60.7K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

میں نے نینا سے خفیہ نکاح اس فتنہ انگیز عورت کی وجہ سے کیا، اس نے میری نین کو ، میری محبت کو مجھ سے دور کرنے کے لئے اپنا گندہ دماغ استعمال کیا اگر یہ ہمارے بیچ نہیں آتی تو آج دنیا کی نظر میں وہ میری بیوی ہوتی مگر میری بیوی تو اب بھی وہی رہے گی کیونکہ اسے تو میں تمھارے ساتھ ہی اوپر روانہ کرنے والا ہوں ۔ اس نے دہشت ناک لہجے میں تحریم کی طرف اشارہ کیا ۔
نہیں ،نہیں آپ ایسا نہیں کرسکتے ۔۔۔۔۔۔۔آپ میرے ساتھ جیسا بھی سلوک کریں مگر اس قدر بے رحمانہ فیصلہ مت کریں ۔میں آپ کو صفائی دے چکی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔میں نے صرف آپ کی بھلائی چاہی ۔ ہزار بار کہہ چکی ہوں میرا ارادہ غلط نہیں تھا طریقہ کار غلط تھا ۔مجھے اپنی ہر غلطی پر بہت پچھتاوا ہے اور میں اب انہیں کبھی نہیں دہراؤں گی ۔تحریم خوف کی شدت سے کانپتے ہوئے بولی ۔
بکواس بند کرو ۔ تم سے ذیادہ تمھاری نیت کو پہچانتا ہوں ۔ اس نے ہاتھ اٹھا کر تنفر سے کہا۔
تم دونوں نے میری ذندگی میں زہر گھولنے کا کام ایک برابر کیا ہے ۔ ایک نے میرے ماں باپ مجھ سے چھین لئے تو ایک میری محبت چھیننے چلی تھی ۔ تمھیں اس خطا کے لئے شاید معافی مل جاتی کیونکہ نین کو تو دنیا کی کوئی طاقت مجھ سے جدا نہیں کرسکتی مگر جو گھٹیا کھیل تم نے میری بہن کی عزت کے ساتھ کھیلا اس کے لئے تمھاری سزا موت سے کم نہیں ہو سکتی ۔
میری بات سنو ! ٹھنڈے دماغ سے میری بات سنو ۔ ہم سے غلطیاں ہوئی ہیں مگر اب تم ہماری جان لے کر بھی گزرےوقت کو تو واپس نہیں لا سکتے ۔ دیکھو ! تم کہوگے تو میں پورے خاندان کے سامنے اپنا جرم قبول کروں گا ۔ میں سب کو حقیقت بتاؤں گا اگر تم نینا سے نکاح کر ہی چکے ہو اور اسے عزت دار مقام دینا چاہتے ہو تو مجھے اس شادی پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے ۔
میں راضی بخوشی اسے تمھارے ساتھ رخصت کردوں گا ۔ کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔ تم فقط ایک بار میری بات پر غور کرو ۔ اس کے خطرناک حد تک بگڑے تیوروں کو دیکھ کر معظم شاہ کا خون خشک ہورہا تھا ۔ وہ انتہائی عاجزی سے بولے ۔
انہیں کسی بھی طرح اسے بہلا پھسلا کر اس کے شکنجے سے نکلنا تھا ۔ اس کے دس بارہ گارڈز کی موجودگی میں تو ان کی منت سماجت ہی ان دونوں کو بچا سکتی تھیں کیونکہ وہ سب میرزوار کے ایک اشارے کے منتظر کھڑے تھے ۔
