Rate this Novel
Episode 34
تمھارے ساتھ مسئلہ کیا ہے ؟ کیوں اتنا اکڑ رہی ہو ؟ جو دشمنی سالوں پہلے ختم ہوچکی ہے تم کیوں اس کی نئی شروعات کروانا چاہتی ہو ؟
میرے اور تمھارے رشتے کےمتعلق جان کر تمھارا بھائی برداشت نہیں کرسکے گا اور میں اگر شیرازی ہاؤس پہنچ گیا تو تمھیں اپنے ساتھ لئے بغیر میری لاش ہی واپس آئے گی ۔ میری ذندگی کی صورت میں تم میرے ساتھ آؤگی ۔
میرے وہاں پہنچ کر سچائی بتانے کے بعد ہم میں سے کوئی ایک ہی ذندہ رہ پائے گا ۔ اب فیصلہ تمھارے ہاتھ میں ہے ، تمھیں اپنے بھائی کی عزت اور جان پیاری ہے یا پھر اپنے شوہر کی سلامتی ؟
وہ گیند اس کے کورٹ میں اچھالنے کے بعد اطمینان سے سگریٹ سلگا کر اس کے جواب کا منتظر تھا ۔
اس نے بے یقینی سے میرزوار کی طرف دیکھا ۔ وہ اس کی بے رحمانہ دھمکی پر اپنا چکراتا سر تھام کر بری طرح لڑکھڑاگئی ۔ وہ آنکھوں میں خفگی کا تاثرلئے اس کے وجیہہ چہرے کو یک ٹک گھور رہی تھی ۔
میرزوار سگریٹ پھینک کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا اس تک پہنچا اور اسے شانوں سے تھام کر اپنے مضبوط بازؤوں کا سہارا دیا ۔
نیناکی ذندگی موج مستی کرتے ، ہنستے کھیلتےگزری تھی ۔اس نے گزرے ایک سال میں جن اعصاب شکن حالات سے مقابلہ کیا تھا انہوں نے اس کے گلاب چہرے کی شگفتگی چھین لی تھی ۔
میرزوار کو یکایک تاسف نے گھیر لیا۔ اس نے نینا کے رخسار کو نرمی سے چھوا ۔
تم ٹھیک ہو ۔۔۔؟ اس کے لہجے میں تشویش تھی ۔
میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی ۔ آپ ہمیشہ مجھے ڈرا دھمکا کر اپنی منوالیتے ہیں اور میں آج بھی حق پر ہونے کے باوجود سر جھکا دوں گی کیونکہ میں جانتی ہوں کہ آپ اتنے سفاک ہیں میرے بھائی کی جان لینے سے بھی دریغ نہیں کریں گے ، میں نے ابھی ابھی اپنے باپ کو کھودیا ہے مگر بھائی کو کھونے کی سکت مجھ میں نہیں ہے ۔
آپ ہمیشہ کی طرح آج بھی جیت گئے مگر یہ یاد رکھنا طاقت کے بل پر جسم حاصل کیا جا سکتا ہے میرے دل تک رسائی حاصل نہیں کر سکیں گے کیونکہ آپ میرے دل سے اتر چکے ہیں ۔
آپ نے مجھے وہ زخم دیا ہے جو ذندگی بھر رستا رہے گا اور مجھے آپ کی بے وفائی اور ظالم فطرت کا احساس دلاتا رہے گا ۔
ہمارا رشتہ اسی دن زنگ کھاگیا تھا جس دن آپ ہمارے درمیان تحریم آپی کو لے آئے تھے ۔ آپ نے انہیں مجھ پر فوقیت دی ۔
وہ شکست خوردہ لہجے میں گویا تھی ۔
تمھاری سوئی بار بار یہاں آکر کیوں اٹک جاتی ہے ؟ کتنی بار سمجھاؤں تحریم کامیری ذندگی میں کوئی عمل دخل نہیں تھا اور کبھی ہو بھی نہیں سکتا ۔ وہ اسے بازؤں کے تنگ گھیرے میں لئے بیڈ پر لے آیا ۔ اسے بیڈ پر بٹھا کر خود فلور پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا ۔
