60.7K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 04

نینا ان دو سالوں میں بہت چینج ہوگئی ہے ۔ اب تو اس کی باتیں پہلے سے بھی ذیادہ دلچسپ ہوگئی ہیں اور وہ خود پہلے سے بھی ذیادہ خوبصورت ۔ میر جازب نے ڈرائیو کرتے ہوئے گاڑی میں پھیلی دبیز خاموشی اور میر زوار کی چپ کو توڑنے کے لئے ذکر چھیڑا ۔ میر زوار آنکھیں موندے فرنٹ سیٹ پر بیٹھا تھا ۔
پتا نہیں ۔ وہ مختصراً بولا ۔ آنکھیں ہنوز بند تھی ۔
آج تمھاری طبیعت سیٹ نہیں لگ رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا بات ہے ، کوئی مسئلہ چل رہا ہے یا موسم کا اثر ہے ؟ میر جازب مبہم سا بولا ۔
میں سیٹ نہیں ہوں ۔ بھاری آواز میں بے دلی سے جواب دیا گیا ۔
کیوں ؟ کیا ہوا ؟ سب خیر تو ہے ۔۔۔۔۔؟ میر جازب اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر فکرمندی سے بولا ۔
دل میں آگ لگی ہے ۔ جب تک نہیں بجھے گی ، ایسے ہی بے سکون رہوں گا ۔ وہ سلگتے لہجے میں بولا ۔
کیسے بجھے گی ۔۔۔۔۔۔؟ میر جازب نے استہفامیہ نظروں سے
بیک مرر میں دیکھا ۔
کسی کے خون سے ۔۔۔۔۔۔میر زوار نے سفاکی سے کہہ کر سگریٹ کا کش لیا ۔ ناک کے نتھنوں سے دھواں چھوڑتے ہوئے اس کے چہرے پر دہشت ناک تاثرات تھے ۔
اس کے جواب پر میر جازب بھونچکا رہ گیا ۔ وہ اپنی جگہ چپ رہ گیا ۔اس میں اگلا سوال پوچھنے کی ہمت نہیں تھی ۔
“””””””””””””””””””
اف ۔۔۔۔اف۔۔۔آج کا دن یادگار رہے گا ۔بہت مزہ آیا۔تحریم آپی بھی ہوتیں تو بہت انجوائے کرتیں ۔ انہوں نے مس کردیا ۔ نینا نے کیو اسٹک سے اسٹرائیک کرتے ہوئے کہا ۔
وہ شام سے میرہاؤس آئی ہوئی تھی اور ڈنر سے فارغ ہونے کے بعد بھی وہ تینوں موج مستی میں مصروف تھے ۔
ایک بات تو بتاؤ ، تمھاری تحریم آپی کے ساتھ مسئلہ کیا ہے ؟ ہر وقت شکل پر بارہ کیوں بجے رہتے ہیں ۔۔۔۔؟ میر جازب سنجیدگی سے بولا ۔
جازب بھائی ! ایسے تو نا بولیں ۔ وہ کچھ موڈی ہیں لیکن جب موڈ میں ہوتی ہیں تو ہمارے ساتھ بہت انجوائے بھی کرتی ہیں ۔ اروما نے فوراً تحریم کی سائیڈ لی ۔
تم تو بس رہنے دو ۔ تم تو کسی کی بھی سائیڈ لیتے وقت مبالغہ آرائی کی حدوں کو چھو لیتی ہو جبکہ میں نے اس لڑکی کو کبھی خوشگوار موڈ میں نہیں دیکھا ۔ کہیں سے بھی نہیں لگتا کہ وہ رانیہ پھپھو کی بیٹی ہے ۔ عجیب سی شکل بنا کر رکھتی ہے ۔ میر جازب نے بولتے ہوئے بیزار سی شکل بنائی ۔
جیزی بلکل ٹھیک کہہ رہا ہے ، کبھی کبھی مجھے بھی ان کے ایٹیٹیوڈ سے الجھن ہونے لگتی ہے مگر ان کی لائف ہے جیسے چاہیں جئیں ۔ ہم تو خوب انجوائے کر کے جئیں گے ۔ نینا نے بھی میر جازب کی تائید کی پھراس کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر مزے سے بولی ۔
جیزی ! اب تم مجھے ڈراپ کردو ۔ نگین آنٹی اور سبطین انکل تو ابھی تک واپس نہیں لوٹے ۔ مجھے اب گھر جانا ہے ، ان سے بعد میں مل لوں گی ۔ نینا گھڑی دیکھتے ہوئے بولی ۔
