Zid Junoon Ki Inteha By SA Khanzadi NovelR50423 Zid Junoon Ki Inteha Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
Zid Junoon Ki Inteha Episode 12
Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi
دعا جب نیچھے ائ تو اس پر حیرانی کا پہاڑ ٹوٹا تھا۔۔۔۔۔۔۔ کیوں کہ اس کے ابو کے ساتھ ہما بیٹھی تھی اور دعا کو اندازہ بھی نا تھا کہ ہما اس وقت کیا کرنے آئ ھے۔۔۔۔
دعا سمیت سیرت بھی کافی حیران ھوئ تھی کہ ہما دعا کے ابو کے ساتھ کیوم بیٹھی ھے۔۔۔۔؟؟؟
دعا !!!!
احمد صاحب نے دعا کو مخاطب کر کے کہا۔۔۔
ہما بیٹی ہمارے سامنے تم سے کچھ بات کرنا چھاتی ھے۔۔۔۔۔۔۔
دعا سمجھ چکی تھی کہ ہما کیا بولنے ائ ھے اس لیے فورن بولی چلو ہما میرے کمرے میں چلتے ھیں۔۔۔۔۔۔
کیوں ؟؟؟؟؟؟؟؟
ہما نے ایک دم سے عجیب انداز میں کہا ؟؟؟
اب شرم آرہی ھے ؟؟؟؟
دعا ؟؟؟؟؟؟
اب تمھیں شرم آرہی ھے ؟؟؟؟؟؟
بولو ؟؟
ہما کا یہ انداز دعا سیرت نمرہ تینوں ھی حیرت کے شدید شوک میں تھی۔۔۔۔
تمھیں تب شرم نا آئ جب تم نے ایک لڑکے کو پھسایا ؟؟؟؟؟؟
ہما کی باتوں میں دعا کے لیے جلن تھی۔۔۔۔
ہما ؟؟؟؟؟؟
دعا نے پھٹی نگاھوں سے ہما کو دیکھا۔۔۔۔
کیا ہما ؟؟؟؟
احمد انکل اپکی یہ بیٹی جو پارسا بنی گھومتی تھی در حقیقت یہ اس کی اصلیت ھے۔۔۔۔
معراج کو اس نے میری بہن کی شادی میں پھسایا تھا۔۔۔۔۔
احمد صاحب کے لیے ہما کے یہ الفاظ انتھا سے زیادہ تکلیف دے تھے۔۔۔۔
نہیں تو معراج جیسا امیر تیرین انسان اس پر نگاہ تک نہیں ڈالتا شادی تو دور کی بات ھے۔۔۔۔۔۔۔
کیا یہ ہی سب سکھایا ھے اپنے ؟؟؟؟؟؟
کہ امیر گھر کہ لڑکے پھساو ؟؟؟؟
دعا کو لگا اسی وقت زمین پھٹے گی اور وہ اس نے دھس جائے گی۔۔۔۔
ہما خدا کا واسطہ ھے چپ ھو جاو۔۔۔۔
سیرت نے ہما کو چپ کروانا چھا۔۔۔۔
ارے یہ ایسی لڑکی ھے جس نے اپنی دوست کی پسند کا خیال تک نہیں کیا اور اپنی عادوں !!!!!!
