60.7K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

(
نینا وارڈ کاراؤنڈ پورا کرنے کے بعد کولیگ کو انفارم کرتی ہوئی باہر نکل آئی ۔ اس نے ہاسپٹل سے نکلتے ہی میرزوار کو بھی پہنچنے کے لئے فون کردیا تھا مگر اس کے بیڈروم میں بیٹھے ایک گھنٹہ گزرنے کے بعد بھی میر زوار نہیں آیا تھا ۔
وہ دل پر پتھر رکھے اس کا انتظار کرتی رہی کیونکہ معاملہ ایک بے قصور انسان کی ذندگی اور موت کا تھا وگرنہ نکاح کے بعد اسے میر زوار سے کلام کرنا بھی گوارہ نہیں تھا ۔
وہ پوری رات سنان کی فکر میں سوئی جاگی کیفیت کے سبب صوفے پر بیٹھے بیٹھے اونگھنے لگی ۔
میرزوار عجلت میں آفس سے نکل کر میرزوار پیلس پہنچا تھا ۔ ملازم نے گھر میں داخل ہوتے ہی اسے نینا کی موجودگی سے آگاہ کیا ۔ وہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے نینا کی آمد کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔اپنے بیڈروم تک پہنچ کر اس نے دروازہ کھولتے ہی بلند آواز میں کہا ۔
مرشد سائیں ! ابھی صرف نکاح ہوا ہے ، رخصتی نہیں ہوئی۔ ہمارے خاندانوں میں نکاح کے بعد لڑکیوں کا دندناتے ہوئے سسرال پہنچنااور نیندیں پوری کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ نینا اس کی آواز پر اچھل پڑی پھر سینے پر ہاتھ رکھے اسے گھورنے لگی ۔ نیند بھک سے اڑ گئی صرف آنکھوں میں خمار باقی رہ گیا ۔
نینا کے خمار آلود قاتل سراپے پر میر زوارکےدل کی دھڑکنیں مچل گئیں۔
مانا کے میں بہت ہینڈسم ہوں ،چارمنگ ہوں ۔ تم اپنا دل ہار چکی ہو ۔اب میرے دیدار بنا تمھارا گزارا نہیں مگر اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ میں تمھیں کھلی چھٹی دے دوں گا اور اپنی روایات بھول جاؤں گا ۔ میر زوار مسکراہٹ دبائے سنجیدگی سے کہتا ہوا اس کے بے حد نذدیک بیٹھ گیا ۔
بلیک شلوار سوٹ پر ڈارک براؤن ویسٹ کوٹ زیب تن کئے اپنے تباہ کن پرسنالٹی کے ساتھ نینا کے دل میں اتر گیا ۔
پلیز ! دور رہ کر بات کریں ۔ میں یہاں آپ کے لیکچرز سننے نہیں آئی ہوں ۔ میری مجبوری مجھے یہاں کھینچ لائی ہے ورنہ کبھی ادھر کا رخ نہیں کرتی ۔ وہ دھڑکتے دل کو سنبھالتی اسے جھڑکتے ہوئے اس کے پہلو سے نکل کر دور جا کھڑی ہوئی ۔
زوجہ محترمہ ! لیکچرز تو تمھیں سننے ہی پڑیں گے بلکہ سننے کی عادت ڈال لو تبھی خوشگوار اذدواجی ذندگی گزار سکو گی ۔ میرزوار شرارت سے کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا ۔
نینا پیچ کلر کی اسٹائیلش سوٹ میں آدھے بالوں کو کیچر میں سمیٹے بلاکی پرکشش لگ رہی تھی ۔ اس کا قدرتی حسن انتہائی سادگی میں بھی غضب ڈھارہا تھا ۔ سردی کی شدت سے رخسار اور ناک کے نتھنے سرخ ہورہے تھے ۔ کوئی اور وقت ہوتا تو وہ میرزوار کی خواہش کبھی پوری نہیں کرتی مگر آج اسے اپنی بات منوانا مقصود تھا اس لئے خصوصی طور اپنے لئے شلوار سوٹ منتخب کیا تھا ۔
