Zid Junoon Ki Inteha By SA Khanzadi NovelR50423 Zid Junoon Ki Inteha Episode 15
No Download Link
Rate this Novel
Zid Junoon Ki Inteha Episode 15
Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi
معراج نے نکاح نامے پر دستخط بھی کر دیے تھے ۔۔۔۔
اور اب وہ دعا کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔جس سے مولوی صاحب سوال کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔
دعا خان
ولد آحمد خان اپ کو معراج جہانگیر والد راجہ جہانگیر سے اپنا نکاح 50 لاکھ حق مہر کے ساتھ قبول ھے ؟؟؟؟؟
دعا گم سم بیٹھی رہی !!!!!!
بلکل خاموش
ساخت !!!!!
معراج کے چہرے پر سجی ھنسی اب تبدیل ھوگئ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
مولوی صاحب نے پھر دوبارہ اپنے الفاظ دھورائے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
دعا گہری سوچ میں تھی۔۔۔۔
دل دماغ کی جنگ مسلسل جاری تھی۔۔۔۔
مولوی صاحب نے حیرت سے احمد صاحب اور پھر جہانگیر صاحب کو دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔
سمیرا بیگم نے اگے بڑھ کر دعا کو ہلایا تھا۔۔۔۔
دعا ایک دم اپنی سوچ سے باہر ائ ۔۔۔۔اور پھٹی پھٹی انکھوں سے مولوی صاحب کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
مولوی صاحب اپ دوبارہ پوچھیں۔۔۔۔
معراج نے سخت اواز میں کہا تھا۔۔۔۔
مولوی صاحب نے دوبارہ اپنے الفاظ دھورائے تھے۔۔۔۔۔
دعا خان ولد احمد خان اپ کو اپنا نکاح معراج جہانگیر ولد راجہ جہانگیر کے ساتھ 50 لاکھ حق مہر کے قبول ھے ؟؟؟؟
جی
قبول
ھے !!!!!!!
دعا کے منہ سے الفاظ ٹوٹ کر ادا ھوئے تھے۔۔۔دل کی ڈھڑکن روک گئ تھی۔۔۔۔
سب خواب ٹوٹنے کی آواز اس کے کانوں میں آرہی تھی۔۔۔۔۔۔جیسے شیشہ ٹوٹتا ھے اور بکھر جاتا ھے ایسے دعا کا ایک ایک ارمان ایک ایک خواب بکھر رہا تھا۔۔۔۔
کیا آپ کو قبول ھے ؟؟؟؟؟؟
جی !!!!!
قبول
ھے۔۔۔۔
کیا اپ کو قبول ھے ؟؟؟؟
جی قبول ھے !!!!!!!
مبارک ھو نکاح کی مبارک تقریب مکمل ھوئئ۔۔۔۔۔دعا نے دستخط کیے تو بریرہ بیگم اور رملا نے اکر اسکو گلے لگایا۔۔۔۔
دعا کے حلق میں آنسو کا پھندا لگ رہا تھا۔۔۔۔
معراج جیت چکا تھا۔۔۔۔۔
وہ اس وقت حد سے زیادہ خوش تھا۔۔۔۔۔
اس نے دعا کا غرور تار تار کر دیا تھا۔۔۔
احمد صاحب اور سمیرا بیگم غمگین تھے۔۔۔۔
عمیر نمرہ عمر سیرت کی انکھیں نم تھیں۔۔۔۔
اشعر بھائ ہارئے ھوئے عاشق کی طرح اداس تھے۔۔۔۔۔
زیب ؟؟؟
زیب اس وقت جلن کی بلندیوں پر تھا۔۔۔۔
وہ اپنی نفرت کے زہر سے دعا اور معراج کو دس کر ان کی زندگی میں زہر گھول دینے کا عزم رکھتا تھا۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
دعا معراج کو تمام لوگ مبارک باد دینے کے لیے ایک ایک کر کے آرہے تھے۔۔۔۔۔معراج نے دعا کی طرف جھک کر کہا۔۔۔۔۔
زارہ سا مسکرا لو mrs mairaj…….