میں تمھیں معاف کردوں اور ذندہ سلامت جانے بھی دوں اور تم یہاں سے نکلتے ہی گرگٹ کی طرح رنگ نا بدلو ، یہ تو ممکن ہی نہیں ہے ۔ اس نے طنزیہ کہتے ہوئے زبردست قہقہہ لگایا ۔
تم جیسے چاہو اپنی تسلی کرلو۔خدا کی قسم تمھیں مایوسی نہیں ہوگی۔میں اپنی نینا کے خاطر سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہوں ۔ وہ بری طرح کھسیا گئے مگر جان کے لالے پڑے تھے اس لئے تحمل سے بولے ۔
میں بھی نینا کو آپ کی بیوی کی حیثیت سے دل سے قبول کرلوں گی ۔ مجھے اس کے ساتھ رہ کر خوشی ہوگی ۔ میں آپ دونوں کی خدمت کروں گی ۔ اس کے سامنے کبھی اپنی اہمیت نہیں جتاؤں گی ۔ مجھے آپ کے نام کے سہارے کی ضرورت ہے اور مجھے کچھ بھی نہیں چاہئے ۔ تحریم نے موقع غنیمت جان کر بھیگی آنکھوں سے اسے جی بھر کر مطمئین کرنے کی کوشش کی ۔
میرزوار چند پل کے لئے سوچ میں پڑ گیا ۔ گھنی شیو پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ مضطرب سا ٹہلتے ہوئے ساجد کے پاس آیا جو خاموش نظروں سے اسی کو دیکھ رہاتھا ۔
تم پر مجھے اعتبار تو مرتے دم تک نہیں ہوگا پھر بھی ایک موقع دیتا ہوں ۔ تم جاسکتے ہو مگر یہ بات ذہن نشین کرلو کہ اگر یہاں سے نکلنے کے بعد اپنا دماغ چلا نے کی کوشش کی تو اس بار موت بھی تمھیں نہیں بچا سکے گی ۔
تم گاؤں پہنچو گے اور اپنے گناہوں کا اعتراف کروگے ۔ نینا کی میرے ساتھ رخصتی ہونے تک تم میری شرطوں پر جیوگے ۔ اس نے معظم شاہ کے کالر کو تھپکتے ہوئے سنجیدگی سے کہا ۔
یہ چپ ہر پل تمھارے ساتھ رہے گی ۔ تم نے غلطی سے بھی اسے خود سے الگ کرنے کی کوشش کی تو انجام کے لئے تیار رہنا ۔ مجھے تمھاری گردن تک پہنچنے میں ذیادہ وقت درکار نہیں ہوگا ۔
اسے بھی اپنے ساتھ لے جاؤ شادی تک یہ گاؤں میں ہی رہے گی ۔ اس نے مائیکرو چپ ایک پین کی صورت ان کی شرٹ کی اوپری جیب میں اٹکادی پھر تحریم کی سمت اشارہ کرتے ہوئے حکم صادر کیا ۔
ساجد سائیں ! ان دونوں کو واپس پہنچادو ۔ وہ ساجد کو حکمیہ کہتے ہوئے سرعت سے بیسمینٹ کا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا ۔
معظم شاہ اپنی جگہ منجمد کھڑے تھے ۔ انہوں نے بمشکل اپنی جان چھوٹ جانے کا خود کو یقین دلایا پھر ساجد کے اشارے پر اس کے پیچھے چل پڑے ۔
گاڑی تک پہنچنے اور اس میں سوار ہونے تک ان کا دماغ اپنے طریقے سے کام کرنا شروع کر چکا تھا ۔ انہیں اس علاقے کی حدود سے نکلنے کا انتظار تھا ، اس کے بعد تو وہ میرزوار کی دھجیاں بکھیردینے کا عزم رکھتے تھے ۔
“””””””””””””””””””