آپ انہیں ہمارے درمیان لائے ہیں ، آپ اس سچائی کو جھٹلا نہیں سکتے کہ وہ بھی میری طرح آپ کی ذندگی میں برابر کی حقدار ہیں ۔ ایک لڑکی سب کچھ برداشت کرسکتی ہے مگر شراکت نہیں سہہ سکتی ۔ اپنی انا کی تسکین کے لئے آپ نے مجھے اس اذیت ناک تکلیف سے گزارا ہے ۔ کوئی مرد ارینج میرج میں بھی اپنی بیوی کو اس اذیت سے دوچار نہیں کرتا ، آپ تو محبت کے دعوے دار تھے پھر بھی میرا حق مجھ سے چھین کر کسی اور کی جھولی میں ڈال دیا ۔ اس کے سسکنے پر میرزوار اپنے بالوں کو مٹھیوں میں سمیٹ کر گہری سانس خارج کی ۔
مجھے اپنی انا کی تسکین کے لئے ایسے اوچھے ہتھکنڈوں کو اپنا نے کی ضرورت نہیں تھی ۔ میرا ضمیر اتنا مردہ نہیں ہے کہ میں جان بوجھ کر تین ذندگیاں خراب کرتا اورمجھے اپنے پیار پر اتنا بھروسا تھا کہ میں نے سوچا تھا کم از کم تمھیں یقین دلانے کے لئے مجھے خود کو جسٹیفائی نہیں کرنا پڑیگا مگر افسوس میری سوچ غلط ثابت ہوگئی ۔
میرے لئے تم سے خاص کوئی نہیں ہے مگر تمھاری بدگمانی دور کرنے کے لئے مجھے اپنے اصول توڑنا پڑرہے ہیں وگرنہ میں رانیہ پھپھو کا اعتماد توڑنے کی گستاخی کبھی نہیں کرتا ۔
تحریم کا پرپوزل لے کر وہ خود میرے پاس چل کر آئی تھیں ۔ جن ہاتھوں نے مجھے سمیٹا تھا ، میں ان ہاتھوں کو کیسے خالی رہنا دیتا ۔ ان کا مان ٹوٹ جاتا تو میں کبھی خود سے نظریں نہیں ملاپاتا ۔ اس نے ناچار پوری بات اس کے گوش گزار دی ۔
آپ بہت برے ہیں ۔۔۔۔۔۔آپ مجھے اعتماد میں بھی تو لے سکتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ضروری تھا مجھے لاعلم رکھ کر میری بے بسی سے لطف اندوز ہونا ۔ وہ سچائی جاننے کے بعد ہچکچاتے ہوئے روٹھے ہوئے لہجے میں بولی ۔
ایک بات تو میں بتانا ہی بھول گیا ۔ وہ یونہی دوزانے بیٹھا اپنی شیو پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مصنوئی سنجیدگی سے بولا ۔
اب کیا ہے ؟ وہ خوف ذدہ ہوئی کہ ناجانے اب کونسا جان لیوا انکشاف کرنے والا ہے ۔
تمھاری شرط والی حرکت کے بعد میرے غصے نے انتقام کا رشتہ بھی تو صرف تم سے بنایا تھا ۔تمھیں لاعلم نہیں رکھتا تو یہ رشتہ مضبوط کیسے ہوتا ۔ وہ ہر گز بھی سیریس موڈ میں نہیں تھا ۔
آپ سیریس نہیں ہیں مگر میں بہت سیریس ہوں ۔ مجھے یہ بتائیں کہ اگر تحریم آپی اس کنڈیشن میں نہ ہوتیں تو کیا کبھی مجھ سے شادی نہیں کرتےاور ہمارے نکاح کو ڈکلئیر نہیں کرتے ؟ وہ دل میں مچلتا سوال زبان پر لے آئی ۔
