60.7K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

(پانچ سال بعد)
اروما بی بی کہاں ہیں ۔۔۔۔؟ شاہ ابھی گھر پہنچا تھا اور گھر میں اروما کی غیر موجودگی کا سنتے ہی ملازمہ سے دریافت کیا ۔
بی بی تو ڈرائیور کے ساتھ شاید شاپنگ پر گئی ہیں ۔ ملازمہ اس کے غصے سے خائف ہوکر دھیرے سے منمائی ۔
کب گئی ہیں اور کیا اماں بھی ان کے ساتھ ہیں ۔۔۔۔؟ اس بار لہجہ پہلے سے بھی ذیادہ سرد تھا ۔
بڑی بی بی تو افطار سے پہلے ہی میر ہاؤس چلی گئیں تھیں ۔ رومی بی بی افطار کے بعد گئی ہیں ۔
ہوں ۔۔۔۔ تم جاؤ ۔ اس نے سخت آف موڈ میں کہہ کر ڈرائیور کا نمبر ملایا ۔
“”””””””””””””””””
اس نے افطار کے بعد مغرب کی نماز پڑھی پھر دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور ہمیشہ کی طرح تواتر سے آنسو رخساروں پر بہنے لگے ۔ دروازے پر مسلسل دستک ہورہی تھی مگر اس کا دل کسی سے بھی ملنے کے لئے آمادہ نہیں تھا ۔
آج چاند رات تھی اور ہمیشہ کی طرح سب اس کے اعتکاف سے اٹھنے کے منتظر تھے مگر وہ تو شاید کئی برس سے خود سے بھی ملنا بھول چکی تھی ۔
جائے نماز پر بیٹھے بیٹھے ہی عشاء کی اذان بھی ہوگئی ۔ عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد اس کی طبیعت کچھ سنبھلی تو ناچاہتے ہوئے بھی سب سے ملنے کے لئے خود کو راضی کیا کیونکہ گاہے بگاہے دروازے پر دستک ہورہی تھی ۔
وہ خصوصاً عروش کے خاطر باہر چلی آئی کیونکہ جانتی تھی وہ بے صبری سے اس کا انتظار کررہی ہونگی ۔ ہر سال کی طرح افطار بھی میرہاؤس میں کیا ہوگا تاکہ اس سے ملنے میں زرا سی بھی تاخیر نہ ہو ۔ وہ سست روی سے ریلنگ کے پاس پہنچ کر رک گئی اور دونوں ہاتھ ریلنگ پر جما کر نیچے جھانکا ۔
اس کا چار سالہ بیٹا میرتاجدار میر جاذب اور حفصہ کے بیٹے کے پیچھے دیوانہ وار بھاگ رہا تھا جس کے ہاتھ میں شاید اس کا کوئی کھلونہ تھا ۔ میر جاذب کی دونوں جڑواں بیٹیاں بے بی ہینڈ کیری میں کھکھلا رہی تھیں جبکہ زعیم شاہ کی دونوں بیٹے انہیں اپنی گود میں لینے کے لئے ہلکان ہورہے تھے اور اروما انہیں آنکھیں دکھا کر کنٹرول کررہی تھی ۔
حفصہ ، میر جاذب ، نگین اور عروش سبھی باتوں میں مصروف تھے ۔ ہال میں محفل کا سماء تھا ۔سب تھے بس ایک وہی نہیں تھا ۔ جس کے ہونے سے نینا کی ذندگی میں رنگ تھے اور اس کے جدا ہونے سے ذندگی بد رنگ سی ہوگئی تھی ۔
اس نے آنکھوں کے کناروں سے بہتے ہوئے اشکوں کو بے دردی سے رگڑا ۔ خوشیوں بھرے منظرمیں سمانے کے لئے اس کی گنجائش نہیں نکلتی تھی ۔ وہ بے جان قدموں سے واپس پلٹ گئی اور دوبارہ کمرے میں بند ہوگئی ۔
اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھی خوبصورت فریم میں سجی میرزوار کی
تصویر کو اٹھا کر سینے سے لگالیا اور سسک پڑی ۔ روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں تبھی اروما اندر آگئی ۔