کل رات ہماری گولڈن نائیٹ تھی ، میں نے پوری رات تمھیں بہت مس کیا اور دیکھو دل کا رشتہ کس قدر گہرا ہوتا ہے ، صبح ہوتے ہی تم دوڑی چلی آئیں ۔ میر زوار نے جھٹکے سے اس کا نازک ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا ۔
میں آپ کی فضول باتیں سننے کے موڈ میں نہیں ہوں ، مجھے صرف اتنا بتادیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نینا کی بات ابھی ادھوری تھی تبھی میر زوار نے اس کے ہونٹوں پر استحقاق سے بھرپور مہر ثبت کرکے اسے خاموش کروادیا ۔ کمرے میں گہرا سکوت طاری ہوگیا صرف نینا کی دھڑکنوں کا شور باآسانی سنا جاسکتا تھا ۔
گولڈن نائیٹ نہیں مناسکے تو کیا ہوا ہم گولڈن ڈے تو سیلیبریٹ کرسکتے ہیں ۔ وہ کچھ دیر بعد مخمور لہجے میں شوخی سے گویا ہوا ۔
آپ نے سنان شاہ کو اغوا کیوں کیا ہے ؟ اس کا کیا قصور ہے ؟ نینا کے چہرے پر شرمگیں مسکراہٹ ابھر کر معدوم ہوگئی ۔وہ اس کی بات یکسر نظرانداز کئے پوچھ رہی تھی ۔
تم کیا چاہتی ہو اسے اپنی بیوی کے واسطے بارات لانے کے لئے کھلا چھوڑ دیتا ؟ میرزوار سنان کے ذکر پر بدمزہ ہوگیا ۔ ٹیبل سے سگریٹ اٹھائی اور سلگاتے ہوئے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا ۔
پلیز ! اسے چھوڑدیں ، سب اس کی وجہ سے بہت پریشان ہیں ۔ نینا نے مدہم آواز میں التجا کی ۔
تمھیں اس کی اتنی فکر کیوں ہورہی ہے ؟ اس کے ساتھ بھی کوئی گیم کھیل چکی ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟ میرزوار دھواں فضا میں بکھیر کر طنزیہ بولا ۔
آپ مجھے بات بے بات طعنے نہیں دے سکتے ۔ میں ہزار بار کہہ چکی ہوں وہ صرف مذاق تھا ۔ نینا بھنا گئی ۔ میرزوار نے زبردست قہقہہ لگایا ۔
آپ بس اب اسے چھوڑدیں ۔ میری غلطی کی سزا کسی بے قصور کو کیوں ملے ۔ نینا کی آواز پرنم ہوگئی ۔
اسے چھوڑدوں ؟ تاکہ وہ میرے خلاف کیس کرتا پھرے ۔ میڈیا میں بکواس کرے ۔ میرا نام خراب کرے ۔۔۔۔۔۔پھرکل کیا کروگی جب وہ بارات لئے تمھارے دروازے پر کھڑا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ سب کو بتاؤگی کہ تم میری منکوحہ ہو ؟میرزوار بھڑک اٹھا ۔ نینا مضطرب سے انگلیاں مروڑ رہی تھی گھبرا کر اس کی طرف دیکھا ۔
یا پھر تمھارے نکاح کے عین موقع پر میں فلمی ہیرو کی طرح انٹری ماروں اور کہوں کہ یہ شادی نہیں ہوسکتی ۔ میرزوار اب اٹھ کر اس کے پاس چلا آیا اور دھواں اس کے چہرے پر بکھیر دیا ۔
نہیں ! نینا اس کے طنزکو نہیں سمجھی اور ہاتھوں سے دھوئیں کو منتشر کرتے ہوئے گھبرا کر بے اختیار بولی ۔