معراج کہ الفاظ سے دعا کو نفرت محسوس ھوئ تھی۔۔۔۔۔
پلیز اپ دونوں فوٹو شوٹ کے لیے اجائیں۔۔۔۔۔
فٹو گرافر نے دعا اور معراج کو اسٹیج کے بیچ میں انے کو کہا۔۔۔۔
دعا کو یہ سب ہز گز پسند نا تھا۔۔۔۔
لیکن معراج ان تمام چیزوں کا شوقین تھا۔۔۔۔اور اپنی شادی میں کوئ بھی کمی اسکو برداشت نا تھی۔۔۔۔
معراج اٹھا اور ایک ہاتھ بڑھا کر دعا کا ہاتھ مناگا۔۔۔۔
لیکن دعا نے اسکو ہاتھ نا پکڑایا معراج نے زبرداستی اسکا ہاتھ تھاما تو دعا مجبورن کھڑی ھوئ۔۔۔۔
معراج نے اب دعا پر دوبارہ نظر ڈالی تھی۔۔۔
اور معراج کو دعا کا حجاب دیکھ کر اندرونی خوشی محسوس ھوئ تھی۔۔۔۔
دعا کی نظر جھکی ھوئ تھی۔۔۔
میڈم پلیز سر کی انکھوں میں دیکھ کر ایک پوز ؟؟؟؟
فوٹو گرافر نے دیمانڈ کی تھی۔۔۔۔
دعا نے نظر جھکائ رکھی۔۔۔۔
دعا ۔؟؟؟؟؟
معراج نے ایک عجیب سے انداز میں اواز دی تھی۔۔۔۔جس کی دعا کو بلکل توقع نا تھی۔۔۔
معراج کہ ایک بار بولنے پر دعا کی پلکیں خود با خود اٹھی تھی۔۔۔۔۔
معراج کی گھیری انکھیں دعا کی جھیل جیسی انکھوں سے ٹکرائ تھی۔۔۔۔۔
دونوں روبرہ کھڑے تھے۔۔۔۔۔
دعا نے نفرت سے اس کی انکھوں میں جھنکا۔۔۔۔۔
معراج کی انکھوں میں ضدی تھی۔۔۔جنون تھا۔۔۔۔۔
اور بس یہ ہی لمحہ فوٹوگرافر نے اپنے کیمرے میں قید کر لیا تھا۔۔۔۔
دعا نے ایک جھٹکے سے نظر جھکا لی تھی۔۔۔۔
اہ اہ اہ
ہمم ہمم۔م
دلہا بھائ زارہ صبر کیجے ۔۔۔۔۔۔
نمرہ نے اکر معراج کو چھیڑا تھا۔۔۔۔۔
معراج کو یہ چھوٹی سی سالی اچھی لگی تھی اور جو لوگ معراج کو اچھے لگتے وہ ان سے کافی اخلاق سے بات کرتا۔۔۔۔
بس سل لئ صاحبہ اپکی بہن سے نظر ہاٹانے کا دل نہیں کرہا کیا کروں ۔۔
افففف اللہ !!!
نمرہ زور سے ھنسی تھی۔۔۔
او تم بھی تصویر کھنچوا لو نہیں تو تمھاری بہن بولے گی میں نے ایک لوتی سالی کا خیال نہیں کیا۔۔۔۔۔ معراج نے نمرہ کو ساتھ تصویر کھچوانے کا بولا تو نمرہ فورن معراج کے ساتھ اکر کھڑی ھوگئ تھی۔۔۔۔
نمرہ کو دیکھ کر عمیر عمر اور سیرت بھئ اگئے تھے۔۔۔۔۔
معراج نے مسکرا کر ایک گروپ فوٹو کھنچوائ تھی لیکن دعا کا چہرہ ویسی اداس تھا۔۔۔۔۔
کچھ دیر تصویرے کھنچوانے کے بعد کھانے کا دور چلا تھا۔۔۔۔۔
اور معراج اب اٹھ کر اپنے دوستوں کی طرف اچکا تھا۔۔۔۔۔
زاضا نے معراج کے گلے لگ کر اسکو مبارک باد دی تھی۔۔۔جبکہ زیب کا چہرہ دیکھ کر معراج سمجھ چکا تھا۔۔۔۔
زیب ؟؟؟؟؟
معراج زیب کے پاس جا کر مخاطب ھوا تھا۔۔۔۔
جو تمھارے دل میں تھا وہ سب گزر چکا۔۔۔۔
اج سے دعا میری عزت ھے۔۔۔۔!!!!
میری بیوی ھے!!!