یہ کیا کررہی ہو نین تم کیوں ہر وقت خود کو اذیت میں مبتلا رکھتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔تم نے خود کو برباد کرلیا ہے ۔ تم صبر بھی تو کر سکتی ہو ، کیا تمھیں اپنی دعاؤں پر بھروسا نہیں ہے جو اس طرح روتی رہتی ہو ؟ اروما اس کے نذدیک پہنچ کر دکھ سے بولی ۔
میری دعاؤں میں اتنی تاثیر ہوتی تو وہ آج مجھ سے اتنا دور نہیں جاتے ۔۔۔۔۔۔۔شادی کے ایک مہینے بعد جدائی ہمارا مقدر نہیں بنتی ۔ تم میرے درد کو کبھی نہیں سمجھ سکتی اسی لئے مجھے صبر کی تلقین کررہی ہو کیونکہ تمھارا ہزبینڈ تمھارے پاس ہے ۔ تم اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ پرسکون ذندگی گزار رہی ہو ۔ وہ تلخی سے گویا ہوئی ۔
میں تمھارا درد بھی سمجھتی ہوں اور تمھاری کیفیت سے بھی انجان نہیں ہوں ۔ تمھاری اپنی ہوں اس لئے تمھیں درد میں دیکھ کر تمھاری تکلیف کو دل پرمحسوس کرتی ہوں ۔ یہ دکھ کی بات ہے کہ زاری بھائی تم سے دور ہیں مگر اللہ کا شکر ادا کرو کہ خیریت سے ہیں اور نہ ایک دن واپس بھی آجائیں گے لیکن تمھاری اس حالت کا میر تاجدار پر کتنا برا اثر پڑرہا ہے یہ کبھی تم نے سوچا ہے ؟ وہ احساسِ کمتری کا شکار ہوتا جارہا ہے اور اسے یہ احساس دلانے والی تم ہو ۔
تو پھر میں کیا کروں رومی مجھ سے اب برداشت نہیں ہوتا ۔ کیا ساری تکلیفیں میرے ہی نصیب میں لکھ دی گئی ہیں ، خوشیوں پر میرا کوئی حق نہیں ہے ؟ جو مجھے مل رہا ہے میں وہی تو اسے دوں گی ۔ وہ مجھ سے کہتا ہے میرے بابا وہاں ( جیل ) میں کیوں رہتے ہیں ۔۔۔۔۔ہمارے ساتھ کیوں نہیں ہیں ۔ تب اس کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے مجھ پر کیا گزرتی ہے تم اس کا اندازہ بھی نہیں کرسکتی ۔ وہ بے بسی کی انتہاؤں پر تھی ۔
ضروری نہیں کہ تم اس کے سامنے اپنی بد نصیبی کے رونے رو ، اسے مثبت جواب بھی دے سکتی ہو ۔ وہ تو ناسمجھ بچہ ہے کسی بھی طرح بہل جائے گا مگر تم تو خود کچھ سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہو اس لئے وہ بھی ہر وقت مایوسی کی باتیں کرتا ہے ۔ اروما کو اس پر بہت غصہ تھا ۔ وہ خفا ہوئی۔
جس بچے کی پیدائش پر بھی اس کا باپ سر پر موجود نہیں تھا وہ مایوسی کی ہی باتیں کرے گا ۔ وہ کانفیڈینٹ کیسے ہوسکتا ہے ۔ نینا کی مایوسی پر اروما نے سر جھٹک کر باتوں کا رخ بدلنا چاہا ۔
چلو چھوڑو ، یہ بتاؤ اعتکاف میں بیٹھنے سے پہلے میر تاجدار کے لئے شاپنگ کی تھی ؟
نہیں ۔ نینا مختصراً بولی ۔
آئے نیو اٹ ۔ میں نے اس کے لئے بھی اور تمھارے لئے بھی ڈھیر ساری شاپنگ کی ہے چلو نیچے چل کر دیکھ لو ۔ اماں بھی شام سے تمھارے انتظار میں یہاں بیٹھی ہیں مگر تمھیں تو کسی کی پرواہ ہی نہیں ہے ۔ رومی نے اس کا ہاتھ پکڑ کھینچا تبھی شاہ دندناتا ہوا وہاں پہنچ گیا ۔
