Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zid Junoon Ki Inteha Episode 26

Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi

اس وقت بس وہ دونون ایک دوسرے کا سہرا تھے ۔۔۔

موم بتی کی روشنی بھی ختم ھو رہی۔۔۔

اور اب جھوپڑی میں بھی اندھیرا پھیل رہا تھا۔۔۔۔

دعا کا وجود حد سے زیادہ ٹھنڈا ھو رہا تھا۔۔۔۔۔

معراج بھی بھیگا ھوا تھا۔۔۔۔۔بڑھتا اندھیرا معراج کی حالت خراب کر رہا تھا۔۔۔

ماضی کی ایک یاد اسکو ستانے کو تھی۔۔۔۔

دعا اسکے سینے سے سر ٹکا کر اسکے ساتھ بیٹھی تھی۔۔۔۔

جب ہی معراج نے اپنی انکھیں بند کر کے دعا کی دھیمی دھیمی خوشبو محسوس کی تھی۔۔۔۔

معراج کو دعا کی قربت سے عجیب سا سکون مل رہا تھا۔۔۔کچھ پل پہلے لگنے والی سردی بھی نہیں لگ رہی تھی….

دعا بھی اپنی انکھیں بند کر کے سب کچھ بھول کر معراج کے سینے سے لگی ھوئ تھی۔۔۔۔

دعا ؟؟؟

معراج نے اپنی انکھیں بند کر کے دعا کو پکارا تھا۔۔۔۔

ہممم

دعا نے صرف ہمم کہا تھا۔۔۔۔

مجھے °°

معراج کچھ بولتے بولتے روکا تھا۔۔۔

دعا نے شاید سنا نہیں تھا اس لیے اسے پوچھا بھی نہیں تھا۔۔۔

دعا اور معراج دونوں ہی اس وقت نیند کی گوندگی میں تھے۔۔۔

وہ صبح کے نکلے تھے۔۔۔۔

اور اب دونون کو ایک دوسرے کے پاس بے حد سکون ملا تھا ۔۔۔

اس لیے دونوں ہی اتنی مشکالات کے باوجود نیند کے نشے میں جا چکے تھے۔۔۔

وہ دونوں ایک دوسرے کے محرم تھے۔۔۔

اللہ نے ان کو ایک دوسرے کے لیے بنایا تھا۔۔۔۔

اللہ نے ان دونون کو ایک دوسرے کا سکون بنایا تھا۔۔۔۔

ان دونوں کا ایک دوسرے پر حق تھا۔۔۔تو دونوں کو ایک دوسرے کے پاس کیسے نا سکون ملتا ۔۔۔۔۔

سیف الملوک جیسی جگہ پر وہ دونوں اکیلے بس ایک دوسرے کا سہرا تھے۔۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

خان بابا نے سیف الملوک سے نیچے اتر کر سیدھا بلاج کو فون ملا کر اسکو ساری تفصیل بتائ تھی۔۔۔

بلاج یہ سنے کے بعد اور بھی پریشان ھوگیا تھا کہ اب وہ دونوں وہاں اس ٹھنڈ میں اکیلے ھیں۔۔۔

رملا کا تو رو رو کر برا حال تھا۔۔۔۔۔۔

معراج اور دعا تو جانا نہیں چھاتے ان لوگوں کی ضد کی وجہ سے اب وہ دونوں وہاں پھسے تھے ۔۔

اب بلاج کے پاس کوئ حل نہیں بچا تھا اس لیے اسنے مجبورن فون کر کے جہانگیر صاحب کو سب بتا دیا تھا۔۔۔

اور کہا تھا کہ ان دونوں کو rescue کرنے کے لیے وہ وہاں کوئ helicopter بھیجوا دیں۔۔۔۔

یقین جہانگیر صاحب کے تعلقات فوجیوں سے بہت اچھے تھے۔۔۔۔۔

جہانگیر صاھب بھی یہ سن کر پریشان ھوئے تھے۔۔۔

لیکن دعا معراج سے زیادہ انکو یہ فکر ھوئ تھی کہ کہی اس بات کا اثر election پر نا ھو۔۔۔۔

خیر انھوں نے اپنے ایک جنرل دوست سے بات کی تھی کہ وہ وہاں ایک ہیلی کوپٹر بھیج دیں جو دعا اور معراج کو ریسکیو کر کے لا سکے۔۔۔۔

لیکن شائید اج کوئ بھی چیز ساتھ دینے کو تیار نا تھی۔۔۔

جنرل صاحب نے جہانگیر صاحب کو بتایا کہ ناران کہ اس خراب موسم میں کوئ بھی ہلی کوپٹر وہاں نہیں جا سکتا۔۔۔