یار ! تم بہت سوال پوچھتی ہو ۔ تمھیں معلوم ہونا چاہئے میں جواب دینے کا عادی نہیں ہوں ۔ اب مجھے دو گھڑی سکون لینے دو ۔۔۔۔۔۔۔تمھیں منانے کے چکر میں بہت تھک گیا ہوں ۔ اب وہ اسے کیا بتاتا کہ اس کی خاطر کیا کچھ کر بیٹھا ہے ۔
وہ صاف ٹال گیا اور وارڈ روب کی طرف بڑھاپھر ایک بوٹل نکال کر گلاس کی تلاش میں نظریں دوڑانے لگا ۔
زار ! آپ نے غصے اور ناراضگی کی آڑ میں بہت من مانی کرلی مگر اب یہ نہیں چلے گا ۔ آپ نے اس غلیظ شے کو دوبارہ منہ لگایا تو میں آپ کا منہ توڑ دوں گی ۔ وہ بیڈ سے اٹھ کر چیل کی طرح اس پر جھپٹی ۔
میں تو گرگٹ ہوں ۔۔۔۔۔۔۔تمھارے دل سے اتر چکا ہوں پھر مجھ پر حکم چلانے والی تم کون ہوتی ہو ۔۔۔۔۔؟ وہ مسکراہٹ دبائے سنجیدگی سے بولا ۔
میں غصے میں تھی اور تب مجھے حقیقت پتا نہیں تھی اس لئے پتا نہیں کیا بول گئی مگر اب اس معاملے میں آپ کی ایک نہیں چلے گی ۔ زرا ! میں ایک ڈاکٹر ہوں اور آپ ڈاکٹر کے ہسبینڈ ہیں ۔میرے پروفیشن کی کچھ تو لاج رکھ لیں ۔ وہ اس کے ہاتھ سے بوٹل چھینتے ہوئے جھنجلا کر بولی ۔
تم میری پوزیشن کی لاج رکھتی ہو ؟ کل ساری رات گھر سے غائب رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم نے ایک بار بھی سوچا مجھ پر کیا قیامت گزر رہی ہوگی ۔۔۔۔۔۔میں ساری رات پاگلوں کی طرح گلی گلی تمھیں ڈھونڈتا پھرا ۔ تم اسے بھی مجھ سے چھیننا چاہتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تب یہی مجھے سکون فراہم کرنے کا واحد سہارا تھی ۔
حالانکہ میری ایک دو گرل فرینڈز نے ان دنوں ملنے پر بہت اسرار کیا مگر میں نے ان کو بھی انکار کردیا۔ وہ فل فارم میں آچکا تھا ۔ نینا کی پھیکی پڑتی رنگت کو نظر انداز کرتے ہوئے شیشے کے سامنے کھڑا گھنے سلکی بالوں میں انگلیاں چلانے لگا ۔
زار ! آپ میری ایب سینس میں گرل فرینڈز سے بھی ملتے رہے ؟ وہ صدمے اور بے یقینی کی کیفیت میں اس کا شولڈر ہلا کر آہستگی سے بولی ۔
یہاں تو نہیں مگر دبئی میں دوستوں کے کہنےپر ایک دو بار ۔۔۔۔۔۔۔ وہ شرارت سے جملہ ادھورا چھوڑ گیا ۔ نینا کی حیرت اشتعال میں بدل گئی چہرے کا رنگ لال بھبوکا ہوگیا ۔
آئی ہیٹ یو ! وہ روہانسی ہوگئی ۔ اس نے سرعت سے سینٹر ٹیبل پر پڑا اپنا کلچ اٹھایا اور دروازے کی طرف بڑھی ۔
سوہنا سائیں ! رکو یار ! بات تو سنو ۔
پاگل ہو تم ۔۔۔۔۔۔۔۔بھلا یہ ممکن ہے میرزوار کی سوچ بھی کسی اور سمت بھٹک جائے ۔ صبح کی پہلی سوچ سے رات کی آخری خیال پر بھی تمھارا قبضہ ہے ۔ وہ اس کے پیچھے بھاگا تھا اور اس کی کلائی پکڑ کر رخ اپنی جانب موڑ دیا ۔
زار ! آپ کے ہر وقت کے یہ جان لیوا مذاق میں برداشت نہیں کر سکتی ۔ وہ اس کے سینے میں منہ چھپائے سہمے ہوئے انداز میں بولی ۔
