Zid Junoon Ki Inteha By SA Khanzadi NovelR50423 Zid Junoon Ki Inteha Episode 18
No Download Link
Rate this Novel
Zid Junoon Ki Inteha Episode 18
Zid Junoon Ki Inteha by SA Khanzadi
معراج نے گاڑی لاکر جہانگیر مینشن پر روکی اور گاڑی سے اتر کر دعا کے اترنے کا انتیظار کرنے لگا۔۔۔۔
جب دعا گاڑی سے نا اتری تو وہ سمجھا دعا سو گئ ھے۔۔۔.
اس لیے دعا کی طرف کا دروازہ کھول کر جھکا دعا کو جگا رہا تھا۔۔۔۔
دعا !!!!!
دعا ؟؟؟؟
معراج کی آواز سے دعا کو اثر نا ھوا تھا۔۔۔۔
معراج نے دعا کے گال پر ہاتھ لگایا تو۔۔۔۔
وہ برف سے زیادہ ٹھنڈی پڑی تھی۔۔۔
معراج نے ایک دم دعا کو زور سے ہلایا پر وہ نا اٹھی۔۔۔
وہ سمجھ چکا تھا دعا بے ھوش ھوچکی ھے۔۔۔۔
اس نے دعا کو اپنی گود میں اٹھایا تھا۔۔۔۔۔
اور فورن اندر لے کر بڑھا تھا۔۔۔۔۔۔
دعا کا بے سود ھوتا وجود معراج کو ڈرا رہا تھا۔۔۔۔۔۔
اندر اتے ہی وہ زور سے چلایا تھا۔۔۔۔۔
رملا بھابی
رملا بھابی۔۔۔۔
رملا جو اپنے کمرے میں تھی معراج کہ اس طرح چیخنے پر فورن باہر نکل کر ائ تھیں۔۔۔۔
اور دعا کو اس طرح معراج کے ہاتھوں میں بے ھوش دیکھ کر ڈر گئ تھی۔۔۔۔
ہائے اللہ کیا ھوا دعا کو ؟؟؟؟
بھابی اپ پلیز جلدی سے ڈاکٹر کو فون کریں۔۔۔۔
معراج کے شور سے سجل بریرہ بیگم بلاج اور دلاور بھی باہر اگئے تھے۔۔۔۔
اور سب دعا کو اس طرح دیکھ کر پریشان ھوئے تھے۔۔۔۔
معراج دعا کو اس طرح ہاتھوں میں اٹھائے کمرے تک لا رہا تھا۔۔۔
اور بار بار اسکو آواز دے کر اٹھانا چھا رہا تھا۔۔۔
پر دعا کا سفید چہرہ مزید سفید ھوا تھا۔۔۔۔۔
دعا
دعا ؟؟؟؟
معراج نے دعا کو لاکر بیڈ پر لیٹایا تھا۔۔۔۔۔
اور چادر اوڑھا کر اب اسکے پاس بیٹھ کر اسکو پکار رہا تھا۔۔۔
دعا ؟؟؟؟؟
معراج کے پیچھے پیچھے گھر کے تمام لوگ ائے تھے۔۔۔۔
معراج کی ایسی کیفیت پہلے کبھی نا ھوئ تھی۔۔۔۔۔
رملا بھابی اپنے ڈاکٹر کو بلایا ؟؟؟
معراج نے پریشان ھوتے ھوئے پوچھا۔۔۔۔
ہاں بول دیا ھے۔۔۔
جب تک وہ نہیں اتی میں چیک اپ کرتی ھوں اسکا۔۔۔۔۔۔
رکوں میں اپنا first aid box لے آوں۔۔۔۔
رملا بھابی اپنے کمرے کی طرف گئ تھی۔۔۔۔
معراج یہ سب کیسے ھوا ؟؟؟؟
بریر بیگم نے فکرمند ھو کر پوچھا۔۔۔
