Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zid Junoon Ki Inteha Episode 5

Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi

تھوڑی ہی دیر بعد دعا تیار ھوکر کمرے سے باہر اگئ تھی۔۔۔۔۔۔

پیلے اور ہرے رنگ کی فورک پہنے وہ بے حد حسین لگ رہی تھئ۔۔۔۔۔سر پر خوبصورتی سے حجاب سجائے ۔۔۔اپنے سرپاے کو دھکے وہ پری لگ رہی تھی ۔۔۔

جھیل جیسی انکھوں میں ہلکا ہلکا سا کاجل گلاب جیسے ھونٹ پر گلابی کلر کی ھلکی لیپ اسٹک لگائ تھئ اسکا چہرہ چاند کی طرح روشن اور صفاف تھا۔۔۔۔

وہ heels پہنے ہلکے ہلکے زینے سے اتر رہی تھی جب عائشہ اور سیرت کی نظر اس پر پڑی دعا کا حسن لوٹ لینے والا تھا کھڑی ناک گلابی ھونٹ عزالی انکھ ۔۔وہ حسن کی مکمل مثال تھی۔۔۔۔۔اور اس پر اس کا حجاب لینے کا انداز اس کو سب سے منفرد بناتا تھا۔۔۔۔۔

ماشاءاللہ دعا !!!!!

بہت پیاری لگ رہی ھو۔۔۔۔دعا جب اتر کر لاوئنج میں ائ تو سمیرا بیگم نے نظر کی دعا پڑھ کر دعا پر پونک کر کہا۔۔۔۔۔

ہاں واقع دعا بہت پیاری لگ رہی ھو۔ ۔عائشہ اور سیرت نے بھی اس کی تعریف کی تھی۔۔۔۔دعا شروع سے اپنی تعریف ھونے پر نروس ھوکر نظر جھکا لیتی تھی۔۔۔۔۔

سیرت اور عائشہ نے بھی پیلے رنگ کے کپڑے پہنے تھے۔۔۔یہ ایک them wedding تھی اور اج کاthem پیلے رنگ کی فورک تھا۔۔۔۔

چلو کافی دیر ھوگئ ھے بار بار ہما کی کال آرہی ھے ۔۔۔۔

عائشہ نے گھڑی پر نظر ڈالتے ھوئے کہا۔۔۔۔

ہمم امی عمیر کہاں ھے ؟؟؟۔

دعا نے سمیرا بیگم سے پوچھا۔۔۔

وہ تم لوگ کا گاڑی میں انتیظار کر رہا ھے چلو جاو اب۔۔۔۔

سمیرا بیگم نے دعا کو گلے لگا کر کہا۔۔۔۔

اچھا امی عمیر کو جلدی بھیج دیجے گا لینے دعا نے جاتے جاتے سمیرا بیگم کو کہا اور بوسہ دے کر اللہ حافظ بول کر نکل گئ۔۔

اچھا آنٹی اللہ حافظ !!!!عائشہ اور سیرت بھی اس کے پیچھے پیچھے باہر کی طرف لپکی۔۔۔

عمیر گاڑی میں بیٹھا ان ہی لوگوں کا انتیظار کر رہا تھا۔۔۔۔

دعا اکر فورنٹ سیٹ پر بیٹھ گئ جب کہ عائشہ اور سیرت پیچھے والی سیٹ پر بیٹھی۔۔۔۔۔

افففف اللہ تم لڑکیوں کے میک اپ کسی صورت ختم نہیں ھوتے۔۔۔۔۔۔۔۔عمیر نے چیڑ کر کہا۔۔۔۔

کب سے تم لوگ کا wait کر رہا ھوں میں حد ھوتی ھے ویسے۔۔۔۔۔

کیوں کرتی ھو اخر تم لڑکیاں اتنا میک اپ۔۔۔۔؟؟؟

رہتی تو وہی چڑیل کی چڑیل ھو۔۔۔۔عمیر نے اپنی ھنسی دبا کر کہا۔۔۔۔

چڑیل کے بچے جب تیری روبی تیار ھو کر آتی ھے تب یہ کیوں نہیں اسے چڑیل بولتا۔۔۔۔۔؟؟؟

دعا نے کار چلاتے عمیر کا کان پکڑ کر کہا۔۔۔۔۔

عائشہ اور سیرت ان دونوں کی نوک جونک پر ھنس دی۔۔۔۔۔

اففففففف آپی کان تو چھوڑو مزاق کر رہا ھوں۔۔۔۔

وہ تو پھر ہم ہم ہم !!!!!!

