Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zid Junoon Ki Inteha Episode 17

Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi

معراج جب نھا دھو کر پینٹ شرٹ پہن کر باہر نکلا تو دعا کمرے میں موجود نا تھی۔

ایک تو مجھے سمجھ نہیں آتا آخر کو یہ لڑکی اس قدر ضدی کیوں ھے۔۔۔۔۔

معراج نے دعا کو کمرے میں نا پاکر کہا۔۔۔۔

اور جلدی سے شیشے کے سامنے کھڑا ھوکر اپنے بال سیٹ کر کے پرفیوم لگا کر کمرے سے باہر کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔۔

دعا جب کمرے سے باہر نکلی تو اس کو عجیب سا محسوس ھوا لیکن وہ معراج کی اب کوئ بھئ بات نہیں منانا چھاتی تھی اس لیے ھچکچاہٹ ھونے کے باوجود زینہ اتر کر نیچے لائنج میں ائ تھی۔۔۔۔۔

رملا اور بریرہ بیگم اس کو دیکھ کر ایک دم اپنی جگہ سے اٹھی تھیں۔۔۔اور دعا کو گلے لگا کر خوش آمدید کہا تھا۔۔۔۔

سجل اور ہما وہی موجود تھیں۔۔۔۔لیکن وہ دونوں دعا سے نا ملی تھی۔۔۔۔۔

کیسی ھو دعا نیند اچھے سے ھوئ بچے ؟؟؟

بریرہ بیگم نے دعا کو گلے لگاتے ھوئے پوچھا۔۔۔

جی۔۔۔۔!!!

دعا نے مختصر سا جواب دیا۔۔۔۔

ماشاءاللہ دعا !!!!

بہت ہی حسین لگ رہی ھو !!!!!

رملا نے ایک بار پھر پیار سے دعا کو گلے لگایا تھا۔۔۔۔دعا کو رملا کے اندر نمرہ کی جھلک دکھائ دی۔۔۔۔۔

دعا کی نظر جب ہما پر پڑی تو اسکا دل اندر سے کٹ کر رہے گیا۔۔۔اس نے خود سے ہما سے کوئ بات کرنا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔۔۔

اس لیے چپ رہی۔۔۔۔۔

چلو دعا ناشتہ کرلو اب۔۔۔۔۔۔رملا نے دعا کو کھانے کی میز پر بیٹھنے کا اشارہ کر کے کہا۔۔۔۔

ویسے کتنی عجیب بات ھے نا۔۔۔۔۔۔

نئ نیولی دلہن دوپہر کے ایک بجے سب گھر والوں سے الگ ناشتہ کریں گی ۔کوئ بھلا شادی کے پہلے دن اتنا لیٹ اٹھتا ھے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔

سجل نے فورن دعا پر ٹون مارا تھا۔۔۔۔۔۔۔

دعا کی انکھیں ایک دم نم ھوئ تھی۔۔۔ابھی رملا کے منہ سے الفاظ نکلنے ہی والے تھے کہ پیچھے سے ایک دم معراج کی آواز ائ۔۔۔۔۔

سجل بھابی میرے خیال سے اپ اپنا وقت بھول گئ۔۔۔۔

میری بیوی تو پھر اپ سے دو گھنٹے جلدی ائ ھے۔۔۔۔!!!!!

اور ویسے بھی اسکا میرے ساتھ وقت گزارنا ضروری ھے اپ کے ساتھ نہیں۔۔۔۔

یہ میرے لیے ائ ھے اپ سب کے ساتھ گپے مارنے نہیں۔۔۔۔

اور ویسے بھی میرا تو دل تھا کہ اپنی جان کے ساتھ کمرے میں ہی ناشتہ کروں پر یہ محترمہ ہی ضد کر کے مجھے نیچے لے کر ائ ھیں۔۔۔۔

لیکن پھر بھی لوگوں کی شکایت ختم نہیں ھوتی۔۔۔۔۔

معراج نے اکر دعا کو کندھے سے تھام کر کہا تھا۔۔۔۔

دعا کو ایک دم ایک سہارا سا محسوس ھوا تھا۔۔۔۔لیکن معراج کا اس طرح تھامنا اسکو اچھا نالگا تھا۔۔۔۔۔

اہ ھوووو !!!!!!

ابھی سے جورو کے غلام بن گئے ھیں جناب اپ !!!!

رملا کو واقعی میں معراج کو ایسے دیکھ کر خوشی محسوس ھوئ تھی۔۔۔۔

معراج کہ چہرے پر ایک عجیب سا سکون تھا۔۔۔۔۔

کیا کریں بھابی۔۔۔۔۔۔

اپ کی دیورانی کے جادو نے گھائل کر دیا !!!!!!

دعا کو معراج پر حد سے زیادہ حیرت ھوئ تھی۔۔۔۔

کس قدر جھوٹا ھے یہ انسان۔۔۔منہ پر کیسے میٹھا بنا ھے۔۔۔۔۔دعا نے دل میں سوچا۔۔۔۔۔دعا کا دماغ صرف اور صرف معراج کے خیلاف ہی چل رہا تھا۔۔۔۔۔

چلو تم دونوں بیٹھو میں ناشتہ لگاتی ھوں۔۔۔۔۔

رملا کے کہنے پر معراج اور دعا کھانے کی میز پر بیٹھ گئے تھے۔۔۔۔۔

اہھووووو نئے دلہا دلہن اٹھ گئے۔۔۔۔۔

اسلام علیکم بھابی جی !!!!!