یعنی تمھاری بھابی۔۔۔۔۔۔
اور میری دعا کی طرف کوئ بری نگاہ ڈالے تو میں برداشت نہیں کروں گا ۔۔۔۔۔میرے خیال سے تمھارے لیے میری یہ تمام باتیں کافی ھیں۔۔۔۔
معراج نے ڈھکے چھپے الفاظ میں زیب تک اپنی بات پھنچائ تھی۔۔۔۔کیونکہ زیب کی نظر مسلسل اسٹیج پر بیٹھی دعا پر تھی۔۔۔۔اور معراج یہ چیز محسوس کر چکا تھا۔۔۔اس لیے کافی روب دار لحبے میں اس نے کہا تھا ۔۔۔
ہممم !!!
زیب خاموش ھوگیا تھا۔۔۔
معراج تھوڑی دیر تمام مہمانوں سے ملا تھا۔۔۔لیکن اس کی نظر گھوم گھوم کر اسٹیج پر بیٹھی اپنی بیوی کی طرف جا رہی تھی۔۔۔۔جو اس وقت سب سے زیادہ حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔۔
دعا کے پاس جیسی سجل اور ہما پہھنچی معراج فورن اسٹیج پر جاکر دعا کے پاس بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔
دعا !!!!!
ہما نے اکر دعا کو مخاطب کیا تھا۔۔۔
دعا نے ایک نظر اٹھا کر دیکھا تو ہما کی انکھیں حد سے زیادہ لال ھورہی تھی۔۔۔
دعا کو ایک دم اپنی دوست پر رحم سا آیا۔۔۔۔۔۔
مبارک ھو !!!!!!
ہما نے بہت عجیب انداز میں دعا کو گلے لگا کر مبارک باد تھی۔۔۔
دعا نے خاموشی سے سر ہلا دیا تھا۔۔۔۔
پھر سجل اکر دعا سے ملی تھی۔۔۔۔۔
کیوں سجل بھابی ؟؟؟؟؟
کیسی لگی اپ کو میری بیوی ؟؟؟؟
معراج نے جان کر یہ سوال کیا تھا۔۔۔ ۔
ہاں بہت اچھی ھے۔۔۔۔سجل نے مختصر سا جواب دیا تھا۔۔۔۔معراج ہما کو دیکھ کر مسکرایا تھا۔۔۔
پھر تھوڑی دیر بعد رخصتی کا وقت آگیا تھا۔۔۔۔۔
رملا اور بریرہ بیگم نے دعا کو اسٹیج سے اٹھایا تھا۔۔۔۔
بس یہ ہی لمحہ تھا جب دعا کو اپنی جسم سے جان جاتی محسوس ھورہی تھی۔۔۔۔
دعا اگے بڑھ کر سمیرا بیگم کے گلے لگی تھی۔۔۔۔اور پھوٹ پھوٹ کر روئ تھی۔۔۔۔سمیرا بیگم بھی بیٹی کی رخصتی پر جی بھر کے روئ تھی۔۔۔۔
پھوپو زوبی نمرہ عمیر عمر سے بھی مل کر دعا بہت روئ تھی۔۔۔۔۔۔اور پھر اپنے باپ احمد صاحب کے پاس ائ تھی جو اس سے دور کھڑے تھے۔۔۔۔۔
آحمد صاحب نے اب تک دعا کا پیار سے گلے نا لگایا تھا ۔۔۔
ابو جان ؟؟؟؟
دعا نے ان کے پاس جا کر انکا ہاتھ تھام کر کہا۔۔۔۔
احمد صاحب رو رہے تھے۔۔۔۔۔
جاو خوش رہو۔۔۔۔۔۔
احمد صاحب نے اپنے انسو چھپاتے ھوئے دعا کہ سر پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔
ابو پلیز ایسے نہیں کریں !!!!
دعا کی انکھوں سے زارو قطار انسو بہہ رہے تھے۔۔۔۔۔
احمد صاحب ابی تک اس سے خفا تھے ۔۔۔
دعا اپنے گھر میں خوش رہنا۔۔۔۔اج سے وہی تمھارا گھر ھے۔۔۔۔تمھارا اس گھر سے اب کوئ تعلق نہیں ھے۔۔۔۔۔۔۔تمھارے لیے اس گھر کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ھیں۔۔۔۔
میری اج سے صرف ایک بیٹی ھے نمرہ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!
آحمد صاحب کا ایک ایک لفظ دعا کے اندر دھماکے کر رہا تھا۔۔۔۔۔
وہ حقیقت میں دعا سے ہر رشتہ ختم کر رہے تھے۔۔۔۔
پر ابو!!!!
