Rate this Novel
Episode 23
(چند ماہ قبل )
وہ اسکائے بلیو کلر کے شلوار سوٹ پر بیس ہزار ڈالر مالیت کی بلیک جیکٹ پہنے ترو تازہ نکھرا نکھرسا شیشے کے سامنے کھڑا تنقیدی نظروں سے اپنا جائزہ لیتے ہوئے رسٹ واچ کا لاک بند کررہا تھا ۔
خلافِ معمول صبح سویرے اٹھنے کے باوجود بھی سرشاری روم روم سے جھلک رہی تھی ۔وہ نینا سے خوشگوار ملاقات کے بعد گاؤں کے لئے نکلا تھا اور رات گئے حویلی پہنچا۔
پوری رات جس حساب سے ڈرنک کی تھی اس کے بعد صبح سویرے بیدار ہونا اس کے لئے خاصا مشکل ہوتا تھا مگر وہ خاص طور پر رانیہ بیگم کے بلاوے پر گاؤں آیا تھا اس لئے آنکھ کھلتے ہی نیند کو خیرباد کئے بستر سے نکل آیا ۔
میر سائیں ! ناشتہ لگوادیا ہے ۔ آپ جلدی آجائیں پھر کچھ دیر میں ملاقات کے لئے مہمانوں نے آجانا ہے ۔ ساجد کمرے میں داخل ہونے کے بعد ہاتھ باندھے موؤدبانہ کھڑا ہوگیا ۔
ساجد سائیں ! اچھا ہوا تم آگئے ۔ میں تمھیں ہی یاد کررہا تھا ۔ آج تمھیں زبردست سےلنچ کا انتظام کروانا ہے کیونکہ پھپھو سائیں لنچ میرے ساتھ کریں گی ۔
تم کسی کام سے مت نکل جانا ۔ یہیں موجود رہنا ۔ اس نے حکمیہ کہتے ہوئے تاکید کی ۔
جی سائیں اور کوئی حکم ؟ ساجد نے جانچتی نظروں سے اس کا جائزہ لیا ۔
یار ! ایک کام کرو ۔ آج کسی سے ملاقات نا رکھو سب کو ویٹنگ میں رکھنا ۔ میرا کسی سے ملنے کا موڈ نہیں ہے ۔ وہ مسلسل آئینے پر نظر جمائے گھنی دلکش مونچھوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے خاصے بے زار کن لہجے میں بولا ۔
میں آج پورا دن پھپھو سائیں کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں ۔ میر زوار نے پرفیوم اسپرے کرنے کے بعد سگریٹ سلگائی ۔
سائیں ! کوئی خاص بات ہے ؟ ماشاءاللہ آج بہت خوش نظر آرہے ہیں ۔ ساجد بے اختیار پوچھ بیٹھا ۔ میر زوار کا قہقہہ برجستہ تھا ۔
بہت خوش ہوں ۔ ساجد ! میں نے سوچا ہے آج لگے ہاتھوں پھپھوسے مرشد سائیں کے رشتے کی بات بھی کرلوں ۔وہ گھر جاکر آج ہی کی تاریخ میں گراؤنڈ بنا لیں گی پھر بابا سائیں اور تائی اماں کو بھی بلوا لوں گا تاکہ وہ پرپوزل لے کر شیرازی ولا جائیں ۔
سنان والا معاملہ ٹھنڈا پڑگیا ہے ۔چری چھوکری کو بہت ستا لیا ۔ حساب برابر ہوا اب اس کی سزا ختم کردیتے ہیں ۔ وہ دلکشی سے مسکراتے ہوئے تصور میں نینا کو منہ پھلائے دیکھ کر مسکرایا ۔
سائیں کی خیر ہو ۔ ساجد خوشدلی سے بولا ۔
“”””””””””””””””
میرسائیں کہاں ہیں ؟ رانیہ نے بڑی سی چادر اتار کر ملازمہ کو تھمائی اور کرینے سے دوپٹہ سر پر جماتے ہوئے استفسار کیا ۔