اس وقت یہ بتانے کا وقت نہیں ھے۔۔۔۔۔۔۔معراج نے ہمیشہ کی طرح چیڑ کر جواب دیا۔۔۔۔
تھوڑی ہی دیر بعد رملا اپنا first aid box اٹھا لائ تھی۔۔۔۔۔۔
اور ساتھ ہی دعا کا بلڈ پریشر چیک کیا تھا۔۔۔۔۔
معراج دعا کا بلڈ پریشر بہت لو ھے اور ہاٹ بیٹ بھی سلو ھے۔۔۔۔
کوئ ٹینش لی ھے اس نے ؟؟؟؟؟
رملا اب دعا کے نبض چیک کر رہی تھی۔۔۔۔
معراج خاموش رہا تو رملا نے مزید کوئ سوال نا کیا۔۔۔
وہ سمجھ چکی تھی کہ معراج کے پاس جواب نہیں تو کوئ بڑی بات ھی ھوگی۔۔۔۔
میں اسکو ایک انجیکشن لگا رہی ھوں۔۔۔
اسکا مائیند ریلکیس کرنے کے لیے۔۔۔۔۔رملا نے دعا کے ہاتھ پر انجیکشن لگایا اور اٹھ کر بولی۔۔۔
اب یہ تھوڑی دیر بعد اٹھے گی۔۔۔۔
اپ سب پلیز باہر اجائیں۔۔۔۔۔
رملا نے سب کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔۔۔
نہیں میں ادھر ھی ھوں بھابی۔۔۔
معراج نے فورن کہا تھا۔۔۔۔
معراج اب وہ ٹھیک ھے فکر مت کرو۔۔۔۔
رملا نے معراج کے چہرے پر فکر دیکھ کر کہا۔۔۔۔۔۔۔
معراج نے ایک نظر دعا پر ڈالی جو بیٹ پر لیٹی تھی۔۔۔۔
معراج بیٹا زارہ باہر آو۔۔۔۔۔
جہانگیر صاحب نے معراج کو کمرے سے باہر انے کو کہا۔۔۔
اور خود وہ باہر چلے گئے
ایک ایک کر کے تمام لوگ باہر چلے گئے۔۔۔۔
معراج نے ایک نظر دعا پر ڈالی ہاتھ بڑھا کر اس کی چادر ٹھیک کی اور کمرے سے باہر آگیا ۔۔۔۔
جی ؟؟؟؟
جہانگیر صاحب سامنے ہی لاوئج میں صوفے پر بیٹھے تھے۔۔۔۔۔
اب ولیمہ کا کیا کریں ؟؟؟؟
بہو کی طبعیت اس قابل ھے کہ ولیمہ ھو سکے ؟؟؟؟
جہانگیر صاحب نے معراج سے سوال کیا۔۔۔۔۔۔
معراج کچھ دیر خاموش رہا۔۔۔۔پھر بولا
اپ سب کو نظر نہیں آرہا ؟؟؟
معراج نے الٹا جہانگیر صاحب سے سوال کیا تھا۔۔
اخر آیسا بھی کیا ھوا ھے کہ اپنے گھر سے آتے ھی اسکی یہ حالت ھوگئ ھے۔۔۔۔
اب ولیمہ کس طرح ھوگا۔۔۔
سب مہمان اتے ھونگے۔۔۔۔۔۔۔
بابا اپ کی عزت ھے اخر ؟؟؟
سجل نے جہانگیر صاحب کو اشتعال دیلانے کو کہا تھا۔۔
بھاڑ میں گئ ہر چیز ۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!
معراج نے سجل کو دیکھ کر غصے سے کہا تھا۔۔۔۔
جب تک دعا ٹھیک نہیں ھوگی کوئ ولیمہ نہیں ھوگا۔۔۔۔۔۔
معراج نے اپنا حتمی فیصلہ سنایا تھا۔۔۔۔۔
لیکن معراج !!!!!!
