60.7K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 05

نینا ڈرائینگ روم میں بیٹھی ہوئی چینل سرچنگ کرکے وقت گزار رہی تھی پھر بے زاری سے ریموٹ رکھ کر موبائل میں مصروف ہوگئی ۔
وہ پچھلے دو گھنٹوں سے میر ہاؤس میں موجود تھی ۔ میر جازب کو کال کئے بغیر ہی وہ یہاں آگئی تھی کہ وہ اس کے حکم کے مطابق پلک جھپکتے ہی اسلام آباد پہنچ جائے گامگر اب شام ہونے والی تھی وہ اب تک نہیں پہنچا تھا۔
اس کے صبیح چہرے پر پھیلی بیزاری اور جھنجلاہٹ اب دھیرے دھیرے شدید غصے میں تبدیل ہورہی تھی تبھی ملازم نے دروازہ کھولا اور میر زوار اندر داخل ہوا ۔
نینا اچانک اسے اپنے سامنے پاکر گھبراہٹ کا شکار ہوگئی اور اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔ ملاز م موؤدبانہ ہاتھ باندھ کر ایک کونے میں کھڑا ہوگیا ۔
مجھے بے حد افسوس ہے کہ آپ پچھلے کئی گھنٹوں سے یہاں اکیلی بیٹھی بور ہورہی ہیں ۔ میں ابھی واپس آیا ہوں ۔مجھے خبر تھی کہ آپ یہاں اکیلی ہیں مگر بزی ہونے کی وجہ سے پہنچ نہیں سکا ۔میر زوار نے اسے ہاتھ سے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
مجھے جانا ہے ، دیر ہورہی ہے پہلے ہی کافی ٹائم ویسٹ ہوچکا ہے ۔ اس نے میر زوار کی سحر انگیز پرسنالٹی سے نظر چراتے ہوئے ناگواری سے کہتے ہوئے قدم بڑھائے ۔
مجھے احساس ہے آپ کا قیمتی وقت ضائع ہوا ہے مگر وہ میرے کسی کام کی وجہ سے لیٹ ہوگیا ہے ۔ جب اتنا انتظار کرچکی ہیں تو تھوڑی دیر اور سہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری بات ہوئی ہے میرجازب سے وہ ائیر پورٹ سے نکل چکا ہے ، کچھ دیر میں پہنچ جائے گا ۔ میر زوار نے وضاحت دیتے ہوئے اسے جانے سے باز رکھا ۔
میر زوار کو اس کا آف موڈ قطعی برداشت نہیں ہورہا تھا ۔ وہ ہمیشہ ہنستی مسکراتی ہوئی اس کے سامنے آئی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ وہ یونہی مسکراتی رہے اداسی اس کے چہرے پر بلکل نہیں جچ رہی تھی ناجانے کیوں اس کا دل نینا کے چلے جانے پر راضی نہیں ہورہا تھا ۔
دل نے اچانک ہی اس کے ٹہرجانے کی خواہش کی تھی ، وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ دل اتنی شدت سے اسے روکنے کا خواہاں کیوں ہے ۔ جو بھی تھا مگر وہ اس پل اسے جانے نہیں دینا چاہتا تھا ۔
میر زوار جس نے کبھی کسی کو وضاحتیں نہیں دی تھیں ، آج نینا کو روکنے کی خاطر جھوٹا بہانہ بھی گھڑ گیا تھا ۔ میر جازب کو اس نے کوئی کام نہیں دیا تھا بلکہ وہ خود اپنی ضروری میٹنگ کی وجہ سے لیٹ ہوا تھا ۔
واٹ ربش ! آپ خود کو سمجھتے کیا ہیں ؟ وہ بھڑک کر بولی ۔
