Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zid Junoon Ki Inteha Episode 23

Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi

معراج نے سنجدیگی سے کہا۔۔

دعا نے خاموشی سے اٹھا کر اسکی جیکٹ اپنے اوپر ڈالہ تھی۔

اپ نہیں تھکے

دعا نے ایک دم ہی پوچھا تھا۔

میری تھکن کبھی ختم نہیں ھوسکتی۔

معراج نے لبوں پر درد بھری مسکان سجا کر کہا تھا۔۔

مطلب ؟

دعا نے ھیرت سے پوچھا تھا۔

کچھ باتیں بنا مطلب بھی ھوتی ھیں۔

معراج نے کہہ کر میوزک player اون کر دیا تھا۔۔۔

میوزک پلیر پر بجنے والا گانا معراج کے دل کے درد کو بیان کر رہا تھا۔

آطف اسلم کی آوآز میں بجتا یہ سریلا گانا دعا کو اج بہت عجیب لگا تھا۔۔

Kacchi doriyon, doriyon, doriyon se

Mainu tu baandh le

Pakki yaariyon, yaariyon, yaariyon mein

Honde na faasley

Eh naraazgi kaagzi saari teri

Mere sohneya sunn le meri

Dil diyan gallan

یہ گانا سن کر معراج کی انکھیں تھوڑی بھیگی تھی۔۔۔۔اور اس نے دل میں کہا کاش

کاش دعا تم میرے دل کی باتیں سمجھ سکتی۔

اپ نے کچھ کہا کیا ؟؟؟؟

دعا نے ایک دم پوچھا۔۔۔

دعا کو محسوس ھوا جیسے معراج نے اسے کچھ کہا۔۔

نہیں کچھ نہیں۔۔جواب دیا۔

دعا پھر اس گانے پر غور کرنے لگی اج پہلی بار اسکو یہ گانا کچھ عجیب لگ رہا تھا۔۔

Karaange naal naal beh ke

Akh naal akh nu milaa ke

Dil diyan gallan haaye…

Karaange roz roz beh ke

Sacchiyan mohabbataan nibha ke

Sataaye mainu kyun

Dikhaaye mainu kyun

Aiven jhuthi mutthi russ ke rusaake

Dil diyan gallan haaye

Karaange naal naal beh ke

Akh naal akh nu mila ke

معراج نے بھی ساتھ ساتھ ہی گانا گنگوننا شروع کر دیا تھا۔۔

معراج کے اندر ایک عجیب سا شور برپا تھا جو یہ گانا گا کر وہ چھپا رہا تھا۔۔۔

دعا نے معراج کی آواز پر اور اس کے الفاظ پر غور کیا تھا۔

اسکو ایسا لگ رہا تھا کہ واقعی معراج اس سے یہ سب بول رہا ھے۔۔

Tenu lakhan ton chhupa ke rakhaan

Akkhaan te sajaa ke tu ae meri wafaa

Rakh apna bana ke

Main tere layi aan

Tere layi aan yaaran

Naa paavin kade dooriyan

Main jeena haan tera…

Main jeena haan tera

Tu jeena hai mera

Dass lena ki nakhra dikha ke

Dil diyan gallan

Karaange naal naal beh ke

Akh naal akh nu mila ke

Dil diyan gallan…

گانے کے یہ الفاظ سن کر دعا کے زہن میں ایک دم معراج کے کہے وہ الفاظ یاد ائے۔۔

تم صرف میری دعا ھو۔۔۔۔جس دن تم مجھ سے دور گئ میں تمھیں جان سے مار دوں گا۔۔

یہ گانا پورانی یادیں لارہا تھا۔۔

Raatan kaaliyan, kaaliyan, kaaliyan ne

Mere din saanwale

Mere haaniyan, haaniyan, haaniyan je

Lagge tu na gale

Mera aasmaan mausamaan di na sune

یہ الفاظ سن کر دعا کو اب معراج کی وہ بے چین نیند یاد ائ تھی جو وہ کل کی رات بے چین ھو رہا تھا۔

Koi khwaab na poora bane

Dil diyan gallan

Karange naal naal beh ke

Akh naal akh nu mila ke

Pataa hai mainu kyun chupa ke dekhe tu

Mere naam se naam mila ke

Dil diyan gallan

Karange naal naal beh ke

Akh naal akh nu mila ke

Dil diyan gallan…

جب یہ گانا ختم ھوا تو دعا معراج کو ایک ٹک دیکھے جارہی تھی۔۔

معراج نے بھی ایک نظر اس پر ڈالی تھی تو دعا کو محسوس ھوا معراج کی انکھیں نم ھیں۔

دعا کو عجیب سی تکلیف ھوئ تھی۔۔

یہ صرف گانا نہیں تھا۔۔

دعا کے دل نے ایک دم کہا تھا۔

دعا نے ایک گھیری سانس لی تو معراج کی جیکٹ سے اسکو ایک دم معراج کی دھیمی دھیمی خوشبو محسوس ھوئ تھی۔

دعا نے ایک دم اپنی انکھیں موند لی تھی۔۔

دعا کو وہ خوشبو اس کو بہت اچھی لگی۔

تھوڑی ہی دیر بعد وہ لوگ ناران پھنچ گئے تھے ۔۔

ناران میں تو حد سے زیادہ سردی تھی۔

برف باری بھی ھوئ تھی ایک دو دن پہلے۔۔

گاڑی سے اترتے ہی دعا کاپنا شروع ھوگئ تھی۔۔

معراج اور بلاج نے ایک ھوٹل میں دو کمرے بک کروائے تھے۔۔۔۔ان لوگوں کو بھوک بھی بڑی زوروں کی لگی تھی۔۔۔

اب سب سے پہلے ان لوگ نے کھانا کھایا۔

پھر اپنے ھوٹل گئے۔۔

بلاج اور رملا کا تو تھکن سے برا حال تھا۔۔۔

روحان اور علیان بھی بہت تھک چکے تھے اس لیے وہ لوگ فورن ھوٹل اکر اپنے کمرے میں گھس کر آرام کر رہے تھے۔۔

دعا معراج جب اپنے ھوٹل کے کمرے میں داخل ھوئے تو

دعا کو صوفے کو دیکھ کر کچھ سکون ھوا۔

معراج روز کے مقابلے میں کافی چپ چپ تھا۔۔

دعا نے پوچھنا مناسب نا سمجھا۔

دعا اور معراج کے کمرے کے ساتھ کی ایک gallery تھی۔۔۔جو ناران کے مال روڈ پر کھولتی تھی اور بڑا حسین منظر پیش کرتی تھی۔۔

بہت پیاری جگہ ھے۔۔

دعا نے معراج سے بات کا موضوع نکالا تھا۔۔

ہمم !!