دعا کچھ بولنے ھی والی تھی کہ پیچھے کھڑے معراج نے اکر اس کو کندوں سے تھام کر کہا تھا۔۔۔
بس چلو اب۔۔۔۔۔
دعا نے جھٹکا دے کر معراج کا ہاتھ جھٹکا تھا۔۔۔۔۔۔
ابو ؟؟؟؟؟؟
دعا پھٹی پھٹی نگاہ سے ان کو دیکھ رہئ تھی۔۔۔۔۔
ابو پلیز یہ نا کریں نا !!!!!!
دعا نے روتے روتے احمد صاحب کے ہاتھوں کو تھام کر کہا تھا ۔
جاوں دعا چلی جاو !!!!
احمد صاحب نے اپنے اوپر قابو پاکر کہا اور دعا کے ہاتھ اپنے ہاتھ سے ہٹا دیے۔۔۔
دعا کے جسم سے جان نکل چکی تھی۔۔۔جان سے زیادہ پیارے ماں باپ اسے خفا تھے۔۔۔۔۔۔
معراج اسکو کندوں سے تھام کر گاڑی تک لایا تھا اور دعا گم سم چلتی اکر گاڑی میں بیٹھ گئ تھئ۔۔۔۔
اس کے دل میں بس ایک بات چل رہی تھی
ابو نے اتنی بڑی بات سچ میں بولی تھی۔۔۔۔۔
معراج کو پتا نہیں کیوں ایک عجیب سی تکلیف ھوئ تھی اس پل دعا کو دیکھ کر۔۔۔۔۔اس نے دعا کو لاکر اپنی گاڑی میں بیٹھا دیا تھا ۔۔۔
دعا بھی خاموشی سے ایک پتلے کی طرح اکر بیٹھ گئ تھی۔۔۔۔۔
رملا اور بریرہ بیگم اکر سمیرا بیگم سے ملی تھی اور پھر وہ بھی اپنی اپنی گاڑیوں میں بیٹھ گئ تھی۔۔۔۔
عمر اور عمیر کی انکھیں نم تھی۔۔۔۔
نمرہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھئ۔۔۔
سیرت اداس تھی۔۔۔۔
دعا جا رہی تھی۔۔۔۔
وہ اس گھر سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رخصت ھو چکی تھی۔۔۔
اب وہ دعا خان نہیں تھی۔۔۔
اب وہ دعا ے معراج تھی۔۔۔۔۔!!!!!!!!!
پھلوں سے سجی گاڑی میں بیٹھا کر معراج احمد صاحب کی زندگی کو لے جارہا تھا۔۔۔۔
احمد صاحب دور کھڑے بھیگی انکھوں کے ساتھ دعا کو جاتا دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔۔
اور کچھ پل کے بعد ھی معراج کی سجی بارات کی گاڑیاں ان کی نظروں کے سامنے سے اوجھل ھوگئ تھی۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
جیسے ہی معراج کی پھولوں سے سجی کار جہانگیر مینشن پھنچی تھی۔۔۔ویسے ہی معراج کے دوستوں نے گولیوں سے نئے جوڑے کا استقبال کیا تھا۔۔۔۔۔
معراج اور دعا کے گاڑی سے اترنے تک ایک پل کے لیے بھی firing نا رکی تھی۔۔۔۔۔۔
میڈیا والے کب سے دعا معراج کا ایک ساتھ interview لینے کے لیے ترس رہے تھے۔۔۔۔۔
معراج گاڑی سے اتر کر کھڑا ھوا تھا۔۔۔۔۔دعا گاڑی کی اندر گم سم سی کیفیت میں بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
معراج نے گاڑی کے اندر جھک کر دعا کے اگے کاتھ بڑاہا کر کہا۔۔۔۔۔
چلو !!!!!!
دعا کی نظر اس کے مظبوط ہاتھوں پر پڑی تھی ۔۔۔۔۔
یہ ہاتھ اس کو ساری عمر تھامے رکھنا تھا۔۔۔۔یہ ہاتھ نہیں دعا کو اس کی قید کی زنجیر معلوم ھوئ تھی۔۔۔۔
دعا نے ہاتھ اگے نا بڑھایا تو معراج نے زبردستی اسکا ہاتھ تھام لیا۔۔۔دعا بھی ہلکا سا کھسک کے گاڑی سے اتر کر معراج کے بلکل ساتھ کھڑی ھوگئ تھی۔۔۔
نا تو معراج صاحب کو پسند نہیں ھے نا میری جان !!!!!!