میرزوار علی ۔۔۔۔۔۔میر زوار نے سینے پر ہاتھ رکھ کر جواب دیا ۔
میر کو ملازم کے سامنے اس کے الفاظ چابک کی طرح لگے اگر نینا کی جگہ کوئی اور اس لہجے میں بات کرتا تو میر زوار اس کی زبان کھینچوا چکا ہوتا ۔ کسی کی اتنی مجال کہاں تھی کہ اس کے سامنے سر اٹھا کر اونچی آواز میں بات کرے ۔
میں دو گھنٹے سے یہاں بے وقوفوں کی طرح اس کا انتظار کررہی ہوں اور آپ نے کتنی آسانی سے کہہ دیا کہ میں نے اسے اپنے کسی کام سے روک دیا ۔
اس دنیا میں صرف آپ کے ہی کام ضروری ہیں ، اور کسی کی کوئی ویلیو نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔؟ وہ اونچی آواز میں تلملا کر بولی ۔ غصے سے شربتی آنکھیں اور نازک سی ناک کے نتھنے بے تحاشہ سرخ ہوگئے تھے ۔
ہر گز نہیں ۔ میر زوار کے فضول کاموں سے ذیادہ ضروری نینا شاہ کی آؤٹنگ ہے مگر مجھے اس بات کا احساس ہونے میں زرا دیر ہوگئی ۔ وہ دلفریب لہجے میں گویا ہوا ۔
ملازم اس کے اس انداز پر بے ہوش ہوتے ہوتے رہ گیا ۔ چھوٹی سی کوتاہی پر لوگوں کی درگت بنا دینے والا میر زوار اس لڑکی کی بدتمیزی کے جواب میں مسکرارہا تھا ۔ اسے سامنے کھڑی چھوٹی سی لڑکی کی قسمت پر رشک آیا کیونکہ ایسا بھی نہیں تھا کہ اس کا سائیں کوئی دل پھینک ، عیاش پرست آدمی تھا ۔
وہ بچپن سے میر زوار کے ساتھ تھا اور اس کے مزاج کے ہر رنگ سے واقف تھا ۔ دن رات لڑکیوں اور عورتوں کا آنا جانا لگا رہتا ، میٹنگز ہوتیں ۔ ان کے ساتھ میر زوار کا رویہ بے حد محتاط اور لیا دیا سا ہوتا تھا ۔
چھوٹے بڑے مواقعوں پر دوست احبابوں کے لئے رقص و سرورکی محفلیں بھی سجتیں مگر کسی کو بھی محفل کے اختتام پر میر زوار کی ذندگی یا اس کے بیڈروم تک رسائی حاصل نہیں تھی ۔
مونیومینٹ میں انٹری رات آٹھ بجے تک کی جاسکتی ہے ابھی تو پانچ بجے ہیں ۔ دامنِ کوہ کی سیر کا مزہ شام میں ہی ہے اور مونل ریسٹورنٹ کے نظارے بھی رات میں اور بھی ذیادہ دلکش لگتے ہیں ۔ میرا نہیں خیال کے میری وجہ سے آپ کے پروگرام کا اثر پڑے گا بلکہ آپ چاہیں تو اپنا موڈ ٹھیک کر سکتی ہیں اور بھرپور طریقے سے انجوائے بھی کر سکتی ہیں ۔میر زوار رسانیت اس کا غصہ کم کرنے کی کوشش کررہا تھا ۔
اوہ ،تواس کا مطلب ہے کہ آپ ہمارے پروگرام سے آگاہ تھے۔
وہ نرم پڑتے ہوئے بولی پھر صوفے پر بیٹھ گئی ۔
میں نے میر جازب سے بات کی تو اس نے میری کام سے انکار کرتے ہوئے وجہ بھی بتائی تھی ۔ میر زوار نے بھی بیٹھتے ہوئے ایک اور جھوٹ بول کر اسے وضاحت دینا ضروری سمجھا ۔
مجھے علم ہوتا کہ جازب کو پہنچنے میں دیر لگے گی تو میں شاپنگ پر چلی جاتی ۔ وہ تاسف سے گویا ہوئی ۔
