Rate this Novel
Episode 24
دس دن بعد آپ کو گھر کی یاد آہی گئی ؟ کیا میں پوچھ سکتی ہوں آپ کہاں سیر و تفریح کے لئے گئے تھے ۔۔۔۔۔؟ تحریم ٹاول سے بال خشک کرتے ہوئے واش روم سے باہر نکلی تو اسے وارڈ روب میں موجود لاکرمیں سر گھسائے فائلز الٹ پلٹ کرتے پایا ۔ اس نے ان سنی کئے اپنی توجہ فائلز پر مرکوز رکھی ۔
میر سائیں ! میں آپ سے بات کررہی ہوں ۔ تحریم نظرانداز کئے جانے پر تلملا گئی ۔
سن رہا ہوں ۔ اس نے بادلِ ناخواستہ جواب دیا ۔
سن رہے ہیں تو جواب بھی دیں ۔
تم یہاں کیا کررہی ہو ؟ گاؤں کیوں نہیں گئیں ؟ حویلی تمھارے نام کی ہے ، وہی تمھاری ملکیت ہے اور اب تمھیں وہیں رہنا ہے اس کے علاوہ میں نے تمھیں میری کسی جائیداد یا مجھ پر کوئی حق نہیں دیا ہے اس لئے تم یہاں نہیں رہ سکتی ۔ معظم شاہ سے کہو تمھیں لے جائے ۔ وہ تحریم کی بات یکسر نظر انداز کرتے ہوئے غصے سے گویا ہوا ۔
میں آپ کے ساتھ بھاگ کر نہیں آئی ہوں ، آپ نے ہزاروں لوگوں کے بیچ میں مجھے اپنایا ہے ۔ حق تو آپ کو مجھے دینا ہی پڑے گا مگر اس سے پہلے میرے سوالوں کا جواب بھی آپ ہی دیں گے ۔ وہ اپنے مخصوص اکھڑ لہجے میں تفاخر سے بولی ۔
آپ ولیمہ چھوڑ کر کیوں گئے تھے ۔۔۔۔۔؟ آپ کو میری اور فیملی کی اتنی بڑی انسلٹ کرنے کا حق کس نے دیا تھا ؟
تمھیں نینا اور میر جازب کے درمیان ہونے والی گفتگو کی ویڈیو بنانے کا حق کس نے دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔؟ اس ویڈیو کو مجھ تک پہنچانے کا حق کس نے دیا تھا ؟ اس کے لہجے پر میر زوار کا دماغ گھوم گیا۔ وہ زور دار آواز میں وارڈروب بند کر کے اس کی طرف پلٹا ۔
کک کونسی ویڈیو ؟ کیسی وی ویڈیو ؟ آپ کس ویڈیو کی بات کر رہے ہیں ۔ وہ بری طرح ہکلائی ۔
تم نے فیک اکاؤنٹ سے ویڈیو کسی سڑک چھاپ کو نہیں میرزوار کو بھیجی تھی ۔ ایسے اکاؤنٹ کی انفارمیشن نکلوانا میرے لئے چٹکی بجانے کے برابر ہے ۔ میں خاموش رہا تو صرف پھپھو کی وجہ سے ورنہ جس دن تمھاری حرکت کا پتا چلا اسی وقت تمھارے ہوش ٹھکانے لگا دیتا ۔
تم نے اس کی شرارت کو میری نظر میں گناہ بنا دیا ۔۔۔۔۔۔۔کیا ہوجاتا اگر تم یہ گھٹیا حرکت نہیں کرتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ میری محبت تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آج وہ اس گھر میں میرے پاس موجود ہوتی مگر تمھاری لگائی ہوئی آگ نے اسے مجھ سے ہمیشہ کے لئے دور کر دیا ۔ اتنا کچھ کرنے کے بعد اگر تمھیں یہ لگتا ہے کہ میں تمھیں تمھارا حق دوں گا تو یہ تمھاری سب سے بڑی بھول ہے ۔
