Zid Junoon Ki Inteha By SA Khanzadi NovelR50423 Zid Junoon Ki Inteha Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
Zid Junoon Ki Inteha Episode 19
Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi
معراج اپنی سوچوں میں اپنے جواب ڈھونڈ رہا تھا جب ڈاکٹر نے کمرے سے باہر اکر معراج کو پکارا تھا ۔۔
جی ؟؟؟؟
معراج تڑپ کر اٹھا تھا اور فورن پوچھا تھا
کسیی ھے اب دعا ؟؟؟؟
ڈاکٹر نے معراج کو دیکھتے ہی پھیچان لیا تھا۔۔۔۔
اپ راجہ معراج ھیں ؟؟؟
ڈاکٹر نے پوچھا۔۔۔
جی۔۔۔۔
معراج نے جواب دیا۔۔۔۔
یہ اپ کی girl friend ھیں ؟؟؟؟
ڈاکٹر نے ھچکچاتے ھوئے پوچھا ۔۔۔
ھوش میں تو ھیں اپ۔۔۔۔
یہ میری بیوی ھیں۔۔۔۔
معراج نے فورن تیور بدل کر بولا۔۔۔۔وہ دعا کے نام کے ساتھ ایسا کوئ بھی گھٹیا ٹائٹل برداشت نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔۔
اہ I AM SORRY
ڈاکٹر کو اپنی بات پر شرمندگی محسوس ھوئ تھی۔۔۔وہ دراصل ان کی حالت کچھ اس طرح کی تھی۔۔۔۔ابھی داکٹر نے اپنی پوری بات نا کی تھی کہ معراج بول پڑا
اپ میری نجی زندگی میں دھیان نا دیں۔۔۔
اپ یہ باتیں دعا کیسی ھے اب؟؟؟
انکا خون کافی بھہہ گیا ھے۔۔۔۔
اسلیے کمزوری ھوگئ ھے۔۔۔۔
لیکن خطرے کی کوئ بات نہیں۔۔
کٹ نبض کے اوپر نہیں لگا تھا۔۔۔۔
۔لیکن انکا blood presure بہت لو ھے۔۔۔ اب وہ MENTALLY طور پر کوئ بھی بڑی TENSION برداشت نہیں کر سکتی ۔۔۔
اپ کو انکا زیادہ سے زیادہ خیال رکھنا ھوگا۔۔۔۔۔
اور کوئ بھی ایسی بات ان کے سامنے نا ائے جس سے انکو تکلیف محسوس ھو۔۔۔۔۔
ھوسکے تو ان کو کچھ دنوں کے لیے اپ آوٹ اوف سیٹی لے جائیں۔۔۔۔
داکٹر نے اپنی صلہ دی تھی۔۔۔
معراج خاموشی سے کھڑا تھا۔۔۔۔
دیکھیں۔۔۔جناب
مجھے اپکی نجی زندگی میں بولنے کا کوئ شوق نہیں لیکن اللہ نے ڈاکٹروں کو ایک خاص علم دیا ھوتا ھے جس سے وہ دوسروں کی پریشانی سمجھ جاتے ھیں۔۔۔
اور جہاں تک اپکی وائف کی حالت میں نے OBSERV کی ھے مجھے یہ ہی اندازہ ھوا ھے کہ ان کے ساتھ جو کچھ بھی ھوا ھے وہ اس کو قبول نہیں کر پا رہی۔۔۔۔۔میں یہ نہیں جانتی کے ان کے ساتھ کیا ھوا ھے۔۔۔
لیکن پھر بھی اپ سے کہو گی۔۔۔۔
اس وقت انکو اپ کے سہارے کی ضرورت ھے۔۔۔
اگے اپکی مرضی۔۔۔۔۔
میں نے انکی MEDINCINE لکھ دی ھیں۔۔۔
اپ انکو گھر لے جا سکتے ھیں۔۔۔۔۔
THANKYOU
ڈاکٹر اپنی بات ختم کر کے جا چکی تھی۔۔۔۔۔
دعا کو بھی اسٹیچیس لگا کر ڈاکٹر کے کمرے میں منتقیل کر دیا گیا تھا۔۔۔
معراج ڈاکٹر کے کمرے میں داخل ھوا تو دعا سامنے STRECHAR پر بیٹھی تھی ہاتھ میں پٹی بندھی تھی۔۔۔۔
اور وہ منہ موڑ کر کچھ سوچ رہی تھی۔۔۔
معراج نے اس کے وجود پر نظر ڈالی تو اسکو ایک عجیب سے احساس نے گھیر لیا تھا۔۔۔۔۔
دعا ؟؟؟
معراج نے بہت ہمت کر کہ دعا کو آواز دی تھی۔۔۔۔۔
دعا نے گردن موڑ کر معراج کو دیکھا تھا۔۔۔۔۔
دعا کی انکھیں سوجی ھوئ تھی۔۔۔۔اور گلابی ھونٹ بلکل سفید ھو رہے تھے۔۔۔۔
گھر چلیں۔۔۔۔۔!!!