آپ یہاں کیسے ؟ آپ کو تو گھر پر ہونا چاہئے تھا ۔ اروما اسے اچانک دیکھ کر حیران ہوئی ۔
اگر یہی سوال میں تم سے پوچھوں تو ؟ تمھیں بھی تو اس وقت گھر پر ہونا چاہئے تھا مگر پہلے شاپنگ سینٹر اور پھر یہاں ہو اور آنے سے پہلے مجھے انفارم کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا ۔ وہ تیوری پر بل ڈالے اکھڑ لہجے میں مخاطب تھا ۔
جی میں آپ کو بتانا بھول گئی مجھے تھوڑی شاپنگ کرنا تھی ، پہلے مال گئی پھر نین سے ملنے کے لئے یہاں آگئی ۔
تمھاری شاپنگ میں پہلے ہی مکمل کروا چکا تھا پھر کونسی کمی رہ گئی تھی جو بلااجازت نکل پڑیں ۔ وہ ہنوز پتھریلے لہجے میں سوال جواب کررہا تھا ۔
شاہ ! بچوں کے لئے کچھ میچنگ چیزیں لینا تھیں اور یاد ہے مہتشم کے لئے ایک سوٹ مجھے بہت پسند آیا تھا لیکن اس کا سائز نہیں ملا تو شاپ کیپر نے کہا تھا کچھ دن بعد شاید مل جائے ، اسپیشلی اسی کے لئے گئی تھی ۔ اس نے تفصیلاً جواب دیا ۔
ہوں ۔۔۔۔۔ تم کیسی ہو نین ۔۔۔۔۔اعتکاف میں بیٹھنے سے پہلے ایک بار مجھ سے مل تو لیتی ۔ وہ اروما کو نظر انداز کرکے نینا کے پاس چلا آیا ۔
ٹھیک ہوں بھائی ۔۔۔۔۔ ملنے کا سوچ رہی تھی مگر موقع نہیں ملا پنڈی سے واپس پہنچتے ہی عصر کی اذان ہوگئی تھی ۔
آپ نے کچھ دن پہلے کہا تھا میر سائیں کی ضمانت کے چانسز ہیں اس کا کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔؟ وہ آس بھرے لہجے میں بولی ۔
تم فکر مت کرو گڑیا جلد ہی کچھ نہ ہوجائے گا ، جب میں تمھارے لئے اب تک کورٹ کا فیصلہ رکواسکتا ہوں تو ضمانت بھی کروالوں گا ۔ وہ متانت سے بولا ۔
آپ پر مجھے بھروسا ہے مگر اپنی قسمت پر نہیں ہے ۔ وہ تلخی سے ہنسی ۔
میرے سامنے ایسی باتیں مت کیا کرو ۔ مجھے تمھاری حوصلہ شکن باتیں بہت بری لگتی ہیں ۔ شاہ نے فوراً اسے جھڑکا ۔ وہ مسکرا کر رہ گئی ۔
میں نیچے تمھارا ویٹ کررہا ہوں جلدی آجاؤ ۔ شاہ ایک نگاہِ غلط ڈالے بغیر تحکمانہ کہہ کر چلا گیا ۔
دیکھ لئے اپنے بھائی کے تیور بلاوجہ ہی اکڑتے رہتے ہیں اب بھلا یہ بھی کوئی غصہ کرنے والی بات تھی کہ انفارم کئے بغیر شاپنگ پر کیوں گئی ۔۔۔۔۔۔۔تم سمجھ جاؤ کوئی بھی اپنے حال میں اتنا خوش اور مطمئین نہیں جتنا دور سے دیکھنے پر لگتا ہے اور میری بات یاد رکھنا نین ہر اندھیری رات کے اختتام پر اسے الوداع کہنے کے لئے ایک روشن صبح کا سورج طلوع ہوتا ہے اس لئے اداس رہنا چھوڑ دو اور اللہ سے دعا کرو ۔ وہ نرمی سے اس کا گال تھپک کر چلی گئی ۔
“””””””””””””””””
عید کے دن راول پنڈی کی سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھا ۔ تپتی دوپہر میں لوگ اپنے گھروں کے بند کمروں میں اے سی کی کولنگ سے نکل کر اپنے عزیزوں سے ملنے سے بھی کترا رہے تھے اور وہ موسم کی بے رحمی سے بے پرواہ جیل کے باہر بیٹھ کر ہر عید کی طرح اپنے محبوب شوہر کی دید کے لئے بے کل سی بیٹھی تھی ۔ اس نے دوپٹے کے پلو سے معصوم میر تاجدار کے سرخ بھبھوکا چہرے کو سایہ کیا ۔