عمیر نے ایک مسکراہٹ سجا کر کہا۔۔۔۔دعا نے ھنس کر بھائ کا کان چھوڑ دیا۔۔۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں عمیر ان کو ہما کے گھر پر ڈرپ کر کے چلا گیا تھا۔۔دعا نے جاتے جاتے عمیر کو کہا تھا کہ اس کو جلدی لینے ائ۔۔۔۔۔ہما کے گھر والے انکا ہی انتیظار کر رہے تھے اور ان کے آتے ہی وہ لوگ جہانگیر مینشن کے لیے نکل گئے تھے۔۔۔۔۔

جب وہ لوگ جہانگیر مینش پر پہنچے تو ان کا پھر پور استقبال کیا گیا تھا۔۔۔۔۔یہ تینوں جاکر ایک ٹیبل پر بیٹھ گئ تھئ۔۔۔۔۔

بڑے سے لان میں بلکل بیچ میں ڈانس فلور بنا تھا۔۔۔۔۔

مھندی کے گانے کانوں کی آواز کان کے پردے پھاڑ دینے والی تھی۔۔۔۔۔دعا کو بے ساختہ وہ دن یاد آیا جس دن تیز گانوں کی آواز پر اس کی ایک بد مزاج انسان سے بھس ھوئ تھی۔۔۔۔۔دعا نے اپنا دھیان جھٹکا۔۔۔۔اور عائشہ اور سیرت سے باتوں میں لگ گئ۔۔۔۔۔

ہما دلاور کے ساتھ لگی تھی۔۔۔۔۔دعا کو اپنے ارد گرد کے محول سے الجھن ھورہی تھی۔۔اس نے اپنے آس پاس نظر ڈوڑائ۔۔۔۔ہر طرف بے حیائ عروج پر تھئ۔۔۔لڑکیاں چھوٹے چھوٹے بنا ڈوپٹوں کے لباس میں اپنے بھائ باپ کے سامنے گھوم رہی تھی۔۔۔۔۔کھلا سر کھلے بال اپنی نسوانیت کا کھلا مظاہرہ کر رہی تھی۔۔۔۔دعا وہ واحد لڑکی تھی اس پوری محفل میں جس نے سر پر حجاب لے رکھا تھا۔۔۔۔۔

عائشہ اور سیرت دونوں نے اکر یہاں کا محول دیکھ کر اپنا سر پر لیا ڈوپٹہ ایک طرف ڈال دیا تھا۔۔۔۔۔۔

دعا تم بھی اتر دو حجاب کبھی کبھی تو چلتا ھے۔۔۔۔۔عائشہ نے دعا کو مشورہ دیا۔۔۔۔۔

میں بالوں کا پردہ کرتی ھوں عائشہ مجھے اس چیز پر فورس نا کرو۔۔۔دعا اپنے حجاب پر کوئ سمجھوتا کرنا پسند نہیں کرتی تھی ۔۔۔۔۔وہ محول کو دیکھ کر بدلنے والے لوگوں میں سے نہیں تھی۔۔۔۔۔

اور ہر ایک نوجوان کی نظر دعا پر آٹکی تھی۔۔۔اس محفل میں اور بھی بہت سی لڑکیاں تھی لیکن ہر ایک لڑکے کی نظر دعا کے چہرے کا طواف کر رہی تھی۔۔۔اسکا گھائل کر دینے والا حسن یہاں کے تمام لڑکوں کو گھائل کر رہا تھا۔۔۔۔اور وہ ان تمام لوگوم کی نظروں کو محسوس کر کے uncomfertable ھوئے جارہی تھی۔۔۔۔اس کو بہت برا لگتا جب کوئ لڑکا اس کو دیکھ کر نظر ہٹانا بھول جاتا۔۔۔۔اس کا دل کرتا کے وہ کہی جاکر چھپ جائے۔۔۔۔۔وہ جیسی غضہ سے دیکھتی تو لڑکے اپنی نظر جھکا لیتے۔۔۔۔۔

افف میرے اللہ میں کہاں پھس گئ ھوں دعا نے دل میں سوچا۔۔۔۔

دعا اپنی ھی سوچوں میں گم تھی جب ایک دم ساری لائٹس آف کردی گئ تھی۔۔۔۔۔پورے لان میں اندھیرا کر دیا گیا تھا۔۔۔

اور بس ایک فلو لائٹ اسٹیج پر جمی تھی۔۔۔۔۔۔

اسٹیج پر کھڑے ھوسٹ نے سب کو اسٹیج کی طرف انے کی دعوت دی۔۔۔۔تمام لوگ اسٹیج کے اردگرد جما ھوگئے۔۔۔۔۔۔

چلو چلتے ھیں عائشہ اور سیرت اٹھ کر جانے لگی دعا نے روکنا چھا پر وہ نا روکی دعا کو اکیلے اندھیرے میں یہاں بیٹھنا ٹھیک نا لگا اس لیے مجبورن یہ ان دونوں کے پیچھے چل دی۔۔۔۔۔لیکن بھیڑ سے ھٹ کر کھڑی ھوئ جہاں لڑکے نہیں تھے۔۔۔۔۔