تم نے میری نین سے اس کی خوشیاں چھینی ہیں تمھیں بھی خوش رہنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ وہ دبے ہوئے لہجے میں انگارے چبارہا تھا ۔
اب میں سمجھی کہ اپنی ناکام محبت کا بدلہ لیا جارہا ہے ۔ آپ اس نینا کے لئے میری توہین کررہے ہیں جو آپ کے جذباتوں کے ساتھ کھیل رہی تھی ۔ میں نے اس کی حقیقت دکھائی اور میں ہی بری بن گئی ۔ آپ کو تو میرا شکر گزار ہونا چاہئے تھا کہ میں نے صحیح وقت پر آپ کی آنکھیں کھول دیں مگر بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں ہے ۔ نیناکے ذکر پر اس کا حلق تک کڑوا ہوگیا تھا ۔
تم کتنی بھلی ہو اور کتنی ہمدرد اس کا مجھے بخوبی اندازہ ہے ۔ تم کبھی کسی کی سگی نہیں ہوسکتی ۔ وہ تنفر سے کہہ کر دروازے کی طرف بڑھا ۔
اب کہاں جارہے ہیں ؟ تحریم باآوازِ بلند چلائی ۔ میر زوار ضبط کرتا ہوا واپس اس کے پاس آیا ۔
یہ تمھیں بتانا ضروری نہیں سمجھتا اور کان کھول کر سن لو آئیندہ مجھ سے نظر ملاکر اونچی آواز میں بات کرنے سے پہلے دس بار سوچ لینا ۔ ان آنکھوں کو نکال لوں گا اورزبان کھینچ کر گلے سے لپیٹ دوں گا ۔ میرے پاس اس لہجے میں بات کرنے والوں کی یہی سزا ہے ۔ وہ اس قدر دہشت ناک لہجے میں بولا کہ تحریم کی زبان تالو سے چپک کر رہ گئی ۔
وہ خوفذدہ نظروں سے میر زوار کی چوڑی پشت کو تکنے لگی ۔ وہ کمرے سے نکل کر جا چکا تھا مگر تحریم وہیں کھڑی سوچوں میں گم تھی ۔
“”””””””””””””””””
نین سائیں ! یہاں کیا کر رہی ہو ؟ بیڈروم میں چلو ۔ میر زوار نے ڈرائینگ روم میں قدم رکھتے ہی حیرانگی سے کہا ۔
“ شادی بہت بہت مبارک ہو “ ۔ وہ سینے پر ہاتھ لپیٹے گلاس وال کے سامنے کھڑی تھی بغیر پلٹے آہستگی سے بولی ۔ میرزوار کا قہقہہ بے ساختہ تھا ۔
خیر مبارک ۔ بہت خفا ہو ؟ وہ دھیرے دھیرے چلتا ہوا اس کے پہلو میں آکر رکا پھر جھک کر معصومیت کے اگلے پچھلے ریکاڑڈ توڑتے ہوئے استفسار کیا ۔
میرے خفا ہونے یا نا ہونے سے آپ کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اس لئے میں ان چونچلوں میں نہیں پڑنا چاہتی ۔ وہ گلاس وال سے پرے غیر مرئی نقطے پرنظر جمائے سنجیدگی سے بولی ۔
ہوں ۔۔۔۔ چلو اوپر چل کر بات کرتے ہیں۔ اس نے ہنکارہ بھر کر نینا کا ہاتھ تھام لیا ۔
اب میں آپ کے ساتھ کہیں نہیں جاؤں گی ، جو بات ہوگی یہیں ہوگی ۔ وہ جھٹکے سے ہاتھ چھڑا کر تند لہجے میں بولی ۔
اتنے دنوں بعد آیا ہوں ، مجھ سے ملوگی نہیں ؟ وہ لو دیتی نگاہوں سے تکتے ہوئے معنی خیزی سے بولا ۔
اب نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ مجھے اپنانے سے ، مجھے میرا جائز مقام دینے سے انکار کرچکے ہیں ۔ میں نے محبت کا بھرم رکھنے کے لئے خاموشی سے آپ کر ہر ظلم سہہ لیا مگر مزید پامالی کی اجازت نہیں دوں گی ۔