سرکار ! آخر آپ نے بدلہ لے ہی لیا ۔ معظم شاہ کو اس کے منطقی انجام تک پہنچا کر ہی دم لیا مگر تمھیں تحریم کے بارے میں سوچنا چاہئے تھا ۔ تم کم از کم اسے تو روک سکتے تھے ۔ اس نے بہت کچھ غلط کیا مگر وہ اس سزا کی مستحق نہیں تھی ۔ میر جازب بریکنگ نیوز دیکھنے کے بعد پہلی فرصت میں اس کے کمرے میں آیا تھا ۔
رانیہ پھپھو یہ صدمہ کیسے برداشت کریں گی ۔ ان کی ایک ہی بیٹی تھی اور وہ اسے کتنا چاہتی تھیں ۔
زاری ! میں تمھاری اس غلطی کو کبھی معاف نہیں کروں گا ۔ میر جازب انتہائی افسردہ نظرآرہا تھا ۔
رانیہ پھپھو میرسجاول کی موت کے صدمے کی طرح تحریم کے غم سے بھی نکل آئیں گی ۔ تھوڑا وقت لگے گا مگر سب ٹھیک ہوجائے گا ۔
اسے مار کر بھی گناہ گار ہوں اور اسے ذندہ رکھ کر میں اس کے حقوق پورے نہیں کرتا تب بھی گناہ گار ہوتا ۔ میں اسے اپنی ذندگی میں شامل رکھ کر نین کو دکھی نہیں رکھ سکتا تھا ۔ وہ میری ہو کر بھی تحریم کی موجودگی میں میری نہیں بن پاتی ۔ ہمیشہ مجھ سے شاکی رہتی ۔
میں اسے ذندگی بھر سوکن کا جلاپا نہیں دینا چاہتا تھا ۔ اسے اپنی راج دھانی میں تنہا راج کرتے دیکھنا چاہتا ہوں جو تحریم کے ذندہ رہنے کی صورت میں ہر گز ممکن نہیں تھا ۔
عشقِ حقیقی ہو یا پھر عشقِ مجازی اس عشق پر میرا ایمان ہے اور تحریم کی وجہ سے میرے عشق کی توہین ہورہی تھی ویسے بھی محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے ۔ وہ میری محبت کے بیچ آگئی تھی اور معظم شاہ اس روئے زمین پر میرا سب سے بڑا دشمن تھا اس لئے ان دونوں کو بھیجنا ضروری تھا ۔
میری نین نے اس کی وجہ سے میری دوسری شادی کا بہت بڑا دکھ جھیلا ، اسے تو میں ذندہ چھوڑ ہی نہیں سکتا تھا اور جو کچھ وہ کرچکی تھی اگر تمھیں بتادیتا تو تم مجھ سے پہلے اس کا کام تمام کر چکے ہوتے ۔ گلاس میں وہسکی انڈیلتے ہوئے اس کا جواب میرجازب کو چونکنے پر مجبور کر گیا ۔
کیا مطلب ؟ ہماری ویڈیو تم تک پہنچانے کے علاوہ اور اس نے کیا غلط کیا تھا ۔۔۔۔؟ میر جازب بغور اسے سن رہا تھا چونک کر استفسار کیا ۔
میر زوار نے گھونٹ گھونٹ حلق سے اتارتے ہوئے پوری روداد اس کے گوش گزار کردی ۔
یہ زعیم شاہ میں انٹریسٹڈ تھی اور اس کے لئے ہماری رومی پر اتنا گھٹیا الزام لگایا ۔ رومی کے لیے اس نے اتنی گری ہوئی پلاننگ کی تھی ۔ تم نے واقعی صحیح کہا اگر مجھے معلوم ہوتا تو میں اسے پہلے ہی شوٹ کردیتا ۔ میر جازب کا خون کھول اٹھا تھا اگر تحریم ذندہ ہوتی تو وہ ایک بار پھر اسے مارڈالتا ۔
اچھا اب اٹھ جاؤ ، کیا اب یونہی بیٹھے رہوگے ۔ ہاسپٹل تو چلو ۔