جب تک وہاں برف باری کی صورت حال ٹھیک نہیں ھوگی۔۔۔۔

جسے موسم ٹھیک ھوگا یہ وہاں چلے جائیں گے ۔۔۔۔

جہانگیر صاحب بھی اب کافی پریشان ھوئے تھے۔۔۔

بریرہ بیگم کا تو دل ڈھلا جارہا تھا۔۔۔۔گھر میں سب لوگ ہی پریشان ھو گئے تھے سوائے ۔۔سجل کے ۔۔۔

سجل نے خوشی خوشی فون کر کے یہ خبر ہما کو دی تھی۔۔

لیکن ہما کہ لیے یہ خبر اچھی نا تھی۔۔۔

وہ یہ خبر سن کر اور مزید جل کر راکھ ھوگئ تھی۔۔۔

وہ جانتی تھی کہ اکثر تنھائ اور ڈر انسان کو پاس لے آتا ھے۔۔۔

معراج تو دعا کو چھاتا ہی تھا کہی دعا بھی اس کے پاس نا اجائے۔۔۔

ہما کا دماغ یہ سن کر پھٹ رہا تھا۔۔۔۔

اور اب وہ جلد ہی کسی سازش کو انجام دینا چھاتی تھی۔۔۔۔۔۔

انتیظار تھا تو بس دعا معراج کی واپسی کا۔۔۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

وہ چھوٹا سا لڑکا ایک بڑے سے ہال میں تھا جب اسکو کوئ زور زور سے ھنس ھنس کر بلا رہا تھا!!!

معراج

مجھے دھونڈو۔۔۔۔

معراج ؟؟؟؟

میں کہاں ھو۔۔۔۔۔؟؟؟

دیکھو میں چھپ گئ۔۔۔

معراج اس وقت بڑا معراج نہیں تھا وہ تو کوئ 8 سال کا بچہ تھا۔۔۔۔۔

بہت پیارا سا چھوٹا سا لڑکا۔۔۔

جس کہ چہرے پر حد سے زیادہ معصومیت تھی۔ ۔

جو کسی کو ھنس ھنس کر ڈوھونڈ رہا تھا۔۔۔۔۔

پھر ایک دم اس نے جاکر اس وجود کو زور سے پکڑ کر کہا۔۔۔۔

میں نے اپ کو پکڑ لیا اب کہی نہیں جانے دوں گا ۔۔۔

معراج کے چھوٹے چھوٹے ہاتھ انکے نرم نرم ہاتھوں میں تھے ۔۔

میرا بیٹا تو بہت ھوشیار ھوگیا ھے۔۔۔۔

انھوں نے نیچے بیٹھ کر چھوٹے معراج کے گال پر بوسہ دیا۔۔۔۔

آٹھ سال کے معراج نے انکو زور سے گلے لگا لیا تھا۔۔۔۔۔

میں اپ کو کہی نہیں جانے دوں گا۔۔۔۔۔

تو اسکی اس بات پر وہ بہت زور زور سے ھنسی تھی اور کہا تھا ۔۔۔

میں بھی تمھیں چھوڑ کر کہی نہیں جاوں گی میرے بیٹے۔۔۔۔

تبی اچانک معراج کے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے انکے ہاتھ چھوٹ رہے تھے۔۔۔

معراج ھنستے ھنستے ایک دم رونے لگا تھا۔۔۔۔

کوئ زبردستی اس وجود کو لے جارہا تھا جس کے بنا معراج سانس نہیں لے سکتا تھا ۔۔۔

کوئ انکو چھین کر اس سے دور لے جارہا تھا۔۔۔

ھنسے کی آواز اب چیخوں میں تبدیل ھوچکی تھی۔۔۔۔

معراج بری طرح چیخ رہا تھا۔۔وہ وجود اس سے دور جا رہا تھا۔۔۔ایک دم سے ہال میں اندھیرا ھو رہا تھا۔۔۔

خوشیاں جانے لگی تھی۔۔۔

معراج اپنے چھوٹے چھوٹے پاوں سے اگے بڑھ بڑھ کر انکو روک رہا تھا۔۔۔اور ایک بار پھر جاکر اس وجود میں چھپ گیا تھا۔۔۔۔

پھر کسی نے اس ننی سی جان کو زور سے کھینچ کر پیچھے کیا تھا۔۔۔۔۔

اور اب زبردستی معراج کو پکڑ رکھا تھا۔۔۔

چھوڑووووووووووو مجھےےےےےےےے

معراج کی معصوم آواز اپنی طاقت سے چیخ رہی تھی۔۔۔۔

چھوڑوووووووووو

نہیںںںںںںں !!!