پاپا پلیز جب تک دعا ٹھیک نہیں ھوگی میں ولیمے میں شریک نہیں ھونگا۔۔اپ لوگ دلہا دلہن کے بغیر ولیمہ کرلیں ۔۔۔ پر مہمانوں کو بولیں گے کہا ہم ؟؟؟
جہانگیر صاحب پریشان ھوئے تھے۔۔۔۔
جو بھی بولنا ھے۔۔۔۔۔بولیں۔۔۔
اس وقت صرد اور صرف دعا کی صحت ضروری ھے بسسس۔۔۔۔
اور یہ میرا آخری فیصلہ ھے۔۔۔۔
معراج کے فیصلے کے اگے اس گھر میں جہانگیر صاحب بھی کچھ نا بولتے تھے ۔۔۔
پھر اپ ایک کام کریں بریرہ بیگم مہمانوں کو کال کر کے معضرت کر لیں۔۔۔۔۔
آخر کو معراج کی ضد کے اگے جہانگیر صاحب کو اپنے ھتیار پھنکنے ھی پڑے
معراج صاحب بریرہ بیگم کو بول کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے تھے۔۔۔۔
سجل کو یہ سب ایک آنکھ نا بھایا تھا۔۔۔۔
اخر ایک دن میں اس گھر میں دعا کی اہمیعت اس قدر بڑھ گئ تھی۔۔۔۔۔
سجل بھی منہ بنا کر اپنے کمرے میں اگئ تھی۔۔۔۔۔۔سجل کے پیچھے دلاور بھی ایا۔ تھا۔۔۔۔
یہ کوئ طریقہ تو نہیں ھے۔۔۔۔۔
دلاور۔۔۔۔۔
میں بھی تو اپنے ولیمے پر بیمار تھی پر اس وقت کسی کو خیال نا ایا تھا۔۔۔اور اب اس لڑکی کے لیے پورا کا پورا فنکشن cancle ھو جائے گا۔۔۔۔۔
سجل کی جلن دن با دن بڑھ رہی تھی۔۔۔۔
سجل تم جانتی ھو معراج کا معملہ الگ ھے سب سے۔۔۔۔
دلاور نے سجل کو سمجھانا چھا۔۔۔
ہاں اس گھر کا وارث تو وہی لگتا ھے۔۔۔۔تم تو اس گھر کے نوکر لگتے ھو۔۔۔۔۔سجل نے جل کر دلاور کو کہا تھا۔۔۔۔۔۔اور دونوں بھائیوں کے بیچ برائ پیدا کرنا چھائ۔۔۔۔۔
ھوش میں رہو سجل۔۔۔!!!
دلاور تقیربن چلایا تھا۔۔۔۔۔
کیوں ؟؟؟
تمھارے بھائ معراج کے اگے اوقات ھی کیا ھے تمھاری ؟؟؟؟؟
بلاج بھائ تو اپنا سیٹ ھیں۔۔۔
معراج کی کوئ بات ٹالی نہیں جاتی۔۔۔ساری دولت بھی اس کے نام ھے اور ایک تم ھو جسکا اس گھر میں بےکار وجود ھو۔۔۔۔
سجل نے دلاور سے انتھائ بدتمیزی سے بات کی تھی۔۔۔۔۔
سجل !!!!!!
دلاور چلایا تھا۔۔۔۔
بھاڑ میں جاو تم سجل۔۔۔
دلاور بولتا ھوا کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
معراج تم پریشان نا ھو۔۔۔۔
ابھئ اس کے لیے یہ سب نیا ھے۔۔۔۔اس نے اپنے زہن پر کسی چیز کا بہت گھیرا اثر لیا ھے۔۔۔۔
تم اسکو اب مزید کوئ ٹینشن نا دینا۔۔۔۔
رملا اور بالاج معراج کو سمجھا رہے تھے۔۔۔۔۔
معراج میں اور رملا دو دن بعد اسلاماآباد جا رہے ھیں۔روحان اور علیان نے پاکستان نہیں گھوما۔۔۔۔میرے خیال سے تم اور دعا بھی ہمارے ساتھ چلو دعا کا محول تھوڑا چینج ھوگا۔۔
اور تم دونوں کا ہنی مون بھی ھو جائے گا۔۔۔۔
بلاج نے ایک تجویز پیش کی تھی ۔۔
ہاں معراج بلاج ٹھیک بول رہے ھیں۔۔۔۔
کل روحان اور علیان بھی اپنی نانی کے گھر سے اجائے گے تو دعا ان کے ساتھ اچھا feel کرے گی۔۔۔
اور فل حال کچھ وقت اسکو اس سب سے دور لے چلو تو اچھا ھے۔۔۔۔۔
ہممم میں دیکھتا ھوں۔۔۔۔
اپ کو سوچ کر بتاوں گا ۔۔۔
معراج بول کر اب اٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔
وہ اس وقت دعا کے پاس جانا چھاتا تھا۔۔۔
ہممم!!!
چلو اب تم دعا کے پاس جاو۔۔۔میں نے کھانا گرم کروا کر تم دونوں کا وہی رکھ دیا ھے۔۔۔۔
۔تم دعا کو سوپ ضرور پیلا دینا۔۔۔رملا نے معراج کو ہدایت دی تھی۔۔۔۔۔
اچھا۔۔۔۔!!!!!