وہ اوپر اپنے کمرے میں ہیں ۔ بلا کر لاؤں ؟ ملازمہ نے جواب دیتے ہوئے اجازت طلب کی ۔
تم رہنے دو ۔ میں خود ہی چلی جاتی ہوں اور دیکھنا جب تک ہم روم میں رہیں کوئی بھی اوپر نہیں آنا چاہئے ۔ رانیہ حکمیہ کہتے ہوئے آگے بڑھ گئیں ۔
وہ میر کے روم میں داخل ہوئیں تو میر زوار انہیں دیکھتے ہی صوفے سے اٹھا اور دونوں بازو پھیلائے ان کی جانب بڑھا ۔
اسلام و علیکم ! کیسی ہیں ؟ میر زوار نے ان سے گلے مل کر پوچھا ۔
الحمداللہ ! اللہ کا کرم ہے ، تم کیسے ہو ؟ کہاں رہتے ہو ؟ پھپھو کا بھی خیال نہیں آتا کہ کبھی بھولے سے ان کے گھر چکر لگالو ۔
مصروفیات اتنی بڑھ گئی ہیں کہ ہر بار صرف سوچ کر رہ جاتا ہوں ۔ خیر اگلی بار آؤنگا تو سب سے پہلے حویلی آؤں گا بس آپ خفا مت ہوں ۔
خفا نہیں ہوں ،کبھی کبھار بہت یاد آتی ہے تو تمھارے لئے دل اداس ہوجاتا ہے پھر یہ سوچ کر خود کو بہلا لیتی ہوں کہ تمھاری جان کو اور بھی بہت جھمیلے ہیں ۔ رانیہ محبت سے بولیں ۔
میر سائیں ! آج میں تمھارےپاس بہت خاص کام سے آئی ہوں ۔
رانیہ جھجکتے ہوئے بولیں ۔
جی پھپھو ! آپ حکم کریں ۔ وہ سینے پر ہاتھ رکھ کر سنجیدگی سے بولا ۔
میں جو تم سے کہنے جارہی ہوں ہوسکتا ہے تمھارے لئے ایسا کرنا مشکل ہو مگر ناممکن نہیں ہے اور مجھے یقین ہے تم اپنی پھپھو کا مان کبھی نہیں توڑو گے ۔ رانیہ نے تہمید باندھی ۔
میرزوار اپنی جان دے سکتا ہے مگر اپنی پھپھو سائیں کا مان نہیں توڑ سکتا ۔ اس نے متانت سے کہا ۔
میر سائیں ! مجھے تم پر پورا یقین ہے ۔ تم میر سجاول کی اولاد ہو ان سے مختلف نہیں ہوسکتے ۔ رانیہ کی آنکھیں جھلملانے لگیں ۔
میر سائیں ! تم میری تحریم کا ہاتھ تھام لو ۔ میں اس کے لئے بہت پریشان ہوں ۔ وہ خاندان کی لڑکیوں میں سب سے بڑی ہے مگر اب تک اس کی شادی کا معاملہ نہیں بیٹھ سکا ۔ ہر رشتے سے انکار ، ہر لڑکے میں نقص نکالتی ہے ۔ وہ بے وقوف ہے مگر میں تو عقل رکھتی ہوں ۔
اس کی عمرنکل جائے گی پھراس کےجوڑ کارشتہ ملنامشکل ہوجائے گا۔ وہ تمھارے پرپوزل کے لئے انکار نہیں کر سکے گی کیونکہ اسے میرے میر سائیں کے لئے انکار کرنے کی وجہ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی ۔
تم دونوں چھوٹے سے تھے تب سے یہ بات میرے دل میں تھی مگر میں زبان پر کبھی نہیں لائی صرف تمھاری وجہ سے کیونکہ بڑے ہونے کے بعد بچوں کے دل دماغ کہاں ٹہر جائیں کچھ پتہ نہیں ہوتا مگر آج اس لئے کہہ رہی ہوں کیونکہ میں جانتی ہوں تمھاری دلچسپی کہیں اور نہیں ہے ۔ رانیہ سادگی سے کہتے ہوئے میرزوار کے دل کی دنیا کو زیر و زبر کرگئیں ۔ وہ گم سم سی کیفیت میں انہیں دیکھے جارہا تھا ۔
