Rate this Novel
Episode 12
گاڑی شاندار دیو ہیکل دروازے کے سامنے رکی ، چند لمحے دروازہ کھل گیا اور گاڑی دھیمی رفتار سے اندر داخل ہوگئی ۔
واؤ ! بیوٹی فل پیلس ! نینا گاڑی سے اتر کر پرشوق نظروں سے چاروں طرف کا جائزہ لیتے ہوئے بولی ۔ میر زوار مسکرا کر رہ گیا پھر اس کا ہاتھ تھامے چلنے لگا ۔
وہ بے حد خوبصورت ڈیزائینڈ سوئیمنگ پول ،آبشاروں اور مخملی گھاس رنگ برنگے پھولوں سے سجے باغیچوں کو دیکھ کر خوش ہورہی تھی ۔ ہر چیز میر زوار کی امارات کا منہ بولتا ثبوت تھی ۔ نینا نے پوری دنیا گھومی ہوئی تھی مگر میر زوار کے پیلس نے اس کی آنکھیں خیرہ کردیں ۔
زار ! آپ کا گھر بہت خوبصورت ہے ۔ وہ تعریف کئے بغیر رہ نہ سکی ۔
میرا نہیں ہمارا گھر ۔ یوں کہو ، ہمارا گھر بہت خوبصورت ہے ۔ اس نے نینا کی آنکھوں میں جھانک کر مان سے کہا ۔
ہممم ۔۔۔۔۔ نینا ہنکارہ بھر کر رہ گئی ۔ میرزوار کا گھر اس کی شاندار شخصیت کی عکاسی کررہا تھا ۔
زار ! نینا نے اسے پکارہ ۔
جب زار کہتی ہو تو جان لے لیتی ہو ۔ میرزوار ٹہر کر بے اختیار بولا۔نینا کے چہرے پر شرمگیں مسکان ابھری ۔
تمھیں پتا ہے میرے بابا سائیں مجھے اس نام سے پکارتے تھے ۔ تم نے مجھے پہلی بار اس نام سے پکارہ تو مجھے یقین ہوگیا کہ تم ہی دنیا کی واحد لڑکی ہو جو میرے دل تک پہنچ سکتی تھی ۔ میر زوار کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا ۔
یہ بات تو تم جانتی ہوگی کہ میرے بابا میری اماں سے عشق کرتے تھے ۔ انہوں نے میرے نام کا پہلا لفظ اماں کے نام کے پہلے حرف سے ملا کر اس لئے رکھا تھا کہ جب بھی وہ مجھے پکاریں تو میرے نام میں بھی اماں کا نام شامل ہو ۔ وہ زار اس طرح کہتے کے سننے میں زر محسوس ہوتا ۔ میر زوار اپنے ماں باپ کا ذکر کر تے ہوئے کسی اور ہی دنیا میں پہنچا ہوا تھا۔ اس کی آنکھوں میں بے حد خوبصورت رنگ رقصاں تھے ۔
وہ ہر جگہ اماں کو ساتھ رکھنا چاہتے تھے ، دنیا سے جاتے ہوئے بھی ساتھ لے گئے ۔ آخر ی بات پر میرزوار کالہجہ کرب ناک ہو گیا ۔
آپ اپنے بابا سے بہت محبت کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟
ہاں کرتا ہوں مگر ان کے سامنے شرمندہ ہوں ۔اب تک پوری طرح ان کی محبت کا حق ادا نہیں کرسکا ، ان کی محبت کا ایک قرض ہے مجھ پر وہ ادا کردوں پھر فخر سے کہوں گا مجھے ان سے محبت ہے اور میں نے ان سے اپنی محبت نبھائی ہے ۔ یکدم اس کا لہجہ آنچ دینے لگا ۔
مطلب ۔۔۔۔۔۔؟ نینا چونک کر بولی۔