معراج کہ منہ سے الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر ادا ھوئے تھے۔۔۔۔
دعا بنا کچھ بولے strechar سے اٹھ گئ تھی۔۔۔۔
تو ایک دم اسکو چکر سا محسوس ھوا تھا۔۔۔
اللہ !!!!
دعا کے منہ سے ایک دم سے نکلا تھا۔۔۔۔
وہ چکراتے سر کو تھام کر واپس بیڈ پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
معراج اگے بڑھا تھا لیکن دعا کو چھونے کی اس کے اندر ہمت نا ھوئ۔۔۔۔۔
تم ابھی پورئ طرح ٹھیک نہیں ھو ہم کچھ دیر یہاں روک جاتے ھیں۔ ۔۔دعا !!!
معراج نے کہا تو دعا نے کوئ جواب نا دیا۔۔۔
تم ابھی پوری طرح ٹھیک نہیں ھوئ ھو دعا۔۔۔
نہیں ٹھیک ھوں میں۔۔۔ !!! دعا نے مختصر سا جواب دیا تھا۔۔۔۔سنتی کیوں نہیں ھو تم
اچھا
چلو
مجھے ہاتھ دو اپنا معراج نے دعا کے اگے ہاتھ کر کے دور سے کھڑے کھڑے کہا تھا۔۔۔۔۔۔
میں ٹھیک ھوں !!!!
مجھے تمھارے سہارے کی کوئ ضرورت نہیں معراج جہانگیر ۔۔۔
عورت کمزور ھوتی ھے یہ تمھاری سب سے بڑی بھول ھے۔۔۔۔۔
دعا کے لہجے میں ایک عزم تھا۔۔۔۔
وہ دوبارہ سے بیڈ سے اٹھی تھی۔۔۔اور اب خود چل کر کمرے سے باہر نکل گئ تھی۔۔۔۔
معراج بھی اس کے پیچھے پیچھے گیا تھا۔۔
☆☆☆☆☆☆☆
پورے راستے دونوں میں کوئ بات نا ھوئ تھی۔۔۔۔
گھر اتے ھی دعا خاموشی سے اتر کر اوپر اپنے کمرے تک اگئ تھی۔۔دعا کو حد سے زیادہ کمزوری اور تکلیف محسوس ھورہی تھی لیکن وہ اب مزید معراج کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چھاتی تھی۔۔۔۔۔۔
معراج کو واقعی اس کی ہمت پر حیرت ھو رہی تھی۔۔۔۔۔
دعا نے اکر اپنے کپڑے بدلے تھے اور اب جانماز بچھا کر نماز ادا کر رہی تھی۔۔۔۔
معراج جب منہ ہاتھ دھو کر واپس نکلا تو اس وقت دعا جانماز پر بیٹھی دعا مانگ رہی تھی۔۔۔
وہ جانتا تھا اگر وہ بیڈ پر سویا تو یہ ضدی لڑکی اج پھر زمین پر سوئے گی اس لیے وہ اپنا تکیہ اٹھا کر صوفے پر اکر لیٹ گیا تھا۔۔۔۔
اور دعا کو دیکھنے لگا جو دعا مانگ کر رہی تھی۔۔۔۔دعا اتنی گم ھو کر دعا مانگ رہی تھی۔جیسے اسکا دنیا سے کوئ تعلق ھی نا ھو۔۔۔۔اس وقت معراج کو دعا کے چہرے پر بےحد سکون نظر آیا۔۔۔۔ دعا اٹھی تھی۔۔۔۔اور جانماز لپٹ کر رکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
اب ہاتھ میں درد تو نہیں ھے ؟؟؟
معراج نے وہی لیٹے لیٹے پوچھا تھا
دعا نے کوئ جواب نا دیا۔۔۔۔
دعا ؟؟؟؟؟
معراج نے پھر پکارا تھا۔۔۔۔۔
اپ کو اس سب سے کوئ مطلب نہیں ھونا چھائے۔۔۔۔
اپ کے دے گئے زخم سے بہت چھوٹا زخم ھے یہ۔۔۔۔۔
دعا نے نفرت بھرے لہجے میں جواب دیا تھا اور اکر بیڈ پر چادر اوڑھ کر لیٹ گئ تھی۔۔۔۔
معراج کے دل میں ایک ٹیس سی اٹھی تھی۔۔۔
کوئ چیز اندر ٹوٹی تھی۔۔۔
وہ اپنا ایک بازو اپنے سر کے نیچے رکھ کر سوچ رہا تھا۔۔۔۔۔
کیا وہ جیت گیا ؟؟؟
یا جیت کر بھی ہار گیا ؟؟؟
کیا تھا اس کے پاس کچھ بھی تو نہیں ؟؟
وہ شروع سے اکیلا تھا اور اج بھی اسی جگہ اکیلا کھڑا تھا ۔۔۔۔۔
ہر کوئ اس سے دور جانا چھاتا تھا۔۔۔۔
معراج کی انکھیں ایک دم نم ھوئ تھی۔۔۔۔
اس نے ایک نظر دور لیٹی دعا پر ڈالی تھی۔۔۔۔۔
ایک انسو معراج کی انکھ سے ٹپکا تھا۔۔۔۔۔
کاش !!!