معراج نے شرارت سے دعا کہ کان میں کہا تھا۔۔۔۔۔معراج کی انکھوں میں بچوں جیسی شرارت تھی۔۔۔۔اور لبوں پر مسکراہٹ
اسی وقت دعا میری جان کہنے پر گھور کر معراج کو دیکھا تھا۔۔۔۔
اور کمرہ مین نے پھر ایک بار یہ خبوصورت سا لمحہ قید کر لیا تھا۔۔۔۔۔
جہانگیر مینشن میں دعا کا استقبال کیسی ملکہ کی طرح کیا گیا تھا۔۔۔۔۔
باہر پورچھ سے لے کر معراج کے کمرے تک دعا کے قدموں میں پھول بچھائے گئے تھے۔۔۔۔۔
معراج نے دعا کا نرم ہاتھ بہت مظبوطی سے تھاما ھوا تھا۔۔۔۔۔
دعا کو عجیب سی الجھن محسوس ھو رہی تھی۔۔لیکن وہ بہت لوگ ھونے کی وجہ سے خاموش رہی۔۔۔۔
چلو دعا بیٹا اپنے مبارک قدم اس گھر میں رکھ دو۔۔۔۔۔
جہانگیر صاحب نے دعا کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا تو اس کو ایک دم احمد صاحب کی شفقت یاد اگئ اور پھر اس کی انکھیں نم ھوگئ۔۔۔۔
معراج اور دعا ہلکے ہلکے چلتے اندر داخل ھورہے تھے۔۔۔۔
قدم قدم پر تمام لڑکیاں نئے جوڑے پر پھول ڈال رہی تھی۔۔۔۔
دونوں کی جوڑی بالا کی تھی۔۔۔
ایک ہیرا تھا تو ایک موتی تھا۔۔۔۔۔
معراج کے چہرے پر ایک عجیب سی خوشی تھی۔۔۔۔اور دعا کا چہرہ بلکل نارمل تھا۔۔۔۔۔
دعا کو لا کر سب سے پہلے بڑے سے drawing room میں بیٹھایا گیا تھا۔۔۔۔۔
بڑا سا ڈرائنگ روم بہت ھی نفاست کے ساتھ سجا تھا۔۔۔۔۔
قیمتی چیزوں سے سجا یہ drawing room دعا اور معراج کے استقبال کے لیے اور مزید سجا دیا گیا تھا۔۔۔۔۔
دعا کے لیے معراج نے ایک خاص شاہی دیوان drawing room کے ایک کونے میں رکھوایا تھا۔۔۔۔۔۔
معراج دعا کا ہاتھ تھام کر اس شاہی دیوان تک لایا اور اس کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔
دعا خاموشی سے اپنا لال شرارہ سنبھال کر بیٹھ گئ۔۔۔۔۔
معراج بھی اس کے ساتھ یہ بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔
چاروں طرف لوگوں کا ہجوم تھا۔۔۔۔
لیکن دعا اس سب سے کھوئ ھوئ تھی۔۔۔۔
سب ایک ایک کر کے دعا کو منہ دکھائ دیتے اور اپنا تعارف کرواتے۔۔۔۔۔
دعا کا دماغ اس وقت اس سب سے مانوس نا تھا۔۔۔اس لیے وہ بے دلی سے سب کی طرف ایک نظر ڈالتی اور جھکا لیتی۔۔۔۔۔۔
اس کا دل اس وقت اپنے ماں باپ کے پاس جاکر چھپ جانے کا چھا رہا تھا۔۔۔۔
ساتھ بیٹھے معراج نے دعا کا سکون چھین لیا تھا۔۔۔۔۔
چلو دعا بیٹا اب کمرے میں چلو۔۔۔۔۔۔۔جب تمام لوگ دعا سے مل لیے تب بریرہ بیگم نے اس کے پاس اکر کہا۔۔۔۔۔
جی ماما میں بھی بس یہ ہی کہنے والی تھی۔۔۔۔رملا بھی اگے بڑھی تھی۔۔۔۔
چلو دیورانی جی۔۔۔۔۔
اب اپ اپنئ اصلی منزل پر چلیں….رملا نے اسکو چھیڑتے ھوئے کہا۔۔۔۔