میرے کردار میں کوئی جھول نہیں تھا اگر میں چاہتی تو آپ کے کرتوت اپنے بابا سائیں کو بتا کر شادی رکوا بھی سکتی تھی وہ کبھی مجھ سے بدگمان نہیں ہوتے ، پورا خاندان میرے ساتھ کھڑا ہوتا لیکن میں نے اپنی سچائی ثابت کرنے کے لیے اپنامنہ سی لیا۔
آپ کی ہٹ دھرمی کو برداشت کیا مگر اسے میری کمزوری مت سمجھیں ۔ اب آپ مجھے محبت کے نام پر مزید بلیک میل نہیں کرسکتے ۔ وہ ہزیانی انداز میں چیختی چنگھاڑتی ہوئی خاموش ہوئی تو میرزوار نے بے حد خوبصورت آواز میں شعر کہہ کر اسے مزید سلگایا ۔
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام ۔۔۔۔
وہ قتل بھی کردیں تو چرچا نہیں ہوتا ۔۔۔۔
سوہنا سائیں ! میرے جیسے معصوم بندے کے جذباتوں پر شرط لگانا بھی جرم کے زمرے میں آتا ہے اگر آپ اپنے کرتوتوں پر بھی غور فرمالیں تو دل و دماغ کی گرمی میں کمی واقع ہوگی ۔ آپ یہ کوشش کریں میں جب تک ہماری ازدواجی ذندگی کے خوبصورت دور پر پڑی گرد صاف کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔
وہ بغور سنتا رہا پھر مسکراہٹ دبائے کہتا ہوا نذدیک ہوا اور کمر میں ہاتھ ڈال کر اس کے دھان پان وجود کو اپنے شانے پر اٹھا لیا ۔
میرزوار ! آپ بدتمیزی کی حد کررہے ہیں ، میں آپ کا خون پی جاؤں گی ۔۔۔۔۔۔۔مجھے نیچے اتاریں ۔ وہ اس کی پشت کو دونوں ہاتھوں سے پیٹتے ہوئے بھر پور احتجاج کررہی تھی مگر میر زوار لاپرواہ انداز میں تیزی سے سیڑھیاں چڑھ کر اپنے بیڈروم میں لے آیا ۔
اب کہو ، کیا کہہ رہی تھیں ؟ ڈرائینگ روم کا ماحول پریم پجاریوں کے لئے سازگار نہیں تھا ۔ اس نے نینا کو نیچے اتار کر دروازے کا بولٹ چڑھایا پھر پلٹ کر اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر نرمی سے بولا ۔
آپ جھوٹے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کا پیار ایک ڈھکوسلہ ہے ۔آپ نے کبھی مجھ سے پیار کیا ہی نہیں تھا اگر آپ کے دل میں زرا سی بھی محبت ہوتی تو آپ کبھی مجھے اس دکھ سے دوچار نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسری شادی کرکے مجھے دو کوڑی کا نا کرتے ۔آپ کے باپ نے آپ کی ماں کو دشمنی کے نام پر لوٹا تھا اور آپ نے مجھے محبت کے نام پر لوٹا ہے ۔ میر زوار کے منہ پر زوردار تھپڑ مارنے کے بعد وہ اس کا گریبان دبوچے پھٹ پڑی ۔