معراج نے صرف اتنا کہا۔۔

اج پہلی بار دعا معراج سے بات کرنا چھا رہی تھی تو وہ حد سے زیادہ چپ تھا۔۔۔

دعا ؟

معراج کچھ دیر بعد بولا

جی ؟؟

دعا نے اج پہلی بار فورن جواب دیا تھا۔۔

کچھ نہیں۔

معراج پھر کچھ بولتے بولتے روکا تھا۔۔

دعا کو یہ شخص مسلسل الجھا رہا تھا۔۔

تم ایک کام کرو عمیر سے بات کرلو اسکی کال ائ تھی جب ہم اسلاماآباد تھے وہ تم سے بات کرنا چھا رہا تھا۔۔میرے زہن سے نکل گیا تھا۔۔

معراج نے سنجدیگی سے دعا کو کہا۔۔

اور پھر اٹھ کر باہر جانے کے لیے کھڑا ھوا۔۔

اپ کہاں جا رہے ھیں دعا نے ایک دم ہی پوچھا تھا۔۔

وہ مجھے کچھ کام ھے تم آرام سے بات کرلو۔۔

معراج بول کر تیزی سے کمرے سے باہر نکال گیا تھا۔۔

دعا کچھ پل کچھ سوچتی رہی پھر اس نے فون اٹھا کر عمیر کو کال کی۔۔۔

اس وقت گیارہ بجے تھے اور وہ جانتی تھی عمیر اٹھا ھوا ھوگا۔۔

دو سے تین بیل کے بعد ہی عمیر نے فون اٹھا لیا تھا۔۔

اسلام علیکم آپی

کیسی ھیں اپ ؟؟

عمیر نے خوشی سے پوچھا تھا۔۔۔

میں اللہ کا شکر ٹھیک ھوں تم سب کیسے ھو عمیر ؟

اپی ہم سب بھی ٹھیک ھیں۔۔۔۔!!!! عمیر نے بتایا۔

اچھا۔۔

دعا نے مختصر سا جواب دیا۔

اپی اپ لوگ ابو سے ملنے گئے تھے ؟

عمیر نے ایک دم ہی سوال کیا تھا۔۔

ہاں

کیوں ابو نے کچھ کہا کیا عمیر ؟

دعا نے بے چینی سے پوچھا۔

ہمممم کہا تو کچھ نہیں پر انکو اچھا لگا۔۔۔عمیر نے یہ بڑی خوشی کی بات بتائ تھی دعا کو۔

کیا اچھا لگا۔؟

دعا نے حیرت اور خوشی سے پوچھا۔

آپی دراصل ابو کو امید نہیں تھی کہ وہ سب ھونے کے بعد معراج بھائ اپکو ابو کے پاس پھر لے کر جائیں گے اور جس طرح معراج بھائ نے اپ کو جانے سے پہلے ہم سب سے ملوایا ۔۔اور پھر ابو سے خود بھی ملنے ائے۔۔۔یہ انکے اچھے ھونے کی علامت ھے۔۔۔۔عمیر پھر معراج کے قصیدے پڑھنا شروع ھوگیا تھا۔۔

ہممم

دعا سن رہی تھی۔۔۔

آپی مجھے لگتا ھے معراج بھائ ابو کی ناراضگی بھی ختم کردیں گے اپ دیکھیے گا۔

امی نمرہ مجھے تو معراج بھائ بہت پسند ھیں۔۔۔وہ جس طرح اپکا خیال رکھتے ھیں وہ تو ہمیں نظر آتا ھی ھے۔۔

بس اللہ کرے اب جلد سے جلد ابو بھی مان جائیں۔

عمیر نون اسٹاپ بول رہا تھا۔۔

اچھا اب بس بھی کرو عمیر۔۔۔۔کیا ھوگیا ھے تم لوگ سے جب بات کرو تم لوگ معراج کی تعریف شروع کر دیتے ھو۔۔

تم میرے گھر والے ھو یا اسکے

دعا نے جل کر کہا تھا۔

ہاہاہا آپی اپ سے زیادہ تو اب ہمھیں معراج بھائ سے ملنے کی خوشی ھوتی۔

عمیر نے دعا کو جلانے کے لیے کہا۔

اچھا بھاڑ میں جاو۔۔

دعا نے ناراضگی ظاہر کی۔

پھر تھوڑی دیر عمیر سے حال چال پوچھ کال بند کر کہ وہ باتھ روم چلی گئ۔۔

دعا جب باتھ روم سے وضو کر کے باہر نکلی تو ٹھنڈ سے اسکی کلفی جم رہی تھی۔۔

معراج بھی آچکا تھا اور اب لیٹا ٹی وی دیکھ رہا تھا۔۔۔جب دعا نے اسکو کہا۔

مجھے نماز پڑھنی ھے۔۔۔۔۔اپ پلیز ٹی وی بند کر دیں۔۔

دعا نے جان کر معراج کو کہا تھا۔

معراج نے بنا کچھ کہے ٹی وی بند کر دیا تھا۔

اچھا مجھے اپ سے ایک کام تھا۔

دعا نے معراج سے کہا

ہاں بولو ؟؟

معراج نے حیرت سے پوچھا۔

وہ دراصل۔

میں نا نماز میں ایک چیز بھول گئ ھوں۔

اپ پلیز مجھے google پر نماز کا صیح طریقہ دیکھ کر بتا دیں گے۔۔۔۔۔یا اسکی کوئ application download کردیں۔