ہما کچھ بولتی اس سے پہلے کسی نے کہا۔۔۔۔
اگر ایک لفظ منہ سے اور نکالا تو حلق سے زبان کھینچ لوں گا تمھاری۔۔۔۔۔
عمیر نے اگے بڑھ کر ہما کو کہا تھا۔۔۔۔
جتنی تم پرسا ھو جانتا ھوں میں۔۔۔۔۔
اور ابو اپ ؟؟؟؟؟؟؟
عمیر نے حیرت سے باپ کو دیکھا
اپ اپی پر یہ سب الازم لگنے دے رہے ھیں۔۔۔
یہ اسی قابل ھے۔۔۔۔۔
احمد صاحب اتنا کہہ کر تیزی سے اپنے آنسو چھپاتے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔
دعا بلکل ساختہ کھڑی تھی جن باتوں سے وہ ہمیشہ دور رہنا چھاتی تھی اج وہی باتیں اسکا مقدر بن چکی تھی۔۔۔۔۔
تمھاری بہن بھی کوئ پرسا نہیں ھے۔۔۔۔۔
ہما تقریبن چلائ تھی۔۔۔۔
بس ہما باجی دعا آپی کے بارے میں ایک لفظ اور نا بولئے گا۔۔۔۔اب
کے نمرہ نے اگے بڑھ کر کہا تھا۔۔۔۔۔
تمھاری بہن سے میرا حق چھنا ھے۔۔۔۔
تمھارا حق ؟؟؟؟؟
عمیر نے ھنس کر کہا ؟؟؟
تمھارا حق ؟؟؟؟
تم میں اگر اتنا کچھ ھوتا تو اج میری بہن کی جگہ وہ تم سے شادی کررہا ھوتا۔۔۔۔۔۔۔۔
عمیر تم ؟؟؟
ہما نے جل کر کہا۔۔۔
بس ہما باجی۔۔۔۔
بھتر ھوگا کہ اپ یہاں سے چلی جائیں۔۔۔۔۔
پھر نمرہ نے ہما کا ہاتھ تھام کر اسکو باہر کی طرف لائ تھی۔۔۔
ہماری آپی کی زات پر کوئ بھی الزام لگانے سے پہلے ایک بار اپنے اس گربان میں جھانک لیجے گا۔۔۔۔
چلی جائیں یہاں سے !!!!!!
ہما نمرہ کی بات سن کر تلملا اٹھی تھی اور پھر فورن گاڑی میں بیٹھ کر چلی گئ تھی۔۔۔۔۔۔۔
دعا !!!!!!!
سیرت نے اگے بڑھ کر دعا کو ہلایا تو دعا گم سی نگاہوں سے ہما کو دیکھتی دیکھتی ایک دم زمین پر گیر پڑی۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ہاں میں بھی اب تک اس لڑکی سے نہیں ملی پتا نہیں کون ھے ؟؟؟؟؟
بریرہ بیگم نے سجل کو دیکھتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔
ویسے کتنی حیرت کی بات ھے نا ماما کل تک معراج شادی سے دور بھاگ رہا تھا اور اب ایک دم دعا کے لیے شادی پر خود مان گیا کیا یہ عجیب بات نہیں ؟؟؟؟؟
سجل نے اپنی چال چلنا شروع کر دی تھی۔۔۔۔۔۔۔
ہاں بات تو عجیب ھے سجل۔۔۔۔۔بریرہ بیگم نے کہا۔۔۔۔۔
ویسی ماما میں تو سوچ رہی تھی کہ معراج اور ہما کی اچھی بات چیت ھوگئ ھے۔۔۔۔تو کچھ عرصہ بات شادی بھی کر لیے گے اور پھر معراج کو ہما پسند بھی کرتی ھے۔۔۔۔۔۔ کیوں نا اپ ابو سے بات کر کے ہما کے لیے انکو !!!!!