تم تو مجھے سمجھ پاتی دعا !!!!
کاش !!!!!!!!!!
تم سمجھ پاتی کہ میں کس اگ میں جلتا ھوں روز۔۔۔۔
معراج اس وقت حد سے زیادہ اکیلا تھا۔۔۔۔۔
وہ ضدی تھا اسکے اندر جنون تھا۔۔لیکن وہ دل کا برا نہیں تھا۔۔۔۔کبھی کبھی ہم ضدی اس لیے بھی ھو جاتے ھیں کہ کوئ ہمیں سمجھ نہیں پاتا ۔۔۔۔
سوچتے سوچتے نجانے کب معراج کی انکھ لگ گئ تھی۔۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆
صبح جب معراج کی انکھ کھولی تھی تو دعا کمرے میں موجود نا تھی۔۔۔وہ فورن صوفے سے اٹھا تھا اور سب سے پہلے باتھ روم میں چیک کیا تھا
دعا باتھ روم میں بھی نا تھی۔۔۔اس کا دل ایک دم زور سے ڈھڑکہ تھا۔۔
وہ اسی طرح نائٹ سوٹ میں نیچے آگیا تھا ۔۔۔۔۔۔
نیچے آیا تو سامنے ہی دعا کھانے کی میز پر رملا اور بریرہ بیگم کے ساتھ بیٹھی باتیں کر رہی تھی۔۔۔دعا کو دیکھ کر معراج کا دل سکون میں ایا تھا۔۔۔
جب دعا اسکی نظروں سے اوجھل ھوتی تو اسکو ایک عجیب سا خوف محسوس ھوتا ۔۔وہ خود نہیں جانتا تھا کہ اس کی یہ کیفیت کیوں ھے۔۔۔۔۔۔
ھو ھو اٹھ گئے جناب۔۔۔!!!
معراج زینے کے درمیان کھڑا دعا کو دیکھ رہا تھا جب رملا کی نظر اس پر پڑی تھی۔۔۔۔۔
وہاں کیوں کھڑے ھو ادھر آجاو راج۔۔۔۔۔
رملا نے کھانے کی میز پر معراج کو بلایا تھا۔۔۔
رملا کے کہنے پر بھی دعا نے معراج کی طرف نا دیکھا تھا اور یہ چیز معراج نے محسوس کی تھی۔۔۔۔۔
کیا حال ھیں بھابی ؟؟؟
کہی اپ میری بیوی سے میری برائیاں تو نہیں کر رہی تھی ؟؟؟
معراج نے کرسی پر جگہ سنبھالتے ھوئے کہا۔۔۔۔
بس تم میں ھیں ہی اتنی بریئاں کیا کروں۔۔۔۔
میری دیورانی تو بہت معصوم ھے ۔۔۔۔تم ھی پورے کے پورے جن ھو ۔۔۔
رملا نے ھنس کر کہا۔۔۔۔
اچھا جی شکریہ بہت بہت !!!!
معراج نے مسکرا کر رملا کر دیا نام قبول کیا۔۔۔۔۔
ابھی وہ لوگ باتیں ھی کر رہے تھے جب شور مچاتے روحان اور علیان لاونئج میں داخل ھوئے تھے۔۔۔۔۔۔
چاچو
چاچو !!!
دونوں اکر معراج سے لپٹ گئے تھے۔۔۔۔دعا نے بھی حیرت سے یہ منظر دیکھا تھا۔۔۔۔
اہ میرے champs کب ائے ؟؟؟
معراج نے دونوں کو ہائے فائے کرتے ھوئے خوشی سے کہا۔۔۔۔
دعا نے معراج پر نظر ڈالی تھی۔۔۔وہ روحان اور علیان سے مل کر خوش تھا ۔۔
اور کبھی علیان کو چومتا تو کبھی روحان کو۔۔۔۔۔۔
چاچو اپنے شادی کر لی اور مجھے اپنی آئٹم بھی نہیں دیکھائ ؟؟؟
روحان نے بڑے مزے سے معراج سے شکوہ کیا تھا۔۔۔۔
دعا اور رملا دونوں ھی روحان کے اس طرح ائٹم بولنے پر ھنسی تھی۔۔۔۔
آئٹم کے بچے وہ چاچی ھیں اپکی ؟؟؟
معراج نے پیار سے روحان کا کان پکڑ کر کہا تھا ۔۔۔۔
اچھا کہاں ھیں ہماری چاچی ؟؟؟
اب کے علیان نے پوچھا تھا۔۔۔۔
ادھر آو علیان اور روحان اب کے رملا نے انکو بلایا تھا ۔۔۔۔
جی ماما ؟؟؟
دونوں بھاگتے ھوئے یہاں ائے تھے۔۔۔
دعا
یہ ھے روحان !!!!