دلاور اور بلاج نے اندر داخل ھوتے ھی دعا کو سلام کیا تھا۔۔۔

جس کا دعا نے سر ہلا کر جواب دیا تھا۔۔۔۔۔۔اور ساتھ ہی اپنے ڈوپٹے کو مزید سیٹ کیا تھا ۔۔۔

معراج نے ایک نظر دعا کے ڈوپٹے پر ڈالی تھی۔۔۔۔

دعا نے ڈوپٹہ بہت طریقے سے اوڑھ رکھا تھا۔۔۔

سر اور شانوں پر اس طرح ڈوپٹہ ڈلتا ھے معراج نے اج پہلی بار دیکھا تھا۔۔۔۔۔

معراج جس سرکل میں بڑا ھوا تھا وہاں کی عورتیں اکثر ڈوپٹے کے نام پر گلے میں صرف ہلکی سی پٹی ڈال لیا کرتی تھی۔۔۔۔

معراج کو ایک انجانی سی خوشی محسوس ھوئ تھی۔۔۔۔۔۔

دعا کو حیرت ھو رہی تھی کہ اب تک عمیر نہیں ایا۔۔۔۔

اس کو اپنے گھر والوں کی حد سے زیادہ یاد آرہی تھی۔۔۔۔

تم کچھ نا کھا کر کیا ثابت کرنا چھا رہی ھو میڈم ؟؟؟؟

معراج نے دعا کے تھوڑا پاس ھو کر کہا تھا۔۔۔۔

میری مرضی دل نہیں چھا رہا اس لیے نہیں کھا رہی۔۔۔۔

دعا نے چیڑ کر جواب دیا تھا۔۔۔۔۔

کوئ مرضی ورضی نہیں تم نے کل رات بھی کچھ نہیں کھایا تھا چلو اب جلدی سے یہ سب ختم کرو۔۔۔۔۔۔

معراج نے دعا کی پلیٹ میں پوری دالتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔

اففف !!!!!

کیا مصلہ ھے ؟؟؟

دعا نے معراج کی بات میں یہ نا محسوس کیا تھا کہ معراج کو اسکی کتنی فکر تھی۔۔۔۔

اور نا معراج نے یہ محسوس کیا تھا۔۔۔

ہما جو دور سے بیٹھی یہ سب دیکھ رہی تھی ایک دم اٹھ کر کھانے کی میز پر آئ تھی۔۔۔

ویسے دعا تمھارے گھر والے نہیں ائے اب تک ؟؟؟؟

شادی کے پہلے دن تو لڑکی کے گھر سے ناشتہ آتا ھے اور یہاں تو کوئ آتا پتہ نہیں ۔۔

ہما نے دعا کی کمزوری پکڑی تھی۔۔۔

بس کیا کریں ہما کچھ لوگ بہت عزت والے ھوتے ھیں۔۔۔

بیٹی کے گھر زیادہ انا جانا پسند نہیں کرتے اور کچھ لوگ تمھاری طرح ھوتے ھیں جو اپنے گھر جانا پسند نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔

معراج کہ اس طرح بولنے پر ہما شرمندہ سی ھوئ تھی۔۔۔۔

رملا کو معراج کی اس بات پر بے ساختہ ھنسی ائ۔۔۔جس کو اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر روکا تھا۔۔۔

دعا تم جلدی ناشتہ کرو پھر ہم چلتے ھیں تمھارے گھر۔۔۔۔۔

عمیر کی کال ائ تھی ۔۔۔وہ ہمارا انتیظار کر رہے ھیں۔۔

معراج اپنا ناشتہ ختم کر کہ اب چائے پی رہا تھا۔۔۔۔۔۔

دعا کو معراج کی یہ پہلی بات اچھی لگی تھی۔۔۔۔

اور اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکان بھی ائ تھی۔۔۔۔۔۔۔

لیکن معراج رات میں ولیمہ ھے !!!!! بریرہ بیگم فورن بولی تھی۔۔۔

جی معلوم ھے مجھے۔۔۔۔۔۔

میرا ولیمہ ھے مجھے زیادہ فکر ھے ۔۔۔۔اپ لوگ اپنی تیاری پوری رکھیں ۔۔۔۔دعا اور مجھے چھوڑ دیں اب۔۔۔!!!

معراج نے سیدھا جواب دیا تھا۔۔۔

دعا نے محسوس کیا تھا کہ معراج کا اپنے گھر میں سوائے رملا بلاج سے کسی سے اچھا تعلق نہیں تھا۔۔۔۔۔

لیکن معراج میں !!!!!

بس مسزز جہانگیر۔۔۔

THANKYOU

معراج کے اس طرح بولنے پر دعا کو حد سے زیادہ حیرت ھوئ تھی کہ وہ اپنی ماں کو نام لے کے کر پکار رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

جلدی تیار ھو جاو ۔۔۔۔

بس دس منٹ تک نکلتے ھیں

معراج دعا کو بول کر باہر کی طرف چلا گیا تھا۔۔۔۔

اور بریرہ بیگم شرمندہ سی نظریں جھکائ کھڑی تھیں ۔۔۔۔۔

دعا اٹھ کر ان کے پاس ائ تھی۔۔۔

اپ فکر نا کریں امی ہم جلدی آجائیں گے۔۔۔۔دعا کا دل بریرہ بیگم کے لیے دکھ رہا تھا۔۔۔

ہمم بیٹا تم جاو !!!