تمھیں سوائے اپنے شوہر کے پوری دنیا کی فکر ہے ۔ میں سڑک پر آجاؤں اس سے تمھیں فرق نہیں پڑے گا مگر اس “ بے قصور “ کے حق کے لئے مجھ سے لڑنے چلی آئی ہو ۔ میرزوار غراتے ہوئے بولا ۔
یہ میرا کام ہے اس کا کیا کرنا ہے ، تمھیں اس کے بارے میں سوچنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ تم صرف اپنے بارے میں سوچو کہ اب تمھارے ساتھ کیا ہونے والا ہے ۔ میرزوار کی سرد سرگوشی پر اس کی سانس سینے میں ہی اٹک گئی ۔
میرزوارنے دو قدم کا فاصلہ مٹا کر اسے بانہوں میں سمیٹ لیا ۔وہ اپنی جیت کا جشن منانے کا ارادہ رکھتا تھا اور نینا میں اسے اس کے ارادے سے باز رکھنے کی سکت نہیں تھی ۔
اس کی آنکھوں سے شفاف موتی گر کر تکیے میں جذب ہوتے رہے ۔ وہ بے آواز رو رہی تھی تبھی میرزوار نے اس کی آنکھوں میں جھانک کر شرارت سے کہا ۔
تمھاری ہر ادا سے ظاہر ہے کہ تم خوش نہیں ہو مگر اس وقت میں کتنا خوش ہوں اس کے اظہار کے لئے کوئی پیمانہ ہی نہیں بنا ۔تم میری خوشی کی خاطر تھوڑی دیر روئے بغیر نہیں رہ سکتی ؟
اسے چھوڑ دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کا کوئی قصور نہیں ہے ۔ نینا اس سے نظر نہیں ملاسکی لیکن سسکتے ہوئے بولے بغیر نا رہ سکی ۔
نین ! دوبارہ کسی غیر مرد کے لئے تمھارے دل میں ہمدردی جاگی تو میں تمھیں اسی وقت مار ڈالوں گا ۔ اپنی ذندگی چاہتی ہو تو ایسے کسی بھی ذکر سے گریز کرنا ۔ نینا کی نازک گردن میر زوار کی انگلیوں کے شکنجے میں تھی اگر وہ زرا سا دباؤ بڑھاتا تو نینا کی شربتی آنکھیں باہر کو ابل پڑتیں ۔
میں اس کا قصہ تمام کرواچکا ہوں ۔ اس کے گھروالوں کو لاش بھی مل چکی ہے ۔ گھر جاکے جی بھر کر اس کی موت کا ماتم کرلینا مگر یہاں اب تمھارے آنسو مداخلت نا کریں ۔ میر زوار کا دماغ گھوما اور اس نے نرمی سے نینا کی گردن سہلاتے ہوئے بے رحمی سے انکشاف کیا ۔ نینا کے اوسان خطا ہونے لگے ۔
وہ آنکھیں پھاڑے میر زوار کے وجیہہ چہرے کو تک رہی تھی ۔ آنسوؤں کا گولا حلق میں اٹکنے لگا مگر میر زوار اس کی کیفیت کی رتی برابر پرواہ نہیں تھی ۔
اس کو نینا کے یخ پڑتے جسم اور بے سدھ ہوجانے کا احساس ہوا تو اس نے بے اختیار نینا کا گال تھپتھپایا مگر وہ مارے خوف کے ہوش و خرد سے بیگانہ ہوچکی تھی ۔
غصے سے میر زوار کی مٹھیاں بھینچ گئیں ۔ وہ شعلہ بار نگاہوں سے نینا کو گھورتا رہا پھر سر جھٹک کر اٹھا۔ اس نےلیڈی ڈاکٹر کو بلوانے کے لئے ساجد کا نمبر ملایا ۔
“”””””””””””””””””””
حمید شاہ کے گھر میں صفِ ماتم بچھی ہوئی تھی ۔ ان کی بیوی اور بیٹیاں سنان کی لاش سے لپٹ لپٹ کر رورہی تھیں ۔ مسز حمید کے بین جاری تھی ۔ جب وہ چیخ چیخ کر بے قابو ہونے لگتیں تو بے ہوش ہوجاتیں ۔ ہوش آنے پر پھر آہ و بکا کا سلسلہ زور پکڑ جاتا ۔
