر اگئے۔۔۔۔رات کافی ھوچکی تھی اس لیے سب اپنے اپنے کمروں میں جلدی چلے گئے تھے۔۔۔۔
نمرہ اور دعا کا ایک کمرہ تھا۔۔۔۔۔۔نمرہ تو اتے ھی چینج کر کے سوگئ تھی۔۔۔۔جبکہ دعا چینج کر کے اپنے ٹیریس میں اگئ تھی۔۔۔۔۔
چاند اپنی ساری چمک کے ساتھ بہت زیادہ روشن ھو رہا تھا۔۔۔۔۔۔ہر طرف اندھیرا تھا اور پورے چاند کی روشنی نے آسمان کو چمکا رکھا تھا۔۔۔۔
دعا ٹیریس میں کرسی رکھ کر بیٹھ گئ اور انکھیں بند کر کے ایک لمبی سانس لی۔۔۔۔ساتھ ھی ٹھنڈی ھوا کے جھونکے نے دعا کو چھوا تھا۔۔۔۔۔۔
انکھیں بند کر کے اس سے سر کرسی کی پشت سے ٹکا دیا اور پھر انکھیں موندے موندے سوچنے لگی۔۔۔۔۔
اف میرے اللہ کیا ایسے بد لحاظ لوگ بھی ھوتے ھیں۔۔۔۔جن کو کسی کی پرواہ نا ھو جو انتھا سے زیادہ روڈ ھوں۔۔۔۔۔۔دعا اج معراج کے ساتھ ھونے والے واقعی کے بارے میں سوچ رہی تھی۔۔۔۔
انسان میں تھوڑی تمیز ھوتی ھے بات کرنے کی لیکن
وہ شخص تو !!!!
افففف۔۔۔۔۔۔
دعا نے جھنجلا کر انکھیں کھول دی اور اٹھ کر اپنی جگہ پر اکر لیٹ کر سونے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آدھی رات کو بری طرح وہ کار کا ہارن بجا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
گاڈ بھگتا ھوا آیا اور فورن دوروازہ کھول دیا۔۔۔۔وہ اپنی کار لے کر تیزی سے اندر داخل ھوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر کار سے اتر کر گاڈ کی طرف موڑا
کہاں تھے تم ؟؟؟؟
معراج کی انکھیں حد سے زیادہ لال ھو رہی تھی۔۔۔۔
گاڈ کو بھی اپنی خیریت نا لگی۔۔۔
وہ مم سر وہ مم !!!
گاڈ معراج کے غضہ سے واقف تھا اس لیے گھبرا گیا۔۔۔۔
کیا ممم ؟؟؟؟؟
ہاں ؟؟؟؟؟
ادھے گھنٹے سے کھڑا ھوں نا میں ؟؟؟؟
تم لوگ ایسے ھی ھوتے ھو ۔۔۔۔۔
ایک نمبر کے کام چور ۔۔۔۔۔۔۔
کل سے کام پر انے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔۔
سر !!!
گاڈ اگے بڑھنے ہی لگا تھا کہ معراج نے ہاتھ ک اشارے سے روک دیا۔۔۔۔
بس !!!!!!
ایک بار بول دیا نا !!!
معراج نے گھور کر گاڈ کو دیکھا اور پھر اپنے قدم اپنے حسین اور علیشان محلے کی طرف بڑھا دیے۔۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
راجہ جہانگیر ایک بہت جانی مانی سیاسی شخصت اور ایک بہت مشہور بزنس مین بھی تھے۔۔ان کا پورے کراچی پر راج تھا۔۔۔اور ایک ایک شخص راجہ جہانگیر سے اچھے سے واقف تھا۔۔۔۔۔راجہ جہانگیر کے 3 بیٹے تھے۔۔
بلاج،دلاور اور معراج ۔۔ بلاج خیر سے شادی شادہ تھا اور اپنی فیملی کے ساتھ england ھوتا تھا جب کہ دلاور معراج سے چار سال بڑا تھا۔۔۔ دونوں بھائ معراج سے خاصے مختلیف مزاج کے مالک تھا۔۔۔۔
معراج !!! راجہ جہانگیر کا سب سے چھوٹا اور لادلہ بیٹا تھا۔۔۔معراج جب سے اس دینا میں ایا تھا تب سے اس کی ہر ایک خواہش پوری کی گئ تھی۔وہ حد سے زیادہ ضدی تھا۔۔۔ جس چیز پر ہاتھ رکھتا وہ چیز اس کے قدموں میں ھوتی۔۔۔۔۔اور یہ ہی وجہ تھی جو وہ حد سے زیادہ خودسر اور ضدی بن چکا تھا۔۔۔۔۔وہ کسی کو خاطر میں نا لاتا تھا۔۔۔۔جب ضرورت سے زیادہ لاڈ مل جایئں تو بھی انسان ایسا بن جاتا ھے۔۔۔۔۔تبھی آللہ نے ہر چیز کو اعتدال میں رکھنے کا حکم دیا ھے۔۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ بہت گھیری !!!