انکو کہی نہیں لے کے جاو !!!!!!

پر دیکھتے دیکھتے معراج کی انکھوں سے وہ وجود غائب ھو گیا تھا۔۔۔۔

اور ایک دم سے وہ بلکل تنھا رہے گیا تھا۔۔۔۔

سارے ہال میں ادھیرا پھیل رہا تھا۔۔۔

وہ چیخ رہا تھا۔۔۔

پلیز نہیں۔۔۔۔!!!!

پر کوئ اس معصوم کے پاس نا تھا۔۔۔۔۔

وہ تنھا تھا ۔۔۔۔۔

رو رہا تھا۔۔۔۔۔

اکیلا چلا رہا تھا ۔۔۔

مدد کو پکار رہا تھا۔۔۔۔

پر کوئ نا تھا اس کے ساتھ ۔۔۔۔اور دیکھتے دیکھتے اندھیرا اس 8 سال کے بچے کو نگل گیا تھا۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

دعا معراج کے سینے سے سر ٹیکا کر سوئ ھوی تھی تب اسکو محسوس ھوا تھا کہ معراج کچھ بول رہا ھے۔۔۔۔۔

وہ پچھلے دو گھنٹے سے سو رہے تھے۔۔۔۔

دعا کا جو ہاتھ معراج کے ہاتھوں میں تھا وہ اسکو بہت مظبوطی سے پکڑے ھوا تھا۔۔۔۔۔

دعا نے ایک دم اپنا سر اٹھا کر دیکھا تو اسکو معراج کے چہرے پر پسینا نظر آیا۔۔۔۔

جھوپڑی میں جلتی موم بتی بجھ چکی تھی۔۔۔

جھوپڑی میں صرف چاند کی روشنی پڑ رہی تھی۔۔۔۔

اج اتفاق سے پورا چاند تھا۔۔۔جو کھلے صاف آسمان میں چمک رہا تھا۔۔۔

بارش اور برف باری روک چکی تھی آسمان صاف ھو چکا تھا۔۔۔

اس لیے چاند اس وقت حد سے زیادہ چمک رہا تھا۔۔۔۔۔

اور اسکی کچھ مدھم سی روشنی جھوپڑی نما دوکان میں بنی چھوٹی سی کھڑکی سے آرہی تھی۔۔۔۔۔

اور معراج کے منہ پر پڑ رہی تھی۔۔۔

دعا بہت غور سے معراج کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

معراج کی انکھیں بند تھی۔۔۔۔

لیکن اسکا چہرہ اس حد سے زیادہ ٹھنڈ میں بھی پسینا پسین ھوا تھا۔۔۔۔

وہ بار بار کچھ بول رہا تھا

دعا کے لیے سمجھنا آسان نہیں تھا وہ کیا بول رہا ھے۔۔۔۔کیونکہ معراج بہت ہلکے ہلکے ھونٹ ہلا رہا تھا۔۔۔

دعا سمجھ چکئ تھی کہ وہ کوئ خواب دیکھ رہا ھے۔۔

دعا نے ہلکے سے اپنا ہاتھ معراج کے ہاتھ سے چھڑوانا چھا تو معراج نے اسکا ہاتھ مظبوطی سے تھام لیا۔۔۔

دعا نے ایک بار پھر ہلکی سی کوشش کی وہ اٹھ کر معراج کے لیے دوکان میں پڑا پانی لانا چھا رہی تھی۔۔۔۔

دعا نے اب کہ زور سے ہاتھ کھینچا تھا ۔۔۔۔

تو معراج نے ایک دم اپنی انکھیں کھولی تھی۔۔۔۔

اور وہ سب کچھ بھول کر بری طرح چیخ رہا تھا۔۔۔۔۔

نہیں لے کے جاوں انھے۔۔۔۔

چھوڑ !!!!!!!

چھوڑووووو

کہی مت جاو !!!!!!

روک جائیں ماما۔۔۔

پلیز !!! !

معراج اس وقت سب بھول چکا تھا اس کو کمرے میں صرف اندھیرا نظر آیا تھا۔۔۔۔

دعا ایک دم خوف زادہ ھوئ تھی۔۔۔۔لیکن پھر اسکو فورن یاد آیا تھا کہ معراج اندھیرے سے ڈرتا ھے۔۔۔

معراج بری برح چیخ رہا تھا۔۔۔۔۔

اور اندھیر سے ڈر رہا تھا۔۔۔۔

معراج ؟؟؟؟

معراج !!!!