وہ صبح کسی کو بھی اطلاع کئے بغیر گھر سے نکل آئی تھی اور ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اسے عید کے دن میرزوار سے ملنے کی اجازت نہیں ملی تھی مگر وہ ناجانے کونسا وعدہ وفا کرنا چاہتی تھی جو ہر سال یہاں آ بیٹھتی اور پھر ناامید سی واپس لوٹ جاتی ۔
زعیم شاہ کی گاڑی سڑک کے کنارے عین اس کے سامنے آکر رکی ۔ وہ فرنٹ سیٹ سے اتر کر اس کے پاس آیا ۔
نین! یہ کیا بچپنا ہے ۔۔۔۔۔۔تم جانتی آج ملاقات نہیں ہوسکتی پھر کیوں یہاں آئی ہو ؟ایٹ لیسٹ تم بچے کا تو خیال کیا کرو ۔اتنی گرمی میں اسے لے کر یہاں بیٹھی ہو وہ بیمار پڑجائے گا تب بھی تم ہی ہلکان ہوتی ہو ۔ اس نے برہمی سے کہہ کر میرتاجدار کو گود میں لے کر گارڈ کو تھمایا ۔
وہ میرا انتظار کررہے ہوتے ہیں ، انہیں اندر پتہ چل جاتا ہے کہ میں باہر بیٹھی ہوں ۔ وہ رخ موڑے آہستگی سے بولی ۔
اس کا تو دماغ خراب ہے اور اس نے تمھارا دماغ بھی خراب کردیا ہے ۔ شاہ نے غصے سے سر جھٹکا ۔
اب چلو سب تمھارا وہاں انتظار کررہے ہیں ۔ تمھاری اس حرکت کی وجہ سے ہم سب کو گاؤں چھوڑ کر یہاں عید منانا پڑتی ہے ۔
میرا تو سب کچھ یہاں ہے ، میں کیسے چلی جاؤں ؟ وہ سر اٹھا کر دلگرفتگی سے بولی ۔
ہمارا سب کچھ تم سے جڑا ہے ، ہم تمھیں اس حالت میں نہیں دیکھ سکتے ۔ اب یہاں سے اٹھو میڈیا والوں کو تماشہ بنانے کا موقع مت دو ۔ وہ اسے زبردستی گاڑی تک لے آیا ۔
تم مجھے تھوڑا سا وقت اور دو ۔۔۔۔۔۔بہت جلد میں اس کی ضمانت کروالوں ۔ میرا یقین کرو دن رات کوششوں میں لگا ہوا ہوں ۔
ان کوششوں میں پانچ سال لگ گئے بھائی مگر انہیں رہائی نہیں مل سکی ۔ میرا صبر بھی ہار رہا ہے ۔ وہ شاہ کے گلے لگ کر دل کا بوجھ آنکھوں سے اتارنے لگی ۔
مجھے احساس ہے تم نے بہت مشکل وقت دیکھا ہے مگر میرا بھی اعتبار کرو ، میں نے کوئی کوتاہی نہیں کی ۔ پورے دل سے اس کو باہر نکالنے کے لئے انتظامات کررہا ہوں ۔ وہ نینا کو اس حالت میں دیکھ تڑپ جاتا تھا ۔ اسے دلاسہ دینے کے لئے اپنی پوری پلاننگ اور میرزوار کے کیس سے متعلق حکومت کے ساتھ ہونے والی ڈیل کی تمام تفصیلات اس کے گوش گزار کردیں ۔
نینا نے حیرت و بے یقینی سے نم آنکھوں کو صاف کیا پھر مطمئین ہو کر میر تاجدار کو اپنے بازؤوں میں بھر لیا ۔
“”””””””””””””””
اروما عید کی دعوت سے فارغ ہونے کے بعد ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنے ہاتھوں پر موسچرائیزنگ لوشن کا مساج کررہی تھی ۔
شاہ واش روم سے فریش ہوکر نکلا اور ایک نظر اس پر ڈال کر صوفے پر بیٹھ گیا ۔ اروما ہاتھوں کو خشک کرتی ہوئی آئی اور کیٹل سے چائے کپ میں انڈیلی پھر شوگر مکس کرنے کے بعد کپ زعیم شاہ کے آگے رکھ کر چلی گئی ۔