میرا بڑا بیٹا۔۔۔۔رملا نے دعا سے تعارف کر ویا تھا۔۔۔
اھو ماما اپکو introduction بھی کروانا نہیں آتا۔۔۔۔۔
hello beautiful lady !!!
i m Raja rohan !!!!
روحان نے بڑے پیارے اسٹائل سے اپنا تعارف کر ویا تھا۔۔۔۔
دعا کو یہ 8 سال کا روحان بہت پیارا لگا تھا۔ ۔۔۔
اہ بہت پیارا نام ھے اپکا تو روحان جی۔۔۔۔!!
دعا نے پیار سے روحان کے گال پر بوسہ دیا تھا ۔۔۔۔
oh thanku so much pretty girl ![]()
روحان کے اندر معراج کی بہت شوات موجود تھی اور اسکا اسٹائل بھی معراج سے کافی ملتا تھا۔۔۔۔
اور دعا یہ ھے میرا چھوٹا بیٹا
علیان
hello beautiful chachi
علیان نے معاصومیت سے اپنی توتلی زبان میں کہا تھا۔۔۔دعا کو علیان پر بھی بے حد پیار آیا تھا۔۔۔
علیان کی عمر کوئ 3 سال تھی اور روحان کی عمر 8 سال تھی۔۔۔دونوں ھی بہت خوبصورت اور تمیز دار بچے تھے ۔۔۔۔انکی پروریش باہر کے ملک میں ھوئ تھی اس لیے اپنی عمر سے بڑی باتیں کرتے تھے۔۔۔
ہمممم تو اپ ھیں ہماری چاچی ؟؟؟
روحان نے دعا پر سر سے پیر تک نظر ڈال کر پوچھا۔۔۔۔۔
ھممم جی !!!!!
دعا نے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔۔
معراج نے دعا پر نظر ڈالی تھی ۔۔۔۔لائٹ گالبی کلر کی فورک میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔۔ہمیشہ کی طرح اسکا حجاب اس کے سر پر موجود تھا ۔
اپ دونوں بہت اچھے ھیں۔۔۔دعا نے باری باری دونوں کو چوم کر کہا۔۔۔۔۔
thankyou
اپ بھی بہت اچھی ھیں۔۔۔۔!!!
روحان نے بھی دعا کے گال پر بوسہ دیا تھا۔۔۔۔۔
چاچو اپکی آئٹم پسند اگئ ھے مجھے۔۔۔۔۔
روحان نے دعا کے گلے میں ہاتھ ڈال کر معراج کو انکھ مار کر کہا۔۔۔۔۔
بتاوں ابھی میں۔۔۔۔معراج نے ھنس کر روحان کو انکھیں دیکھائ۔۔۔۔۔
دونوں بچے معراج سے شروع سے بہت attached تھے۔۔۔۔
بھابی بہت بھوک لگی ھے یار کچھ کھانے کو لا دیں۔۔۔۔
معراج نے رملا کو دیکھ کر بولا تو رملا اٹھ کر کچن میں چلی گی تھئ اور دعا روحان اور علیان سے باتوں میں لگی تھی اس نے ایک بار بھی معراج کی طرف نا دیکھا تھا۔۔۔۔
معراج نے دعا کے ہاتھ پر نظر ڈالی تو اس نے ہاتھ پر بندھی پٹی چوڑیوں سے cover کی ھوئ تھی۔۔۔۔۔
دعا ؟؟؟
معراج نے بچوں کے ساتھ کھلتی دعا کو آواز دی تھی۔۔۔۔۔
دعا نے سن کر بھی ان سنا کر دیا تھا۔۔۔۔معراج نے پھر آواز دی تھی
دعا ؟؟؟؟
دعا نے صرف گردن اٹھا کر دیکھا۔۔
ہاتھ کیسا ھے اب ؟؟؟
ٹھیک ھے !!
دعا نے مختصر سا جواب دیا۔۔۔۔اور پھر روحان اور علیان سے باتوں میں لگ گئ ۔ دعا کو بچے شروع سے بہت پسند تھے اور روحان اور علیان تو تھے بھی بہت شرارتی بچے۔۔۔۔۔
دعا کو اچھی company مل گی تھی۔۔۔معراج بھی کچھ حد تک مطمئن ھوا تھا ۔۔۔۔
یہ لو جناب اپ کا ناشتہ !!!