وہ لوگ یہاں بیٹھی خاموشی سے حمید صاحب کی فیملی کو بلکتا دیکھ رہی تھیں ۔ عورتوں کا ایک ہجوم تھا ۔ جوان پراسرارقتل پر ہر ایک افسردہ تھا۔ہر طرف چہ مگوئیاں بھی ہورہی تھیں ۔
آج صبح دس بجے پولیس کو سنان کی لاش سمندر کے کنارے پر چادر میں لپٹی ہوئی ملی ۔ شناخت اور دیگر فارملیٹیز پوری ہونے کے بعد لاش ورثہ کے حوالے کردی گئی تھی ۔
زعیم شاہ کے پرزور اسرار کے باوجود بھی حمید شاہ پوسٹ مارٹم کروانے کے لئے راضی نہیں ہوئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب ان کا بیٹا واپس نہیں مل سکتا اس لئے اسے مذید تکلیف نا پہچائی جائے ۔ زعیم شاہ ان کے فیصلے پر دانت پیس کر رہ گیا ۔
شیرازی فیملی نینا کے علاوہ اسی وقت سے بمعہ اہل و اعیال وہاں موجود تھی ۔ نینا میر زوار پیلس سے واپسی پر حمید شاہ کے گھر پہنچی ۔
وہ سر جھکائے ایک کونے میں بیٹھی ہوئی خاموشی سے آنسو بہارہی تھی ۔ اسے میرزوار سے ذیادہ خود سے نفرت محسوس ہورہی تھی ۔ اس کی ایک نادانی کے سبب سنان بے موت مارا گیا تھا ۔
جنازہ بھی اٹھ گیا ۔ شام گہری ہوگئی مگر مسز حمید اور ان کی فیملی نے نینا کے سر پر ہاتھ رکھنا بھی ضروری خیال نہیں کیا ۔
عروش ان لوگوں کی ناگواری بھانپ گئیں تھیں اور اب مذید وہاں ٹہرنا مناسب بھی نہیں لگ تھا اس لئے رانیہ اور رخسانہ بیگم کو اشارہ کرکے اٹھنے کے لئے کہا ۔
نینا کے لئے مسز حمید کا پیار ان کی چاہت ایک ہی دن میں اجنبیت میں بدل گئی تھی ۔
نینا جاتے ہوئے عروش کے منع کرنے کے باوجود مسز حمید کے پاس گئی اور ان کے سامنے دوزانوں بیٹھ کر ان کے گھنٹنوں پر ہاتھ رکھا مگر انہوں نے اپنی آنکھیں سختی سے بند کرلیں ۔
نینا کو مسز حمید کے روئیے پر کوئی افسوس یا حیرانگی نہیں ہوئی ۔ جس ماں کا جوان بیٹا شادی سے فقط دو دن پہلے بے دردی سے قتل کردیا گیا ہو اس ماں کا ایسی لڑکی اور اس کے گھروالوں کے لئے غم و غصہ کسی حد تک جائز بھی تھا مگر یہ سوچ غلط ضرور تھی ۔
موت ذندگی تو اللہ کے ہاتھ میں ہے پھر ہم کسی کی موت کا ذمہ دار خوشی یا غمی کو انسانی ذات سے منسوب کیوں کرتے ہیں جبکہ ہر کام سراسر اللہ کی رضا سے ہوتا ہے ۔ اس کی حکمت شامل ہوتی ہے ۔ نینا دکھ سے سوچتی ہوئی واپس جارہی تھی ۔
“”””””””””””””””””
شیرازی فیملی نے بجھے دل سے سنان کے سوئم میں شرکت کی تھی ۔ قسمت کی ستم ظریفی تھی کہ دونوں گھرانوں میں اس تاریخ پر شادی کا ہنگامہ رونما ہونے والا تھا مگر اب ماتم کدہ بنے ہوئے تھے پھر کتنے بہت سارے دن گزر گئے مگر ماحول پر چھائی ہوئی سوگواری میں کمی واقع نہیں ہوئی ۔
نین ! تم بھی ہمارے ساتھ گاؤں چلتی ۔ماحول بدلے گا تو طبیعت میں بھی بہتری آئے گا ۔ عروش اس کے سر میں مالش کررہی تھیں ۔آج وہ بھی گاؤں واپس جارہی تھیں ۔