دعا نے خود کو سنبھالا اور معراج کو اپنی موجودگی کا آحساس دلایا۔۔

لیکن معراج اس وقت کچھ سن نہیں رہا تھا۔۔۔

وہ اپنی پوری طاقت سے مسلسل چیخ رہا تھا ۔۔

معراج ؟؟؟

معراج ؟؟؟

دیکھیں میں ھوں دعا ؟؟؟

معراج ؟؟؟

دعا نے معراج کا ہاتھ تھامنا چھا تو اسنے جھٹک دیا۔۔۔

وہ اندھیرے اور ڈر میں دعا کا چہرہ نہیں دیکھ پارہ تھا وہ سمجھ رہا تھا یہ ادندھیرے کے ہاتھ ھے

تبی دعا نے معراج کا منہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر اپنی طرف موڑا تھا۔۔۔

اور اسکے بلکل پاس ھوئ تھی۔۔۔۔اور زور سے بولی۔۔۔۔

معراج میں ھوں دعا !!!!!

دعا ؟؟؟؟

دعا ؟؟؟؟

معراج نے ایک دم کہا۔۔۔۔

معراج کو جب دعا کا چہرہ نظر آیا تو اسکو محسوس ھوا کہ وہ محفوظ ھے۔۔۔

دعا ؟؟؟؟

معراج کی انکھیں نم تھی۔۔۔وہ کچھ عجیب سی کیفیت میں دعا کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

ہاں معراج میں دعا۔۔۔۔°°°°

دعا کے دنوں ہاتھ معراج کے منہ پر تھے۔۔۔۔

اور وہ معراج کے حد سے زیادہ پاس تھی۔۔۔۔

اور گھٹنوں کے پل بیٹھ کر اسکو اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی تھی۔۔۔

دعا ؟

معراج بلکل معصوم بچوں کی طرح گھوٹنو کے بل بیٹھ کر دعا کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

اور پھر ایک دم زور سے اسنے دعا کو اپنے پاس کھینچا تھا اور اپنے گلے سے لگا لیا تھا۔۔۔۔

دعا گھوٹنوں کے بل بیٹھی تھی اس لیے سنبھل نہیں پائ تھی۔۔۔اور سیدھے معراج کے اوپر جاکر گیری تھی۔۔۔۔

دعا میری جان !!!!!

معراج بری طرح رو رہا تھا۔۔۔۔

مجھے اس اندھیرے سے نکال دو۔۔۔

پلیز دعا۔۔۔۔۔

مجھے لے جاو اس اندھیرے سے۔۔۔۔

معراج نے اپنی دونوں بازوں سے دعا کی کمر کے ارد گرد گھیرا بنا لیا تھا۔۔۔

اور بہت زور سے اپنے اندر سمایا ھوا تھا۔۔۔۔

دعا کو سمجھ نہیں آرہا تھا

وہ اس قدر قربت کی عادی نا تھی۔۔۔اسکو معراج کی قربت سے ایک دم کرنٹ سا لگا تھا ۔۔۔

معراج کی سانسیں بری طرح پھول رہی تھی۔۔۔اور دل کی ڈھڑکن پھٹنے کو تھی۔۔۔وہ اس وقت حد سے زیادہ خوفزادہ تھا۔۔۔

وہ جانتی تھی معراج کی گرفت بہت مظبوط ھے وہ اس وقت خوف زادہ ھے اسکو نہیں چھوڑے گا۔۔۔

اس لیے دعا نے کوئ ھل جھل نہیں کی اور خاموشی سے معراج کے گلے سے لگ کر اسکو تسلی دینے لگی۔۔۔۔۔

معراج میں ھوں اپ کے ساتھ۔۔۔۔

ڈریں نہیں۔۔۔۔۔!!!!