اس نے چند لمحوں بعد سائیڈ لیمپ آف کیا ، کمفرٹر اوپر تک کھینچا اور آنکھوں پر بازو رکھ کر سونے کی کوشش کرنے لگی ۔
شاہ کا پورا دیہان ایل ای ڈی کی طرف تھا مگر چائے کے سپ لیتے ہوئے اسے اروما کے سرد مہر انداز کا احساس ہوا کیونکہ اس وقت وہ شدید نیند کے باوجود بھی کچھ دیر اس کے پاس ضرور بیٹھ کر ادھر ادھر کی باتیں کرتی تھی جبکہ آج تو عید کا دن تھا اور اس دن خاص طور پر پر تکلف ڈنر کا اہتمام کیا جاتا تھا ۔
اس نے چائے ختم کی پھر ایل ای ڈی آف کرکے اٹھ گیا ۔ وہ اس کے برابر بیڈ پر بیٹھ کر دھیرے سے کھنکارہ ۔
آج کے ڈنر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تم نے ؟ مسز کرمانی کی ڈریسنگ یا مسز افگن کے نیو جیولری سیٹ کے شو آف پر کسی قسم کے غم و غصے کا اظہار بھی نہیں کیا ۔ وہ اپنی ہی بات پر دھیرے سے مگر اروما کی جانب مکمل خاموشی پر اسے اچھنبا ہوا ۔
کیا بات ہے طبیعت ٹھیک نہیں ہے یا ویسے ہی مجھے اگنور کررہی ہو ۔۔۔۔۔۔؟ شاہ نے کمفرٹر اس کے چہرے سے ہٹایا ۔
شاہ ! محبت کے رنگ اتنے کچے کیوں ہوتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ پھیکے اور بے رونق لگنے لگتے ہیں ۔۔۔۔۔؟ اروما کہتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گئی اور جواب طلب نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔ شاہ نے کچھ دیر سوچا پھر سائیڈ ٹیبل سے سگریٹ کیس اٹھا کر سگریٹ سلگائی ۔
ہر ایک کا اپنا نظریہ ہے ، میرا ماننا ہے کہ محبت کا رنگ ہر رشتے سے گہرا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔یہ اگر ایک بار دل پر چڑھ جائے تو آخری سانس تک نہیں اترتا ۔ یہ رنگ عشقِ مزاجی کا بھی ہوسکتا ہے اور عشقِ حقیقی کا ہو تو پھر بھٹکے ہوؤں کا دل بھی دنیا داری سے اٹھ جاتا ہےبحرحال تم یہ کن سوچوں میں بھٹک رہی ہو جو ایسے مشکل سوال پوچھنے کی ضرورت پیش آگئی ۔۔۔۔۔۔؟ اس نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے بے ساختہ امڈ آنے والی مسکراہٹ کو لبوں میں دبایا ۔
اگر آپ کا یقین اتنا پختہ ہے تو بار بار ہمارے رشتے میں بدگمانیوں کو جگہ دے کر اسے کھوکھلہ کیوں کررہے ہیں ۔۔۔۔؟ وہ براہِ راست اس کی آنکھوں میں جھانک کر خفگی سے بولی ۔
تم شاید کل رات کی بات کو دل سے لگا کر بیٹھی ہو ۔۔۔۔اسی لئے خفا خفا سی ہو مگر میرا مطلب یہ نہیں تھا کہ میں خدانخواستہ تم پر شک کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔تمھیں گھر میں نہ پاکر پریشان ہوگیا تھا اس لئے ٹیمپر لوز کر بیٹھا ۔ وہ اپنی غلطی پر نادم ہوا ۔
آپ کا اتنی چھوٹی سی بات کے لئے ٹیمپر لوز کرنا ہی تو بدگمانی کے زمرے میں آتا ہے ۔ وہ اپنی بات پر ڈٹی ہوئی تھی ۔