تم اگر یہ سمجھتی ہو کہ میں تم سے معافی تلافی کروں گا ، اپنے کئے پر پچھتاؤں گا تو میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے کیونکہ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا جس پر مجھے شرمندگی یا ملال ہو ۔ دوسری شادی کرنا کوئی گناہ نہیں ہے ۔ اس نے نینا کا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگایا ۔
پہلی شادی کو تو آپ نے گناہ بنادیا ہے ، اس پر کوئی شرمندگی ہے یا وہ بھی نہیں ؟ وہ بھڑک کر طنزیہ بولی ۔
پہلی شادی کو گناہ بنانے پر تم نے مجبور کیا ہے ، تم سیدھی راہ پر ہوتی تو میں ہر گزپہلی شادی کے لئے غلط راستے کا انتخاب نہیں کرتا ۔ وہ دوبدو بولا ۔
آپ کبھی میری نادانی میں کی گئی غلطی معاف نہیں کریں گے تو میں بھی آپ کی دانستہ کئے گئے گناہ کو معاف نہیں کروں گی ۔آپ کی شادی میری نظر میں گناہ سے کم نہیں ہے ۔آج میرے یہاں آنے کا مقصد بھی یہی ہے ۔وہ بہتے اشک ہتھیلی کی پشت سے صاف کرتے ہوئے پژمردگی سے بولی ۔
فرمائیے ! کیا مقصد ہے ؟ کیا چاہتی ہیں ؟ وہ یکدم گنبھیر سنجیدگی سے بولا ۔
ہمارے رشتے میں صلح کی گنجائش نہیں ہے ۔ دراڑ پڑ چکی ہے اس خلاء کو پر نہیں کیا جاسکتا ۔ آپ نے جو کرنا تھا وہ کر چکے ہیں اور میں اس پر کڑھ کڑھ کر مرنا نہیں چاہتی اس لئے میں سفیان بھائی کے پاس اسٹیٹس جارہی ہوں ۔ وہ دو ٹوک انداز میں بولی پھر میرزوار کے چہرے پر بدلتے ہوئے رنگوں کو دیکھ کر نظر چراگئی ۔ وہ چند لمحے اسے سرد نگاہوں سے گھورتا رہا پھر خونخوار لہجے میں گویا ہوا ۔
ایسی کی تیسی بھیجتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ذیادہ پر پرزے نکل آئے ہیں اگر تمھیں ڈھیل دی ہوئی ہے تو تم من مانی کروگی اور میں برداشت کروں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسٹیٹس تو بہت دور کی بات ہے شہر سے باہر نکل کر دکھاؤ ٹانگیں توڑ کر گھر بٹھا دوں گا ۔ وہ آنکھیں نکالتے ہوئے آگے بڑھا ۔
خبردار ! ایک قدم بھی آگے مت بڑھانا ورنہ ۔۔۔۔۔۔نینا ایک ہی جست میں سینٹر ٹیبل پھلانگ کر صوفے کے پیچھے جا کھڑی ہوئی ۔
ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔ورنہ کیا کرلوگی ؟ مجھے مارو گی ؟ کیسی خطرناک بیوی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔اپنے شوہر پر ہاتھ اٹھاتی ہو ۔۔۔۔۔۔تھوڑی دیر پہلے مجھ پر خوب ہاتھ صاف کیا ہے پھر دھمکیاں دینے لگی ہو ۔ وہ اس کی دھمکی کو خاطر میں نا لاتے ہوئے دوسری طرف سے گھوم کر صوفے تک پہنچا ۔ ان دونوں کی تھوڑی دیر کی بھاگ دوڑ کے بعد نینا اس کی گرفت میں آچکی تھی ۔
اب بتاؤ کیا کروگی ؟ میرزوار نے اس کی دونوں نازک کلائیاں سختی سے مروڑ کر مخمور لہجے میں کہا ۔
آپ نے مجھے ٹچ کیا تو میں اپنی جان دے دوں گی ۔ وہ آنکھیں میچیں پوری قوت سے چلائی ۔