بریرہ بیگم نے دعا کو بوسہ دیا تھا اور پھر خود کمرے کی طرف بڑھ گئ تھی۔۔۔۔۔

دعا اوپر کمرے میں ائ اور جلدی جلدی اپنا حجاب اوڑھ کر تیار ھوئ تھی۔۔۔

کل سے اب تک اس نے صرف اس وقت کوئ خوشی محسوس کی تھی۔۔۔۔۔

ابھی وہ اپنا ھجاب ہی باندھ رہی تھی کہ معراج کمرے میں داخل ھوا تھا۔۔۔۔

دعا !!!!

معراج نے صوفے پر بیٹھتے ھوئے دعا کو پکارا تھا۔۔۔

جی ؟؟؟

یہ تمھاری سم ھے

اور یہ رہا تمھارا موبئل۔۔۔۔۔

معراج نے پینٹ کی جیب سے سم نکالی تھی اور ایک ڈبہ دعا کے سامنے ٹیبل پر رکھا تھا۔۔۔۔

مجھے اس کی ضرورت نہیں ھے۔۔۔دعا نے فورن ہی جواب دیا تھا۔۔۔

ضرورت ھو یا نا ھو۔۔۔

تمھارے پاس موبئل ھونا چاھئے۔۔۔۔

معراج نے بھی فورن کہا تھا۔۔۔۔۔

آخر یہ سب کیا ھے ؟؟؟؟

کیا دیکھنا چھاتے ھو یہ سب کر کے کہ اپ ایک پرفیکٹ شوہر ھیں ؟؟؟

دعا کو ایک دم ھی غصہ آیا تھا۔۔۔۔۔

اہ تو تم نے مان لیا کہ میں تمھارا شوہر ھو ۔۔۔۔

معراج کا موڈ خاصا اچھا تھا۔۔۔

اور دعا کے ساتھ اس کو لڑنا اچھا لگتا تھا۔۔۔۔۔

یا اسکو جلا کر اسکو خوشی محسوس ھوتی تھی۔۔۔۔

میں نے یہ نہیں کہا !!!!

مسٹر۔۔۔۔

دعا نے اپنی ہی بات میں پھنستے ھوئے کہا۔۔۔۔

اچھا تو پھر ؟؟؟

کیا کہا ؟؟؟

معراج نے دعا کو مزید الجھانا چھا ۔۔

افففف !!!

کچھ نہیں کہا۔۔۔۔۔۔

ھاھاھا !!!

معراج زور دے ھنسا پھر بولا۔۔۔

جب تم مجھ سے جیت نہیں سکتی تو کیوں ناکام خوشش کرتی ھو۔۔۔

اور ویسے بھی مجھے لڑکیوں پر بلکل بھروسہ نہیں ھے۔۔۔۔۔

ان کے پاس ایک ایسی چیز موجود ھونی چھائے جس سے بندہ ان پر نظر رکھ سکے۔۔۔۔۔

معراج نے یہ بات صرف اور صرف دعا کو جلانے کے لیے بولی تھی۔۔۔۔

اہ اچھا تو یہ موبئل اس لیے مجھے دیا جا رہا ھے کہ اس کے زریعہ اپ مجھ سے دور ھو کر بھی مجھ پر حکومت کریں۔۔۔

دعا کو معراج پر شدید غصہ ایا۔۔۔۔

واہ یار ایک دن تم میرے ساتھ رہے کر سمجھ دار ھوگئ ھو۔۔۔۔۔

سوچو پوری زندگی رہے لی تو !!!!!

معراج بول کر ھنستا ھوا کھڑا ھوا تھا۔۔۔۔

پوری زندگی ؟؟؟؟؟؟

معراج جہانگیر یہ صرف اپ کا خیال ھے کہ میں اپ کے ساتھ ساری عمر رہو گی۔۔۔

معراج باہر جانے کو پلٹا تھا جب دعا نے یہ بات بولی تھی۔۔۔۔

بہت جلد میں تم سے بہت دور چلی جاوں گی۔۔۔۔

تمھارا نام مٹی میں ملا کر دکھاو گی۔۔۔۔

معراج نے ایک دم پلٹ کر دعا کو دیکھا تھا ۔۔۔

دعا نے معراج کے چہرے پر واضئع جنون دیکھا تھا۔۔

اور جس دن ایسا ھوا اس دن میں خود تمھاری جان لوں گا۔۔۔۔۔

معراج کی انکھوں میں جنون تھا۔۔۔۔

دعا نے معراج کی نطروں سے نظر ہٹا لی۔۔۔

چلو۔۔

دیر ھو رہی ھے۔۔۔

معراج بول کر کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔۔

دعا بھی اس کے پیچھے پیچھے کمرے سے باہر نکل گئ تھی۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆

پر امی ابو کو کیا ھو گیا ھے ؟؟؟؟

وہ ہماری بہن ھیں

ٹھیک ھے جو ھوگیا ھوگیا اب اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ ہم دعا آپی سے تعلق توڑ دیں۔۔۔۔۔

عمیر اس وقت حد سے زیادہ غصے میں تھا۔۔۔۔۔

اور سمیرا بیگم سے احمد صاھب کی بلاوجے کی ضد پر حیرانی ظاہر کر رہا تھا۔۔۔۔۔

پر عمیر جو دعا نے کیا پھر میرا بھائ یہ بھی نا کرے !!!!