ایک بار پھر فلو لائٹس بند ھو کر disco لائٹس آون ھوئ تھی اور کوئ اندھیرے میں چلتا اکر اسٹیج کے بیچ میں کھڑا ھوا تھا۔۔۔۔

میوزک پلیر کے بڑے بڑے speakers پر گانے ابھی شروع ھوا تھا۔۔۔۔۔

گانے کی بیٹ کے ساتھ لائٹس بند کھل ھورہی تھی۔۔۔۔

لڑکیاں لڑکے پوری طاقت سے شور مچا رہے تھے۔۔۔ہر ایک اسٹیج پر کھڑے لڑکے کا نام لے رہے تھے۔۔۔کوئ راجہ راجہ کے نعرے لگتا تو کوئ ھجوم میں سے راج راج بولتا۔۔۔۔

دعا کی نظر بھی اس شخص پر تھی جو اسٹیج کے درمیان میں کھڑا کمال ڈانس اسٹیپ کر رہا تھا ابھی تک پوری لائٹس اون نہیں ھوئ تھی۔۔۔۔کبھی follow لائٹ جلتی تو کبھی ڈسکو لائٹس۔۔۔۔اور پوری آواز سے یہ گانا بجتا

Listen close to what I gotta say.

Cause you know there ain’t no other way

Love is the message

You ready?

Let’s go

ھجوم سے اور تیز چخیوں کی آواز انے لگی۔۔۔۔اور جیسے جیسے گانا بجتا گیا۔۔۔۔۔اسٹیج پر کھڑے لڑکے نے اپنا کمال رکس شروع کیا۔۔۔۔ہر گانے کے الفاظ کے ساتھ وہ اپنا step چین کرتا ۔۔۔۔

Yeah.. we can make it better.

Yeah.. when we come together.

Yeah.. all you got is me.

Yeah.. all I got is you!

گانے کا ہر ایک الفاظ اس کے ڈانس سے میچ کررہا تھا۔۔۔۔دعا ناچھاتے ھوئے بھی اس کے کمال ڈانس کی طرف متوجہ ھوئ تھی۔۔۔۔اسٹیج پر اب تک دیم لاٹس تھی۔۔۔۔

لیکن جیسے ہی یہ الفاظ !!!

Ishq se uncha?

Kuch nahi kuch nahi kuch

Ishq se badhkar?

Kuch nahi kuch nahi kuch

Ishq se accha?

Kuch nahi kuch nahi kuch

Ishq bina hum kuch nahi…

Chaahe jo aaye

Leke dil mein ishq mohabbat

Sabko gale lagaana

Apne culture ki hai aadat

Swag se karenge sabka swagat!

♪ ♪ ♪ ♫

Swag se karenge sabka swagat!

یہ الفاظ speakers پر گونجھتے ہی ھال کی تمام لائٹس آون گر دی گئ۔۔۔۔۔۔وہ بہت مھارت سے ایک ایک اسٹپ کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔وہ کسی فلمی ہیرو کی طرح ناچ رہا تھا۔۔۔۔۔۔لڑکیاں پاگلوں کی طرح اسکا رکس دیکھ کر چیخ رہی تھی۔۔۔جب فل لائٹس آون ھوئ تو شور میں مزید آضافہ ھوا تھا۔۔۔۔۔لیکن لائٹس آون ھونے کے بعد دعا کے سر پر کسی نے بوم پھوڑا تھا۔۔۔۔اس کے وہم اور گمان میں بھی نہیں تھا کہ دوبارہ کبھی اس شخص کو اپنی زندگی میں دیکھے گی۔۔۔۔۔۔۔دعا کے چہرے کا رنگ بلکل اڑ چکا تھا۔۔۔۔۔

اسٹیج پر ناچتا شخص کوئ اور نہیں وہی ضدی شخص تھا۔۔۔۔وہ اسکا چہرہ دیکھتے ھی پھچان گئ تھی۔۔۔۔اور کافی حد تک حیران اور پریشان تھی۔۔۔۔۔۔

افففف اللہ یہ ؟؟؟؟

دعا کہ منہ سے ایک دم سے نکلا تھا۔۔۔۔۔۔۔

لیکن شور کی وجہ سے کسی نے نا سنا تھا۔۔۔۔

وہ حیران اور پریشان سی اکر اپنی کرسی پر بیٹھ گئ تھی۔۔۔۔۔

اسکا ڈانس ختم ھو چکا تھا اور ہر ایک once more once more کے نعرے لگا رہا تھا۔۔۔۔

اسٹیج سے ھجوم اب واپس اپنی ٹیبلز پر جارہا تھا۔۔۔۔۔عائشہ اور سیرت بھی واپس اپنی میز پر اگئ تھی۔۔۔۔۔

یار کیا کامل ڈانس کیا ھے !!!!! قسم خدا کی یہ کسی ہیرو سے کم نہیں ھے یار !!!