میر جازب ! وہ لوگ کہاں گئے ہیں ۔۔۔۔۔؟ میر زوار نے اندر قدم رکھتے ہی سوال کیا ۔ وہ تینوں اس کی آواز پر چونک پڑے ۔نینا نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا پھرگیم میں مصروف ہوگئی ۔
وہ لوگ بزنس ڈنر پر گئے ہیں مگر تم کب آئے ؟ میر جازب نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا ۔
بس ابھی ۔ میر نے مختصراً جواب دے کر مصافحہ کیا پھر صوفے پر بیٹھ گیا ۔
بڑی دیر لگادی ، کہاں تھے ؟ میں تو تمھیں مس کر رہا تھا ۔ میر جازب بھی اس کے ساتھ بیٹھ گیا ۔
نینا بی بی آئی ہوئی تھیں ۔ وہ ہماری کپمنی کہاں انجوائے کرتیں اسلئے سوچا کیوں نا آوارہ گردی کرلی جائے ۔میر زوار اس کی کل والی بات کو جتا کر بولا ۔
اٹ مینز ، آپ کے بارے میں جو خبریں گشت کرتی رہتی ہیں ، وہ کچھ کچھ حقیقت پر مبنی ہوتی ہیں ۔ نینا اسٹک چھوڑ کر تیکھے لہجے میں بولی پھر نزاکت سے چلتی ہوئی اس کے سامنے آ بیٹھی ۔
اروما اور میر جازب نے اس کے انداز پر سانس کھینچ لی ۔
اچھا ہمیں بھی پتا چلے ، آپ نے ایسا بھی کیا سن لیا ؟میر زوار نے پیشانی پر ڈال کر استفسار کیا ۔
چھوڑو یار ! اس کی تو اوٹ پٹانگ بولنے کی عادت ہے ۔ تم نے کھانا کھا لیا ہے یا اب کھاؤ گے ؟ میر جازب نے اس کی توجہ ہٹانے کی کوشش کی ۔
زاری بھائی ! آپ نے ڈنر کیا ہو یا نہیں لیکن آپ کو سوپ ضرور پینا پڑے گا ۔ میں نے خود بنایا ہے ۔ اروما بولی ۔
ضرور پیوں گا ، جاؤ تم لے کر آؤ ۔ میر زوار نے اروما کو کام پر لگایا تاکہ نینا سے اچھی طرح نپٹ سکے جبکہ سوپ کی گنجائش ہر گز نہیں بن رہی تھی ۔
تھوڑا ٹائم لگے گا ، آپ کے لئے فریش بنا کر لاتی ہوں ۔ اروما کہہ کر چلی گئی ۔
اب بولیں ، کیا سن رکھا ہے ۔ہمیں بھی بتائیں تاکہ ہمارے بارے میں ہماری معلومات میں بھی اضافہ ہو ۔ میر زوارانگلی کو ہلکا سا کان میں گھماکر زرا سا آگے کی طرف جھک کر بیٹھ گیا ۔
جو سن رکھا ہے اسے چھوڑیں ، آج میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتی ہوں ۔نینا ہچکچاتے ہوئے بولی۔
میر زوارکی بارعب شخصیت کے سامنے نینا جیسی بولڈ،کانفیڈینٹ لڑکی بھی ہچکچاہٹ کا شکار ہورہی تھی ۔
میری سماعت حاضر ہیں۔میر زوار اسی طرح جھکےہوئےگویا ہوا ۔
منسٹر میرزوار علی صاحب ! مانا کہ آپ بہت مشہور و معروف شخصیت ہیں ، اکثر ہی آپ کا نام مختلف اسکینڈلز سے جڑا رہتا ہے ۔
اف ۔۔۔۔۔۔ یہ لڑکی بلکل عقل سے پیدل ہے ۔ ناجانے اس سر پھرے انسان سے کونسا الٹا سیدھا سوال پوچھنے لگی ہے ۔ میرجازب نے گھورکر نینا شاہ کو دیکھا۔
اس کی گھوری کوخاطر میں نا لاتے ہوئےنینا نےاپنی بات جاری رکھی۔
موضوع ہوتا ہے کبھی ناجائز تجاوزات ،کبھی ال لیگل کاروبار تو کبھی منی لانڈرنگ کیسز غرض کہ میڈیا سیل ہمیشہ ہی ہاتھ دھو کر آپ کے پیچھے پڑا رہتا ہے مگر آج جو سوال میں آپ سے پوچھنے جارہی ہوں ، وہ پوچھنے کی جرأت کبھی کسی نے بھی نہیں کی ہوگی ۔ نینا شاہ نے ماحول کو سنسنی خیز بناتے ہوئے پیازی ہونٹوں پر ابھرتی شریر مسکان کو بمشکل دبایا۔