پھوپو میں اپ کو پہلے بھی بول چکا ھوں آپی نے کچھ غلط نہیں کیا۔۔۔کیا اپنے اپنی بڑی بیٹی سے تمام تعلقات توڑ دیے ؟؟؟؟؟

نہیں نا !!!!

ابو اس طرح سے دعا اپی کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے۔۔۔۔۔

ابو کہاں ھیں امی؟؟؟

عمیر نے احمد صاحب کے کمرے میں جھانک کر دیکھا تو وہ وہاں موجود نہیں تھے۔۔۔۔

اس لیے وہ اب باہر اکر سمیرا بیگم سے پوچھ رہا تھا۔۔۔۔۔

عمیر جو دعا کے گھر جانے کے لیے نکل رہا تھا اسکو سمیرا بیگم اور پھوپو نے روکا تھا۔۔۔

کیونکہ احمد صاحب سختی سے انکار کر کے گئے تھے۔۔۔۔۔کہ اس گھر سے دعا کہ گھر کوئ نہیں جائے گا ۔۔۔

اور اسی بات پر عمیر کو حد سے زیادہ غصہ تھا۔۔۔۔۔

سمیرا بیگم کی ہمت نا تھی کہ وہ شوہر کے غصے کے اگے کچھ بولتی۔۔۔۔

اور پھوپو تو اپنا کام خوب دکھا رہی تھی وہ احمد صاحب کے ساتھ جب بیٹی خاندان کی عزت اور ابرو کی بڑی بڑی باتیں شروع کر دیتی اور احمد صاحب کے دل میں دعا کے نازاضگی اور مزید ھوتی جاتی۔۔۔۔۔۔

ابو کہاں ھیں ؟؟؟؟

بیٹا وہ کسی کام سے باہر گئے ھیں۔۔۔۔

عمیر خدا کا واسطہ ھے اپنے باپ کو اس عمر میں اتنی تکلیفیں نا دوں۔۔۔۔

تم بچوں کی وجہ سے میرے بھائ کو کچھ ھوا تو میں تم لوگ کو کبھئ معاف نا کروں گی۔۔ ۔

پھوپو اپنی عادت سے مجبور ھو کر پھر بولی تھی۔ ۔۔۔۔

ابھی ان لوگوں کی بھیس چل ہی رہی تھی کہ نمرہ اور عمر شور مچاتے نیچے ائے تھے۔۔۔۔

دعا آپی آگئ

دعا آپی اگئ۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆

معراج اور دعا کے راستے بھر کوئ خاص بات نا ھوئ تھی۔۔۔۔معراج دعا کو جلانے کے لیے موضوع نکلتا لیکن دعا اس وقت لڑنے کے موڈ میں نا تھی۔۔۔

وہ پورے راستے بس یہ دعا کرتے ھوئے گئ تھی۔۔

کہ اللہ کرے اب احمد صاحب کا غصہ ٹھنڈا ھو گیا ھو۔۔۔۔

اور اب وہ دعا کو معاف کر دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

معراج نے جب گاڑی دعا کے گھر کی طرف موڑی تھی تو عمر اور نمرہ نے چھت سے ہی ان کی گاڑی دیکھ لی تھی۔۔۔۔۔

بہن بھائ کو دیکھ کر دعا کے چہرے پر مسکراہٹ سجی تھی۔۔۔۔۔

معراج نے دعا کی خوشی صاف صاف محسوس کی تھی۔۔۔۔

معراج گاڑی کھڑی کر کہ اترا تو دعا بے صبری سے بیل بجا رہی تھی۔۔۔۔۔

بہت جلدی ھے لوگوں کو دوسروں کہ گھر جانے کی۔۔۔۔

معراج گاڑی لوک کر کے دعا کے برابر کھڑا ھوگیا تھا۔۔۔

دوسروں کا گھر ؟؟؟؟

دعا نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔

ہاں دوسروں کا گھر۔۔۔۔۔۔۔

معراج نے پر اپنی بات دھورای۔۔۔۔

یہ میرا گھر ھے معراج جہانگیر۔۔۔۔۔۔

یہ میرا اصلی گھر ھے۔۔۔۔۔۔

دعا نے مظبوط لہجے میں کہا۔۔۔

نہیں یہ گھر اب تمھارا نہیں ھے۔۔۔۔

تمھارا گھر اب جہانگیر مینشن ھے میری جان۔۔۔۔۔

معراج نے انکھوں میں چمک رکھ کر کہا۔۔۔

وہ میرا گھر نہیں۔۔۔۔

میرا قید خانہ ھے۔۔۔۔۔

جہاں رہنا میری مجبوری ھے۔۔۔۔وہ بھی بس کچھ دن۔۔۔

جس دن وہاں سے اڑنے کا موقع ملا میں اڑ جاوں گی ۔۔

یاد رکھنا میری بات ۔۔

ابھی معراج کچھ بولتا اسے پہلے ہی عمیر نے اکر دوروازہ کھول دیا تھا۔۔۔۔

اسلام علیکم !!!!!!!!!

newily married couple

عمیر نے خوش اخلاقی سے دروازہ کھول کر کہا تھا ۔۔

اتنا وقت لگا دیا دروازہ کھولنے میں عمیر ؟؟

دعا نے بھائ سے فورن شکوہ کیا تھا۔۔۔۔۔

عمیر کے پاس دعا کی بات کا کوئ جواب نا تھا اس لیے وہ اگے بڑھ کر معراج سے ملنے لگا۔۔۔

اسلام علیکم معراج بھائ !!!