معراج رملا اور بلاج کے پاس سے اٹھ کر اپنے کمرے میں گیا تو رملا نے بالاج کو دیکھ کر کہا۔۔۔۔
اپ بھی وہی سوچ رہے ھیں نا جو میں سوچ رہی ھوں بلاج ؟؟۔۔
ہاں رملا۔۔۔۔!!!
میرے خیال سے دعا اس شادی سے خوش نہیں ھے۔۔۔۔
اور جتنا میں معراج کو جانتا ھوں وہ اپنی ضد کے اگے کچھ بھی کر سکتا ھے۔۔۔۔لیکن ضد پوری ھوجانے کے بعد اسکو احساس ھوتا ھے۔۔۔۔۔
میرے خیال سے یہ ہی بات ھے بلاج۔۔۔میں نے اب تک دعا کو خود سے معراج سے کوئ بات کرتے نہیں دیکھا ھے۔۔۔۔
ہمممم !!!
صیح بول رہی ھو تم۔۔۔۔۔
میں نے تبھی اسلاماآباد کا اچانک پورگرام بنایا ھے۔۔۔بلاج نے کچھ سوچتے ھوئے کہا۔۔۔۔
ہممم
دیکھتے ھیں کیا ھوتا ھے بلاج۔۔۔
رملا بھی دعا اور معراج کے لیے فکر مند ھوئ تھی۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ہما ھوٹل کے اندر داخل ھوئ تو وہ ادھر ہی بیٹھا۔۔۔اسکا انتیظار کر رہا تھا۔۔
مجھے کیوں بلایا ھے تم نے یہاں ؟؟؟
ہما نے اتے ہی ٹیبل کر بیٹھتے ھوئے پوچھا تھا ۔۔۔۔
مجھے تم سے کچھ بات کرنی تھی اس لیے ۔۔۔مقابل نے فورن کہا تھا۔۔۔۔۔
بیٹھو تم۔۔۔۔
کیا بات کرنی ھے تمھیں مجھ سے ؟؟؟ہما نے اشتیاق سے پوچھا تھا۔۔۔۔۔
اتنی جلدی کیا ھے ؟؟؟۔بتا دوں گا تم بیٹھ جاو۔۔۔۔
جس اگ میں تم جل رہی ھو اسی اگ میں بھی جل رہا ھوں۔۔۔
ہار جانے کا احساس مجھ سے بہتر نہیں جان سکتی تم۔۔۔۔مقابل نے ہما کی کمزوری پکڑی تھی۔۔۔۔
مجھے نہیں پتا تم کیا بول رہے ھو ۔۔۔۔۔
ہما تم سب جانتی ھو۔۔۔۔۔
بنو مت۔۔۔۔۔۔
میری بات سن لو تمھارے لیے بھی اچھا ھے۔۔۔۔۔۔
ہما کو مجبورن وہاں بیٹھ کر بات سنی پڑی۔۔۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
معراج جب دوبارہ کمرے میں داخل ھوا تھا تو دعا اسی طرح سوئ ھوئ تھی۔۔۔۔
معراج کچھ دیر کھڑا اسکو دیکھتا رہا پھر باتھ روم میں چینج کرنے چلا گیا۔۔۔۔
جب وہ باتھ روم سے نھا دھو کر نائٹ دریس پھن کر باہر نکلا تو دعا اپنی جگہ پر موجود نہیں تھی ۔۔۔۔
دعا کو جگہ پر نا پاکر معراج کو تشویش ھوئ اس نے باہر کے دروازے پر نظر ڈالی تو وہ اندر سے لاک تھا۔۔۔۔
معراج فورن ہی اپنی balcony کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔۔
دعا balcony کے بلکل کونے پر کھڑی نیچے جھانک کر کچھ دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
معراج نے دعا کو اس طرح جھوکا دیکھا تو فورن اگے بڑھ کر اسکو بازو سے پکڑ کر پیچھے کھنچا تھا۔۔۔۔
تم پاگل ھو دعا ؟؟؟؟؟
اتنے کونے پر کیوں کھڑی ھو ؟؟؟؟؟؟
معراج نے دعا پر نظر ڈالی تھی۔۔۔۔۔
دعا کا معصوم اداس چہرہ اور
کھلے بال جو ھوا سے اڑ اڑ کر اسے منہ پر آرہے تھے۔۔۔۔
اس کو اور بھی حسین بنا رہے تھے۔۔۔
نیند سے جاگی ھوئ بڑی بڑی انکھ اور اداس چہرہ۔۔۔۔
خاموش ھونٹ!!!!