مگر میں تمھیں اتنا مضبوط بنا دوں گا کہ تم میری محبت کی تمام تر شدتیں برداشت کر سکوگی۔ نینا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا ۔وہ دل موہ لینے والی مسکرہٹ سمیت نینا کو دل میں اترتا محسوس ہوا ۔
شادی مبارک ۔ میرزوار نے اپنی گنبھیر آواز میں اس کے کان کے بےحد نذدیک سرگوشی کی ۔
“””””””””””””””””””
اماں ! نینا نے کمرے میں قدم رکھتے ہی عروش کے سوئے ہوئے وجود کو پکارہ ۔
تم واپس آگئیں ۔ نین ! تم تو ایسی نہیں تھیں پھر کیوں اتنی خود سر ہوگئیں ۔ عروش آن کی آن میں اٹھ کر بیٹھ گئیں ۔
مجھے معاف کردیں ۔ میں تحریم آپی کی وجہ سے بہت جذباتی ہوگئی تھی ۔ آپ بھی تو میری کوئی بات سننے کے لئے تیار نہ تھیں ۔ بس پھر مجھے غصہ آگیا اور میں چلی گئی ۔ وہ ان سے لپٹ گئی ۔
تم ایک بار مجھ سے کھل کر بات تو کرتی ۔ میں تمھاری خوشی کے لئے مان ہی جاتی مگر گھر چھوڑ کر جانے کی بے وقوفی تو نہیں کرتی ۔ تمھارے بابا کے بعد تم دونوں ہی میرا مقصدِ حیات ہو اگر تم دونوں میں سے کسی پر آنچ بھی آگئی تو میں مٹی کا ڈھیر بن جاؤں گی ۔ عروش اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر گلوگیر لہجے میں کہہ رہی تھیں ۔
آپ اتنی مایوسی والی باتیں تو مت کریں ، اب میں اتنی بھی نافرمان بیٹی نہیں ہوں کہ اپنی ذات سے اپنی اتنی پیاری ماں کو تکلیف پہنچاؤں ۔ مجھے ہر پل آپ کا خیال ہے ۔ وہ لاڈ سے ان کے گلے میں بانہیں ڈال کر محبت سے بولی ۔
اتنا خیال ہے تو پھر میرے فیصلے پر اوور ری ایکٹ کیوں کیا تھا ؟ عروش نے شکوہ کیا ۔
غلطی ہوگئی ناں ۔۔۔۔۔۔۔اب بھول بھی جائیں ۔ وہ شرمندہ ہوگئی ۔
اس کا مطلب ہے اب تمھیں میرزوار کے پرپوزل پر کوئی اعتراض نہیں ہے ؟ عروش حیرانگی سے بولیں ۔
نہیں ۔ آپ جیسا کہیں گی ویسا ہی ہوگا ۔ آپ میرزوار کی بجائے ہمارے بٹلر سے بھی میری شادی کروائیں گی تو بھی مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔ وہ شرارت سے کہہ کر کھلکھلائی ۔
دھت ۔۔۔۔۔۔۔ بے وقوف لڑکی ۔ ایسی فضول باتیں نہیں کرتے ۔ کہاں میرزوار اور کہاں ہمارا بٹلر ۔۔۔۔۔ اس بات کا کوئی تک بھی ہے ۔ عروش خفا ہوئیں ۔
وہ بھی اتنے ہی فضول ہیں ۔ وہ تصور میں اس کے مسکراتے چہرے کو سوچ کر بڑبڑائی ۔
میں رانیہ کو انہیں انفارم کرنے کے لئے کہہ دوں ۔۔۔۔۔؟ عروش نے ایک بار پھر یقین دہانی چاہی ۔
ہاں ، ہاں کہہ دیں ۔ اب میں کیسے آپ کو یقین دلاؤں ۔ وہ زرا سا جھینپ گئی ۔
بس ، بس مجھے یقین آگیا اور میں بہت خوش بھی ہوں ۔ تم نے مجھے سب کے سامنے شرمندگی سے بچالیا ۔ ہمیشہ خوش اور آباد رہو ۔ انہوں نے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے صدقِ دل سے دعا دی مگر ہر دعا کو شرفِ قبولیت حاصل ہو یہ ممکن تو نہیں ہے ۔