میر زوار کی پیشانی پر لاتعداد شکنیں ابھریں ۔ اس نے اپنے چہرے پر در آنے والی خطرناک سختی کو دلکش مسکراہٹ ہونٹوں پر سجاکر کور کیاپھر بھرپور اعتماد سے ٹانگ پر ٹانگ جماکر بولا ۔
میں ہر طرح کے سوال کے لئے تیار رہتا ہوں ۔ آپ پوچھیں جو بھی پوچھنا چاہتی ہیں ۔ میرا جواب یقیناً آپ کومطمئین کر دے گا ۔اس نے اپنی شاطر نگاہیں نینا شاہ کے چاند چہرے پر مرکوز کیں ۔ وہ ہم تن گوش تھا مگر بظاہر پاؤں کو حرکت دیتے ہوئے خود کو لاپرواہ ظاہر کر رہا تھا ۔
نینا شاہ جیسی بلا کی ذہین لڑکی سے کسی بھی قسم کے غیر متوقع سوال کی امید کی جا سکتی تھی ۔
سر ! میرا سوال یہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ خاموش ہو کر میر زوار کے خطرناک حد تک سنجیدہ تاثرات دیکھ کر محفوظ ہوئی ۔
کہ آپ کا فیورٹ کلر کونسا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ؟ نینا شاہ نے شرارت سے کہہ کر ذبان دانتوں تلے دبائی۔وہ میرزوارکے متوقع کڑے تیوروں سے نظر چرا کر آنکھیں بھی میچ چکی تھی ۔
میر زوارنے دلچسپی سے اس کی دلنشین ادا کو دیکھا ۔میر زوار اور میر جازب کا مشترکہ قہقہہ بے ساختہ تھا ۔
پنک ،شاید آج کے بعد پنک کلر ہی میرا ہاٹ فیورٹ کلر ہوگا ۔ میر زوار دھیرے سے کھنکار کر بولا ۔ نینا شاہ کے ہونٹوں پر مسکان ابھری ۔اس کے مسکرانے سے بائیں رخسار میں پڑنے والا ڈمپل گہرا ہوگیا ۔
میرا خیال ہے ،اب مجھے چلنا چاہئے ۔ اماں ویٹ کر رہی ہونگی ۔ وہ
میر زوار کی بات کا مفہوم سمجھ کر نظر اندازکرگئی اور ایک ادا سے صوفے سے اٹھتے ہوئے بولی ۔
بلیو جینز پر پنک شارٹ ٹاپ میں وہ بلا کی پر کشش لگ رہی تھی ۔ شالڈر کٹ سلکی بال شانوں پر بکھرے ہوئے تھے ۔ہالف سلیوز ٹاپ میں سے دودھیا بازو قیامت خیز نظارہ پیش کر رہے تھے ۔
میرزوار گہری نظروں سے ڈمپل سمیت اس کے حسین سراپے کا جائزہ لے رہا تھا ۔
جیزی ! تم مجھے ڈراپ کردو ۔ ڈرائیور کے ساتھ میں نہیں جاؤنگی ۔ اس نے ناک چڑھائی ۔
میم ! آپ کا خادم حاظر ہے ۔ میر جازب سینے پر ہاتھ رکھتا ہوا کھڑا ہوگیا ۔
تم یہیں بیٹھے رہنا ، میں دس منٹ میں نینا کو ڈراپ کر کے واپس آرہا ہوں ۔ میر جازب بولا۔ میر زوارنے سر کے اشارے سے اسے جانے کے لئے کہا۔
اوہ ۔ سب سے امپارٹنٹ سوال پوچھنا تو میں بھول گئی ۔ نینا نے پلٹ کر سر پر ہاتھ مارا ۔
تو اب پوچھ لیں ۔ میں سوال پوچھنے کے پیسے نہیں لیتا ۔میر زوار نے داڑھی پر ہاتھ پھیر کر اپنی گھنی مونچھوں پر انگلیاں گھمائیں ۔
میں دینے والی بھی نہیں ۔ آپ غریب عوم کو لوٹ سکتے ہیں پر مجھے نہیں ۔ نینا شاہ کھلکھلا کر ہنس پڑی ۔
صرف فیملی میمبرز ہی نہیں ، اب تو پورا پاکستان یہ متجسس ہے کہ آخر آپ کی شادی کا مبارک دن کب آئے گا۔ نینا شاہ نے پھر شرارت کی ۔
میر زوارچند لمحے خاموش نظروں سے اسے دیکھتا رہا پھر صوفے سے اٹھ کر مضبوط قدم اٹھاتا ہوا اس کے مقابل آکر کھڑا ہوگیا ۔