دو ناں ! کب دوگی ؟ مجھے تو بڑی بے صبری سے انتظار ہے ۔میرزوار نے دلفریب لہجے میں کہتے ہوئے شرارت سے بھرپور گستاخی کی ۔
میں سچ کہہ رہی ہوں ، اب آپ کی غنڈہ گردی نہیں چلنے دوں گی ۔ وہ تڑپ کر مزاحمت کرتے ہوئے بلبلا کر بولی ۔ میرزوار نے زبردست قہقہہ لگایا ۔
یہ شیرنی والا روپ بڑے عرصے بعد نظر آیا ہے اور وہ بھی زخمی شیرنی ۔ آج تو شکار کرکے رہوں گا ۔اس شکار کا مزہ ہی جدا ہوگا۔ وہ محفوظ ہوتے ہوئے بولا ۔
نینا کی ناتواں مزاحمتیں ہمیشہ کی طرح اس کے آہنی وجود کے سامنے ہار گئیں اور میر زوار ہر طرح سے جیتنے لگا ۔
موسم ِ سرما کی پہلی بارش پورے شہر کو جل تھل کررہی تھی اور کمرے کی دبیز خاموشی میں نینا پر میر زوار کی چاہتوں کا ابرِ کرم ٹوٹ کر برستا رہا ۔
میرزوار کی حسین پناہوں میں اسی کے لگائے زخموں کو مرہم مل گیا ۔
“”””””””””””””””””””
جیزی بھائی ! حفصہ نے دروازے کی اوٹ سے سر نکال کر دھیرے سے پکارہ ۔ میر جازب صوفے پر آرام دہ حالت میں ٹیبل پر ٹانگیں پھیلائے ٹاک شو کی طرف متوجہ تھا اس کی پکار پر
چونک کر دروازے کی سمت دیکھا ۔
مے آئے کم ان ؟ وہ دانت نکالے کھڑی تھی اسے اپنی طرف متوجہ دیکھ کر معصومیت سے اجازت طلب کی ۔
آجاؤ ! مگر تم اس وقت کیوں آئی ہو ؟ ابھی تک سوئی کیوں نہیں ہو ؟ وہ وال کلاک کی طرف دیکھ کر حیرت سے بولا ۔ رات کے دو بج رہے تھے ۔
مجھے نیند نہیں آرہی تھی تو میں نے سوچا اسٹڈی کرلوں مگر یہ پرابلم مجھ سے سولو نہیں ہورہی ، آپ ہیلپ کردیں ۔ وہ نہایت معصومیت سے کہتے ہوئےاس سےزرا فاصلےپر بیٹھ گئی ۔
ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ کوشش کرتا ہوں ۔ میر جازب کو سخت کوفت نے گھیرے میں لیا مگر اس کی پڑھائی کے خیال سے ہامی بھرلی ۔
اسے گھنٹہ بھر گزر چکا تھا سمجھاتے ہوئے مگر مجال ہے حفصہ کے دماغ میں کچھ بھی بیٹھا ہو ۔
پچیس بار سمجھا چکا ہوں ۔ اب تم مجھے سولو کرکے دکھاؤگی ۔وہاں بیٹھو اور سولو کرو ۔ شاباش ۔بالآخر اس نے جھنجھلا کر رجسٹر اس کے ہاتھ میں تھمایا ۔
وہ شریر مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے وہاں سے اٹھ کر میر جازب کے دائیں طرف والے صوفے پر بیٹھ گئی ۔
میر جازب دوبارہ ٹاک شو کی طرف متوجہ ہوگیا ۔ شدید طلب سے مجبور ہوکر اس نے سگریٹ کے پیکٹ کی طرف ہاتھ بڑھایا مگر پھر حفصہ کے خیال سے دل مسوس کر رہ گیا ۔ کچھ دیر بعد اس نے ٹاک شو سے نظر ہٹا کرحفصہ پر ڈالی ۔ وہ انہماک سے رجسٹر پر جھکی ہوئی تھی ۔
میر جازب کو رات کے اس پہر اپنے کمرے میں حفصہ کی موجودگی ڈسٹرب کر رہی تھی ۔ اس کا دیھان ٹاک شو سے ہٹ چکا تھا ۔