آپ نے لنچ بھی نہیں کیا ہوگا ؟ میر زوار نے اندازہ لگاتے ہوئےاسےجانچتی نظروں سے دیکھا۔نینا نے نفی میں گردن ہلائی ۔
گلزار ! کھنا لگواؤ ۔ اس نے ملازم کو حکم دیا ۔
جی سائیں ! ملازم فوراً سے پیشتر سر جھکائے پلٹ گیا ۔
“”””””””””””””””””
وہ عروش سے بات کرنے کے بعد ڈپریسڈ ہوگیا تھا۔ اس نے اروما سے بھی رانطہ نہیں کیا تھا جبکہ وہ کئی بار اسے کال کر چکی تھی ۔آفس میں اسے اپنی طبیعت میں بوجھل پن محسوس ہوا تو گھر آگیا۔ وہ روم میں پہنچتے ہی بیڈ پر نیم دراز ہوگیا پھراروما کو کال کی ۔
سنا ہے آج کل بہت انجوائے کیا جا رہا ہے ، مجھے مس کیا تھا ۔۔۔۔۔؟
زعیم شاہ نے کال پک ہوتے ہی گنبھیر آواز میں پوچھا ۔
فرصت ہی نہیں ملی ، جتنا دلچسپ بھائی ہے اس سے کئی گنا شوخ اس کی بہن ہے، بھلا اس کی موجودگی میں بھی کسی کی یاد آسکتی ہے ۔ اروما کی کھنکتی آواز فون میں گونجی ۔
اس کا مطلب ہے اس نے وہاں بھی خوب محفل جمائی ہے ۔زعیم شاہ سگریٹ کا گہرا کش لے کردھیرے سے ہنس دیا ۔
جی ، ہم نے بہت انجوائے کیا ۔ نینا تو آپ کو اور تحریم کو بھی بہت مس کر رہی تھی ۔
نینا مس کر رہی تھی ناں ، اگر کوئی اور بھی مس کررہا ہوتا تو بات تھی ۔ شاہ نے مصنوئی آہ بھری ۔
میں فون بند کر رہی ہوں ۔بہت تھک گئی ہوں ، مجھے نیند آرہی ہے ۔ ارومانے انجان بن کر بہانہ بنایا ۔
نیند والی گرل ! میری نیندیں اڑا کر کہاں بھاگ رہی ہو ۔ آج پوری رات تم سے بات کرنی ہے ۔ زعیم مخمور لہجے میں بولا ۔
کیوں ، آپ کو صبح آفس نہیں جانا ؟
جانا ہے مگر صبح ابھی رات کی بات کرو ۔اب زرا اپنی پیاری سی آواز میں پیاری پیاری باتیں کرو تاکہ تھوڑی طبیعت سنبھلے ۔
کیوں ، آپ کی طبیعت کو کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اروما کی آواز سے یکدم پریشانی چھلکنے لگی ۔
صدقے ۔ میری طبیعت کو کچھ نہیں ہوا بس تھوڑا موڈ بگڑا ہواتھا تمھاری آواز سن کر وہ بھی ٹھیک ہوگیا ہے ۔
موڈ کیوں خراب تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اروما پھر پریشانی سے بولی ۔
اتنے سوال کروگی تو پھر بگڑ جائے گا ، میں اظہار چاہتا ہوں اور تم سوال پر سوال کئے جارہی ہو ۔ شاہ زچ ہوکر بولا ۔
سوری ! اب کوئی سوال نہیں کروں گی ۔ اس نے شاہ کے غصے سے کہنے پر خائف ہوکر معذرت کی ۔
ایک نہیں سو سوال پوچھو میری جان ! آئے ایم سوری ۔ میں کچھ ذیادہ ہی جذباتی ہوگیا ۔ زعیم شاہ کو فوراً ہی اپنی غلطی کا احساس ہوا تو عاجزی سے بولا ۔ اروما بے ساختہ ہنس پڑی ۔