رملا نے معراج کے سامنے ناشتہ رکھ کر کہا تھا ۔۔۔۔
اھو کیا ھوا رہا ھے یہاں ؟؟؟
ابھی دعا بیٹھی تھی کہ بلاج اور دلاور بھی داخل ھوئے تھے۔۔۔۔۔
اور اکر دعا کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔
دعا ان لوگ سے اتنا فری نہیں تھی اس لیے تھوڑا سا uncomfertable ھوئ۔۔۔۔۔
دعا بھابی مجھے تو آپ جانتی ھونگی ؟؟؟
بلاج نے ھنس کر کہا تھا۔۔۔۔
دعا نے سر ہلا کر جی کہا تھا ۔۔۔
معراج جو ٹیبل پر بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا ایک دم اٹھ کر اکر دعا کے بکل برابر والے صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔ ۔۔۔
دعا کو عجیب سا محسوس تو ھوا تھا لیکن اکیلے پن کا احساس اب ختم ھو چکا تھا۔۔۔۔۔۔
دعا دیکھو ہم لوگ بہت ھنسی مزاق والے ھیں معراج کو تو ہمارے مزاق نہیں پسند اگر تمھیں برا لگے تو بتا دینا۔۔۔۔۔دلاور نے مسکرا کر کہا تھا۔۔۔۔
بے تکے مزاق کسی کو پسند نہیں اتے۔۔۔معراج نے چائے کا گھونٹ بھرتے ھوئے کہا تھا۔۔۔۔۔۔
دلاور بلاج اور رملا مل کر دعا سے خوب ھنسی مزاق کر رہے تھے۔۔۔کبھی معراج کی ٹانگ کھنچتے تو کبھی دعا کی۔۔۔
ابھی وہ لوگ ھنسی مزاق ہی کر رہے تھے کہ سجل بھی اکر لاوئنج میں بیٹھ گئ تھی۔۔۔۔
لیکن وہ کسی بھی بات میں حصہ نہیں لے رہی تھی۔۔۔۔
دعا کو بھی یہ سب بہت اچھے لگے تھے۔۔۔۔لیکن دعا نے محسوس کیا تھا کہ سجل دعا سے کٹی کٹی تھی۔۔۔اور دعا اسکی وجہ بھی جانتی تھی۔۔۔۔۔
معراج پھر تم نے کیا سوچا ؟؟؟
اب کے بلاج نے معراج سے سوال کیا تھا۔۔۔
کس بارے میں ؟؟؟
معراج نے بے نیازی سے پوچھا تھا۔۔۔۔
یار تمھیں میں نے ھنی مون کا کہا تھا نا۔۔۔۔۔
بلاج نے معراج کو یاد دلوایا تھا۔۔۔۔
ھنی مون کا نام سن کر تو دعا کہ چہرے پر ایک رنگ ایا اور گیا تھا۔۔۔۔۔
اور معراج نے صاف یہ رنگ محسوس کیا تھا۔۔۔
اسکی نظر دعا کے ہی چہرے کا طواف کرتی تھی۔۔۔۔
اھو تو اب ھنی مون پر بھی جایا جائے گا۔۔۔۔
سجل نے پہلی بات کی تھی اور وہ بھی جلے ھوئے انداز میں۔۔۔
اپ کے پیسوں سے نہیں جارہے۔۔۔۔
معراج نے فورن جواب دیا تھا۔۔۔جس پر سب زور سے ھنسے تھے۔۔۔۔۔
سجل منہ کی کھا کر چپ ھوگئ تھی۔۔۔۔
بلاج میرا تو کچھ نہیں تمھاری بھابی سامنے ھے ان سے خود پوچھ لو۔۔۔معراج جانتا تھا کہ اسکے بولنے پر دعا کبھی نہیں مانے گی اس لیے اسنے یہ زمہ داری ان لوگوں کو ہی سونپ دی تھی۔۔۔۔۔
کیوں دعا ؟؟؟
تمھارا کیا خیال ھے ؟؟؟
اب کے رملا نے دعا سے پوچھا تھا۔۔۔۔
کس بارے میں ؟؟؟
دعا جان کر انجان بنی تھی۔۔۔۔۔
میرے ساتھ بھاگ جانے کے بارے میں !!
معراج نے دعا کی بات کے جواب میں کہا تو بلاج اور دلاور نے hooting کی تھی اور رملا زور سے ھنسی تھی جبکہ دعا نے شرم سے سر نیچے کر لیا تھا۔۔۔۔
عجیب انسان ھے !! دعا نے دل میں معراج کو کوسا تھا۔۔۔
ارے دعا میں اور تمھاری رملا بھابی روحان اور علیان کو لے کر پاکستان گھومنے جارہے ھیں۔۔۔کچھ دن کا stay اسلاماآباد کا ھے پھر اگے کا ۔۔۔تمھاری اور معراج کی نئ نئ شادی ھوی ھے تم دونوں بھی چلو۔۔۔
بلاج نے بڑے مزے سے دعا کو سارا پروگرام سنایا تھا۔۔۔۔
بلاج بھائ وہ !!!!
دعا ابھی بھانہ ہی سوچ رہی تھی کہ رملا بول پڑی۔۔۔
دعا یہ ہی وقت ھے گھوم او پھر بچوں کے بعد بہت مشکل ھوتا ھے۔۔۔
معراج کو ایک دم رملا کی بات پر ھنسی ائ تھی۔۔۔
جبکہ دعا نے معراج کی ھنسی بخوبی محسوس کی تھی۔۔۔۔۔
ہم ہم جی بچے !!!