“””””””””””””””””””
شادی کے دن قریب آئے تو دونوں فیملیز نے گاؤں کا رخ کیا ۔ میرزوار کے ولیمے میں اروما کی رخصتی ہونا طے پائی تھی ۔پورے گاؤں میں آجکل شادی کے چرچے تھے ۔
حویلیوں کا کام شادی کی تیاریوں کے باعث اتنا بڑھ گیا تھا کہ گاؤں کی بہت سی عورتیں شادی والے گھروں میں خدمات انجام دے رہی تھیں ۔
دونوں حویلیوں کی رونق کا کوئی جواب نہیں تھا ۔ میر زوار اور اروما کی مہندی کی رسم بڑی دھوم دھام سے ہوئی تھی ۔ پورے گاؤں کو مدعو کیا گیا تھا ۔
میر زوار نے نینا کے لئے شاندار بری تیار کروائی تھی ۔ اس نے زرتاج کے زیورات سمیت دو سو تولہ سونے کے زیورات بری کے سامان میں شامل کرواکے رشتے داروں اور عزیز و اقارب سمیت دور رداز کے گاؤں والوں کو بھی رشک کرنے پر مجبور کردیا تھا ۔
میر زوار جس طرح اس شادی پر اپنے ارمان نکال رہا تھا ایک پل کے لئے شیرازی فیملی بھی سوچنے پر مجبور ہوگئی تھی آیا یہ اس کی دوسری شادی ہے یا پہلی ۔۔۔۔۔۔۔ اس کی بے پایاں خوشی اور پیسے کا بے دریغ استعمال سب کو ٹھٹکائے دے رہا تھا ۔
شیرازی ہاؤس سے بھی اروما کے لئے آنے والی بری اتنی ہی زبردست اور قیمتی زیور ، ملبوسات سے لیس تھی ۔ ہر ایک چیز اروما کی پسند کے عین مطابق تھی ۔ وہ بے حد مطمئین اور نازاں تھی ۔
نینا ریڈ اور گرے امتزاج کے عروسی جوڑے میں ملبوس نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی ۔ جینز اور ڈھیلے ڈھالے ٹاپ پہننے والی نینا ڈھیروں جیولری اور بھاری بھرکم کامدار دوپٹے کے بوجھ تلے دب کر بار بار منہ کے زاوئیے بگاڑتی ۔
وہ منہ بنا کر عروش کی طرف دیکھتی تو وہ اسے آنکھیں دکھا کر منہ کا زاویہ درست کرنے کی تنبیہہ کرتیں ۔
نکاح کے بعد میرزوارنےشاندار دولہاکےروپ میں اسٹیج کی طرف آتے ہوئے دور سے ہی اس کے چہرے پر بیزار کن تاثرات نوٹ کرلئے تھے ۔
ان دونوں کو ایک ساتھ بٹھایا گیا تو ہزاروں ستائشی نظروں نے ان کی بے مثال جوڑی کو نظروں ہی نظروں میں سراہا ۔
میرزوار کی خوبصورت آنکھوں میں لو دیتی چمک عروش سے مخفی نہیں رہ سکی ۔ اس کے چہرے پر پالینے کے احساس سے خوشی کے دھنک رنگ بکھرے پڑے تھے ۔ تحریم کے پہلو میں بیٹھے ہوئے اس کے چہرے پر جو کرختگی تھی وہ انہیں ابھی تک یاد تھی ۔ وہ اچھنبے میں اسے دیکھ کر رہ گئیں ۔
رسومات کی ادائیگی کے بعد نینا کو کلامِ پاک کے سائے میں رخصت کرتے ہوئے عروش بے تحاشہ روپڑیں ۔ نینا باوجود ضبط کے بھی ان کا بھرپور ساتھ دے رہی تھی ۔
زعیم شاہ نے بمشکل انہیں علیحدہ کیا پھر وہی نینا کو تھام کر گاڑی تک لے گیا ۔
“”””””””””””””””””