عائشہ نے بہت گرم جوشی سے کہا۔۔۔۔۔

ہاں واقعی بہت اچھا لڑکا ھے۔۔۔

سیرت کے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا۔۔۔۔

دعا گم سم سی بیٹھی سوچ رہی تھی۔۔۔۔

اس کے زہن میں وہی دن لوٹ ایا تھا۔۔۔۔۔

دعا ؟؟؟؟

عائشہ نے دعا کو ہلا کر پوچھا ۔۔۔دعا جو اپنی سوچ میں گم تھی عائشہ کے ہلانے پر ایک دم چونک کر بولی !!!

ہاں کیا ؟؟؟؟

لو تو نے سنا ھی نہیں ؟؟؟ ھوا کیا ھے تجھے ؟؟؟؟

کہاں گم ھے ؟؟؟ عائشہ اور سیرت نے اسکا پریشان چہرہ دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔

نہیں کچھ نہیں دعا نے اپنے اوپر قابو پا کر کہا۔۔۔۔۔

اچھا چلو چل کر اسٹیج پر دلاور بھائ اور ان کے بھائ سے مل کر آتے ھیں۔۔۔۔۔عائشہ نے کہا۔۔۔

کوئ ضرورت نہیں ھے ایک جگہ بیٹھ جاو اب میں کہی نہیں جاون گی۔۔۔دعا نے کافی چیڑ کر کہا۔۔۔۔۔۔

دعا اس طرح کرسی پر بیٹھی تھی کہ اس کی پشت تھی لوگوں کی طرف اور منہ صرف عائشہ اور سیرت کی طرف تھا۔۔۔۔۔اچھا تم جاو عائشہ میں ھوں دعا کے ساتھ سیرت سمجھ گئ تھی کہ دعا کچھ پریشان ھے۔۔۔۔اس لیے عائشہ کو بھیجنے کے لیے بولی۔۔۔

کیا ھوا دعا ؟؟؟

کیوں پریشان ھو ؟؟

سیرت نے دعا کے پاس اکر پوچھا۔۔۔۔

یار سیرت ہی وہی لڑکا ھے!!!!

جس سے میری بھیس ھوئ تھی۔۔۔۔دعا نے جل جل کر کہا۔۔۔۔۔۔

کون ؟؟؟؟

سیرت کی آواز میں بلا کی حیرت تھی ؟؟؟؟

یہ ڈانس جس نے کیا ؟؟؟

تو نے اس کو سنائ تھی دعا ؟؟؟؟؟؟؟ سیرت کی انکھیں حد سے زیاہ پھٹی تھی !!!

ہاں اس کو !!! دعا نے بےچارگی سے کہا۔۔۔۔۔

دعا تو جانتی ھے یہ کون ھے ؟؟؟؟؟ سیرت سے اپنے اپ کو سنبھال کر کہا۔۔۔۔

نہیں !!!!!

کون ھے ؟؟؟

دعا کی پریشانی میں اضافہ ھوا۔۔۔۔

دعا یہ معراج جہانگیر ھے !!!!!!!

معراج جہانگیر ؟؟؟؟

دعا نے نے ماتھے پر بل ڈال کر سوالیہ انداز میں پوچھا۔۔۔۔

ہاں راجہ جہانگیر کا بیٹا اور ہما کا دیور تو جانتی ھے راجہ جہانگیر اس شھر کے سب سے بڑے اور جانے مانے سیاست دان اور بزنس مین ھیں۔۔۔۔۔تو نے ان کے ہی بیٹے کو ؟؟؟

تو نے واقعی

اس کو ؟؟؟؟؟

سیرت کو اب تک یقین نہیں آرہا تھا۔۔

معراج جہانگیر کا نام سن کر دعا کے ھوش آڑ گئے تھے۔۔۔۔

راجہ جہانگیر اور معراج جہانگیر کو کون نا جنتا تھا۔۔۔۔۔

وہ اس شھر کے جانےمانے لوگ تھے جو زور اپنے بزنس اور سیاست کی وجہ سے اخباروں اور خبروں کی زینت بنا کرتے تھے۔۔۔دعا نے کافی بار معراج کا نام سن رکھا تھا۔۔عمیر اور عمر اس کے دونوں بھائ اکثر معراج جہانگیر کی کار اور بائکس collections کا زکر کرتے تھے۔وہ جب جب نیو بائک یا کار لیٹا اخبار والے اس کے اوپر ایک àrtical چھاپ دیتے۔..