کیا تم کہیں کمیٹڈ ہو ؟ رانیہ نے اس کے دھواں دھواں ہوتے چہرے کو دیکھ کر آہستگی سے پوچھا ۔
نن ، نہیں ! وہ یکدم چونک کر اٹکتے ہوئے بولا ۔
تمھیں اس رشتے پر کوئی اعتراض تو نہیں ہے ؟ وہ بے صبری سے پوچھ رہی تھیں ۔
پھپھو سائیں ! مجھے سوچنے کے لئے کچھ وقت درکار ہے ۔ میں پوری کوشش کروں گا آپ کا مان نا ٹوٹے ۔ وہ سنبھل کر خود کو کمپوز کرتے ہوئے ان کا ہاتھ لبوں سے لگا کر بشاشت سے بولا ۔
جیتے رہو ۔ سوچ لو پھر مجھے بتادینا ۔ میں بے صبری سے انتظار کروں گی مگر اسے میرا حکم سمجھو یا گزارش خاندان میں کسی سے بھی اس بات کا ذکر مت کرنا ، انکار کی صورت میں بھی نہیں کیونکہ ایسا کرنے سے میری تحریم کے دل کو ٹھیس پہنچے گی ۔رانیہ اسے پابند کرتے ہوئے اپنی فکرات اس کے دامن میں ڈال کر پر سکون ہوگئیں ۔
میرزوار نے ان کے ساتھ بے حد خوشگوار موڈ میں لنچ کیا پھر شام تک وہ اس کے ساتھ رہیں ۔ ڈنر کے بعد وہ انہیں خود شیرازی ولا چھوڑ آیا ۔
میر زوار شیرازی ولا سے واپس اپنے کمرے میں پہنچ کر بے حال سا ہوکر صوفے پر گرنے کے انداز میں ڈھے گیا ۔ پورا دن کس کشمکش میں گزرا تھا یہ وہی جانتا تھا ۔
وہ رات بھر سگریٹ پر سگریٹ پھونکتا رہا ۔ صبح صادق سے پہلے اپنے دل کی آواز کو دبا کر نتیجے پر پہنچ چکا تھا ۔ اس نے اپنی پہلی اور آخری محبت کو عزیز از جان رشتے کا مان رکھنے کے لئے قربان کردیا ۔
نینا اس کے دل پر حکمرانی کررہی تھی مگر وہ رانیہ کے احسانات کیسے بھول جاتا جو اس کی ذندگی کے تنہا سفر میں ہر موڑ پر گھنے سایا دار درخت کی چھاؤں بنی رہیں ۔
اپنی محبت کی بقاء کے لئے سنان شاہ کو قتل کروانے والا سنگدل میرزوار اپنے عزیز رشتوں کے لئے دل میں انتہائی نرم گوشہ رکھتا تھا ۔
اس نے بڑے حوصلے کے ساتھ قسمت کےاس فیصلے سے سمجھوتا کرلیا تھا کہ اس کے دل کی دنیا کو ویران ہی رہنا ہے ۔والدین سے بچھڑنے کے بعدنینا اس کی ذندگی میں روشنی کی کرن بن کر شامل ہوئی تھی مگر ایک بار پھرذندگی اس کے لئے بند گلی کے گھور اندھیرے ڈھونڈ لائی تھی ۔
اس نے آنکھوں میں نمی لئے تلخ مسکراہٹ کے ساتھ تحریم سے شادی کا فیصلہ کیا تھا ۔ ماں باپ کے گزر جانے کے بعد جس ہستی نے اس کی شخصیت کو توڑ پھوڑ سے بچایا تھا وہ انہیں کسی صورت مایوس نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