دعا نے بڑی ھوشیاری سے معراج کی الجھن سلجھائ تھی۔۔

تم نماز بھول گئ ؟

معراج کو واقعی ھیرت ھوئ

جی

کیوں میں انسان نہیں ھوں ؟؟؟

دعا نے جواب دیا

مجھے ویسے شک ھے اس بات پر۔

معراج نے ھنس کر کہا۔۔

مجھے تو تم پوری جھنگلی بلی لگتی ھو۔۔۔۔۔حترمہ

اپنے بارے میں اپکا کیا خیال ھے ؟؟؟ دعا نے منہ بنا کر کہا۔۔

تم روز نماز پڑھتی ھو سردی ھو گرمی ھو پھر بھی۔

تو تم کیسے نماز بھول سکتی ھو

معراج بچوں کی طرح سوال کر رہا تھا۔

انسان مٹی کا پتلا ھے۔۔۔۔میں روز نماز پڑھتی ھوں اسکا مطلب یہ تو نہیں کہ مجھ سے غلطیاں نا ھوتی ھوں۔۔۔۔اور اپنی غلطی منانے والے کو اللہ معاف بھی کر دیتا ھے۔

اور ویسے بھی انسان کو اپنی نماز بھتر سے بھتر کرنی چھائے۔

اب اپ کے سوال ھوگئے تو نماز کا طریقہ بتا دیں۔

دعا نے فورن کہا۔

اچھا آا

معراج نے اپنا موبئل اٹھا کر نماز کا طریقہ نکالا۔

اور پڑھنے لگا۔۔

دعا اسکے پاس ہی بیٹھ گی تھی۔

معراج ایک ایک لفظ کو سمجھ سمجھ کر پڑ رہا تھا۔

اھوو ہاں بسس یاد آگیا۔۔

دعا نے اٹھ کر کہا اور جاکر جانماز پر کھڑی ھوگئ۔۔

معراج اسی طرح اپنے موبئل میں وہ پڑھتا رہا۔

دعا سمجھ چکی تھی کہ معراج نماز پڑھنا چھاتا ھے۔۔۔۔

لیکن اسکو بولتے ھوئے روکاوٹ ھو رہی ھے۔۔۔اس لیے اس نے معراج کو ایک ایسی راہ دہکھائ تھی جس سے معراج کو نماز بھی آجاتی اور دعا کی مدد لے کر شرمندہ بھی نا ھونا پڑتا۔۔

دعا نے نماز پڑھ کر دعا مانگی۔

اور پھر اٹھ کر معراج کے پاس ائ۔۔

اج اپ کافی تھک گئے ھیں۔۔۔اپ بیڈ پر سو جائیں میں صوفے پر سوجاتی ھوں۔

دعا نے آج پہلی بار معراج کو افر کی۔

نہیں ٹھیک ھے۔۔

میں تو کب سے تھکن کا شیکار ھو محترمہ۔۔

معراج کی گھیری باتیں دعا کو الجھا رہی تھی۔

خیر تم بیڈ پر سو جاو۔۔

میں صوفے پر سوجاوں گا ۔۔۔معراج بیڈ سے اٹھ کر اب صوفے پر اکر بیٹھا تھا۔۔

اور سیگریٹ سگائ تھی۔

جی اچھا۔

دعا خاموشی سے بیڈ پر انکھیں بند کر کے لیٹ گئ تھی۔

معراج تھوڑی دیر دعا کے سونے کا انتظار کرتا رہا ۔

جب دعا سو گئ تو وہ خاموشی سے اٹھ کر باتھ روم گیا۔

جاکر وضو کی

اور پھر جانماز بچا کر کھڑا ھوا۔

جانماز پر کھڑے ھوتے ہی اسکی انکھوں سے ایک کے بعد ایک انسو گیر رہے تھے۔

وہ اج کتنے سالوں بعد اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ھو رہا تھا۔۔۔۔معراج کے دل میں ایک ندامت تھی۔

اسنے نماز کی نیت بانھدی اور سجدے کی طرف نظریں جما لی۔۔۔

وہ ایک ایک لفظ بہت ٹھہر ٹھہر کر پڑھا تھا۔

معراج نماز بھولا نہیں تھا۔

بس نماز پڑھنے کا صیح طریقہ اسکے زہن کے کسی کونے میں جاکر چھپ گیا تھا ۔۔

جو اج دوبارہ سے وہ سب پڑھنے سے اسکو یاد ایا تھا۔۔

اللہ نے مسلمانوں کے دل میں اسلام کی روشنی دی ھے تو بھلا کیسے کوئ مومن نماز اور اللہ سے زیادہ وقت تک دور رہ سکتا تھا ۔۔

معراج پیٹ پر ہاتھ باندھ کر الحمد شریف پڑھا تھا۔۔۔اور اس کی انکھیں نم ھوئ جارہی تھی۔

وہ بہت ٹھیر ٹھہر کر روک روک کر نماز پڑھ رہا تھا۔

چند سورتیں اسکو یاد تھی اور وہ نماز میں وہی صورتیں پڑرہا تھا۔

معراج جب رکوع میں گیا اور اس نے سجدہ کیا تو اس کو ایک روحانی سکون محسوس ھوا تھا۔۔

اس طرح ٹھر ٹھر کر معراج نے پوری نماز ادا کی تھی۔

اور پوری نماز پرھتے وقت معراج کی انکھوں سے انسو گیر رہے تھے

نماز مکمل کرنے کے بعد معراج جانماز پر ہی بیٹھا ھوا تھا۔

کچھ دیر وہ اسی طرح زمین کو دیکھتا رہا۔

پھر دعا کے لیے ہاتھ اٹھا کر اس نے بڑی ہمت سے اپنے دل میں بولنا شروع کیا۔

اس کے منہ سے دعا مانگتے وقت جو پہلا لفظ نکلا تھا وہ

اللہ

تھا۔

اللہ !!

اللہ !