۔وہ اج کل ہر ایک لڑکی کا کرش بنا ھوا تھا۔۔۔احمد صاھب بھی کبھی کبھار سیاست کے حوالے سے راجہ جہانگیر کا زکر کیا کرتے تھے راجہ جہانگر ایک اچھے سیاست دان تھے۔۔۔۔ تب عمیر اور عمر فورن ہی معراج جہانگیر کی بائکس اور کار کا زکر لے کر بیٹھ جاتے۔۔۔۔کہ اس کے پاس ہر ایک وہ گاڑی اور کار ھوتی ھے جو لوگ رکھنے کی تمنا کرتے ھیں۔۔اسکا بڑا swag ھے۔۔۔۔دعا کو heavy bikes کا کافی شوق تھا اس لیے شوق سے عمیر اور عمر کی گفتوگو سنتی۔۔۔لیکن کبھی معراج کو دیکھنے کا اتفاق نا ھوا تھا۔۔۔۔۔۔

اور نمرہ بھی کافی حد تک اس کی فین تھی۔۔۔۔

اللہ اللہ !!!

دعا نے بے چارگی سے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا تھا۔۔۔۔۔۔دعا حد سے زیادہ پریشان ھوگئ تھی۔۔۔۔

اور فورن ہی اس نے عمیر کو کال کر دی تھی۔۔۔۔کہ وہ اس کو لینے اجائے۔۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

معراج جب ڈانس فلور سے اتر کر نیچے آیا تو سب سے پہلے دلاور نے اسکو گلے لگایا اور کہا تھا اج تم نے میری مھندی یاد گار بنا دی۔۔۔۔۔اور پھر جہانگیر صاحب نے اس کو گلے لگا کر بوسہ دیا تھا۔۔۔۔۔اج کافی عرصے بعد معراج خوش نظر آرہا تھا۔۔۔۔۔وہ اپنے دوستوں کی طرف ارہا تھا جب لڑکیاں اور اس کی کزنز اس سے اکر مل رہی تھی اور اس کے ڈانس کی داد دے رہی تھی۔۔۔

اج خیر سے راج صاحب کا موڈ اچھا تھا تو وہ بھی سب سے بس نورمل بات کر رہا تھا۔۔۔نہیں تو وہ اتنا موڈی تھا کہ کسی کی بات کا جواب تک نا دیتا تھا۔۔۔۔۔

ہما بھی اس کے پاس ائ تھی اور اس کے ڈانس کی داد دے کر گئ تھی۔۔۔۔جس پر معراج نے صرف ایک دلفریب مسکان سجا کر thankyou کہا تھا۔۔۔۔اور اس کی یہ دلفریب مسکان لڑکیوں کے دل کے تار چھیڑ جاتی تھی۔۔۔۔۔

وہ آمرانہ چال چلتا ھوا اپنے دوستوں کی میز تک آیا تھا۔۔۔۔۔

واہ راجے !!!!

اج تو اپ نے محفل میں اگ لگا دی۔۔۔۔۔راضا نے کھڑے ھوکر معراج کو گلے لگاتے ھوئے کہا۔۔۔

معراج نے مسکرا کر ایک کرسی پر جگہ سنبھالی۔۔۔۔۔اس ہی میز پر زیب زاضا اور معراج کے دیگر دوست جما تھے۔۔۔۔۔

معراج کی نظر ایک دو بار اپنے دوستوں پر پڑی تھی جو بار بار معراج کی پشت والی ٹیبل پر نظریں جمائے بیٹھے تھے۔۔۔۔۔

معراج نے نوٹ کیا تھا۔۔۔کہ راضا کا دھیان بھی اسی طرف ھے۔۔۔۔۔

لیکن معراج نے مڑ کر نا دیکھا ۔۔۔۔

معراج نے ایک ہاتھ سے سیگرٹ سلگائ اور کش لگاتے ھوئے راضا پوچھا۔۔۔

اور تو نے ہما کو بتا دیا ؟؟؟؟؟

ہاں یار بتا دیا۔۔۔۔اس نے اتنی سنائ ھے مجھے کہ سوچ ھے تیری۔۔۔۔۔راضا نے بےچارگی سے کہا تو معراج ایک دم ھنس پڑا اچھا۔۔۔۔۔

ویسے اج یہ زیب کا دھیان کہا ھے ؟؟؟؟

معراج نے ازان کو دیکھ کر زاضا سے پوچھا۔۔۔۔۔

یار زیب کا کیا معراج۔۔۔۔ہال میں موجود تمام لڑکوں کا دھیان تیری پیچھے والی ٹیبل پر ھے۔۔۔۔