آئیں اندر آجائیں۔۔۔۔

عمیر دعا سے زیادہ معراج کو عزت دے رہا تھا۔۔۔۔۔

وعلیکم اسلام کیسے ھو عمیر ؟؟؟

معراج بھی خوش اخلاقی سے عمیر سے ملا تھا۔۔۔۔۔۔

عمیر !!!!

مجھ سے بھی مل لو۔۔۔

دعا نے جل کر کہا تھا ۔ ۔

ہاہاہا ملتا ھوں بابا پہلے جیجو سے تو مل لو نا۔۔۔۔۔۔

عمیر نے دعا کو گلے لگاتے ھوئے کہا۔۔۔

ٹھیک ھے ملو ان سے ہی بھاڑ میں جاو۔۔۔۔

دعا عمیر کے پیٹ میں گھوسا مار کر جھوٹی ناراض ھوتی ھوئ اندر بڑھ گئ۔۔۔۔

معراج بھائ بہن کا ھنسی مزاق دیکھ کر مسکرا دیا۔۔۔۔۔

ائے بھای اندر اجائیں۔۔۔۔

عمیر نے drawing room کا دروازہ کھول کر معراج کو بیٹھایا تھا۔۔۔۔

دعا پہلے ہی اندر چلی گئ تھی۔۔۔۔۔

دعا کو دیکھ کر نمرہ اور عمر بھاگ کر اس سے لپٹ گئے تھے۔

وہ بھی بہن بھائ سے مل کر بہت خوش ھوئ تھی۔۔۔۔

میری بچی اگئ۔

سمیرا بیگم بھی سب کچھ بھول کر دعا کے گلے لگی تھی۔۔۔

اور دعا بھی ماں کے گلے لگ کر ایک دم ھی رونے لگی تھی۔۔۔۔۔

بس شروع ماں بیٹی کا ڈرامہ۔۔۔۔۔

پھوپو نے ایک شوشہ چھوڑا تھا۔ ۔۔

دعا اپنی ماں سے الگ ھوئ تھی۔۔۔

امی ابو کہاں ؟؟

دعا نے روتے روتے پوچھا۔۔۔۔

دعا وہ گھر پر نہیں ھیں۔۔۔

سمیرا بیگم نے بتایا۔۔۔۔

اچھا معراج بھی آیا ھے چلو اس کے پاس چلتے ھیں ۔۔۔

سمیرا بیگم اپنا ڈوپٹہ سر پر اوڑھ کر drawing room کی طرف بڑھی تھی۔۔۔

ان کے پیچھے نمرہ اور عمر بھی بڑھے تھے۔۔۔۔۔

دعا اپنے کمرے میں چلی گئ تھی۔۔۔۔۔

سمیرا بیگم جب drawing room میں داخل ھوئ تو معراج نے مسکرا کر انکو دیکھا تھا۔۔۔۔اسکو سمیرا بیگم کے اندر ایک اپنے بہت قریبی کی جھلک دکھای دیتی تھی ۔۔۔

کیسے ھو بیٹا ؟؟؟؟

سمیرا بیگم نے معراج کے پاس اکر خود اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا۔۔۔۔۔۔

معراج کو سمیرا بیگم کا اس طرح سر پر ہاتھ رکھنا بہت اچھا لگا تھا۔۔۔۔۔

جی میں ٹھیک ھوں۔۔۔۔امی !!!!!!

معراج کے منہ سے خود با خود ھی امی نکلا تھا۔۔۔۔۔۔اور معراج بھی حیران تھا کہ اس نے اج تک بریرہ بیگم کو امی نہیں کہا تو سمیرا بیگم کے لیے ایک دم ہی کیوں ؟؟؟؟؟

معراج کے اس طرح امی کہنے پر سمیرا بیگم کو بھی یہ دل کو بھایا تھا۔۔۔۔۔۔

اسلام علیکم جناب !!!!!!

نمرہ نے معراج کے سامنے صوفے پر بیٹھتے ھوئے مسکرا کر کہا۔۔۔۔۔

وعلیکم اسلام سالی صاحبہ۔۔۔۔

معراج نے خوش اخلاقی سے جواب دیا تھا۔۔۔۔

ویسے جیجو اپ ھو بہت اچھے۔۔۔

نمرہ نے معراج کی تعریف کی تو معراج ایک دم ھنس پڑا ۔۔۔

اچھا یہ تمھیں کیسے پتا لگا۔۔۔۔۔تمھاری بہن نے تو نہیں کہا؟؟؟؟

بسسسسس جیجو نا پوچھیں ۔۔۔یہ بہت لمبی کہانی ھے۔۔۔۔

نمرہ نے بھی ھنس کر جواب دیا۔۔۔۔

اب عمر اکر معراج سے مل رہا تھا۔۔۔۔۔

معراج کو یہ سب لوگ بہت بھلے لگے تھے۔۔

۔لیکن پھر بھی اس کی نظر بار بار دعا کو ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔۔

جاو عمر آپی کو بلا کے لاو۔۔۔۔

سمیرا بیگم نے معراج کی پریشانی محسوس کرلی تھی اس لیے دعا کو بلوایا تھا۔۔۔

تھوڑی ہی دیر بعد دعا بھی عمر کے ساتھ اندر داخل ھوئ تھی۔۔۔

معراج کو دعا کو دیکھ کر ایک سکون سا محسوس ھوا تھا۔۔۔۔۔۔

تھوڑی دیر وہ سب باتیں کرتے رہے۔۔۔۔۔معراج کو بھی مزہ آرہا تھا۔۔۔۔

دعا بھی بات بات پر مسکرا رہی تھی۔۔۔۔

اور معراج بھی کبھی نمرہ کی بات پر ھنستا تو کبھی سمیرا بیگم سے بات کر تا۔۔

عمیر اور دعا کی نوک جونک ہمیشہ کی طرح جاری تھی۔۔۔۔۔

ابھی کچھ پل ہی سکون کے گزرے تھے۔۔۔

کہ پھوپو اندر داخل ھوئ تھی۔۔۔

اور پھوپو کے ساتھ ساتھ اشعر اور آحمد صاحب بھی اندر داخل ھوئے تھے۔۔۔۔

ایک دم ہی سب لوگ احمد صاحب کو دیکھ کر خاموش ھوئے تھے ۔۔۔۔۔۔

ابو !!!!!

دعا ایک دم اپنی جگہ سے اٹھ کر احمد صاحب کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔۔

خبردار !!!!!!

احمد صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے بیٹی کو دور رہنے کو کہا۔۔۔۔۔۔۔

کس کی ہمت ھوئ میری مرضی کے خیلاف جانے کی ؟؟؟؟؟؟؟

احمد صاحب کی آواز میں اشتعال تھا۔۔۔۔

دعا کو اس سب کی بکل امید نا تھی۔۔۔۔۔

سمیرا !!!!

میں پوچھتا ھوں کس نے اس لڑکی کو اندر داخل ھونے دیا۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

احمد صاحب اب سمیرا بیگم کو دیکھ کر پوچھ رہے تھے۔۔۔۔۔

معراج کے چہرے کے تیور بھی اب بدل چکے تھے ۔۔۔

ابو چلیں اندر چل کر بات کرتے ھیں۔۔۔۔

عمیر نے باپ کو اس طرح معراج کے سامنے تماشہ کرنے سے روکا۔۔۔۔۔

عمیر !!!!!!!

میں نے کہا تھا نا اس لڑکی سے میرا کوئ تعلق نہیں ھے۔۔۔۔

تو تمھاری کسیے ہمت ھوئ اسکو گھر میں داخل کرنے کی۔۔۔۔۔۔۔

احمد صاحب اب دعا پر چلا رہے تھے۔۔۔۔۔

تمھیں کل میں نے کہا تھا نا۔۔۔کہ اس گھر کے دروازے تم پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ھوگئے ھیں۔۔۔۔۔۔

مر گئ ھو تم میرے لیے۔۔۔۔

ابو پلیز ایسے مت بولیں میں مر جاوں گی۔۔۔۔۔۔۔

دعا روتے ھوئے اگے بڑھی تھی۔۔۔۔دعا کی باپ کے لیے تڑپ دیکھنے لائق تھی۔۔۔۔۔

دور رہو بھائ سے تم ۔۔۔۔!!!

پھوپو نے دعا کو کندھے سے پکڑ کر روکا تھا۔۔۔۔

دعا کا چہرہ آنسو سے بھرا ھوا تھا۔۔۔۔۔معراج نے بہت مشکل سے خود کو قابو کر رکھا تھا۔۔۔

پھوپو چھوڑیں مجھے۔۔۔۔۔

ابو پلیز اپ مجھ سے اس طرح ناراض نہیں ھوسکتے میں بیٹی ھوں اپکی۔۔۔۔۔۔

ابو پلیز میرے ساتھ یہ مت کریں نا !!!

میں مر جاوں گی ابو۔۔۔۔۔۔۔

مر تو تم اس دن گئ تھی دعا جس دن تم نے اس لڑکے کو چونا تھا۔۔۔۔۔

تم نے اس لڑکے کی خاطر اپنے باپ سے جنگ کی دعا۔۔۔۔۔

تم میرے لیے اس دن ہی مر گئ تھی۔۔۔۔۔۔

احمد صاحب نے انتھائ سخت دلی سے کہا تھا۔۔۔۔

یہ اپ نہیں ھوسکتے ابو۔۔۔۔یہ اپ نہیں ھیں۔۔۔

دیکھیں نا ابو میں اپکی دعا ھوں۔۔۔۔۔۔۔

دعا ایک بار پھر اگے بڑھ کر احمد صاحب کے گلے زبردستی لگ گئ تھی۔۔۔

نمرہ سمیرا بیگم اور عمر دعا کو روتا دیکھ کر رو رہے تھے۔۔۔

اور عمیر کا غصے سے برا حال تھا۔۔۔۔۔

معراج کا تو دماغ ہی آوٹ ھوگیا تھا لیکن وہ چپ رہا۔۔۔۔۔

دعا ہٹو پیچے۔۔۔۔۔۔۔۔

احمد صاحب نے دعا کو ایک دم جھٹکا تو دعا لڑکھڑاتی اشعر کی طرف گیرنے ہی لگی تھی کہ معراج نے اکر اسکو تھاما تھا۔۔۔۔۔۔

معراج کی بس ھوچکی تھی۔۔۔۔۔۔۔

دعا رو رو کر اب بلکل نڈھال سی کیفیت میں تھی۔۔۔۔۔۔

چلو دعا !!!!!