دیکھیں کچھ نہیں ھے۔۔کوئ نہیں لے جارہا۔۔۔وہ اس وقت معراج کے ساتھ ایسے جوڑی ھوئ تھی۔۔کہ معراج کے دل کی ڈھڑکن دعا کو اپنے اندر محسوس ھو رہئ تھی۔۔

دعا معراج کا ڈر ختم کرنے اور اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے بار بار بولے جا رہی تھی۔۔۔۔

کچھ نہیں ھوا۔۔۔۔

سب ٹھیک ھے۔۔۔

وہ تھوڑی دیر آنکھیں بند کر کے دعا کے گلے لگا رہا

معراج کی ڈھڑکن اور سانس اب کچھ سنبھلی تھی۔۔۔

وہ سہما اور ڈرا ڈرا سا ھوکر دعا کی بھاہوں میں چھپ گیا تھا۔۔۔

دعا نے بھی پتا نہیں کیوں اسکو خود سے دور نا کیا تھا۔۔۔۔

نجانے کتنی دیر معراج اسی طرح دعا کے گلے لگا رہا ۔۔۔۔۔

معراج ؟؟؟؟

کافی دیر کی خاموشی کے بعد دعا نے معراج کو پکارا تھا۔۔۔وہ ابھی بھی چھوٹے سے بچے کی طرح دعا کے گلے سے لگ کر رو رہا تھا۔۔۔۔

پتا نہیں کیوں وہ دعا کو کسی خوف کی وجہ سے چھوڑ نہیں رہا تھا۔۔۔

معراج ؟؟۔۔

معراج کے کوئ جواب نا دینے پر دعا نے اسکو پھر پکارا تھا۔۔۔۔

کیا ھوا ؟؟

کوئ خواب دیکھا اپنے ؟؟؟

دعا کے سوال کرنے پر معراج کو ایک دم احساس ھوا تھا۔۔۔

وہ فورن دعا سے الگ ھوا تھا۔۔۔اس کی حالت بھی اب کچھ سنبھل چکی تھی۔۔۔لیکن اسکی انکھوں میں انسو ویسی جارہی تھے۔۔۔۔

کچھ نہیں۔۔۔۔

سوری !!!!

معراج نے ایک دم اپنی حرکت پر شرمندہ ھوکر کہا تھا۔۔۔۔۔

اور اٹھ کر ایک دم جھوپڑی سے باہر نکلا تھا۔۔۔

وہ بس اب جلد از جلد یہاں سے بھاگ جانا چھاتا تھا۔۔۔۔

دعا بھی اس کے پیچھے پیچھے باہر ائ تھی۔۔۔۔

پتہ نہیں بلاج نے اب تک ہلی کوپٹر کا انتیظام کیوں نہیں کیا۔۔۔

۔رات کے تین بجنے کو ھیں۔۔۔

حد ھے۔۔۔

معراج کچھ عجیب سی کیفیت میں تھا۔۔۔

گھبرایا سا ڈرا سا۔۔۔۔

دعا کا ڈر نجانے کہاں بھاگ گیا تھا۔۔

وہ اس وقت کا منظر دیکھ کر گم سے ھوگئ تھی۔۔۔

آسمان پر بہت سارے تاروں کے بیچ میں چمکتا پورا چاند۔۔۔۔۔

اس وقت حسن ترین لگ رہا تھا۔۔۔

اور جیسا آسمان اوپر تھا بلکل ویسا ہی آسمان سیف الملوک کی جھیل پر بن رہا تھا۔۔۔۔

دعا کو ایک دم یاد آیا تھا کہ اج 14وی کی رات ھے۔۔۔۔۔۔

جب دعا اور معراج کو اس آدمی نے کہانی سنائ تھی تو یہ ہی کہا تھا کہ 14وی کی رات کو راجہ نے پری کو اپنا بنا لیا تھا۔۔۔۔۔

دعا کے زہن میں جیسی یہ بات ائ اسنے معراج پر نظر ڈالی تھی۔۔۔معراج بھی اس کے ساتھ کھڑا آسمان دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

دعا کچھ بولنے ہی والی تھی کہ ایک دم معراج بول پڑا۔۔۔۔

مجھے اس چاند سے نفرت ھے۔۔اور بول کر فورن واپس جھوپڑی میں اگیا تھا۔۔۔اور اب لال ٹین ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔۔

دعا بھی اس کے پیچھے پیچھے اندر ائ تھی۔۔۔۔

کیوں نفرت ھے اپ کو اس چاند سے ؟؟دعا نے اتے ہی سوال کیا تھا ۔۔۔

وہ معراج کی کہانی سنا چھاتی تھی جس سے وہ بھاگ رہا تھا۔۔۔۔

کچھ نہیں۔۔۔

معراج نے لال ٹین میں اگ جالتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔

دعا واپس اکر اسی جگہ پر بیٹھ گئ تھی۔۔۔۔۔

سردی سے حد سے زیادہ بڑھ گئ تھی۔۔۔

اور ناقابلے برداشت تھی۔۔۔

دعا نے محسوس کیا تھا کہ معراج کا چہرہ نیلا ھو رہا ھے۔۔۔

وہ بری طرح سے بارش میں بھیگا تھا۔۔۔

دعا کو ایک دم یاد آیا تھا۔۔۔تو اسنے پوچھا ۔۔۔

وہ بیگ کہاں ھے ؟؟

معراج نے اپنی جیکٹ کے ساتھ رکھا بیگ اسکی طرف بڑھیا تھا۔۔۔۔

دعا نے بیگ تھام کر اس میں سے ایک بڑی موٹی چادر نکالی تھی۔۔۔

معراج بھی اکر اب اس کے ساتھ بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔

یہ اپ اوڑھ لیں۔۔۔

دعا نے معراج کی طرف چادر بڑھائ تھی۔۔۔معراج نے بنا کچھ بولے وہ چادر لے لی تھی۔۔۔۔

لال ٹین کی روشنی اتنی تھی کہ اندھیرا نہں ھو رہا تھا۔۔۔۔

معراج خاموش سے بیٹھا لال ٹین کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

جب دعا نے اسکو پکارا۔۔۔۔۔

معراج ؟؟؟؟

ہمممم

معراج نے مختصر سا کہا۔۔۔۔

میں وہ سنا چھاتی ھوں جو اپ کسی سے شیئر نہیں کرتے۔۔۔۔۔

دعا نے معراج کو دیکھ کر کہا۔۔۔۔دعا کی اس بات پر معراج نے دعا کی طرف دیکھا تھا۔۔۔

دعا کی بڑی بڑی انکھیں بہت گھیری تھی۔۔۔۔اور معراج ان میں ڈوبنے سے ڈرتا تھا۔۔۔۔

وہ جانتا تھا وہ دعا کے سامنے یہ سب نہیں چھپا سکتا وہ دعا کے گالے لگ کر رویا تھا۔۔۔

کچھ نہیں۔۔۔!!!!!

ھے ۔۔

معراج نے مختصر سا کہا اور سر نیچے جھکا لیا تھا۔۔۔۔

معراج پلیز بتائیں !!!!!

دعا نے معراج کا ہاتھ تھام کر کہا تھا۔۔

معراج اب خود کو نا روک سکا تھا۔۔۔

وہ ایک بار پھر دعا کے سامنے کمزور پڑ گیا تھا۔۔۔

معراج جہانگیر پہلی بار کسی کے سامنے رویا تھا۔۔۔۔

بولیں معراج ایسا کیا ھوا ھے ؟؟

جو اپ اندھیرے سے اس قدر ڈرتے ھیں ؟؟؟؟

دعا نے معراج کا خوف جاننے کے لیے کہا۔۔۔۔

معراج بنا کچھ بولے اب دعا کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا تھا ۔۔۔

دعا جیھپی تھی۔۔۔لیکن کچھ بولی نہیں تھی۔۔۔لوگوں کو وہ تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔۔۔

دعا ؟؟؟

معراج نے دعا کی گود میں سر رکھ کر اسکو پکارا تھا۔۔۔۔

جی ؟

دعا نے فورن کہا تھا۔۔۔

معراج نے ایک ہاتھ سے اسکا ہاتھ تھاما تھا۔۔۔

عجیب سی رات تھی یہ۔۔۔

دعا اور معراج ایک دوسرے کے بے حد پاس تھے۔۔۔۔

دعا کو معراج کا چھونا برا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔

اور معراج کو دعا کو چھوتے ھوئے روکاوٹ محسوس نہیں ھورہی تھی۔۔۔

وہ دعا پر حق جتا رہا تھا اور دعا اسکو حق جتانے دے رہی تھی۔۔۔۔

اس رات نے دونون کی تمام رنجیشیں بھلا دی تھی۔۔۔۔۔۔۔

دعا ؟؟؟

میں بہت تھک گیا ھوں

اکیلا چلتا چلتا ۔۔

بہت تھک گیا ھوں۔۔۔۔

معراج نے آہستہ آہستہ اب بولنا شروع کیا تھا۔۔۔۔۔۔

میں نے بچپن سے اج تک یہ سب کسی سے نا کہا۔۔۔

پر اب میں تھک گیا ھوں۔۔۔

میں اس عزاب سے جان چھوڑانا چھاتا ھوں۔۔۔۔

معراج کی آوآز بھیگی ھوئ تھی۔۔۔۔

جب تک ہم اپنا دکھ کسی کے ساتھ بانٹھتے نہیں ھیں ۔۔

تب تک درد ہم سے اور ہم درد سے دور نہیں ھو پاتے۔۔۔

دعا نے گھیرے انداز میں کہا۔۔۔۔۔

مجھے سب بتایں شروع سے ایک ایک چیز۔۔۔۔۔

دعا نے معراج کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔

معراج نے اپنے دونون ہاتھوں میں دعا کا ایک ہاتھ لیا اور اپنے سینے پر رکھا تھا اور خود اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹا تھا۔۔