وہ ہو بہو میر سجاول کی پرچھائیں تھا ،اسی کی طرح دلکش مخمور مدہوش کردینے والی آنکھیں ، اسی کے جیسا اونچا مضبوط قد کانٹھ ، اسی کے جیسی دمکتی شہابی رنگت مگر بھرے بھرے خوبصورت ہونٹوں کی دل موہ لینے والی مسکراہٹ میں زرتاج کا عکس نظر آتا تھا ۔جسے وہ بہت ہی کم بہت مخصوص لوگوں کے لئے استعمال کرتا تھا ورنہ تیکھے مغرور
نقوش میں زمانے بھر کی سنجیدگی اور رعونت چھلکتی تھی ۔
اگر آپ راضی ہیں تو آج ہی کرلیتے ہیں ورنہ جب آپ کا موڈ ہو مجھے انفارم کر دیجئیے گا ۔ میں حاضر ہوجاؤں گا ۔ وہ گنبھیر بھاری آواز میں براہِ راست نینا کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولاپھردو قدم کا فاصلہ مٹا کر اس کے بے حد نذدیک آگیا ۔
اس کی مقناطیسی آنکھوں نے نینا پر سحرطاری کردیا تھا ۔ اسے لگا میر زوار نے اسے اپنی نظروں سے پور پور جکڑ لیا ہے ۔
نینا اور جازب دونوں ہی اپنی جگہ حیرت کا بت بنے کھڑے تھے ۔ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد جازب کی آواز نے نینا کا سکتہ توڑا ۔
یار ! کبھی کبھی کرتے ہو مگر بہت اچھا مذاق کرلیتے ہو ۔ جازب نے اس کی کمر دھیرے سے تھپکی ۔
چلیں ، دیر ہورہی ہے ۔ وہ ہنستے ہوئے نینا کی طرف مڑا ۔
ہاں ۔۔۔۔۔۔ وہ میر زوار سے نظریں چرا کر فوراً سے پیشتر پلٹ گئی ۔
میر زوار نےسگریٹ سلگا کر گہرا کش لیااور دھواں فضا میں بکھیر دیا۔
وہ دھوئیں کے مر غولے میں نینا کی پشت کو مسکراتی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ۔ اس کے ہونٹوں پر فاتحانہ مسکراہٹ کھیل رہی تھی ۔وہ نینا کو پزل کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا ۔
درحقیقت اس نے اپنا سیاسی دماغ استعمال کرتے ہوئے ہاتھوں ہاتھ نینا کے مذاق کا بدلہ چکایا تھا ۔
وہ بدلہ لینے میں تھوڑی سی بھی دیر کی تاخیر کرنے کا قائل نہیں تھا ۔یہ عادت اسے اپنے باپ سے وراثت میں ملی تھی ۔
“””””””””””””””””””
شاہ ! کافی دنوں سے میں تم سے ایک بات کرنا چاہ رہی ہوں مگر تم ہو کے فرصت میں ملتے ہی نہیں ۔ عروش نے زعیم شاہ کو اپنے کمرے میں بلوایا تھا ۔
آپ بولیں کیا کہنا چاہتی ہیں ۔ اس وقت میں بلکل سننے کے موڈ میں ہوں بلکہ میں خود آپ سے ایک ضروری بات کرنا چاہتا تھا ۔زعیم صوفے پر بیٹھ کر سنجیدگی سے بولا ۔
چلو پھر پہلے تم بتاؤ ۔ عروش پاؤں سمیٹ کر بیڈ پر بیٹھ گئیں ۔
اب نہیں ۔ پہلے آپ اپنی بات کرلیں پھر میں بتاتا ہوں ۔
شاہ ! رانیہ کافی عرصے سے مجھے ڈھکے چھپے لفظوں میں کہہ چکی ہے کہ میں تم سے تحریم کے لئے بات کروں ۔ عروش نے تہمید باندھی ۔
تحریم کے لئے مجھ سے کیا بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔؟ زعیم ناگوار حیرت سے بولا ۔
میرا مطلب ہے کہ رانیہ اور مکتوم تمھاری اور تحریم کی شادی کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ عروش اس کے بگڑے تیور دیکھ کر ساری بات ان دونوں پر ڈال گئی ۔
ان کا دماغ خراب ہوگیا ہے ، وہ ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں ۔زعیم بگڑ کر انتہائی غصے میں بولا ۔