کیا مطلب ؟؟؟؟

یار ہما کی دوستیں ائ ھیں۔۔۔۔اور قسم سے ان میں سے ایک قیامت کا حسن رکھتی ھے۔۔۔۔وہ اس پوری محفل میں سب سے الگ دیکھ رہی ھے۔۔۔۔۔گھائل کر دینے والا ھسن ھے اس لڑکی کا ۔۔۔۔

یار جب لڑکیاں چھوٹے چھوٹے کپڑے پہن کر اپنے منہ پر ایک ایک من کا میک اپ لگائیں گی تو حسین ہی لگے گی۔۔۔۔یہ اسکا نہیں اس کے چھوٹے کپڑے اور میک اپ کا کامل ھے۔۔۔۔معراج نے بےرخی سے کہا اور پھر ایک کش لگایا۔۔۔۔

جناب اپ کی سوچ بلکل غلط ھے ۔۔۔۔

اب کہ زیب نے کہا تھا۔۔۔۔یہ لڑکی نا تو چھوٹے کپڑوں میں بیٹھی ھے نا اس نے اپنے منہ پر ایک ایک من میک اپ لگا رکھا ھے۔۔۔یہ واقعی تعریف کے قابل ھے اسکا حسن صرف مجھے نہیں سب کو ھی گھائل کر رہا ھے۔۔۔۔اس کے ساتھ والی دونوں لڑکیاں بھئ پیاری ھیں لیکن اس کے چہرے پر ایک الگ طرح کا حسن ھے۔ ۔۔۔۔

معراج کو اب واقعی اشتیاق سا ھوا تھا۔۔۔۔۔کہ ایسی بھی کیا ھے اس لڑکی کہ اندر۔۔۔۔اس نے اپنی سیگرٹ بجھائ اور ہلکے سے پلٹ کر اپنے پیچھے والی میز پر دیکھا جہاں وہ تینوں بیٹھی تھی۔۔۔۔۔لیکن اس کو عائشہ اور سیرت نظر ائ۔۔۔۔اور ایک حجاب والی لڑکی کی پشت۔۔۔

کون سی ھے ان میں سے ؟؟؟ معراج نے دوبارہ زاضا سے پوچھا۔۔۔۔۔

یار وہ جو پیلے کلر کے حجاب میں بیٹھی ھے نا وہ !!!

زاضا نے اشارہ کیا تو معراج نے زاضا کے اشارہ کی طرف اب مکمل پلٹ کر دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔

اس کو ایک پل نا لگا تھا یہ پھچان نے میں کہ وہ لڑکی کون ھوسکتی تھی۔۔۔۔۔۔

معراج کے چہرے پر واضح رنگ بدل چکے تھے۔۔۔۔

یہ لڑکی یہاں ؟؟؟؟؟

معراج کے منہ سے ایک دم سے نکلا !!!

تو اسے جانتا ھے ؟؟؟؟

زاضا نے معراج کے اس طرح بولنے پر فورن پوچھ بیٹھا۔۔۔۔۔۔

نہیں لیکن اب جان جاوں گا۔۔۔۔

اس کو کیسے بھول سکتا ھوں میں !!!!! معراج نے ایک ایک الفاظ چابا چابا کر کہا۔۔۔۔

راضا کو بلکل بھی یاد نا تھا کہ یہ وہی لڑکی ھے اور نا معراج نے اس کو یاد دیلانا مناسب سمجھا تھا ۔۔۔۔۔۔

یعنی تجھے یہ لڑکی اچھی لگی ؟؟؟؟

زاضا نے معراج کے بات نا سمجھتے ھوئے اپنے اندازہ لگاتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔

معراج نے ایک نظر گھور کر زاضا کو دیکھا۔۔۔۔

لڑکیاں معراج جہانگیر کو پسند کرتی ھیں۔۔۔۔معراج لڑکیوں کو نہیں۔۔۔۔معراج جہانگیر صرف اپنا مقصد پورا کرتا ھے۔۔۔

معراج ایک دم اٹھا اور دعا کی میز کی طرف جانے لگا۔۔۔۔معراج اپنے اوپر قابو نہیں رکھ پا رہا تھا ۔۔۔۔وہ اس لڑکی سے مل کر اس کو سبق سکھانا چھاتا تھا۔۔۔۔

دعا !!!!!!!

دعا!!!!!!

سیرت نے گھبرا کر کہا۔۔۔۔۔

کیا ؟؟؟؟؟؟؟

ھے ؟؟؟؟

دعا نے اس کے اس طرح سفید پڑھتے چہرے کو دیکھ کر پوچھا۔۔۔

دعا وہ وہ !!!!