رانیہ ، رخسانہ بیگم اور حویلی کے باقی افراد کچھ دن بعد ہی واپس چلے گئے تھے ۔ تحریم بھی ان کے ساتھ گئی تھی کیونکہ ان اس کا دل بھی شہر سے اچاٹ ہوچکا تھا ۔ ہر ممکن کوشش کے باوجود بھی اسے اپنے ارادوں میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی تو خاموشی سے رانیہ کی بات مان گئی ۔
اماں ! مجھے چھٹی نہیں ملے گی ۔ جب فری ہوئی تو آجا ؤنگی ۔
جیسا تمھیں صحیح لگے مگر یوں اداس مت رہو ۔ ہنسو بولو ۔ تمھاری چپ سے میری جان جاتی ہے ۔ اب جو ہونا تھا ہوچکا ہے ۔ اس میں بھی کوئی بہتری ہوگی ۔ عروش دھیرے دھیرے مساج کرتے ہوئے اسے سمجھارہی تھیں ۔
کتنا آسان ہے یہ کہنا کہ بھول جاؤ مگر جب میں آنٹی کے بارے میں سوچتی ہوں تو میرا دل پھٹتا ہے ۔ نینادکھ سے بولی ۔
ہم اور کہہ بھی کیا سکتے ہیں ۔ انسان مجبور ہوکر یہی کہہ سکتا ہے کہ جو قسمت میں لکھا ہے وہی ہوگا ۔ اس کے لئے ہم خود کو ذمہ دار کبھی نہیں ٹہراتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر مجھے تمھاری اداسی اور گم سم کیفیت سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ تم سنان کی موت کا ذمہ دار خود کو ٹہرارہی ہو ۔ عروش بےخیالی میں کہہ گئیں تھیں مگر نینا کا دل دھک سے رہ گیا ۔
میں ایسا کیوں سوچوں گی ۔ سنان سے میری شادی طے ہونے کا مطلب یہ تو نہیں کہ میرے نصیب سے وہ مرگیا ۔ نینا گھبراہٹ میں بے ساختہ بولی ۔
اللہ نہ کرے تمھارے نصیب میں کوئی جھول ہو ۔ بس اس کی آگئی تھی ۔ اسے جانا ہی تھا ۔ اللہ غارت کردے ان نا مرادوں کو جنہوں نے جوان بچے کو بے دردی سے قتل کردیا ۔ عروش نے ہاتھ پھیلا کر بددعا دی ۔
عروش کی بدعا پر نینا کو لگا اس کا دل کسی نے مٹھی میں لے کر مسل دیا ۔نینا گھبرا کر آئل کی بوتل اٹھائے وہاں سے اٹھ گئی ۔
حمید صاحب نے پوسٹ مارٹم بھی تو نہیں ہونے دیا ورنہ کوئی نا کوئی سراغ مل ہی جاتا ۔ ایسے ظالموں کو سخت سزاملنی چاہئے تھی ۔ عروش مسلسل بڑبڑا رہی تھیں ۔ نینا عروش کے چلے جانے تک واش روم میں بند رہی ۔
“””””””””””””””””””””
مجھے آپ دونوں سے ضروری بات کرنی ہے ۔ میر زوار صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھا تھا ۔
بولو ! کیا بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ نگین ! تم کسی کو چائے کے لئے کہو ۔ میر سبطین بیڈ سے اتر کر صوفے پر اس کے پاس آکر بیٹھ گئے ۔
جی میں کہتی ہوں ۔ نگین نے سائیڈ ٹیبل پر پڑی بیل کا بٹن پش کیا ۔
میں شادی کرنا چاہتا ہوں ، وہ بھی اسی مہینے ۔ میرزوار بغیر تہمید باندھے ٹہرے ہوئے لہجے میں گویا ان دونوں کو حیران کرگیا ۔
تم نے تو میری ذندگی کی سب سے بڑی خوشخبری سنائی ہے ۔