وہ صوفے کی پشت سے سر ٹکائے ہاتھوں کی لکیروں کو بغور دیکھ رہا تھا ۔ آنکھوں سے نمکین پانیوں کے قطرے بہہ کر شیو میں گم ہونے لگے ۔
دنیا بھر سے ٹکر لینے والا میرزوار خونی رشتے کے سامنے خاموشی سے گھٹنے ٹیک گیا ۔
“”””””””””””””””””””
(حال )
اروما نے تو بڑی حویلی پہنچتے ہی شدید سر درد کا بہانہ بنا کر اپنے روم کا رخ کیا ۔ میر حنین کی بیگم تانیہ اور ان کی بیٹی ماہین ہی بے خبری کے سبب دروازہ رکائی اور دیگر رسموں میں پیش پیش رہیں کیونکہ میر حنین شادی سے دو روز قبل ہی ان کے ساتھ پاکستان پہنچے تھے ۔
رسموں سے فارغ ہونے کے بعد ان سب کو اسے میرزوار کے بیڈروم میں چھوڑ کر گئے گھنٹہ گزر چکا تھا مگر اب تک میر زوار کی آمد کے آثار دور دور تک نظر نہیں آرہے تھے ۔
تحریم کا پارہ دھیرے دھیرے ہائی ہونے لگا ۔ ویسے تو میرزوار کا روم آرائشوں سے لیس تھا مگر حجلائے عروسی کہلانے میں ناکام ہورہا تھا ۔ سینٹر ٹیبل پر سوائے بڑے سے فلاور بکیٹ کے علاوہ ایک پھول کی پتی بھی موجود نہیں تھی ۔
تحریم کو میر زوار کی بے توجہی پر رہ رہ کر غصہ آنے لگا مگر پھر اسے میر اور نینا کے دلوں پر گزرنے والی قیامت کا خیال آیا تو قدرے پرسکون ہوکر بیڈ سے نیچے اتر آئی ۔
وہ آئینے کے سامنے کھڑی اپنے دلکش سراپے کو مختلف زاویوں سے دیکھ کر خوش ہورہی تھی ۔ وقت گزاری کے لئے کچھ تو کرنا تھا سو پورے کمرے میں گھوم کر میرزوار کے استعمال میں آنے والی ہر ایک شے کا جائزہ لینے لگی ۔
رات اپنے آخری مراحل میں داخل ہوئی تو اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ۔
وہ پیچ و تاب کھاتی یہاں سے وہاں ٹہلنے لگی پھر تھک ہار کر واپس بیڈ پر آ بیٹھی پھر ناجانے کب بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بے خبر سوگئی ۔
کھٹکے کی آواز پر اس کی آنکھ کھلی۔ اس کی نظر سیدھی دیوار پر موجود گھڑی پر گئی ۔ گھڑی کی سوئیاں صبح کے دس بجا رہی تھیں ۔ تحریم کو میر زوار کی بے حسی پر جی بھر کر رونا آیا ۔
میر زوار بھرپور تیاری کے ساتھ ڈریسنگ روم سے نکلا ۔ اس پر اچٹتی ہوئی نظر ڈال کر دروازے کی جانب بڑھ گیا ۔
میر زوار ! وہ سرعت سے بیڈ سے اتری اور شرارہ سنبھالتی گرتی پڑتی اس تک پہنچی ۔ میر زوار اس کی پکار پر ٹہر گیا تھا ۔
میں رات بھر آپ کا انتظار کرتی رہی ۔ آپ کہاں رہ گئے تھے ؟ وہ بمشکل اپنے لہجے کو نارمل رکھتے ہوئے نرمی سے بولی ۔
معظم شاہ نے نکاح نامے میں حویلی کے ساتھ یہ تو نہیں لکھوایا تھا کہ میرزوار بھی حویلی میں موجود رہے گا ۔ وہ سنجیدگی سے کہتے ہوئے پلٹا ۔ تحریم اس کے سپاٹ لہجے پر بھونچکی رہ گئی ۔