معراج نے بہت قابو رکھ کر کہا تھا۔۔۔۔۔

ہاں لے کے جاو اسے۔۔۔۔۔۔بلاوجے اس کو دیکھ کر ماموں جان کی طبعیت خراب ھوتی ھے۔ ۔

اشعر نے غلط وقت پر اپنا منہ کھولا تھا۔۔۔۔

معراج نے لال ھوتی انکھوں سے اشعر کو دیکھا تھا۔۔۔۔

زارہ تمیز سے بیوی ھے یہ میری۔۔۔۔۔

راجہ معراج کی بیوی۔۔۔۔۔۔۔

ہاں تو اپنی بیوی کو اپنے گھر لے کے جاو ۔۔۔۔۔

پھوپو بھی چپ کہاں رہتی۔۔۔۔۔

مجھے حیرت ھو رہی ھے اپ پر۔۔۔۔۔

کس طرح کے باپ ھیں اپ۔۔۔۔؟؟؟

معراج اج پہلی بار احمد صاھب سے بات کر رہا تھا۔۔۔۔۔

اج تو میں نے یہ سب برداشت کر لیا احمد صاحب۔۔۔۔۔۔

لیکن اب یہ دعا خان نہیں۔۔۔۔۔

دعا معراج ھے۔۔۔۔

اگر اپکی جگہ کسی اور نے دعا کے ساتھ یہ کیا ھوتا تو میں اب تک اس انسان سے بات نا کر رہا ھوتا۔۔ اسکے انجام بہت برا کرتا۔۔۔۔

لیکن یہاں اپ ھیں۔۔۔

دعا کے باپ۔۔۔۔

میں مجبور ھوں۔۔۔۔

لیکن !!!!!!

تم اپنی زبان قابو میں رکھنا تمھارے لیے میں مجبور نہیں۔۔۔معراج نے اشعر کو دیکھ کر کہا تھا۔۔۔

تم !!!

آشعر کچھ بولنے ہی لگا تھا۔۔۔

کہ معراج کی لال انکھوں کی گھوری دیکھ کر چپ ھو گیا۔۔۔۔

سر میں اپ کی عزت کرتا ھوں۔۔۔۔۔

لیکن اپ کو اتنا بھروسہ اپنی بیٹی پر ھونا چھائے کہ اس نے جو کیا غلط نہیں کیا ۔۔

معراج نے سمجھ داری سے بات کی تھی۔۔۔

لیکن اج اخری بار دعا اس گھر میں ائ تھی۔۔۔۔۔

اج کے بعد دعا اور میرا اس گھر سے کوئ تعلق نہیں۔۔۔۔۔

معراج نے اب اپنا فیصلہ سنایا تھا۔۔۔۔معراج کو اتنی بات کہاں برداشت تھی۔۔۔۔۔

ہاں ہاں لے جاو۔۔۔۔

اب میرے لیے یہ بےغیرت لڑکی مر چکی۔۔۔۔۔اور جس نے اس سے تعلق رکھا۔۔۔۔میں اسکو بھی اس گھر سے ناکل دوں گا۔۔۔۔۔۔۔

سر!!!!

زارہ سنبھال کر بولیں جس کو اپ بےغیرت بول رہے ھیں وہ اب میری غیرت ھے۔۔۔۔۔

معراج نے روب دار لہجے میں بول۔۔۔

عمیر کے دل کے اندر تک خوشی کی ایک لہر دوڑی تھی۔۔۔

امید کرتا ھوں سر کے اپکو جلدی سمجھ اجائے ۔۔۔۔۔اپکی بیٹی غلط نہیں ھے ۔۔

معراج کے سہارے ٹکی دعا اب ھوش کھو چکی تھی یہ معراج نے محسوس نا کیا تھا۔۔۔۔

دعا بلکل ساخت کھڑی سن رہی تھی۔۔۔۔۔

چلو دعا !!!

معراج نے دعا کا ہاتھ تھاما تھا اور باہر کی طرف لپکا تھا ۔۔دعا ساخت سی چلتی معراج کے پیچھے ارہی تھی۔۔۔۔

معراج بھائ پلیز میری بات سنیں۔۔۔۔۔

عمیر بھاگتا ھوا معراج کے پیچھے آیا تھا۔۔۔۔

اور عمیر کے پیچھے پیچھے نمرہ عمر اور سمیرا بیگم بھی ائے تھے۔۔۔۔

مجھے معاف کر دیں !!!!!!!

بھائ۔۔۔۔

عمیر نے ہاتھ جوڑ کر معراج سے معافی مانگی تھی۔۔۔۔

عمیر کی انکھیں بھی نم تھی۔۔۔۔۔

عمیر تم معافی مت مناگو تمھارا کوئ قصور نہیں معراج نے عمیر کو گلے لگاتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔

اچھا امی اجازت دیں۔۔۔۔۔

میرے گھر کے دروازے ہمیشہ اپ چاروں کے لیے کھولے ھیں لیکن سر سے میرا کوئ تعلق نہیں۔۔۔۔۔۔۔

معراج اب سمیرا بیگم کے سامنے کھڑا تھا اور ایک ہاتھ سے دعا کا ہاتھ تھامے ھوا تھا۔۔۔

دعا بلکل ساخت چپ کھڑی تھی۔۔۔۔

معراج میرے بچے۔۔۔۔۔!!!