معراج اللہ کو پکار رہا تھا۔

وہ جب جب اللہ کا نام لے رہا تھا اسکا دل پھٹنے کو تھا۔

میرے اللہ

میرے پیارے اللہ۔۔

معراج اس وقت چھوٹے سے بچے سے زیادہ معصوم دیکھائ دے رہا تھا۔

اب وہ رو رہا تھا۔

میرے اللہ

مجھے تو تجھ سے مناگنا بھی نہیں اتا۔۔

مجھے معاف کر دے میرے اللہ۔۔

مجھے معاف کر دیں۔۔

اللہ جی میری مدد فرمائیں۔۔

میں تھک گیا ھوں میرے رب

میں تھک گیا ھو۔۔۔۔مجھے سکون بخش۔

میں نے اپنا سب کچھ برباد کر دیا

میں اپ سے دور چلا گیا اللہ۔۔

میں نے اپ کو چھوڑ دیا۔

لیکن اپ نے مجھے نا چھوڑا۔۔

میں نے بہت گناہ کیے ھیں میرے اللہ۔۔

میں نے بہت لوگوں کے دل دکھائے۔۔

مجھے لوگوں کو سکون میں دیکھ کر غصہ آتا تھا۔۔

میں جس عزاب کو اٹھا رہا تھا۔۔۔۔وہ تو اپ مجھ سے بھتر جانتے ھیں۔

لیکن میں نے راستہ غلط چنا۔۔۔

میں نے اپنے اندر کی کمی کو اپنی ضد میں تبدیل کر دیا۔۔۔یہ سوچے بنا کے میری ضد دوسرے انسان کو کتنا دکھ پھنچا رہی ھے۔۔

میرے اللہ میں بہت شرمندہ ھوں۔۔

میں ہمیشہ میں میں کرتا رہا۔۔

اور اپ نے ہمیشہ میری میں کا بھرم رکھا۔۔

لیکن میں نے اپنی زندگی کے اتنے سال اپ سے دور گزارے۔۔

ایک جھوٹی دنیا کے پیچھے۔۔۔میں اپ کو چھوڑ کر دنیا میں لگ گیا ۔۔۔۔۔اپنا سکون نشے اور لڑکیوں میں تلاش کرنے لگا۔

میں کیوں بھول گیا کہ اپ تو اللہ ھیں۔۔

اپ تو اپنی طرف بلاتے ھیں۔

اپ تو کہتے ھیں او میرے پاس اؤمجھ سے اپنے گناہ کی معافی مانگو۔میں تمھارے گناہ معاف کروں گا۔۔

تمھیں بخش دوں گا۔۔

اپ کی تو صفات میں رحم کرنا ھے۔۔

پھر بھی میں اپکی طرف نا ایا میرے اللہ۔۔

اب بچوں کے طرح بلک بلک کر رو رہا تھا اور اپنے اللہ سے باتیں کر رہا تھا۔۔۔۔اپنے گناہ کی معافی مانگ رہا تھا۔

اللہ میں تو اس قدر اپنی خواہشات کا عادی ھو گیا تھا۔۔۔میری خواہشات نے مجھے اپنا غلام بنا کر انسان سے حیوان بنا دیا تھا۔

میرے دل میں اچھے برے کی تمیز ختم کردی تھی۔

میرے اوپر ایسے حیوانیات کا رنگ چھڑا کے میں نے اس معصوم لڑکی کی خوشیاں نگل گیا۔

جو لڑکئ اپنے باپ پر جان دیتی تھی۔جسکا باپ اس پر جان دیتا تھا۔۔۔میں نے انکو ہی جدا کر دیا

صرف اپنی ضد کی خاطر۔

میں بہت برا ھوں میرے رب۔

میں نے دعا سے اسکی زندگی کا سکون چھین لیا۔

میں نے ہمیشہ ہر چیز چھینی چھائے۔کبھی تجھ سے نہیں مانگا۔۔۔تیرے اگے ہاتھ نہیں پھیلائے۔

ہمیشہ خود پر غرور کیا۔

اور یہ ہی وجہ تھی جو میری روح کو سکون نہیں تھا۔۔

میرے اللہ مجھے معاف کر دے۔۔

معراج کافی دیر اسی طرح بیٹھا اپنے اللہ سے اپنے دل کی باتیں کرتا رہا روتا رہا۔

اپنے غلطیاں مانتا رہا۔۔

وہ قریبن کوئ دو گھنٹے اسی طرح جانماز پر بیٹھا اللہ سے باتیں کرتا رہا۔

معراج راستہ بھٹک گیا تھا۔۔۔وہ بہت سال اس راستے پر اندھوں کی طرح چلتا رہا۔۔۔۔۔لیکن اللہ نے اس پر خاص کرم کیا تھا اس کو وقت پر اندھریے راستے سے نکال کر روشن راستے کی طرف موڑ دیا تھا۔۔۔۔۔وہ راستہ جس کی منزل بہت پرسکون تھی۔

☆☆☆☆☆☆☆

اللہ سے باتیں کر کے معراج کے دل میں ایک عجیب سا سکون تھا۔

جیسے کسی طوفان کے تھم جانے کے بعد ایک سکون کی خاموشی ھوتی ھے۔۔۔۔ویسی ھی سکون معراج اپنے اندر محسوس کر رہا تھا۔۔

جب وہ اللہ سے اپنی تمام باتیں کر چکا اور اسکا دل تھوڑا سکون میں ایا تو وہ جانماز سے اٹھ گیا تھا۔

اور جانماز لپٹ کر جگہ پر رکھ کر اس نے گھڑی میں وقت دیکھا تو گھڑی میں بج رہے تھے۔

وہ اپنی جگہ پر جاکر لیٹ ہی رہا تھا کہ اس کی نظر دعا پر پڑی۔۔۔۔دعا کے چہرے پر بے شمار معصومیت تھی اور وہ کروٹ بدل کر سو رہی تھی۔

معراج کا دل اس وقت زور سے ڈھڑکا تھا۔

وہ اپنی جگہ پر جانے کے بجائے۔۔۔۔۔اکر خاموشی سے دعا کے پاس لیٹ گیا تھا۔

اور پھر دعا کو خاموشی سے لیٹا دیکھ رہا تھا۔

دعا اپنا ایک ہاتھ اپنے سر کے نیچے رکھ کر سو رہی تھی اور اسکا دوسرا ہاتھ تکیے پر پڑا تھا۔