دعا خاموش رہی۔۔۔۔اس وقت دعا یہ سب قبول نہیں کر پا رہی تھی وہ بد اخلاق ہرگز نا تھی۔۔۔۔۔
لیکن معراج نے جو اس کے ساتھ کیا تھا اس کے بعد ایک دم ان لوگوں سے گھل مل جانا بہت مشکل تھا۔۔۔۔۔۔
رملا نے دعا کو کندھوں سے پکڑ کر اٹھایا۔۔۔۔۔۔تو معراج بھی ساتھ کھڑا ھوا۔۔۔
جی بھابی اپ اسکو کمرے میں لے جایئں میں زارہ اپنے دوستوں سے مل کر ایا۔۔۔۔۔
معراج نے کہہ کر اگے قدم بڑھائے تو رملا فورن شرارت سے بولی۔۔۔۔
ارے ارے دیور صاحب اج اپ ایک کام کریں دستوں کے ساتھ ھی رات گزار لیں نا۔۔۔۔۔۔
ہاہاہاہا ۔۔۔۔
بھابی اچھا مزاق تھا۔۔۔۔
۔یہ والی کہانی صرف کل کی رات تک تھی۔۔۔ اب تو میرا انتیظار کرنے والی اگئ ھے۔ ۔۔۔۔
معراج نے گردن جھکائ دعا پر نظر ڈالی اور پھر باہر کی طرف چلا گیا۔۔۔۔۔
رملا اور بریرہ بیگم دعا کو معراج کے کمرے تک لا رہی تھیں۔۔۔۔
دعا جانتی ھو معراج نے ایک ایک چیز دل سے کی ھے۔۔۔۔۔۔تم بہت خوش نصیب ھو ۔رملا نے پیار سے دعا کے ساتھ چلتے چلتے کہا۔۔۔۔۔۔
دعا خاموش رہی۔۔۔۔۔۔۔
چلو اگیا تمھارا کمرہ۔۔۔۔
اب خود اسکو کھولو۔۔۔۔
رملا نے دعا کو لاکر ایک بند دروزے کے سامنے کھڑا کر دیا تھا۔۔۔
دعا نے ہاتھ بڑھا کر دروازہ کھولا۔۔۔۔۔
تو رملا نے اگے بڑھ کر فورن لائٹس کھول دی تھی۔۔۔۔
جیسی لائٹس کھولی تو ایک خوبصورت سا کمرہ سامنے پیش ھوا۔۔۔۔۔۔
معراج کا کمرہ بہت ھی نفاست سے سیٹ ھوا تھا۔۔۔۔۔۔
سامنے ہی دیور پر خوبصورت سفید گول بیڈ پڑا تھا۔۔۔۔۔جس کے پیچھے لال کلر کی wall بہت جج رہی تھی۔ ۔بیڈ کے بلکل اوپر دیورا کے بلکل درمیان میں معراج کی بہت ھی حسین فوٹو لگی تھی۔۔۔۔
اندر آو دعا۔۔۔۔آاا
بریرہ بیگم نے دعا کو اندر انے کا اشارہ کر کے کہا۔۔۔۔۔۔
دعا اندر کمرے میں داخل ھوئ تو اسکو اندازہ ھوا یہ کمرہ اندر سے اور مزید بڑا اور خوبصورت ھے ۔۔۔ ۔۔
دعا معراج کی پسند بہت زیادہ selective ھے۔ ۔۔اور یہ پورا کا پورا کمرہ معراج نے اپنی مرضی سے سیٹ کیا ھے۔۔۔کوئ اس کی چیزوں کو ہاتھ لگائے یہ اس سے برداشت نہیں ھوتا۔۔۔۔۔۔
رملا نان اسٹاپ بولے جارہی تھی۔۔ ۔۔
دعا یہ دیکھو یہ تمھارا dressing room ھے۔۔۔۔۔رملا نے کمرے کے سیدھے ہاتھ کی طرف ایک شیشے کے دروازے کو کھول کر بتایا۔۔۔۔۔۔
اور دوسری طرف جناب نے چھوٹی سی library سیٹ کی ھوئ ھے ۔۔۔
چلو تم اب بیٹھو میں تمھارا میک اپ کو ہلکا سا فریش کردوں معراج بھی بس انے والا ھوگا۔۔۔۔
رملا نے دعا کو کمرہ دیکھا کر بیڈ پر بیٹھا دیا تھا۔۔۔۔
اور خود دعا کا ڈوپٹہ سیٹ کر رہی تھی۔۔۔۔
دعا کو الجھن ھو رہی تھی۔۔۔لیکن وہ خاموش رہی ۔۔۔۔
دعا !!!