معراج نے دعا کے کان میں کہا تھا۔۔۔۔۔
اھو بھائ ادھر کانا پھوسی کی نہیں ھورہی۔۔۔۔
اب کے بلاج نے دونوں کو چھیڑا تھا۔۔۔۔۔
دلاور ہم بھی چلیں !!!
سجل چپ نا رہے پائ تو فورن بولی۔۔۔۔
کیا ھوگیا سجل ہم ابھی تو ائے ھیں۔۔۔۔londan سے اورتم جانتی ھو میرے اوپر کام کا لوڈ ھے میں تو نہیں جا سکتا۔۔۔۔۔۔دلاور کے صاف انکار نے سجل کو اور مزید غصہ دیلایا تھا۔۔۔۔۔۔
چلو نا دعا مزہ ائے گا ۔۔ ۔۔
رملا نے ضد کی تھی۔۔۔
رملا بھابی میرا دل نہیں۔۔۔میں کبھی گئ نہیں۔۔۔۔۔
تو کوئ بھی نہیں جاتا۔۔۔۔مزہ ائے گا میں ھوں نا تمھارے ساتھ ۔۔۔۔
رملا دعا کو فورس کر رہی تھی۔۔۔۔۔
چلیں نا چاچی مزہ ائے گا۔۔۔۔
چلیں نا۔۔۔۔۔۔
روحان اور علیان نے بھی دعا سے ضد کی تھی ۔۔
دعا چھا کر بھی انکار نا کر پائ اس لیے بولی ٹھیک ھے جیسے اپ سب کی مرضی۔۔۔۔۔۔
دعا کے اقرار پر تو جیسے سجل کے اندر اگ ہی لگ گئ تھی۔۔۔۔وہ فورن اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئ تھی۔۔۔۔۔۔
جب کہ رملا بلاج روحان علیان اور معراج بہت خوش ھوئے تھے۔۔۔۔
اھو ھو دلاور سجل ناراض ھوگئ ھے۔۔۔رملا نے کہا۔۔
کوئ بات نہیں بھابی میں منا لوں گا اسے اپنا credit card دے کر۔۔۔۔دلاور نے ھنس کر کہا تو دعا سمیت سب ھنسے لگے ۔۔۔
وہ لوگ بیٹھے باتیں ہی کر رہے تھے کہ جہانگیر صاحب اور بریرہ بیگم بھی اندر داخل ھوئے تھے۔۔۔۔۔
معراج کا موڈ ایک دم ھی چینج ھوا تھا۔۔۔۔۔۔یہ بات دعا نے محسوس کی تھی۔۔۔۔۔۔
کہاں جانے کا پروگرام بن رہا ھے۔۔۔۔
بریرہ بیگم نے مسکرا کر دعا کو دیکھ کر پوچھا تھا۔۔۔۔
اپ سے بہت دور °°
جس کا معراج نے جل کر جواب دیا تھا۔۔۔۔۔۔
دعا کو خاصا عجیب محسوس ھوا تھا۔۔۔۔
کس طرح کا انسان ھے کوئ اپنی سگی ماں سے بھی ایسے بات کرتا ھے۔۔۔۔۔دعا نے دل میں سوچا۔۔۔
کب جانا ھے تم لوگ نے ؟؟؟
اب کے جہانگیر صاحب نے سوال کیا تھا۔۔۔۔
بابا کل !!!
بلاج نے جواب دیا تھا۔۔۔۔
ہمم ٹھیک ھے تم لوگ جاو۔۔۔لیکن اپنا اپنا خیال رکھنا election بلکل سر پر ھیں ۔۔۔اور میں نہیں چھاتا کہ تم لوگ کی کسی بھی بےوقوفی کی وجہ سے میں یہ election ہاروں۔۔۔۔
معراج ایک دم ھنسا تھا۔۔۔۔
اپ کو ہم سے زیادہ اپنے election کی فکر ھے واہ۔۔۔۔۔
معراج کے جو منہ میں اتا وہ فورن بول دیتا تھا ۔
ہاں بلکل میں نہیں چھتا میں اس سال ہاروں میں پچھلے 10 سالوں سے جیتا آرہا ھوں۔۔۔۔ ہار مجھے برداشت نہیں۔۔۔۔
میری جیت میرا جنون ھے۔۔۔۔
۔جہانگیر صاحب نے روب دار لہجے میں کہا تھا۔۔۔۔
اھو تو یہ چیز ورثے میں ملی ھے۔۔۔۔دعا نے جہانگیر صاحب کی بات سن کر دل میں سوچا۔۔۔۔۔
بابا اپ فکر نا کریں اگر ہمیں کچھ ھو بھئ گیا تو بھی اپ یہ election جیت ھی جائیں گے ۔۔۔۔معراج نے چیڑ کر جواب دیا تھا۔۔۔۔
ہمم دعا بیٹا تم اپنی پیگینگ کر لینا اور سردی !!!