معراج تھوڑا اور دعا کے پاس ھوا تھا۔۔

دونون میں اب بہت کم فاصلہ تھا

دعا کے اوپر اسکا ہر حق تھا۔

دعا کو اللہ نے اسکے لیے محرم بنایا تھا۔۔

دعا اس کی بیوی تھی۔

دعا کے بال اوڑھ اوڑھ کر اسکے منہ پر آرہے تھے۔۔

اور معراج کو وہ بال اپنے رقیب معلوم ھورہے تھے۔

معراج دعا کو چھونا چھاتا تھا۔۔۔لیکن وہ ایسی جرت کرنے سے اب ڈرتا تھا۔۔کیونکہ وہ دعا کو کھونے سے ڈرتا تھا۔۔

دعا کے ہاتھ میں پڑی چوڑیاں معراج نے اپنی ایک انگلی سے چھوئ تھی۔

مدھم روشنی میں دعا کا چہرہ چمک رہا تھا۔

کھلے لمبے بال اسکے منہ پر آرہے تھے۔۔۔

بڑی بڑی انکھیں بند تھی۔۔۔جن پر بڑی بڑی پلکیں سپاہی بنی کھڑ تھی

معراج کا دل کر رہا تھا۔۔۔کہ وہ اس وقت دعا کو اٹھا کر اس سے بھی لڑے معافی مانگے۔

اسکو بتائے کہ وہ اس کی قربت کے لیے تڑپ رہا ھے۔۔

وہ اس سے معافی چھاتا ھے اپنے ہر گناہ کی معافی۔۔

دعا کی نفرت اسکو اندر اندر تڑپاتی ھے وہ ہر ایک چیز دعا کو بتانا چھاتا تھا۔۔۔

معراج نے ہلکے سے دعا کے ہاتھ کو تھاما تھا۔

اور بہت مدھم آواز میں دعا کو پکارا تھا

اسکو سوتی دعا سے باتیں کرنا بہت اچھا لگتا تھا۔

دعا

مجھے معاف کردو۔۔

میں تمھارا اور تمھارے ابو کا گنگہار ھوں

میں نے اپنی ضد کی خاطر تمھاری خوشیاں چھین لی۔

لیکن میں نہیں جانتا تھا کہ تم میری زندگی میں اس قدر ضروری ھو جاو گی۔

جانتی ھو دعا۔۔۔۔۔میں تم سے ۔

معراج بولتے بولتے ایک دم روکا تھا۔۔۔

نہیں۔۔۔۔یہ سب میں تمھارے سامنے تب بولوں گا جب میں تمھارے قابل بن جاوں گا۔۔

دعا میں تم سے بہت ساری باتیں کرنا چھاتا ھوں۔

تمھارے گلے لگ کر رونا چھاتا ھوں۔تم سے اپنا ہر ایک درد باٹھنا چھاتا ھوں

تمھاری گود میں سونا چھاتا ھوں

میں بچپن سے بہت اکیلا ھوں دعا۔

پلیز مجھے معاف کرو دو نا

مجھے اپنا بنا لو۔

پلیز۔

میں تمھارا شکر گزار ھوں دعا۔۔

اور تمھارا گھنگہار بھی۔

میں جانتا ھوں تم مجھ سے نفرت کرتی ھو

اور کرنی بھی چاھئے میں نے حرکتیں ہی ایسی کی ھیں۔

پر میں تم سے وعدہ کرتا ھوں۔۔۔دعا

میں ہر ایک چیز ٹھیک کرو دوں گا۔۔

تمھاری وہ خوشی واپس لاوں گا۔۔

تمھارے ابو سے معافی مانگو گا۔۔

میں تماری خوشی کے لیے اب کچھ بھی کروں گا دعا۔

بس تم کبھی مجھے چھوڑ کر مت جانا پلیز۔۔

کبھی نہیں۔

میں نے اب تک جو کھویا اسکی دوری برداشت کرلی پر تمھیں کھونے کی ہمت نہیں ھے مجھ میں۔

میں تمھارے لیے بہت کمزور ھوں

دعا۔

تم سمجھتی ھو میں نے تمھیں ہرا دیا۔۔

پر حقیقت تو یہ ھے کہ میں تم سے بہت بری طرح ہار گیا ھوں دعا۔

تم جیت گئ۔

اور میں ہار گیا۔

میں اپنی ہار تسلیم کرتا ھوں ۔۔

کیونکہ میری جان میں تم سے بے شمار

معراج کی آواز میں درد تھا۔۔۔وہ چپ ھوگیا۔۔

کچھ پل اسی طرح دعا کو دیکھتا رہا ۔

پھر اٹھ کر صوفے پر اکر لیٹ گیا۔۔

معراج کے جاتے ہی دعا نے اپنی انکھیں کھولی تھیں۔

دعا کی انکھوں میں بے شمار آنسو تھے۔

جو اس نے روک رکھے تھے۔۔

وہ معراج کی ایک ایک بات سن چکی تھی۔۔

دعا کا دل اس وقت پھوٹ پھوٹ کر رونے کا چھا رہا تھا۔۔

معراج نے اپنا گناہ قبول کر لیا تھا۔

وہ مان گیا تھا۔۔

معراج تو سوگیا تھا لیکن اس نے دعا کی نیند ضرور اڑا دی تھی۔

وہ معراج کا ایک ایک لفظ پھر یاد کر رہی تھی۔۔۔۔اور سوچ رہی تھی۔

☆☆☆☆☆☆

معراج کی جب انکھ کھلی تو دعا کمرے میں موجود نہیں تھی معراج نے باتھ روم میں چیک کیا وہ وہاں بھی نہیں تھی۔۔

وہ اپنی جیکٹ پھن کر ایسے ہی باہر نکال آیا تھا۔۔۔دعا کی ایک دم غیر موجودگی سے پتا نہیں وہ کیوں ڈر سا جاتا تھا۔