دوبارہ یہ بات میں نا سنو۔۔۔۔۔۔
معراج کی سخت آواز سے ایک دم سجل گھبرا گئ تھی۔۔۔۔۔
معراج صبح اٹھ کر کمرے سے باہر نکلا تو سجل اور بریرہ سامنے صوفے پر بیٹھی باتیں کر رہی تھی۔۔۔۔۔
وہ معراج میں ؟؟؟؟؟
بریرہ بیگم کچھ بولنے لگی تو معراج ایک دم بول پڑا۔۔۔۔
اپ تو کچھ نا بولیں۔۔۔۔۔
مسزز جہانگیر۔۔۔۔
اور سجل بھابی میرے معمالات میں کوئ داخل اندازی کرے یہ مجھے پسند نہیں ھے۔۔۔۔۔۔
اپ نئی ھیں اس لیے سمجھا رہا ھوں۔۔۔۔۔
اور اپ کی بہن سے شادی تو دور اسکا نام میں اپنے ساتھ لینا پسند نہیں کرتا۔۔۔۔۔۔
اور جہان تک بات میری ھونے والی بیوی کی ھے تو اس سے اپ لوگ شادی کی تقریب میں مل لیجے گا۔۔۔۔۔۔۔
اور ان دوبارہ کبھی میں اپ دونوں کے منہ سے اپنے یا اپنے ھونے والے بیوی کے متعلق کچھ نا سنو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ میری زندگی ھے اور میری زندگی سے دور رہے ۔۔۔۔۔۔
معراج نے سجل کا کوئ لحاظ کیے بغیر صاف صاف کہا تھا۔۔۔۔۔
پر معراج !!!! بس بھابی۔۔۔۔۔سجل نے کچھ بولنا چھا تو معراج نے چپ کروا دیا۔۔۔۔۔
اور ہاں مسزز بریرہ میری شادی میں کسی چیز کی کمی نہیں رہنئ چھائے میری بیوی کے لیے۔۔۔۔۔۔
ایک سے ایک مہنگا dresses ھونا چھائے دعا کے لیے۔۔۔۔۔۔
آخر راجہ معراج کی ھونے والی بیوی ھے۔۔۔
معراج نے سجل کو اور اگ لگانے کے لیے کہا اور پھر مسکراتا ھوا باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔
سجل منہ کی کھا کر چپ ھوگئ تھی۔۔۔۔۔
اور بریرہ بیگم بے بس سی کھڑی تھی۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
دعا کی طبعیت اب کافی بہتر تھی اور اج دو دن بعد اسکا بخار کچھ ٹوٹا تھا۔۔۔۔
دعا ابھی نیند میں تھی۔۔۔۔جب اسکا فون مسلسل بج رہا تھا۔۔۔۔۔
اس نے نیند کی گوندوگی میں فون اٹھایا تھا۔۔۔۔
ہیلو ؟؟؟
دعا نے نیند میں بھری آواز سے کہا۔۔۔۔
دعا خان اب تک سو رہی ھے ؟؟؟؟
یہ آواز سن کر دعا کی انکھیں ایک دم کھول گئ تھیں۔۔۔۔
اس نے موبئل کان سے ہٹا کر موبئل پر چمکتا نمبر دیکھا تھا۔۔۔۔۔
میں تمھارے گھر آرہا ھوں اور ہم ساتھ شادی کی shopping کرنے جارہے ھیں۔۔۔
آدھے گھنٹے تک تیار رہنا۔۔۔۔۔۔
میں نہیں چھتا میری شادی میں کسی بھی چیز میں کوئ کمی رہے۔۔۔۔۔۔
مجھے تمھارے ساتھ کہی نہیں جانا سنا تم نے ۔۔۔۔۔۔
دعا نے سخت لحجے میں کہا۔۔۔۔
جانا تو تمھیں پڑے گا۔۔۔۔۔نا سنے کی مجھے عادت نہیں ھے۔۔۔۔۔
لیکن ہمارے یہاں یہ سب نہیں ھوتا آخر کیوں کر رہے ھو تم یہ سب ؟؟؟؟
دعا کی آواز میں ایک بار پھر نمی اگئ تھی۔۔۔۔