سیرت گھبراہٹ کے مارے کچھ بول نہیں پارہی تھی۔۔۔۔۔۔

کیا وہ ؟؟ اب دعا بھی تھوڑا گھبرائ تھی۔۔۔۔لیکن پیچھے مڑ کر دیکھنے کی اس میں بکل ہمت نا تھی۔۔۔۔۔

دعا وہ ادھر !!! ابھی سیرت کے منہ سے الفاظ پورے ادا بھی نا ھوئے تھے کہ دعا کو اپنے پیچھے سے ایک بھاری بھرکم اور روب سے بھری مرادناہ آواز سنائ دی۔۔۔۔۔

hello !!!!!

brave girl……

سیرت کی انکھیں حد درجہ تک حیرت سے پھٹی ھوئ تھی۔۔۔۔۔دعا نے سیرت کو دیکھا جو گم سم سی کھڑی اس نوجوان کو دیکھ رہی تھی جس نے ابھی ابھی دعا کو مخاطب کیا تھا۔۔۔۔

دعا نے پلٹ کر دیکھا۔۔۔۔تو دو پل کے لیے دعا بھی حیرت کی زد میں اگئ ۔۔۔

کسی ھیں اپ محترمہ ؟؟؟؟

دعا کی حیرت حد سے زیادہ تھی لیکن جلدی ہی خود پر قابو پاکر سامنے کھڑے شخص سے بولی۔۔۔

جی ٹھیک ھوں الحمد اللہ۔۔۔۔۔اور بولنے کے ساتھ ہی اگے کی طرف بڑھنے لگی ۔۔۔

محترمہ !!!!

دعا کے قدم معراج کی آواز نے روکے تھے۔۔۔۔۔

جی ؟؟؟ دعا نے پلٹ کر پوچھا۔۔۔۔۔دعا معراج سے تھوڑے فصیلے پر تھی۔۔۔معراج ایک دو قدم چل کر دعا کی طرف ایا۔۔۔۔۔سیرت جتنی حیرت میں تھی اس زیادہ حیرت میں زاضا ،ازان ہما اور عائشہ تھے۔۔۔۔

معراج جہانگیر نے کسی لڑکی سے خود جا کر بات میں پہل کی تھی۔۔۔۔۔اور یہ پہلی دفعہ تھا۔۔۔

وہ میں اپ سے پوچھنا چھا رہا تھا محترمہ کہ اپ مجھے پہچان تو گئ ھونگی یقینن ؟؟؟

معراج کے دماغ میں چل رہا تھا وہ صرف معراج ہی جانتا تھا۔۔۔۔

وہ ہر کام اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے کرتا تھا۔۔۔اور اپنا بدلہ پورا کرنے کے لیے کچھ بھی کرسکتا تھا۔۔۔۔۔

جی !!!!

پہچان لیا بہت اچھی طرح !!!

دعا نے نظر بدل کر نیچھے دیکھتے ھوئے کہا۔۔۔

ہممم good !!

دراصل میں اپنے اس دن کے عمل پر کافی شرمندہ ھوں اور اپ سے excuse کرنا چھاتا ھوں۔۔۔۔۔

معراج نے بغیر کسی تمید کے اپنی بات کی تھی۔۔۔۔

۔اور معراج کے یہ الفاظ سیرت زاضا اور دعا تینوں کے لیے کافی حیران کن تھے۔۔۔زاضا کو تو اپنے کان پر یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ معراج ھے۔۔۔

ہما اور عائشہ دور سے یہ مناظر دیکھ کر ان کے پاس آگئ تھی اور بات سمجھنے کی کوشش کررہی تھیں۔۔۔

جی کوئ بات نہیں۔۔۔۔میں بھی اپنے اس دن کے الفاظ پر شرمندہ ھوں۔۔۔۔دعا نے بھی بہت سلیقے سے کہا۔۔۔۔۔

چلیں محترمہ یہ اچھا ھوگیا کہ ہم دونوں نے ایک دوسرے سے بات صاف کرلی۔۔اب مجھے اجازت دیں۔۔۔اور کسی چیز کی ضرورت ھو تو مجھے ضرور باتئے گا۔۔۔۔

معراج نے اپنی بات ختم کی اور پھر دعا کو کراس کرتا نکل گیا۔۔۔۔۔

ہما عائشہ کو تو اپنی انکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا اور سیرت ابھی بھی ویسی شوق کھڑی تھی۔۔۔لیکن دعا کی گھبراہٹ کم ھوئ تھی۔۔۔۔۔۔اور اب وہ پہلے سے نرمل تھی۔۔۔۔معراج کے پیچھے پیچھے زاضا فورن گیا تھا۔۔۔