میں تو ہاسپٹل کے لئے نکل رہا ہوں ۔ مرنے والوں میں ایک تمھارا سسر تھا اور ایک تمھاری بیوی تھی۔ ضروری کاروائی پوری کرنے اور ڈیڈ باڈیز ائیر پورٹ پہچانے تک ہمیں وہاں موجود ہونا چاہئے ۔ زعیم شاہ اور مکتوم انکل کو پہنچنے میں تو ٹائم لگے گا ۔ ہم وہاں رہیں گے تو اس طرح کسی کا شک بھی تمھاری طرف نہیں جائے گا ۔ میر جازب نے جاتے ہوئے اسے مشورہ دیا ۔
تم شک وغیرہ کی فکر مت کرو ، وہ سب میں دیکھ لوں گا ویسے میں تمھارے ساتھ چل رہا ہوں ۔ تم دس منٹ ویٹ کرو ، میں تیار ہو کر آتا ہوں ۔
چل رہے ہو تو پھر اتنی پینے کی کیا ضرورت ہے ؟ اب چھوڑو اسے ۔ میر جازب نے اسے دوبارہ گلاس بھرتے دیکھ کر بوتل اس کے ہاتھ سے چھین لی ۔
وہ یاد آرہی ہے ۔ ناجانے کتنے دن تک اس سے ملاقات نہیں ہو پائے گی ۔ جب تک یہ سوگ کے دن ختم نہیں ہونگے اس سے دور رہنا پڑے گا ۔ ان دنوں وہ بہت روئے گی اور میں اس کے آنسو بھی صاف نہیں کر پاؤں گا ۔ وہ دونوں ہاتھوں میں سر تھام کر بے بسی سے بولا ۔
چند دنوں کی بات ہے پھر سب کچھ معمول پر آجائے گا پھر تم اس سے ملاقات کرسکوگے فی الحال تو وہ خود بھی کئی دن تک بے سکون رہے گی ۔ بہتر ہوگا تم بھی کچھ دن اس سے دور رہو اور اس کی پریشانی کا سبب نا بنو ۔
ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ “نین زار” پیلس کا کیا بنا ؟ کام چل رہا ہے یا تم نے روک دیا ہے ؟ میرزوار نے ہنکارہ بھرنے کے بعد دبئی میں زیرِ تعمیر نئے گھر کے بارے میں دریافت کیا۔ پیلس کا ڈیزائن اس نے پاس کیا تھا مگر وقت کی کمی کے باعث اس کی تعمیر کی دیکھ ریکھ میر جازب کے سپرد کردی تھی ۔
دو سو بلین کی لاگت سے بننے ولا “ نین زار پیلس “شاہکار کی صورت میں منظرعام پر آنے والا تھا ۔ میرزوار اسے خاص طور پر نینا کو منہ دکھائی کے تحفے میں دینے کے لئے بنوارہا تھا ۔
کام کچھ دنوں کے لئے روکنا پڑا ۔ اٹلی سے فلور ٹائلز کے کنٹینر پہنچنے والے ہیں ۔ اس کے پہنچتے ہی دوبارہ شروع ہوجائے گا ۔ میں خود بھی سوچ رہا ہوں چکر لگاؤں اگر تمھارا جانا ہوجائے تو تم دیکھ لینا ۔
میں نہیں جا سکوں گا ۔ تم جاؤ اور دیکھو اب جلد ہی کام مکمل ہوجانا چاہئے ۔ بس کچھ دن ہیں اس کے بعد مجھے جلد از جلد شادی کرنی ہے اور زار نین پیلس کے مکمل ہونے سے پہلے یہ ممکن نہیں ہے اس لئے جتنی جلدی ہوسکتا ہے کام ختم کرواؤ ۔
تم فکر مت کرو ، میں شادی سے پہلے فائنل کروادوں گا ۔ اب جلدی آجاؤ میں باہر تمھارا ویٹ کررہا ہوں ۔ میر جازب اسے تسلی دے کر چلاگیا ۔
“””””””””””””””””””