میری بات سنو ۔۔۔۔تم سے میری شادی ھونے والی ھے اور مجھے کسی کی بھی پرمیشن کی ضرورت نہیں ھے۔۔۔۔۔۔اور ویسے بھی مجھے جو کرنا ھوتا ھے وہ میں کرتا ھوں اپنی مرضی سے۔۔۔۔۔کسی سے پوچھتا نہیں۔۔۔۔۔
میں آرہا ھوں تمھیں لینے ۔۔۔۔معراج اپنی ضد پر قائم تھا۔۔۔۔۔
میں تمھارے ساتھ کہی نہیں جاوں گی۔۔۔۔دعا میں بھی ضد کم نہیں تھی۔۔۔۔
ٹھیک ھے میں بھی دیکھتا ھوں تم shopping پر میرے ساتھ کیسے نہیں جاتی۔۔۔۔۔۔۔
ہاں جو کرنا ھے کرلو میں نہیں جاوں گی۔۔۔۔۔
اس سے پہلے معراج کچھ بولتا ۔۔۔۔۔دعا نے کال بند کر دی تھی۔۔۔۔اب کہ دعا نے اپنی بات کر کہ فون کاٹا تھا۔۔۔۔۔
پہلی بار اسکو اس کے جیسی کوئ چیز ٹکرائ تھی۔۔۔۔۔
معراج نے زور سے گاڑی کے اسٹیرینگ پر ہاتھ مارا تھا۔۔۔۔۔۔۔
پھر گاڑی اسٹاٹ کر کے روڈ پر ناکل لی تھی۔۔
☆☆☆☆
دعا ؟؟؟؟
دعا ؟؟؟؟؟
سمیرا بیگم دعا کے کمرے میں داخل ھوئ تھیں۔۔۔۔
جی امی ؟؟؟
تمھیں معراج لینے آرہا ھے شادی کی shopping کے لیے جاوں جاکر تیار ھو۔۔۔۔
دعا سمیرا بیگم کہ منہ سے یہ بات سن کر حیران ھوئ تھی۔۔۔۔۔
مجھے کہی نہیں جانا۔۔۔۔امی میری طبیعت نہیں ٹھیک۔۔۔۔۔
دیکھو دعا۔۔۔۔
جو کچھ تم نے کرنا تھا تم کر چکی اب یہ سب کر کے کیا دیکھنا چھاتی ھو ؟؟
سمیرا بیگم نے تلخ لہجے میں کہا۔۔۔
امی جان کیا ھوگیا ھے آپ کو ؟؟؟؟
مجھے کچھ نہیں ھوا یہ راستہ تم نے اپنے لیے خود چنا ھے دعا۔۔۔۔۔
تمھارے ابو اور میں تمھیں اس گھر سے عزت سے رخصت کرنا چھاتے ھیں۔۔۔۔اب میں تمھارے سامنے ہاتھ جوڑتی ھوں شادی سے پہلے کوئ تماشہ نا بنانا تمھارے ھونے والے سسرال میں رسم ھے کہ شادی کا جوڑا لڑکا لڑکی جاکر ساتھ پسند کرتے ھیں۔۔۔۔۔۔۔
اب اٹھو اور تیا ھو جا کر۔۔۔۔۔۔۔۔
سمیرا بیگم کہہ کر کمرے سے نکل گئ تو دعا تھام کر بیٹھ گئ۔۔۔۔
یا اللہ یہ کس جگہ پھس گئ ھوں میں۔۔۔۔۔
کس قدر ضدی شخص ھے یہ اپنی ضد کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا ھے یہ۔۔۔۔۔۔۔
دعا نے دل میں سوچا پھر بےدلی سے جاکر الماری سے ایک سدھا سی کرتی نکال کر باتھ روم میں گھس گئ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
معراج اج پہلی بار خود دعا کے گھر آیا تھا۔۔۔۔۔۔
بیل بجانے کے دو منٹ بعد ھی عمیر نے اکر دروزہ کھول دیا تھا۔۔۔۔
اور بہت پیار اور عزت سے لاکر معراج کو ڈارئینگ روم میں بیٹھایا تھا۔۔۔ویسے معراج انجان لوگوں سے کم ھی ملتا جھلتا تھا۔۔۔۔۔لیکن عمیر ان لوگوں میں سے تھا جو معراج کو پسند جلدی پسند آتے تھے۔۔۔۔۔
معراج بھائ آپ بیٹھیں میں دعا آپی کو بلا کر لاتا ھوں۔۔۔۔عمیر نے معراج کو صوفے پر بیٹھنے کے بعد کہا۔۔۔۔
معراج کو آج پہلی بار کسی نے اتنے پیار سے بھائ کہا تھا۔۔۔۔۔