معراج اپنے کمرے سے ھوتا ھوا لان کی طرف آیا تو رملا بلاج دعا روحان اور علیان کھیل رہے تھے۔۔

دعا کسی بات پر زور زور سے منہ پر ہاتھ رکھ کر ھنس رہی تھی ۔۔

معراج کی نظر دعا پر ٹکی تھی۔

دعا اج بے حد پیاری لگ رہی تھی۔

ان تینوں نے معراج کی آمد کو محسوس نہیں کیا تھا۔

روحان ور علیان اب دعا کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔۔

دعا کے ہاتھ میں انکی بال تھی وہ بے دھینای میں بھاگتی ھوئ واپس ھوٹل کی طرف بڑھ رہی تھی۔

وہ بھاگ اگے رہی تھی پر بار بار پلٹ کر پیچھے روحان اور علیان کو دیکھ رہی تھی۔

جب ہی اسکی معراج سے بری طرح ٹکر ھوئ تھی۔

دعا نے تو زور سے انکھیں بند کر لی تھی۔

اور ایک چیخ بھی ماری تھی۔۔

دعا نے جب انکھیں کھولی تو وہ معراج کے بازوں میں تھی۔

وہ ایک دم جیھپ کر سیدھی ھوئ تھی۔

کل کے بعد سے دعا کو معراج سے سمانا کرنا مشکل ترین لگ رہا تھا۔

بندہ اگے پیچھے بھاگتے ھوئے دیکھ لیتا ھے میڈم۔۔

معراج نے دعا کو سیدھا کرتے ھوئے کہا۔۔

اگر میری جگہ کوئ اور ھوتا تو ؟

معراج کے لہجے میں واضعے جلن تھی۔۔۔

تو کیا ھوتا دعا تمھاری جگہ اسکی بھاہوں میں ھوتی۔۔۔۔رملا پیچھے سے ھنس کر بولی تھی۔

اور میں اس شخص کو یہاں ہی زندہ گاڑ دیتا۔

معراج کو یہ بات ہرگز برداشت نا تھی کہ اسکی دعا کو کوئ چھوئے۔

معراج کے اس طرح بولنے پر رملا اور بلاج زور سے ھنسے تھے۔۔۔جبکہ دعا نے سر نیچے کر لیا تھا

بھائ اس کہتے ھیں

جنون کی انتھاء

بلاج نے ھنس کر کہا۔۔۔۔۔۔تو معراج نے ایک دم پوچھا۔۔۔۔

اس میں جنون کہاں سے آگیا ؟

دیکھو برخدار !

جب جنون کا عشق ھوتا ھے نا۔۔

تو کوئ بھی چیز انسان برداشت کر لیتا ھے۔۔۔۔۔پر تمھارے پیار کی طرف کوئ دیکھے بھی تو اسکو جان سے مارنے کا دل کرتا ھے۔۔

بلاج اج بڑی فوم میں تھا۔۔

اھوووو خیر ھو بلاج صاحب اج بڑا عشق یاد آرہا ھے۔

معراج نے لان کی کرسی پر بیٹھتے ھوئے کہا۔۔

بس دیکھ لو تمھارے بھائ کبھی کبھی ھی ایسی باتیں کرتے ھیں نہیں تو ان سے بس operation کی باتیں کروا لو۔

رملا نے جل کر کہا تو دعا ایک دم ھنس دی۔۔

اور اکر ایک کرسی پر جگہ سنبھالی۔۔اور ایک ہماری بیگم ھیں جو ہماری پیاری بھری باتیں سنے کو تیار نہیں۔۔۔معراج نے دعا کو دیکھ کر مسکرا کر کہا۔

دعا نے جب معراج پر نظر ڈالی تو معراج اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔معراج کی نیند سے جاگی انکھیں اور بکھرے ھوئے بال پر دعا کی نظر پڑی تھی۔۔معراج نے دعا پر ایک نظر سر سے پیر تک دالی تھی۔۔۔دعا کی بڑی بڑی انکھوں میں اج اس نے کاجل لگایا تھا۔۔

کھڑی ناک میں چھوٹی سی لونگ پھنی تھی۔۔۔۔گلابی ھونٹوں پر ہلکی سی lipgloss لگائ تھی۔۔۔

بہت ہلکا پھلکا سا میک اپ کیا ھوا تھا۔۔۔معراج کچھ دیکھتا رہا۔پھر بولا

اج خیر ھے نا ؟

کیا مطلب ؟

دعا نے مطلب نا سمجھتے ھوئے پوچھا۔۔۔وہ معراج سے اج نجانے کیوں confuse ھو رہی تھی۔۔۔۔

اج کس کو گھائل کرنے کا ارادہ ھے۔۔

معراج نے اج پہلی بار دعا کی براہ راست تعریف کی تھی۔۔

دعا کو حد سے زیادہ شرم محسوس ھوئ تھی۔۔۔۔اور وہ خاموش رہی۔

ااوووووو

جبکہ رملا اور بلاج نے ھوٹینگ کی تھی۔

کیا ھوگیا۔۔۔اپنی بیوی کی تعریف کر رہا ھوں۔

بلاج اور رملا کے چھیڑنے پر معراج نے ھنس کر کہا۔۔

اچھا معراج اب مصلہ یہ ہے یار کے میں اور رملا تو saif -ul -mulooq جھیل نہیں جارہے۔۔۔اج ہمارا ناران کا بازار گھومنے کا ارادہ ھے۔

تم ایک کام کرو۔۔

دعا اور تم ھو آو۔۔

بلاج اور رملا نے جان کر اج ان کے ساتھ کوئ program نا رکھا تھا۔۔۔

نہیں بھابھی ایسے مزہ نہیں ائے گا۔۔۔

دعا فورن ہی بولی تھی۔۔۔

ارے کیوں مزہ نہیں ائے گا اپنے شوہر کے ساتھ جارہی ھو تم۔۔۔۔

ویسی بھی دیکھو ناران کا کتنا پیارا موسم ھے۔۔

کتنی زبردست ٹھنڈ ھے۔

تم دونوں ھوئے آو۔۔۔۔رملا نے دعا کو فورس کیا۔۔۔

لیکن اپ کے بغیر!