ابھی بریرہ بیگم کی با ت ادھوری تھی کہ معراج بول پڑا۔۔۔۔
oh please
میں اور دعا چھوٹے بچے نہیں ھیں۔۔۔۔۔
بڑے ھوچکے ھیں۔۔۔۔۔
اپ ہماری فکر نا کریں۔۔۔۔معراج نے بنا کیسی کا لحاظ کیے کہا تھا۔۔۔۔۔۔
اور اٹھ کر فورن اپنے کمرے کی طرف چلا گیا تھا۔۔۔۔
معراج اپنے گھر والوں سے بہت دور تھا یہ بات دعا نے محسوس کی تھی۔۔۔
دعا نے بریرہ بیگم کی انکھوں میں بے شمار آنسو دیکھے تھے ۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر بریرہ بیگم اور رملا سے باتیں کرنے کے بعد دعا بھی اپنے کمرے میں جانے کے لیے اٹھ گئ تھی۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆
احمد صاحب سے گھر میں تمام لوگ ھی خفا تھے۔۔۔۔۔۔خاص کر عمیر اسکو حیرت تھی کہ احمد صاحب اس طرح کا رویہ کیوں رکھے ھوئے ھیں۔۔۔۔۔۔
اور وہ معراج کو اکثر کال کر کے دعا کی خیرت معلوم کر لیا کرتا تھا۔۔۔۔
نمرہ اور عمر اب اپنی نورمل لائف کی طرف اچکے تھے۔۔۔۔۔۔
سمیرا بیگم بیٹی کو بہت یاد کرتی تھی لیکن شوہر کی مرضی کے اگے خاموش تھی۔۔۔لیکن عمیر اپنی بات پر ڈاٹا ھوا تھا بس وہ صیح موقعے کی تلاش میں تھا۔۔۔۔۔
پھوپو نے دعا کی شادی میں ہی لگے ہاتھوں سیرت کی امی سے سیرت اور اشعر کے رشتے کی بات کر لی تھی اور اب خیر سے سیرت اور اشعر کا بھی رشتہ ھونے والا تھا۔۔۔۔۔۔۔
دعا کی کمی کو کوئ پورا نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔احمد صاحب کا دل خود بے چین تھا لیکن ضد نے انکو بھی روک رکھا تھا۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆
دعا اپنے کمرے میں داخل ھوئ تو معراج کہی جانے کے لیے تیار کھڑا تھا۔۔۔۔
وہ بلکل پہلے والا معراج دیکھائ دے رہا تھا۔۔۔۔۔
دعا نے ایک نظر اس پر ڈالی اور پھر اکر بیڈ پر بیٹھ گئ۔۔۔۔ ۔
ہم ہم !!!!
معراج نے اپنے اوپر perfume چھڑکتے ھوئے جان کر اپنا گلہ صاف کیا۔۔۔۔۔
ویسے دیکھو سب صیح بول رہے ھیں۔۔۔۔
بچوں سے پہلے ہی !!!
معراج کی بات پر دعا نے گھور کر اسکو دیکھا تھا تو معراج ایک دم زور سے ھنسا۔۔۔۔
تم خود مانی ھو ھنی مون پر جانے کو اب وہاں جا کر یہ با بولانا کہ میں نے تم پر زبردستی کی ھے ۔۔
معراج نے دعا کے سامنے بیڈ پر جگہ سنبھالی تھی۔۔۔۔
دیکھو تم اور میں ھنی مون پر !!! معراج دعا کو چھیڑنے کے لیے جان کر یہ سب بول رہا تھا۔۔۔
دعا اٹھنے لگی تو معراج نے اسکا ہاتھ پکڑا تھا ۔۔
اس غلط فہمی میں ہرگز نا رہے گا کہ میں اپکی وجہ سے ھنی مون پر جا رہی ھو ۔۔۔۔۔
میرا اور اپ کو صرف مجبوری کا تعلق ھے جناب۔۔۔۔۔
اچھا سچی ؟؟؟
معراج نے مسکرا کر پوچھا۔۔۔
جی صرف اور صرف بلاج بھائ روحان علیان اور رملا بھابی کی وجہ سے جارہی ھوں۔۔
چلو جس بھی وجہ سے جارہی ھو۔۔۔۔جا تو رہی ھو نا ۔۔۔۔۔
خیال کرنا کہی تمھیں مجھ سے پیار نا ھوجائے۔۔۔۔۔۔۔۔
معراج نے انکھوں میں شرارت لا کر کہا۔۔۔۔
میری جوتی کو بھی نا ھو۔۔۔۔۔۔۔
دعا نے اسی طرح کہا تھا۔۔۔۔۔۔
معراج کو ایک دم ھنسی ائ۔۔۔۔یہ تو تم نے شادی کرنے پر بھی کہا تھا۔۔۔۔۔۔