اگر اس کو اچھا نہیں لگا تھا تو اس کو برا بھی نہیں لگا تھا۔۔۔۔۔۔۔
معراج خاموشی سے صوفے پر بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اور عمیر اندر کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔۔۔۔۔
ابھی معراج بیٹھا موبئل میں لگا تھا جب اسکو محسوس ھوا کے سامنے والے صوفے پر بیٹھا کوئ دیکھ رہا ھے۔۔۔۔معراج نے نظر آٹھا کر دیکھا تو عمر سامنے والے صوفے پر بیٹھا معراج کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔۔۔۔۔
معراج نے بھی اسکو مسکرا کر دیکھا۔۔۔۔۔
کیسے ھو ؟؟؟
چیمپ ؟؟؟؟؟
معراج نے موبئل ایک طرف رکھ کر پوچھا۔۔۔۔۔۔
میں ٹھیک ھوں بھائ۔۔۔۔۔۔۔
عمر نے جواب دیا اور بہت پیار سے اکر معراج کے پاس بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
آپ کو پتا ھے میں اپ کو بہت پسند کرتا ھوں۔۔۔
عمر نے اپنی تمام تر معصومیت سے کہا ۔۔۔۔۔۔
معراج کو اس لڑکے میں دلچسپی پیدا ھوئ۔۔۔۔
اچھا کیسے ؟؟؟؟؟
میں شروع سے اپ کی بائیک اور کارس کو بہت پسند کرتا ھوں۔۔۔۔۔اپ کے پاس 5 بئک اور 3 مختلیف کارس ھیں نا۔۔۔۔
معراج نے ھنس کر عمر کو دیکھا جو اس کی collection کا زکر کر رہا تھا۔۔۔۔
افففف عمر کیوں تنگ کر رہے ھو تم دلہا بھائ کو ؟؟؟؟
نمرہ نے drawing room میں داخل ھوتے ھوئے کہا ۔۔۔۔
معراج نے نظر اٹھا کر اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھا تھا جس میں کافی حد تک دعا کی شوات تھی۔۔۔۔۔
نمرہ کے پیچھے پیچھے مرے قدم سے چلتی ھوئ سمیرا بیگم بھئ اندر داخل ھوئ تھیں۔۔۔۔۔
معراج نے سمیرا بیگم کو دیکھ کر بھی سلام نہیں کیا۔۔۔اور نا ھی وہ کھڑا ھو۔۔۔۔وہ یہ سب چیزیں کہاں جانتا تھا۔۔۔۔۔
میں اپ کا تعارف کراتی ھوں
میں نمرہ ھوں
آپی کی بہن ۔۔۔۔۔نمرہ نے معصومیت سے کہا تو معراج نے دلچسپی سے سنا شروع کیا۔۔۔۔
اور یہ میری امی اور آپ کی ھونے والی ساس ھیں ۔۔۔۔۔نمرہ نے سمیرا بیگم کی طرف اشارہ کر کے کہا۔۔۔۔
معراج نے مسکرا کر انکو دیکھا۔۔۔۔۔
اور یہ عمر ھے دعا آپی کا لاڈلہ بھائ۔۔۔اور میں عمیر ھوں !!!!
عمیر نے drawing room داخل ھوتے ھوئے مسکرا کر کہا۔۔۔۔
معراج یہاں uncomfertable نہیں تھا۔۔۔۔۔۔
اس کو یہ لوگ کچھ اچھے لگے تھے۔۔۔۔سدھا سے محبت والے۔۔۔۔لوگ۔۔۔۔۔۔۔
بیٹا !!!!!
سمیرا بیگم نے جب معراج کو بیٹا کہا تو معراج نے ایک دم نظر آٹھا کر دیکھا۔۔۔۔۔
اس کو سمیرا بیگم کی آواز میں اپنائیت سی محسوس ھوئ۔۔۔۔۔
اپ کچھ لیجے نا !!!! سمیرا بیگم نے عزت سے معراج کے سامنے پڑی چیزوں کی طرف اشارہ کیا تھا۔۔۔۔۔
no thanks !!!