سوہنا سائیں ! ابھی تمھیں میری بات کا مطلب سمجھ نہیں آئے گا ۔ آؤ ، کیک کاٹ لیں پھر شام ہوجائے گی ، تمھیں فاؤنٹین بھی لے جانا ہے ۔ وقت کم ہے اور یہاں کے ٹریفک کا حال تو تم جانتی ہو۔ میر زوار نے بات بدل دی اور اس کا ہاتھ تھام کر وسیع و عریض لاؤنج سے ہوتا ہوا کلب نما ہال میں لے آیا ۔
وہ کلب نما حال روم حقیقتاً ایک کلب کی ہی طرز پر بنا گیا تھا جس کی ایک دیوار پر دنیا بھر کی نایاب شراب سے سجا بار تھا ۔
وہاں خوبصورت ڈانسنگ فلور بھی موجود تھا گو کہ اس منی کلب میں عیاشیوں کی تمام سہولتیں مہیا تھیں ۔ کلب کا جائزہ لیتے ہوئے نینا کے چہرے پر ناگواری کا تاثر میر زوار سے پوشیدہ نہیں رہ سکا تھا ۔ نینا نے بھی کلب کے لئے ا پنی ناپسندیدگی چھپانے کی کوشش نہیں کی تھی۔
کلب کو شاندار طریقے سے خاص طور پر برتھ ڈے سیلیبریشن کے لئے سجایا گیا تھا ۔ بڑی سی ٹیبل پر کیک رکھا تھا ۔ ایک طرف میر سجاول کا خاص ملازم ساجد کھڑا تھا جو اب ہر پل میر زوار کے ساتھ سائے کی طرح رہتا ۔
میر سجاول کے بعد ساجد کی جان میر زوار میں بستی تھی ۔ وہ اس کا سب سے وفادار ملازم تھا ۔
ساجد ان دونوں کے آجانے پر اسی طرح سر جھکائے وہاں سے چلا گیا ۔
کیک کاٹ لیں ۔۔۔۔۔میر زوار نے اس کی نظروں کے سامنے چٹکی بجا کر اس کی محویت کو توڑا ۔
اتنے بڑے پیلس میں برتھ ڈے سیلیبریٹ کرنے کے لئےآپ کو یہی جگہ ملی تھی ۔۔۔۔۔۔؟ نینا ناک چڑھا کربولی ۔
یہاں اس لئے لایا ہوں تاکہ تم میرے لائف اسٹائل سے پوری طرح آشنا ہوجاؤ ۔شادی کے بعد یوں نا کہو کہ میں نے تمھیں بے خبر رکھا ۔
میرے کام میں اس طرح کی پارٹیز وغیرہ لازمی ہیں وگرنہ کام نہیں چلتا ۔ بھول کر بھی یہ سوچ اپنے دماغ میں مت لانا کہ میں ذاتی طور پر ایسے شوق رکھتا ہوں ۔
تمھارے بابا سائیں اور بھائی کی بھی یہی ایکٹیویٹیز ہیں مگر فرق یہ ہے کہ وہ احتیاط برتتے ہیں اور مجھے محتاط رہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ وہ اپنی بیوی کے بغیر گزارا کرلیتے ہیں ، میں ایک پل بھی اپنی بیوی سے دور نہیں رہ پاؤں گا ۔میر زوار اسے جتارہا تھا مگر اس کی آخری بات نے نینا کو نگاہیں جھکانے پر مجبور کردیا ۔
میں چاہتا تو تم سے چھپا سکتا تھا مگر شادی کے بعد تم ہر جگہ میرے ساتھ رہوگی اور تب تمھیں ایسے ماحول سے کوفت محسوس نا ہو اس لئے ہر بات سے آگاہ کردینا ضروری سمجھتا ہوں ۔
وہ دھیرے دھیرے سمجھانے کے انداز میں کہتا ہوا اسے ٹیبل تک لے آیا ۔ نینا اسے ٹوکے بغیر سن رہی تھی ۔ میر زوار نے چھری اٹھا کر نینا کے ہاتھ میں تھمائی پھر اپنا ہاتھ نینا کے ہاتھ پر رکھ کر کیک کاٹا ۔
کیک کاٹنے کے بعد میر نے دھیرے سے کلیپنگ کی ۔ نینا نے ایک پیس کاٹ کر میر کو کھلایا ۔