میں نے یا میرے ڈیڈ نے تو ان سے ایسا کرنے کے لئے نہیں کہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔انہوں اپنی مرضی سے حق مہر لکھوایا تھا ۔ ہماری شادی کی پہلی رات تھی اور پہلی رات ہی آپ نے مجھے کسی اور کی غلطی کی سزا دے دی ۔ وہ بولتے ہوئے روہانسی ہوگئی ۔
انتظار کرتے کرتے تمھاری ذندگی کی آخری رات ہوجائے گی تب بھی تمھارے پاس نہیں آؤں گا ۔ اس نے تمھاری خوشیوں سے ذیادہ اہم حویلی کی اہمیت کو گردانہ ہے ۔
حویلی تمھارے نام ٹرانسفر ہوجائے گی ۔اب جاکر اسے کہہ دینا حویلی مجھے مل گئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔حویلی والا کبھی نہیں مل سکے گا ۔ وہ اکھڑ پن سے کہتا ہواتحریم کو بت بنا گیا ۔
تحریم بی بی ! حویلی کے ساتھ شادی مبارک ہو ۔ وہ دھیرے سے اس کا گال تھپتھپا کر چلا گیا ۔
“””””””””””””””””
جیزی بھائی ! آپ اور زاری بھائی ارحان بھائی سے چند سال ہی بڑے ہیں مگر پھر بھی دادا سائیں کے برابر لگتے ہیں ۔ وہ اسٹا ئل سے ایک ہاتھ کمر پر رکھے دوسرے ہاتھ کو دروازے کے لاک پر جمائے کھڑی انگریزی لب و لہجے میں اردو بولنے کی بھرپور کوشش کررہی تھی ۔
امریکہ میں رہنے کے باوجود تانیہ اور میر حنین کی کوشش رہی تھی کہ گھر میں اردو یا مادری زبان میں گفتگو کی جائے پھر بھی حفصہ کہیں نا کہیں اٹک جاتی تھی مگر میر ارحان کو دونوں زبانوں پر عبور حاصل تھا ۔
وہ کیوں ؟ میر جازب نے آئینے میں اس کے عکس کو استفہامیہ نظروں سے دیکھا ۔
آپ دونوں ہر وقت جو اتنے اکڑے رہتے ہیں ۔ دادا سائیں سے بھی بڑے لگتے ہیں ۔ بس ان کی طرح آپ دونوں کی مونچھیں بہت بڑی بڑی نہیں ہیں ۔ وہ شرارت سے کہہ کر کھلکھلائی ۔
تم بھی تو فرسٹ ائیر کی اسٹوڈنٹ ہو مگر دوسال کی چھوٹی بے بی بنی رہتی ہو بس تمھارے ہاتھ میں لولی پاپ نہیں ہوتا ۔ میر جازب اسی کے انداز میں ترکی بہ ترکی بولا ۔
اف ! آپ تو لڑکیوں کی طرح تیار ہونے میں ٹائم لے رہے ہیں ۔مجھے دیکھیں لڑکوں کی طرح دو منٹ میں تیار ہوجاتی ہوں ۔ وہ میر جازب کے برجستہ جواب کو منہ چڑا کر اگنور کرگئی ۔
پرل گولڈن اسٹائیلش میکسی میں اس کا چہرہ میک اپ سے عاری تھا ۔ تانیہ نے اسے لائیٹ سی لپ اسٹک اور لائینر لگانے کی اجازت دی تھی ۔ میر جازب نے ڈول سے مشابہت رکھتی اپنی چھوٹی سی کزن پر تفصیلی نظر ڈالنے کے بعد فقط مسکرانے پر اکتفا کیا ۔