دعا بھی دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھی۔۔۔۔

اور ایک ہاتھ سے معراج کا سر سہلا رہی تھی۔۔۔

معراج نے انکھیں موند لی تھی۔۔۔۔

اور اب بولنا شروع کیا تھا۔۔۔۔۔۔

اسکی آواز بھیگی ھوئ تھی۔۔۔۔

وہ اج اپنا ہر ایک غم درد دعا سے شئیر کرنا چھاتا تھا ۔۔۔وہ درد جو بچپن سے جھیل رہا تھا اس سے نجات چھاتا تھا۔۔۔

اور اس درد سے نجات اسکو صرف دعا دلا سکتی تھی ۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

یعقوب حسین !!!!

سندھ کے جانے مانے وادرے اور سیاست دان تھے۔۔۔۔۔

انکا راج پورے سندھ پر چلتا تھا۔۔۔۔۔

وہ ایک بہت روب دار شخصیت کے مالک تھے۔۔۔۔

انکی ایک بیٹی تھی جس کا نام کوسم تھا۔۔۔

وہ ایک انتھائ حسین اور خوبصورت لڑکی تھیں۔۔۔

اور اپنے باپ کی حد سے زیادہ لاڈلی بھی تھی۔۔۔۔

یعقوب حسین کے پاس دولات کی کوئ کمئ نا تھی۔۔۔اور انکی ساری دولت کی وارث ایک لوتی بیٹی کوسم تھیں۔۔۔۔

کوسم ایک انتھائ معصوم اور کم عمر لڑکی تھی۔۔۔

اور اپنے باپ کا ہر حکم مانتی تھی۔۔

یعقوب حسین کی کچھ طبعیت نا ساز رہیتی تھی۔۔۔۔

اور وہ اپنی بیٹی کے اکیلے ہمدرد تھے۔۔۔۔کوسم کا بھی اپنے باپ کے سوا اور کوئ نا تھا۔۔۔۔۔

جب کوسم کی شادی کا وقت قریب آیا تو یعقوب صاحب نے اس کے لیے اچھے سے اچھا لڑکا سوچ رکھا تھا۔۔۔۔

انھوں نے کوسم کی شادی اپنی ہی پارٹی کے ایک آدمی کے ساتھ طے کر دی تھی۔۔

وہ آدمی کافی سالوں سے ان کے ساتھ تھا۔۔۔۔۔

کوسم نے باپ کی مرضی کے اگے کچھ نا کہا تھا۔۔۔۔۔

اور کوسم سے شادی کرنے والا بھی حد سے زیادہ خوش تھا۔۔۔

یعقوب صاحب نے کوسم کا نکاح اس نوجوان سے کروا دیا تھا۔۔لیکن رخصتی ابھی نا دی تھی۔۔۔۔

اس نوجوان کو کچھ سالوں کے لیے باہر جانا تھا علی تعلیم حاصل کرنے۔۔۔۔

کوسم اور اس نوجوان میں کافی حد تک محبت تھی۔۔۔۔

کوسم نے دل پر پتھر رکھ کر اپنے شوہر کو بھار جانے دیا تھا۔۔۔۔

اور جب اس نوجوان کی پڑھائ مکمل ھو جاتی بس تب ہی وہ کوسم کو بھیا کر اپنے ساتھ لے جاتا۔۔۔

کوسم کا شوہر اور یعقوب حسن کا داماد اتنا زیادہ امیر نا تھا۔۔۔۔

وہ ایک معمولی سا لڑکا تھا۔۔لیکن کوسم سے نکاح ھونے کے بعد اور یعقوب صاھب سے تعلق ھونے کے بعد اب وہ کافی خاص بندہ بن چکا تھا۔۔۔۔۔