مجھےآپ کو سوری کہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔مجھے آپ کے غصے سےخوف ضرور آتا ہے مگر برا نہیں لگتا۔اس کی نرم و نازک سی آواز کو سماعتوں میں اتارتے ہوئے شاہ نے سکون سے آنکھیں موند لیں ۔
“””””””””””””””””””
نینا اس کی تقلید میں چھو ٹے قدم اٹھاتی ہوئی ڈائیننگ روم تک پہنچی ۔ میر زوار نے اس کے لئے چئیر کھسکائی اور اس کے بیٹھنے کے انتظار میں پشت پر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا ۔
نینا نے ڈائینگ ٹیبل پر چنے کھانوں کی ڈشز کا ناقدانہ نظروں سے جائزہ لیا پھر بیٹھ گئی ۔ میر زوار اس کے بیٹھتے ہی اپنی چئیر پر جاکر بیٹھ گیا۔وہ نینا کے چہرے پر پہلے تحیر کے رنگوں سے محفوظ ہوتے ہوئے بولا ۔
میں تمھاری حیرانگی دور کئے دیتا ہوں ۔ دراصل ! میر جازب نے مجھے صبح بتا دیا کہ آپ لنچ یہاں کریں گی اس لئے میں نے بٹلر سے کہہ کر تمام ڈشز آپ کی پسند کے مطابق بنوائی ہیں ۔ وہ اپنی پلیٹ میں دال نکالتے ہوئے عام سے لہجے میں کہہ رہا تھا مگر نینا کی حیرت سوا ہوگئی ۔
آپ کو میری پسند نا پسند کے بارے میں کیا پتا ۔۔۔۔۔۔۔؟نینا نے بے ساختہ پوچھا ۔
اس میں اتنا حیران ہونے والی بات نہیں ہے ۔ میر جازب اور اروما اکثر ذکر کرتے رہتے ہیں ۔ آپ پہلی بار میرے گھر آرہی تھیں تو میں نے سوچا کہ کیوں نا آج لنچ آپ کی پسند سے کیا جائے۔ میر زوار نے تفصیلاً جواب دے کر اسے مزید حیران کر دیا مگر وہ ہونٹوں پر مچلتا اگلا سوال دباکر کھانے میں مصروف ہوگئی۔
باہر تو گرمی کا نام و نشان بھی نہیں پھر اس کمرے کا ماحول مجھے انتہائی گرم کیوں محسوس ہورہا ہے ۔ میر جازب ڈائیننگ روم میں داخل ہوا اور نینا کے سامنے والی چئیر پر بیٹھ کر ترنگ میں بولا۔
نینا لاتعلق بنی پلیٹ پر جھکی رہی ۔
مجھے پتا ہے تم سخت خفا ہو مگر ایک بہت ضروری کام تھا جو نمٹانے میں وقت لگ گیا ۔وہ وضاحت دے رہا تھا مگر نینا کی چپ نہیں ٹوٹی ۔
وہ ناراض نہیں ہے ، میں اسے بتاچکا ہوں کہ تم میرے کام کی وجہ سے لیٹ ہوگئے ۔ میر زوار نے آنکھوں کے اشارے سے اسے سمجھایا ۔میرجازب نے بھی آنکھوں سے تشکر کا اظہار کیا ۔
دل تو کرتا ہے تمھارا سر پھاڑدوں مگر میں تمھارے خون سے اپنے ہاتھ نہیں رنگنا چاہتی ۔ نینا نیپکن سے ہاتھ پونچھ کر اپنی جون میں واپس لوٹ آئی ۔ان دونوں بھائیوں کا قہقہہ برجستہ تھا ۔
اوہ ! جرائم پیشہ لوگوں کی چند گھنٹوں کی صحبت نے تمھاری سوچ کو بھی مجرمانہ بنا دیا ۔ میر جازب نے ٹیبل بجائی ۔میر زوار نے اسے فقط گھورنے پر اکتفا کیا ۔
گلزار ! ساجد سائیں کے پاس ایک پیکٹ ہے ۔ لے کر آؤ ۔ میر زوار نے ایک ملازم کو حکم دیا جو کاندھے سے گن لٹکائے ہاتھ باندھے کھڑے تھے ۔