میر جازب نے ایک بار پھر بے چینی سے کلاک پر نظر ڈالی جس کی سوئیاں تین کے ہندسے کی طرف تیزی سے بھاگ رہی تھیں تبھی حفصہ نے زوردار آواز میں رجسٹر بند کیا اور سینے سے لگائے اس کے سامنے آکر رجسٹر اس کی طرف بڑھایا ۔
میر جازب نے رجسٹر اس کے ہاتھ سے تھام کر جیسے ہی کھولا اس کی نظر صفحوں کے بیچوں بیچ پڑے مردہ کاکروچ پر پڑی ۔ اس نے بے اختیار رجسٹر کو دور اچھالا جسے حفصہ نے مہارت سے کیچ کرلیا ۔ وہ ہنسی سے دوہری ہوئی جارہی تھی ۔
میر جازب نے جل کر اسے تھپڑ لگانے کے لئے ہاتھ اٹھایا مگر حفصہ نے بند رجسٹر سے اس کے سر پر ضرب لگائی اور انگوٹھا دکھاکر بھاگتی ہوئی کمرے سے نکل گئی ۔
میر جازب نے اس کی شرارت سے محفوظ ہوتے ہوئے مسکراکر گہرا سانس بھرا پھر اسکرین کی طرف متوجہ ہوگیا ۔
“”””””””””””””””””
تم میں دو پیسے کا بھی شعور نہیں ہے ۔ اس قدر نذدیک رہ کر چائے سرو کرتے ہیں ۔ تم جیسےجاہل گنوار شہر میں رہ کر بھی تمیز نہیں سیکھ سکتے ۔ تحریم نفرت اور حقارت سے ملازمہ پر برس رہی تھی ۔
ملازمہ سے اس کی شرٹ پر چائے کے چند قطرے ٹپک گئے تھے اور تب سے ڈریس تبدیل کرنے کے بعد بھی تحریم اسے بخشنے کے لئے تیار نہیں تھی ۔ یہ فرسٹریشن تھی جو کچھ دنوں سےتحریم گاہے بگاہے ملازموں پر نکالتی رہتی ۔
پورا گھر اس کے رویہ پر خاموش تماشائی بنا ہوا تھا کیونکہ اس کے ساتھ میرزوار کا برتاؤ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں تھا ۔ نگین بھی خاموشی سے اسے اپنا غصہ ملازموں پر نکالتے ہوئے برداشت کررہی تھیں مگر اروما کی برداشت جواب دے گئی تو وہ اس کی بات کاٹ کر بول پڑی ۔
تحریم آپی ! آپ حد سے بڑھ رہی ہیں ۔ اس نے جان بوجھ کر آپ کے کپڑے خراب نہیں کئے ہیں ۔ اس سے غلطی ہوئی ہے مگر آپ تو مسلسل اس کی تذلیل کئے جارہی ہیں ۔ ہمارے گھر میں کبھی ملازموں کے ساتھ ایسی بدسلوکی نہیں کی جاتی ۔ اروما نے ناگواری سے کہتے ہوئے ملازمہ کو وہاں سے جانے کا اشارہ کیا ۔
تم میری انسلٹ کررہی ہو ، ان ملازموں کے سامنے مجھے ٹوکنے کی تمھاری ہمت کیسے ہوئی ۔ تم دوچار دن کی مہمان ہو شادی کر کے چلی جاؤگی مگر میں یہاں بیاہ کر آئی ہوں ، اب یہ میرا گھر ہے اور میرا جو دل کرے گا میں وہی کروں گی ۔ تحریم کا غصے سے برا حال ہوگیا ۔
اس گھر پر میرا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا آپ کا ہے ۔۔۔۔۔ اروما کی بات ادھوری ہی تھی جب میر زوار نے ڈائیننگ روم میں قدم رکھتے ہی اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا ۔
جاری ہے