اور ہما اور عائشہ اکر دعا سے ساری تفصیل پتا کر رہی تھی۔۔۔۔

معراج ؟؟؟؟؟

معراج ؟؟؟؟

تو ٹھیک ھے ؟؟

زاضا نے معراج کے ماتھے کو ہاتھ لگا کر کہا۔۔۔۔

معراج نے زاضا کا ہاتھ جھٹک دیا۔۔۔۔over acting مت کر زاضا۔۔۔۔۔۔۔

تو نے اج پہلی بار کسی لڑکی سے بات کی اور اس سے معضرت بھی کی۔۔۔۔۔یہ تو نہیں ھوسکتا ۔۔۔۔۔زاضا کی حیرت اب تک ویسی کی ویسی تھی۔۔۔۔

معراج نے زاضا کو مسکرا کر دیکھا۔۔۔۔۔زاضا تو میری سوچ تک نہیں پہنچھ سکتا اس لیے اپنا دماغ کم چلا۔۔۔۔۔۔۔۔یہ وہی لڑکی ھے جو مجھے ھوٹل میں ملی تھی اس دن ۔۔ تجھے کیا لگا میں اسے معافی مانگنے گیا تھا ؟؟؟

بس تو دیکھتا جا اگے اگے ھوتا ھے کیا۔۔۔۔معراج نے ایک مسکان ھونٹوں پر سجا کر کہا۔۔۔۔

معراج تجھے کوئ نہیں سمجھ سکتا۔۔۔۔۔زاضا نے معراج کی مسکان دیکھ کر کہا۔۔۔۔

اچھا مجھے ہما کا نمبر دے۔۔۔معراج نے موبئل نکال کر ہما کا نمبر لیا اور واپس وہ دونوں اکر اپنی میز پر بیٹھ گئے۔۔۔

زیب کا اب تک وہی حال تھا۔۔۔۔اس کی نظر دعا پر ہی تھی۔۔۔معراج کی عادت تھی جس چیز پر وہ نظر ڈال دیتا تھا اس پر پھر کوئ اور نظر ڈالتا تو معراج کا خون جلتا تھا خواہ وہ چیز معراج کے لیے کوئ اہمیت رکھتی ھو یا نا ھو۔۔۔۔

زیب یہ سب حرکتیں یہاں نہیں کرو۔۔۔یہ میرے گھر کا event ھے اور مجھے اس میں یہ چیچوراپان نہیں چھائے۔۔۔۔۔۔

معراج نے سیدھے الفاظ میں کہا تو زیب بھی شرمندہ سا ھوا۔۔۔۔

معراج کے کو پتا نہیں کہا ھوا کہ اس نے پھر پلٹ کر پھیچھے دیکھا۔۔۔

دعا کسی بات پر منہ پر ہاتھ رکھ کر ھنس رہی تھی۔۔۔۔

معراج کو بھی وہ کہی نا کہی سب سے الگ الگ اور جدا جدا لڑکی لگی۔۔۔۔لیکن معراج کے سر پر اس وقت صرف اور صرف اپنی اس بات کا بدلہ لینے کا بھوت سوار تھا۔۔۔۔۔اور وہ کیا کرنے جارہا تھا وہ اسکی خرابی کو خود بھی نا جانتا تھا۔۔۔۔۔

مایو کی رسم کے بعد کھانے کا دور چلا تھا اور کھانا کھاتے ہی عمیر دعا سیرت اور عائشہ کو لینے اگیا تھا ۔۔۔۔۔۔اور وہ تینوں خاموشی سے ہما اور دلاور سے مل کر چلی گئ تھی۔۔۔۔

معراج کی نظر نے ایک بار پھر ہال کا چکر لگایا تھا۔۔۔لیکن اس کو وہ حجاب والی لڑکی کہئ نظر نہیں آئ تھی۔۔ابھی وہ اپنی سوچوں میں تھا کہ اس کے پاس ہما ائ۔۔اور اس سے بات کرنے لگی۔۔۔۔۔

کیسے ھو راج۔۔۔۔؟؟

ہما نے معراج کے کافی قریب اکر کہا۔۔۔

ٹھیک ھوں۔۔۔

تم کیسی ھو ؟؟؟

۔معراج نے مختصر سا جواب دیا اور فورن ھی پوچھ بیٹھا۔۔۔۔

میں اچھی ھوں ۔۔۔۔ہما نے شرما کر کہا۔۔

اچھا وہ ہما تمھاری وہ دوستیں نظر نہیں ارہی کیا نام ھے اس حجاب والی لڑکی کا ؟؟؟؟

دعا !!!!! ہاں وہ چلی گئیں۔۔۔۔

ہما نے معراج کی بات کو ناسمجھتے ھوئے فورن دعا کا نام لیا۔۔۔۔

دعا !!!!!!!!

معراج نے دعا کا نام دھوریا۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر کچھ سوچ کر مسکرا دیا۔۔۔۔