چلو تمھارے سامنے اقرار کرلیتا ہوں کہ مجھ میں یہ بیماری پائی جاتی ہے مگر تم یہ سوچ اپنے دماغ سے نکال دو کہ میری محبت کا رنگ پھیکا ہوگیا ہے ۔ رومی ! تمھارے لئے میری محبت کا رنگ دن بہ دن گہرا تو ہوسکتا ہے مگر کبھی پھیکا نہیں پڑ سکتا ۔
اگر میری محبت کا رنگ کچا ہوتا تو آج تم اس جگہ ہر گز موجود نہیں ہوتی ۔تحریم میرے سامنے اعتراف نہیں کرتی اور میں تم سے شادی نہیں بھی کرتا تب بھی میری ذندگی میں کوئی اور لڑکی تمھاری جگہ نہیں لے سکتی تھی ۔ تم نہیں ہوتی تو کوئی اور بھی نہیں ہوتی کیونکہ تم میری پہلی اور آخری محبت ہو ۔ وہ جذب کے عالم کہہ رہا تھا ۔
اروما کو اپنے روئیے اور بدگمانی کا احساس شدت سے ہوا ۔ وہ شرمندگی سے سر جھکا گئی ۔
“”””””””””””””””””
(آٹھ سال بعد )
انگلینڈ سے آنے والی فلائیٹ کےاسلام آباد ائیرپورٹ پر لینڈ ہونے کے بعد مسافر تیزی سے ہینڈ کیری اور دیگر سامان سمیٹے جلد از جلد باہر نکلنے کی کوشش میں تھے ۔۔۔۔اندرونِ ملک جانے والے مسافروں کو جہاز میں ہی بیٹھے رہنے کی ہدایات دی جارہی تھیں جبکہ نینا کو بھی ائیر ہوسٹز نے سکیورٹی کلئیرنس ہونے تک وہیں روک دیا تھا۔
اس نے انتہائی بیزاری سے آنکھیں بند کرکے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگادی ۔
وہ کچھ دیر بعد سیکیورٹی کلئیرنس مل جانے پر سیٹ سے اٹھ گئی اور ائیر ہوسٹس کی رہنمائی میں اسٹئیرز تک پہنچی ۔ پہلے اسٹیپ پر قدم رکھتے ہی اس کی نظر جھنڈے والی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ سے اترتے ہوئے میرزوار پر پڑی ۔
نیوی بلیو شلوار سوٹ پر بلیک جیکٹ ، نفاست سے سنوارے گئے بال اور دمکتے چہرے پر دلکش مسکراہٹ لئے وہ اسی کی طرف دیکھتا ہوا مضبوط قدم اٹھاتا اسٹئیرز کی طرف آرہا تھا ۔
نینا نے خوشگوار حیرت میں گھر کراسے محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے گہری سانس بھری ۔ اسے میرزوار کے خودپک کرنےکی امید نہیں تھی کیونکہ اس وقت وہ حد سے ذیادہ مصروف ہوتا تھا ۔
وہ اپنے بچوں کو چھٹیوں کے اختتام پر بورڈنگ اسکول پہنچاکر واپس آرہی تھی ۔ میرزوار شدید مصروفیت کی بناء پر خواہش کے باوجود بھی ان کے ساتھ نہیں جا سکا تھا ۔
وہ سرشار سی کیفیت میں دھیرے دھیرے اسٹئیرز اتر کر آرہی تھی ۔ آخری اسٹیپ پر قدم رکھتے ہی میر زوار نے اپنی مضبوط خوبصورت سرخ ہتھیلی اس کے استقبال کے لئے آگے بڑھائی جسے نینا نے متاعِ جاں کی طرح مسکراتے ہوئے تھام لیا ۔
شادی کے تیرہ سال گزرجانے کے بعد بھی وہ اپنے پرنس چارمنگ کو دیکھ کر دنیا بھول جایا کرتی تھی اور اب بھی دور کھڑی عوام اور جہاز کے عملے کی معنی خیز چہہ مگوئیوں سے بے نیاز اس کی جیکٹ سے اٹھتی دلفریب مہک کے اثر سحرانگیز آنکھوں کی چمک میں کھوئی کھوئی سی پلکیں جھپکنا تو کیا سانس لینا بھی بھول گئی ۔