میری جان۔۔۔۔۔
میرا نام دعا ھے۔۔۔۔۔۔میری جان نہیں۔ ۔
دعا نے گھور کر کہا۔۔۔
میں تو میری جان ہی بلاوں گا ۔۔۔۔
اپکی جان میں نہیں ھوں وہ ھیں جن سے ملنے اپ اس وقت تیار ھو کر جارہے ھیں۔۔۔۔۔
دعا کہ منہ سے ایک دم ہی نکلا تھا۔۔۔۔۔
اھوووووووو تو یعنی محترمہ کو جلن ھو رہی ھے۔۔۔۔۔معراج نے دعا کو الجھاتے ھوئے کہا۔۔۔۔
مجھے اور اپ کے لیے جلن۔۔۔۔۔
اچھا مزاق ھے۔۔۔۔میری طرف سے پوری رات گھر نا ائے میں زیادہ سکون میں رہو گی۔۔۔۔
دعا نے بیڈ سے اٹھ کر کہا۔۔۔۔
جس دن ایسا کیا نا جان نکل جانی ھے تمھاری۔۔۔۔۔
معراج نے دعا کا ہاتھ تھاما تھا۔۔۔۔
میری دل میں تمھارے لیے مزید نفرت تو پیدا ھو سکتی ھے۔۔۔۔
۔محبت نہیں۔۔۔۔
دعا نے اپنا ہاتھ چھڑواتے ھوئے کہا۔۔۔۔
چلو دیکھتے ھیں۔۔۔۔
ضد جتی ھے۔۔۔۔
یا جنون کی انتھا ۔۔۔۔۔ ۔
معراج نے بیڈ سے اٹھتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔
اچھا سنو۔۔۔۔۔
میں زارہ دوستوں سے ملنے جارہا ھوں۔۔۔۔میری یاد میں جاگنا مت medicine کھا کر سوجانا اور ہاں packing کل ملازم کر دیں گے ۔۔۔
معراج نے دعا کو ہدایت دی۔۔۔۔
مجھے اپکی یاد کہی ائ ہی نا جائے۔۔۔۔۔۔
ضرورت سے زیادہ خوش فہمی ھے اپکو۔۔۔۔
دعا نے الماری کھولتے ھوئے کہا۔۔۔۔
یہ کیا کر رہی ھو ؟؟
معراج نے دعا کو کپڑے نکالتے ھوئے دیکھا تو پوچھا۔۔۔۔۔
مجھے اپنے کام خود کرنے کی عادت ھے۔۔۔۔
کسی کے سہارے کی نہیں۔۔۔۔دعا تمھارے ہاتھ پر لگی ھے چھوڑ دو ۔۔۔
معراج نے وہی کھڑے کھڑے کہا۔۔۔۔۔
مجھ سے ہمدردی کر کے خود کو اچھا ثابت مت کریں جو اپ ھیں میں جانتی ھوں اچھے سے۔۔۔ ۔
اپ جیسا انسان کسی سے ہمدردی کرے تو بھی ڈر ہی لگتا ھے۔۔۔۔۔۔
دعا نے نفرت بھری نگاہ ڈال کر کہا تھا۔۔۔۔
معراج کے دل کے اندر ایک ٹیس سی اٹھی تھی۔۔۔۔
کتنی نفرت تھی دعا کے دل میں اسکی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ خاموش سا ھوکر کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔۔۔
دعا بھی اپنا سر پکر کر بیڈ پر بیٹھ گئ تھی۔۔۔۔
کتنی الجھ گئ تھی اسکی زندگی۔۔۔۔۔۔
وہ اتنی بد زبان تو کبھی نا تھی۔۔۔۔۔۔معراج نے اسکو کیا سے کیا بنا دیا۔۔تھا
۔اس نے دل میں سوچا۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆
معراج پورے راستے صرف ایک ہی بات سوچتا ھوا ایا تھا۔۔۔۔۔
کس قدر برا تھا وہ دعا کی نظر میں۔۔۔۔
کس قدر نفرت تھی دعا کے دل میں اسکی۔۔۔۔۔
میں نے تو دعا سے بدلہ لینے کے لیے شادی کی تھی۔۔۔۔
تو پھر کیا ھوگیا ھے مجھے اخر۔۔۔۔؟؟؟؟
کیوں اس لڑکی کی نفرت سے فرق پڑ رہا ھے مجھے۔۔۔۔
کیوں اسکے درد میں میرا دل بے چین ھوتا ھے۔۔۔
کیوں میں اتنی تکلیف محسوس کرتا ھوں۔۔۔۔
وہ میری ضد تھی جو پوری ھوچکی پھر کیوں اسکی اتنی پرواہ ھے مجھے۔۔۔۔۔
اس نے اب تک کوئ 15وی سیگرٹ سلگائ تھی۔
بھاڑ میں جائے ہر چیز۔۔۔۔
وہ سوچ سوچ کر تھک چکا تھا پر جواب کہی نا ملا تھا۔۔۔۔۔۔
اس نے گاڑی لا کر ایک کلب کے سامنے روک دی تھی۔۔۔۔۔
گاڑی سے اتر کر وہ !!!!