یہ کوئی اتنی معیوب بات بھی نہیں ہے جو تم اتنا ری ایکٹ کر رہے ہو ۔ تحریم گھر کی بچی ہے ۔ اس کا پہلا حق بنتا ہے ۔عروش ناگواری سے بولیں ۔
مگر میں ایسا نہیں چاہتا ۔ میں نے کبھی تحریم کو اپنی سگی بہنوں سے کم نہیں سمجھا ۔ میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا اور بہتر ہوگا آپ بھی دوبارہ اس موضوع پر بات نہیں کریں گی ۔ وہ دوٹوک لہجے میں کہہ کر اٹھ گیا ۔
مگر میری بات تو سنو ۔۔۔۔
مجھے اس بارے میں کچھ بھی نہیں سننا ۔ وہ خفگی سے بولا ۔
شاہ ! رانیہ اور مکتوم کو بہت برا لگے گا ۔ وہ اس رشتے کے بہت خواہش مند ہیں ۔ ان کا مان ٹوٹ جائے گا ۔
تحریم اچھی لڑکی ہے ۔ خوبصورت ہے ۔ ویل ایجوکیٹڈ ہے پھر تمھیں کیا اعتراض ہے ۔۔۔۔۔؟
اماں ! میں اس میں انٹریسٹڈ نہیں ہوں ، کیایہ جواز کافی نہیں ہے ؟ وہ زچ ہوکر بولا ۔
یہ جواز کافی نہیں ہے ۔ شادی کے بعد انٹریسٹ بھی ہوجائے گا ۔ تم ایک بار سوچو تو سہی ۔ عروش رسان سے بولیں ۔
میں اس بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتا اور آپ شادی کی بات کررہی ہیں ۔ وہ متعجب ہوا ۔
تم بتاؤ ، تمھیں کیا بات کرنی تھی ۔۔۔۔۔؟ بالآخر عروش نے مجبوراً ٹاپک چینج کیا ۔
اب موڈ نہیں ہے ، پھر کبھی سہی ۔ وہ بے دل ہو کر روم سے نکل آیا ۔
“””””””””””””””””””
جیزی ! میں بابا سائیں کے ساتھ اسلام آباد جارہی ہوں ۔ تم بھی آجاؤ ۔ ہم مل کر انجوائے کریں گے ۔ مونیو منٹ جائیں گے دامنِ کوہ جائیں گے پھر زبردست سا ڈنر کریں گے ۔ نینا نے نان اسٹا پ بولتے ہوئے اسے پورے دن کے پروگرام سے آگاہ کیا ۔
وہ جو دبیز بستر میں محو خواب تھا ، پہلے تو علی الصبح اس کی کال پک کرنے پر پچھتایا پھر حیرت سے منہ کھولے اس کی تواتر سے چلتی ہوئی زبان پر لب بستہ اپنی جھنجھلاہٹ پر کنٹرول کرنے لگا۔
جازب ! خاموش کیوں ہو کچھ تو بولو ۔ پھر میں اسلام آبادجاؤں،
تم آرہے ہو ناں ۔۔۔۔۔۔۔؟
تم بولنے کا موقع دوگی تو میں بولوں گا نا ۔ یار ! میں بھی ملازم بندہ ہوں ۔ ایسے ہی تو اٹھ کر نہیں جا سکتا۔پروگرام سیٹ کرنے سے پہلے مجھ سے پوچھ تو لیتی ۔ میر جازب نے دبے لفظوں میں خفگی کا اظہار کیا ۔
اوہ تمھیں برا لگا ۔ اٹس اوکے ۔ میں اکیلے ہی گھوم لوں گی ۔بابا سائیں نے تو پورا دن بزی رہنا ہے ۔ وہ ادسی سے گویا ہوئی ۔
اب ذیادہ ایکٹنگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ میں اپنے پی ۔ اے سے بات کرلوں پھر تمھیں کنفرم کرتا ہوں لیکن آئندہ کے لئے پلیز ! کوئی بھی پروگرام بنانے سے پہلے ایک بار مجھ غریب سے بھی مشورہ ضرورکرلینا ۔ وہ چباتے ہوئے مظلومیت سے بولا۔
مشورہ ہی تو کرہی تھی ۔ وہ منہ بنا کر بولی ۔
میڈم ! آپ مجھے انفارم کر رہیں تھیں ۔ اب فون بند کرو ۔ وہ برجستہ بولا ۔ نینا کھل کھلا کر ہنس پڑی ۔
میر جازب نے مسکراتے ہوئے کچھ ضروری ہدایات دینے کے لئے اپنے پی ۔ اے کو کال ملائی ۔وہ نینا کو کسی بھی صورت میں مایوس نہیں کرسکتا تھا ۔
جاری ہے