پریٹی گرل آف دز ورلڈ ! ویلکم ہوم ۔۔۔۔۔۔ سفر کیسا رہا ؟
اسے ارد گرد سے بے گانہ ہوتا دیکھ کر میرزوار کی مسکراہٹ گہری ہوگئی پھر اس نے نیناکے ہاتھ کو دھیرے سے دبا کر ہوش کی دنیا میں لانے کی سعی کی ۔
اٹ واز ناٹ کمفرٹبل ود آؤٹ یو ۔ آئے مسڈ یو ۔نینا نے شانے اچکائے ۔
آئے نو ! بچے خوش تھے ۔۔۔۔۔؟ میرزوار نے اس کے لئے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول دیا پھر نینا کے بیٹھنے کے بعد گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پر آیا اور گاڑی اسٹارٹ کردی ۔
وہ آپ کے لئے بہت اداس تھے زار آپ کو بھی ساتھ چلنا چاہئے تھا ۔ بچوں کے ذکر پر نینا کا خوشگوار موڈ اداسی میں تبدیل ہوگیا ۔
تم پریشان مت ہو ، ہم نیکسٹ منتھ ان سے ملنے چلیں گے ۔ اگر مجھے ترکی کے دورے پر نہیں جانا ہوتا تو میں خود انہیں چھوڑ کر آتا ۔
لوئیزہ نے نانو ( عروش ) کو بہت تنگ کیا ہوگا ۔۔۔۔؟ وہ ہینڈ بیگ میں کچھ تلاشتے ہوئے سیدھی ہوئی اور استفسار کیا ۔
دن کی تو کچھ خاص خبر نہیں ، ہوسکتا ہے انہیں تنگ کرتی ہومگر انہوں نے کوئی کمپلین نہیں کی بحرحال ترکی سے واپسی پر رات کو میرے پاس ہی ہوتی تھی ۔
حیرت کی بات ہے آپ کو اپنی بیٹی کے لئے اتنا ٹائم مل جاتا تھا ؟ نینا نے حیرت سے آنکھیں پھیلائیں ۔
اب شرمندہ تو نہ کرو یار ، میں کتنا بھی مصروف سہی پر میری بیٹی کے لئے ٹائم ہی ٹائم ہے ۔ وہ لوئیزہ کو تصور کر کے نرمی سے مسکرایا ۔
میں حیران اس لئے ہوں کہ مسٹر پرائم منسٹر بلاشبہ آپ دنیا کے بہترین ہزبینڈ میں سے ایک ہیں ۔بہت لونگ اینڈ کئیرنگ مگر بچوں کے معاملے میں اکثر ڈنڈی مار جاتے ہیں ۔
مجبوری کی بناء پر ڈنڈی مارجاتا ہوں مگر پھر بھی تمھارے چھ کے چھ بچے تم سے ذیادہ مجھ پر فدا ہیں اس لئے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ میں بہترین ہزبینڈ تو ہوں مگر ساتھ بہترین باپ بھی ثابت ہوا ہوں ۔ اس کے فخریہ کہنے پر نینا نے نثار ہونے والی نظروں سے اسے دیکھا ۔
یہ سچ تھا کہ میرزوار اپنے بچوں پر جان چھڑکتا تھا لیکن وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد نینا اور لوئیزہ کے لئے تو کسی نہ کسی طرح وقت نکال لیتا مگر بیٹوں کو ان کے حصے کا وقت اور توجہ دینے میں ہر بار ناکام ہوجاتا پھر بھی جب کبھی اسے موقع ملتا ایک ہی دن میں پچھلے تمام دنوں کی بھرپائی کردیتا یہی وجہ تھی کہ بچے دور رہنے کے باجود بھی نینا سے ذیادہ اس سے اٹیچڈ تھے خصوصاً اس کی آٹھ ماہ کی بیٹی لوئیزہ کو تو اس کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا تھا ۔
صرف لوئیزہ اور میر تاجدار باقی میرے چاروں بیٹے مجھ سے ذیادہ پیار کرتے ہیں ۔ وہ بھی اسی کے انداز میں گردن اکڑا کر بولی ۔