دعا معراج کے ساتھ اکیلے جانا نہیں چھاتی تھی اس لیے بولی۔۔۔

محترمہ ؟؟؟

میں اپکو کھا نہیں جاوں گا۔۔۔۔۔بے فکر رہے مجھے ھڈی والا گوشت پسند نہیں۔

دعا کے بار بار منع کرنے پر معراج نے جل کر کہا۔۔

ہاہہا چپ معراج نا تنگ کرو دعا کو۔۔۔رملا نے معراج کو ٹوکا تھا پھر بولی

ہاں دعا جلی جاو۔۔۔۔تم نے تو دیکھا بھی نہیں۔۔۔

اصل میں مجھے کچھ shopping کرنی ھے اس لیے ہم نہیں جارہے۔

بلاج نے بھی دعا کو فورس کیا تھا۔۔

دعا مجبورن خاموش ھوگئ۔

اب تم لوگ جلدی نکل جاو تا کے جلدی واپس آسکو۔۔۔۔۔بلاج نے تعقید کی۔۔۔

باراش جیسا موسم ھو رہا ھے۔۔۔۔۔دعا نے ایک بھانہ اور دھونڈا تھا۔۔۔

ارے یہاں یہ ہہ موسم رہتا ھے۔۔۔۔رملا کسی صورت دعا کی بات منے کو تیار نہیں تھی۔۔

اگر تمھارا دل نہیں ھے تو ہم نہیں جاتے

اب کے معراج نے دعا کو دیکھ کر کہا۔تو بلاج اور رملا کو اپنی کوشش ناکام ھوتی دیکھائ دی

ارےےے جاوں نا ۔۔

کچھ وقت ہمیں بھی اکیلا چھوڑ دو۔۔

رملا نے ھنس کر کہا۔۔۔۔۔اور یہ ظاہر کیا جیسے وہ اپنے شوہر کے ساتھ اکیلے رہنا چھاتی ھے۔۔

نہیں ہم چلتے ھیں۔۔۔۔رملا کی بات سن کر دعا نے جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

اوکے پھر بس میں تیار ھوکر آتا ھوں پھر نکلتے ھیں۔

معراج نے کرسی سے کھڑے ھوتے ھوئے کہا۔۔

ہمم جی ٹھیک ھے۔۔۔

دعا نے ہامی بھری۔

معراج واپس اپنے کمرے میں چلا گیا تھا جبکہ دعا وہی بیٹھی رملا سے ھنسی مزاق کر رہی تھی۔۔

ناران میں اس وقت مزے کی ٹھنڈ تھی اور دعا یہ سب بہت enjoy کر رہی تھی۔۔۔۔یہاں کے خوبصورت مناظر اس نے اپنے موبئل مہم بھی قید کیے تھے۔۔۔

اسکو saif ul mulkook جانے کا بہت شوق تھا لیکن وہ معراج کے ساتھ اکیلے جانے سے پتا نہیں کیوں ڈر رہی تھی۔

کل رات کے بعد سے دعا معراج سے دور بھاگ رہی تھی۔۔

وہ اور رملا ابھی باتیں ہی کر رہے تھے جب دعا کے موبئل پر معراج کی کال ائ۔

جی اچھا !!!! کیا ھوا

دعا نے کال بند کی تو رملا پوچھے بنا نہیں رہے سکی۔

وہ مجھے بلا رہے ھییں میں دیکھ کر آتی ھوں۔۔

دعا اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئ تھی۔

☆☆☆☆☆☆

اپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ وہ لوگ ھنی مون پر گئے ھیں ؟؟

ہما سجل پر بری طرح چیخ رہئ تھی

بس مجھے یاد نہیں رہا ہما ۔

سجل اپنی صفائ پیش کر رہی تھی۔

ایسے کیسے یاد نہیں رہا۔

میں دعا اور معراج کو الگ کرنا چھاتی ھوں اور وہ لوگ ھنی مون پر اب پتا نہیں وہاں کیا کیا ھوگا۔۔

اففففف

ہما کو اس وقت حد سے زیادہ غصہ تھا اور وہ اپنے کمرے کی چیزیں اٹھا اٹھا کر دیور پر مار رہی تھی۔

اخر تمھیں معراج سے ایسا کون سا عشق ھوگیا ھما ?

سجل نے ہما کی یہ کیفیت دیکھ کر پوچھا۔

بات معراج سے عشق کی نہیں۔

بات دعا سے ہار کی ھے۔۔

پہلے کالج پھر papers اور اب یہاں۔۔۔دعا نے مجھے ہر جگہ مات دی ھے۔۔

لیکن اس بار میں مات برداشت نہیں کروں گی

سنا اپ نے سجل آپئ اس بار نہیں۔

دعا کو جتنے نہیں دوں گی۔

ہما نے چیختے چیختے کہا اور سجل کا فون بند کردیا۔

پھر اپنا سر پکڑ کر بیڈ پر بیٹھ گی۔

یہ میرا حق تھا۔۔

میں اپنا حق واپس لوں گی۔۔

چھائے اس کے لیے مجھے دعا کی جان ہی کیوں نا لینی پڑے۔۔

ہما کی انکھوں میں بلا کا جنون تھا۔۔

ہما نے اپنا موبئل اٹھا کر ایک نمبر ملایا تھا۔

مجھے تم سے ابھی کہ ابھی ملنا ھے۔

ادھے گھنٹے کے اندر پھنچوں۔۔۔

ہما نے کہہ کر فون بند کر دیا تھا۔۔

دعا ے معراج ؟

بھاڑ میں جائیں۔

کیا کہا تھا راج نے میری دعا پاک ھے ؟

ہاہہاہا۔

معراج تم نے ہما حسن سے ٹکر لی ھے۔۔

۔تمھاری دعا کی پاکی کو مہں تار تار کردوں گی۔۔۔۔جس چیز تمھیں غرور ھے وہ مٹی میں ملا دوں گی۔۔