معراج کے دل میں کچھ ھوا تھا۔۔۔۔۔۔
دعا غائب دماغی سے معراج کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
معراج کو دعا کی حالت کچھ غیر لگی اس لیے اس نے دعا کو زور سے ہلایا۔۔۔۔
دعا ؟؟؟؟؟؟؟
کیا ھوا بولو کچھ ؟؟؟؟؟
وہ ابو نے کہا !!!
وہ ابو ؟؟؟
دعا کچھ بولتی پھر چپ ھو جاتی معراج کو سمجھ نا آرہا تھا کہ وہ کیا بول رہی ھے۔ ۔۔
کیا ؟؟؟؟
کیا کہا تھا ابو نے ؟؟؟
معراج نے ھیرت سے پوچھا تھا۔۔۔۔
وہ ابو نے کہا تھا کہ میں ان کے لیے مر گئ ھوں نا !!!!
تو میں بس مر ہی جاوں تو اچھا ھے نا ؟؟؟؟؟
دعا بلکل معاصوم بچے کی طرح لگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
جو حد سے زیادہ سہما ھوا ھوتا ھے۔۔۔۔
اس کے منہ سے ایک ایک لفظ ٹوٹ ٹوٹ کر اٹک ٹک کر نکل رہا تھا۔۔۔
دعا تمھارا دماغ خراب ھے ؟؟؟
معراج کو اب غصہ آرہا تھا۔۔۔۔۔
اور ساتھ ساتھ اس کی حالت پر رحم بھی۔۔۔۔
نہیں!!!!
ابو نے!!!
مجھے !!!!
وہ وہ !!
معاف نہیں کیا۔۔۔۔۔
میرے ابو نے مجھے !!!!! دعا کا مسلسل رونے کی وجہ سے ہمیشہ سانس رکتا تھا۔۔۔۔اور سانس روکنے کی وجہ سے وہ بولتے بولتے خوب اٹکتی تھی۔۔۔
میں !!!!
معراج میں !!!!!
بولو دعا ؟؟؟؟؟؟؟ معراج سے اسکی یہ حالت دیکھی نہیں جارہی تھی۔۔۔۔انسو سے بری طرح بھیگی انکھ اور ٹوٹے الفاظ۔۔۔۔۔۔معراج کا دل چیرنے کو تھا۔۔۔۔۔
معراج میں !!!!
ابو!!!
ابو !!!
کے بغیر نہیں !!!!!
یہ سب !!!! دعا کبھی کچھ بولتی تو کبھی کچھ۔ وہ اپنی بات سمجھا نہیں پا رہی تھی۔۔۔۔
دعا چھوڑو یہ سب چلو اندر چل کے سو !!!
معراج نے دعا کو بازو سے پکڑا تھا اور کمرے میں لے آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
چھوڑو مجھے !!!!!!!!!!!!
دعا نے پوری طاقت سے معراج کو پیچھے ڈھکلا تھا۔۔۔۔
یہ سب تمھاری وجہ سے ھوا ھے۔۔۔۔۔
میرے
میرے
اب ب بو تمھاری وجہ سے سے مجھ سے نفرت کرتے تے ھیں۔۔۔۔
کیوں ککیا بوبولو کیوں ؟؟؟؟
کیا تم نے میرے ساتھ ایسا بولو کیوں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
دعا روتے روتے اور اٹکتے اٹکتے اب چیخ رہی تھی۔۔۔۔۔
میں
انکا انککک غرور تھی نا۔۔۔۔۔۔۔
دعا پانی پیو لو۔۔۔۔۔۔معراج نے اسکا پھر ہاتھ تھاما تھا۔۔۔۔۔۔
دعا کی سانس بہت زیادہ رک رہی تھی۔۔۔
سنا سناااا
تم نے میں میں غرور تھی اپنے باپ کا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
دعا اپنی پوری قوت سے چیخ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
اور انسوں کا پھندا بار بار اس کے گلے میں لگتا۔۔۔۔۔
تم نے میرے باپ کا غرور تار تار کر دیا۔۔۔۔۔
وہ باپ جو مجھ پر فکر کرتے تھے اج وہ مجھ سے نفرت کرتے ھیں صرف اور صرف تمھاری وجہ سے۔۔۔۔۔۔۔
بولو کیا ککیا بگڑا تھا میں نے تمھارا ؟؟؟؟؟؟
بولو نا کیوں کیا میرے ساتھ ایسآ کیوں ؟؟؟؟؟؟؟
دعا بری طرح روتے روتے اب زمین پر بیٹھ گئ تھی۔۔۔۔
میرے باپ نے ساری زندگی میری کوئ بات نا ٹالی اور اج ؟؟؟؟
اج انھوں نے مجھ سے ہر تعلق ختم کر دیا !!!!