وہ چاروں میرے جیسے ہیں اس لئے تم پر فدا ہیں ، میں بھی تو تم پر مرتا ہوں تو وہ بھی میری طرح تمھیں دیکھتے ہی لٹو بن کر تمھاری طرف گھوم جاتے ہیں ۔ اس نے نینا کے اسٹیپس میں کٹے ہوئے بالوں میں انگلیاں پھنسا کر انہیں بگاڑا ، سلکی بال پوری طرح بکھر گئے ۔
اف ، اتنی دیوانگی اچھی نہیں ہوتی زار ! ڈرائیونگ کرتے ہوئے تو ہوش سے کام لیا کریں ۔ وہ گاڑی ان بیلنس ہونے پر چیخ پڑی ۔
میں بے بس ہوں جانم ، تم پر نظر پڑتے ہی میرے ہوش گم ہوجاتے ہیں ۔ وہ اس کے چیخنے پر محفوظ ہوا اور اسے مزید تنگ کرنے کے لئے بازو اس کی گردن کے گرد حمائل کردیا ۔ ایکسیلیٹرپر دباؤ بڑھایا اور گاڑی ہوا سے باتیں کرنے لگی ۔
بہت خوبصورت لگ رہی ہو ، لگتا ہے انگلینڈ سے اسپیشل ٹریٹمنٹ کروا کر آئی ہو ۔ وہ مسکراہٹ دبا کر سنجیدگی سے بولا ۔
میری نیچرل بیوٹی کو لے کر کوئی مذاق مت کیا کریں ۔ ہزار بار کہہ چکی ہوں ۔ نینا نے ناک سکیڑی ۔
بدلے بدلے سے میرے سرکار نظر آتے ہیں
اپنی بربادی کے آثار نظر آتے ہیں۔۔۔۔۔۔میرزوار نے اس کے رخسار کو انگلی سے چھیڑ کر حسبِ عادت خوبصورتی سے شعر کہا ۔
چپ ! نینااس کے سرِ راہ بہکنے پر بری طرح جھینپ گئی پھر اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر خشمگیں نگاہوں سے گھورا ۔
تمھاری یہی ادائیں تو سیدھا دل پر وار کرتی ہیں ۔ اتنا عادی بنادیا ہے اپنا کہ ایک ہفتہ عذاب بن کر گزرا ہے ۔ اپنی بربادیوں کا احوال کیسے بیاں کروں ۔۔۔۔۔۔۔گھر جاکر پورے ہفتے کا گن گن حساب لوں گا ۔ وہ اس کی ہتھیلی چوم کر بے خود ہوا ۔
میں اگر پانچ سال کا حساب لینے بیٹھ گئی تو آپ کو لینے کے دینے پڑجائیں گے ۔ اس کے لبوں پر یکدم زخمی مسکان ابھری ۔
آئم ایکسٹریملی سوری سائیں ! تمھاری ذندگی کہ وہ پانچ سال تو میں واپس نہیں لوٹا سکتا مگر اب تمھیں ایسے کسی دکھ سے دوچار نہیں ہونے دوں گا ۔ اب موت ہی مجھے تم سے جدا کرسکتی ہے ۔تمھارے لئے میں نے سب کچھ چھوڑ دیا ۔ اب تو تمھارے حکم کے مطابق چل رہا ہوں ، میرے خیال سے تمھیں حساب والی فائل بند کردینی چاہئے جو وقتاً فوقتاً کھول کر بیٹھ جاتی ہو اور میرا سانس لینا دوبھر ہوجاتا ہے ۔ میرزوار کے شہد آگیں شیریں لہجے کی مٹھاس پر نینا کی آنکھیں بھیگ گئیں ۔ وہ ممنون ہو کر مسکرادی ۔
اس کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر میرزوار نے ایک بار پھر خود سے عہد کیا کہ وہ کبھی اپنے نام کے ساتھ کرپٹ سیاستدان کا سابقہ استعمال نہیں ہونے نہیں دے گا ۔ ملک و قوم کے ساتھ نہ سہی مگر اپنی محبت کے لئے وہ سو فیصد ایماندار تھا اور اسی ایمان پر قائم رہنے کے لئے اس نے دل ہی دل میں اس عہد کو ایک بار پھر دہرایا تھا ۔
جن کا عشق پر ایمان ہو اور عقیدہ مضبوط ، ان کے قدم کبھی نہیں ڈگمگاتے ۔ وہ مر کر بھی وعدہ وفا کرجاتے ہیں۔ وہ بھی اپنے عہد پر کئی سال سے اٹل تھا اور مرتے دم تک ثابت قدم رہنے کے لئے پر عزم ۔
ختم شد