میر زوار نے وہی کیک پیس نینا کے ہاتھ سے لے کر اسےکھلایا ۔
نینا نے عادت سے مجبور ہو کرآئس کیک کی کریم کو انگلی سے سمیٹ کر تمیز کے دائرے میں رہتے ہوئےمیر زوار کے گال میں پڑے ڈمپل پر لکیر کی صورت کریم لگائی ۔
میر زوار نےوہی کریم انگشتِ شہادت سے صاف کی اور نینا کے لبوں پر ٹچ کیا پھر ہلکا سا اس کے چہرے پر جھکا ۔
نینا نے گہری ہوتی مسکراہٹ کے ساتھ رخ پھیر لیا تو میر زوار نے اس کے ڈمپل پر اپنے ہونٹوں کا بھرپور لمس چھوڑا ۔
اس پل نینا سب کچھ بھول کر میرزوار کے ساتھ سیلیبریٹ کررہی تھی ۔ موبائل پر انٹرنیشنل رومنگ ہونے کی وجہ سے گھر والوں کی فکر سے بھی آزاد تھی ۔وہ دونوں بے حد خوش دکھائی دے رہے تھے ۔
مدہم میوزک اور کلب کی فینسی لائیٹس بہت خوبصورت منظر پیش کررہی تھیں۔فوکس لائیٹس کےحصار میں میر زوارکے پرسنل کیمرہ مین نے ایک ساتھ کئی تصویریں لیں ۔
بس اب مجھ سے اور نہیں کھایا جائے گا ۔آپ نے باتوں ہی باتوں میں بہت ذیادہ کھلا دیا ہے ۔شام ہوگئ ہے ، میرا خیال ہے اب آپ مجھے ائیر پورٹ لے چلیں ۔ میر زوار نے نوالہ بنا کر اس کے سامنے کیا تونینا نے اس کا ہاتھ روک دیا ۔
چلتے ہیں یار ! پہلے فاؤنٹین چلیں گے وہاں سے ائیرپورٹ جائیں گے ۔
زار ! آپ فلائیٹ تک میرے ساتھ نہیں چلیں گے ؟ نینا نے اس کے ساتھ چلتے ہوئے پوچھا ۔
سوہنا سائیں ! ائیر پورٹ پر ملنے ملانے والوں کے ٹکرانے کا خدشہ کچھ ذیادہ ہوتا ہے ۔میں پارکنگ تک ساتھ چلوں گا وہاں سے ساجد تمھارے ساتھ اندر جائے گا مگر میں وعدہ کرتا ہوں ، یہ تمھاری لاسٹ فلائیٹ ہے جس میں تم تنہا سفر کروگی ۔اس کے بعد ہم ہر سفر میں ساتھ ہونگے ۔ میر نے رک کر اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر متانت سے کہا ۔ڈرائیور ڈور کھولے مؤودبانہ کھڑا تھا میر زوار نے اسے پیچھے ہٹنے کا اشارہ کیا ۔ وہ لیفٹ ہینڈ پر بھی مہارت سے ڈرائیونگ کرلیتا تھا ۔
میں پاکستان پہنچتے ہی پھپھو سے ہماری شادی کی بات کروں گا ۔
مجھے یقین ہے تمھارے بابا یا کسی کو بھی ہماری شادی پر اعتراض نہیں ہوگا اور مجھے تمھارا رشتہ بخوشی دے دیا جائے گا اگر کسی کو اعتراض ہوا بھی تو پھپو سنبھال لیں گی ورنہ دوسری صورت میں تمھیں اٹھا لاؤں گا۔ میر زوارپرامید لہجے میں کہتے ہوئے آخر میں شریر ہوا پھر فرنٹ سیٹ کا ڈور کھول کر نینا کو بٹھایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی ۔
آپ کو میری قسم آپ ایسا کچھ نہیں سوچیں گے ۔ نینا خفیف سا چلائی ۔
ریلیکس ! مذاق کررہا ہوں ۔