(دو گھنٹے قبل )
گاڑی تک پہنچنے اور اس میں سوار ہونے تک ان کا دماغ اپنے طریقے سے کام کرنا شروع کر چکا تھا ۔ انہیں اس علاقے کی حدود سے نکلنے کا انتظار تھا ، اس کے بعد تو وہ میرزوار کی دھجیاں بکھیردینے کا عزم رکھتے تھے ۔
وہ گاڑی میں بیٹھے پیچ و تاب کھارہے تھے ۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا میرزوار کا قیمہ بنا دیں ۔ نین سے اس کے نکاح کی خبر نے تو میرزوار کے لئے ان کی رگ میں نفرت کا زہر بھر دیا تھا ۔ وہ موقع کی تلاش میں تھے مگر گھر پہنچنے تک خاموشی سے بیٹھے رہنا ان کی مجبوری تھی ۔
میر زوار کے ڈرائیور کی موجودگی میں ان کا خاموش ہی رہنا بہتر تھا ۔ اب گھر پہنچنے تک انہیں صبر کے گھونٹ پی کر گزارا کرنا تھا ۔
انہوں نے ایک نظر تحریم کے ستے ہوئے چہرے پر ڈالی ۔ وہ نینا اور زار کے نکاح کا سوگ منارہی تھی یہ اس کے چہرے پر درج تھا ۔ وہ تار کول کی سڑک کو یک ٹک گھورتے ہوئے مجسمہ معلوم ہورہی تھی ۔
پینٹ کی جیب میں پڑے موبائل فون کی تھرتھراہٹ پر انہوں نے تحریم کے چہرے سے نظر ہٹا کر جیب میں ہاتھ ڈال کر موبائل نکالا اور اسکرین پر موجود نام دیکھ کر منہ میں کڑواہٹ گھلتی چلی گئی ۔
تم نے سوچ بھی کیسے لیا میں تمھیں ایک بھی موقع دوں گا ۔ میں نے تمھاری آنکھوں میں کمینی سوچ کو اسی وقت پڑھ کر سمجھ لیا تھا کہ تم کتے کی تم ہو جو کبھی سیدھی نہیں ہو سکتی ۔
میں مان گیا تمھیں تم ماہر کھلاڑی ہو ۔ موت کو اس قدر نذدیک سے محسوس کرنے کے باوجود بھی تمھاری فطرت نہیں بدلی اس لئے میں نے اپنا فیصلہ بدل لیا ۔
تمھیں گولیوں سے بھوننے پر میرا بدلہ پورا نہیں ہوتا ۔ میرے دل کو چین نہیں ملتا ۔ تمھاری موت بھی میرے ماں باپ کی طرح روڈ ایکسیڈینٹ ہی ثابت ہوگی تبھی مجھے اور میرے باپ کی روح کو قرار ملے گا ۔
میرزوار ! معظم شاہ نے بلبلا کر اسے پکارہ ۔
شاہ صاحب ! مبارک ہو تم موت کی شاہراہ پر قدم رکھ چکے ہو ۔اس نے سرد لہجے میں کہتے ہوئے کال ڈسکنیکٹ کردی ۔
اس کے رابطہ منقطع کرتے ہی ڈرائیور اسکیٹس سمیت دروازہ کھول کر مہارت کے ساتھ چلتی گاڑی سے اتر گیا ۔ وہ حق دق ڈرائیور کو جاتا دیکھ رہے تھے ۔ اس کے گاڑی سے اترتے ہی دیوہیکل ٹرالرزنے ان کی گاڑی کو بیک وقت دونوں سائیڈ سے ہٹ کیا ۔
گاڑی میں معظم شاہ اور تحریم کی بھیانک چیخیں گونج کر خاموش ہوگئیں ۔
“””””””””””””””””
زعیم شاہ کی سماعتوں پر معظم شاہ اور تحریم کے روڈ ایکسیڈینٹ اور دونوں کی اس ایکسیڈینٹ میں موت کی خبر بم بن کر گری تھی ۔ اس کے مضبوط ہاتھ میں موبائل لرز کر رہ گیا ۔