وہ نوجوان باہر سے علی تعلیم حاصل کرنے باہر چلا گیا تھا۔۔۔

دیکھتے دیکھتے وقت گرزتا گیا۔۔۔۔

اور 8 سال بیت گئے۔۔۔۔۔

ان آٹھ سالوں میں کوسم نے پل پل اس شخص کا انتیظار کیا تھا ۔۔

یعوب صاحب بیٹی کی رخصتی کی خواہش لے کر اس دنیا فانی سے رخصت ھو گئے تھے۔۔۔

یعقوب صاحب کے بعد سیاست کی تمام بھاگ ڈور کوسم یعقوب سے سنبھال لی تھی۔۔۔۔وہ اب تک اپنے شوہر کا انتیظار کرہی تھی۔۔۔۔۔

وہ روز کوسم کو فون کر کے کہتا تھا۔۔۔۔کہ میں جلدی آوں گا۔۔۔۔۔۔۔

اور اج بھی اسکا فون ایسے ہی ایا تھا۔۔ہیلو ؟؟؟؟

کوسم نے فون کان سے لگا کر کہا۔۔۔

اچھا کب ؟؟؟

کیا واقعی ؟؟؟

اھوو میں بہت خوش ھوں ؟؟؟

کوسم نے جب فون بند کیا تو وہ حد سے زیادہ خوش تھی۔۔۔۔

انھوں نے اپنی پوری ہویلی کو سجا دیا تھا۔۔۔۔

انکا انتیظار اب ختم ھوچکا تھا۔۔۔۔۔

انکے شوہر 8 سال بعد واپس آرہے تھے وہ بہت خوش تھی۔۔۔۔

وہ نوجوان بھی واپس آچکا تھا۔۔۔۔

اور خیر سے کوسم کو رخصت بھی کروالایا تھا۔۔۔۔

کوسم کو بھیایا کیا تھا ۔۔۔کوسم نے اپنے گھر میں ہی اسکو رکھا ھوا تھا۔۔۔

کوسم کا عشق بھی اس نوجوان سے جنون کی انتھاء کا تھا۔۔۔۔۔

وہ کافی خوش تھی۔۔۔۔

انکی شادی کو 3 مھینے گزر چکے تھے اور اللہ نے انکو ایک خوشخبری بھی عطا کی تھی۔۔۔۔

وہ خیر سے اس نجوان کے بچے کی ماں بنے والی تھی۔۔۔۔

سنیں !!!

وہ یہ خوشخبری سنانے اپنے شوہر کے پاس ائ تو وہ کچھ بولتی اس سے پہلے اس نوجوان نے کہنہ شروع کیا۔۔۔

مجھے واپس یو کے جانا ھوگا۔۔

میں وعدہ کرتا ھوں جلدی واپس آوں گا۔۔

یہ بات سن کر کوثم کی یہ خوشی پھیکی پڑ گئ تھی۔۔۔

وہ کسی صورت مانے کو تیار نا تھی۔۔۔لیکن عشق جنون کی انتھاء کا تھا اس لیے وہ پھر اپنے شوہر کی خوشی کے لیے مان گئ تھی۔۔۔۔۔

اور اپنے شوہر کو جانے کی اجازت دے دی تھی۔۔۔لیکن یہ وعدہ لیا تھا کہ وہ یہاں واپس آئیں گے جب ان کے بچے کی پیدائش ھوگی۔۔۔۔۔

اور وہ نجوان وعدہ کر کے پھر چلا گیا تھا۔۔

وقت گزتا گیا۔۔۔

وہ پھر اتیظار کرتی رہی۔۔۔۔بل آخر انکے بچے کی پیدائش کا وقت اگیا۔۔۔

وہ نجوان اپنی کسی مجبوری کی وجہ سے نا آسکا۔۔وہ بہت روتی تھی ۔۔۔۔۔

وہ بلکل تنھاء تھی۔۔۔

تب اللہ نے انکو ایک تحفہ دیا تھا۔۔۔

جب ڈاکٹر نے کوسم کو لاکر انکا بچہ تھامیا۔۔۔۔

تو اپنے معصوم سے بچے کو ہاتھ میں لے کر انھوں نے جب پیار کیا تو وہ اپنا ہر غم بھول گئ تھی۔۔۔۔

انھوں نے اس ننے سے وجود کو اپنے گلے سے لگایا تھا اور بہت بری طرح روئ تھی۔۔۔۔۔

اتفاق سے اس بچے کی پیدائش ایک بہت مبارک دن ھوئ تھی۔۔۔۔

جس دن وہ معصوم سا گولوملو سا بچہ اس دنیا میں ایا تھا۔۔۔۔

وہ دن شب معراج کا تھا۔۔۔۔۔

تب کوسم نے اپنے بیٹے کو گلے سے لگا کر کہا تھا۔۔۔۔

میں اسکا نام معراج جہانگیر رکھوں گی !!!