زار ! کیا آپ تھوڑے دن صبر نہیں کرسکتے ، میں شادی سے انکار نہیں کرہی لیکن مجھے تھوڑا سا وقت چاہئے ۔نینا نے ہمت کرکے اس سے کچھ وقت کی مہلت مانگی مگر میر زوار کے سرد تاثرات نے اسے مایوس کر دیا ۔
نین ! مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ تم بار بار شادی کے ذکر پر انکار کیوں کرتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔میں تمھیں صاف لفظوں میں کہہ چکا ہوں کہ مجھے انکار نہیں سننا ۔ میر زوار کی آواز دبی ہوئی مگر برہم تھی ۔
میں ابھی شادی کے لئے خود کو تیار نہیں کرپارہی ۔ وہ سر جھکا کر منمنائی ۔
میں تیار ہوں اور تمھیں بھی تیار ہونا پڑے گا ۔ اب مجھے اس ٹاپک پر بحث نہیں کرنی ہے ۔ میر زوار دوٹوک لہجے میں کہا۔
نینا نے مکمل خاموشی اختیار کرلی ۔
میری طرف دیکھو ۔ میر زوار اپنے لہجے کو نارمل کرتے ہوئے نرمی سے بولا ۔نینا میں کوئی جنبش نہیں آئی ۔
میرزوار نے ہاتھ بڑھا کر اس کی ٹھوڑی کو چھوا اور اس کا رخ اپنی طرف موڑ لیا ۔
میں کبھی بھی تمھیں اس موڈ میں دیکھنا نہیں چاہتا مگر تم مجھے سختی کرنے پر مجبور کردیتی ہو ۔
یار! شادی سے پہلے شادی کی بات پراکثر لڑکیاں گھبراہٹ کا شکار ہوتی ہیں مگر میں تمھیں اس وقتی کیفیت کی وجہ سے خود سے دور نہیں رکھ سکتا ۔
نین سائیں ! تم میری ذندگی کی ضرورت بن گئی ہو ۔ شادی کے بنا اب میراگزارا نہیں ہوسکتا ۔ وہ براہِ راست اس کی آنکھوں میں دیکھ کر معنی خیزی سے بولا ۔نینا نے سٹپٹا کر نظروں کا زاویہ بدلا ۔
“””””””””””””””””””
میرزوار نے گاڑی اسپیشل پانی پوری کی شاپ کے سامنے روکی ۔ نینا نے خوشگوار حیرت سے اسے دیکھا ۔
تمھاری کوئی بھی حسرت باقی نہ رہ جائے اس لئے یہاں لایا ہوں ۔ شادی کے بعد اگر تم نے اس بات پر لڑائی کی کہ زار آپ نے مجھے کبھی پانی پوری کیوں نہیں کھلائی اور ناراض ہوگئی تو میں کیسے تمھیں مناؤں گا ۔ وہ مسکراہٹ دبائے شوخی سے بولا ۔
اس نے ویٹر کو اشارے سے ایک پلیٹ لانے کے لئے کہا ۔
اس کا مطلب شادی کے بعد کبھی نہیں کھلائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔؟ نینا کو فکر لاحق ہوئی ۔
سوہنا سائیں ! روز کھلاؤں گا ، ویسے میں نے شادی سے پہلے کی بات کی تھی ۔ اس نے نینا کی نازک سی ناک کو زور سے دبایا ۔نینا سسکاری بھرتے ہوئے اپنی ناک کو سہلارہی تھی ۔
ویٹر ٹرے اٹھائے کھڑا تھا ۔ میر زوار نے ٹرے اس کے ہاتھ سے لے کر نینا کو تھمائی ۔ نینا کے میں منہ میں پانی بھر آیا ۔ پانی پوری کو دیکھ کر اس کے چہرے پر بچوں سی خوشی تھی اور میر زوار اسی خوشی کو محسوس کرنے کے لئے اسے یہاں لایا تھا ۔