معراج بس اتنا ھی بول پایا۔۔۔۔۔
معراج کو زادہ بولنے کی ضرورت محسوس نہیں ھو رہی تھی۔۔۔۔
عمیر ،عمر اور نمرہ تینوں مل کر اسکو کافی انجوئے کر رہے تھے۔۔۔۔
تینوں کی باتوں سے معراج ناجانے کیوں لطف اٹھا رہا تھا۔۔۔۔۔
تھوڑی ہی دیر بعد دعا کمرے میں داخل ھوئ۔۔۔۔۔
سادی سی لال کلر کی کرتی پر سفید اور کالا حجاب لی وہ بے حد پیاری لگ رہی تھی۔۔۔۔۔
دعا نے ایک نظر معراج کی طرف نا ڈالی تھی۔۔۔۔
اب میں چلتا ھوں۔۔۔۔۔
معراج نے اٹھ کر کہا تو سب اس کے ساتھ کھڑے ھوئے۔۔۔۔۔
معراج کو ان سب سے مل کر بہت خوشی محسوس ھوئ تھی لیکن وہ ظاہر نہیں کرنا چھا رہا تھا۔۔۔۔۔
دعا بھی اس کے ساتھ کھڑی ھوئ۔اور گے بڑھنے ھی لگی تھی کہ اس نے جان کر اپنے ہاتھ میں پکڑا کانچ کا گلاس اپنے پاوں پر گیرا لیا تھا۔۔۔
کانچ ٹوٹنے کی آواز پر سب نے پیچھے مڑ کر دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔سب کا دھیان معراج پر تھا اس لیے دعا کہ یہ حرکت کسی نے نا دیکھی تھی۔۔۔۔۔
اففففف !!!!!
دعا کے پاوں سے بہت تیزی سے خون بھہ رہا تھا۔۔۔۔
اھو آپی ؟؟؟؟
عمیر نے اگے بڑھ کر دعا کے پاوں سے کانچ نکالی تھی۔۔۔۔۔
دعا کا خون دیکھ کر معراج کو عجیب سا محسوس ھو رہا تھا۔۔۔
معراج بھی تھوڑا اگے بڑھا تھا لیکن پھر فورن ھی اپنے قدم پیچھے کر لیے تھے………..
پتا نہیں کیسے گیر گیا شائید میرے ڈوپٹے سے اٹک کر گیر گیا ھے۔۔۔۔۔
دعا نے درد بھری آواز میں کہا تو معراج کو اس لڑکی پر حد سے زیادہ غصہ آیا۔۔۔۔۔
عمیر جاو اسکو ڈاکٹر کے پاس لے جاو۔۔۔
سمیرا بیگم نے گھبرا کر کہا۔۔۔۔۔
ہاں میں گاڑی کے کر آتا ھوں ابو کی shop سے۔۔۔۔
ایک کام کرو عمیر میری گاڑی باہر ھے اس میں چلو !!!! خون کافی بھہ چکا ھے۔۔۔۔
معراج کے منہ سے بےساختہ نکلا تھا۔۔۔۔
نہیں مجھے ڈاکٹر کے پاس نہیں جانا۔۔۔۔دعا ایک دم معراج کی اس بات پر بولی۔۔۔۔
تم چپ کرو آپی عمیر نے دعا کو سہرا دے کر اٹھایا اور معراج کے ساتھ ساتھ باہر اکر دعا کو معراج کی گاڑی میں بیٹھایا۔۔۔۔۔اور خود فرونٹ سیٹ پر اکر معراج کے ساتھ بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
تھوڑے ہی فاصلے پر hospital تھا۔۔۔۔
عمیر نے دعا کو نکلا اور دعا کو سہرا دے کر اندر emergency تک لایا۔۔۔۔۔معراج بھی ان کے ساتھ اتر کر اگیا تھا۔۔۔۔
اھو میں پتا کرتا ھوں میرے خیال سے emergency فل ھے۔۔۔۔۔عمیر نے دعا کو ایک کونے میں کھڑا کر کے کہا۔۔۔۔۔بیٹھنے کی جگہ نا تھی۔۔۔۔معراج دعا کے ساتھ ھی کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔
عمیر دعا کو چھوڑ کر reception کی طرف باہر گیا تو دعا کو اکیلے معراج کے ساتھ کھڑے ھوتے ھوئے الجھن سی محسوس ھوئ اس لیے وہ ایک قدم چل کر اگے برھنے ھی لگی تھی کہ ایک دم گیرنے والی تھی جب معراج کے مظبوط ہاتھوں نے اسکو سہارا دیا تھا۔۔۔۔۔
تمھارے اندر سکون نام کی کوئ چیز موجود نہیں ھے کیا ؟؟؟؟؟؟
معراج نے غصہ سے کہا۔۔۔۔
چھوڑو مجھے !!!!! دعا نے اپنا ہاتھ چھرواتے ھوئے کہا۔۔۔۔
چھوڑ دیا تو زمین پر گیری ھوگی۔۔۔شیرنی بنی گھومتی ھو پر زارہ سی ہمت نہیں ھے تم میں۔۔۔۔۔
اب چپ کر کے ادھر ٹیکی رہو۔۔۔۔
معراج نے اسکو سہرا دے کر پھر کونے میں کھڑا کیا تھا۔۔۔۔اور ایک ہاتھ سے اسکا ہاتھ تھاما ھوا تھا۔۔۔۔۔
دور سے عمیر نے اشارہ کیا تھا کہ دعا کو ادھر لے آئے۔۔۔۔۔
چلو اب !!!!
معراج نے دعا کا ہاتھ تھام کر قدم بڑھیا تھا۔۔۔۔۔
کہاں ؟؟؟
دعا نے اس وقت بلکل بےتکہ سوال کیا تھا۔۔۔۔
ہنی مون پر !!!!!
معراج نے بھئ اسکا الٹا ہی جواب دیا تھا۔۔۔۔
دعا شرمندہ سے ھوگئ تھی۔۔۔۔
معراج سہارا دے کر دعا کو وہاں تک لیا تھا پھر لیڈی ڈاکٹر نے اسکو سنبھال لیا تھا۔۔۔۔۔۔
تھوڑی ہی دیر بعد ڈاکٹر اگئ تھی۔۔۔
اپ ان کو گھر لے جاسکتے ھیں بس انکو rest کروائے گا اور یہ medicine لے لیں۔۔۔عمیر نے پرچہ تھاما اور معراج کو دیکھ کر بولا اپ جائیں میں اتا ھوں medicine لے کر۔۔۔۔۔
معراج اندر کمرے میں داخل ھوا تو دعا istechar پر پاوں پر پٹی باندھے بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
میرے ساتھ نا چلنے کا اچھا بھانا دھونڈا تم نے۔۔۔۔۔۔
معراج نے کہا تو دعا نے حیرانی سے دیکھا۔۔۔۔۔
کسی نے دیکھا ھو یا نا دیکھا ھو میں نے دیکھ لیا تھا۔۔۔۔دعا خان۔۔۔۔۔
خیر چلو کچھ دن دور بھاگ لو پھر کہاں بھاگو گئ۔۔۔۔
معراج نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔تو دعا تلملا اٹھئ۔۔۔۔
درد کیسا ھے؟؟؟؟ معراج نے ایک دم پوچھا۔۔۔۔
درد دینے والا یہ بات پوچھتے ھوئے اچھا نہیں لگتا
مسٹر معراج۔۔۔۔۔۔
دعا نے کہ کرنہ پھیر لیا۔۔۔۔۔
معراج بھی غصہ انے کے باوجود خاموش ھوگیا۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد عمیر اگیا تھا اور معراج واپس انکو گھر چھوڑ گیا تھا۔۔۔۔۔
عمیر نے اندر انے کا بہت اسرار کیا تھا لیکن معراج انکار کر کے چلا گیا تھا۔۔
وقت گز رہا تھا اور اب شادی میں صرف !