نگین ! چائے کے ساتھ منہ بھی میٹھا کرواؤ ۔ ہمارے بیٹے کو شادی کا خیال آہی گیا ۔ میر سبطین کی خوشی دیدنی تھی ۔
شکر ہے اس کے اور نینا کے بیچ معاملات درست ہوگئے ۔ نگین نے مسکراتے ہوئے دل میں سوچا ۔
بتاؤ بھئی ! لڑکی کون ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ غیروں میں پسند کی ہے یا خاندان کی ہے ؟ میر سبطین نے استفسار کیا ۔
خاندان کی ہے اور آپ کل رشتہ لے کر گاؤں جائیں گے ۔ میرزوار نے سنجیدگی سے کہا ۔
ضرور جائیں گے مگر پھر بھی یہ تو بتاؤ ہمیں کہاں جاناہے ۔ لڑکی کا کیا نام ہے ؟ میرسبطین نگین کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھ رہے تھے ۔
“شیرازی ولا “جانا ہے اور کہاں جائیں گے ۔ لڑکی اور کوئی نہیں ہماری پیاری سی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تحریم شاہ “ میر زوار نے نگین بات درمیان میں اچک لی ۔
“تحریم “ نگین نے حیرانگی سے دہرایا ۔
تحریم بیٹی کے لئے جانا ہے ۔ وہ ماشااللہ اچھی بچی ہے ۔ تمھارے جوڑ کی بھی ہے ۔ میر سبطین نے اس کے شانے پر بے تکلفی سے ہاتھ رکھا ۔
میر تمھارے ساتھ نینا کا جوڑ بھلا لگتا ۔ میرے خیال سے تمھیں ایک بار پھر غور کرنا چاہئے ۔ نگین بولے بنا نہیں رہ سکیں ۔
تائی سائیں ! میں نے سوچ سمجھ کر تحریم کو چنا ہے اور مجھے اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ آپ صبح گاؤں جانے کی تیاری کریں ۔ میرزوار دوٹوک لہجے میں بولا ۔
میرے بیٹے کو جو لڑکی پسند ہے وہی میرے گھر کی بہو بنے گی ۔ اس نے کچھ محسوس کیا ہوگا تبھی تو اس سے شادی کا فیصلہ کیا ہے ۔ تم چپ رہو ۔ میر سبطین نے نرمی سے نگین کی سرزنش کی ۔
مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں ہے ، جو میر کی پسند وہی ہماری پسند دراصل اروما اپنی بھابھی کے روپ میں نینا کو دیکھنا پسند کرتی ہے ۔
وہی ذکر کرتی رہتی ہے اور زرتاج بھابھی حیات ہوتیں تو وہ بھی نینا کو میر زوار کے لئے پسند کرتیں ۔نگین اسے بے تکے فیصلے سے روکنا چاہتی تھیں اس لئے جان بوجھ کر زرتاج کا ذکر چھیڑ دیا تاکہ شاید میر زوار جذباتی ہوجائے اور اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے ۔
اماں ہوتیں تب بھی میرا یہی فیصلہ ہوتا اور میں اس فیصلے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی نہیں کرتا ۔ مجھے تحریم سے شادی کرنی ہے جو اب ہر قیمت ہوکر رہے گی ۔ میر زوار مضبوط لہجے میں کہتے ہوئے اٹھ گیا ۔
تم جو چاہوگے وہی ہوگا ۔ ہم کل ہی گاؤں کے لئے روانہ ہوجائیں گے ۔ میر سبطین نے نگین کو گھورتے ہوئے بات سمیٹی ۔ ملازمہ چائے کی ٹرالی گھسیٹتی ہوئی اندر داخل ہوئی تو سب خاموش ہوگئے ۔
جاری ہے