مجھے چھوڑ دیا ۔۔۔۔
صرف اور صرف تمھاری وجہ سے۔۔۔۔۔
دعا کو زمین پر بیٹھے ایسے روتا دیکھ کر معراج کو اپنے اندر گھوٹن محسوس ھوئ۔۔۔اس کو اپنے وہ الفاظ یاد ائے تھے کہ دعا ان کانچ کے ٹکڑوں کی طرح ایک دن تم اس زمیں پر بیٹھ کر ٹکڑے ٹکڑے ھوگئ۔۔۔۔۔
۔وہ اگے بڑھ کر دعا کو اٹھنے لگا۔۔۔۔
دعا پلیز ایسے مت رو !!!!!!
میرے دل کو کچھ ھو رہا ھے۔۔۔۔
معراج نے دعا کو کھڑے کرتے ھوئے کہا۔۔۔۔
دعا پھر بولنا شروع ھوگئ تھی۔۔۔
کیا بگڑا تھا میں نے ؟؟؟؟؟؟؟
میں کیا کروں اللہ جی !!!!!!
میرے ابو مجھ سے نفرت کرتے ھیں۔۔۔
مر جانے دو مجھے۔۔۔۔۔
چھوڑو !!!
چھوڑو !!!!
دعا نے اپنا اپ معراج کئ گرفت سے چھوڑوایا تھا اور جاکر پھالوں کے پاس رکھی چھری اٹھا کر مارنے ہی والی تھی۔۔۔۔۔۔۔ کہ معراج نے چھری اس کے ہاتھ سے لے لی تھی۔۔۔۔
چھری کا اوپر والا حصہ دعا کے ہاتھ پر لگا تھا۔۔۔۔۔
اور دعا کا بری طرح خون بہھ رہا تھا۔۔۔۔۔
دعااااااا !!!!!!
دعا کا خون دیکھ کر معراج بلکل ھی برداشت نا کر پایا تھا۔۔۔۔۔
دعا کیا کردیا تم نے !!!
دعا ھوش میں آو
تمھیں کچھ ھوگیا تو۔۔۔۔۔۔
دیکھاو مجھے آاا
معراج نے دعا کا ہاتھ تھامنا چھا۔۔۔۔تو دعا نے ایک بار پھر اسکو دھکا دیا۔۔۔۔
معراج تھوڑا سا پیچھے ھوا تھا۔۔۔۔۔
دور
دور !!!!!!
خبردار !!!