میرا پورا دن تو خراب کروا چکے ہو ، اب بھونڈے مذاق کر کے شام بھی یہیں گزارنے کا ارادہ ہے ۔نینا اسے ٹوکتے ہوئے کھڑی ہوگئی ۔
میں تو کب سے تمھارا ویٹ کر رہا ہوں ، تم ہی لیٹ کروارہی ہو۔ میر جازب معصومیت سے بولا ۔ نینا نے میر زوار کی موجودگی کا لحاظ کرتے ہوئے صبر کا گھونٹ پی کر اسے ملامتی نظروں سے دیکھا ۔
میر جازب سر کھجاتے ہوئے ایک ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالے باہر آگیا ۔ وہ تینوں آگے پیچھے خارجی دروازے کی طرف بڑھ رہے تھے تبھی میر جازب کسی کام سے پانچ منٹ میں آنے کا کہہ کر سیڑھیاں چڑھ گیا ۔
آپ بھی رات ڈنر پر ہمیں جوائن کریں ۔ وہ دونوں میر جازب کے انتظار میں خاموشی سے کھڑے تھے ۔ اس کی خاموشی کو توڑنے کے لئے نینا خوشدلی سے بولی ۔
“میں تو ہر وقت آپ سے جوائینڈ رہنا چاہتا ہوں ۔”میر زوار بے ساختہ بولا ۔ اپنی بے اختیاری پر ایک پل کے لئے وہ خود بھی جز بز ہوا مگر نینا پر ظاہر کئے بغیر دلکشی سے مسکرایا ۔نینا کا چہرہ خفت سے سرخ پڑ گیا ۔
یہ میری طرف سے آپ کے لئے ہے ، آپ پہلی بار گھر آئی ہیں اور روایت کے مطابق خالی ہاتھ نہیں جاسکتیں ۔ ملازم پیکٹ کے ساتھ واپس لوٹا تو میر زوار نے پیکٹ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔
نینا ! سوچ کیا رہی ہو ، لے لو ۔ میر جازب نے اسے بت بنے دیکھا تو نرمی سے کہا ۔
تھینکس ! نینا نے ہچکچاتے ہوئے پیکٹ تھام لیا ۔
یار ! تم بھی رات ہمارے ساتھ ڈنر کرو ۔ میر جازب نے مصافحے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو اسے بھی دعوت دی ۔
پھر کبھی سہی ، میں پہلے سے ہی ڈنر پر انوائیٹڈ ہوں ہے ۔ اس معنی خیز لہجے میں کہہ کرسہولت سے انکار کردیا ۔
تقریباً ہر روز ہی تمھارا ڈنر وہاں ہوتا ہے ، وقت پر اپنی جان چھڑالو ورنہ کسی دن ان کے ساتھ خود بھی ڈوبوگے ۔ میر جازب ناگواری سے بولا ۔
جیل کے کٹھن وقت میں دوستی کا رشتہ جوڑا تھا آخری وقت تک قائم رہے گا ۔ اول تو میں ہر کسی سے دوستی کرتا نہیں اور اگر کرلوں تو پھر دل سے نبھاتا ہوں ۔ یہ تم بھی جانتے ہو ۔
ذندگی بھر نبھانے کا عہد کیا تھا اور آخری دم تک نبھاؤں گا ۔
تم میری فکر مت کرو ، میں ڈوب کے ابھرنے کا ہنر جانتا ہوں ۔
وہ لاپرواہی سے بولا ۔
جب تم نے کسی کی ناماننے کی ٹھان لی ہے تو میرا کچھ بھی کہنا بے کار ہے۔میر جازب افسردگی سے بول کر چل پڑا ۔نینا جو بغور ان دونوں کی باتیں سن رہی تھی اچٹتی نظر میرزوار پر ڈالتی ہوئی بڑھ گئی ۔
“”””””””””””””””””
زعیم شاہ ! ٹاول سے ہاتھ پونچھتا ہوا واش روم سے باہر نکلا تو تحریم کو بیڈ کے کنارے پر بیٹھا پایا ۔