مٹھا سائیں ! پہلے آپ کھائیں ۔نینا نے پوری کو کھٹے پانی میں ڈبو کر ہاتھ میر کے منہ کی طرف بڑھایا ۔
سوہنا ! یہ لڑکیوں کے کھانے کی چیزیں ہوتی ہیں ۔ میں بھلا کھاتا ہوا اچھا لگوں گا ۔ میر زوار ہنستے ہوئے بولا ۔
آپ نہیں کھائیں گے تو پھر میں بھی نہیں کھاؤں گی ۔ نینا نے منہ پھلا کر پوری واپس پلیٹ میں رکھ دی ۔
اچھابابا ! کھلاؤ ۔ ایک تو بات بات پر منہ پھلاتی ہو ، تمھارے نخرے اٹھاتے اٹھاتے تو میری ذندگی ختم ہوجائے گی مگر تمھارے نخرے ختم نہیں ہونگے ۔ میر زوار نے عجیب سا منہ بناتے ہوئے پوری کھائی تو نینا کی کھنکتی ہنسی دیر تک گونجتی رہی ۔
دبئی فاؤنٹین پہنچنے کے بعد میر زوار نے اسے بہت انجوائے کروایا ۔نینا خوفذدہ ہونے کے باوجود بھی بہت خوش تھی ۔ اس کے دل کا چور اسے پوری طرح اس یادگار شام سے لطف اندوز نہیں ہونے دے رہا تھا مگر میر زوار کی سحر انگیز شخصیت اس کے خوف پر حاوی ہورہی تھی ۔
وہ فائونٹین کی رنگ برنگی روشنیوں میں میر زوار کے خوبصورت چہرے کو تک رہی تھی جو برقی روشنیوں سے ذیادہ روشن تھا۔نینا نے صدقِ دل سے دعا کی کہ ان دونوں کی درمیان اس کی شرارت کے باعث کوئی رنجش پیدا نا ہو لیکن جو قسمت میں لکھا ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے ۔ ان دونوں کی خوشیاں اور ساتھ بھی دائمی نہیں تھا ۔
میر زوار نے اسے یوں حسرتوں سے اپنی جانب تکتے ہوئے دیکھا تو اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر اپنے ساتھ لگالیا ۔
“”””””””””””””””
اروما کی ذندگی میں جیسے وہ رات ٹہر کر رہ گئ تھی ۔ زعیم شاہ کے زہر آلود الفاظ ،اس کے ہتک آمیز روئیے نے اروما کی جڑیں ہلادی تھیں۔
اس پر شاہ کی طرف سے ہر رابطہ منقطع کر دینا اذیتوں کی انتہاؤں پر لے آیا تھا۔ وہ اپنے ناکردہ گناہ کو سوچ سوچ کر پاگل ہوئی جارہی تھی مگر کوئی سرا نہیں مل رہا تھا کہ اس سے کہاں غلطی سرزد ہوئی ہے ۔ زعیم شاہ نے کیوں اس کے کردار کو نشانہ بنایا ہے ؟ یہ سوالیہ نشان بار بار اپنی تمام تر جزائیتوں سمیت اس کو منہ چڑاتا ۔
اس رات شاہ کے خطرناک تیوروں کو دیکھنے کے بعد اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ دوبارہ اس کا سامنا کرے ، اسے صفائی دے یا اس سے دستِ سوال ہو ۔
وہ گلاس وال سے سر ٹکائے لان کے منظر پر نظریں گاڑے اپنی ہی سوچوں میں غلطاں تھی جب ارحان زوردار آواز میں کھنکارتا ہوا اس کے پاس چلا آیا ۔
مس اروما !آپ ذندہ ہیں یا اس جہانِ فانی سے کوچ کرچکی ہیں ؟
بولو ارحان !تمھیں کوئی کام تھا؟اروماچونک کر اس کی طرف مڑی ۔