اس کے مضبوط اعصاب ہل کر رہ گئے ۔
موت کی تصدیق کے بعد موبائل اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گرپڑا ۔ وہ دونوں ہاتھوں میں سر تھام کر پھوٹ پھوٹ کر روپڑا ۔
وہ اتنی ہمت مجتمع نہیں کرپارہا تھا کہ جا کر ماں اور چاچی کو یہ اندوہناک خبر دے ۔ یہ خیال ہی اس کی جان نچوڑے لے رہا تھا کہ کیسے وہ اپنے باپ کی موت کی خبر انہیں سنائے گا ۔ دادی کو کیسے سنبھالے گا ۔
بہت دیر تک آنسو بہانے کے بعد وہ بکھرا ہوا سا ڈرائنگ روم سے نکل کر گھر کے اندرونی حصے میں آگیا ۔ رات کافی گزر چکی تھی اس لئے سب اپنے کمروں میں جا چکے تھے ۔
رانیہ اور مکتوم جلدی سوجانے کے عادی تھے مگر عروش جاگتی رہتی تھیں اس لئے وہ بوجھل قدموں سے ان کے کمرے میں آگیا ۔
عروش واش روم کا دروازہ بند کرکے مڑیں تو معظم شاہ کو دیکھ کر چونک گئیں ۔
شاہ ! یہ تمھارے چہرے کو کیا ہوا ؟ رورہے تھے ؟ اروما سے جھگڑا ہوا ہے ؟ انہوں نے بغور اسے دیکھتے ہوئے استفسار کیا ۔
شاہ نے نفی میں گردن ہلادی ۔ باوجود ضبط کے ایک آنسو لڑھک
کر گال پر بہہ نکلا ۔
پھر کیا ہوا ہے ؟ کیوں رورہے ہو ؟ وہ تڑپ کر آگے بڑھیں ۔
آپ وعدہ کریں جب میں آپ کو بتاؤں گا کہ میں کیوں رورہا ہوں تو آپ نہیں روئیں گی ۔ وہ بھاری آواز میں نظریں چراتے ہوئے بولا ۔
ایسی کیا بات ہے ؟ شاہ ! میرا دل مت دہلاؤ۔ عروش خوفذدہ ہوگئیں ۔ زعیم شاہ نے انہیں اپنے گلے سے لگا لیا ۔
اماں ! بابا سائیں اور تحریم ہمیں چھوڑ گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔اسلامآباد پہنچنے کے بعد ان کا ایکسیڈینٹ ہوگیا ۔ زعیم شاہ نے دھیرے سے ٹوٹے پھوٹے لہجے میں کہا ۔
تم جھوٹ بول رہے ہو ۔ ایسا نہیں ہوسکتا ۔ وہ دونوں آج ہی تو یہاں سے گئے ہیں ۔ ہمیں چھوڑ کر کیسے جاسکتے ہیں ۔ عروش پھٹی پھٹی آواز میں بولتے ہوئے اس سے دور ہوگئیں ۔
وہ جا چکے ہیں ۔ آپ کو خود کو اور باقی سب کو سنبھالنا ہوگا ۔ میں انہیں لینے اسلام آباد جارہا ہوں ۔ زعیم شاہ اذیت کو دباتے ہوئے بردباری سے مضبوط لہجے میں گویا تھا ۔ عروش دہاڑے مار کر رونے لگیں ۔
آپ اس طرح روئیں گی تو میں بلکل ٹوٹ جاؤں گا ۔ مجھے آپ کے ساتھ کی ضرورت ہے اس وقت میں بہت اکیلا پڑ گیا ہوں ۔ پوری دنیا کے سامنے ڈھال بن کر مضبوطی سے کھڑا رہنے والا میرا باپ مجھے چھوڑ کر جا چکا ہے ۔ وہ انتہائی کربناک لہجے میں بولتے ہوئے عروش کو سنبھال رہا تھا جو غش کھا کر اس کی بانہوں میں جھول گئیں تھیں ۔
جاری ہے