تم نے جو کرنا تھا وہ تم کر چکے معراج جہانگیر۔۔۔۔۔
دعا تکلیف کی شدت سے ایک بار پھر زمیں پر بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
اور خون کے قطرے زمیں پر ٹپک رہے تھے
تم یہ ہی چھاتے تھے نا۔۔۔
کہ میں بری طرح ٹوٹ جاوں۔۔۔۔۔۔
دعا نے وہی بات کی تھی جو معراج سوچ رہا تھا۔۔۔۔
تم نے میرا غرور ختم کرنے کے چکر میں میری زندگی مجھ سئ چھین لی معراج۔۔۔۔
میں تمھیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔۔
تم نے میرے باپ کو جیتے جی مار دیا ھے۔۔۔۔۔۔۔
انکی عزت انکے لیے سب کچھ تھی۔۔۔۔اور میری وجہ سے انکی عزت تار تار ھوگئ۔۔۔۔۔
کسی جانور کا دل بھی اتنا سخت نہیں ھوتا ۔۔
۔کتنا روی تھی میں تمھارے سامنے کتنا گیڑگڑائ تھی۔۔۔۔
پھر بھی تم نے کیا کیا۔۔۔۔۔؟؟
معراج کی نظر اس وقت صرف دعا کے بھتے خون پر تھی۔۔۔۔
دعا تمھارا بہت خون بھہ گیا ھے ۔۔۔
پلیز چلو۔۔۔۔۔
معراج ایک بار پھر اگے بڑھ تھا۔۔۔۔۔
تم میرے پاس ائے تو میں یہ گلاس اپنئ ہاتھ پر مار کر خود کو اور زخمی کروں گی۔۔۔۔
دعا نے پاس رکھا گلاس اٹھا کر کہا۔۔۔۔
معراج نے اج پہلی بار دعا کی انکھوں میں جنون کی انتھاء دیکھی تھی۔۔۔وہ اس وقت ہر حد پار کر جاتی۔۔۔۔۔۔
دعا اب نیم بے حوش ھورہی تھی۔۔۔۔۔
تم جانتے ھو معراج۔۔۔۔
اللہ کی لاٹھی بے آواز ھے۔۔۔۔
تم نے مجھے توڑا ھے نا میں اپنے باپ سے بہت محبت کرتی تھی ۔۔تم نے مجھے ان سے دور کر دیا نا۔۔۔
دیکھنا اللہ تم نے تمھاری سب سے زیادہ پیاری چیز چھین لے گا۔۔۔۔
تم بھی یہ تکلیف برداشت کرو گے جب تمھیں پتا لگے گا۔۔۔۔۔
تم بھئ اسی اگ میں جلو گے
اج جو تکلیف میرے باپ نے اٹھائ ھے کل کو تمھاری بیٹی کے ساتھ جب یہ ھوگا تب تمھیں پتا لگے گا۔۔۔۔
باپ کی عزت جب تار تار ھوتی ھے تو کیسا لگتا ھے۔۔۔۔۔دعا اب چیخ نہیں رہی تھی۔۔۔۔
وہ بس تھکے ھوئے انداز میں بول رہی تھی۔۔۔۔
تم نے میرے ساتھ جو کرنا تھا کردیا معراج۔۔۔۔۔
پر تم نے کبھی سوچا کہ جب اللہ کرنے پر آتا ھے تو کیا ھوتا ھے ؟۔۔
تو عقل دنگ رہے جاتی ھے۔۔۔۔۔۔۔
میں تم سے نفرت کرتی ھوں
شدید نفرت کرتی ھوں ۔۔۔۔
تمھیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔۔۔
دعا بولتے بولتے ایک دم زمین پر بے ھوش ھوکر لیٹ گئ تھی۔۔۔۔
معراج اس وقت شوک سی کیفیت میں تھا۔۔۔۔۔۔
وہ فورن اگے بڑھا تھا۔۔۔۔اور اپنا رومال اٹھا کر دعا کے ہاتھ پر باندھا تھا۔۔۔۔
دعا کو گود میں اٹھا کر بھاگتا ھوا اپنی گاڑی تک ایا تھا۔۔۔۔۔
دعا کو فرونٹ سیٹ پر بیٹھا کر اس نے دعا کے سر اور شانوں پر ڈوپٹہ ڈالا تھا ۔۔۔۔۔۔
اور خود اکر driving seat پر بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔
دعا ؟؟؟؟
دعا ؟؟؟؟
معراج بار بار دعا کو جگانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔
معراج کا دماغ بلکل سن ھوچکا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ تیز رفتاری سے گاڑی لے کر hospital پھنچا تھا۔۔۔۔اور پھر دعا کو گود میں اٹھا کر emergency میں لایا تھا۔۔۔۔
معراج کا سفید رومال بھی اب دعا کے خون سے بھر چکا تھا۔۔۔۔۔
ڈاکٹر کہاں ھیں ؟؟؟
معراج نے دعا کو اٹھائے اٹھائے نرس سے پوچھا۔۔۔۔
جی وہاں ھیں ۔۔۔۔۔
نرس نے بتایا !!!
اپ انکو یہاں لیٹا دیں ۔۔۔
نرس نے اسٹیچر کی طرف اشارہ کیا تو معراج نے دعا کو اسٹیچر پر لیٹا دیا تھا ۔۔۔
نرس فورن لیڈی ڈاکٹر کو بلا لائ تھی۔۔۔۔
ڈاکٹر اسکو دیکھیں اسکا بہت خون ضائع ھوچکا۔۔۔۔
معراج کا چہرہ بلکل سفید پڑا تھا۔۔۔۔
اج سے پہلے اس نے خود کو کبھی اتنا بے بس محسوس نا کیا تھا۔۔۔۔
میری دعا کو کچھ نہیں ھونا چھائے پلیز۔۔۔۔۔۔۔!!!