بھلا میری کیا مجال ، تم سے کوئی کام کرواؤں ۔ تمھیں سوچوں میں گم دیکھا تو آگیا ۔
خیریت ہے ، کچھ دنوں سے دیکھ رہا ہوں ، تم اپ سیٹ لگ رہی ہو ۔ کوئی پرابلم ہے توشئیر کرسکتی ہو ۔ ارحان ٹہر ٹہر کر بول رہا تھا کیونکہ وہ کافی دنوں سے اروما کو الجھا الجھا سا پریشان دیکھ رہا تھا ۔
ایسی تو کوئی بات نہیں ہے ، میں کیوں اپ سیٹ ہونے لگی ۔ اروما نے خود کو ہشاش بشاش ظاہر کرنے کی کوشش کی ۔
تم کہتی ہو تو مان لیتا ہوں ۔ چلو پھرشہر کا ایک چکر لگا کر آتے ہیں ۔ ارحان نے جان بوجھ کر اسے کریدنے سے گریز کیا اور نارمل سے لہجے میں پیشکش کی ۔
سچی میرا موڈ نہیں ہے ، تم چلے جاؤ ۔ میں پھر کبھی چلوں گی ۔ اروما نے سہولت سے انکار کردیا ۔
پھر کبھی نہیں ، تم ابھی چلوگی ۔ چلو ، ورنہ میں تائی اماں سے کہتا ہوں ۔ ان کے کہنے پر تو جاؤگی ۔
ارحان ! پلیز ! ضد مت کرو ۔ تم جاؤ ۔اروما جھنجلا گئی ۔
اکیلے نہیں جاؤں گا ۔تم ساتھ چلوگی ۔ ارحان نے ناصرف کہا بلکہ اسے کھینچتا ہوا اپنے ساتھ لے گیا ۔
“”””””””””””””””””
نینا ڈیوٹی آف کر کے لوٹی تھی ۔ گاڑی گیٹ سے اندر داخل ہوئی تو لان میں ہی عروش اور تحریم چئیرز پر بیٹھی ہوئی تھیں ۔وہ اندر جانے کے بجائے ان کے پاس آگئی ۔
ہے گرلز ! کیا ٹاپک چل رہا ہے ؟ گاسپ ؟ سمتھنگ ایلس ؟ نینا نے شرارت سے کہتے ہوئے عروش کے گال پر بوسا لیا ۔
میر زوار سے ہونے والی اس ملاقات کا رنگ اب تک نینا کے دل و دماغ پر چھایا ہوا تھا ۔ اس کی چاہت کے انوکھے انداز نے نیناکے دلکش چہرے کو رونق بخش دی تھی ۔ ایک عجیب سی سر خوشی کا احساس اسے ہمہ وقت گھیرے رکھتا ۔ چاہے جانے کا غرور دنیا کی ہر خوشی وسکون آور احساس سے بڑھ کر ہوتا ہے اور نینا اس احساس کو پل پل جی رہی تھی ۔
وہ جب سے میر زوار سے مل کر آئی تھی اس کے انداز ہی بدل گئے تھے اور تحریم حسبِ عادت اس کی ہر حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے تھی ۔
تمھاری شادی کے بارے میں بات کررہے تھے ، تائی اماں کافی پریشان ہیں ۔ تحریم سنجیدگی سے بولی ۔
واٹ ؟ اماں آپ کو یہ فضول خیال کیونکر آیا ؟نینا دھپ سے چئیر پر بیٹھ کر اچھنبے سے بولی ۔
وہ مذاق کررہی ہے ، تم اتنی جلدی کیسے آگئیں ۔۔۔۔۔۔۔؟ عروش نے استفسار کیا ۔
جلدی کہاں ، ڈیوٹی آف ہونے کے بعد آئی ہوں ۔ بس آج بھٹکنے کا موڈ نہیں تھا اس لئے سیدھی گھر آگئی ۔ اس نے شانے اچکائے ۔
اچھا کیا ، اب ڈنر ساتھ کریں گے ۔ میں تمھارے بابا کو کال کرکے بتا دیتی ہوں ۔ انہیں صدمہ لگ گیا ہے کہ نینا ایک ٹائم بھی ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھانا نہیں کھاتی ۔ عروش نے معظم شاہ کو کال ملائی ۔