تم یہاں کیا کررہی ہو ۔۔۔۔۔؟ اس نے تیوری پر بل ڈال کر ناگواری سے کہا ۔
کیوں ، کیا میں تمھارے روم میں نہیں آسکتی ۔۔۔۔۔۔؟ تحریم اٹھلا کر بولی ۔
ہر گز نہیں۔رات کے اس پہر نینا کےسوا کسی بھی لڑکی کو میرے روم میں نہیں ہونا چاہئے ۔ وہ صاف گوئی سے بولا ۔
اروما کے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے ۔۔۔۔۔؟اس کے آگے پیچھے گھومنا ، بھری محفل میں اس کا ہاتھ پکڑنا ۔ تحریم اس کی صاف گوئی پر تلملا کر بولی ۔
شٹ اپ اینڈ گیٹ لاسٹ ۔ شاہ بھاری قدم اٹھاتا ہوا اس تک پہنچا اور بازو سے پکڑ کر اسے اٹھایا ۔
میں نے ایسا بھی کیا کہہ دیا جو اتنا بھڑک رہے ہو ۔ تحریم ہزیانی انداز میں چلائی ۔
اپنی آواز نیچی رکھو اگر میں تم سے نرمی سے پیش آرہا ہوں تو اس کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش مت کرو ۔
مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی ، اب یہاں سے نکلو اور دوبارہ میرے روم میں بغیر اجازت قدم رکھنے کی غلطی مت کرنا ۔شاہ اسے دھکیلتا ہوا دروازے تک لے گیا ۔
میں تم سے بات کئے بغیر کہیں نہیں جاؤں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم سوبار مجھے دھتکارو گے تو میں سوبار واپس آؤں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آخر تم کیوں مجھ سے اس بری طرح پیش آرہے ہو ؟ کل تک تم میرے ساتھ نارمل تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب ایسا کیا ہوگیا ہے کہ تم میری طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے ؟ تحریم اس کے سامنے سراپا سوال بنی کھڑی تھی۔
یہی میری غلطی تھی کہ میں تمھیں نینا کی طرح ٹریٹ کرتا تھا مگر تم میرے رویے کو غلط سمجھ بیٹھی اور بہک گئی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں تمھیں بھی اپنی بہن ہی سمجھتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم بھی میرے گریز کو سمجھنے کی کوشش کرو اور ہمارے رشتے کی پاکیزگی کو برقرار رہنے دو ۔ وہ بمشکل اپنا غصہ دبائے تحمل سے بولا ۔
میں صرف اتنا جانتی ہوں کہ میں تم سے محبت کرتی ہوں ، اس کے علاوہ مجھے کچھ سوچنے سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ تحریم ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہتے ہوئے چند قدم آگے آئی پھر اپنے دونوں بازو زعیم شاہ کے گلے میں ڈال کر شرمناک حرکت کرتے ہوئے بے باکی کی انتہا کردی ۔
تم ہوش میں تو ہو یا پاگل ہوچکی ہو ۔۔۔۔۔۔دور ہٹو۔ زعیم شاہ بدک کر خود کو چھڑاتے ہوئےپیچھے ہٹا مگر تحریم جذبوں کی رو میں بہک کر بے قابو ہوتی جارہی تھی ۔