بریرہ بیگم نے دعا کے پاس بیٹھ کر کہا۔۔۔۔
دیکھو دعا معراج دل کا بہت اچھا ھے بس غصہ بہت ھے اسکا۔۔۔۔۔۔تم اس کے غصے سے گھبرانا نہیں۔۔۔۔۔اور بچے تم مجھے اپنی ماں ہی سمجھنا۔۔۔۔۔بریرہ بیگم نے پیار سے دعا کہ سر پا ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔۔۔تو دعا کو سمیرا بیگم یاد ائ۔۔۔۔
جی اچھا ۔۔۔۔دعا کے منہ سے اتنا ہی نکل پایا۔۔۔۔
ہاں دعا۔۔۔۔۔اور تمھاری میں بڑی بھابی نہیں بہن ھوں۔۔۔۔۔رملا نے بھی پیار سے کہا تو ۔۔دعا نے ہلکا سے مسکرا کر رملا کو دیکھا ۔۔۔۔
اچھا بچیوں تم باتیں کرو میں زارہ جہانگیر صاحب کو دیکھ او۔۔۔۔۔
بریرہ بیگم بول کے چلی گئ تھی۔۔۔۔
ویسے دعا۔۔۔۔۔!!!!
معراج کی پسند کو ماننا پڑے گا ماشاءاللہ تم بہت زیادہ پیاری ھو ۔۔
رملا نے بہت پیار اور اپنائت سے دعا کا ہاتھ تھام کر کہا تھا۔۔۔۔۔۔
دعا نے سر جھکا لیا تھا۔۔۔
رملا تھوری دیر بیٹھی دعا سے باتیں کرتی رہی پھر اٹھ کر بولی۔۔۔۔
چلو تم بیٹھو معراج انے والا ھوگا۔۔۔۔۔۔
رملا دعا کو ایک دو باتیں سمجھا کر کمرہ بند کر کہ باہر نکل گی تھی۔۔۔۔
اب دعا اس پھولوں اور موم بتیوں سے سجے کمرے میں اکیلی بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
میں اج اس شخص کا انتیظار کر رہی ھوں جس نے میری زندگی برباد کردی۔۔۔۔۔۔
دعا نے اپنے دل میں سوچا۔۔۔۔میں تم سے بہت جلد اپنی جان چھڑوا لوں گی معراج !!!!!!!!!
دعا اپنی سوچوں میں باتیں کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
دعا کے جانے کے بعد احمد صاحب سمیرا بیگم سمیت سب بہت روئے تھے ۔ ۔۔۔۔
ایک ایک جگہ سے دعا کی یاد جوڑی تھی۔۔۔۔۔۔
احمد صاحب تو بنا کوئ بات کیے اپنے کمرے میں چلے گئے تھے ۔
جب کہ سمیرا بیگم اور نمرہ بیٹھی ایک دوسرے کو سہارہ دے رہی تھی۔۔۔۔۔
عمر بھی اپنی اپی کی جدائ پر اداس تھا۔۔۔۔۔
اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد دعا کو یاد کر کے انسو بھا رہا تھا۔۔۔۔۔
عمیر ہال سے اکر سیدھا دعا کہ کمرے میں ایآ تھا۔۔۔۔۔
عمیر اور دعا کا تعلق بہت الگ تھا۔۔۔وہ دونوں صرف بہن بھائ نہیں ایک دوسرے کے بہت اچھے دوست بھی تھے۔۔۔۔
دعا کے بیڈ پر بیٹھ کر وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر بہن کی جدائ پر رویا تھا۔۔۔۔۔
عمیر کسی کے سامنے رونا نہیں چھاتا تھا اور اب چھپ کر رو رہا تھا۔۔۔۔۔۔
دعا اپی اپ کے بغیر یہ گھر بہت برا لگتا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمیر نے روتے روتے بہن کو یاد کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اور ایک ایک کر کے اس کے زہن میں دعا اور اپنی تمام یادیں گھوم رہی تھی۔۔
دعا اپنی سوچوں میں گم تھی جب ہی !!!!!!!