آجکل بہت خوش لگ رہی ہو ، کیا بات ہے ؟ کیا کوئی مل گیا ہے ؟ تحریم اس کی طرف جھک کر رازداری سے بولی ۔
میں تو ہمیشہ خوش رہتی ہوں ، کسی کے ملنے نا ملنے کا تو سوال ہی نہیں ہے ۔ آپ کا منہ ہر وقت لٹکا رہتا ہے تو کیا میں یہ سمجھوں کہ کوئی آپ کو چھوڑ گیا ہے ؟ نینا نے چٹخ کر تحریم کی طبیعت صاف کی ۔
نینا ! تم حد سے بڑھ جاتی ہو ۔ ضبط سے تحریم کا چہرہ سرخ پڑ گیا ۔
آپی ! آپ بھی اپنی حد میں رہا کریں ۔ نینا نے اسی کے انداز میں کہا ۔
اماں ! میں روم میں جارہی ہوں ، فریش ہوجاؤں ۔ بابا سائیں آجائیں تو آپ مجھے بلوا لیجئے گا ۔ عروش کال سے فارغ ہوئیں تو نینا نے انہیں مخاطب کیا پھر تحریم کو نظر انداز کرتی ہوئی وہاں سے اٹھ گئی ۔
نینا بی بی بہت اونچی اڑان اڑ رہی ہو ، مجھے الٹے جواب دے رہی ہو ۔ تمھیں بھی بہت جلد تمھارے بھائی کی طرح منہ کے بل گرانا پڑے گا ۔ تم دونوں بہن بھائی اسی قابل ہو ۔ تحریم نینا کو جاتے ہوئے دیکھ کر تنفر سے سوچ رہی تھی ۔
“”””””””””””””””””
ایک تو تم ضد کے بہت پکے ہو ، میرے لاکھ منع کرنے کو باوجود بھی تم نے پورے شہر کا راؤنڈ لگایا ہے اور اب یہاں لے آئے ہو ۔ مجھے بلکل بھی بھوک محسوس نہیں ہورہی اور میں زبردستی نہیں کھا سکتی پھر تم کیوں ضد کررہے ہو ۔۔۔۔۔۔؟ اروما انتہائی بیزار کن لہجے میں بولی ۔
ارحان گھنٹوں سڑکوں پر گاڑی دوڑانے کے بعد اسے ریسٹورنٹ لے آیا تھا ۔ اروما کی نہ نہ کی گردان جاری تھی مگر وہ آرڈر دے کر مطمئین سا بیٹھا تھا پھر کچھ سوچ کر دونوں کہنیاں ٹیبل پر ٹکاکر بولا ۔
ایک تو میں تمھارا موڈ ٹھیک کرنے کی کوشش کررہا ہوں اور تم ہوکہ نخرے دکھائے جارہی ہو ۔ سارا سارا دن منہ پھلائے گھومتی رہتی ہو ، پوچھتا ہوں تو بتاتی بھی نہیں ہو کہ اس اداسی کا سبب کیا ہے ۔ ارحان کے لہجے میں خفگی تھی ۔
میں بتاچکی ہیں کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے پھر بھی تم خوامخواہ سر پر سوار ہورہے ہو ۔ اروما سنبھل کر آہستگی سے بولی ۔
کوئی نا کوئی بات تو ہے ، تمھاری اداسی کی پیچھے کوئی تو وجہ ہے۔میں کوئی نا سمجھ بچہ نہیں ہوں جسے تم ٹال دوگی ۔ وہ ترکی بہ ترکی بولا ۔
تم پتا نہیں کیا سمجھ رہے ہو وگرنہ میرے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ میں عام حالات میں اسی طرح رہتی ہوں ، تم میری عادت سے اچھی طرح واقف ہو ۔ میں نینا تو ہوں نہیں جو ہر وقت اچھلتی کودتی رہوں گی تو تمھیں لگے گا کہ میں نارمل ہوں ۔ اروما نے اصل بات چھپانے کی حتی الامکان کوشش کی ۔