اور دعا ۔۔۔۔بس اپنی زندگی کے کچھ دن جی لو۔۔

پھر تو سب تمھارے نام پر ایک بات ہی بولیں گے۔۔

دعا ؟

اھووو

inna lillah hi wa inaa illahi raajioonnnn

ہما کے ارادے بہت خطرناک تھے۔۔۔اس کی ہار اسکی ضد بند چکی تھی۔۔۔اور ضد اب جنون میں تبدیل ھو چکی تھی۔۔۔۔۔اور جس چیز میں جنون شامل ھوجائے پھر اسکئ کوئ حد نہیں رہتی۔۔۔۔۔اس جنون کی حد بھی بے حد ھوتئ ھے۔۔۔۔جنون کی اگ ایک ایسی اگ ھے۔۔۔۔جو ایک بار لگ جائے تو اپنے انجام پر پھچنے سے پہلے ختم نہیں ھوتی۔۔

اب باری ہما کی ضد کی تھی۔

وہ ضد جس میں جنون کی انتھاء تھی۔۔

اب معراج کو اپنے کیے کا انجام اٹھانا تھا۔۔

بہت جلد ایک طوفان انے والا تھا

☆☆☆☆☆☆☆

دعا کمرے میں داخل ھوئ تو معراج تیار تھا۔۔۔۔اور اب بیڈ پر بیٹھ رہا تھا۔۔۔

دعا نے ایک نظر معراج پر ڈالی۔۔برائن جیکٹ اور بلیو پینٹ میں وہ اس وقت بے حد ھینڈسم لگ رہا تھا۔۔

جی ؟

دعا نے کمرے میں داخل ھو کر پوچھا۔۔

تم ہنی مون پر میرے ساتھ ائ ھو یا رملا بھابی کے ساتھ

معراج نے مسکرا کر کہا۔۔

دعا خاموش رہی۔

یار مجھے تم سے پوچھنا تھا کہ اج تم نے قرآن پاک نہیں پڑھا

معراج نے تھوڑے ہچکچاتے ھوئے پوچھا۔

جی پڑھا تھا۔

اچھا۔۔

پلیز مجھے قرآن پاک دے دو گی۔۔معراج نے ایک دم ھی کہا تھا۔

ہمم جی اچھا۔۔۔دعا نے کچھ حیرت سے کہا۔

پھر دعا نے فورن الماری میں رکھا قرآن پاک نکالا تھا۔

یہ لیں۔

اور لاکر معراج کو دیا تھا۔۔

دعا واپس جانے کے لیے پلٹی تو معراج نے اسکو پکارا۔

دعا ؟

جی ؟؟؟ دعا نے پلٹ کر پوچھا۔

کیا تم قرآن پاک پڑھنے میں میری مدد کرو گی اصل میں میری عربی بہت کمزور ھے۔

معراج نے دعا سے سیدھا کہا تھا۔

ہممم ضرور

دعا نے ایک پل لگائے بغیر جواب دیا تھا۔

اور اکر معراج کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گی تھی۔۔

اپ ایک کام کریں پہلے سپارے سے شروع کریں۔۔

دعا نے معراج کو پہلا سپارہ نکال کر دیا۔۔

اور معراج کو باقاعدہ استادنیوں کی طرح ایک ایک لفظ پڑھانے لگی۔۔

اور معراج معصوم بچوں کی طرح دعا کے ساتھ ساتھ پڑھتا رہا۔

معراج اور دعا صیح راستے پر چل پڑے تھے۔۔۔لیکن صیح راستہ آسان نہیں ھوتا۔۔

مشکلوں سے گزر کر ہی انسان صیح منزل پاتا ھے۔۔۔

☆☆☆☆☆☆

قرآن پاک پڑھ کر معراج کو بہت اچھا لگا تھا۔۔۔۔اور معراج کا یہ نیا روپ دیکھ کر دعا بھی کسی حد تک بہت خوش ھوئ تھی۔۔۔

اب وہ دونوں ساتھ چلتے ھوئے لان میں ائے تھے۔۔۔

معراج کے کہنے پر دعا نے ایک ضروری بیگ بنا لیا تھا۔۔جس میں کچھ ضرورت کی چیزیں تھی۔۔۔۔۔جو معراج نے کندھے پر ڈال رکھا تھا۔

دعا معراج جب لان میں داخل ھوئے تو بلاج رملا وہی تھے ۔

بلاج رملا سے ملنے کے بعد معراج نے ایک جیپ بک کروائ تھی۔۔۔۔جو انکو saif ul mulook تک پھچائے گئ اور لائے گی۔۔

اور اب وہ دونوں جیپ میں بیٹھ کر سیف اولملوک کے لیے روانہ ھوگئے تھے۔

معراج کہنے کو politician کا بیٹا تھا پر اسنے ایک جگہ بھی اس چیز کا فائدہ نہیں اٹھایا تھا وہ نورمل لوگوں کی طرح ہی سفر کر رہا تھا۔۔۔

ناران سے سیف اولملوک کا راستہ 2 گھنٹے کا تھا۔۔

دعا اور معراج ایک ساتھ ہی پیچھے بیٹھے تھے۔۔

کتنا دور ھے سیف الملوک ؟؟؟

دعا نے تیڑے میڑے راستے دیکھ کر معراج سے پوچھا۔

بسس کچھ دو ھی ھے۔۔۔۔۔۔معراج نے جواب دیا۔۔۔

ہمم اچھا !

دعا نے بھرے جنگل کی طرف دیکھ کر کہا۔

سیف المکوک کا رستہ گھنے جنگل سے ھوتا ھوا جاتا تھا۔

اور ہلکے ہلکے وہ لوگ پہاڑی چھڑ رہے تھے یعنی اونچائ۔۔۔

دعا کے زہن میں ایک دم ہی بریرہ بیگم کی وہ بات یاد ائ کہ معراج کو اونچائ سے دڈ لگتا ھے۔۔۔۔۔

سنیں !!!! دعا نے معراج کو مخاطب کیا تھا۔

معراج کو!!