ڈاکٹر۔۔۔
میں انکو دیکھتی ھوں۔۔۔
اپ پلیز پریشان نا ھوں۔۔۔۔
اپ باہر ویٹ کریں !!!!
ڈاکٹر نے معراج کو باہر جانے کو کہا اور خود دعا کو لے کر i.c.u کی طرف بڑھ گئ۔۔۔۔
معراج وہی بینچھ پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔
دعا یہ تم نے کیا کر لیا !!!!!!
معراج نے اپنی سفید شرٹ پر دعا کا خون لگا دیکھا تو اسکو اپنی جان جاتی محسوس ھوئ۔۔۔۔۔
وہ دونوں ہاتھوں میں سر تھام کر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔
تب اسکو کسی کی آواز ائ تھی۔۔۔۔
کوئ اس پر ھنس رہا تھا۔۔۔۔۔۔
کیا ھوا معراج ؟؟؟؟
جیت گیا تو ؟؟؟؟
بس یہ تھی تیری جیت ؟؟؟
تو دعا کو شیشے کی طرح ٹوٹا ھوا دیکھنا چھاتا تھا نا ؟؟؟؟
ٹوٹ گئ وہ ؟؟؟؟
کیا مل گیا اس سے اسکا سب کچھ چھین کر ؟؟؟؟؟؟؟
کیوں اس معصوم کی زندگی کو اجاڑ دیا تو نے ؟؟؟؟
معراج کو اپنے دل کے اندر سے آواز آتی محسوس ھوئ تھی۔۔۔۔۔۔
کیا غلط کہاں دعا نے ؟؟؟؟؟
کیا فرق ھے مجھے میں اور ایک پتھر میں۔۔۔۔
اج اگر دعا کو کچھ ھوگیا تو کیا میں زندہ رہے پاوں گا۔۔۔؟؟؟
اس لڑکی کی زندگی تو نے بس ضد میں خراب کی۔۔۔۔۔
تجھے تو عورت زات سے نفرت تھی تو پھر اس کے ساتھ یہ ظلم کیوں کیا معراج ؟؟؟؟؟؟
معراج کا زمیر اسکو جھنجوڑ جھنجوڑ کر سوال کر رہا تھا۔۔۔
لیکن معراج کے پاس کوئ جواب نا تھا۔۔۔۔
کیا دعا سے تو پیار کرتا ھے ؟؟؟؟؟
معراج کے پاس اسکا بھی کوئ جواب نا تھا۔۔۔۔۔
جن سے پیار کیا جاتا ھے انکو توڑا نہیں جاتا۔۔۔
جب پیار نہیں تو یہ ضد یہ جنون کی انتھاء کیوں ؟؟؟؟؟؟؟؟
اج تو جیت کر بھی ہار گیا ھے معراج۔۔۔۔۔۔
اج تو جیت کر بھی ہار گیا ھے۔۔
اور وہ لڑکی سب ہار کر بھی تجھ سے جیت گئ ھے۔۔۔۔۔وہ تجھ سے زیادہ ہمت والی ھے۔۔۔۔
معراج کو اپنے اپ سے پہلی بار گھین محسوس ھوئ تھی۔۔۔۔
دعا کے لیے وہ کیا محسوس کرتا تھا وہ یہ خود نہیں جانتا تھا۔۔۔
اس نے دعا کہ ساتھ یہ سب کیوں کیا وہ یہ بھی نہیں جانتا تھا۔۔۔۔۔۔
اس کے پاس اپنے کسی سوال کا جواب نا تھا۔۔۔۔
اس کے پاس صرف اور صرف ایک ہلکا سا احساس تھا اپنی غلطی کا۔۔۔۔۔
شرمندگی تھی۔۔۔۔۔۔
معراج !!!!!!!!!
معراج اپنی سوچوں میں اپنے جواب ڈھونڈ رہا تھا جب ڈاکٹر نے کمرے سے باہر اکر معراج کو پکارا تھا ۔۔
جی ؟؟؟؟
معراج تڑپ کر اٹھا تھا اور فورن پوچھا تھا
کسیی ھے اب دعا ؟؟؟؟
ڈاکٹر نے !!!!!