میری بیٹی کا خیال رکھنا۔۔۔۔

اسکے ساتھ اس کے باپ کی طرح مت کرنا۔۔۔۔۔

اسکا ہر حال میں ساتھ دینا۔۔۔۔۔۔!!!!!!

سمیرا بیگم نے ہاتھ جوڑ کر معراج نے کہا تھا۔۔۔۔

معراج نے ان کے ہاتھ کو تھام کر کہا۔۔۔۔

اپ فکر نا کریں۔۔۔۔

۔میں اسکا ساتھ کبھی نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔۔۔

سمیرا بیگم کچھ مطمئن ھوئ تھی۔۔۔۔

اور اب سمیرا بیگم نے دعا کو گلے لگایا تھا۔۔۔۔دعا ساخت سے وجود کی طرح پہلے سمیرا بیگم سے ملی پھر نمرہ عمر اور عمیر سے۔۔۔۔

پھر اکر خاموشی سے کار میں بیٹھ گئ ۔۔۔

وہ شوک میں تھی۔۔۔۔۔۔

شوک بھی کوئ چھوٹا موٹا شوک نا تھا۔۔۔۔۔۔معراج نے اس وقت اس سے کوئ بھی بات کرنا مناسب نا سمجھا تھا۔۔۔۔

دعا نے ایک اخری نظر اپنے گھر پر اور ان چاروں پر ڈالی تھی۔۔۔۔اور پھر معراج نے گاڑی وہاں سے نکال لی تھی ۔۔۔

شام ھونے کو تھی۔ ۔۔

ٹھنڈی ھوا دعا کو چھو رہی تھی۔۔۔۔

وہ گاڑی کی سیٹ سے پشت لگا کر انکھیں موند کر لیٹ گئ تھی۔۔۔۔۔۔

معراج نے ایک نظر اس کے وجود پر ڈالی تو اندر کچھ عجیب سی ہلچل محسوس کی۔۔۔۔۔۔لیکن اس وقت کچھ نا بولا ۔۔۔۔۔یا شاید کچھ بولنے کی ہمت نا ھوئ تھی۔۔۔

یہ سب اسکا ہی تو کیا تھا۔۔۔وہ گاڑی چلاتے اپنی ہی سوچوں میں گم تھا۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆

دعا معراج کے جانے کے بعد سمیرا بیگم اور نمرہ کا رو رو کر برا ہال تھا۔۔۔۔۔

اور عمیر اپنے باپ سے ان کے اس رویے پر خوب لڑا تھا۔۔۔۔

اور اب ناراض ھو کر باہر چلا گیا تھا۔۔۔۔

عمر کبھی ماں کو سہارا دیتا تو کبھی بہن کو۔۔۔۔

کبھی خود روتا کبھی باپ کے پاس جاتا ۔۔۔

پھوپو اور اشعر اپنا کام کر کے جا چکے تھے۔۔۔۔۔۔

وہ ہی اصل فساد کی جڑ تھے جو رہے رہے کر احمد صاحب کو انکی عزت خراب ھونے کا احساس دلایا کرتے تھے۔۔۔۔۔

اور احمد صاحب کا غصہ بڑھتا جاتا۔۔۔۔۔۔

دعا کے لیے اس وقت ان کے دل میں کوئ تکلیف نا ھوئ تھی۔۔۔۔

وہ کرسی پر بیٹھ کر اج ھونے والے واقعے کو یاد کرنے لگے۔۔۔۔

اج جب وہ ہمیشہ کی طرح اپنی دوکان پر گئے تھے۔۔۔تو اس پاس کے لوگوں نے ان کے بارے میں باتیں کرنا شروع کر دی تھی۔۔۔۔اور ایک صاحب نے تو حد ہی کردی تھی احمد صاحب کہ منہ پر اکر بول دیا تھا کہ اپ کو اب کیا فکر اپ تو راجہ جہانگیر کے رشتے دار ھیں۔۔۔۔۔

پیسے کی کیا کمی اپ کو ۔۔۔۔اپنے تو اپنی بیٹی ادھر دی ھے ۔۔۔

احمد صاحب جیسے عزت دار آدمی کے لیے اسے الفاظ اور ایسی باتیں واقع قابل ے برداشت نا تھے۔۔۔۔۔۔

اففف میرے اللہ۔۔۔۔۔

وہ اج ھونے والی باتوں اور اب جو ھوا تھا اس سے بے حد اداس تھے۔۔۔۔اس لیے وہ بھی رو دیے۔۔۔۔۔۔۔۔

دعا تم نے یہ کیوں کیا ؟؟؟؟؟

اپنے باپ کی عزت کو کیوں تم نے خراب کر دیا ؟؟؟؟؟

تم تو میرا غرور تھی نا۔۔۔۔۔۔!!!

تم میرا فکر تھی دعا۔۔۔۔۔۔

تو پھر یہ سب کیوں۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟

تم نے جیتے جی اپنے باپ کو مار دیا دعا۔۔۔۔۔

میری عزت کاک کردی تم نے۔۔۔۔

احمد صاحب روتے روتے دعا سے اپنی سوچ میں سوال کر رہے تھے۔۔۔۔

معراج نے گاڑی لاکر جہانگیر مینشن پر روکی اور گاڑی سے اتر کر دعا کے اترنے کا انتیظار کرنے لگا۔۔۔۔۔۔۔

جب !!!!