وہ نینا کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے گھر کی دہلیز پر کھڑا تھا ۔ چاروں طرف خواتین کا ہجوم لگا تھا ۔ سب کی موجودگی میں میرزوار کے والہانہ پن پر نینا خود میں ہی سمٹی جارہی تھی ۔
نگین نے دونوں کا صدقہ اتارنے کے بعد نینا کو قدم بڑھانے کے لئے کہا ۔
رک جائیں اماں ! پہلے دروازہ رکائی تو لینے دیں ۔ اروما زور سے چلائی ۔
ہاں جلدی بولو ! تمھیں کیا چاہئے ۔۔۔۔۔؟ میرزوار نے فراغ دلی سے بغلی جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا ۔
بتادیتی ہوں اتنی بھی کیا جلدی ہے ۔ پہلے آپ وعدہ کریں جو مانگوں گی وہی دیں گے ۔ اروما نے ایک ادا سے اپنا ہاتھ آگے پھیلایا ۔
تمھیں وعدے کی کیا ضرورت ۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھ پر بھروسہ نہیں ہے ؟ وہ اس کا ہاتھ تھام کر بولا ۔
بھروسہ ہے اس لئے تو فرمائش کرنے لگی ہوں ۔ مجھے یقین ہے آپ کبھی نہیں ٹالیں گے ۔ اس نے شرارت سے آنکھیں گھمائیں ۔
ہاں تو بولو کیا چاہئے ۔۔۔۔۔۔۔ میرزوار کو نینا کی فکر کھائے جارہی تھی جو کپڑوں اور جیولری کے بوجھ سے جھکی جارہی تھی ۔ اس نے نینا کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اس کا سارا وزن اپنے بازو پر لے کر عجلت میں کہا ۔
جیولری اور پیسے تو سب بہنیں ڈیمانڈ کرتی ہیں مگر مجھے کچھ اسپیشل چاہئے ۔۔۔۔۔۔۔ آپ اپنی دلہن ہمارے حوالے کردیں ۔ چونکہ کل میری شادی ہے اور پھر میں پرائی ہوجاؤں گی ، اس کے بعد نین اور میرے درمیان دہرے رشتے کی شروعات ہوجائے گی اس لئے میں چاہتی ہوں آج پوری رات اپنی دوست کے ساتھ بچپن سے لے کر آج تک کی تمام یادیں تازہ کروں ۔ اروما نےآنکھیں مٹکاتے ہوئے میرجازب کی رٹائی گئی بات لفظ بہ لفظ دہرائی ۔ جہاں میرزوار کی جان آنکھوں میں اٹک گئی وہیں میرجازب سمیت گھر کے دیگر افراد کے بے ہنگم قہقہوں سے حویلی گونج اٹھی ۔
تم اس وقت میرزوار کی جان مانگ لو ، وہ مل جائے گی مگر جو تم چاہتی وہ کبھی نہیں ملے گا ۔ میرجازب نے ہنستے ہوئے کہا ۔
میرزوار کی پیشانی پر لاتعدا شکنیں ابھر گئیں ۔ اس نے زبردست گھوری سے اروما اور جازب کو نوازا ۔
رومی ! بدتمیزی مت کرو ۔ جو وہ دیتا ہے لے لو اور راستے سے ہٹو ۔ نین بے چاری کھڑی کھڑی بے زار ہوگئی ہوگی ۔ نگین نے اس کی شرارت پر جھڑکتے ہوئے نین کا ہاتھا تھام کر اندر آنے میں مدد کی ۔
میرزوار نے اس کے لئے خاص طور پر تیار کنگن تیار کروائے تھے ۔ اروما کی طرف بڑھائے جو اس نے خوشی سے تھام لئے پھر اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر نینا کو تھامے آسودہ جھلملاتی مسکراہٹ کے ساتھ دہلیز پار کرگیا ۔
جاری ہے