چلیں ناں ! سب ہوٹل پہنچ چکے ہونگے ۔ بس ہم ہی رہ گئے ہیں ۔ مجھے تو لگتا ہے جب ہم پہنچیں گے زاری بھائی کا رسیپشن تمام ہو چکا ہوگا ۔ اس نے کوفت سے منہ بگاڑا ۔
تم بھی سب کے ساتھ چلی جاتی ۔ تمھیں کسی نے روکا تھا ؟ جب سے پاکستان آئی ہو میرے ہی سر پر سوار ہو ۔ میر جازب نے اسے چڑاتے ہوئے مزید تنگ کرنے کی نیت سے اطمینان سے صوفے پر بیٹھ کر سگریٹ سلگائی ۔
سوار ہوں اور اسی طرح سوار رہتے ہوئے ایک منٹ بھی اور لیٹ نہیں کرنے دونگی ۔ ایک تو میں کب سے یہاں آپ کے لئے کھڑی ہوں اور آپ مزے سے اسموکنگ کرنے بیٹھ گئے ۔ وہ جارحانہ تیور لئے لپکی اور میر جازب کی انگلیوں سے جلتی ہوئی سگریٹ چھین کر ایش ٹرے میں مسل دی ۔ میر جازب اسے کھاجانے والی نظروں سے گھورتے ہوئے اٹھ گیا ۔
“””””””””””””””””
کراچی کے فائیو اسٹار ہوٹل میں ولیمے کی تقریب عروج پر تھی مگر یوں لگ رہا تھا جیسے یہ تقریب صرف خانہ پوری کے لئے منعقد کی گئی ہے کیونکہ اس تقریب کی سب سے عجیب و غریب بات یہ تھی کہ ولیمہ سیرمنی سے دولہا ہی غائب تھا ۔
منسٹر میر زوار صاحب ضروری کام کا بہانہ بنا کر صبح کی پہلی فلائیٹ سے بیرونِ ملک روانہ ہوچکے تھے ۔
شیرازی فیملی ایک دوسرے سے منہ چھپائے پھر رہی تھی مگر حق مہر کے وقت معظم شاہ کی حرکت کے باعث کسی میں بھی میر سبطین یا ان کی فیملی سے بازپرس کرنے کی ہمت نہیں تھی ۔
تحریم دلہناپے کے روپ میں کڑے تیور لئے بیٹھی تھی ۔ رانیہ مہمانوں سے ملتی ملاتی اس کے پاس آگئیں ۔
کیسی ہو میری جان ؟ رانیہ اس کی ٹھوڑی کو دھیرے سے چھو کر اپنے ساتھ لگایا ۔
آپ لوگوں کو میری پرواہ ہے ؟ وہ تنک کر بولی ۔
کیوں کیا ہوا ؟ رانیہ نے نظریں چرائیں ۔
اتنی انجان نہیں ہیں جتنا بن رہی ہیں ، شاہ صاحب نے میری ذندگی میں زہر گھول دیا ہے ۔ وہ دانت بھینچے پھنکاری ۔
تحریم ! کیا ہوگیا ہے ۔۔۔۔۔۔وہ بڑے ہیں ، تم اتنی بدتمیزی سے ان کا ذکر کروگی ؟ ہم سب مان رہے ہیں کہ انہوں نے حد کردی مگر میں پھر بھی تمھیں اس بات کی اجازت نہیں دوں گی کہ تم لمٹس کراس کرو ۔ رانیہ برہمی سے گویا تھیں ۔
ان کی وجہ سے آپ کا لاڈلا بھتیجا میرے منہ پر طماچہ لگا گیا ہے اور آپ مجھے لمٹس سمجھا رہی ہیں ۔ آپ نے ایسی کوئی دلہن دیکھی ہے جس کے دولہے نے اپنے ہی ولیمے کا بائیکاٹ کردیا ہو ۔ اس نے بھرائی ہوئی آواز میں شکوہ کیا ۔
تم دل چھوٹا مت کرو ، وہ گرم دماغ کا انسان ہے ۔ ابھی غصے میں ہے جب غصہ اترے گا تو واپس آجائے گا ۔ اس کا دل بہت نرم ہے ، ذیادہ دیر تک خفا نہیں رہتا ۔ رانیہ نے اس کا ہاتھ تھپک کر تسلی دی ۔
جاری ہے