تمھاری مرضی ہے ، مت بتاؤ ۔ آرام سے ڈنر تو کرو ۔ ارحان نے ہارمان لی ۔ ویٹر کھانا سرو کرنے لگا ۔
ارے وہ دیکھو ! ہمارے زعیم شاہ صاحب بھی یہاں موجود ہیں ۔ ارحان کی نظر سامنے کی ٹیبل پر بیٹھے ہوئے شاہ کی طرف پڑی تو اس نے اشارے سے اسے اپنی طرف متوجہ کیا ۔ اروما کا سانس جہاں کا تہاں رہ گیا۔شاہ کی طرف اس کی پشت تھی مگر اس نے مڑ کر دیکھنے کی ہمت نہیں کی ۔
وہ چپ چاپ نوالے بمشکل حلق سے اتار رہی تھی ۔ ہر نوالے پر آنسؤوں کا گولہ حلق میں اٹکتا ۔ دوچار الٹے سیدھے لقمے لے کر اس نے پلیٹ کھسکا دی ۔
کیا ہوا ؟ ڈھنگ سے کھالو ۔ ارحان نے اسے ٹوکا ۔
کہا تھا نا بھوک نہیں ہے ، یہ بھی تمھاری خاطر کھالیا ۔
آپ ارحان کے خاطر اور کیا کچھ کرلیتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟ زعیم شاہ کہتے ہوئے طنزیہ مسکراہٹ لبوں پر سجائے ٹیبل کے پاس کھڑا ہوگیا ۔ اروما کو اس کے لہجے کی تپش اپنے چہرے پر محسوس ہورہی تھی ۔ اس نے ایک نظر شاہ کی طرف دیکھا پھر نگاہیں جھکا لیں ۔
زعیم بھائی ! بیٹھئے ناں ، ہمارے ساتھ ڈنر کریں ۔ میں نے آپ کو دیکھ لیا تھا لیکن آپ کے ساتھ گیسٹ تھے اس لئے ڈسٹرب نہیں کیا ۔ ارحان اٹھ کر کھڑا ہوا اور ہاتھ آگے کیا ۔
میں ڈنر کرچکا ہوں ۔ آپ دونوں اطمینان سے کھائیں ۔ میرے گیسٹ باہر انتظار کررہے ہیں اور میری عادت نہیں کہ کسی کو انتظار کے نام پر خوار کروں ۔ کسی اور کو دعوت پر بلاؤں اور خود کسی اور کا دل بھلاؤں ۔ شاہ نے رسمی انداز میں اس سے مصافحہ کرتے ہوئے دل کی بھڑاس نکالنا ضروری سمجھا ۔
گڈ ! انسان کو ایسا ہی ہونا چاہئے ، منافقت سے پاک ۔ ارحان کسی حد تک شاہ کی تلخی کو سمجھ گیا تھا ۔ مسکرا کر بولا ۔
اروما سر جھکا بیٹھی رہی ۔ اسے اپنی قسمت پر بے تحاشہ افسوس ہورہا تھا ۔ اس قدر دعاؤں کے بعد سامنا ہونا ہی تھا تو آج ہی کیوں ہوا ۔ایک بار پھر وہ شاہ کی نظروں میں گناہ گار ہوکر اس کے شک پر یقین کی مہر لگا گئی تھی ۔
شاہ فوراً سے پیشتر وہاں سے ہٹ گیا ۔ ارحان جانچتی ہوئی نظروں سے اروما کا جائزہ لے رہا تھا ۔
وہ تقریباً معاملے کی تہہ تک پہنچ چکا تھا مگر خاموشی سے کھانے کی طرف متوجہ ہوگیا ۔
پارکنگ تک پہنچتے ہوئے اس کا سانس پھول گیا تھا ۔ اروما کو ارحان کے ساتھ بیٹھا دیکھ کر بارہا اس کا دل چاہا کہ پہلو میں لگا پسٹل نکال کر اروما کو اسی ریسٹورنٹ میں عبرتناک سزا دے مگر اسے کسی بھی صورت میں اس بے وفا کی رسوائی منظور نہیں تھی ۔
وہ گہرے سانس لے کر غصے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرنے لگا ۔ دل و دماغ بری طرح سلگ رہے تھے ۔
جاری ہے
